تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش ٣


جریدہ "الواقۃ” کراچی شمارہ ٤، رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی، اگست 2012  

 

محمد عالمگیر 

مترجم : ابو عمار محمد سلیم

اسلام کی تکمیل قطعی ہے

اوپر درج شدہ آخری جملہ حضور نبی کریم خاتم المرتبت ۖکے نبی آخر ہونے اور قرآن کے اس اعلان پر بڑی شدید ضرب پڑتی ہے:

” آج کافر لوگ تمہارے دین ( کے مغلوب ہونے) سے نا امید ہو گئے ہیں، لہٰذا ان سے مت ڈرو، اور میرا ڈر دل میں رکھو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لیے) پسند کر لیا ( لہذٰا اس دین کے احکامات کی پوری پابندی کرو) ۔” سورة مائدہ  (٣:٥)۔

اس حقانی دعوے کے بعد یہ بھی ایک عجیب بات ہوئی کہ لوگوں نے اللہ کے دئے ہوئے نام اسلام کو بھی تبدیل کرلیا۔ یہ بات کیسے قابل قبول ہو اگر یہ کہا جائے کہ جنہوں نے ایسا کیا انہوں نے کوئی ایسا غلط کام بھی نہیں کیا۔ اور یہ بھی صحیح ہے کہ ان کے عقائد اور اعمال کسی طور بھی اسلامی عقائد اورنظریات کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ اللہ نے ان کا نام ہندو ، بدھ ، عیسائی اور یہودی نہیں رکھا ہے۔ بلکہ اللہ تو یہ کہتا ہے کہ:

” اُس نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا، اور اِس ( قرآن ) میں بھی، تاکہ یہ رسول تمہارے لیے گواہ بنیں، اور تم نوع انسان کے لیے گواہ بنو۔” سورة الحج ( ٧٨:٢٢ )۔

بے شک ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ نوع انسان نے اسلام قبول کرنے سے ا نکار کیا، مگرجس کی عبادت وہ خود کرتے ہیں اسی کا دیا ہو ا دین کامل اختیار کرنے سے منکر ہیں۔ بلکہ وہ تو مسلم نام سے ہی چڑتے ہیں اور مسلمانوں کو برداشت ہی نہیں کر سکتے۔ اللہ باری تعالیٰ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے بارے میں کہتا ہے:

 ” اور ابراہیم نہ یہودی تھے، نہ نصرانی، بلکہ وہ تو سیدھے سیدھے مسلمان تھے اور شرک کرنے والوں میں کبھی شامل نہیں ہوئے۔” سورة  آل عمران ( ٦٧:٣) ۔

اور دیگر تمام انبیاء و رسل بھی ایسے ہی تھے۔ انہوں نے بھی اسلام سکھا یا اور وہ خود بھی مسلم تھے ۔ مگر اسلام کے متعلق ان بزرگوں کے نظریہ کو بھی تبدیل کردیا گیا اور نام کو بھی۔  اس لیے اسلام کو وہ آخری پیغام ہی قابل قبول ہے جو بغیر تبدیلی و تحریف کے ہے اور جس کے لیے اللہ نے فرمایا:

” بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔ اور اہل  کتاب نے اپنے  پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے اللہ تعالیٰ اس کا جلد حساب لینے والا ہے۔” سورة آل عمران ( ١٩:٣)۔

چند عام تنقید

اوپر دئے گئے بیان کو پڑھ کر وہ لوگ جو ان صوفیا کے طریقوں کے حامی ہیں شائد کچھ کبیدہ خاطر ہوں اور یہ کہیں کہ لازمی نہیں ہے کہ یہ باتیں صحیح ہوں۔ ان کی یہ سوچ ان کو مابعدالطبیعیات کے دلدل میں کچھ اور اندر دھنسا دے گی۔  اور وہ یہ سمجھتے رہیں گے کہ صرف وہ لوگ ہی صحیح ہیں اور چیزوں کو درست طریقہ سے سمجھ رہے ہیں۔ ان کی یہ ناسمجھی ،  کم علمی اور کم فہمی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے وہ یقیناً اپنے آپ کو راسخون فی العلم  اور  اولی الالباب   سمجھتے رہیں گے۔ اپنے آپ کو روحانی علوم کے بڑے ماہرین میں گردانیں گے گو یا کہ انہیںمتشابہات کا علم حاصل ہو گیا ہے۔  حقیقت تو یہ ہے کہ اس ضمن میں جو کچھ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے وہ انہوں نے سمجھا ہی نہیں:

 ”اب جن لوگوں کے دل میں ٹیڑھ ہے وہ ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریں اور ان آیات کی تاویلات  تلاش کریں۔” سورة آل عمران (٧:٣)۔ 

کچھ لوگ یہ الزام لگائیں گے کہ یہ بیان کچھ زیادہ ہی عقلیت پسندانہ ہے۔  بے شک یہ درست ہے، اس لیے کہ وحی کی روشنی میں جو عقلیت ہو وہ انتہائی پسندیدہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حق اپنی نشانیوں سمیت جب نازل ہو جائے، تو پھر عقل اور سمجھ کے زور پر حقیقت کو حاصل کر لینا بعید نہیں ہے۔ قرآن مجید نے  تدبر اور سوچ و بچار کے الفاظ تو کئی مرتبہ استعمال کیے ہیں،  مثلاً:

 ” بھلا کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کر تے، یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ؟” سورة محمد (٢٤:٤٧)۔

 پھر  دیکھئے لفظ تفکّر کو:

” اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔”سورة البقرہ  (٢٦٦:٢)۔

اور پھر لفظ عقل کو ٤٩ طریقے سے استعمال کیا گیا ہے، مثلاً:

” اور حقیقت یہ ہے کہ شیطان نے تم میں سے ایک بڑی خلقت کو گمراہ کر ڈالا۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں؟ ” سورة یٰسین  (٦٢: ٣٦)۔

مختصراً یہ کہ وحی اور الہام کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے سو چ و بچار اور وضاحت کا عمل اللہ سبحانہ’ و تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نعمت ہے، اور اسی کو استعمال کرتے ہوئے حق کو سمجھنا اور جاننا چاہئے۔ اور یہ سفر اوپر سے نیچے کی جانب ہوتا ہے جس میں سب سے اوپر وحی ہے اور اس کی ہدایت کی روشنی میں نیچے آتے ہوئے تمام جزئیات اپنی انتہائی تفصیل میں درست اور مکمل طور سے واضح ہو جاتی ہیں۔ اس کے بالمقابل clecticism, syncretismاور اس سے بھی آگے بڑھ کر شیخ عبدالواحد کاsynthetic unity کا نظریہ بھی اسی غور و خوض کا نتیجہ ہے، جو مابعدالطبیعیات کے دائرہ اثر کی پیداوار ہے اور اسی لیے کبھی بھی وحی کی سچایئوں تک نہیں پہنچتا ہے۔ مابعدالطبیعیات کے زیر اثر سوچ و بچار کا سفر نیچے سے اوپر کی جانب ہوتا ہے جو دشوار بھی ہے اور اس میں چوٹی ہمیشہ بادلوں سے ڈھکی رہتی ہے۔ اس لیے گم ہو جانے کا خطرہ ہوتاہے۔ اسی لیے اس راستہ کے تمام مسافر ایسی کوڑی لائے ہیں جو دوسروں سے سراسر ممیز ہوتی ہیں۔ما بعدالطبیعیات کے تمام پیرو کار اس بات کا اظہار کیے بغیر یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے دل میں جو کچھ بھی ہے وہ انہیں معلوم ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے دل میں جو کچھ بھی ہے اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ اور جب تک اللہ جل شانہ’  خود آشکارہ نہ کر دیں کہ ان کی مرضی کیا ہے اور وہ کیا چاہتے ہیں کسی کے بھی بس میں یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ جان لے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کیا سوچ رہے ہیں یا کیا چاہ رہے ہیں۔
 یہ خیال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان تمام صوفی مشائخ اور علماء نے syncretismکی راہ کیوں اختیار کی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ان لوگوں کا سفر چونکہ عیسائیت، بدھ ازم اور خاص طور پہ ویدک ہندو ازم وغیرہ سے ہو کر گزرا تو انہوں نے ان تمام مراحل سے گزرتے ہوئے جو مواد اکٹھا کیا وہ آخر میں آکر رد کر دینے کی بجائے اس سے پیچھا نہ چھڑاسکے،  اور اسے سمیٹ کر رکھ لیا۔ تو کیا قصہ یہی ہے یا جو نظر آرہا ہے اس کے آڑ میں کچھ اور ہے؟ اس لیے کہ ان لوگوں کی سوانح عمری کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ یہ لوگ ان خفیہ تنظیموں  مثلاً قاہرہ، لندن ، پیرس کے فری میسن لاج وغیرہ سے منسلک رہے ہیں، جو یقیناً باطل افکار سے بھری پڑی ہیں۔ اس بات کا حتمی فیصلہ تو نہیں ہوسکتا مگر ضروری ہے کہ محتاط رہا جائے اور اس ضمن میں مزید شواہد تلاش کیے جائیں۔ اور بالفرض یہ درست ثابت ہو بھی جائے تو ایک راسخ العقیدہ مسلمان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہونا چاہئے۔ اور اگر ان لاجز کی طرف سے کوئی ایسی خفیہ تحریک ہورہی ہے جو مسلمان نوجوانوں کو ایک ایسی معاشرتی زندگی کی طرف لے جا رہی ہے جو اطاعت شعاری اور میل جول سے دور کر رہی ہے ، تو اللہ خالق کائنات کا یہ انتباہ یاد رکھنا چاہئے :

” یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ کو اپنے نور کی تکمیل کے علاوہ ہر بات نا منظور ہے، چاہے کافروں کو یہ بات کتنی ہی بری لگے۔”سورة توبہ ( ٣٢:٩) اور سورة صف  (٨:٦١)۔

مریمیہ طریقہ

مختلف دینی افکار کو یکجا کرنے والوں کا طریقہ کار ان کے اس امتیازی نشان  یا مریم علیک ِالسلام میں بھی ملتا ہے۔ یہ نعرہ مصر کے ایک قِبطی حمد سے ماخوذ ہے، اور ایک ایسے خوش نویسی (calligraphy) میں لکھا جاتا ہے جو پڑھنے میں بہت دشوار ہو۔ یہ نشان شیخ ابو بکر سراج الدین کے پیروکارفریم کرا کے دیواروں پر لٹکاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ  حضرت مریم علیہا السلام کا تذکرہ قرآن مجید جس انتہائی احترام سے کرتا ہے اسی احترام سے وہ دیگر رسولوں اور پیغمبروں کا ذکر بھی کرتا ہے ۔ حالانکہ حضرت مریم علیہا السلام نہ تو پیغمبروں میں سے تھیں اور نہ ہی مبلغ یا استانی۔ اس میں بھی اشتباہ ہے کہ ماضی میں کوئی بھی سلسلہ طریقت کسی پیغمبر کے نام نامی سے منسوب ہوا ہو۔ عموما ًصوفیائے کرام نے سلسلوں کا نام ان مشائخ کے نام پر رکھا ہے جنہوں نے وہ سلسلہ شروع کیا اور ابتدا کی۔ شیخ عیسیٰ نور الدین احمد نے   ١٩٦٥ء میں یہ دعویٰ کیا کہ مراکش اور فرانس کے پورٹ وِنڈِرِس کے درمیان کشتی کے ایک سفر کے دوران رحمت الٰہی نے ان کے اوپر خصوصی طور پر ایک نسوانی شکل میں غلبہ کیا اور ان کو یہ ادراک حاصل ہوا کہ وہ نسوانی حیثیت حضرت مریم علیہا السلام کی تھی۔ بعد میں شیخ نے حضرت مریم کے اس طرح ظاہر ہونے سے یہ مطلب اخذ کیا کہ انہیں آسمانوں کے عالم بالا میں قبول کر لیا گیاہے۔ اور پھر انہوں نے لفظ مریمیہ اپنے طریقہ کے نام کے ساتھ شامل کرلیا تاکہ اس کو شمالی افریقہ کے عَلوی طریقت سے ممتاز کیا جا سکے۔
 
اس طریقت کے لوگوں کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام ان کی Patron Saint یعنی مربی اور سرپرست ولیہ ہیں۔ عیسائیت میں  Patron Saint  ایک ایسی ہستی ہوتی ہے جس کی حفاظت میں کسی شخص، یا جگہ ،  یا معاشرہ، یا کوئی چرچ مختص کردیا جاتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے اس بات کو مد نظر رکھا جاتا ہے کہ اس شخص کے ساتھ کسی قسم کا تعلق ضروررہاہو۔ چوتھی صدی عیسوی تک ایسا ہو تا تھا کہ کسی ایک شہید کو کسی جگہ کا متولی یا Saintمقرر کر دیا جاتا تھا جو اس جگہ سے کسی قسم کا تعلق رکھتا تھا۔ تجارت اور پیشے میں بھی مربی اور سرپرست مقرر کیے جاتے تھے۔ اور ہر بیماری کے لیے بھی ایک خاص Saint  کو مدد کے لیے پکارا جاتا تھا، تاکہ وہ اس بیماری سے نجات دلا دے۔ مثلاً Saint Patrick  کو آئر لینڈ کا مربی مانا جاتا ہے اس لیے کہ اسی نے وہاں عیسائیت کی پرچار کی تھی۔ اس کے علاوہ اور بھی دیگر مشہور مربیوں میں اسکاٹ لینڈ کے سینٹ انڈرو، فرانس کے سینٹ ڈینس، انگلستان کے سینٹ جارج، روس کے سینٹ نکولس، ہنگری کے سینٹ اسٹیفین وغیرہ ہیں۔ اب کوئی بھی سمجھ سکتا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کیوں اس طریقہ کی مربی یا سینٹ ہیں۔
 
اسSyncreticیا مخالف دینی معتقدات میں مصالحت پیدا کرنے والے لوگوں کی ذ  ہنی سوچ کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سید حسین نصرنے جو کہ ایک شیعہ عالم ہیں، اور روایتی افکار کے پیروکار ہیں ، اور زندگی بھر شیخ عیسیٰ  نور الدین کی شاگردی میں رہے،  اپنی ایک کتاب کے انتساب کے صفحہ پر اس Logoیا امتیازی نشان کو ڈالا ہے۔ یہ حقیقت ایک اور جہت کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو اسلام کے ساتھ مخالف دینی اعتقادات کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ یہاں یہ واضح ہو جاتا ہے ایسے لوگ  اُن تمام روایات کو چھوڑنے کو تیار نہیں جنہیں اسلام نے انتہائی واضح الفاظ میں رد کر دیا ہے۔ تو پھر وہ کون سی ایسی بات ہے جو ان تمام مختلف روایات کے حامیوں کو باہم جوڑتی ہے؟ وہ ہے، ان روایات کی مرکزی شخصیات کو معبود ٹہرانا۔  ہندئووں، عیسائیوں اور شیعہ مسلم نے اسی کو باہم اپنا لیا ہے۔  ان مذاہب میں کرشنا ، عیسیٰ اور علی ، تفاصیل میںصرف کچھ درجہ میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر اصل میں ایک ہی ہیں، یعنی ان ہستیئوں میں خدائی موجود ہے ۔ اور ایسا ہونے کی وجہ سے یہ مذاہب ایک دوسرے میں مدغم ہونے کے لیے تیار ہیں۔ پہلے باہم یکجا ہوکر، اور پھر اتصال سے ایک مرکب کیمیائی بن کر یک جان ہوجانا ان کا  مقصد اور ہدف ہے ۔
 
