مشعر باصطلاح صوفیہ و معارج و مدارج اہل سلوک


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمة اللہ علیہترجمہ : مولانا عبد العزیز صمدن فرخ آبادی

مشعر باصطلاح صوفیہو معارج و مدارج اہل سلوک

شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمة اللہ علیہکا ایک ایمان افروز مکتوب

نحمدہ و نستعینھ و نصلی و نسلم عاجز سیّد نذیر حسین بخدمت شریف میرے مفتخر و محبوب مولوی سیّد عبد العزیز صمدنی سلمہ ربّہ۔
بعد السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ ۔ واضح ہو کہ آپ کا خط پہنچ کر خوشی و خرمی حاصل ہوئی ۔ انبساط (کشادگی ) و انشراحِ قلب کی حالت تحریر کرکے میرے ناسور کہنہ کو تازہ کردیا ۔
اے عزیز ! تراخی و توقف شانِ باری تعالیٰ ہے ، جو چیز دیر سے حاصل ہوتی ہے ، وہ دیرپا ہوتی ہے ۔ سلطان الاذکار قرآن مجید ہے ۔ جو مجھ سے سیکھا ہے اس سے کام لیں ۔ ” فنا فی الشیخ ” میرے حضرات کا طریقہ نہیں ہے بلکہ شیخ اس لیے ہے کہ قرآن و حدیث سے ان کو جو کچھ معلوم ہوا ہے یا بزرگانِ طریقتِ صادقہ نے ان کو عطا فرمایا ہے ، وہ طالب کو پہنچادیں ۔ شیخ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ اپنا قدم حلقۂ شریعت سے باہر رکھے جو کوئی میرا حال دریافت کرے اس کو میری طرف سے کہہ دو۔

