المیے اور پستیاں درس آگہی (اداریہ)


ذیقعد و ذی الحجہ 1434ھ/ ستمبر اور اکتوبر 2013، شمارہ  18

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی۔ المیے اور پستیاں۔ اداریہ
محمد تنزیل الصدیقی الحسینی۔ المیے اور پستیاں۔ اداریہ

کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

زوالِ نعمت کے اسباب


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/مئی، جون 2013

زوالِ نعمت کے اسباب

شیخ الاسلام حافظ ابن القیم الجوزیة رحمہ اللہ کی مایہ ناز تصنیف “ تفسیر المعوذتین “ سے ماخوذ

ترجمہ  :  مولانا عبد الرحیم پشاوری

معاصی اور سیئات کے ارتکاب میں اگر چہ بظاہر لذت محسوس ہوتی ہے اور اس سے نفس کو فوری خوشی حاصل ہوتی ہے لیکن اس کی مثال ایک لذیذ کھانے کی ہے جس میں زہر ملایا گیا ہو ۔ بظاہر وہ نہایت مرغوب ہوتا ہے ، مگر اس کا انجام کھانے والے کی ہلاکت ہے ذنوب اور معاصی بھی اسی لذیذ مگر مسموم کھانے کی طرح عقوبت اور عذاب کے موجب ہیں اور وہ گناہ اور عذاب میں سبب اور مسبب کا تعلق ہے اگر بالفرض شریعت مطہرہ نے آدمی کو اس کی عقوبت اور انجام بد سے آگاہ نہ کیاہوتا تو تب بھی ایک صاحب بصیرت انسان ، تجربہ کے ذریعے سے اور واقعات عالم سے استدلال کر کے اسی نتیجہ پر پہنچتا ۔کیوں کہ جب کبھی بھی کسی سے کوئی نعمت زائل ہوتی ہے اس کا
سبب یقینا اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی ہو گا۔ ارشاد الہٰی ہے کہ 

( اَنَّ

اﷲَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقُوْمٍ حَتّٰی یَغَیُّروَا مَا بِاَنْفُسِھِمْ ط وَ اِذَ 

اَرَادَاﷲُ بَقَوْمٍ سُوْئً فَلَا مَرَدَّلَہ وَ مَالَہمْ مِّنْ دُوْنِہ مِنْ 

وَّالٍ )

 “ 

بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی اچھی حالت کو بری حالت سے تبدیل نہیں فرماتا جب تک 

وہ خود اپنے اعمال میں تبدیلی پیدا نہ کرلیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب 

نازل فرمانا چاہتا ہے تو پھر کوئی بھی اس کو ٹال نہیں سکتا اور نہ سوائے اس کے 

کوئی اور ان کے لیے کارساز ہو سکتا ہے ۔” کو پڑھنا جاری رکھیں

ایک خط، شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کا ایک پُر از معارف مکتوب بنام شاہ محمد سلیمان پھلواروی رحمة اللہ علیہ


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

ایک خط

شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ

 کا ایک پُر از معارف مکتوب بنام شاہ محمد سلیمان پھلواروی رحمة اللہ علیہ

3 Aik Khat pdf download link

شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ ( 1220ھ – 1320ھ ) اپنے عہد کے جلیل القدر و رفیع المرتبت عالم و بزرگ تھے ۔ ان کے فیض علمی نے ایک جہاں کو مستفید کیا ۔ اپنے تلمیذِ رشید شاہ محمد سلیمان پھلواروی ( 1276ھ – 1354ھ ) کے نام ان کا یہ مکتوب گرامی معارف و حقائق سے پُر ہے ۔ اس مکتوب کی کئی بار طباعت ہوچکی ہے ۔  ہفت روزہ ” اہلِ حدیث ” ( امرتسر ) ، ” مکاتیب نذیریہ ”، نقوش ( لاہور ) ” مکاتیب نمبر ” اور ماہنامہ ” مہر نیمروز ” ( کراچی ) میں یہ پُر از معارف مکتوب شائع ہوچکا ہے ۔ تاہم مولانا حسن مثنی ندوی ( 1331ھ –  1418ھ ) نے اپنے ماہنامہ ” مہر نیمروز ” کی فروری 1956ء کی اشاعت میں ایک مختصر نوٹ اور ترجمے کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ چنانچہ ذیل میں یہ مکتوب ” مہر نیمروز ” ہی سے شائع کیا جا رہا ہے ۔ ” مہر نیمروز ” میں آیات کے تراجم حاشیے میں تھے تاہم یہاں اسے متن میں بین القوسین کردیا گیا ہے ۔ ( ادارہ الواقعۃ)

تاریخ و ادب میں خطوط کی بڑی اہمیت ہے ،

جس کو لکھا گیا ہو، دونوں تاریخ کی اہم شخصیتیں رہی ہوں تو وہ اور زیادہ گراں قیمت ہو جاتا ہے ۔ یہ خط برعظیم کے مشہور و معروف بزرگ حضرت میاں صاحب مولانا سیّد نذیر حسین محدث کا ہے ۔ 1857ء کی تباہی کے بعد جو چند نادر الوجود عظیم المرتبت شخصیتیں مرکزِ علوم و فنون کی حیثیت سے باقی رہ گئی تھیں ان میں ایک میاں صاحب بھی تھے ۔ 1857ء کا ہنگامہ ختم ہونے کے بعد انگریزوں نے بچے کھچے علماء و زعماء پر کئی مقدمات بغاوت چلائے تھے، پھر ان کو پھانسیاں دیں یا عبور دریائے شور کی سزا دی، تو میاں صاحب بھی ماخوذ ہوئے اور ان پر مقدمہ چلا کوئی جرم تو ثابت نہ ہو سکا لیکن سال بھر تک راولپنڈی جیل خانے میں انہوں نے بھی سزائے قید کاٹی اور رہائی کے بعد ساری عمر اجڑی ہوئی دلی میں اپنی مسندِ علم بچھائے بیٹھے رہے اور ایک عالم کو فیض پہنچاتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ برعظیم کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں کچھ شاگرد میاں صاحب کے موجود نہ رہے ہوں۔ اصل وطن ان کا چوارہ ضلع مونگیر ( بہار ) تھا لیکن ایک مدت سے دلی میں رہ پڑے تھے آخر تک وہیں رہے اور وہیں پیوندِ خاک ہوئے۔ یہ خط حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواروی کے نام ہے۔ شاہ صاحب ان کے شاگرد تھے اور اپنے عہد کے مشہور و معروف عالم و خطیب، اسلامی ہند کے مقتدر رہنما اور مصلح۔ کو پڑھنا جاری رکھیں