اسلام اسی دائمی کفر (perennial blasphemy)  کو ختم کرنے کے لیے آیا ہے۔ جو یہ سمجھے کہ یہ روایات پوری دنیا میں ایک قابل قبول حقیقت ہیں تو وہ یہ جان لے کہ اسلام کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ایک انتہائی درجے کی خطرناکیت کے باوجود خود سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہ ‘ کی حیات مبارک میں ہی ان کو اللہ کا درجہ دینے کی کوشش اس لیے کی گئی کہ اسلام کو ایک روایتی مرتبہ دے دیا جائے۔  عبداللہ ابن سبا نامی ایک یہودی اس پھوٹ ڈالنے کی تحریک کا سربراہ تھا، جس نے ایک اور یہودیPaul  یا پولس کے نقش قدم پر چل کر یہ کام کیا اور بالکل اسی طرح کیا جس طرح چھ سو سال پہلے پال نے عیسائیت میں تثلیث کا عقیدہ ایجاد کیا تھا، اور یوں عیسائیوں میں ایک مستقل جھوٹ کی بنیاد رکھ  دی۔
 

کیا احتجاج کی وجہ تلخی ہے؟

 کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ مصالحت پیدا کرنے والے صوفیا اپنے خلاف ہونے والے احتجاج کو تلخی اور درشتگی سے تعبیر کر تے ہیں۔ سید حسین نصر اپنی کتابThe Heart of Islam   میں احتجاجی سرگرمی کے بارے میں لکھتے ہیں:

” یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں لوگوں کو نا انصافی کے زخموں کو کریدنے میں مزا آتا ہے ،کسی بھی با مقصد فیصلہ کی شکل بگاڑ دیتا ہے اور ہر چیز کو تلخی سے بھر دیتا ہے۔ اگر اس بیان کو ماہ محرم الحرام میں شیعہ حضرات کا سینہ کوبی کرنے اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کے تناظر میں دیکھیں تو بالکل درست نظر آتا ہے۔ اگر کفر اور بدعت کی نشاندہی کرنے والی مخلصانہ کوششوں کو تلخی پیدا کرنے کے زمرے میں ڈال کر نظر انداز کردیا جائے تو یہ غلطی اور خطا کا احساس پیدا کرنے کی جانی بوجھی کوشش ہو گی۔”

 
Frithjof Schuon یعنی شیخ عیسیٰ نورالدین نے جب یہ کہا کہ:” تلخی جہنم میں لے جاتی ہے۔” تو یقیناً انہوں نے ایک بڑا سخت فیصلہ سنا دیا۔ کیا ایسی کوئی بات اتنے شد ومد سے کہی جا سکتی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ:”آج کل مسلمان آزردگی اور تحقیر کے مسلک میں الجھ کر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ ”اس سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا سوائے بدنامی، نامردی اور کمزوری کے۔ سوال یہ ہے کہ،  کیا یہ بیان نادانستگی میں دیا گیا ہے یا عادتاً؟ حقیقت یہ ہے کہ تلخی کی وجہ سے کمزوری اور نا مردی پیدا ہو یا نہ ہو مگر اس فرضی تلخی کے احساس کو سچ مان لینایقیناً کمزوری پیدا کر دے گا۔ ایسا الزام لگانے سے مورال (morale) یقیناً نیچے گرے گااور شائد ایسے بیان دینے کا مقصد بھی یہی ہے۔  ہم اگر شیخ صاحب کے الفاظ کے چنائو کو نظر انداز بھی کردیںتو صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کل کے مسلمان جن حالات سے دوچار ہیں اس میں صرف کوئی کمزور اور نامرد ہی خاموش رہ سکتا ہے۔ اور اس میں کوئی احساس ہی پیدا نہیں ہوگا۔  کافی عرصہ سے مسلمان چاروں طرف سے ایک شدید شکنجہ میں جکڑتے چلے جارہے ہیں اور کسی طرف سے کوئی راہ فرار نہیں مل رہی ہے۔ اور اب ایسے صوفی شیخ کے گھس آنے کی بدولت مسلمانوں کے اندر ایک اندرونی شکست و ریخت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
 
ایک صحیح العقیدہ مسلمان اس حدیث مبارک سے روشنی حاصل کرے گا جس میں فرما یا گیا :

” تم میں سے جو کوئی بھی برائی کو دیکھے تو اس کو اپنے زور بازو سے ختم کرنے کی کوشش کرے، اور اگر ایسا نہ کرسکے تو اس کے خلاف آواز اٹھائے اور یہ بھی نہ کرسکے تو اپنے دل میں اس کو برا جانے اور یہ ایمان کا کم ترین حصہ ہے۔”(صحیح مسلم)۔

اس لیے جھوٹ اور ہر قسم کی نا انصافی  کے خلاف آواز اٹھانا ہی اصل سیاست ہے ، اور ان کو راستہ سے ہٹاکر ختم کردینا اس بات کی گواہی ہے کہ صحیح اور غلط، رحمانی اور شیطانی چیزوں کے درمیان حد فاضل قائم کر دی گئی ہے۔مگر ان جدید صوفی حضرات کے نزدیک یہ تمام اعمال رسمی ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ عمل صرف کیچڑ اچھالنے کے برابر ہے۔ اس لیے اگر آپ استحصال کے خلاف کوئی کارروائی کریںتو آپ دہشت گرد  قرار دئے جاتے ہیں۔ اگر آپ ان کے خلاف آواز اٹھائیں گے تو آپ انقلابی گردانے جائیں گے، اور ایمان کے کم ترین حصہ کا اظہار کر کے اس کو برا سمجھیں گے تو آپ تلخی پیدا کر رہے ہیں۔ اگر آپ استحصال کے خلاف ہوں یا نہ ہوں ، ہر دو صورتوں میں تباہی اور بربادی آپ کا مقدر ہے۔ ان  Syncretic  صوفیوں کی تو یہی خواہش ہے کہ آپ اپنے دانت نکلوا کر، ناخن کھنچواکر ایک بے ضرر کیچوے کی طرح رینگنا شروع کردیں ۔ اور اس عیسائی تعلیم کے مطابق عمل کریں، جس کے تحت اگرکوئی ایک طمانچہ مارے تو اپنا دوسرا گال بھی آگے کردو ، جبکہ پچھلے دو ہزار برسوں کی تاریخ میں آج تک کسی عیسائی نے اس پر خود عمل نہیں کیا ہے۔
 
اس بحث سے قطع نظر ، دنیا کے تمام مذاہب کا احترام کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کے ہر ایک گوشہ میں نصیحت آموز اور اخلاقیات کا پرچار کرنے والی  مذہبی کتابیں مل جائیں گی۔ اگر کوئی مسلمان ان کو پڑھے تو اسے یقیناً روح کی بالیدگی کا احساس ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان تمام تعلیمات کا مقصد انسان کے اپنی ذات کی ترقی اور ترویج سے بڑھ کر نہیں ہے۔ جبکہ اسلام معاشرہ کے پورے ڈھانچہ کی ترقی کو کبھی نظر انداز نہیں کرتا۔ اوپر درج کی گئی حدیث مبارک اس بیان کی تائید اور توثیق کرتی ہے۔  اسلام نے اخلاص نیت کو سب سے زیادہ اہم قرار دیا ہے۔  یہی اس کے اقدار کی برتری کی وجہ ہے۔ اور اس اخلاص کے بغیر عیسائیوں کی Charity (یعنی محبت اور درگذر) ،  ہندوئوں کی Humility (یعنی صبر، نرمی اور اہنسا) اور پھر یہودیت کی Obedience (یعنی تفصیل کی طرف مکمل توجہ)  سب کی سب اپنی جگہ بے مصرف ، لا یعنی اور لا حاصل ہیں۔  دیکھا جائے تو عفو و درگزر، صبر و برداشت ، کامل بندگی اور سپردگی کو قرآن کی تعلیمات نے بھی بہت اہمیت دی ہے۔  مگر ان سب کی روح رواں صرف اخلاص نیت ہے۔ اس سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ نور اور ہدایت جہاں بھی ملتی دکھائی دے ، وہ نور اور وہ ہدایت اپنی انتہائی پاکیزہ اور بہترین قابل عمل شکل میں قرآن مجید فرقان حمید میں لازماً موجود ہے۔  اور پھر یہ قرآن کا ہی منہاج ہے کہ وہ ایسے اقدام کے دروازے کھول دے جو اس نور اور ہدایت کو اس کے انتہائی محاسن تک پہنچادے۔
 
بہر صورت اخلاقیات کے حوالے سے جو باتیں ان مذاہب میں قابل قدر ہیں ، مرکزی اعتقادات کے سلسلے میں  ویسا نہیں ہے ۔ یعنی ان مذاہب کے اصل اصول سے اسلام کا کوئی میل نہیں ہے۔ اور خصوصی طور پر اللہ اور تخلیق اور وجود سے اس کا تعلق کے بارے میں ان مذاہب کے خیالات قابل نفرت اور قابل رد ہیں۔ ماضی میں اللہ نے لوگوں کو ان کی اخلاقی گراوٹ پر کبھی کبھی سزائیں بھی دی ہیں۔ مگر اس رب کائنات نے اپنی ذات اعلیٰ میں کسی قسم کے شرک اور آمیزش کی کوشش کو معاف نہیں کیاہے۔ اس لیے ایسی کوئی بات جو اس کی ذات کو اس کی تخلیق میں گڈ مڈ کردے ، ہرگز  قابل معافی نہیں ہے۔ اور افسوس کہ ان صوفیاء نے یہی غلطی بار بار دہرائی ہے۔
 

حضرت مجدد الف ثانی   کا جہاد

اس گفتگو کے اختتام پر یہ بات مناسب معلوم ہوتی ہے کہ تاریخ کے صفحات پر نظر ڈال لی جائے اور حضرت مجدد الف ثانی کے اس جہاد پر نگاہ ڈال لی جائے جو انہوں نے اپنے دور کے Syncretic  صوفیوں کے خلاف کیں۔
 
حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی ٩٧١ھ میں مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں تولد ہوئے۔ تقریباً چالیس سال کی عمر میں انہیں بطور مجدد کے تسلیم کیا گیا جبکہ اکبر کی بادشاہت ابھی قائم تھی اور آ یندہ چار سال تک بھی باقی رہی۔  ان کی جوانی کے دن اکبر کی شہنشاہیت کے عروج زرین سے متصل رہا۔ اکبر نے اپنے رتنوں کی مدد سے ایک نئے دین ،  دین الہٰی کی بنیاد ڈالی جو کہ اپنے دور کے متعدد ادیان اور عقائد کا ملغوبہ تھا ۔ جس میں اسلام کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔  اس کے دین کی مرکزیت اس نعرہ میں تھی کہ لا الہٰ الا اللہ۔ اکبر خلیفة اللہ۔ محمد ۖرسول اللہ کے الفاظ کو اس نے اس لیے نکال دیا کہ اس کی رائے میں وہ نام ہزار سال کے بعد اب متروک ہوگیا ہے۔ اس کے دین میں دن میں چار مرتبہ سورج کی پوجا ہوتی تھی۔ عقیدہ تناسخ یا آواگون مذہب کا ایک لازمی حصہ تھا، عورتوں کے حجاب کو ختم کردیا گیا ، داڑھی رکھنا ممنوع ہو گیا تھا ، شراب کو حلال کردیا گیا تھا ، اسی طرح سود اور جوا کو بھی حلال جگہ عطا کردی گئی تھی۔ طوائف کے پیشہ کو با عزت طور پر بحال کر دیا گیا۔ شیر ، بھالو ، کتے اور بلی کاگوشت بھی حلال قرار پایا ۔ مگر گائے، بکری، اونٹ اور بھینس کا گوشت حرام ہوگیا۔ مساجد کو شہید کر کے ان کی جگہ مندروں کی تعمیر کی گئی۔ عربی زبان ، قرآن و حدیث کی تعلیم ممنوع قرار دی گئی۔ جنہوں نے احتجاج کیا انہیں ملک بدر کر دیا گیا۔ رمضان کے روزوں کا مذاق اڑایا گیا یہاں تک کہ روزہ داروں کو قتل کر دینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ شہنشاہ کے آگے حاضر ہو کر زمین کو بوسہ دینا احترام شاہی کے طور پر لازمی قرار پایا۔ 
 
من حیث المجموعی حضرت مجدد کو کئی فتنوں سے بہ یک وقت سامنا کر نا پڑا جن میں اول شہنشاہ اکبر، دوئم دنیا کے پروردہ علمائ، سوئم رافضی یعنی شیعہ مسلم ، اور آخر اً ہندو ، جین ،  عیسائی، پارسی شامل تھے۔ تصوف حقیقی کی شکل ہر قسم کی ضلالت گمراہی اور بدعات سے بگاڑ دی گئی تھی۔ ان کو ان تمام چیزوں کے خلاف آواز اٹھانے اور جہاد کر نے کی پاداش میں پہلے اکبر نے اور پھر بعد میں اس کے بیٹے جہانگیر نے، جو ١٠١٤ ھ میں ٣٨ سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور بائیس برس حکومت کی، طویل مدت تک انہیں قید میں رکھا۔ جہانگیر نے آخر میں آکر توبہ کر لی تھی اور حضرت مجدد کے پیرو کاروں میں شامل ہوگیا تھا۔
 
حضرت مجدد الف ثانی نے مندرجہ ذیل مسائل پر بڑا سخت موقف اختیار کیا:
 
١۔شیعہ مسلمانوں کا عقیدئہ امامت اسلام کی شریعت کا حصہ نہیں ہے۔
 
٢۔حضرت ابو بکر  ، حضرت عمر  ، حضرت عثمان  اور حضرت علی کرم اللہ وجہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی بزرگی ان کی خلافت کے تسلسل کے مطابق ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ’  نے خود فرمایا:  جو یہ کہے میں ابوبکر و عمر سے افضل ہوں تو میں اسے کوڑے لگائوں گا ایسے جیسے کہ چوروں اور فریبیوں کو لگتے ہیں۔ اسی لیے جو یہ کہے کہ حضرت علی حضرت ابو بکر سے افضل ہیں وہ جماعت اہل سنت سے خارج ہے۔
 
٣۔اللہ کی ذات کے ساتھ حلول اور اتحاد انتہائی نا پسندیدہ اقوال ہیں اور بڑی ضلالت اور گمراہی ہے۔
 
٤۔وحدت الوجود اور ہمہ اوست کی جو تحریک ابن عربی نے پیش کی تھی وہ عام لوگوں کی فہم و دانش کی گرفت میں نہیں آئی۔ یہ الفاظ حالت سُکر یعنی مدہوشی میںکہے گئے تھے جس کو کم فہم لوگوں نے اتحاد اور حلول سے تعبیر کیا اور بہت سی ضلالت اور گمراہی میں گرفتار ہوکر اللہ تبارک و تعالیٰ کی تمام تخلیق زمین و آسمان درخت شجر پتھر سب کو خدا بنا دیا۔
 
٥۔پیغمبر یہ بتانے کے لیے بھیجے گئے تھے کہ اللہ کی تمام تخلیقات غیر اللہ ہے۔ اللہ ان تمام سے بلند و بالا ہے۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی ثانی نہیں۔ جو یہ نہ مانے وہ زندیق ہے،  ملحد ہے۔ ممکن کو واجب جاننا، تخلیق کو خالق سمجھنا، ممکن کی صفات اور کار کردگی کو اور اللہ کی صفات کو اللہ کی ذات سے بدل دینا ، اللہ کی اپنی حقیقت کو نہ ماننے کے برابر ہے۔
 
٦۔یہ عقیدہ کہ مخلوق اللہ کا عین ہے یا اس کا اللہ کے ساتھ الحاق ہو جائے گا ، غلط اور باطل ہے۔ اس دنیا یا کائنات کی کوئی چیز اللہ سے مماثلت نہیں رکھتی۔ وہ ان تمام چیزوں سے ورا ء الوراء ہے۔
 
٧۔کسی بھی لغو باتیں کرنے والے صوفی کے سحر میں گرفتار مت ہو جائو۔ وحدت الوجود اور ہمہ اوست کہنے  والے مشائخ کے نعرہ کا مطلب تھا کہ مخلوق کے اندر اللہ کی قدرتِ کاملہ اور اس کی طاقت کا اظہار ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کا وجود اصل وجود ہے باقی سب کا وجود ظلّی ہے،  ممکن ہے، عارضی ہے ۔ ہمہ اوست کا مطلب یہ ہے کہ اس خالق کے علاوہ کسی اور چیز کی کوئی اپنی حقیقت نہیں ہے۔  ہمہ اوست سے مقصد ہمہ از اوست یعنی سب اسی سے ہے  کہنے کا تھا۔
 
