تقسیم سے قبل برصغیر میں مذہبی انتشار: قادیانیت کے تناظر میں


الواقعۃ شمارہ : 90 – 91، ذیقعد و ذی الحجہ 1440ھ

از قلم : عبید الرحمن عبید، گجرانوالہ

اٹھارہویں صدی کے نصف دوم اور انیسویں صدی کے نصف اول میں جب برصغیر میں اسلامی اقتدار رو بہ زوال ہوا تو مغربی طاقتوں نے اس زرخیز خطہ ارض میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ چنانچہ وہ تجارت، مشنریت، سفارت اور سیاحت کا پیراہن زیبِ تن کر کے آئے اور رفتہ رفتہ مسندِ اقتدار پر قابض ہو گئے۔ ان کی آمد نے نہ صرف یہاں کی سیاسی آب و ہوا میں تغیر پیدا کیا بلکہ یہاں کی مذہبی فضا بھی اس سے مکدر ہوئے۔ اپنے اقتدار کو بڑھانے کے لیے انھوں نے یہاں کی عوام کو کبھی مذہب کے نام پر، کبھی ملت اور کبھی زر و زمین کے نام پر آپس میں لڑوایا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ارض پاک و ہند میں اصحاب رسول ﷺ کی آمد


الواقعۃ شمارہ : 88 – 89، رمضان المبارک و شوال المکرم 1440ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ارضِ پاک و ہند میں رسول اللہ ﷺ کی دعوتِ اسلام و توحید کا چرچا خود عہد رسالت ہی میں ہو چکا تھا۔ تاہم پہلے پہل اصحابِ رسول ہی کے مبارک قدموں سے یہاں اسلام کی فاتحانہ آمد ہوئی۔ اصحابِ رسول کی یہاں فاتحانہ آمد کا آغاز رسول اللہ ﷺ کی وفات سے صرف 4 سال بعد 15ھ میں بعہدِ فاروقی ہوا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

دجال کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے ؟


الواقعۃ شمارہ: 82 – 85، ربیع الاول تا جمادی الثانی 1440ھ

اشاعت خاص : فتنہ دجالیت

از قلم : محمد شاہ رخ خان – کراچی

دجال کا موضوع ان موضوعات میں سے جس کے مختلف پہلوؤں پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، بعض حضرات نے تو دجال کو ایک نظام قرار دے دیا بعض نے میڈیا کو دجال قرار دیا، بعض نے امریکہ کو دجال قرار دیا اور بعض نے دجال کو تین مختلف اشخاص قرار دیا، لیکن یہ تمام آراء قرآن و حدیث اور سلف کے فہم کے خلاف ہیں، قرآن و سنت سے مستفاد جس نظریئے پر اسلافِ امت اور مستند علماء کرام ہر دور میں رہے ہیں وہ یہی ہے کہ کو پڑھنا جاری رکھیں

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ


الواقعۃ شمارہ : 76 – 77 رمضان المبارک و شوال المکرم 1439ھ

اشاعت خاص : سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا سید اسماعیل مشہدی

آج ہم خلفائے راشدین المہدیین میں سے خلیفہ چہارم امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی سیرتِ مقدس پر لکھنے بیٹھے ہیں جس طرح ہم نے اصحابِ ثلاثہ سے متعلق مقالات لکھ کر ان لوگوں کے شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی تھی، جو ان حضرات اصحابِ ثلاثہ پر کسی نہ کسی سبب سے بدظن اور بدگو ہیں، اسی طرح اس مقالے میں امیر المومنین حضرت علی کی عظیم الشان ہستی کو پڑھنا جاری رکھیں

آئیے ! خاتمہ خیر کا نوحہ پڑھ لیں – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 61-62، جمادی الثانی و رجب المرجب 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ابھی کل کی بات تھی کہ ہمارے قلم نے حلب کی سر زمین پر آتش باری کا نوحہ لکھا تھا اور آج ادلب کی سوگوار فضا کا المیہ در پیش ہے۔ ارباب آئین و ریاست ہوں یا اصحاب منبر و محراب یا پھر ہنر مندانِ قلم و قرطاس کسی کے پاس فرصت نہیں کہ دم توڑتی لاشوں اور خوف و ہراس کی سراسیمہ فضاؤں پر ایک حرف تعزیت ہی ادا کریں۔ نغمہ شادی کے متوالوں کے پاس نوحہ غم کی فرصت کہاں ؟ کو پڑھنا جاری رکھیں

یک نظر بر فتوحات عہد عثمانی


الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت کاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا عبد الرحیم اظہر ڈیروی

اسم و نسب
عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف قریشی اموی ہیں۔ ان کا نسب اور رسول اللہ ﷺ کا نسب عبد مناف میں مل جاتا ہے۔ ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی اور بعض لوگوں نے ابو عمرو بیان کی ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے ان کی کنیت ابو عمرو تھی ، پھر ان کی کنیت ابو عبد اللہ ہو گئی جن کی والدہ رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ تھیں۔ عثمان بن عفان کی والدہ ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس جو عبد اللہ بن عامر کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور ارویٰ کی والدہ بیضاء بنت عبد المطلب تھیں جو رسول کریم ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ ذو النورین آپ کا لقب تھا۔ ( اسد الغابہ از الشیخ مؤرخ عز الدین بن الاثیر ابی الحسن علی بن محمد الجزری)
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ولادت سے متعلق علامہ الشیخ سیّد الشبلنجی المدعو بمؤمن لکھتے ہیں :- کو پڑھنا جاری رکھیں

فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اور موجودہ مسلمان


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

درس آگہی

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

کو پڑھنا جاری رکھیں