دعائے قنوت اور ہم


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

ابو عمار سلیم

دعائے قنوت اور ہم

دعائے قنوت ایک ایسی دعا ہے جو ہمارے آقا و مولا نبی اکرم صادق الوعد اور امین ﷺ نے ہمیں سکھائی ہے۔ یہ دعا ہر مسلمان عشا کی نماز کے آخرمیں صلوٰة وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے قبل یا رکوع کے بعد پڑھتا ہے اور چونکہ صلوٰة وتر واجب ہے اس لیے اس دعا کا پڑھنا بھی واجب ہی قرار پائے گا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ تمام واجب نمازوں میں صلوٰة وتر ہی وہ نماز ہے جس کی قضا پڑھی جاتی ہے اوراس قضا میں بھی تیسری رکعت میں یہ دعا پڑھی جاتی ہے۔اور پھر یہ بھی یاد رہے کہ اگر کسی وجہ سے تیسری رکعت میں یہ دعا پڑھنی بھول جائے تو سجدہ سہو بھی واجب ہے۔ یہ تو رہی اس دعا کی اہمیت اور اس کے پڑھنے کی تلقین۔ ہم سب لوگ ہی اس دعا کو ہر روز ضرور پڑھتے ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ اپنی دیگر نمازوں میں پڑھی جانے والی تمام سورتوں اور تسبیحات کی طرح بہت سے لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ ہم ہاتھ باندھے با ادب قبلہ رو کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ  کے ساتھ چپکے چپکے دعا مانگ رہے ہیں تو وہ دعا ہے کیا۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ بس طوطے کی طرح رٹے رٹائے جملے دہرا دیئے نہ دل اس کی طرف مائل ہے اور نہ زبان میں ان دعائیہ کلمات کی ادائیگی کے لیے کوئی جذبہ ہے۔ پھر نہ اس دعا کی ادئیگی کے بعد اس دعا کے الفاظ کا کوئی اثر ہماری زندگیوں پر مرتب ہو رہا ہے۔ گویا یہ سب ایک رسم ہے جو ادا کرنی ضروری ہے اور بغیر کسی منفعت کے ادا کی جارہی ہے۔ آئیے اس مضمون کو مزید آگے بڑھانے سے قبل دعائے قنوت اور اس کے معنی پر نظر ڈال لیتے ہیں تاکہ اس مضمون پر قلم اٹھانے کی کوئی توجیہ پیش کی جاسکے۔

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَ نَسْتَغْفِرُکَ وَ نُوْمِنُ بِکَ وَ نَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَ نُثْنِیْ عَلَیْکَ اَلْخَیْرَ  ط 

” اے اللہ ! ہم آپ سے مدد چاہتے ہیں اور آپ سے معافی مانگتے ہیں اور آپ پر ایمان لا تے ہیں اور آپ پر بھروسہ کرتے ہیں اور آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں ۔”

” وَ نَشْکُرُکَ وَ لَا نَکْفُرُکَ وَ نَخْلَعُ وَ نَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ  ط ”

” اور آپ کا شکر کرتے ہیں اور آپ کی ناشکری نہیں کرتے اور الگ کرتے ہیں اور چھوڑتے ہیں اس کو جو آپ کی ناشکری کرے۔”

” اَللّٰھُمَّ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ لَکَ نُصَلِّیْ وَ نَسْجُدُ وَ اِلَیْکَ نَسْعٰیْ وَ نَحْفِدَُ ۔”

”اے اللہ ! ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ کے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور آپ ہی کی طرف دوڑتے ہیں اور خدمت کے لیے حاضر ہوتے ہیں ۔”

” وَ نَرْجُوْا رَحْمَتَک وَ نَخْشٰی عَذَا بَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِا لْکُفَّا رِ مُلْحِقْ ط ”

”اور آپ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور آپ کے عذاب سے ڈرتے ہیں، بے شک آپ کا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔”