٨۔منصور حلا ج نے کہا : انا الحق یعنی میں حق ہوں۔  بایزید بسطامی نے نعرہ لگایا : سبحانی ما اعظم شأنی یعنی میری بڑائی ہو، کیسی عظیم شان ہے میری۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ:  لوائی أرفع من لوائِ محمد یعنی میرا جھنڈا محمد ۖ کے جھنڈے سے اونچا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے شریعت میںاسلام اور کفر موجود ہے، اسی طرح طریقت میں بھی اسلام اور کفر ہے۔  دونوں صورتوں میں اسلام ارفع و اعلیٰ ہے اور کفر قابل  حقارت و زندقہ ہے۔ اللہ کے ساتھ جَمْعْ یا الحاق طریقت میں بھی کفر ہے۔ جَمْع کے مقام پر حق اور باطل محو ہو جاتے ہیں کیونکہ طالب کو صرف اپنے محبوب کی خوبصورتی ہی نظر آتی ہے، خواہ وہ اسے اچھائی کے آئینہ میں دیکھے یا برائی کے۔  اس کے لیے یہ سب توحید کے ہی روپ ہو جاتے ہیں۔ اور یوں وہ ہر ایک کے ساتھ یکساں برابری رکھتا ہے اور سمجھتا  ہے کہ سب ہی درست راستہ پر ہیں۔ کبھی کبھی وہ گمان کرتا ہے کہ ان سب کا وجود خد ا بطور الظاہر ہی کا اظہار ہے، اور پھر عبد اور معبود میں کوئی فرق روا نہیں رکھتا۔ یہ سب مقا مِ     جَمْعْ سے متعلق ہے۔ طریقت میں یہ کفر ہے اور یہ سُکر یا بدتمیزی کے برابر ہے۔ اس لیے ایسے موقعوں پر ان کے  شطحیات کا لفظی مطلب لینے کی بجائے وہ مطلب سمجھنا چاہئے  جو شریعت میں قابل قبول ہو۔ انا الحق کا مطلب پھر یہ ہو  جائے گا کہ میں موجود نہیں ہوں بلکہ صرف اللہ موجود ہے۔  اگر ایسی باتیں وہ  لوگ کرتے ہیں جو کہ حق کے لوگ ہیں تو یہ ان کے لیے آب حیات ہے ، اور اگر یہ الفاظ گمراہ حضرات استعمال کریں تو یہ ان کے لیے زہر ہلاہل ہے۔ با لکل ایسے ہی جیسے سمندر کے دو حصہ ہو جانا بنی اسرائیل کے لیے رحمت اور فرعونیوں کے لیے قیامت تھا۔ در حقیقت اصحاب حق سُکر کی حالت میں بھی شریعت کو ذرہ برابر بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، مگر اصحاب باطل سُکر کا بہانہ کر کے لغویات بکتے رہتے ہیں۔
 
٩۔بعض صوفی نے وحدت الوجود اور ہمہ اوست کا درست مطلب سمجھے بغیر اس پر عمل کیا ، جس کے نتیجے میں  انہوں نے کفر کو پھیلایا۔
 
١٠۔اللہ کسی کے ساتھ الحاق نہیں کرتا۔ جب صوفی کہتا ہے کہ ایک کامل فقیر کو فنا حاصل ہوتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے کہ  اس کے نز دیک اللہ کے ماسوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ یک جان ہو گیا ہے۔
 
١١۔اگر کوئی ظاہر کو چھوڑ دے اور اپنے باطن کو مزین کرنے کی بات کرے تو وہ ملحد ہے۔ اگر اس کو کچھ کامیابی مل جائے تو وہ استدراج (دھوکہ) ہوگا۔ باطنی حالت اسی وقت بہتر ہو سکتی ہے جب وہ ظاہری حالت کو سنوار لے گا۔
 
١٢۔صرف علمائِ اہل سنت والجماعت کا اجتہاد درست ہے، بقیہ سب غلط اور سُکر ہے۔ وہ صوفیا جو اللہ سے الحاق کے لیے پورا زور صرف کرتے ہیں اور شریعت کو پامال کرتے ہیں، بے حقیقت ہیں۔ یونانی اور ہندو فلاسفہ نے ایسا کرنے کی کوشش کی اور وہ دھوکہ میں جا گرے۔
 
 ١٣۔سماع اور آلاتِ موسیقی اور رقص دل بستگی کا سامان ہیں اور کسی بھی فقیہ نے انہیں جائز نہیں کہا۔ صوفیوں کا جائز یا ناجائز عمل کوئی معنی نہیں رکھتا۔
 
١٤۔شریعتِ محمدی ۖہی طریقت ہے۔ وہ معرفت جو اس راہ میں ملے وہ قابل قبول ہے، اور اس کے علاوہ سب ناجائز اور نقصان دہ ہے۔
 

اختتامیہ

اس تجزیاتی مضمون کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کسی صوفی یا ان کے پیروکاروں کی توہین ہو۔ ہاں اس مضمون میں یہ بات  یقیناً پوشیدہ ہے کہ کسی بھی نظریہ اور تعلیم کی درستگی اسی وقت قابل قبول ہے جب وہ قرآن سے مطابقت رکھتی ہو۔ اس بات کا ہمیشہ امکان رہتا ہے کہ کوئی بھی اسکالر قرآن کی کسی آیت کے ایک حصہ کو پکڑ کر اس کے اوپر ایک خیالی محل کھڑا کر لے جو اسلام کے بنیادی عقائد سے ذرا بھی میل نہ کھاتا ہو ۔  محتاط بیان دیتے ہوئے ایسے کسی بھی نتیجہ کو سُکر یا مدہوشی کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر ایسا ہو تو نہ صرف یہ  صوفی حضرات بلکہ ہر مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ اس پر غور کرے اور قرآن مجید سے کوئی اور آیت اور ہدایت ڈھونڈھ لائے جو اس باطل فکر کو غلط ثابت کردے اور کسی بھی لمبے چوڑے تحقیقی مقالے سے گریز کیا جائے جو اسلام کو اور معاشرے کی روحانی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا نے کا باعث بنے۔
 
بطور ایک مسلمان کے ہمارے لیے لمحہ شکر ہے کہ قرآن مجید میں مشرق و مغرب کے دشمنان اسلام کی ریشہ دوانیوں کے باوجود کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی ہے۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ معمولی اختلافات نے جنم لیا ہے ، چھوٹے موٹے فرقے بھی بن گئے، اور مسلمان کافی عرصہ تک بلکہ بعض اوقات صدیوں تک افراتفری میں مبتلا رہے، مگر آخر کار قرآن کی طرف سے صحیح راہ نمائی حاصل کرکے امت مسلمہ کو سکون ہوا۔
 
بڑے دکه  سے یہ بیان کیا جارہا ہے کہ ان Syncreticصوفیوں نے ادھر ادھر سے ڈھیروں مواد  اکٹھا کر لیا مگر قرآن سے  بہت کم  لیا۔ اسلام سے باہر کے مذاہب اور عقائد پر ان کو جتنا عبور تھا وہ اگر ان عقائد کو دلائل سے باطل ثابت کرتے تو اسلام اور انسانیت دونوں کی خدمت کرتے۔ مگر صد حیف کہ وہ اپنے خیالات کے ساتھ بڑی مضبوطی سے جڑے رہے، اور اپنے ساتھ اپنے پیروکاروں کا بھی نقصان کیا کہ اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ہی اب قرآن اور اسلام کی صحیح تعلیمات سے آگاہ کریں گے۔
 
یہ مضمون اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ قرآن ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لیے راہ نجات ہے۔ میڈم ہیلینا بلاواٹسکی نے لوگوں کو اپنے نفسیاتی سحر سے مسحور کردیا ، سائیں بابا  اپنے شعبدہ بازی سے عوام میں مقبول ہوئے ۔ یہ لوگ صرف عوام کو خوش کرنے والے ہیں۔  اور پھر وہ لوگ ہیں جو عقلی بنیادوں پر کام کرتے ہیں، اور ان کی باریک بینی کو سمجھنا ایک عام انسان کا کام نہیں ہے ۔ وہ لوگ جنہوں نے معاشرتی برائیوں کے خلاف جہاد کو چھوڑ دیا ہے اور وہ رہبانیت کے قریب چلے گئے ہیں ، ان ہی گمراہیوں کے حملہ کی زد میں ہیں۔ ایک مسلمان جس نے قرآن کا ساتھ رکھا ہو وہ ان دھوکہ دہی کی وارداتوں سے محفوظ رہے گا۔ جس کے ہاتھوں میں قرآن کی ہدایت ہوگی وہ کبھی غلط راہ پر نہیں چلے گا اور انشاء اللہ ایمان اور ایقان کے اعلیٰ مراتب حاصل کرے گا۔
 

” اللہ ایمان والوں کا رکھوالا ہے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے رکھوالے وہ شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں۔ وہ سب آگ کے باسی ہیں،وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ سورة بقرة  (٢٥٧:٢)۔

قسط نمبر ١ کا مطالعہ کیجئے  قسط نمبر ٢  کا مطالعہ کیجئے 

 

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی، اگست 2012- سے ماخوذ ہے۔ 
Advertisements

تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش


الواقعۃ شمارہ ٣ 

محمد عالمگیر 

مترجم : ابو عمار محمد سلیم

شیخ عیسیٰ نورالدین اور حلول کا تصور 

 فرتھیوف شوؤن ( Frithjof Schuon ) عرف شیخ  عیسیٰ نورالدین (١٩٩٨- ١٩٠٧)۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے worldwisdom.com۔  ان کی زندگی کی تفصیل اور اسلامی نقطہ نظر سے گمراہ کن خیالات کو ان صفحات میں ظاہر کرنا ممکن نہیں ۔ یہ موجودہ دور کے ایک صوفی اور صاحب قلم حضرت تھے۔انہوں نے اپنا پورا زور اس نظریہ کی اشاعت پر صرف کیا کہ تمام مذاہب کی ایک ماورائی وحدت ہے۔

ان کے مطابق مذاہب کے درمیان جو اختلافات ہیں وہ در اصل پردے ہیں۔ اگر ان پردوں کو اٹھا دیا جائے تو تمام مذاہب ایک ہو جاتے ہیں۔ اس خیال کا پرچار کرتے ہوئے وہ ایک قدم اور آگے بڑھے اور یہ بیباکانہ بیان دیا کہ خدا انسان بن گیا تاکہ انسان خدا بن جائے (استغفراللہ)۔ یہ سچ ہے کہ معاشرتی اور تہذیبی اقدار کے حوالے سے تمام مذاہب میں بڑی یکسانیت پائی جاتی ہے، اور صرف چھوٹے ذہن کے لوگ ہی اس بات پر کہ کھانے پینے کے آداب،  کپڑے پہننے کے اطوار، عبادات کے طریقے، مذہبی رسوم اور اس طرح کی چیزوں پر آپس میں جھگڑتے ہیں۔ یہ اختلافات بذات خود بڑا فساد نہیں ہیں اس لیے معاشرے میں عموماًان پر آپس میں سمجھوتا ہو جاتا ہے ، اور ان کو قبول کرلیا جاتا ہے۔  حلانکہ یہ اختلافات بھی ان کے مذاہب کے اعتقادات سے ہی پیدا ہوئے ہیں اور ان تمام مذاہب کی بنیادی تعلیم کے ضمن میں یہ اختلافات حقیقی ہیں، ناقابل مصالحت ہیں اور ان پر سمجھوتا نہیں ہو سکتا ہے۔
 
مغرب کے وہ صوفی جو دوسرے مذاہب سے اچھی چیزیں ڈھونڈھ کر اسلام میں داخل کرنا چاہتے ہیں انہوں نے ایک نیا نظریہ قائم کیا ہے کہ خدا ئی منصوبہ کے تحت دنیا مختلف علاقوں میں تقسیم کی ہوئی ہے اور ان علاقوں میں سے ہرعلاقہ میں ایک خاص مذہب کوپھلنے پھولنے کی آزادی ہے۔ ان کی ایک منطق یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو جب ان علاقوں پر دوسرے مذاہب کے لوگ حملہ آور ہوئے پھر بھی ان علاقوں میں ان کا اپنا  مذہب اسی طرح صدیوں سے قائم و دائم چلا آرہا ہے۔یہ نظریہ اسلام کے مرکزی تعلیم سے متحارب ہے، جس کا کہنا ہے کہ انسان نے جب اللہ کے احکامات سے رو گردانی کی اور خاص طور سے توحید کے خلاف ہوئے تو اللہ نے اپنے پیغمبر بھیجے اور ہدایات نازل کیں تاکہ انسان اللہ کو اس طرح سمجھ سکے جس طرح اسے سمجھنا چاہئے۔  خدا کا انسان بن جانا ایک عیسا ئی نظریہ ہے جو ان کے نظریہ تجسیم کی پیداوار ہے ۔ اسی طرح انسان کا خدا بن جانا  ہندووںکے فلسفہِ نروان کا داعی ہے جس کے تحت انسان اللہ سے مل جاتا ہے اور آواگون کے دائمی چکر سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔
 

 شیخ عبدالواحد یحیٰ کا پیدائش اور موت کے چکر کا فلسفہ  

اوپر درج شدہ سلسلہ فلسفہ کی ایک اور شخصیت رِنے گِنوں ( Rene Guenon ) جو ١٨٨٦ء میں پیدا ہوئے اور ١٩١١ ء میں  شیخ عبدالواحد یحیٰ کے نام سے جانے گئے۔  انہوں نے ١٧ کتابیں لکھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی کتاب Introduction to the Study of Hindu Doctrines  ١٩٢١ء میں شائع ہوئی۔ یعنی ان کے اسلام قبول کرنے اور شیخ کے عہدے پر فائض ہونے کے دس سال بعد۔ اور اس سے اگلے چھ سال کے بعد ١٩٢٧ء  میں ان کی ایک اور زبردست کتاب منظر عام پر آئی جس کا نام تھا Man and His Becoming According to Vedanta  ۔ اس سے بھی زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ  ٩٢٩ ١ء میں اپنے کچھ ہمرازوں اور ساتھیوں کے اصرار پر انہوں نے فرانس میں ایک روایتی انداز کاMasonic Lodge کی بنیاد ڈالنے کے لیے رضامندی کا اظہار کر دیا ، جس کا نام ان کی ایک کتاب La Grande Triade   یعنی تین کا جوڑا کے نام پر رکھا گیا۔ اس لاج کے اولین بانی اس سے کچھ عرصہ بعد الگ ہو گئے، مگر یہ لاج آج بھی زندہ ہے اور Grande Lodge de France کا حصہ ہے۔  اس کے بعد انہوں نے ایک کتاب لکھی  Symbolism of the Cross   جو ١٩٣١ء میں منظر عام پر آئی اور یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ ١٩٤٥ء میں انہوں نےThe Reign of Quantity and the Signs of the Times لکھی۔ وہ ١٩٥١ء میں فوت ہوئے۔ ( ماخوذ از وکی پیڈیا) 
انہوں نے اپنی کتاب The Reign of Quantity and the Signs of the Times   میں لکھا :
 ”درحقیقت دنیا کا آخری وقت بار بار آسکتا ہے۔ اس لیے کہ مختلف دوران کے کئی چکر ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے اندر چکراتے رہتے ہیں۔ اس لیے بھی کہ یہ تخمینہ مشابہت رکھنے والے دوسرے ادوار میں ہر درجہ پر لاگو ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہر مرتبہ آخر کی اہمیت ایک جیسی نہیں ہے، بلکہ جس دور کے آخر کی بات ہو رہی ہے وہ بہت اہم ہے اس لیے کہ یہ آخر پورے مَنوَنْتَر یا انسانیت کے وجود سے متعلق ہے۔ مگر پھر بھی یہ بات زور دے کر کہی جاسکتی ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ آخر پوری کائنات کا اختتام ہے بلکہ دائمی بحا لی کے نظام کے تحت اس آخر کے بعد فوری طور پر ایک نئے منو نتر کی ابتدا ہوگی ۔”
وہ آگے چل کر لکھتے ہیں:
” اس موضوع پر ابھی ایک اور نکتہ کی وضاحت باقی ہے۔ مسلسل ترقی کے داعی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ سنہرا دور ماضی میں نہیں بلکہ مستقبل میں ہے۔  حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک ہمارے اپنے منونتر کا تعلق ہے ،  یہ دور ماضی میں تھا۔ اس لیے کہ یہ اولین دور سے متعلق ہے۔  ایک احساس یہ بھی ہے کہ یہ ماضی میں بھی ہے اور مستقبل میں بھی، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری نظر نہ صرف  موجودہ منونتر پر رہے، بلکہ کائناتی نظام کے چکر کا تواتر پر  بھی ہماری نظر رہے ۔ اس لیے کہ جب مستقبل کی بات ہوگی تو وہ سنہرا دور ایک اگلے منونتر ہی میں ممکن ہے۔

