امام ابن رجب حںبلی رحمہ اللہ


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : راشد حسن سلفی مبارک پوری، نئی دہلی

نام و نسب

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ امام صاحب کس قدر اللہ تعالی سے قریب تھے۔ ان کے زہد و اتقاء کی شان یہ تھی کہ انہیں اپنے محبوب سے جلد ملاقات کی بابت پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا، اللہ تعالی ہمارے اندر ایسے صالح جذبات پیدا فرما دے اور اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

امام حافظ علامہ زین الدین عبد الرحمن بن شیخ امام أحمد ابن شیخ امام محدث عبد الرحمن ابو رجب بن الحسن بن محمد بن أبی البرکات مسعود السلامی البغدادی ثم الدمشقی الحنبلی۔ یہ آپ کا مکمل نسب نامہ ہے مگر آپ علمی حلقوں میں "ابن رجب حنبلی” کے نام سے معروف ہوئے۔ (یہ نسبت قبیلہ بنی سلاماں کے ایک شخص یا بغداد کے شہر مدینة السلام کی طرف ہے۔ الأنساب:٢٠٨٧)

ولادت

آپ کی ولادت ۷۳۶ھ میں بغداد میں ہوئی۔ (ولادت کے سن کے سلسلہ میں اختلاف ہے مگر راجح یہی ہے)۔

تاریخ میں ابن رجب نام کی اور شخصیتیں بھی ملتی ہیں مگر جب بھی "ابن رجب” بولا جائے تو علی الاطلاق مراد امام ابن رجب حنبلی ہی ہوتے ہیں، یہ ان کے علم و فضل میں عظمت و بلندی کی دلیل ہے۔

امام ابن رجب بغداد کے علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے آباء و اجداد اس زمانہ کے علم و فضل کے ستون سمجھے جاتے تھے، آپ کے دادا کی علمی مجلسوں کی خاص شہرت تھی اور خود آپ بھی ان کی مجلسوں کے حاضر باشوں میں سے تھے۔

سلف صالحین علم و فن کی بلندیوں کے ساتھ ساتھ مکارم اخلاق اور فضائل کی طرف خاص توجہ فرماتے تھے، امام ابن رجب کو اللہ تعالی نے علمی گہرائی اور پختگی کے دوبدو زہد و تقوی، خشیت و پاکبازی اور اللہ سے قربت و تعلق، نفس کی پاکیزگی و تزکیہ جیسی صفات سے پوری فیاضی کے ساتھ نوازا تھا۔

سیر و تراجم کی کتابوں میں تقریباً اتفاق ہے کہ امام ابن رجب کے اندر زہدو قناعت اور خدا ترسی کا جذبہ فراواں تھا، دنیوی رنگینیوں سے بہت دور رہتے تھے، سلف صالحین کے طرز پر نہایت سادہ زندگی گذاری، کبھی حکمرانوں اور امراء سے قریب نہیں ہوئے، نہ تو مال و دولت کو کبھی خاطر میں لاتے، زندگی بالکل زاہدانہ اور اللہ سے بے پناہ تعلق و قربت کی زندہ مثال تھی، ان کی زندگی کا یہ پہلو بہت نمایاں ہے چنانچہ اگر ان کی کتابوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ اس دنیا میں کس قدر گمنامی اور اجنبیت چاہتے تھے، صالحین کی صحبت اور علمی مذاکرہ پر خصوصی توجہ تھی۔

ابن ناصر الدین کہتے ہیں:-

"أحد الأئمة الزھاد والعلماء العباد۔” (الرادالوافر، ص : ١٠٦)

"وہ متقی ائمہ اور عبادت گذار علماء میں سے ایک تھے۔”

ابن فہد کہتے ہیں:-

"کان رحمہ اللہ اماما ورعا زاہدا، مالت القلوبُ بالمحبة لیہ، وأجمعت الفرقُ علیہ۔” (لحظ الألحاظ، ص : ١٨١)

"امام ابن رجب زاہد اور پرہیز گار امام تھے، لوگوں کے دل محبت میں ان کی طرف مائل تھے اور تمام فرقے کے لوگوں کا ان کی نیک نفسی پر اجماع تھا۔”

امام ابن حجر فرماتے ہیں:-

”وکان صاحب عبادة و تھجد۔” (نباء الغمر بأبناء العمر : ١٧٦٣)

"آپ عبادت کرنے والے تہجد گذار تھے۔”

امام صاحب دنیا سے نہایت بیزار تھے، لوگوں سے ملنا چلنا بہت کم رکھتے تھے اور زندگی کے آخری ایام میں یہ چیز زیادہ ہوگئی تھی، ابن مجی لکھتے ہیں:-

"کان لایخالط أحدا ولا یتردد لی أحد۔” (نباء الغمر : ١٧٦٣)

"وہ کسی سے ملتے جلتے نہ تھے اور نہ کسی کے پاس آتے جاتے تھے۔”

امام ابن رجب رحمہ اللہ کی مجالس روحانیت اور قرب الٰہی کا سرچشمہ ہوا کرتی تھیں، علم حدیث، عقیدہ اور فقہ و فتاوی میں غیر معمولی دستگاہ رکھتے تھے، ان موضوعات پر ان کی عظیم تالیفات بہترین شاہد ہیں۔

بعض حضرات نے اما م صاحب کو صوفیاء میں شامل کرنے کی بے جا کوشش کی ہے، کیوں کہ کتابوں میں -جن میں ”کشف الکربة” بھی ہے- صوفیاء کے اقوال نقل کیے ہیں، لیکن حقیت یہ ہے کہ امام صاحب صوفی بالکل نہیں تھے، خالص علماء سلف کے متبع تھے، محض اقوال نقل کر دینے سے انھیں صوفیت سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ یہ عجیب بات ہے کہ اسلامی تاریخ میں جن مشائخ و علماء نے صوفیاء کے اقوال نقل کیے یا زہد و عبادت کی طرف ان کا میلان زیادہ ہوا تو انہیں صوفیاء میں شمار کر لیا گیا۔

