ذمی رعایا کے حقوق


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : علامہ شبلی نعمانی

ذمی سے وہ قومیں مراد ہیں جو مسلمان نہ تھیں لیکن ممالک اسلام میں سکونت رکھتی تھیں

حضرت عمر نے ذمی رعایا کو جو حقوق دیئے تھے اس کا مقابلہ اگر اس زمانے کی دوسرے سلطنتوں سے کیا جائے تو کسی طرح کا تناسب نہ ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمسایہ میں جو سلطنتیں تھیں وہ روم و فارس تھیں۔ ان دونوں سلطنتوں میں غیر قوموں کے حقوق غلاموں سے بھی بدتر تھے۔ شام کے عیسائی باوجودیکہ رومیوں کے ہم مذہب تھے۔ تاہم ان کو اپنی مقبوضہ زمینوں پر کسی قسم کا مالکانہ حق حاصل نہیں تھا بلکہ وہ خود ایک قسم کی جائیداد خیال کیے جاتے تھے۔ چنانچہ زمین کے انتقال کے ساتھ وہ بھی منتقل ہو جاتے تھے۔ اور مالک سابق کو ان پر جو مالکانہ اختیارات حاصل تھے وہی قابض حال کو حاصل ہو جاتے تھے۔ یہودیوں کا حال اور بھی بدتر تھا بلکہ اس قابل نہ تھا کہ کسی حیثیت سے ان پر رعایا کا اطلاق ہو سکتا۔ کیونکہ رعایا آخر کار کچھ نہ کچھ حق رکھتی ہے اور وہ حق کے نام سے بھی محروم تھے۔ فارس میں جو عیسائی تھے ان کی حالت اور بھی زیادہ رحم کے قابل تھی۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا حافظ جلال الدین احمد جعفری

حضرت عمر بن الخطاب کے حالات

ایام جاہلیت میں بھی آپ کا خاندان نہایت ممتاز تھا۔ آپ ہجرت سے 40 سال قبل پیدا ہوئے۔ اسلام سے قبل آپ نے سپہ گری ، پہلوانی، شہسواری سیکھ لی تھی۔ نسب دانی میں بھی آپ کو مہارت تھی۔ لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا تھا۔ منصب سفارت پر مامور تھے۔ قبائل عرب میں جب کوئی رنج پیدا ہو جاتا تو آپ سفیر بن کر جاتے۔آپ کا نام عمر اور ابو حفص کنیت اور فاروق لقب تھا۔ آپ کے والد کا نام خطاب تھا۔

کو پڑھنا جاری رکھیں