  مَنْوَنْتَر 

اوپر درج کیے گئے اقتباس کو سمجھنے کے لیے منونتر کے مطلب کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ پورانوں یعنی ہندئووں کی مذہبی کتابوں سے اخذ کیا ہوا ایک دیو مالائی تصور ہے۔ وکی پیڈیا اس کے متعلق یہ کہتا ہے: 
 
منونتر یا منو و نتر یا منو کا دور۔ منو ہندئوں کے یہاں نسل انسانی کا بانی ہے۔ منونتر آفاقی وقت کی پیمائش کا ایک پیمانہ ہے۔ منونتردراصل منو اور انتر یعنی دور کا امتزاج ہے جس کا مطلب بنتا ہے منو کا دور یا اس کی زندگی کا دور ۔
  ہر منونتر ایک خاص منو کی تخلیق ہے اور اس کی حکومت کے زیر اثر ہے۔ اس منو کی تخلیق برہما نے کی ہے جو کہ خالق ہے۔ منو دنیا اور اس کی تمام چیزوں کی تخلیق اپنے دور میں خود کرتا ہے، جو اس کی زندگی تک قائم رہتا ہے۔ اس منو کی موت پر برہما ایک اور منو کی تخلیق کرتا ہے تاکہ یہ چکر جو سرشٹی کا چکر کہلاتا ہے چلتا رہے۔ اسی طرح وشنو بھی ایک نئے اوتار کو جنم دیتا ہے اور ایک نیا اِندر اور سات رِشیوں کا تقرر کرتا ہے ۔
ہندئووں کے وقت کے حساب سے ہر ١٤ منو اور ان کے منونتر مل کر ایک کلپا بنتا ہے جس کو جُگ بھی کہتے ہیں، جو  برہما کا دن ہوتاہے۔ ہر کلپا کے خاتمہ پر تمام چیزیں فنا ہوجاتی ہیں اور دنیا بھی ختم ہو جاتی ہے، اور آرام کے دور میں چلی جاتی ہے جسے برہما کی رات کہتے ہیں۔
اس عمل کے بعد برہما تخلیق کا عمل دوبارہ شروع کرتا ہے۔ اور یہ کبھی ختم نہ ہونے والا چکر چلتا رہتا ہے۔ تخلیق کے ہر عمل کے بعد تباہی کا عمل شروع ہوتاہے۔ ان دونوں کاموں کی ذمہ داری ہندئوں کے دیوتا شیو پر ہوتی ہے۔ 
 سُوِیتا وَراہا کلپا (موجودہ کلپا ) کے ١٤ منو  
 پہلا منونتر :  سو یمبھو منو کا دور   دوسرا منونتر:  سو روچش منو کا دور تیسرا منونتر:  اُتم منو کا دور چوتھا منونتر:  تمش منو کا دور پانچواں منونتر:  رَیوت منو کا دورچھٹا منونتر:  چَکشُش منو کا دور ساتواں (موجودہ) منونتر:  ویوسو تھ منو کا دورآٹھواں (اگلا) منونتر:  ساورنی منو کا دورنواں منونتر:  دکشا ساورنی منو کا دور دسواں منونتر:  برہما ساورنی منو کا دور گیارہواں منونتر:  رُدْرا ساورنی منو کا دوربارہواں منونتر:  دھرما ساورنی منو کا دورتیرہواں منونتر:  رَوکیا یا دیو ساورنی منو کا دورچودھواں منونتر:  بَھوتا یا اِندرا ساورنی منو کا دور (ختم  اقتباس وکی پیڈیا )
یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ ہر منونتر کا دورانیہ ٠٠٠،٧٢٠،٣٠٦ برس کا ہوتاہے جو کہ ٧١ چترُجگ پر مشتمل ہے ۔ ہر  چترُجگ کا دورانیہ ٤٣٢٠٠٠٠ سال کا ہے اور ایک چترُجگ میں ٤ جُگ ہوتے ہیں، جن میں  ١٧٢٨٠٠٠ برس ستیہ جگ کا ، ١٢٩٦٠٠٠ تریتا جگ کا ،  ٨٦٤٠٠٠ برس دواپر جگ کا اور ٤٣٢٠٠٠ برس کالی جگ کا ہوتا ہے۔
مختصراً یہ کہ تخلیق ، خاتمہ اور تخلیقِ نو کا یہ لامتناہی چکر  اسی طرح ایک کلپا سے دوسرے کلپا تک جس کے اندر ایک منونتر سے دوسرے منونتر تک اور اس کے اندر چترُجگ سے چترُجگ تک اور اس کے اندر جگ سے جگ تک چکر در چکر مسلسل اور لگاتار چلتا رہتا ہے۔ گو کہ شیخ عبدالواحد نے اس چکر در چکر سلسلہ کو اپنی تحریر میں وضاحت سے ظاہر نہیں کیا ہے، مگر ما قبل میں دیے گئے ان کے اقتباس کودوبارہ پڑھیں جس میں ہم نے قوسین کے اندر اندراجات کا اضافہ کردیا ہے تاکہ بات آسانی سے سمجھ میں آجائے کہ شیخ صاحب کے ذہن میں کیا ہے :
درحقیقت دنیا کا آخری وقت (یعنی قیامت) کئی مرتبہ آسکتا ہے ( جو کہ کسی خاص مانو کے دور پر منطبق ہو) ۔  اس لیے کہ مختلف دوران کے کئی چکر ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے اندر چکراتے رہتے ہیں ( یعنی کلپائوں کے اندر  منونتر، منونتروں کے اندرچترجگ، اور چترجگوں کے اندر٤ جگ)۔اس لیے بھی کہ یہ تخمینہ مشابہت رکھنے والے دوسرے ادوار میں ہر درجہ پر لاگو ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہر مرتبہ آخر کی اہمیت ایک جیسی نہیں ہے، بلکہ جس دور سے وہ متعلق ہو اس پر منحصر ہے (اس لیے کہ ایک کلپا سے دوسرے کلپا تک کی تبدیلی بہت بڑی تبدیلی ہے بمقابلہ منونتر ، چترجگ اورجگ کی تبدیلیوں کے) ، آج کل جس دور کے آخر کی بات ہو رہی ہے وہ بہت اہم ہے اس لیے کہ یہ آخر پورے منو نتر یا انسانیت کے وجود سے متعلق ہے ( شائد اس لیے کہ یہ ساتویں منونترکا اکہترویں چترجگ کا چوتھا جگ ہے) ۔ گویا کہ اسے انسانیت کے زمانی وجود کا دوربھی کہہ سکتے ہیں ( جو ابھی اکہترویں چترجگ کے کالی جگ کا حصہ ہے) ۔ مگر پھر بھی یہ بات زور دے کر کہی جاسکتی ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ آخر پوری کائنات کا اختتام ہے بلکہ دائمی بحالی کا جو اثر ہے وہ فوری طور پر اس آخر سے ایک نئے  منو نتر کے آ غاز ( سوارنی منو کے دور کا آغاز ہوگا جو کہ جاری  وراہا کلپا کا آٹھواں حصہ ہے) کو بحال کرے گا جو ایک دوسرے منو نتر کے دور کا ابتدا بن جائے گا۔
 وہ آگے چل کر لکھتے ہیں:
 ”ابھی ایک اور نکتہ کی وضاحت باقی ہے۔ ترقی کے داعی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ سنہرا  دور ماضی میں نہیں تھا بلکہ مستقبل میں ہے ( یہاں مصنف ترقی کے داعیوں کو قصور وار ٹھہرا رہے ہیں کہ وہ اس قول پر تکیہ کیے ہوئے ہیں کہ ” جیت سچ کی ہوگی” جو یہ اشارہ دے رہا ہے کہ آخر میں آکر سچ ہی جیتے گا)۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک ہمارے اپنے منو نتر کا تعلق ہے ، ( اس کا سنہری دور) ماضی میں تھا۔ ( ایک خیالی تصور جس کی رو سے روحانی یا اخلاقی ترقی بے معنی ہو جاتی ہے ) اس لیے کہ یہ اولین دور سے متعلق ہے۔ ( ان کا اشارہ ستیہ جگ یا سچائی کے دور سے ہے جو موجودہ چتر جگ کا حصہ ہے)۔ ایک احساس یہ بھی ہے کہ یہ ماضی میں بھی ہے ( یعنی پچھلے چتر جگ کے ستیہ جگ میں جو ساتویں منونتر کا حصہ تھا) اور مستقبل میں بھی ( یعنی اس ستیہ جگ میں جو آٹھویں منونتر کا پہلا چترجگ میں ہوگا)۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ نظریں صرف اس موجودہ منوونتر پر نہ رہے ( اس حالت کے قابل قبول ہونے کے لیے یہ قبول کرنا ضروری ہے کہ اس چکر در چکر منونتر اور چترجگ کا کوئی خاتمہ نہیں ہے) بلکہ اس کو تمام کائناتی نظام کے چکر یا دور تک بھی لے جایا جا ئے اس لیے کہ جب مستقبل کی بات ہوگی تو وہ سنہرا دور شائد ایک اگلے منونتر کے دور کے بارے میں بھی ہو سکتا ہے ( یعنی ستیہ جگ جو آٹھویں منونتر کے پہلے چتر جگ میں وقوع پذیر ہوگا)۔ 
اس تمام بحث کو ہم مابعداطبیعیات میں ماورائی نظریہ کے بچائو کی مجبوری سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں، جو ایک مہمل اور لا یعنی بات ہے اور جو موجودہ دور میں سنہرے دور کی موجودگی کے رد کرنے پر مصرہے ۔ اس میں لفظ ” شائد” کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ علم الیقین کا فقدان ہے اور اشارہ دیتا ہے کہ یہ ما بعدالطبیعیات کا ایک کھیل ہے۔ 
 
جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، اسلام کے فلسفہ کے تحت زندگی کی روانی ایک سیدھے خط کے مطابق ہے نہ کہ کسی گول چکر کے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان اور کائنات کی ایک آخری حد مقرر کر رکھی ہے اور ہر چیز اپنے آخر کی طرف رواں دواں ہے۔ جبکہ ہندئوں کا چکر نا ختم ہونے والی تخلیق ، تباہی اور پھر تخلیقِ نو کا پرچار کرتی ہے۔ ان کے عقیدہ کے مطابق نہ کوئی پہلا کلپہ تھا ، اور نہ کوئی آخری کلپہ ہوگا۔ لہٰذا خالق اور مخلوق کے ہمیشہ قائم رہنے کا یہ نظریہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ بڑی آسانی سے اللہ اور اس کی تخلیق کے ایک (یعنی واحد وجود)  ہونے کو قبول کر رہا ہے، جہاں تخلیق صرف فریبِ نظر یعنی مایا بن کر رہ جاتی ہے۔ ( وحدت الوجود بھی اسی نظریہ کا ایک بدل ہے)۔ اور حقیقت یا سچائی کو لِیلا یعنی برہما کے دل بستگی کے کھیل سے مشابہت دی گئی ہے۔ جبکہ قرآن کریم کا فرمان ہے:( وما خلقنا السمٰوات والارض و ما بینھما لاعبین )سورة دخان ( ٣٨ : ٤٤)، یعنی ”ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے کھیل کے لیے نہیں بنایا ہے۔” تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک صوفی شیخ ( یعنی شیخ عبدالواحد) کو اس فرمان قرانی کا علم نہیں تھا؟۔

موت کے بعد کوئی موت نہیں

اسلام میں صاف صاف الفاظ میں تخلیق کا عمل لا شئی سے بتا یا گیا ہے۔ البدیع جو اللہ سبحانہ’ و تعالیٰ کے صفاتی ناموں سے ایک نام ہے، اس بات کی گواہی دیتا ہے۔ انسان بلا شک و شبہ موت کا ذائقہ چکھے گا مگر صرف ایک بار۔ اس کے بعد اس کو ایک دوسری دنیا میں اٹھا یا جائے گا۔ ( وہ دنیا اس دنیا جیسی نہیں ہوگی کہ جس کو دوبارہ تخلیق کیا گیا ہو) اور اس میں اس کو دوبارہ موت نہیں آئے گی۔ قرآن مجید نے کہا کہ:
( لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى ۚ  ) سورة دخان ( ٥٦ : ٤٤)
یعنی پہلی موت کے علاوہ اور کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھے گا۔ 
ایک دوسری جگہ قرآن ان لوگوں کی فرحت کا ذکر کرتا ہے جو جہنم سے بچا لیے گئے اور جنت میں داخل کیے گئے:
( وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ ٥٧  ۔ اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ  اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ ۙ  ٥٨۔ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ ٥٩۔ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ٦٠۔ لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ ٦١۔)  سورة صافات ( ٦١- ٥٧ : ٣٧)
(پھر وہ خوشی کے عالم میں اپنے ساتھیوں سے کہے گا) اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی دوزخ میں حاضر کیے جانے والوں میں ہوتا۔ اچھا تو کیا اب ہمیں موت نہیں آئے گی؟ سوائے اس موت کے جو ہمیں پہلے آچکی؟  اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ زبردست کامیابی یہی ہے۔ اس جیسی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے۔ 
اور جو دوزخ میں داخل ہو گا اس کے لیے کہا کہ:

 لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي  )

 یعنی وہ اس میں نہ مریگا، نہ زندہ رہے گا ۔ سورة طٰہٰ(٧٤ : ٢٠) اور سورة اعلیٰ ( ١٣ : ٨٧)،

جس کا مطلب ہے کہ دوزخی بھی دوسروں کی طرح موت کا مزہ نہیں چکھے گا ، اور اس کی زندگی موت سے بھی بد تر ہو گی۔
 
اب یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن حکیم کا یہ سیدھا سادہ صاف ستھرا بیان ایک ایسے شخص کی نظروں سے نہ گزرا جو مسلمان بھی تھا ، صوفی بھی اور شیخ بھی ؟
 
 اسلام تاریخ کی حد بندی کا نظریہ نہیں دیتا ۔ اس لیے سنہری دور کے لیے کسی خاص دور کے شروع سے متعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ’ کی ہدایت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا،  جبکہ وہ ابھی جنت میں ہی تھے۔ تمام بنی آدم کے اقوام اور قبیلوں کو یہ آزادی حاصل رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان ہدایات پر عمل پیرا ہو کر اپنے دور کو سنہرا بنا لیں۔ انسان نے جب کبھی شیطان مردود کی اتباع کی (جنت میں بھی) تو اس کی قسمت میں تباہی لکھ دی گئی۔ اس لیے پوری انسانی تاریخ  وقتاً فوقتاً اپنے عمل کے زیر اثر یا تو اپنے بہترین سنہرے دور سے گزری یا پھر انتہائی برے دور سے۔
 
اس سلسلہ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ خیالی سنہری دور جس کا اوپر تذکرہ ہواہے کسی ایسے دور میں وقوع پذیر ہوا جس میں سے کوئی خوش قسمت انسان گزرا ہوگا۔ یہ ممکن ہے کہ ایسا دور انسان کی جبلی فطرت کے زیر اثر نہیں تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسی اولین حالت جس کا تذکرہ ہوا، انسان کی اپنی فطرت کے اندر ودیعت کیا ہوا ہے۔ اور یہ فطرت وہی ہے جو اسے صحیح یا غلط عمل کا انتخاب کرواتی ہے۔ مختصراً یہ کہ اس فطرت کی مجموعی پرورش کسی بھی دور کو سنہرے دور میں بدل سکتی ہے۔
 