حتیٰ کہ یہ ظلم شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تک کے ساتھ کیا گیا، جن کی زندگی شرک و تصوف اور باطل افکار و نظریات کے ردو قدح میں گذری، زہدو تقوی، خشیت و پرہیزگاری اور کثرت عبادت ہی تو اصل اسلام ہے جس کی طرف خود امام ابن تیمیہ نے مجموع فتاوی میں اشارہ کیا ہے۔ ایک دوسرا تجاوز یہ ہے کہ تصوف کی مشابہت سے بچنے کی خاطر لوگ عبادت گذاری اور پرہیزگاری سے اس قدر دور ہوگئے کہ وہ ہر عبادت و ریاضت کو زبردستی تصوف سے جوڑنے لگے یہ عجیب معاشرتی تضاد ہے، جو اہل حدیثوں کے خانہ میں آتا ہے۔

بہر حال امام ابن رجب رحمہ اللہ کو تصوف سے جوڑنا بڑا مضحکہ خیز ہے، ان کی کتابوں میں کتاب و سنت سے الگ کوئی چیز نہ ملے گی اور کیوں کر ایسا نہ ہو جب کہ وہ اما م ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے خاص شاگرد امام ابن القیم کی مجلسوں کے حاضر باشوں اور فیض یافتگان میں سے تھے، امام ابن تیمیہ کی کتابوں کے خوشہ چینوں میں سے تھے، سلف صالحین کے عقیدہ پر سختی کے ساتھ کاربند بھی تھے۔ اس تصریح کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان سے غلطی کا امکان نہیں، حاشا و کلا وہ تمام علماء کی طرح ہیں ان سے بھی غلطی کا امکان ہے لہٰذا ان کو بشری صفات سے الگ نہ سمجھا جائے۔ لیکن بایں ہمہ بطور متبع سنت کے ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم ان علماء سلف کی تعظیم و توقیر کریں، ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ہم محض کسی معمولی غلطی کی وجہ سے کسی سے بھی بالکلیہ دستبردار ہوجاتے ہیں، ان کی کتابوں سے استفادہ نہیں کرتے، یہ چیز بہرحال قابل ستائش تو نہیں کہی جا سکتی، ہاں اتنا کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ایسی کتابیں جو ملحدانہ ہوں اور ان سے عقیدہ میں بگاڑ آئے تو ان سے بچنا لازمی ہے، علماء عرب نے اسی وجہ سے ”کتب حذر منھا العلماء” جیسی کتابیں تالیف کیں اور ان کتابوں کے مطالعہ سے سختی سے روکا جن سے فکری انحراف پیدا ہو سکتا ہے۔

امام ابن رجب رحمہ اللہ کی پوری زندگی کتاب و سنت کی خدمت میں گذری، بہت سی کتابیں تالیف کیں، ان میں مخطوط و مطبوع ۶۷ کتابیں ہیں۔ بعض اہم کتابوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

١۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری

٢۔ جامع العلوم والحکم

٣۔ شرح علل الترمذی

٤۔تفسیر سورۂ الاخلاص

٥۔ تفسیر سورة النصر

٦۔ فضل علم السلف علی علم الخلف

٧۔ أھل القبور

٨۔ لطائف المعارف فیما لمو اسم العام من الوظائف

٩۔ ذم المال والجاہ

١٠۔ نزھة الأسماع فی مسألة السماع

١١۔ذیل طبقات الحنابلہ

١٢۔اختیار الأولی فی شرح حدیث اختصام الملأ الأعلی

١٣۔ القواعد الفقہیة

١٤۔ کشف الکربہ فی وصف حال أھل الغربة

١٥۔ الحکم الجدید بالذاعة۔

آپ کی وفات ماہ رجب یا ماہ رمضان ۷۹۵ھ میں بمقام دمشق ہوئی اور مقبرہ باب صغیر میں شیخ ابو الفرج عبدالواحد الشیرازی المقدسی کے بغل میں دفن کیے گئے۔

ان کی وفات سے متعلق ایک عجیب و غریب قصہ مشہور ہے، ابن ناصرالدین کہتے ہیں:-

"جس شخص نے امام ابن رجب کی قبر بنائی اس نے بیان کیا کہ وفات سے چند روز قبل امام ابن رجب ان کے پاس تشریف لائے اور کہا میرے لیے یہاں قبر کھودو، میں نے قبر کھودی تو وہ قبر میں جاکر لیٹ گئے اور فرمایا یہ بہتر ہے پھر نکل گئے، وہ کہتے ہیں بخدا کچھ دنوں کے بعد ان کی نعش لائی گئی اور میں نے ان کو اسی جگہ دفن کیا۔” (الرد الوافر، ص : ١٠٧)

پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ : دستور پاکستان اور قادیانیت


الواقعۃ شمارہ 48 - 49 جمادی الاول و جمادی الثانی 1437ھ

از قلم : شکیل عثمانی

حال ہی میں وطنِ عزیز کے ممتاز دانش ور، جناب جاوید احمد غامدی کا ایک مضمون "اسلامی ریاست : ایک جوابی بیانیہ” ان کے ماہنامہ "اشراق” لاہور اور چند دوسرے رسائل اور جرائد میں شائع ہوا ہے۔ موضوع کی اہمیت اور اپنے سنجیدہ اور علمی اندازِ بیان کے سبب یہ مضمون گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے۔ اس لیے بھی کہ یہ ملک میں جاری اسلام اور سیکولر ازم کی اُس کشمکش کی عکاسی کرتا ہے، جس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ ذیل کی سطور میں مضمون کے صرف چند نکات کا اختصار سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش


تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش

پڑھنا جاری رکھیں

بشریٰ


Contents in uni-code are included at the bottom of the article. To download PDF, pls click the link at the bottom.
مضمون کے آخر میں مندرجات یونی کوڈ میں بھی شامل ہیں۔ "پی ڈی ایف” ڈاؤن لوڈ کرنے لئے آخر میں دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔

پڑھنا جاری رکھیں

کیا علامہ تمنّا عمادی منکر حدیث تھے ؟


الواقعۃ شمارہ #1

محمّد تنزیل ا لصدیقی ا لحسینی

 

کیا علامہ تمنّا عمادی 

منکر حدیث تھے ؟

 

علّامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی ماضیِ قریب کی مشہور و معروف علمی شخصیت ہیں ۔ انہیں علم و ادب کی دنیا میں شہرت و مقبولیت بھی ملی اور ان کے افکار و خیالات علمی دنیا کے لیے محلِ نزاع بھی بنے ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان کی شخصیت اور افکار پر غیر جانبدارانہ تحقیق کی جاتی تاہم امر واقعہ یہ ہے کہ ان کی شخصیت غیر متوازن تنقید اورمبالغہ آمیز تعریف کی کشمکش میں مبتلا مظلوم شخصیت ہے ۔ ان پر تنقید کرنے والوں کی نظر میں ان کی خوبیاں بھی خامیاں ہیں اور جو لوگ آج ان کی وراثتِ علمی کے امین ہیں انہوں نے بھی ان کے ساتھ کچھ کم زیادتی نہیں کی ۔ اپنے خیالات پر تمنائی مہر لگا کر طرح طرح کے رطب و یابس کو علامہ سے منسوب کردیا ۔ 

 

 

 

 

علّامہ تمنا کی علمی و فکری زندگی پر اظہارِ خیال سے قبل ان کی مختصر سوانح ذکر کرنا ضروری ہے ۔ 

 

 

 

علّامہ تمنّاکا تعلق ہندوستان کے مشہور خانوادئہ علم و طریقت سے تھا ۔ نسباً جعفری الزینبی تھے ۔ مختصر سلسلۂ نسب حسبِ ذیل ہے :

 

 

 

 

 

علامہ محی الدین حیات الحق تمنّا بن نذیر الحق فائز بن سفیر الحق سفیر بن ظہور الحق ظہور بن نور الحق تپاں پھلواروی ۔ 

 

 

اس سلسلہ نسب سے وابستہ یہ تمام افراد حامل علم و فضل تھے ۔ علامہ تمنا کے پردادا شاہ ظہور الحق پھلواروی بارہویں و تیرہویں صدی ہجری کے کبار فقہائے کرام میں سے تھے ۔ صحیحین کے حافظ تھے ۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے ان کے علم و فضل سے متاثر ہوکر انہیں سندِ حدیث مرحمت فرمائی تھی ۔ علّامہ اقبال ان کی ایک کتاب ” تسویلات الفلاسفة ” کے ازحد متلاشی تھے اور انہیں ” ہندی فلسفی ساکن پھلواری ” قرار دیتے تھے ۔شاہ ظہور الحق کی وفات ١٣٣٤ھ میں ہوئی ۔ علامہ تمنا کے والد اور دادا بھی اپنے عہد کے جید فضلاء میں سے تھے ۔ 

 

 

علامہ تمنّا ٣ شوال ١٣٠٥ھ / ١٤ جون ١٨٨٨ء کو پھلواری شریف میں پیدا ہوئے تھے ۔  زیادہ تر اخذِ علم اپنے والد سے کیا ۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد اوّلاً مدرسۂ حنیفیہ ، پٹنہ میں مدرس مقرر ہوئے ۔ یہاں ١٩١٠ء سے ١٩١٨ء تک عربی اور فارسی کے مدرّس رہے ۔ اس کے بعد تقریباًساڑھے تین سال ہندوستان کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد کے قائم کردہ ودّیا پیٹھ یونی ورسٹی ( بہار ) میں عربی فارسی پڑھاتے رہے ۔ ١٩٢١ء میں یہاں سے الگ ہوئے ، تو پھر کسی ادارے میں ملازمت نہیں کی ۔ انہوں شروع ہی سے قرآن کریم سے شغف اور دلچسپی تھی ۔ باوجود اس کے کہ ان کا تعلق خانوادئہ خانقاہی سے تھا مگر اوائل عمر ہی میں انہیں تصوف سے شدید بیزاری ہوئی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی چلی گئی ۔ علّامہ تمنا سلسلۂ آبائی کے اعتبار سے نظامِ تصوف سے منسلک تھے لیکن انہوں نے اپنے آباء و اجداد کے مسلک کو نہ صرف ترک کیا بلکہ اس پر شدید نکیر بھی کی ۔ مسلکِ آبائی سے انحراف کوئی معمولی بات نہیں ۔

 

 

١٩٤٨ء میں انہوں نے مشرقی پاکستان ہجرت کی ۔ وہ ہندوستان کے پہلے صدر راجندر پرشاد کے دوستوں میں سے تھے ۔ ہندوستان کے اکابر سیاسی زعماء سے ان کے روابط تھے ۔ وہ ہندوستان میں رہتے ہوئے اپنے لیے بڑے مواقع پیدا کرسکتے تھے لیکن چونکہ وہ مسلم لیگ کے حامی تھے اس لیے اپنے رجحانِ فکر کے عین مطابق انہوں نے ہندوستان سے ہجرت ضروری سمجھا ، چنانچہ اپنی آبائی جائیداد ہندوستان چھوڑ کر مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکہ تشریف لے آئے ۔ ہجرت سے متعلق ان کا نقطۂ نظریہ تھا کہ جن لوگوں نے اللہ ربّ العزت کی خاطر ہجرت کی ہے ان کے لیے حکومتِ پاکستان سے کسی جائیداد کا مطالبہ درست نہیں ۔ چنانچہ اپنے رجحانِ فکر کے باعث یہاں بھی انہوں نے ایثار و قربانی کی مثال پیش کرتے ہوئے اپنے لیے کسی قسم کی جائیداد کا کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ یہاں بھی انہوں نے بہت اچھا وقت گزارا ۔ علمی و فکری حلقوں میں انہیں شہرت و اہمیت حاصل ہوئی ۔ ١٩٧٢ء کے شروع میں انہیں حلق کے کینسر کا عارضہ لاحق ہوگیا ۔ علاج معالجہ بے سود رہا ، تکلیف میں کوئی کمی نہ ہوئی ۔ بالآخر اسی مرض میں ٢٧ نومبر ١٩٧٢ء / ٢٠ شوال ١٣٩٢ھ کو کراچی میں وفات پائی ۔