اگر آپ نے اس دعا کو پڑھ لیا اور اس کے معنٰی پر اچھی طرح غور کر لیا ہے تو آپ نے یقیناً یہ بات بھی محسوس کر لی ہوگی کہ ہمارا طرز عمل اپنی زندگی میں ان دعائیہ الفاظ سے کس قدر مختلف ہے۔ سارا دن اپنی زندگی کی گاڑی کو کھینچنے، اپنے اور اپنے گھر والوں کی روٹی اور آسائشوں کی بہم رسانی کے بعد تھکے ہارے جب گھر واپس آکر سونے سے قبل اللہ کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اس کے دربار میں اپنی جبین نیاز جھکا دیتے ہیں اور اس کے ساتھ رازونیاز کرکے اپنا ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔ اس کی عنایتوں اور کرم نوازیوں پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ آفات و بلیات سے مشکلات و پریشانیوں سے ، خطرات اور حادثات سے ، چور اچکوں ڈاکوؤں سے اور جان مال و عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے اسی کے آگے ہاتھ پھیلانے اور مانگنے کے ساتھ ساتھ اوپر والی دعا کے الفاظ ادا کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ اب اگلی صبح ہم اٹھنے کے بعد ایک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ اپنے دن کا آغاز کرتے ہیں ایک ایسے دن کا آغاز جس میں ہماری ایک بڑی اکثریت ان دعائیہ کلمات کے الفاظ سے انحراف کرتی ہے الا ماشا ء اللہ ۔ ہماری زندگیاں اسلام کے سکھائے ہوئے  اصولوں اور اس کی تعلیمات سے بہت دور ہیں۔ہماری  تجارت ہماری معیشت سب کی سب اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور ہے۔ آئیے اس دعا کو چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں بانٹ کر اس کا مطلب بھی سمجھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ وعدہ جو ہم ہر روز اللہ کے آگے ہاتھ باندھ کر کرتے ہیں اس کا کتنا پاس کرتے ہیں۔

” اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَ نَسْتَغْفِرُکَ وَ نُوْمِنُ بِکَ وَ نَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ وَ نُثْنِیْ عَلَیْکَ اَلْخَیْرَ  ط” 

”اے اللہ !ہم آپ سے مدد چاہتے ہیں اور آپ سے معافی مانگتے ہیں اور آپ پر ایمان لا تے ہیں اور آپ پر بھروسہ کرتے ہیں اور آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں ۔”