ایسا بھی ہوا ہے کہ تاریخ کے کسی دور میں قوموں کی انفرادی یا اجتماعی زندگی کے اندر سے تمام اچھائی غائب ہو گئی ہوجیسے جناب خاتم المرتبت پیغمبر اسلام ۖ کی بعثت سے قبل دنیا بھر کا حال تھا۔ ایسے تمام مواقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ہدایات کے نزول کا اعادہ کیا تاکہ ما بعد الطبیعیاتی نحوست کو صاف کیا جا سکے۔( عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں Scribes اور Pharisees کی کارکردگی غور طلب ہیں)۔  اور پھر انسانیت نے پیغمبروں کی رہنمائی میں سچائی کا سفر شروع کیا۔ پیغمبروں کے رحلت فرما جانے کے بعد آنے والی نسلوں کو بار بار اس سچائی کو عملی جامہ پہنانا پڑا۔ اس فطری رہنمائی کو چھوڑدینے کی صورت میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر ماضی کی طرح مستقبل میں بھی فرد اور جماعت ذمہ دار ٹھہرائے جائینگے اور یہی وہ فطرت اولین ہے جو انسان کو عطا ہوئی ہے جس کی بدولت وہ ہدایت کی روشنی کو دیکھتا بھی ہے اور اس کے مطابق عمل بھی کرتا ہے۔
 

نور اور ہدایت

جیسے انسانی آنکھ کو مختلف وجہ سے نظروں کی درستگی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، اسی طرح اندرونی آنکھ یعنی عقل کو بھی نورِ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے گردا گرد ہونے والے حالات و واقعات کو دیکھ کر پرکھتا ہے اور اپنی استعداد میں اضافہ کرتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے کوئی نئی چیز آئے تو علم کے میکانیکی عمل کے ذریعہ اس کو اس کی تفصیل سمجھانی پڑتی ہے تاکہ آنکھ اس کو اچھی طرح سمجھ لے،  اسی طرح فطرت انسانی کو بھی ہدایت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعہ سے وہ اپنے اعمال کو بہتری کی طرف لے جاتا ہے اور طبعی دنیا میں اپنا مقام بنا تا ہے۔
در حقیقت یہی نور اور ہدایت تمام علوم کا جوہر ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم ۖ تک پھیلا ہوا ہے، جو آج کی بحث کا موضوع ہے۔ اللہ کی طرف سے آنے والی ہر نئی ہدایت تصدیق کرتی رہی ہے کہ پچھلی ہدایت میں نور بھی تھا اور ہدایت بھی اسی لیے اللہ پاک نے قرآن کریم میں فرمایا:
( اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ) سورة مائدہ ( ٤٤ : ٥ )۔
  یعنی
”ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی۔”
 اور پھر آیت نمبر ٦ ٤ میں یہ فرمایا:
 ” اور ہم نے ان (پیغمبروں)کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو اپنی سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا۔”
اور پھر آیت نمبر ٤٨ میں یہ فرمایا:
” اور (اے رسول محمد! ۖ) ہم نے تم پربھی حق پر مشتمل کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی نگہبان ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کروجو اللہ نے نازل کیا ہے، اور جو حق بات تمہارے پاس آگئی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو۔”  
اوپر کی آیات سے یہ پر زور دعویٰ سامنے آتا ہے کہ 
 
( الف) پچھلی کتابیں بھی اللہ کی طرف سے تھیں اس لیے ان میں بھی ہدایت اور نور تھا۔
 
( ب) اگلی آنے والی کتاب یہ تصدیق کرتی رہی ہے کہ پچھلی کتاب میں ہدایت اور نور موجود تھا۔ اور
 
( ج) موجودہ آئی ہوئی کتاب انہی عقائد کو پاک صاف کرکے پیش کر رہی ہے ( جن کو تم نے گڈ مڈ کردیا تھا)  اور عمل کے لیے زیادہ صحیح ہدایات پر مبنی ہے۔ 
اس کا مطلب یہ ہوا کہ نئی آنے والی کتاب کو پچھلی کتابوں سے کچھ ادھار نہیں لینا پڑا اور نہ ان کی تصدیق کی ضرورت تھی۔ اور یہ سلسلہ قران مجید فرقان حمید کے آنے تک اسی طرح چلتا رہا ، اور اب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ اعلان کردیا کہ وہ اس ہدایت کی بذات خود حفاظت کریں گے کیونکہ یہ بنی نوع انسانی کے لیے آخری کتاب ہے جو اللہ پاک نازل کر رہے ہیں۔
 
پچھلی تمام کتابوں میں جو ہدایات اور نور تھی وہ قرآن پاک میں بھی موجود ہے، اسی لیے قرآن مجید کے باہر سے کوئی چیز اس سلسلہ میں نہیں چاہئے۔ یعنی پچھلی کتابوں میں جو کچھ بھی قرآن کی ہدایت کے مطابق ہے وہ سچی ہدایت اورنور ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو اس کو رد کر دیا جائے اور پھر اس کا یہ مطلب بھی ہوا کہ اگر کسی مسئلہ میں دوسری کتابوں کا موقف قرآن سے مختلف ہے تو اب یہ لازم ہے کہ اُن  مواقف کو درست کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اپنے آپ کو فرقان کہا ہے یعنی وہ معیار جس پر تمام غلط اور درست کو ناپا جائے، اور فیصلہ کیا جائے کہ کیا غلط ہے اور کیا درست۔ کونسی بات جائز ہے اور کون سی ناجائز، دوسری کتابوں میں کیا سچ ہے اور کہاں جھوٹ کی آمیزش ہے۔ اس کے بر خلاف اگر دوسری کتابوں میں درج شدہ عقائد ، واقعات اور فطری عوامل کے بارے میں قرآن خاموش ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ان کے بارے میں وقف کرنا چاہئے، چھوڑ دینا چاہئے اور اس کو کسی طور پر سچائی کا درجہ نہیں دینا چاہئے۔
 
اسلام یہ تر غیب دیتا ہے کہ دنیاوی علم کو جہاں سے ملے حاصل کیا جائے۔ اسلام نے دوسرے لوگوں کے ساتھ میل جول اور تعلقات کے سلسلہ میںاپنے دروازے بند نہیں کیے ہیں۔ ایک طرف اسلام خود اپنے لوگوں کے لیے زندگی کو بہتر انداز سے گزارنے کی ترغیب دیتا ہے، تو دوسری طرف دوسرے لوگوں کو اپنے سچ کی طرف آنے اور اس بہتری کو قبول کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ مگر ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلام غیرمذہب کے لوگوں پر تشدد سے بھی منع کر تا ہے اور ان کی دولت لوٹنے سے بھی روکتا ہے۔ قرآن کا انداز تو یہ ہے کہ( لا اکراہ فی الدین )  سورة البقرة ( ٢٥٦ : ٢)۔  یہ ہے اسلام میں آزاد خیالی کا تصور۔ آزاد خیالی مذہبی عقائد اور روحانیت کا ملغوبہ نہیں ہے۔ صرف اسلام ہی جیو اور جینے دو کے اصولوں کی تعلیم دیتا ہے۔

بے جا آزاد خیالی

اسلام کے ابتدائی د ورکے مسلمانوں نے دوسرے معاشروں میں پائے جانے والے انسانی تصورات اور خیالات کی سرپرستی کرنے میں کوئی جھجک روا نہیں رکھی۔ ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر یونانی افکار ہیں جس کو عیسائیت نے اپنے عروج کے دور میں بالکل نظر انداز کر دیاتھا اور وہ ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ سرپرستی کے اس عمل میں بعض مسلمانوں نے ان افکار کوکچھ زیادہ ہی نگل لیا اور پھر اسلامی بنیادی عقائد کو یونانی فلسفہ، خصوصی طور پر نو افلاطونی افکار کے مطابق پرکھنا شروع کردیا۔ اس کے نتیجہ میں ذہنی فہم وفراست ، افراتفری ، پراگندگی، پھوٹ اورنزاع نے جنم لیا۔ یہی چیز پھر پھیل بھی گئی۔ مگر صحیح العقیدہ مسلمان (سوادِ اعظم) قرآن اور سنت رسولۖ سے چمٹے رہے اس لیے کہ ان کی یہ محبت اسلام کی سچائی اور حقانیت کی بدولت تھی۔ روایتی علماء ، امام غزالی وغیرہ جیسے جید عالم حضرات ایسے موقع پر اٹھ کھڑے ہوئے۔  انہوں نے انتہائی خوبی کے ساتھ مسلمانوں کے ذہنوں میں در آئے ہوئے باطل تفکرات کو پہچانابھی اور ان کو دور کرنے کی کو شش بھی کی ، تاکہ فوت شدہ معاشرتی اقدار سے ان کے رومانس کو ختم کیا جا سکے۔ اور ایسا کرنے کے عمل کے دوران جو ماحول پیدا ہوا اس میں وہ لوگ جو اسلام سے دور ہورہے تھے ان لوگوں کی تعریف میں مصروف رہے، جنہیں اللہ نے کفار کا نام دیا تھا۔

مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے خیالات کا دخول

Syncretism  یعنی دوسرے مذاہب کے تصورات کی آمیزش کا وہ سلسلہ جو ایک مرتبہ شروع ہو گیا تھا وہ کبھی بھی مکمل طور پر اکھاڑ کر پھینکا نہ جا سکا۔ اور یہ ہمیشہ ہی حالت نمو میں موجود رہا اور مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے سامنے آتا رہا۔ اس کی سب سے بد ترین مثال مغل بادشاہ اکبر کے دین الٰہی میں ملتی ہے جو اس کے دور کے تمام مذاہب کے عقائد کا ایک ملغوبہ تھا۔ اسی طرح مسلم علاقوں پر برطانوی راج کے دوران جمال الدین افغانی ( ١٨٩٧- ١٨٣٨ ) کی صورت میں سامنے آیا جو ایک ایرانی شیعہ مسلم تھا۔ وہ مصر کے فری میسن لاج کا سر پرست تھا۔ اس کا ایک پیرو محمد عبدہ  ( ١٩٠٥- ١٨٤٩ ) اس کے بعد اس عہدہ پر فائض ہوا۔ دینی لحاظ سے محمد عبدہ چار سنّی مذاہب کے بجائے بارہ امامی شیعہ فرقہ کے بہت قریب تھا، جس کی بڑی وجہ جمال الدین افغانی کا اثر تھا۔ اس نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا ” اسلام اور عیسائت ” اس میں اس نے لکھا:
” تمام مذاہب ایک ہیں۔ ان کا اختلاف صرف ظاہری ہے۔یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کی حمایت کرنی چاہئے۔ ” اس نے لندن کے ایک پادری کو لکھا: ”میں دو بڑے مذاہب ، اسلام اور عیسائیت کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گلے ملتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ پھر تورات ، انجیل اور قرآن ایسی کتابیں ہونگی جو ایک دوسرے کی حمایت اور تائید کر رہی ہونگی، جو ہر جگہ پڑھی جا رہی ہونگی اور ان کی ہر قوم میں عزت و تکریم بھی ہو رہی ہو گی۔”
مصر میں اس ہم خیال گروہ کا ملاپ بہت اہم ہے۔ شیخ عبدالواحد یحیٰ ١٩٣٠ء سے لے کر اپنی موت ١٩٥١ء تک وہیں رہے، اور فرانس کے فری میسن لاج دی گریٹ ٹرایڈ کی بنیاد ڈالنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ لاج پیرس کے گرینڈ لاج کے ساتھ منسلک ہے۔ شیخ عیسیٰ نورالدین  بیس سال تک شیخ عبدالواحد کے ساتھ خط وکتابت کرتے رہے اور آخر کار ان سے ملنے کے لیے سن ٣٨ او ر ٣٩ میں مصر کا دورہ کیا۔ شیخ ابو بکر سراج الدین ( ٢٠٠٥- ١٩٠٩) جو شیخ عیسیٰ نورالدین کے شاگرد تھے ١٩٣٩ء میں مصر گئے اور ١٩٥٢ء تک وہاں مقیم رہے اور اس کے بعد بھی اپنی موت تک وہاں جاتے رہے۔ اسی طرح سید حسین نصر بھی، جو پچاس سال تک شیخ عیسیٰ نورالدین کے شاگرد رہے ، اور جن کے تمام تصانیف Perennial Philosophyکے عقائد اور نظر یات پر مبنی ہیں۔
 

("Philosophia Perennis” is the central concept of the "Traditional School” formalized in the writings of Rene Guenon, Frithjof Schuon and Ananda Coomaraswamy. The term was first used in the 16th century by Agostino Steuco in his book entitled De perenni philosophia libri X (1540), in which scholastic philosophy is seen as the Christian pinnacle of wisdom to which all other philosophical currents in one way or another point. The idea was later taken up by the German mathematician and philosopher Gottfried Leibniz, who used it to designate the common, eternal philosophy that underlies all religions, and in particular the mystical streams within them. The term was popularized in more recent times by Aldous Huxley in his 1945 book: The Perennial Philosophy. The Hindu revivalist notion of Sanatana Dharma has been taken as a translation of Philosophia Perennis) – (Wikipedia)

اسی کی ہم عصر ایک اور تحریک کی بنیاد تھیو سو فیکل سوسائٹی کے نام سے ١٨٧٥ء میں نیو یارک میں مادام ہیلینا  بلاواٹسکی ( ١٨٩١- ١٨٣١) اور ان کے ساتھیوں نے ڈالی۔  اس کا مقصد یہ تھا کہ آریہ اور دیگر مذاہب عالم کی تحریروں کو پڑھنے کی ترغیب دلائی جائے تاکہ ایشیائی ادب یعنی برہمنی ،  بدھ اور زرتشتی فلاسفی کی اہمیت کو بآور کرایا جائے۔یہ تھیو سوفیکل سوسائٹی مسلمانوں کی نظریہ کے تحت نقصان دہ تو تھی ہی، مگر شیخ عبدالواحدیحیٰ ایک قدم اور آگے بڑھے ۔ انہوں نے مادام بلاوٹسکی کی تحریکِ syncretismکو اکھاڑ پھینکا اور اس کی جگہ synthesis یعنی مصنوعیت کے ایک نئے تصور کی بنیاد ڈالی ۔ان کی کتاب Symbolism of the Cross    کے تجزیہ میں وکی پیڈیا کہتا ہے:
 

” گِنوں (یعنی شیخ عبد الواحد یحیٰ) synthesis اور  syncretism کو الگ الگ واضح کرتا ہے۔ syncretism  میں دوسری جگہوں سے جمع کیے گئے اجزا کو ملا کر اکٹھا کیا جاتا ہے جبکہ وہ اجزا باہم بے محل ہوتے ہیں،  اور آپس میں گھل مل نہیں سکتے۔ یہ ایک بیرونی چیز ہے جس کے اجزا کو دوسری جگہوں سے مستعار لیا جا سکتا ہے یکساں نہیں کیا جا سکتا۔ اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے وہ  Symbolism of the Cross میں لکھتا ہے کہ: ”syncretism فوری طور پر پہچان میں آجاتا ہے جب یہ نظر آئے کہ اس کے مختلف اجزا کو باہر سے مستعار لے کر اکٹھا کیا گیا ہے یہ سوچے بغیر کہ یہ سب اجزا ایک ہی عقیدے کی مختلف تشریحات اور شکلیں ہیں ، یا پھر مختلف النوع اعمال ہیں جو کسی خاص حالت اور زمان و مکاں سے متعلق ہیں۔ گِنوں کے مطابق یہ انداز فکر تھیوسوفیکل سوسائٹی کے عقائد میں ملتا ہے۔ اس کے بالمقابل synthesis میں چیزوں کو ان کے اصل کے تناظر میں دیکھا جا تا ہے، اور اگر وحدانیت کے پس منظر میں رکھا جائے، اور اس ادراک کے ساتھ ان کے عقائد سے منسلک رکھا جائے، تو اظہار کے کثیر التعداد مظاہر کے باوجود سچ کی اصل حقیقت کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس آگاہی کے ساتھ ایک شخص کو یہ آزادی حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ  مذہب کے کسی بھی شکل میں سچ  کو اپنالے۔ ہر ایک کا اپنا اپنا اندازِ بیان ہے، جو انہیں خاص تحفہ کے طور پر عطا کی گئی ہے ۔ لہٰذا تمام کے تمام روایتی مظاہر کو synonymies  یا ایک دوسرے کے مترادف کہہ سکتے ہیں۔ رِنے گِنوں کہتا ہے کہ صلیب کا نشان قدیم زمانے سے مختلف شکلوں میں مختلف علاقوں میں رائج رہا ہے ۔ اس لیے صلیب صرف عیسائیوں کے عقیدہ سے منسلک نہیں ہے ، اور اس کو کسی بھی روایتی پس منظر میں مختلف اعتبار سے دیکھا جا سکتا ہے۔

چونکہ syncretism ایک ایسی تصویر بنانے کی کوشش کرتی ہے جو فی الوقت موجود نہیں ہے، اس لیے شیخ عبدالواحد یحیٰ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس تصویر کو بنا نے کی ضرورت بھی نہیں ہے اس لیے کہ وہ تو محض ایک مصنوعی مرکب کا نام ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صلیب کی روح ہر نظریٔہ  میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ یہ ایک Kaleidoscope  کی طرح ہے جس کی تصویریں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیںمگر وہ ایک ہی اجزاء سے بنے ہوتے ہیں، اور ان میں ایک مخفی مصنوعی اکائی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے صلیب کی نشانی اپنی مختلف شکلوں میں تقریباً ہر جگہ مل جاتی ہے۔ یہاں تقریباً کا لفظ یقیناً علم یقین کا ہم پلہ نہیں ہے۔ اگر اس کو قبول کر لیا جائے تو یہ کہنا پڑیگا کہ منونتر کا بے اصل نظریہ بمع دیگر ہندو نظریوں کے، صلیب کا مختلف شکلوں میں اظہار، اور اسلام کا خالص نظریہ توحید سب ایک ہی تصویر کے مختلف اجزا ہیں۔ہمارے نزدیک یہ سب انتہائی انوکھی اور انہونی خرافات کے برابر ہیں۔ واہیاتِ محض!!
 
 اگر اس نظر یہ کو درست سمجھا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر دنیا میں کفار اور مشرک کن لوگوں کو کہا جائے گا۔ اس قسم کا آزاد نظریے کے تحت تو تمام مذاہب کے علماء کفر کے  شمار میں نہیں آ ئیں گے اس لیے کہ تحفۂ بیان میں سب کو برابر کا حصہ ملا ہے، یعنی زبانیں مختلف ہیں مگر اشارہ تو سب کا  ایک ہی چیز کی طرف ہے۔ اسی طرح عوام کی بھی ایک بڑی تعداد شرک سے بری الذمہ ہو جائے گی، اس لیے کہ ان کی وہ ذہنی استعداد نہیں ہے کہ اُن باریکیوں کو سمجھ سکیں جو اشراف کے ذہنی قلابازیوں کے زمرے میں آتی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب ایک مسلمان قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے تو اس کو اس میں لفظِ کفر مختلف شکلوں میں پانچ سوسے زیادہ مرتبہ واسطہ پڑ تا ہے۔ کیا اس بات پر کسی کا ایمان ہو سکتا ہے کہ قرآن جو کچھ کہہ رہا ہے وہ اس کا اصل مطلب نہیں ہے؟  نعوذباللہ۔ قرآن کا یہ بیان ہے کہ
 
” اور( حقیقت یہ ہے کہ) اِن ( مشرکین) میں سے اکثر لوگ کسی اور چیز کے نہیں، صرف وہمی انداز ے کے پیچھے چلتے ہیں، اور یہ یقینی بات ہے کہ حق کے معاملے میں وہمی اندازہ کچھ کام نہیں دے سکتا۔ یقین جانو، جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں، اللہ اس کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔” سورة یونس ( ٣٦ :١٠)
 ۔ اور پھر کہتا ہے کہ:
 ”وہ محض وہم و گمان کے پیچھے چل رہے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ وہم و گمان حق کے معاملے میں بالکل کار آمد نہیں۔” سورة نجم (٢٨:٥٣)۔
 اس حقیقت کے باوجود کہ کسی شخص نے کتنی ہی معرکة الآرا کتابیں لکھی ہوں اور دنیا بھر کی ادبی تنظیموں سے اس کو کتنے ہی انعامات ملے ہوں، بطور ایک مسلمان کے، اس کاہندو اور عیسائی اعتقادات کو اسلام میں داخل کردینا بہت بڑی غلطی ہے ، اس لیے کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مکمل نہیں ہے اور اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ اسلام میں صلیب اور منونتر جیسے خیالات مخفی طور پر موجود ہیں، گویا کہ اسلام بھی دیگر مذاہب سے مختلف کوئی نظریہ نہیں ہے۔
جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

قسط نمبر ١ کا مطالعہ کیجئے   قسط نمبر ٣   کا مطالعہ کیجئے

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، شعبان معظم 1433ھ/ جون، جولائی 2012- سے ماخوذ ہے۔ 

تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش


الواقعۃ شمارہ  ٢

محمد عالمگیر 

مترجم : ابو عمارسلیم

قسط نمبر ٢  کا مطالعہ کیجئے قسط نمبر 3 کا مطالعہ کیجئے

قسط 1

یہ مختصر تجزیہ بطور خاص صرف مسلمانوں کے لیے لکھا گیا ہے۔ ان مسلمانوں کے لیے جو مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں، کسی کو اذیت نہیں دیتے ۔ ان مسلمانوں کے لیے جن کو یہ دلی اطمینان حاصل ہے کہ اسلام بذات خود ایک مکمل اور کامل دین ہے اور اس کو کسی دوسرے مذہب، دیو مالائی کہانیوں، فلسفہ اور ما بعدالطبیعیاتی نظریوں کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور ان مسلمانوں کے لیے جو نہ تو کسی دوسرے طریق زندگی کی سرپرستی کرتے ہیں اور نہ ہی یہ پسند کرتے ہیں ان کی سرپرستی کی جائے۔
 

تصوف بطور احسان

 
اسلام سچائی کا دین ہے۔ خالق کائنات نے اس دین کو اپنے پیغام کے طور پر خود انسان کو عطا کیا ہے۔ اس پیغام کا ایک حصہ انسان کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی ہدایت پر مبنی ہے، یعنی یہ انسان کو اس کے معاشرتی ، سیاسی اور معاشی معاملات میں حتمی اور سچی راہنمائی دیتا ہے۔ ان ہدایات پر عمل پیرا ہوکر وہ اپنے اخلاقی اقدار کا داعی ہوتا ہے۔ اس پیغام کا دوسرا حصہ اس کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے مقام کے مقابلہ میں اس کی اپنی ذاتی حیثیت کا اتہ پتہ دیتا ہے۔ انسان اس علم کے تحت اپنی روحانی اہلیت اور قابلیت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس طرح ایک قابل اور صاحب فہم انسان کے لیے اس پیغام میں انتہائی معمولی دنیاوی معاملات سے لے کر اعلیٰ ترین معاملات تک کے لیے ہدایات موجود ہیں ۔
 
خالق کائنات کا یہ پیغام ہر انسان کے لیے ہے۔ مگر جن لوگوں نے اس پیغام کو قبول کیا ہے، ان کی اکثریت اس پیغام کے بہت ہی قلیل چیزوں پرقانع ہے، جس کے بغیر گذارا نہیں ہو سکتا۔ یا پھر انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ اس پیغام میں کتنی خوبصورتی موجود ہے۔ جب اسلام کے اس پیغام کو سہ رخی جہت سے یعنی اسلام ، ایمان اور احسان کے رو سے دیکھا جائے تو اس خوبصور ت حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام متقاضی ہے کچھ بنیادی عقائد اور لازمی عمل کا۔ ایمان ان تمام عقائد کا جوہر اور اصل ہے جو یقین کامل تک پہنچا دیتا ہے۔ احسان وہ سچی پرستاری ہے جس پر عمل سے کاملیت اور فضیلت کے راستے کھلتے ہیں اور سرفرازی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس پیغام پر کاربند ہوکرجو سفر طے ہوتا ہے وہ انہی تینوں جہت کے تحت ہوتا ہے، یعنی اسلام سے ایمان اور اس سے آ گے احسان کے درجے تک پہنچاتاہے ۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایمان بغیر اسلام کے قابل قبول نہیں ہے، اور ایسا احسان جس کی بنیاد اسلام اور ایمان کے اوپر نہ ہو صرف منافقت ہے ۔
 
(دیکھئے حدیثِ جبریل، جس میں احسان کے بارے میں نبیۖ نے فرمایا ہے:” الاحسان ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ، فان لم تکن تراہ فانہ یراک۔”یعنی ” اللہ کی عبادت اس طرح کرو، جیسے کے تم اسے دیکھ رہے ہو۔ حالانکہ تم اسے دیکھ نہیں سکتے، لیکن وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔” اسی کو احسان کہتے ہیں۔ تاریخ میںہم دیکھتے ہیں کہ احسان کے اس مرتبہ کو حاصل کرنے لیے ایک منظم ادارہ بنایا گیا، جس کو ہم تصوف اور طریقت کے نام سے پہچانتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو زبان میں احسان کا لفظ اس معنی میں کم ہی استعمال ہوتا ہے ۔ )
 
اب اگر یہ سوال کریں کہ اللہ کا پیغام کیا ہے؟ یا یہ کہ اللہ کیا چاہتا ہے، کہ ہم کیا کریں؟ تو یہ شریعت یعنی قانون کو جنم دیتا ہے اور یہ سوال کہ اللہ کے پیغام پر عمل کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ طریقت کو ہموار کر تا ہے۔ یہ دونوں تقسیم خالصتاً نظریاتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان جو کام بھی کرنا چاہے اس میں کیا اور کیسے لازم و ملزوم ہوتے ہیں، ایک دوسرے میں گتھے ہوتے ہیں اور ان کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اس کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شریعت اور طریقت دونوں کے دستور مسلمان علاقوں میں الگ الگ وجود رکھتے تھے اور دونوں کے ماہرین اپنے اپنے معاملات میں سر گرم تھے ۔
 
اصولی طور پر وہ لوگ جو شریعت کے امور میں ماہر ہیں یعنی جنہیں ہم علما ء کہتے ہیں وہ یقیناً طریقت کے علوم سے بھی بخوبی واقف ہیں ، اور ان معاملات کے کیا اور کیسے کے تمام سوالات کا بخوبی جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی نظر اسلامی تعلیمات کا مکمل احاطہ کیے ہوئے ہے۔  اور جب ہی توپیغمبر اسلام صادق الامین حضرت احمد مجتبٰی محمد مصطفٰی ۖ نے فرمایا کہ میری امت کے علما ء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں(١)۔اور یہ بات تو مسلّم ہے کہ پیغمبروں نے نہ صرف اللہ کے پیغام کو ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا ، بلکہ اس کی وضاحت بھی کر دی اور راستہ بھی دکھا دیا۔ اس لیے اسلام کے وہ علماء جو علماء کہلانے کے مستحق ہیں شریعت اور طریقت دونوں میں رہنمائی کرنے کے لیے بہترین لوگ ہیں۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں ان علماء کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ جیسے ترکی میں مولا، شمالی افریقہ میں مولایا یا مولے ، برصغیر میں مولانا اور عرب دنیا میں انہیں شیخ کہا کرتے ہیں ۔ 
 
مشاہدے میں آیا ہے کہ ان علماء میں سے کچھ اپنی ذاتی استعداد اور قابلیت کے اضافہ کے لیے اللہ کے پیغام کو اس کی تمام تر جزئیات سمیت سمجھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔  اس لیے کہ یہ لوگ اسلام اور ایمان کے تمام مراحل کو بحسن و خوبی طے کرکے احسان کی جہت میں داخل ہو جاتے ہیں،  اس لیے کہ ان کے پاس اس کی استطاعت ہوتی ہے۔ کچھ کچھ مسلم ممالک میں مشائخ کا لفظ صرف ایسے علماء کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی یہی لوگ طریقت کے ماہرین  سمجھے جاتے ہیں ۔ 
 
یہاں اس بات کی وضاحت ضر وری ہے کہ طریقت کے معاملات شریعت کے بغیر انفرادی طور پر نہیں چل سکتے۔ جو لوگ طریقت کے ماہرین ہیں ان پر شریعت کی پابندی اتنی ہی لازم ہے جتنی کسی دوسرے مسلمان پر۔ اگر ایسا ماہر ،  قانونِ شریعت کا علم نہ رکھتا ہو یاشریعت کو پس پشت ڈال دے یا اپنے ہی قوانین پیش کرنے لگے تو پھر وہ سچا ماہر کہلانے کا مستحق نہیں ہے ۔ 
 
یہاں اس بات کی وضاحت ضر وری ہے کہ طریقت کے معاملات شریعت کے بغیر انفرادی طور پر نہیں چل سکتے۔ جو لوگ طریقت کے ماہرین ہیں ان پر شریعت کی پابندی اتنی ہی لازم ہے جتنی کسی دوسرے مسلمان پر۔ اگر ایسا ماہر ،  قانونِ شریعت کا علم نہ رکھتا ہو یاشریعت کو پس پشت ڈال دے یا اپنے ہی قوانین پیش کرنے لگے تو پھر وہ سچا ماہر کہلانے کا مستحق نہیں ہے ۔ 
 
تاریخ میں ایک ایسا بھی وقت آیا ہے جب طریقت اپنے انفرادی روپ میں ایسے ابھری کہ اس کے اپنے خدوخال تھے، اپنا قانون تھا، اپنا مطمح نظر تھااور اس کے اپنے ماننے والوں کا ایک گروہ تھا۔ اور پھر ایسے میں یوں بھی ہوا کہ جانے پہچانے اصولوں سے تجاوز بھی کیا گیا اور اس کے لیے باطنی علوم ، حد سے بڑھی ہوئی روحانیت اور فراست کا لبادہ اوڑھ لیا گیا۔ مگر اس کے باوجود ایسے بہت سے لوگ اٹھے جو اپنی ذات میں اسلام ، ایمان اور احسان کے راستوں کے کوہ گراں تھے۔ اسلام کے سچے شیدائی کی طرح ان کی راتیں رکوع اور سجود میں اور دن گھوڑے کی پیٹھ پر بسر ہوتے تھے۔  یعنی جب تخلیہ میں ہوتے تو اللہ سے رازونیاز کرتے اور لوگوں کے ساتھ ہوتے تو عدل و انصاف کرتے۔ (نوٹ: ایسے لوگوں میں حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی جو مغل حکمراں اکبر اور جہانگیر کے دور میں اٹھے، شاہ جلال اور خان جہاں علی بنگال کے مسلم دور میں، جبکہ سید احمد بریلوی شہید برطانوی راج میں منظر عام پر آئے ۔ )
 

دورِ حاضر کے صوفیا

 
ماضی میں اور آج کے دور میں بھی بہت سے ایسے صوفیا موجود ہیں جو دن کی روشنی میں چھپے رہتے ہیں اور را توں کو نفس پرستی میں گزارتے ہیں۔ وہ عدل و انصاف کی باتیں نہیں کرتے بلکہ فلسفہ میں الجھے رہتے ہیںاور ایسے باطنی اور چھپے ہوئے ذرائع ڈھونڈتے ہیں جن کے ذریعہ سے باطل تصورات کو قابل قبول بنایا جاسکے۔ ایسے لوگ اسلام کی سچائی کو اجاگر کرنے کی بجا ئے د وسرے مذاہب کی تعلیم کو اسلام میں داخل کرکے اسلام کی صحیح صورت بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ان کے پیروکاروں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے تمام جستجو میں اسلام کا انقلابی نقطہ نظر پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
 
