صاحب قرآن ﷺ کی فریاد


الواقعۃ شمارہ 20 – 21 محرم و صفر 1435ھ

اشاعت خاص : برائے قرآن کریم

از قلم : ابو عمار سلیم

قرآن مجید فرقان حمید کی سورة الفرقان کی آیت نمبر 30 کے الفاظ ہیں و قال الرسول یٰرب ان قومی اتخذوا ھذا القراٰن مھجورا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ  ”  رسول (ﷺ) نے کہا !  اے  رب بے شک میری قوم نے اس قران کو نظر انداز کر رکھا تھا ۔”  اس آیت مبارکہ کے سیاق و سباق کے مضامین پر نظر ڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قران اس وقت کا نقشہ کھینچ رہا ہے جب قیامت قائم ہو چکی ہوگی ۔ تمام نفوس اللہ کی بارگاہ میں صف بستہ کھڑے ہوں گے ۔ نیکو کاروں کو ان کی ایمان پر گامزن رہنے اور اللہ کے احکامات کی بجا آوری اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کی پیروی کے نتیجہ میں اعلیٰ درجات اور جنت عطا کی جا رہی ہوگی ۔ اسی طرح کافروں اور اللہ کے  رسول کی نافرمانی کرنے والوں کو ان کے کیے  کی سزا مل رہی ہوگی ۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ ابرار خوش ہوں گے تو کفار سخت پشیمانی اور پریشانی میں ہوں گے ۔ لوگ کف افسوس مل رہے ہوں گے کہ اے کاش ہم نے رسول کی بات مان لی ہوتی اور ان گمراہیوں میں نہ پڑے ہوتے ، فلاں کی تقلید نہ کی ہوتی اور رسول کی بات کو سچ مانا ہوتا تو آج یہ خرابی کا دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ اس دن ہر ایک پر یہ واضح ہوجائے گا کہ الملک یومئذ الحق للرحمٰن یعنی اس روز حقیقی حکومت صرف حضرت رحمٰن کی ہوگی۔ اللہ جل شانہ’ کا جلال اور شاہانہ رعب و سطوت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوگا اور وہ تمام کافرین و مشرکین جن کو اعتماد تھا کہ وہ اللہ کو کسی نہ کسی طور راضی کرلیں گے آج اپنی اس حماقت پر خود ہی نادم ہوں گے ۔ اپنی گذشتہ زندگی پر بھرپور پچھتاوا ہوگا اور وہ سب افسوس بے سود ہوگا کیونکہ وقت واپس نہیں پلٹے گا اور اپنے ہاتھ سے کمائے ہوئے اعمال اس دن اپنا پورا پورا بدلہ دیں گے ۔ کافروں کا اس دن اپنے ہاتھوں کو کاٹ کھانا اور گئی زندگی کے سر پھرے اعمال کو چھپا لینا ممکن نہ ہوگا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements