امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ


الواقعۃ شمارہ : 76 – 77 رمضان المبارک و شوال المکرم 1439ھ

اشاعت خاص : سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا سید اسماعیل مشہدی

آج ہم خلفائے راشدین المہدیین میں سے خلیفہ چہارم امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی سیرتِ مقدس پر لکھنے بیٹھے ہیں جس طرح ہم نے اصحابِ ثلاثہ سے متعلق مقالات لکھ کر ان لوگوں کے شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی تھی، جو ان حضرات اصحابِ ثلاثہ پر کسی نہ کسی سبب سے بدظن اور بدگو ہیں، اسی طرح اس مقالے میں امیر المومنین حضرت علی کی عظیم الشان ہستی کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

فلسطین، فلسطینیوں کا ہے قسط : 1


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : ڈاکٹر بہاء الدین محمد سلیمان، نیو کیسل، آن ٹائن، برطانیا

فلسطین جسے قدیم زمانے میں ماٹو، پھر سرگون اعظم کے زمانہ میں ارض ایمورائٹ، یونانیوں کی تاریخ میں سیریا، رومیوں نے فلسطائنا، فونیقیوں کی مناسبت سے فونیشیا، بابلی نوشتوں میں کنعان، بمعنی نشیبی زمین، عربوں نے شام بمعنی بایاں، ترکوں نے سنجاک آف یروشلم یا ولایت بیروت، یہود نے ارض اسرائیل اور عیسائیوں نے ارض مقدس کہا ہے۔ آج سیاسی لحاظ سے دنیا کا اہم ترین قطعہ ارض بنا کو پڑھنا جاری رکھیں

مسئلہ باغ فدک اور صاحب عون المعبود


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

از قلم : مولانا ابو علی اثری، اعظم گڑھ

مولانا ابو علی اثری کا یہ مضمون ہفت روزہ ”الاعتصام” لاہور ٢٠ دسمبر ١٩٦٠ء میں طبع ہوا تھا۔ مسئلہ باغِ فدک سے متعلق صاحبِ ”عون المعبود” علامہ ابو الطیب شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی (١٨٥٧ء -١٩١١ئ) کا مؤقف خاتمہ اختلاف کا باعث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے رفعتِ کردار کے عین مطابق ہے۔ اس مضمون کی اہمیت کے پیش نظر اسے قارئینِ ”الواقعة” کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔(ادارہ)

مولانا مجیب اللہ ندوی دار المصنفین کو پڑھنا جاری رکھیں

نبوت عظمیٰ کا جانشین ثالث


عثمان ذی النورین بن عفان الاموی العبشمی

الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت کاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا فدا علی طالب

حضرت عثمان کی شرافتِ خاندانی اور قومی وجاہت عام طور پر مسلم ہے ، خاندانِ بنی امیہ کا اقتدار اور ان کی سیادت و وجاہت تاریخ میں اس شرح و بسط کے ساتھ مذکور ہے کہ اس پر زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت عثمان کا نسب باپ کی طرف سے چار واسطوں سے اور ماں کی طرف سے دو واسطوں سے رسول اللہ ﷺ کے نسب سے مل جاتا ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

انتخابی نظام – اسلامی ہدایات کی روشنی میں


الواقعۃ شمارہ 47 ربیع الثانی  1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اسلام نے زندگی کے ہر ہر گوشے کے لیے خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، سامانِ ہدایت و رہبری فراہم کیا ہے۔ کچھ امور کا تعلق فرد کی اپنی ذات سے ہوتا ہے اور کچھ امور اجتماعیت کے متقاضی ہوتے ہیں۔ فرد کی اپنی غلطیاں صرف اسی پر یا زیادہ سے زیادہ اس سے منسلک افراد پر ہی اثر انداز ہوتی ہیں۔ جبکہ اجتماعی امور پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ” اجتماعیت ” اور اجتماعی نظام کے استحکام پر بہت زور دیا ہے۔ اسلام کے اجتماعی ( سیاسی و معاشرتی ) نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بہت سادہ و سلیس اور فطری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ سر دست ہمارا موضوعِ بحث و تحقیق اسلام کا انتخابی نظام ہے۔ اس سلسلے میں اسلام نے پہلے چند سادہ اور نہایت عام فہم ہدایات دی ہیں کہ جن کی مکمل پاسداری سے مستقبل کے بہیترے مفسدات کی راہ ہی مسدود ہو جاتی ہے۔ مثلاً

کو پڑھنا جاری رکھیں

احکام قضاء سے متعلق حضرت عمر کا ایک مکتوب


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : ابو محمد معتصم باللہ

مکتوب گرامی حسب ذیل ہے :احکام قضاء سے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک بیش قیمت مکتوب گرامی ملتا ہے جو انہوں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا جب وہ بصرہ کے گورنر تھے۔ گو اس مکتوب کی اسناد ضعیف ہیں مگر اس روایت کے شواہد اور متابعات ملتے ہیں۔ احکام قضاء سے متعلق اس کے متن سے قضاۃ استفادہ کرتے ہیں مشہور مؤرخ و قاضی امام ابن خلدون نے بھی اپنے مقدمہ میں اسے درج کیا  ہے۔ امام دارقطنی نے اپنی سنن میں اور امام بیہقی نے ” معرفۃ السنن و الآثار ” میں اسے روایت کیا ہے۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

ذمی رعایا کے حقوق


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : علامہ شبلی نعمانی

ذمی سے وہ قومیں مراد ہیں جو مسلمان نہ تھیں لیکن ممالک اسلام میں سکونت رکھتی تھیں

حضرت عمر نے ذمی رعایا کو جو حقوق دیئے تھے اس کا مقابلہ اگر اس زمانے کی دوسرے سلطنتوں سے کیا جائے تو کسی طرح کا تناسب نہ ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمسایہ میں جو سلطنتیں تھیں وہ روم و فارس تھیں۔ ان دونوں سلطنتوں میں غیر قوموں کے حقوق غلاموں سے بھی بدتر تھے۔ شام کے عیسائی باوجودیکہ رومیوں کے ہم مذہب تھے۔ تاہم ان کو اپنی مقبوضہ زمینوں پر کسی قسم کا مالکانہ حق حاصل نہیں تھا بلکہ وہ خود ایک قسم کی جائیداد خیال کیے جاتے تھے۔ چنانچہ زمین کے انتقال کے ساتھ وہ بھی منتقل ہو جاتے تھے۔ اور مالک سابق کو ان پر جو مالکانہ اختیارات حاصل تھے وہی قابض حال کو حاصل ہو جاتے تھے۔ یہودیوں کا حال اور بھی بدتر تھا بلکہ اس قابل نہ تھا کہ کسی حیثیت سے ان پر رعایا کا اطلاق ہو سکتا۔ کیونکہ رعایا آخر کار کچھ نہ کچھ حق رکھتی ہے اور وہ حق کے نام سے بھی محروم تھے۔ فارس میں جو عیسائی تھے ان کی حالت اور بھی زیادہ رحم کے قابل تھی۔

کو پڑھنا جاری رکھیں