پچھلے کچھ عرصہ کے دوران مغرب کی برتری نے اسلام کے خدوخال کو اور بھی مسخ کر دیا ہے۔Esoteric  یعنی مخفی یا باطنی اور  Exotericیعنی خارجی یا ظاہری کی اصطلاحات ان کی لغت کے حساب سے مخفی اور ظاہری مطالب سے کہیں دور کی چیز بن گئی ہے۔ مغرب سے مستعار لی ہوئی اصطلاحات اسلامی لٹریچر میں شدتِ استعمال کی وجہ سے اب ایک نئی شکل میں آگئی ہے، اور اس نے مسلمانوں کو دو مختلف قسم کے گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے، یعنی نچلا طبقہ اور اونچا طبقہ ، یعنی عوام اور اشراف میں بانٹ دیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے اس گروہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے وہ در پردہ اپنے آپ کو ایک اعلیٰ درجہ کے فضیلت یافتہ لوگوں میں شمار کرنے لگتے ہیں  اور دوسروں پر نہ صرف یہ کہ حقارت کی نظر ڈالتے ہیں بلکہ ان کا گمان ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ کبھی ان کی حقیقت کو نہیں پا سکیں گے۔ اور پھر یہ گمان یافتہ لوگ دوسروں سے الگ تھلگ رہتے ہیںاور اسلام کا جو فلسفہِ جہادہے اس میں بالکل حصہ نہیں لیتے۔یہ لوگ گھات لگا کر نوجوان مسلمانوں کو قابو کر لیتے ہیں اور ذ ہنی طور پر ساکت و جامد کر دیتے ہیں تاکہ وہ کسی بھی اسلامی احیاء کی کارروائی میں حصہ نہ لے سکیں۔ وہ عیارانہ حربوں سے اور الفاظ کے ہیرا پھیری سے یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم روایتی اسلام کا احیاء کرنا چاہتے ہیں جبکہ ان کی تمام تر کوشش ہوتی ہے کہ اسلامی روایت کو پٹری سے اتار دیا جائے۔
 
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ روایتی اسلام، اسلام کو اس طرح دیکھتا ہے جیسا کہ اسلام آج کے دور میں مختلف اسلامی ممالک میں رائج ہے۔ فی الوقت اسلام میں جتنی غیر اسلامی روایات اور دوسرے مذاہب کی چیزیں در آئی ہیں یہ لوگ ان سب چیزوں کو بلا چوں و چرا تسلیم کر لینا چاہتے ہیں۔ جب کہ در حقیقت اسلامی روایت کا مطلب وہ قاعدہ اور کلیہ ہے جس کے ذریعہ سے اسلام میں گھس آنے والی تمام چیزوں کو دیکھا جائے ، جانچا جائے اور ان خرابیوں کو دور کیا جائے۔ یہ لوگ حصولِ علم الٰہی کو اپنا وظیفۂِ خاص بتاتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو ان کو صحیح سمت سے ہٹا دیتی ہے۔  بجائے اس کے کہ وہ اپنے اسلام اور ایمان کو علم یقین کی زینت سے آراستہ کریں جو احسان کی ایک جہت ہے، اس کی بجائے وہ اللہ کی ذات اور اس کے وجود کے بارے میں بیکراں قیاسی کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ ایسے دلائل میں الجھ جاتے ہیںجو اسلام اور ایمان کی تعلیم کے عین مخالف ہوتی ہیں۔
 

سچا علم

 
اگلے سطروں میں ہم عقائد کی بحث کی طرف پھر واپس آئیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ ہم پہلے علم کی حقیقت کو سمجھ لیں ۔علم حقیقی کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ یہ پتہ چل جائے کہ اللہ کی مشیت کیا ہے۔ تخلیق کائنات اللہ کی مشیت ہے۔  جب اللہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے کُن اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے اور جو چیز وجود میں آجاتی ہے وہ اللہ کی تخلیق ہے۔ مخلوق اللہ کے ارادے کی ظاہری حقیقت ہے۔ علم کی تمام شاخوں کو بروئے کار لاکر اللہ کی خلقت کو درست طریقہ سے سمجھ لینا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ کو سمجھ لینا ہے۔ کوئی شاعر اور فلسفی اگر تخلیق خداوندی کو اپنی عقل اور فہم کی بنیاد پر بیان کرے تو ایک عام آدمی جس کو حقیقت کا علم نہیں ہے اس کے زور بیان اور الفاظ کی خوبصورتی کی بدولت اس کی تعریف تو کرے گا مگر وہ بیان حقیقت پر مبنی نہیں ہوگا ،کیونکہ جب تک اس کو اللہ کی مشیت اور ارادہ کا ادراک نہ ہو وہ حقیقت کو نہ پا سکے گا ، نہ بیان کر سکے گا۔ مختصراً ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم اللہ کی حکمت اور مشیت کو قرآن کے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔ اس لیے کہ کوئی بھی زبان زد عام حکمت اور علم کو ہم اس وقت تک حکمت نہیں کہیں گے جب تک کہ وہ قرآن کریم کی نازل شدہ حکمت سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔
 
اللہ کی تمام مخلوق میں انسان کو یہ منفرد شرف حاصل ہے کہ اس کو قوتِ ارادہ عطا ہوئی ہے اور اس قوتِ ارادہ کے عملی اظہار کے لیے انسان کو کسی حد تک آزادی بھی دی گئی ہے ، جو دوسروں کو نہیں ملی ہے اور پھر یہی آزادی اس کو مکلف بھی بنا دیتی ہے۔ اب اس کی اپنی یہ خواہش کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے، اللہ کی مشیت اور ارادہ کی تابع ہوگی۔ یعنی انسان کا ہر قابل قبول عمل لازماً قرآن مجید کے احکامات کے عین مطابق ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ انسان کا ہر وہ عمل قابل تعریف ہوگا جو اللہ کی مشیت اور ارادہ کے مطابق ہوگا وگرنہ ناقابل ستائش اور قابل گرفت ہوگا۔ اب اس بحث کے بعد ہم واپس علم کی طرف لوٹیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر انسان کا عمل اللہ کی مشیت کی مطابقت میںہے تو یہ عمل علم پر مبنی ہے ، اس لیے کہ علم اللہ کی مشیت اور ارادہ کا دوسرا نام ہے۔ کسی جنگل یا صحرا میں ایک شخص ہو اور وہ اللہ کی مشیت اور ارادہ کا ادراک بھی رکھتا ہو اور اس کی پاسداری بھی کرتا ہو تو وہ شخص عالم کہلائے گاخواہ اس کے پاس کسی مدرسہ یا یونیورسیٹی کی کوئی سند بھی نہ ہو اور اگر اس کا عمل اللہ کی مشیت کے برخلاف ہوجائے تو وہ جاہل ہے چاہے اس نے کتنی ہی ڈگریاں کیوں نہ حاصل کر رکھی ہوں یا کتنی ہی ضخیم کتابوں کا مصنف ہو یا کتنے ہی لوگوں کو اس نے اپنی خوبصورت تقریروں اور پر اثر شخصیت کے سحر میں گرفتار کر رکھا ہو۔ (نوٹ:  اسلام کے ظہور سے قبل عرب کے معاشرتی دور ( بلکہ کل انسانی دور) کو دور جاہلیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس دور کے عرب نہ تو تجارت میں ، نہ سفارتکاری میں اور نہ شعر و ادب میں جاہل تھے ، اور نہ کسی دوسری قوم سے کسی طور بھی کم تر تھے۔ مگر ان کے پاس کمی تھی تو صرف اللہ کے علم کی۔)
 
انسان کو اللہ کی مشیت کے مطابق اپنی خواہش کو استوار کرنا چاہئے،جو قرآن مجید فرقان حمید میں بتفصیل موجود ہے۔ بیشک اس کو اس کے ان اعمال کی جزا ملے گی، یعنی جب اس کے ارادے اور اللہ کے ارادے یکساں ہو جائیں ۔ بہر صورت یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اس کے عمل سے وہی نتیجہ نکلے جو وہ چاہ رہا ہے خواہ اس کا وہ عمل قرآن و سنت کی حدود میں ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مشیت اس کی جا ئز خوا ہش سے مختلف ہو سکتی ہے ، اور پھر آخر کار ہوتا تو وہی ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ چاہتے ہیں۔ اللہ کا حکم اور اس کی بیکراں آزادی،انسان کی خواہشات کا پابند نہیں ہے ۔ یعنی انسان کا عمل قرآن و سنت کے مطابق جائز بھی ہو پھر بھی نتیجہ عمل پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ دوسری جانب ایسا علم جو اللہ کی خواہش کا عکس ہو علم لَدُنّی کہلاتا ہے، جس کا ذکر سورة کہف میں آیا ہے۔ 
 

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہ السلام 

 
اوپر دیئے ہوئے بیان کی شہادت میں حضرت خضر علیہ السلام کا، جو ایک بڑے عارف تھے، قرآن مجید میں دیا ہوا  واقعہ یہاں دہرایا جاسکتا ہے۔ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام اُن کے ہم سفر تھے جس کے دوران حضرت خضر نے ایک غریب آدمی کی کشتی میں سوراخ کردیا، آگے چل کر ایک نوجوان لڑکے کو مار دیا ، اور پھر ایک گرتی ہوئی دیوار کو اجرت لیے بغیر ٹھیک کردیا ، حالانکہ ان لوگوں کو کھانے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی، اور بستی والوں نے کھانا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کو بتایا کہ میں نے چاہا کہ کشتی کو عیب دار بنا دوںتاکہ ظالم بادشاہ غریب آدمی کی کشتی پر قبضہ نہ کر لے۔ نوجوان جس کو مار دیا تھا وہ اپنے والدین کا نافرمان تھا اس کے لیے انہوں نے کہا ہم نے چاہا کہ اس کو ختم کرکے ایک نیک فرمانبردار لڑکا دے دیا جائے۔ اور اس گرتی ہوئی دیوار کے نیچے ایک خزانہ دفن تھا جو ایک صالح آدمی کا تھا اور  تمہارے رب نے چاہا کہ خزانے کو محفوظ کردیا جائے تاکہ اس کے لڑکے بڑے ہو کر اس کو حاصل کر لیں۔
 
جب حضرت خضر  نے کہا میں نے چاہا تو انہیں اللہ کی مشیت اور اس کی خواہش کا علم تھا اور وہ اس کی مشیت کے خلاف کوئی ارادہ نہیں کر سکتے تھے۔ جب انہوں نے کہا کہ ہم نے چاہا  تو انہیں اللہ کے مشیت کے الہام نے تحریک دی اور اس دنیاوی کام کو انہوں نے اللہ کی طرف سے سر انجام دیا۔  اور جب انہوں نے کہا کہ تمہارے رب نے چاہا تو ایک طرف تو انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ انہیں اللہ کی طرف سے الہام ہوا ہے اور ساتھ ہی اللہ کی مشیت کی برتری ظاہر کی تاکہ ان کی خدائی کا دعویٰ نہ ہوجائے۔ ان تینوں واقعات میں حضرت خضر علیہ السلام کا ذاتی علم کوئی حقیقت نہیں رکھتا تھا سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کی مشیت کے۔ 
 
علم لدنّی کا تحفہ ان تمام علماء اور مشائخ کا اشتیاق ہے جو طریقت کے عالم ہیں اور احسان کے درجۂ کامل تک پہنچے ہوئے ہیں، اور اس کو مزید بہتر بنانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔ حضرت خضر کا یہ واقعہ یقینا ان کے لیے امید کی کرن ہے، اس لیے کہ حضور نبی کریم صادق الامین ۖ  نے فرمایا کہ سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ ایسا خواب نہ تو قرآن اور نہ ہی شریعت کا جزو ہے اور نہ ہی یہ کہ جس کو یہ عطا ہو جائے وہ خدائی طاقت کا حامل ہو گیا، اور اب اس کی پرستش ہونے لگے۔ یقینا وہ لوگ جو اللہ کی مرضی کو اپنی مرضی بنا لیتے ہیںاور اپنی خواہشات نفسانی کو اللہ کی خواہش کے تابع کر لیتے ہیں وہ اولیائَ اللہ ہوتے ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کے بارے میں نیک گمان کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ کے ولی ہیں مگر اصل ولی کون ہے اس کا علم صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ہی ہے۔ طریقت کے مرشدوں کو عموماً یہ درجہ دے دیا جاتا ہے لیکن یہ خیال ان لوگوں کو نظر انداز کرتا ہے جو بطور مرشدِ طریقت کے نہیں جانے جاتے ۔ یہاں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ جو مرشدِ طریقت ہو وہ ہی ولی بن سکتا ہے، ا ور دیگر تمام لوگ رد کر دیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان مرشدوں کے مریدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو مرید ہونے کی وجہ سے الہام الٰہی میں سے حصہ ملنے کا بہت واضح امکان ہے اس لیے کہ وہ دوسروں کی نسبت روحانی طور پر بہت آگے ہیں ، حالانکہ بسا اوقات دوسروں کے مقابلے میں یہی لوگ شریعت کی خلاف ورزی اور ایمان اور اسلام سے زیادہ روگردانی کرتے ہیں۔  
 

ذات و صفات 

 
قرآن کریم فرقان حمیدکی آ یات میں ایک تیسرا رخ خود اللہ ربّ العزت کی ذات و صفات سے متعلق ہے۔ وہ خود کو جانتا ہے، ہم نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہمارا علم وہاں تک ہی ہے جو اس نے خود ہمیں اپنے متعلق بتا یا ہے۔ہماری سوچ سے اس کا کوئی تعلق نہیںہے۔یہاں ضروری ہے کہ ہم اس کی ذات اور صفات کے درمیان فرق کو سمجھ لیں۔ انہوں نے ہمیں جو کچھ بھی بتایا ہے وہ ان کی کچھ صفات پر محیط ہے۔ انہوں نے ہماری توجہ اپنی تخلیق میں موجود نشانیوں (آیات ) کی طرف کرائی ہے جو ہمارے گردا گرد پھیلی ہوئی ہیںاور یہی نشانیاں ان کی صفات کو سمجھنے میں ہماری مدد گار ہیں۔ ان کی تخلیق کردہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جس میں ان کی ذات کی کسی طرح سے بھی تشبیہ ہو۔ ہم جو زبان ان کی تخلیق کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ زبان ان کی ذات کے احاطہ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہم جتنے بھی استفہامیہ الفاظ جیسے کیا، کیسے ، کیوں ، کہاں ، کب وغیرہ وغیرہ اس کی تخلیق کے تجزیہ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں اس خالق کائنات اللہ تبارک و تعالیٰ علیُّ العظیم و کبیر الجلیل کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔
 
اب ہم واپس عقائد کی طرف لوٹتے ہیں، اس لیے کہ یہاں پہنچ کر کچھ مرشدوں یا علماء کی نظروں سے اسلام اور ایمان کا علم اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ لوگ قرآن مجید کے دیئے ہوئے علم سے کٹ جاتے ہیںاور گمراہی میں جا پڑ تے ہیں۔  وہ خالق اور مخلوق کے درمیان فرق کا ادراک نہیں کرسکتے۔  وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مخلوق خالق ہی کا ایک روپ ہے، یا اس کا اظہار ہے ، یا پھر یہ کہ خالق بذات خود مخلوق میں موجود ہے۔  (نوٹ: بقول شیخ محی الدین ابن العربی جو وحدت الوجود کے فلسفہ کے بانی ہیں)۔ یا پھر یہ کہ مخلوق کی حقیقت صرف فریبِ نظر کی ہے۔ (نوٹ:  بقول ہندو دیو مالا میں مذکور مایا  اسی نظریہ کی ترجمانی کرتا ہے)، یعنی ا یسا لگتا ہے لیکن اصل میںکچھ بھی نہیں ہے۔ مختصراً یہ کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وجود سے مراد صرف وجودِ ِباری تعالیٰ ہے۔ بے شک اللہ کا وجود ایک حقیقت ہے جو اپنی ذات میں صمد ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ البدیع ہے اور اس نے کائنات کو لا شئے سے پیدا کیا ہے اور اس کو اس کی حقیقت عطا کی ہے جو کہ اسی سے مشتق ہے اور ماخوذ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ خالق اور مخلوق کی موجودگی کا نظر یہِ تقابل ( یعنی ایک طرف اللہ یعنی خالق اور دوسری سمت مخلوق) نہ تو ایک دوسرے سے متصل ہیں اور نہ ہی متحارب۔ قرآن حکیم نے کس قدر جامع اختصار کے ساتھ دونوں کو الگ الگ واضح کردیا ہے۔ جب قرآن دعویٰ کرتا ہے کہ ” اس جیسا کوئی چیز نہیں اور کوئی چیز اس جیسی نہیں ہے۔( لَیْسَ کَمِثْلِہ شَئی )]سورة شعرائ:٤٢[ اور( لَمْ یَکُن لَّہ’ کُفُواً اَحَد )]سورة اخلاص:١١٢[۔ اور یہی وہ سچ اور سچا علم ہے جو قرآن حکیم عطا کرتا ہے۔ کوئی فلسفہ، کوئی تشریح، کوئی نظریہ یا کوئی خیال جو اس سیدھی سادی زبان میں کی گئی بات کو توڑے مروڑے تو وہ سوائے خدا کی شان میں بے ادبی اور کفر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
 