 

 

علامہ تمنا کی علمی و فکری ارتقاء کے مختلف مراحل ہیں ۔ انہوں نے تصوف کی گود میں آنکھ کھولی اور خانقاہی ماحول میں پرورش پائی ۔ پھلواری میں جو نظام تصوف رائج ہے وہ نہ خالص دیوبندی طرزِ فکر کا ہے اور نہ ہی بریلوی، بلکہ ایک طویل عرصے تک پھلواری کے خانقاہی ماحول میں تشیّع ، تفضیلیت کی شکل میں داخل رہی ۔ خود علامہ تمنا کے والد شاہ نذیر الحق فائز نے تعزیہ داری کے جواز میں ایک رسالہ لکھا ۔ شاہ نذیرالحق فائز کے حقیقی نانا قاضی سیّد مخدوم عالم پھلواروی تفضیلی تھے ۔ علامہ تمنا کے حقیقی ماموں مولانا حکیم منظور احمد پھلواروی بھی تفضیلی تھے ۔ اس نظام وماحول میں پرورش پانے کے باوجود علامہ تمنا کا تصوف اورتشیّع کی تردید میں کمربستہ ہونا کسی جرأت رندانہ کے بغیرممکن نہیں ۔ انہوں نے علم و تحقیق کے بعد جسے درست سمجھا اسے اختیار کیا ، محض مسلکِ آبائی کو اپنا دین نہیں سمجھا ۔

 

 

غالباً تشیّع کی تردید کا جذبہ حدّ اعتدال سے باہرہوگیا اور یہی وجہ رہی کہ انہیں ایسے تمام راوی ، جن میں تشیّع کی ذرا بو محسوس ہوتی ، اس کی تمام روایتوں کی تردید کو وہ ضروری خیال کرتے ۔ چنانچہ اگر گہری نگاہ سے دیکھا جائے تو علّامہ تمنا نے جن احادیث و آثار پر تنقیدیں کی ہیں ان میں بیشتر میں یہی جذبہ کار فرما نظر آئے گا ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ روّیہ درست ہے بلکہ ہمارا مقصد صرف موصوف کے نفسیاتی پہلو کو اُجاگر کرنا ہے ۔ 

 

 

موصوف پر انکارِ حدیث کا ایک خاص اور طویل دور گزرا ، ان کی تحریریں منکرینِ حدیث کے رَسائل میں شائع ہوئیں اور انہیں منکرینِ حدیث کے طبقے کا امام شمار کیا جانے لگا ۔ چنانچہ ان کی ایسی تحریریں پرویزی رَسائل و جرائد میں بکثرت شائع ہوئیں جن میں احادیث پرکڑی تنقیدیں ہوتی یا جن میں حدیث کی حجیت کو مشکوک ٹھہرایا جاتا ۔ بدقسمتی سے یہ دور طویل بھی رہا اور اس دور کے ” تمنّائی اجتہادات ” کی نشر و اشاعت کا فریضہ بھی منکرینِ حدیث حضرات ہی نے انجام دیا ۔

 

 

پھر ایک دور خاصا ” تلبیسانہ ” آیا ۔جس میں علامہ موصوف مطابقِ قرآن حدیثوں کو ہی درست قرار دینے لگے ۔ ہدایت کو صرف قرآن میں محصور ماننے لگے اور ایسی تمام احادیث قابلِ رد قرار پائیں جن کا مآخذ قرآن نہیں تھا ۔ غور کیا جائے تو یہ نظریہ کسی ” شرارت ” سے کم نہیں ۔ کوئی صحیح حدیث کبھی بھی قرآن کے مخالف نہیں ہوتی تاہم یہ الگ بات ہے کہ انسانی فہم کی کجی اسے قرآن حکیم کے خلاف سمجھ بیٹھے ۔ اس نظریے کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ حدیث کی بنیادی حیثیت باقی نہیں رہتی گویا رسول اللہ ۖ  تو قرآن کی تشریح نہیں کرسکتے لیکن ان متجددین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قرآن کریم کی جو چاہیں تشریح کریں ۔ علامہ تمنا پر یہ دور تقریباً ایک دَہائی پر محیط رہا ۔ 

 

 

پھر علامہ تمنا کا آخری دور شروع ہوتا ہے ۔ اس دور میں انہوں نے حدیث کی حجیت کو صاف اور صریح لفظوں میں تسلیم کرلیا ۔ گزشتہ دور میں اگر موصوف نے ” مثلہ و معہ ” کو روایتِ مکذوبہ قرار دے کر حدیث کا مذاق اڑایا تھا تو اس دور میں ، جو کہ گزشتہ دور کا ناسخ بھی ہے ، وحی متلو اور وحی غیر متلو کو قرآنی تقسیم قرار دے کر حدیث کو حجّت فی الدین تسلیم کیا ۔ فرماتے ہیں :

 

 

” وحی غیر متلو کو ” غیر قرآنی ” کہہ کر رد کرنا اور اس کے اتباع سے انکار کرنا در حقیقت قرآن مجید کا انکار ہے ۔ ” [وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

 