دعا کے اس حصہ میں تو کوئی شک نہیں کہ ہم اللہ کو اپنا رب، اپنا خالق اور مالک مانتے ہیں۔ اسی کی مدد ہر لمحہ چاہتے ہیں۔ ہماری زبانیں اپنی روز مرہ کی گفتگو میں اللہ کی حمد و تعریف ، اس کی شکر گذاری کے ساتھ ساتھ بہتری کی امید کے الفاظ بلا ترد د ادا کرتی ہیں۔ ان شا ء اللہ ، ماشا ء اللہ ، الحمد للہ کے بغیر ہم میں سے اکثر لوگوں کی گفتگو ادھوری رہتی ہے۔ اللہ کی ذات گرامی پر ایمان اس پر اعتبار اس پر بھروسہ یہ سب تو مومن کی شان ہے اس میں تو کوئی شک نہیں اور یہ سب کچھ ہمارے والدین نے بچپن میں ہی ہمیں ایسا ازبر کرادیا تھا کہ ان کی ادائیگی ہماری فطرت کا حصہ بن گئی ہے اور اس کا ہم خوب خوب استعمال کرتے ہیں۔مگر سچی بات تو یہ ہے کہ ان الفاظ کے استعمال کے باوجود ہمارے دل کے کسی گوشے میں ان الفاظ پر ایمان نہیں۔ہم اپنے معاملات میں اللہ سے مدد مانگ کر کچھ شروع کرنے سے قبل اسباب کو تلاش کرتے ہیں۔ اگر اسباب سے کام نکل آیا تو پھر اللہ یاد نہیں آتے۔ ہاں اگر کام الٹا ہوگیا تو پھر اللہ کے آگے روتے گڑگڑاتے ہیں۔ ہم بلا تکلف اللہ کے احکامات سے روگردانی کرتے ہیں اور  اس کا احساس بھی نہیں کرتے بلکہ بسا اوقات تو اتنی ہٹ دھرمی دکھاتے ہیں کہ کوئی ٹوک دے تو بلا تکلف کہہ دیتے ہیں کہ  ارے بھائی سب چلتا ہے۔ کبھی کبھار اپنی غلطیوں پر شرمندگی ہوتی بھی ہے تو یقیناً اللہ سے معافی مانگتے ہیں مگر پھر دوبارہ اور سہ بارہ وہی غلطی دہراتے ہیں جو یقیناً اللہ کے غضب کو آواز دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ اللہ پر زبانی ایمان تو ہمارا بہت ہے مگر کیا واقعی ہمارا ایمان اللہ پر ہے ؟ کیا ہمارا دل اللہ کو واقعی اپنا سب سے بڑا مالک مانتا ہے جس کے ہر حکم کی تعمیل ہمارے لیے لازمی ہو۔ ہم جب کہتے ہیں کہ اللہ پر ہمارا ایمان ہے تو کیا ہم واقعی اس ایمان کا مطلب سمجھتے ہیں۔ اگر ہمارا اللہ پر ایمان ہو تو ہم اس کو اپنا حاکم اعلیٰ مانیں۔ اس کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کردیں۔ جو اس نے کہا وہ کریں اور جس سے اس نے ہمیں روکا ہے اس سے رک جائیں۔ قرآنی تعلیمات میں زندگی گزارنے کی مکمل ہدایات موجود ہیں مگر ہم نہ اللہ کے احکامات کو جانتے ہیں نہ ان کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کچھ ٹوٹا پھوٹا علم ہے بھی تو ہم اسے لائقِ توجہ نہیں سمجھتے ۔ جب ہم یہ سب کچھ نہیں کرتے تو پھر ان الفاظ کو ادا کرنے کی  حقیقت ہی کیا ہے کہ ” اے اللہ! ہم آپ پر بھروسہ کرتے ہیں اور آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں۔” ذرا سوچیں کہ بھروسہ تو اللہ کے رسول سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا۔ فرعون کا لشکر جب بنی اسرائیل کو پکڑنے والا تھا تو لوگ چیخ اٹھے کہ اب ہم مارے گئے۔ تو اللہ کے رسول نے فرمایا کہ ہر گز نہیں اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ہمیں بچائے گا۔ اور پھر کس قدر ایمان اور اللہ پر بھروسے کا اظہار کرتے ہوئے دریا پر اپنا عصا دے مارا۔ ہم کہاں بھروسہ کرتے ہیں اللہ پر۔ اللہ پر بھروسہ ہوتا تو وہ رزق جس کی فراہمی کا اس کا وعدہ ہے ، ہم اس کی تلاش میں اور اس کے حصول کے لیے ہر غلط قدم اٹھانے سے گریز نہ کرتے؟ اور اپنے ان تمام کرتوتوں کے باوجود ہمارا دعویٰ ہے اور کس قدر ڈھٹائی کے ساتھ اللہ کے آگے ہاتھ باندھ کر یہ بول رہے ہوتے ہیں کہ ہم آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ اے اللہ ہم یقینا بہت گناہ گار ہیں۔ اگر آپ ہمیں گرفت میں لے لیں تو آپ یقیناً اس کا حق رکھتے ہیں اور اگر آپ اپنے رحم و مغفرت کے طفیل معاف فرمادیں تو یہ آپ کا احسان ہوگا کہ ہم آپ ہی کے بندے ہیں۔
آئیے اب اس دعا کے دوسرے حصہ کی طرف

” وَ نَشْکُرُکَ وَ لَا نَکْفُرُکَ وَ نَخْلَعُ وَ نَتْرُکُ مَنْ  یَّفْجُرُکَ ط

”اور ہم آپ کا شکر کرتے ہیں اور آپ کی ناشکری نہیں کر تے اور الگ کرتے ہیں اور چھوڑتے ہیں ، اس کو جو آپ کی ناشکری کرے۔”

کیا دعا کا یہ حصہ جو ہم ادا کرتے ہیں وہ ہمارے دل کی آواز کا غماز ہے یا یہ کہ یہ دعا کرنے کے بعد ہم نے اپنے آڑے ترچھے رویوں اور راستوں کو تبدیل کیا یا تبدیل کرنے کے بارے میں سوچا۔ میرے خیال سے ہم نے اس دعا کو ادا ضرور کیا ہے مگر اس کی اصل تک نہیں پہنچے ہیں۔ شکر زبانی بھی ہوتا ہے اور حرکات و اعمال سے بھی ۔ زبانی شکر تو بس زبان اور ہونٹوں سے آگے نہیں جاتا۔ مگر جب دل شکرگزاری کے جذبات سے پر ہو تو وہ ہر لمحہ اور ہر لحظہ اس کوشش میں ہوتا ہے کہ وہ مالک نارض نہ ہو اور کہیں اپنی رحمتوں والا ہاتھ ہم سے اٹھا نہ لے۔ نتیجہ کے طور پر جو شکر کرتا ہے وہ اس کا اظہار اپنے تمام اعمال سے بھی کرتا ہے اور اس کی بارگاہ میں رکوع و سجود کے ذریعہ بھی کرتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا شکر ادا کرنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے، جبکہ ہماری ایک بڑی اکثریت نماز سے گریزاں ہے۔ پھر ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کی نا شکری نہیں کرتے۔ اے اللہ ہمیں معاف کردیں ہم یقیناًناشکرے ہیں اور ہمیں توفیق عطا کریں کہ ہم آپ کا شکر ایسے ادا کریں کہ جیسے شکر کرنے کا حق ہے۔دعائے قنوت کا اگلا حصہ بھی ہماری زبانی جمع خرچ اور ہمارے روزمرہ کے اعمال کے تضاد کا ایک نمونہ ہے۔ جو اللہ کی ناشکری کرے ہمیں چاہئے کہ ہم اس دعا کے زیر اثر اس سے اپنا ر بطہ بھی ختم کرلیں اور اس کو نہ صرف یہ کہ اپنی ذاتی زندگیوں سے د ور کردیں بلکہ اجتماعی طور پر بھی ایسے شخص کا حقہ پانی بند کردیا جائے جو اللہ کی ناشکری کرتا ہے۔مگر ہماری حالت یہ ہے کہ ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں کہ دوسرا کیا کررہاہے۔ نہ تو اس کی غلط حرکتوں پر اس کو روکتے ہیں نہ اس کی اصلاح کی کوئی سبیل کرتے ہیں۔ جبکہ اس امت کے بڑے کاموں میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری بھی لگا رکھی ہے کہ امر بالمعروف کی طرف دعوت دیںاور نہی عن المنکر کے ذریعہ سے غلط کاموں سے روک لیں۔ آج امت کے بڑوں کی یہ حالت ہے کہ وہ لوگ اور وہ ممالک جو امت مسلمہ کے کھلے دشمن ہیں ان کو اپنا دوست کہتے نہیں تھکتے۔ قرآن نے جن کے بارے میں واشگاف الفاظ میں اعلان کر دیا کہ یہ تمہارے دوست نہیں اور جو انہیں دوست رکھے وہ بھی انہی میں سے ہے۔ مگر ہماری عزت و شرف انہی دشمن اسلام کی دوستی اور ان کی حاشیہ نشینی میں ہے۔ اللّٰھم احفظنا منھم۔
دعائے قنوت کا اگلا ٹکڑا کہتا ہے:

” اَللّٰھُمَّ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ لَکَ نُصَلِّیْ وَ نَسْجُدُ          وَ اِلَیْکَ نَسْعٰیْ وَ نَحْفِدَُ ”

”اے اللہ! ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ کے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور آپ ہی کی طرف دوڑتے ہیں اور خدمت کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔”