بلبل از گل نگزرد گر در چمن بیند مرا
بت پرستی کے کند گر برہمن بیند مرا
در سخن پنہاں شدم مانند بو در برگ گل
ہر کہ دیدن میل دارد در سخن بیند مرا
میری باتیں صرف اللہ اور اس کے رسول کا قول ہے ۔صحاح ستہ میں باب رقاق کو دیکھا اور پڑھا ہے ، وہ سب تصوف و درویشی ہے ۔ درویشوں نے کہاں سے حاصل کیا ہے اسی فصل رقاق سے میرے شیخ علیہ الرحمة (١)  برابر فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے فعل سے آنکھیں بند کرلو ، میری باتوں پر کان رکھو اور اپنے دل میں جگہ دو ۔ ” یاد ہوگا کہ فقیر نے آپ سے بیان کیا تھا کہ اگر تہجد کے وقت خلوصِ دلی میسر ہو اور کسی طرف توجہ نہیں ہو تو یہ خلوص ہزار چلّوں کے برابر ہے ۔ اربعین ( چلّہ کشی ) یہ نہیں ہے کہ قبر پر بیٹھیں ، یہ فعل رسول سے منقول نہیں ہے اور نہ اس کا اجر مذکور ہے ۔ خدا رسیدگی کا مقام مسجد ہے نہ کہ قبر ۔ مسجد سے جو کوئی بھاگے اور مزار پر بیٹھے وہ خدا سے بھاگتا ہے ، اس کی تقدیر میں خدا رسیدگی نہ ہوگی ۔ کشفِ قبور کے رمز کو واضح طریق آپ سے کہہ چکا ہوں ان باتوں کو خدا رسیدگی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اگر کوئی شخص کہے کہ میرے پیر پانی پر چلتے ہیں یا وہ آسمان پر اُڑ جاتے ہیں ہرگز اس کے اڑنے اور آسمان پر جانے کا یقین نہ کرو کیونکہ درویشی میں ایسی شعبدہ بازی یعنی ” بر آب رفتن و بر آسمان پریدن ”سے کیا تعلق بلکہ
چشم بند و گوش بند و لب بہ بند
گر نہ بینی سرّ حق بر ما بخند
اے عزیز ! ایسی چلّہ کشی سے کیا حاصل ، جو آج کل کے لوگ ( ارباب ریاست ) قبر پرستی کو آئینِ درویشی خیال کرتے ہیں ۔ حالانکہ قرآن و حدیث اس کے خلاف ندا کر رہا ہے ۔ بزرگانِ طریقت ( اللہ تعالیٰ ان کی دلیل کو روشن کرے ) وہ اس قبر پرستی سے ہمیشہ بیزار تھے اور بیزار رہے ۔ ” لطائفِ خمسہ ” ( نمازِ پنجگانہ ) حل مشکلات کی کفیل ہوکر نورانیت کے نزول کا باعث ہوتی ہے ۔ گو یا نماز اسمِ اعظم ہے ۔ ہمیشہ اپنی حالت پر نظر ڈالنا چاہیئے اور دوسرے کی عیب جوئی سے پرہیز کرنا چاہیئے ، یہ بات مشکلوں کے حل کرنے والی ہے ۔ سمجھو اور غور کرو آفات نازلہ پر صبر کرنا آلِ عباد و صالحین کا طریقہ ہے اور صبر پر ثابت قدم رہنا صوفیا کا شعار ہے ۔ جو کچھ پہنچتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو کچھ جاتا ہے وہ اس کے حکم سے باہر نہیں ہے ۔ فی زمانہ کے صوفیا کا ذکر آپ نے کیا یہ سب مکرو فریب سے گدائی کرتے اور پیٹ پالتے ہیں اور دنیا و آخرت کی رُو سیاہی حاصل کرتے ہیں ۔ ان مکار دیو سیرت سے پرہیز کرنا دانشمندوں کا کام ہے ۔ حضرت سیّد السالکین (٢)قدس سرہ صادق پور (٣) میں فرماتے تھے کہ” فقیروں کی نظر میں اللہ تعالیٰ نے تاثیر دی ہے اگر طالب صادق ہے تو ایک نگاہ میں مراتبِ اعلیٰ کو پہنچادیتے ہیں ۔” وہ مراتب کیا ہیں ؟ خدا کو پہچاننا اور اپنے آپ کو خدا کا بندہ جاننا ۔ یہی تعلیم درویشی کا اصل اصول ہے ۔
 حلقہ قائم کرنا ، ہو حق کرنا ، شور و غل مچانا اور اہلِ محلہ کو پریشانی میں ڈالنا سوتے ہوؤں کو جگانا یہ سب باتیں حصولِ زر کے لیے ہیں ، ورنہ خدا سے مخفی کلامِ الٰہی ناطق ہے ۔ حضرت قدسی سیرة شاہ محمد آفاق صاحب  فرماتے تھے کہ ” مینڈک کی طرح شور مچانا شانِ درویشی نہیں ہے خدا تعالیٰ سویا ہوا نہیں ہے کہ اس کو جگائیں ۔”بلکہ حرکاتِ بیہودہ کو وہ عملِ غیر صالح تصور کرتے ہیں۔ حضرت رسولِ خدا نے فرمایا کہ ” میں عبادت بھی کرتا ہوں ، نکاح بھی کرتا ہوں اور غذا بھی کھاتا ہوں لیکن میں شور و غل نہیں کرتا ہوں اور عاجزی و انکساری نبیوں کی شان ہے ۔ ”
اے عزیز ! شرک و بدعت سے الگ رہنا اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا صوفیائِ کرام کا بہترین طریقہ ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے چند اعمال کو دریافت کیا ہے ، یہاں آئیے اور سنیے اور چپ رہیے کیونکہ
خموشی معنی دارد کہ در گفتن نمے آید
و اللہ اعلم بحقیقة الحال ۔ و السلام خیر الختام
حواشی
(١)          شیخ سے مراد شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی رحمہ اللہ ( ١١٩٢ھ -١٢٦٢ھ )ہیں ۔
(٢)         سیّد السالکین سے مراد حضرت سیّد احمد شہید رائے بریلوی رحمہ اللہ ( ١٢٠٠ھ -١٢٤٦ھ ) ہیں ۔
(٣)         صادق پور ، عظیم آباد پٹنہ کا مشہورِ انام محلہ ، جو انگریزی استبداد کے زمانے میں اندرونِ ہند مجاہدین کا مرکزِ اوّل تھا ۔
Advertisements