افسوس یہ عہد ، عہدِ آخر تھا ۔ گزشتہ کوتاہیوں کا جس قدر ازالہ ممکن تھا ، سوکیا۔ غلام احمد پرویز کے ” لغات القرآن ” پر تنقید لکھی جس کی چند قسطیں ” فاران ” کراچی میں شائع بھی ہوئیں تاہم اس تنقید کا مسودہ مکمل کتابی شکل میں شائع نہ ہو سکا ۔ اس دور کی عدم شہرت ہی نے علامہ تمنا کی شہرت کو متاثر بھی کیا اور داغدار بھی ۔ آج اہلِ علم کی اکثریت بھی انہیں پرویزی قسم کا منکر حدیث قرار دیتی ہے ۔ علامہ تمنا عمادی کی ایک بڑی بدقسمتی یہ رہی کہ ان کے افکار و نظریات کی نشر و اشاعت کا فریضہ جن لوگوں نے انجام دیا اور جو دے رہے ہیں وہ بیشتر ایسے افراد ہیں جو حدیث کے باب میں تشکیک زدہ ہیں ۔ ” تمنائی افکار و نظریات ” کی تریج و اشاعت میں بھی ان کی غرض اپنے ” افکارِ خاص ” کی ترویج و اشاعت ہوتی ہے ۔ اس بات کا احساس خود علّامہ تمنا کو بھی ہوگیا تھا ، چنانچہ فرماتے ہیں : 

 

 

” طلوعِ اسلام میں میرے وہی مضامین چھپتے رہے جو ادارہ طلوعِ اسلام کے مسلک کے موئد تھے اور جن سے ادارے کو ذرا سا بھی اختلاف ہوا وہ مضامین شائع نہ ہوئے چنانچہ بعض واپس شدہ مضامین اب تک میرے پاس موجود ہیں طلوعِ اسلام سے تعلقات پیدا ہونے کے چند برس کے بعد ہی سے مجھ کو اس کے مسلک سے اختلاف ہوا تو میںنے کسی اور رسالے میں اپنے اختلافی مضامین شائع کرانے کے بجائے نجی طور پر مراسلت شروع کی اور اپنے اختلاف سے مطلع کرتا رہا کیونکہ اس طور پر افہام وتفہیم سے اصلاح کی توقع زیادہ ہوتی ہے ، بہ نسبت اس کے کہ رسائل و جرائد میں ردّ و قدح کا ہنگامہ برپا کیا جائے اس لیے کہ ایسی صورت میں مناظرے اور ضد کی نوعیت پیدا ہوجانے کا قوی امکان ہوتا ہے ، چنانچہ بہت سے مسائل پر نجی خطوط کے ذریعہ مسلسل افہام و تفہیم کرتا رہا اور یہ صورت حال امسال [١٩٧١ئ] تک جاری رہی ۔ ”

[وحي  متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

یہ ٹھیک ہے کہ ایک عرصے تک خود علامہ تمنا بھی منکرینِ حدیث کے ہمنوا تھے لیکن جب انہیں اس فتنے کا ادراک ہوا تو یہ ادراک بھی پورے احساس و شعور کے ساتھ تھا ۔ فرماتے ہیں :

 

 

”ادارہ بلاغ القرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ رسول اللہ ۖ پر صرف قرآن کریم اترا ، قرآن کریم کے علاوہ کسی قسم کی وحی بھی آنحضرت ۖ کی طرف اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں فرمائی ۔ سنّت اگر کوئی چیز واجب الاتباع ہوتی تو قرآن کی طرح رسول کریم ۖ ضرور اس کو بھی لکھوا کہ کتابی صورت میں قرآن کریم کے ساتھ امت کو دے جاتے ۔ اس لیے سنّت کہاں ہے ؟ کس کتاب میں ہے ؟ کوئی ایسی کتاب دکھائیے جس میںتمام فرقوں کی متفق علیہ سنت ہو جس کے کسی جز سے کسی فرقے کو اختلاف نہ ہو ، اور طلوعِ اسلام کا مؤقف بھی یہی ہے ۔ ان کے اس سوال کا جواب تو میرے رسالہ ” السنة” میں ہے یہاں اعادہ بے فائدہ ہے مگر یہاں مجھ کو صرف یہ دکھانا ہے کہ صرف قرآن کریم کو قبول کرنے اور باقی سب چیزوں کو روایت کہہ کر ٹھکراتے رہنے سے ان کا اصل مقصد کیا ہے ؟”

”اصل مقصد: قرآن مجید کو قبول کرلینے اور باقی سارے دینی لٹریچر کو ردی قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ قرآنی آیتوں کو توڑ مروڑ کر جو مفہوم جس آیت سے چاہیں گے نکال لیں گے ، جس لفظ کے چاہیں گے معنی حقیقی کی جگہ مجازی لے لیں گے، جس واقعے کو چاہیں گے خواب کا واقعہ کہہ دیں گے، جس عبارت میں ضمیر جدھر چاہیں گے پھیر دیں گے ، جس اسم اشارہ کا جس کو چاہیں گے مشار الیہ قرار دیں گے ، جس لفظ کے متعدد معانی لغت والوں نے لکھے ہیں ان میں سے جو معنیٰ چاہیں گے حسبِ دلخواہ مرادلے لیں گے، اس طرح قرآن مجید کی آیتوں کو اپنے منشا اور اپنی اغراض کے تابع رکھنے کی پوری آزادی حاصل رہے گی ۔ دوسروں نے کیا لکھا ہے اس کو دیکھنے کی ضرورت نہیں اس لیے کہ دوسرے تو سب کسی نہ کسی فرقے کے ہیں اور فرقہ وارانہ روایات کے پابند ہیں اور یہاں روایات کے اتباع کو گمراہی بلکہ شرک سمجھتے ہیں اس لیے ان ” مشرکین ” کی تفسیروں اور ترجموں کو دیکھنا بھی گناہ ہے ۔ ہاں ! ان میں سے اگر کسی کا کوئی قول ایسا مل جائے جس سے اپنے خیال کو تقویت ہو تو البتہ اس کو پیش کریں گے بلکہ ضعیف سے ضعیف روایت اور کسی منافق راوی کا قول بھی اپنے موافق مل جائے گا تو اس کو اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کریں گے اور کہیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ( وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰن )ہم نے ضرور اس قرآن کو آسان کردیا ہے تو پھر انسان کے سمجھنے میں دشواری کیوں ہوگی ؟ ہم جو مطلب جس آیت کا سمجھے ہیں صحیح ہی سمجھے ہیں ۔ آسان بات کے سمجھنے میں غلطی نہیں ہوسکتی ۔ مگر قرآنی آیات کو سمجھنے کی کوشش کب کی جاتی ہے ؟ ساری کوششیں تو آیات سے اپنے موافق مفہوم پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہیں اس لیے ضرورت ہوئی کہ اس فرقے کی طرف خصوصیت سے توجہ کی جائے ۔ خصوصاً اس لیے دیکھ رہا ہوں کہ کوئی صاحبِ علم اس فرقے کی طرف پوری طرح سے متوجہ نہیں ہو رہا ۔ صرف ” فتنہ انکارِ حدیث ” کہہ دینے یا بعض رسالوں سے اس فتنہ کا انسداد نہیں ہو سکتا ۔” [ وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

