Das Kapital


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 11، ربیع الثانی 1433ھ/ فروری، مارچ 2013

 ایم ابراہیم خاں

12 Das Kapital pdf

جن کتابوں نے تاریخ کے دھارے کا رخ موڑنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے ان میں Das Kapital بھی نمایاں ہے۔ کارل مارکس نے جرمن میں Das Kapital لکھی تو معیشت اور سیاست سے متعلق علمی حلقوں میں تہلکہ مچ گیا۔ اور جب اس کا ترجمہ انگریزی اور دیگر زبانوں میں کیا گیا تو گویا انقلاب برپا ہوگیا۔ 1867 میں شائع ہونے والی اس کتاب میں سرمایہ دارانہ نظام کا ناقدانہ جائزہ لیا گیا ہے۔ مارکس کی زندگی میں اس کتاب کی پہلی جلد شائع ہوئی تھی۔ دوسری اور تیسری جلد کا مواد تیار تھا۔ مارکس کے دوست فریڈرک اینجلز نے 1885 اور  1894میں دوسری اور تیسری جلد شائع کی۔ چوتھی جلد کارل کوٹسکی نے 1905-1910 میں شائع کی۔ کارل مارکس نے اس بات کو تصریحا بیان کیا ہے کہ کس طور سرمایہ دارانہ نظام میں معاشی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں اور کس طرح اہل سرمایہ معاشرے کے دیگر تمام طبقات کا استحصال کرتے ہیں۔
داس کیپٹال کا بنیادی تصور کو پڑھنا جاری رکھیں

سوچیے ضرور، مگر سوچے بغیر


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

ایم ابراہیم خاں

!سوچیے ضرور، مگر سوچے بغیر 

میلکم  گلیڈویل کی مشہور زمانہ کتاب Blink کا تجزیہ جس میں اس نظریے کو تفصیل سے پیش کیا گیا ہے کہ سوچنے اور فیصلہ کرنے کے لیے بہت زیادہ سوچنا نہ صرف یہ کہ ضروری نہیں بلکہ بسا اوقات نقصان دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔

 
میلکم گلیڈویل نے 2005 میں معرکہ آرا کتاب ”بلنک” لکھی جس نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس کتاب میں گلیڈویل نے یہ تصور پیش کیا ہے کہ کسی بھی معاملے میں ذہن پر زیادہ زور دیے بغیر بھی نتیجہ خیز فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ ذہن میں یہ فطری صلاحیت ہوتی ہے کہ کسی بھی معاملے میں آزاد چھوڑے جانے پر وہ تیزی سے کسی بہتر نتیجے تک پہنچ
سکتا ہے اور اس صورت میں جو بھی فیصلے ہوتے ہیں وہ بھی انتہائی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں