ہڑتال


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/ مئی، جون 2013
ہڑتال

 

دل کیگہرائیوں میں اتر جانے والی ایک گداز تحریر

محمدتنزیل الصدیقی الحسینی

"ارے سنتے ہو ! منے کی دوا کب لاؤ گے؟” اس نے ذرا تیز لہجے میں اپنے شوہر سے کہا ، جو خلاؤں کو گھور رہا تھا۔
"ہاں ہاں لے آؤں گا۔آج تو دہاڑی لگ ہی جائے گی، آج ضرور لے آؤں گا۔” اس نے پُر عزم لہجے سے کہا اور یہ کہہ کر اپنے کپڑے جھاڑ کر کھڑا ہو گیا اور گھر سے نکلنے کے لیے تیار ۔
"ارے اتنی جلدی بھی نہیں ہے، ناشتہ تو کرتے جاؤ۔”
اس نے زیرِ لب تلخ لہجے میں کہا : "ناشتہ” اور چل دیا۔ وہ جانتا تھا کہ ناشتہ کیا ہوگا ایک آدھی روٹی اور پانی کا سالن۔ کو پڑھنا جاری رکھیں
Advertisements