رسول اور احادیث رسول کی حیثیت و اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

 

 

”جس پر وحی اتری ہے وہی توا س وحی کا مخاطب اولیٰ ہے چاہے وہ وحی کتابی ہو یا غیر کتابی یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ خود رسول نے اس وحی کا کیا مفہوم سمجھا تھا اور احکام وحی کی کس طرح تعمیل فرمائی تھی رسول صرف مبلغ کتاب بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے بلکہ معلّم اور مبینِ کتاب بھی تھے اس لیے تعلیم و تبیین رسول سے واقفیت حاصل کرنے کی ضرورت نہ سمجھنا اور بطور خود اپنی خواہش کے مطابق آیات قرآنی کی تفسیرکرنا سخت گمراہی اور بدترین الحاد ہے ۔” [وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

وحی متلو و غیر متلو کی تقسیم کو قرآنی تقسیم قرار دیتے ہوئے صاف لفظوں میں فرماتے ہیں : 

 

”یہ تقسیم علماء سلف نے اپنی طرف سے نہیں کی خود قرآن مجید نے تقسیم بیان فرمادی ہے ۔ سورة الکہف کی آیت ٢٧ پڑھیے :

 

 

 

( وَاتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ )  

 

 

 

” اورتم تلاوت کرو اس وحی کی جو تمہارے رب کی کتاب سے تمہاری طرف کی گئی ہے ۔”

 

 

 


 اس آیت کریمہ میں ( مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ ) کی قید بتارہی ہے کہ تلاوت وحی کتاب ہی کی مامور بھا ہے اور اس قید نے یہ بتادیا کہ کتاب سے باہر بھی بعض وحی ہوئی ہے جس طرح اگلے انبیاء علیہم السلام کی طرف کتابی و غیرکتابی دونوں طرح کی وحی آتی ہے ۔ اس لیے رسول اللہ ۖنے کاتبین وحی سے صرف کتابی وحی لکھوائی تاکہ اس کی تلاوت ہو غیر کتابی وحی کی تلاوت کا حکم نہ تھا ۔ اس لیے قرآن کی طرح باضابطہ اس کو نہیں لکھوایا ۔ کتابی وحی میں الفاظ وحی ہوتے جن کا محفوظ رکھنا ضروری تھا غیر کتابی وحی میں مفہوم کی وحی ہوتی تھی اوراگر مفہوم فرشتے کو القا ہوتا تھا تو الفاظ فرشتے کے ہوتے تھے جو وہ رسول تک پہونچاتا اور اگرمفہوم رسول پر بیداری میں یا خواب میںا لقاء ہوتا تھا تو رسول اپنے الفاظ میں بیان فرماتے تھے ۔مگر مفہوم ایسی احکامی وحیوں کے بعد کو کہیں نہ کہیں قرآن مجید میں کسی نہ کسی طرح ضرور بیان فرمادیئے جاتے تھے تاکہ وہ مفہوم محفوظ رہ جائے اسی لیے دیکھئے دوسری جگہ بھی یونہی فرمایا ہے :

 

 

 


( اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ط اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَ الْمُنْکَرِ ط وَ لَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ ط وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ ) 

 

 

 


” اس کتاب سے جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کرو اورنماز قائم کرو بے شک نماز بے حیائی کی باتوں اورناپسندیدہ کاموں سے روک دیتی ہے اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرو گے ۔” ( عنکبوت : ٤٥)

 

 

 

اس آیت کریمہ میں دو کاموں کا حکم دیا گیا ہے پہلا حکم  ( اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ) کا ہے یعنی حکم دیا جارہا ہے کہ اس کتاب سے جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کرو ۔ جو شخص کچھ بھی آخرت کی باز پرس سے ڈرتا ہو اوریقین رکھتا ہو کہ اگر قرآنی آیات کے مفہوم صحیح کے اقرار و انکار میں ہٹ دھرمی سے کام لیں گے تو قیامت کے دن ہم سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ میں ایسے مومن سے پوچھتا ہوں کہ ( مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ) میں جو قید (مِنَ الْکِتٰبِ ) کی ہے صاف بتارہی ہے یا نہیں کہ کتاب والی وحی کے علاوہ بھی وحی ضرور آتی تھی ورنہ من الکتاب کی قید محض فضول ٹھہرے گی اور قرآن مجید میں کوئی لفظ بھی بے سود نہیں لایا گیا ہے اور چونکہ صرف کتابی ہی وحی کی تلاوت کا حکم ہے اس لیے کتابی ہی وحی متلو ہوئی اور غیر کتابی وحی غیر متلو ہوئی قرآن مجید نے خود وحی کی دو قسم متلو و غیر متلو بتادی یا نہیں ؟ [وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

