علامہ عبد اللہ یوسف علی


الواقعۃ شمارہ : 64-65، رمضان المبارک و شوال المکرم 1438ھ

از قلم : اے، ایف، ایم خالد حسین

بنگلہ سے انگریزی ترجمہ : محمد عالمگیر

انگریزی سے اردو ترجمہ : ابو عمار سلیم

علامہ عبد اللہ یوسف علی موجودہ دور کے مسلم ممالک کے علماء میں قرآن مجید فرقان حمید کے عالمانہ انگریزی ترجمہ اور اس کی دانشمندانہ تفسیر کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ عالم اسلام کے لاکھوں مسلمانوں نے ان کی انگریزی زبان پر غیر معمولی مہارت، مرقع و مسجع جملوں کی بناوٹ، سائنسی اور عقلی معیار پر پورا اترنے والے تجزیے، پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

مسئلہ فلسطین کی نظریاتی بنیادیں


شوال 1434ھ/ اگست 2013، شمارہ  17

مسئلہ فلسطین کی نظریاتی بنیادیں

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟


مجلہ "الواقعۃ” شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

اللہ کے دھتکارے ہوئے اور خلق کے راندھے ہوئے یہودی کا تاریخی اور نفسیاتی پس منظر.

اللہ کا دھتکارا ہوا یہودی آج اللہ کے نام لیواؤں کو دھتکار رہا ہے…کیوں؟ اسے یہ قوت کس نے دی؟

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟ قسط 1

"حکایت” ڈائجسٹ لاہور کا شمار ملک کے مؤقر رسائل و جرائد میں ہوتا ہے۔ ذیل کا قیمتی مضمون "حکایت” (لاہور) ستمبر ١٩٨٢ء میں طباعت پذیر ہوا ۔
اس کے مضمون نگار  "حکایت” کے بانی و مدیر جناب عنایت اللہ ( ١٩٢٠ء – ١٩٩٩ء ) ہیں ۔ ان کا تعلق پاکستان آرمی سے تھا۔ ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے خود کو ہمہ وقت علم و ادب سے منسلک کرلیا ۔
انہوں نے اپنے قلم کی طاقت سے ایک با شعور ادب تخلیق کیا ۔ ان کے متعدد ناول طباعت پذیر ہوئے اور قارئین نے انہیں بے حد سراہا ۔ ان کے یادگار ناولوں میں "داستان ایمان فروشوں کی”، "اور ایک بت شکن پیدا ہوا”، "
شمشیر بے نیام”، "دمشق کے قید خانے میں”، "اور نیل بہتارہا”، "حجاز کی آندھی”، "فردوس ابلیس”، "طاہرہ” وغیرہا شامل ہیں۔ ذیل کا مضمون بھی ان کی اعلیٰ ادبی صلاحیتوں کا مظہر ہے ۔ گو اس عرصے میں گردش لیل و نہار کی کتنی ہی ساعتیں گزر گئیں ۔ مگر اس مضمون کی افادیت آج بھی برقرار ہے ۔ اسی وجہ سے "حکایت” کے شکریے کے ساتھ یہ مضمون قارئینِ "الواقعة” کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔
تاہم قارئین دوران مطالعہ پیش نظر رکھیں کہ یہ مضمون ١٩٨٢ء کا تحریر کردہ ہے۔ (ادارہ  الواقعۃ)

 
جون ١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل کی جنگ  (Arab Israel War June 1967) میں اسرائیلیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تو ان کے مذہبی پیشواؤں اور سیاسی لیڈروں نے کہا تھا کہ ہم (یہودی ) دو ہزار سال بعد اپنے گھر واپس آگئے ہیں ۔ اسی جنگ میں انہوں نے اسرائیل کے ارد گرد عربوں کے بیشمار علاقے پر قبضہ کرلیا تھا ۔ مسلمان ممالک کی افواج نے اتحاد کے فقدان کی وجہ سے اسرائیلیوں سے بہت بری شکست کھائی ۔ اس کے بعد اقوام متحدہ  (united nations)میں تقریروں ، قراردادوں اور مذاکرات کا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جو چل تو پڑتا ہے مگر کسی انجام کو نہیں پہنچتا ۔
 
اسرائیلیوں نے اقوام متحدہ کی کسی ایک بھی تقریر اور ایک بھی قرارداد کی پروا نہ کی ۔ انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں اپنی نئی بستیاں آباد
کرنی شروع کردیں ۔ شام کی جنگی اہمیت کے کوہستانی علاقے گولان کی بلندیوں پر بھی اسرائیلیوں نے ١٩٦٧ء کی چھ روزہ جنگ میں قبضہ کر لیا تھا ۔ وہاں انہوں نے پختہ اور مستقل مورچہ بندی قائم کرلی ۔ اسرائیلیوں کے اس روّیے اور اقدامات سے صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ مقبوضہ علاقے نہیں چھوڑیں گے ۔ پڑھنا جاری رکھیں