اے اللہ! ہم یقیناً آپ کو اپنا خالق اور رب مانتے ہیں۔ ہم اس معنی میں آپ کی ذات کا انکار کرنے والے اور کفر کرنے والے ہر گز نہیں ہیں ۔ جب عبادت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو بلا شک و شبہ آپ ہی کی عبادت کرنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ہمارا رکوع اور ہمارا سجود چاہے کیسا ہی ناقص کیوں نہ ہو ، ہوتا آپ کے لیے ہی ہے۔ سجدہ میں ہمارا دھیان چاہے کہیں بھی کیوں نہ ہو ، ہم یہ سجدہ کرتے آپ ہی کی بڑائی کے لیے ہیں ۔ ہمارے سجدہ میں عجز و انکسار بے شک نہ ہو مگر ہمارا سر آپ کی ذات ذو الجلال و الاکرام کے آگے ہی جھکا ہوا ہوتاہے۔مگراے اللہ ! اس سے اگلے والی بات ہم نہیں کرتے یعنی نہ آپ کی طرف دوڑتے ہیں اور نہ آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔اگر ہم اللہ کی طرف دوڑتے یعنی اس کے احکام کی بجا آوری کو اپنی ذات کی تمام ضروریات پر مقدم گردانتے تو ہم ان گوناگوں غلاظتوں میں ہر گز نہ ڈوبے ہوئے ہوتے جس میں آج مقید ہیں۔ ہماری تمام کی تمام زندگی اسلام کے سچے اصولوں پر مبنی ہوتی اور ہمارا معاشرہ وہ قابل تقلید معاشرہ ہوتا جس میں خلفائے راشدین کے دور کی جھلکیاں ملتیں ۔ اگر ہم نے اللہ کے بتائے ہوئے ہدایت کے راستے پر عمل کیا ہوتا تو آج ایسی زندگی ہوتی جس پر غیر مسلم معاشرے بھی نظرِ حسد ڈالتے ، مذاق نہ اڑاتے۔ اگر چشمِ حقیقت کو وَا کرکے دیکھے تو  ہمارا ان الفاظ کواللہ کے حضور ہاتھ باندھ کر ادا کرنا اسی رب کائنات کا مذاق اڑانا ہے جو سب کچھ جانتا ہے اور اتنا غفور و رحیم ہے کہ ہماری اس کھلی بدمعاشی اور بد عملی سے نظریں چرا رہا ہے، ڈھیل دئیے چلا جا رہا ہے۔ یقینا جیسا اس نے کہا ہے ویسا ہی ہے کہ اس نے اپنے غیض و غضب کے اوپر اپنی رحمتوں کی چادر پھیلا رکھی ہے۔ مگر ایسا کب تک چلے گا؟۔ کیا ہمیں سدھرنے کی ضرورت نہیں ہے؟
دعا کا اگلا ٹکرا ان الفاظ پر مشتمل ہے:

” وَ نَرْجُوْا رَحْمَتَک وَ نَخْشٰی عَذَا بَکَ    اِنَّ عَذَابَکَ بِا لْکُفَّا رِ مُلْحِقْ ط ”

”اور آپ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور آپ کے عذاب سے ڈرتے ہیں، بے شک آپ کا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے۔”

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ہر مسلمان خواہ وہ ایک صاحب عمل شخص ہو یا صرف نام کا مسلمان ہو ، اللہ کی رحمتوں کا امید وار ہو تا ہے۔ اور پھر یہ کہ ہم اللہ کی گرفت اور پکڑ سے ڈریں یا نہ ڈریں ، ہمیں اس بات کا یقین کامل ہے کہ اللہ پاک قیامت کے دن نافرمانوں کو اپنی نافرمانی کی قرار واقعی سزا دیں گے۔ مگر اس یقین کے باوجود اکثر مسلمان پتہ نہیں کیوں اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اللہ ہمیں معاف کردیں گے۔ بے شک اللہ کی رحمت اس کے غیض و غضب سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اس کے دائرہ اختیار میں ہے کہ وہ چاہے گا تو غلطیوں کو حسنات سے بدل دے گا ، چاہے گا تو ایک اچھے کام کے بدلے ہزاروں گنا انعام دیدے۔ مگروہ یہ کس کے ساتھ کرے گا اور کس کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرے گا یہ صرف اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہوگا۔ مگر کیا اللہ تعالیٰ منصف نہیں ہے؟ ہے ، ضرور ہے۔ تو پھر یہ کہ وہ ظالموں کو تو شائد نہیں چھوڑے گا۔ اور قران مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ظالموں کی نشاندہی تو کر رکھی ہے۔ وہ کن سے ناراض ہوتا ہے اور کن کو بالکل معاف نہیں کرے گا یہ بھی اس نے بتا رکھا ہے۔ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں کون ہوگا یہ بھی قرآن مجید میں صاف صاف درج ہے۔اورپھر جناب رسول کریم صادق الوعد ﷺ نے یہ بھی بتا رکھا ہے کہ ایمان اور کفر کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ نہیں ہے اس لیے کہ ایک زمانہ ہوگا جب انسان صبح کو مسلمان ہوگا تو شام کو کافر۔ اللہ کی خفگی اور ناراضگی میں بھی تقریباً ایسا ہی معاملہ ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ اللہ کی ناراضگی ہمیں بہت مہنگی پڑے گی۔ اور اس کے دربار میں قیامت والے دن کھوٹے سکے تو بالکل نہیں چلیں گے۔ نہ کوئی مدد گار ہوگا نہ سفارشی ۔اپنا نامہ اعمال ہوگا اور اس میں ہمارا سارا کچا چٹھا درج ہوگا۔ اس کے فرشتوں کے لکھے کو جب نہیں مانیں گے تو یہ بھی اس نے کہا ہے کہ ہم تمہارے منہ پر مہر لگا دیں گے تاکہ بول نہ سکو پھر وہ ہماری جلد کو ، ہمارے ہاتھ اور پائوں کو گویائی کی طاقت عطا کر دیں گے جو ہمارے تمام کرتوتوں کا پول کھول دیں گے ۔ اللہ اس دن کی ایسی گرفت اور ایسی پکڑ سے ہم سب مسلمانوں کو محفوظ رکھیں۔ شرمندگی اور رسوائی کا جو سامان اس دن ہم خود اپنے لیے بہم پہنچائیں گے اللہ اس کو اپنی رحمتوں کے طفیل ہم سے دور کر دیں۔ اے اللہ! ہمارا حساب کتاب آسان کر دیجئے گا اور اپنی ستاری کے پردے میں ہمیں ڈھانپ لیجئے گا۔ ہم آج بھی اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور کل بھی ہم اپنے نامہ اعمال سے منکر نہ ہونگے بس آپ کی مہربانیوں کا سوال ہے۔ بیشک اللہ کی گرفت اور پکڑ کافروں کے لیے ہے جو انتہائی شدید ہوگی اور اس کا تمام عذاب کافروں کے لیے ہی تیار کیا گیا ہے۔
 