 

اتباع قرآنی وحی کی بھی ہوگی اور غیر قرآنی وحی کی بھی ۔ علامہ تمنا اس امر کو قرآنِ کریم کی روشنی میں واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

 

 

”اتباع چونکہ ہر قسم کی وحی کا فرض ہے اس لیے جہاں اتباع کا حکم ہے وہاں عام وحی کے اتباع کا حکم یا ذکر ہے ان آیتوں میں ( من الکتاب ) کی قید نہیں لگائی گئی ۔ تو اب اتباعِ وحی کے ذکر یا حکم کی آیات کریمہ ایمان و دیانت کی نظر سے خدا ترسی کے جذبے کے ماتحت ملاحظہ فرمائیے۔

 

 

 

 (١) ( قُل لاَّ أَقُولُ لَکُمْ عِندِیْ خَزَآئِنُ اللّہِ وَلا أَعْلَمُ الْغَیْْبَ وَلا أَقُولُ لَکُمْ ِنِّیْ مَلَک ِنْ أَتَّبِعُ ِلاَّ مَا یُوحَی ِلَیَّ )]انعام :٥٠[

 

 

 


” کہہ دو ( اے رسول ) کہ نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے ( دیئے ہوئے ) خزانے ہیں اور نہ میں غیب ( کی باتیں ) جانتا ہوں اور نہ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔ میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جس ( بات ) کی وحی میری طرف کی جاتی ہے ۔ ”

 

 

 


(٢) (اتَّبِعْ مَا أُوحِیَ ِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ لا ِلَہَ ِلاَّ ہُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ)] انعام : ١٠٧[

 

 

 


” (اے رسول ) تم اتباع کرو اس ( بات ) کا جس کی وحی تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے کی گئی اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور مشرکین کی طرف سے منہ پھیر لو ( ان کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کرو )۔”

 

 

 


(٣) ( قُلْ ِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا یِوحَی ِلَیَّ مِن رَّبِّیْ )  ] اعراف:٢٠٣[ 

 

 

 

” کہہ دو ( اے رسول ) کہ میں اتباع صرف اسی کا کرتا ہوں جس کی وحی میری طرف میرے رب کی طرف سے کی جاتی ہے ۔”

 

 

 

 

(٤)  ( وَاتَّبِعْ مَا یُوحَی ِلَیْْکَ وَاصْبِرْ حَتَّیَ یَحْکُمَ اللّٰہُ وَہُوَ خَیْْرُ الْحَاکِمِیْنَ ) 

 

 

 

 

” جو وحی ( اے رسول ) تمہاری طرف کی جائے تم اس کا اتباع کرو اور صبر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔” ( سورئہ یونس کی آخری آیت )

 

 

 

 

(٥)  ( وَاتَّبِعْ مَا یُوحَی ِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ ِنَّ اللَّہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْراً )

 

 

 

 

” ( اے رسول ) تمہارے رب کی طرف سے جو وحی کی جائے اس کا اتباع کرتے رہو تم لوگ جو کچھ کروگے اللہ تعالیٰ بے شک اس سے باخبر ہے ۔”]احزاب :٢[ 

 

 

 

 

ان پانچ آیتوں میں اتباعِ وحی کا حکم ہے اور یہ حکم عام وحی سے متعلق ہے کہیں بھی کتاب کی قید نہیں ۔”[ وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

 

 

منکرینِ حدیث کی روش پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 

 

 

 

”وحی غیر متلو جس کو مدعیانِ قرآن فہمی وحی تو تسلیم ہی نہیں کرتے ، ” غیر قرآنی ” باتیں کہہ کر رد کردیتے ہیں ان میں بہت سی تو ایسی ہیں جن کا ذکر کسی نہ کسی طرح قرآن مجید میں کردیا گیا ہے مگر اس فرقے والوں کو ان آیات سے کیا بحث ؟ ان کو ایسی آیتوں کی تلاش رہتی ہے جن سے وہ آج کل کے الحاد زدہ نوجوانوں کو مطمئن کرسکیں اور دنیا میں انسانوں کو خودساختہ نظام معیشت قائم کرسکیں اور بزعم خود سرمایہ داری کا استیصال کرسکیں ۔ ڈارون کی تھیوری کو قرآنی آیتوں سے ثابت کرسکیں ۔ غرض ان کا حاصل یہ ہے :

 

 

 

 

( ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا )

 

 

 

 

” ان کی ساری جدو جہد دنیاوی ہی زندگی کے مفاد میں کھو گئی ( خرچ ہوگئی ہے ) اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔” ( کہف : ١٠٤ )

 

 

 

 

اس لیے وہ کبھی اس پر غور ہی نہیں کرتے کہ ( اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ )سے نمازِ جمعہ کا ثبوت تو مل رہا ہے مگر نمازِ جمعہ کب فرض ہوئی تھی ؟ اور کس آیت کے ذریعے فرض ہوئی تھی ؟

 

 

 

 

پھر” نداء للصلوٰة ” یعنی اذان کا ذکر قرآن مجید میں کئی جگہ ہے اذان کا حکم اور اذان کے کلمات کی تعلیم کس آیت سے ثابت ہوتی ہے ؟ ان باتوں پر غور کرنے کا ان کے پاس وقت کہاں ؟ ا س لیے یہ ان وحی ہائے غیر متلو سے بالکل بے خبر ہیں جو قرآ ن مجیدمیں صراحتاً مذکور نہیں اور جو قرآن مجید میں صراحتہً مذکور نہیں ان کو غیر قرآنی اور روایتی کہہ کر ٹھکرا دیتے ہیں حالانکہ قرآن مجید ان کی صداقت کی گواہی دے رہا ہے ۔ ”[ وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

