حضرت علی رضی اللہ عنہ : افراط و تفریط کے درمیان


الواقعۃ شمارہ : 76 – 77 رمضان المبارک و شوال المکرم 1439ھ

اشاعت خاص : سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زبان رسالتِ مآب ﷺ نے اپنے بعض اصحابِ کرام کو بعض جزوی وصف کی بنا پر بعض گزشتہ انبیاء سے تشبیہ دی۔ سیدنا صدیق اکبر سے متعلق فرمایا کہ یہ سیدنا ابراہیم کے مشابہ ہیں۔ فاروقِ اعظم کی جلالی طبیعت کے پیش نظر ان کے جلال کو جلالِ موسوی کو پڑھنا جاری رکھیں

فلسطین، فلسطینیوں کا ہے قسط : 1


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : ڈاکٹر بہاء الدین محمد سلیمان، نیو کیسل، آن ٹائن، برطانیا

فلسطین جسے قدیم زمانے میں ماٹو، پھر سرگون اعظم کے زمانہ میں ارض ایمورائٹ، یونانیوں کی تاریخ میں سیریا، رومیوں نے فلسطائنا، فونیقیوں کی مناسبت سے فونیشیا، بابلی نوشتوں میں کنعان، بمعنی نشیبی زمین، عربوں نے شام بمعنی بایاں، ترکوں نے سنجاک آف یروشلم یا ولایت بیروت، یہود نے ارض اسرائیل اور عیسائیوں نے ارض مقدس کہا ہے۔ آج سیاسی لحاظ سے دنیا کا اہم ترین قطعہ ارض بنا کو پڑھنا جاری رکھیں

ختم نبوت اسلام کا اساسی عقیدہ


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : مولانا عبد المعید مدنی، نئی دہلی، بھارت

مولانا عبد المعید مدنی ہندوستان کے نامور عالم و دانشور ہیں۔ انھوں نے "الواقعۃ” کی اشاعت خاص برائے "ختم نبوت” کے لیے ہماری استدعا پر ذیل کا مضمون تحریر فرمایا تھا مگر افسوس یہ مضمون بر وقت نہ پہنچ سکا۔ جس کی وجہ سے اشاعت خاص میں شامل نہ کیا جا کو پڑھنا جاری رکھیں

قرآن میں مذکور دعائیں


الواقعۃ شمارہ 53 – 54 ، شوال المکرم و ذیقعد 1437ھ

از قلم : محمد عالمگیر ، آسٹریلیا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضرت آدم علیہ السلام کی دعاء

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ( سورة الاعراف، ۷:۲۳ )

"اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا،اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا ،اور ہم پر رحم نہ کرے گا، تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔” کو پڑھنا جاری رکھیں

فسق و فجور کا آئینہ


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : ابو الحسن

اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ فی الارض کو تعقل، تفکر اور تفقہ کی صلاحیتیں عطا فرمائیں۔ ان نعمتوں کی قدر دانی کرنے والوں کو قوم یومنون ، قوم الصالحین ، قوم یعدلون قرار دیا۔ قوم نوح کے لوگوں کو جو اپنے پیغمبر کی جگہ سرکش ظالم حکمرانوں کی پیروی کرتے تھے قوماً عمین قرار دیا۔ فرمایا : وَأَغۡرَقۡنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِ‍َٔايَٰتِنَآۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمًا عَمِينَ ٦٤ ( الاعراف : 64 ) اور کافروں کے لیے عموماً فرمایا :

وَنَطۡبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ  ( الاعراف : 100 )

کو پڑھنا جاری رکھیں