مجھے خوشی ہے کہ آپ نے اس مضمون کو پڑھا اور ان آخری سطور تک آگئے۔ اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے شاید آپ اس کے دائرے میں نہیں آتے ہونگے اور میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ آپ ان لوگوں سے دور رہیں جن کی نشاندہی میں نے اس مضمون میں کی ہے۔میرے اس پورے مضمون کا مقصد اور منشا صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم اپنی عبادتوں اور تسبیحات میںجو کچھ بھی پڑھتے ہیں اس کو صرف طوطے کی طرح رٹے رٹائے جملوں کی صورت میں نہ ادا کریں۔ بلکہ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم قران کے معنی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ دنیاوی تعلیم کے حصول کے لیے خود بھی برسہا برس کھپا دیتے ہیں اور اپنی اولاد کو بھی اسی راستے پر ڈال دیتے ہیں مگر اس  ایک انتہائی اہم کام پر ذرا توجہ نہیں کرتے۔نہ صرف دعائے قنوت بلکہ کلام اللہ کی تمام سورتیں جو ہم پڑھتے ہیں ان پر ہمارا ایمان تو ہے مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ کیا پڑھا گیا اور یہ کہ کس چیز پر ایمان ہے۔ اگر ہم دعائے قنوت کو ہی لے لیں اور یہ دیکھیں کہ اس کے معنی اگر ہمارے دلوں میں بیٹھ جائیں اور ہم جب اس کو پڑھ رہے ہوں اورہماری نظروں میں اس کے معنیٰ بھی شامل ہوں تو اس کے پڑھنے کا رنگ ہی اور ہوگا۔ دن بھر جو غلطیاں ہوئی ہیں وہ اس دعا کو پڑھنے کے ساتھ ہی خیال میں گھومنے لگ جائیں تو احساس گناہ بھی ہوگا اور شرمندگی کے ساتھ معافی کی تمنا بھی ہوگی اور اگر یہ احساس انتہائی شدید ہوجائے تو میرے خیال میں وہ ایک منٹ جس میں ہم انتہائی روانی سے یہ دعا پڑھ جاتے ہیں شائد تیس منٹوں میں بھی پورا نہ ہوسکے۔ اور جب پورے احساس اور علم کے ساتھ ان الفاظ کو ادا کریں گے تو اس بات کا بھی قوی امکان موجود ہے کہ اگلے دن کا آغاز اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر قدم اٹھا کر ہوگا اور پھر رفتہ رفتہ ہماری زندگیاں اسلامی اصول کے دائرے میں آتی چلی جائیں گی۔ دنیا میں بھی کامیابی قدم چومے گی اور ان شاء اللہ آخرت میں بھی کسی شرمندگی کا سامنا نہیں ہوگا ۔ اے اللہ ہماری زندگیوں کو اسلام کے راستے پر ڈال دیجئے اور اپنی ناراضگی کے کاموں سے ہمیں دور کردیجئے۔ آمین ثم آمین۔
Advertisements