 

علامہ تمنا کے نزدیک ہدایت کے تین ذریعے ہیں اور تینوں میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ فرماتے ہیں :

 

 

”اللہ کی کتاب اور محمد رسول اللہ ( ۖ ) و الذین معہ یہی تین ذریعے ہیں ہدایت کے ۔ یہ تینوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے اور نہ کوئی ان تینوں میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑ کر راہِ ہدایت پا سکتا ہے ۔ ” [ کتاب اللہ ، محمد رسول اللہ و الذین معہ از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ” نقوش ” رسول نمبر : ١/٣٥٨۔دسمبر ١٩٨٢ء ]

اب علّامہ تمنا کے ایک مکتوب گرامی سے اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ یہ مکتوب گرامی راقم کو اپنے والد محترم محمد احسن اللہ عظیم آبادی ( ١٩٢١ء -١٩٩٥ء ) کے ذخیرئہ کتب سے ملا تھا ۔ راقم کے والد علامہ تمنا کے قریبی عزیز اور تلمیذِ رشید تھے ۔خط میں مکتوب الیہ کا نام درج نہیں تاہم اندازہ ہوتا ہے کہ مکتوب الیہ ” کفایتِ قرآن” کے مدعی اور ” منکرینِ حدیث ” ہمنوا ہی تھے ۔ علامہ تمنا انہیں لکھتے ہیں :

 

 

 

” کفایتِ قرآن کے لفظ سے اپنے نفس کو بہت دھوکہ دیا جا سکتا ہے اوردوسروں کو بھی ۔ مولوی صبیح وکیل بہاری مرحوم جو میرے شاگردبھی تھے صرف چار مہینے مجھ سے میری تصنیف کتاب جواہر الصرف و روح النحو میں مجھ سے عربی صرف و نحو پڑھی تھی ۔ اس کے بعد لگے قرآن مجید کا بطور خود مطالعہ کرنے چند برسوں کے مطالعہ کے بعد مجتہد بن گئے اور کتا ، بلی ، چوہا ، چھچھوندر کو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کے ذبح کرکے کھانے لگے ۔ اور غسل جنابت کے منکر ہوگئے ۔……. تہجد کو فرض سمجھتے تھے ۔ آپ ایک وقت کو تین وقت بتاتے ہیں وہ ایک وقت نماز پڑھا کر چھ وقت کی نماز فرض قرار دیتے تھے مگر بے اعراب دی ہوئی عربی عبارت صحیح طور سے پڑھ نہیں سکتے تھے نہ دو سطر صحیح عربی لکھ سکتے تھے نہ پانچ منٹ تک کسی موضوع پر صحیح عربی میں بول سکتے تھے ۔ اور یہی کفایت قرآن کی سند پیش کرتے تھے ۔ امت مسلمہ امرتسر کے جلسے میں ایک بار مدعو ہوا تھا اور امرتسر پہونچ کر مولوی احمد الدین مرحوم سے بھی ملا تھا ۔ بھائی مولانا عرشی صاحب سے پہلے پہل وہیں ملاقات ہوئی تھی اور کئی مدعیان کفایت قرآن سے ملاقات ہوئی جن میں مولوی احمد الدین مرحوم کے سوا کسی نئے ملنے والے میں اس کی مطلق صلاحیت نہیں دیکھی کہ وہ علمی بحث کو سمجھ بھی سکتے ۔ مولانا عرشی سے تو رسالہ البیان کی وجہ سے دیرینہ تعلقات تھے ۔ ان کے سوا دیرینہ تعلقات والے بھی کچھ ویسے ہی نظر آئے ۔ مولانا ثناء اللہ اہل حدیث مرحوم سے بھی ملاقات ہوئی انہوں نے اپنی تفسیر القرآن بکلام الرحمان مجھ کو تحفةً دی جو میرے پاس موجود ہے ۔ تو کتاب قرآن پر تو ایمان ہے مگر یہ ویسا ہی ہے کہ بعض لوگوں نے کہا تھا کہ (  ِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْہِمُ الْمَلَائِکَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا)     ( حٰم :٣٠) اور پھر ( اَلَیْسَ اللّٰہَ بِکَافٍ عَبْدَہ ) کہہ کر صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کو کافی سمجھتے تھے اور رسول اور ملائکہ پر ایمان لانے کو شرک فی الایمان کہتے تھے اور ( اَ لَیْسَ اللّٰہَ بِکَافٍ عَبْدَہ ) کے خلاف سمجھتے تھے ۔ ویسے ہی کفایت قرآن کو دعویٰ لے کر معلم کتاب کی تفہیم و تبیین سے استغنا بھی ہے ۔ بہر حال یہ بحث مستقل طور سے زیر غور لانے کی مستحق ہے سرسری طور سے خطوط میں چند سطری لکھ دینے سے کام نہیں چل سکتا ۔ ”

 

مولانا افتخار احمد بلخی ، جو علامہ تمنا کے تلمیذ اور انکارِ حدیث کی تردید میں لکھی گئی ایک مشہور کتاب کے مصنف بھی ہیں ، علامہ تمنا عمادی سے متعلق فرماتے ہیں :

 

 

”میں اپنے ذاتی علم کی بنا پر کہتا ہوں کہ مولانا انکارِ حدیث کو ایک ایسی ضلالت تصور کرتے ہیں ، جس کی سرحد کفر سے ملتی ہے ، یہ میرا ذاتی علم ہی نہیں بلکہ مولانا کی شائع شدہ تحریریں بھی اس پر شاہد ہیں ۔”[فتنہ انکارِ حدیث کا منظر و پس منظر: [١/٥٥ – ٦٥]]

یہ مضمون جریدہ "الواقعۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، -2012 اپریل،- سے ماخوذ ہے۔