شیخ ابوبکر سراج الدین کی تصنیف میں حلول کا تصور  

 
مارٹِن لِنگس ( Martin Lings ) عرف شیخ ابوبکر سراج الدین ( شاذلیہ  درقویہ علٰویہ طریقت کے مریمیہ شاخ کے ایک صوفی شیخ ) نے یہ لکھ کر دنیا کو چونکا دیا کہ انسان اور دیگر مخلوقات کے درمیان یہ فرق ہے کہ دوسری مخلوقات اللہ کی صفات کی مظہر ہیں جب کہ انسان اللہ کی ذات کا مظہرہے جس میں اس کی تمام صفات شامل ہیں۔( بحوالہ : Splendours of Qur’an Calligraphy and Illumination. Thesaurus Islamicus Foundation, 2004 )۔  وہ اس نتیجہ پر اس نظریہ کے تحت پہنچے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی شکل پر پیدا کیا ہے۔  جو کہ سراسر یہود و نصاریٰ کے عقیدہ کا ایک نمونہ ہے۔ ہم نے ابھی اوپر دیکھا ہے کہ سچ یہ ہے کہ اللہ کی ذات کا مظہر نہ کوئی چیز ہے ، نہ کوئی چیز اس جیسی ہے اور نہ ہی اس کا عکس ہے۔
 
یہ بات بطور خاص دہرائی جارہی ہے کہ شریعت اور طریقت کی تقسیم خالصتاً من مانی ہے۔ شریعت اسلامی روایت کے ان تین درجات کی تفصیل دیتی ہے جو اسلام ، ایمان اور احسان  سے متعلق ہے۔ جب کہ طریقت ان ہی تین چیزوںکے اندر موجود جوہر کو اجاگر کرتی ہے، اور ان کو قابلِ عمل بناتی ہے۔ یعنی طریقت مسلمانوں کے اندر یقین کو بڑھاتی ہے۔ نہ طریقت شریعت سے پہلے وجود پاتی ہے اور نہ ہی طریقت شریعت کے بعد کی کوئی چیز ہے۔ قرآن کی اصطلاح شِرعة یعنی قانون، اور منہاج یعنی رستہ ، دونوں کی بہت موزوں تعریف پیش کرتاہے۔ اور اگر قرآن کریم کی اس تعریف کو اپنی زندگیوں میں داخل کر لیں تو طریقت سے متعلق بہت ساری لغویات سے نجات مل جائے گی۔
 
کسی بھی مرشد اور فاضل عالم کے لیے ا حسان کے دائرہ میں پہنچ جانے کے بعد جہاںشریعت ایک خصوصی لطف کا باعث ہو تی ہے تو وہیں طریقت اس درجہ میں آکر اس کو عین الیقین، حق الیقین اور معرفت کی تجلیوں سے منور کرتی ہے۔اور دونوں کے امتزاج سے ایک ایسا ہنر اس مرشد کے ہاتھ آجاتاہے جس کے ذریعہ وہ اسلام اور ایمان کی محافظت کے قابل ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس بات پر بضد رہیں کہ طریقت ایک بالکل الگ چیز ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلام کے بارے میں ایک جامع بصیرت عطا کرتی ہے۔ پھر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ بصیرت اس مرشد کو باہر کھینچ نکالے اور اس کو معاشرے کے ان تمام معاملات میں متحرک کردے جن میں اسلامی اصول و ضوابط کے لاگو ہونے کی ضرورت ہے۔ اس طرح معاشرہ کی بہتری اور اس کی خدمت کا عمل روپذیر ہوگا۔اسی چیز کو شیخ مصلح الدین سعدی السہروردی نے کس خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔
 
کسی بھی مرشد اور فاضل عالم کے لیے ا حسان کے دائرہ میں پہنچ جانے کے بعد جہاںشریعت ایک خصوصی لطف کا باعث ہو تی ہے تو وہیں طریقت اس درجہ میں آکر اس کو عین الیقین، حق الیقین اور معرفت کی تجلیوں سے منور کرتی ہے۔اور دونوں کے امتزاج سے ایک ایسا ہنر اس مرشد کے ہاتھ آجاتاہے جس کے ذریعہ وہ اسلام اور ایمان کی محافظت کے قابل ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس بات پر بضد رہیں کہ طریقت ایک بالکل الگ چیز ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلام کے بارے میں ایک جامع بصیرت عطا کرتی ہے۔ پھر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ بصیرت اس مرشد کو باہر کھینچ نکالے اور اس کو معاشرے کے ان تمام معاملات میں متحرک کردے جن میں اسلامی اصول و ضوابط کے لاگو ہونے کی ضرورت ہے۔ اس طرح معاشرہ کی بہتری اور اس کی خدمت کا عمل روپذیر ہوگا۔اسی چیز کو شیخ مصلح الدین سعدی السہروردی نے کس خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔
 
طریقت  بجز  خدمت  خلق  نیست 

بہ  تسبیح  و  سجادہ  و  دلق  نیست

 

 
یعنی طریقت صرف خلق خدا کی خدمت میں ہے ، نہ کہ تسبیح ، جائے نماز اور گدڑی میں ہے۔ شیخ سعدی یہاں یہ واضح کرنا چاہ رہے ہیں کہ طریقت کا ایک مرشد (شیخ) جو احسان کے درجہ کو پہنچ جائے وہ ایسی چھوٹی موٹی چیزوں سے بہت پرے جا پہنچتا ہے۔ اس کو اب ظاہری دنیاوی دکھاوے اور بناوٹی چیزوں سے نکل آنا چاہئے ، اس لیے کہ دنیائے اسلام کو اس کے خدمات کی ضرورت ہے۔ اس کو چاہئے کہ اپنے گرد لوگوں کا ایک حلقہ بنائے اور ان پر اپنی شفقتوں کا سایہ کیے رکھے اور نئے آنے والوں کو بھی اس حلقہ میں شامل کرتا رہے، اس لیے کہ اسلام کوئی پرائیویٹ کلب نہیں ہے۔  اور پھر شیخ کی ذاتی زندگی بالکل شفاف اور قابل اتباع ر ہنی چاہئے۔ اس کے گرد کوئی پراسراریت نہیں ہونی چاہئے۔  ایسے ہی شیخ کو حضور نبی کریم ۖ کی اس حدیث کا مصداق ہونا چاہئے جس کے تحت آپۖ نے فرمایا :” اللہ کی رحمتیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو ایک گروہ میں ہو کر رہتے ہیں۔ ” ( یدُ اللّٰہِ فوق الجماعة )۔ اسلامی معاشرت کا یہ اصولِ اوّل (first principle)ہے۔ اب شیخ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دورہ کرے اور دیکھے کہ کوئی اکیلا تو نہیں رہ گیا اور بغیر کسی گروہ میں شامل ہوئے زندگی گزار رہا ہے۔
 

اسلامی روایت بمقابلہ روایتی اسلام 

 
اگر شیخ صاحب اسلامی روایات کو قابل عمل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اوپر درج شدہ تمام باتیں درست ہیں۔ اس کے بر خلاف اگر وہ روایتی اسلام کو پراسرار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو سب کے کان کھڑے ہو جانے چاہئیں اور ان شیخ صاحب پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے۔ کیونکہ روایتی اسلام وہ ہیں جن کے تحت دنیا کے مختلف علاقوں کے مسلمان اسلام کو سمجھتے رہے ہیں اور مختلف ادوار میں اس کے مطابق زندگی گزارتے رہے ہیں۔ مثبت بات اس میں یہ ہے کہ کچھ سمجھدار اور صاحب فہم شیوخ نے کچھ ایسے عمل شامل کر لیے جو لوگوں کو شریعت کی طرف مائل رکھنے میں مددگار ثابت ہوںمگر ان کی حیثیت زائد از ضرورت عمل یعنی نوافل سے زیادہ نہیںرہی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ نو وارد مسلمانوں کو اپنے پرانے مذہبی روایات کو چھوڑ کر اسلامی روایات کو اپنانے میں سہولت ہو جائے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہ زائداز ضرورت چیزیں مسلمانوں کے اندر لازمی جزو کی حیثیت سے داخل ہو گئیں اور ان شیوخ کے گدی نشیں اُس سوچ کے حامل نہ تھے کہ مریدین کو اس سفر میں اُس مقام سے آگے لے کر جاتے، نتیجے کے طور پر ان لوگوں نے اُنہیں اس بھنور میں پھنسا ہوا چھوڑ دیااور بد قسمتی سے نو واردوں نے ان ہی زائد از ضرورت چیزوں کو اسلامی تعلیمات میں تبدیل کرلیا۔ اور لوگوں نے یہ گمان بھی کر لیا کہ ان کے شیخ بڑے بلند مرتبہ لوگ تھے اور ان کی تعلیمات سے انحراف کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ 
 
وقت کے ساتھ ساتھ یہ نئی چیزیں ان کی معاشرت میں داخل ہو گئیں اور اسلام کی تعلیمات اور سنت رسول ۖ کے ہم پلہ ہو گئیں، یعنی یہی ان کے لیے صراط المستقیم بن گئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کے معاملات میں مسلمانوں کے اندر اختلاف رائے پیدا ہوئیںمگر ان میں درست اور غلط کا فیصلہ کرنا انتہائی دشوار معاملہ تھا۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ ان تمام اختلافات کا تعلق بدعت کے مسائل سے تھا۔  پھر ان میں سے کچھ کو بدعتِ حسنہ یعنی اچھی بدعت قرار دے کر برقرار رکھا گیا اور کچھ کو بدعت سئیہ یعنی بری بدعت قرار دیا گیا جو نا قابل قبول تھیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان تمام بدعات کو پرکھنے کا کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا، اس میں بھی تو کوئی شک نہیں کہ آخر بدعت حسنہ بھی تو ایک نئی چیز تھی جو دین میں داخل کر لی گئی۔ اگر اس کی کسی وجہ سے ضرورت تھی تو ایک خاص مدت اور مصلحت کے تحت اس کی اجازت ہو نی چاہئے تھی۔ اگر اس کو ایک مستقل حیثیت دے دی گئی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ایک مکمل دین نہیں تھا اور اس میں اس نئے عمل کی احتیاج باقی رہ گئی تھی۔ اس لیے بدعت حسنہ کے تمام مخالف حضور رسالت مآب ۖ کے اس انتباہ کی روشنی میںاپنی مخالفت میں درست تھے کہ تمام بدعت ضلالت کی طرف لے جاتی ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی اس نظریہ کے زبردست حامی تھے، اور پھر سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہ بھی یہ فرما چکے تھے کہ جب کوئی بدعت ہماری زندگی میں داخل ہوتی ہے ، تو ایک سنت رسول ۖ ہمارے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ ( نوٹ: مجدد الف ثانی یا دوسرے ہزار سال کا مصلح،  کی اصطلاح شیخ احمد سرہندی کے لیے استعمال ہوئی۔ ابو دائود کی ایک حدیث مبارک کے تحت اللہ ہر سو سال کے اوپر ایک مصلح پیدا کرے گا جو اسلام کا احیاء کرے گا ۔ اپنے دور میں شیخ صاحب کو اسلام کے بچائو کے لیے تین اطراف میں جنگ کرنی پڑی۔ اکبر کے دور میںدین الٰہی کا جھوٹا گمراہ کن جھگڑا جو اس کے غیر اسلامی رتنوں کا شوشہ تھا، پھر جہانگیر کے دور میں شیعہ حضرات کا پھیلائے ہوئے زہر کے خلاف، اور آخر میں وحدت الوجود کے فلسفہ کے خلاف جو اس بات کا داعی تھا کہ اللہ کائنات کی ہر چیز میں بہ نفسہ موجود ہے۔ )  
 
اسلام کو اس کے صراط مستقیم سے ہٹانے کی مہم مسلسل جاری تھی اور دوسرے مذاہب اور کلچر سے خیالات اور تصورات کو مستقلاً اسلامی نظریات میں ملایا جارہا تھا۔ یہ کارروائی ان لوگوں کی جانب سے ہو رہی تھی جو منحرف مسلمان تھے یا پھر وہ جنہوں نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔ ان تمام تصورات اور تعلیمات میں سب سے زیادہ نقصان دہ وہ فلسفہ تھا جس کی رو سے یہ کہا جا رہا تھا کہ دنیا کے تمام مذاہب ایک ہی ہیں اور سب کو تسلیم کیا جا سکتا ہے۔  وحدت الوجود کے ماننے والے ایک صوفی شاعر نے اس بات کویوں بیان کیا کہ 
 
سب یار کا جلوہ ہے

کعبہ ہو یا بت خانہ 

 

[[ جاری ہے ]]

قسط نمبر ٢  کا مطالعہ کیجئے قسط نمبر ٣   کا مطالعہ کیجئے

جناب محمد عالمگیر صاحب ١٩٤٢ء میں کولکتہ میں پیدا ہوئے ۔تقسیم کے بعد کراچی میں رہائش پذیر ہوئے۔ تعلیم کی تکمیل آپ نے کراچی سے ہی کی۔ ساٹھ کی دہائی میں کراچی کی ایک مشہور درسگاہ علیمیہ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز میں زیر تعلیم رہے اور اپنے وقت کے مشہور عالم ڈاکٹر محمد فضل الرحمٰن انصاری اور ”منہاج القرآن” کے مصنف ڈاکٹر برہان الدین احمد فاروقی کے زیر تربیت رہے اور ان سے کسب فیض کیا۔ محمد عالمگیر صاحب ١٩٧٤ء میں بغرض ملازمت آسٹریلیا روانہ ہوئے اور آج بھی سڈنی میں ہی مقیم ہیں۔ محمد عالمگیر صاحب علیمیہ انسٹیٹیوٹ میں شیخ عمران نذر حسین صاحب کے ہم مکتب رہے ہیں۔ آج وہ ملازمت سے ریٹائر ہوکر اپنا بیشتر وقت اپنے ہم جماعت اور دیرینہ دوست شیخ عمران نذر حسین صاحب کے کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ ان کی تمام تحقیقات اور تحریروں میں ان کی معاونت کرتے ہیں۔ ان کے بیرونی ممالک کے دوروں اور وہاں کے لکچروں کو پروگرام کرتے ہیں اور ان کا بندوبست کرتے ہیں۔
تصوف ایک ہَمہ جہت پہلوئوں کا حامل موضوع ہے ۔ اس کے کئی چہرے اور کئی رنگ ہیں ۔ اس پر بحث و تحقیق کرنے والے خواہ تائید میں ہوں یا تردید میں اس حقیقت کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ اس موضوع پر توازن اور اعتدال کے ساتھ خامہ فرسائی نہایت ضروری ہے ۔ محمد عالمگیر صاحب نے اس موضوع پر اعتدال کے ساتھ اپنے قلم کو اٹھانے کی سعی کی ہے ۔ اس سے اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے اور اختلاف بھی تاہم اگر کوئی صاحبِ علم اس موضوع پر دلائل کی رُو سے اپنے خیالات پیش کرنا چاہیں تو ” الواقعة ” کے صفحات اس کے لیے حاضر ہیں ۔ ( ادارہ )
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے دوسرے شمارہ، – رجب المرجب 1433ھ / مئی، جون 2012 – سے  قسط وار شائع ہو رہا ہے۔