ایمان اور اطاعت


الواقعۃ شمارہ 50 ، رجب المرجب 1437ھ

از قلم : مولانا ابو الاعلیٰ مودودی

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی یہ نادر تحریر مولانا محمد جوناگڑھی کے "اخبارِ محمدی” دہلی کی 15 دسمبر 1942ء کی اشاعت میں طباعت پذیر ہوئی تھی۔ اس قیمتی مضمون میں مسلمانوں کو جس بھولے ہوئے سبق کی یاد دہانی کرائی گئی تھی اس کی ضرورت اِس دور میں اُس دور کی بہ نسبت کہیں شدید ہے، افادہ عام کی غرض سے اس کی طباعت نو کی جا رہی ہے۔ ( ادارہ )

*-*-*-*-*

اجتماع خواہ وہ کسی نوعیت کا ہو اور کسی غرض و غایت کے لیے ہو اپنے قیام و استحکام اور اپنی کامیابی کے لیے دو چیزوں کا ہمیشہ محتاج ہوتا ہے ۔ ایک یہ کہ جن اصولوں پر کسی جماعت کی تنظیم کی گئی ہو وہ اس پوری جماعت اور اس کے ہر ہر فرد کے دل و دماغ میں خوب بیٹھے ہوئے ہوں اور جماعت کا ہر فرد ان کو ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتا ہو ۔ دوسرے یہ کہ جماعت میں سمع و طاعت کا مادہ موجود ہو ۔ یعنی اس نے جس کسی کو اپنا صاحب امر تسلیم کیا ہو اس کے احکام کی پوری طرح اطاعت کرے۔ اس کے مقرر کیے ہوئے ضوابط کی سختی کے ساتھ پابندی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز نہ کرے۔ یہ ہر نظام کی کامیابی کے لیے نا گزیر شرطیں ہیں ۔ کوئی نظام خواہ وہ نظام عسکری ہو یا نظام سیاسی یا نظام عمرانی یا نطام دینی، ان دونوں شرطوں کے بغیر نہ قائم ہو سکتا ہے نہ باقی رہ سکتا ہے اور نہ اپنے مقصد کو پہنچ سکتا ہے۔

دنیا کی پوری تاریخ اٹھا کر دیکھ جائیے آپ کو ایک مثال بھی ایسی نہیں ملے گی کہ کوئی تحریک منافق، نا فرمان اور غیر مطیع پیرووں کے ساتھ کامیاب ہوئی ہو یا بدرجہ اخر چل سکی ہو ۔ تاریخ کے صفحات میں بھی جانے کی ضرورت نہیں خود اپنے گرد و پیش کی دنیا ہی پر ایک نظر ڈال لیجیے آپ اس فوج کے متعلق کیا رائے قائم کریں گے جو اپنی سلطنت کی وفادار اور اپنے سالارِ لشکر کی مطیعِ فرمان نہ رہے۔ جس کے سپاہی فوجی ضوابط کی پابندی سے انکار کریں۔ پریڈ کا بگل بجے تو کوئی سپاہی اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ کمانڈر کوئی حکم دے تو فوجی سُنی ان سُنی کر جائیں ؟ کیا آپ آپ سپاہیوں کے ایسے انبوہ کو "فوج” کہہ سکتے ہیں ؟ کیا آپ امید کر سکتے ہیں کہ ایسی بن سری فوج کسی جنگ میں کامیاب ہوگی ؟ آپ اس سلطنت کے متعلق کیا کہتے ہیں جس کی رعایا میں قانون کا احترام باقی نہ رہے۔ جس کے قوانین علی الاطلاق توڑے جائیں۔ جس کے محکموں میں کسی قسم کا ضبط و نظم باقی نہ رہے جس کے کارکن اپنے مقتدر اعلیٰ کے احکام بجا لانا چھوڑ دیں ؟ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایسی رعایا اور ایسے عمّال کے ساتھ کوئی سلطنت دنیا میں قائم رہ سکتی ہے ؟ آج آپ کی آنکھوں کے سامنے جرمنی اور اٹلی کی مثالیں موجود ہیں۔ ہٹلر اور مسولینی نے جو عظیم الشان طاقت حاصل کی ہے تمام دنیا اس کی معترف ہے مگر کچھ معلوم بھی ہے کہ اس کامیابی کے اسباب کیا ہیں ؟ وہی دو یعنی ایمان اور اطاعت امر ، نازی اور فاشسٹ جماعتیں ہرگز اتنی طاقت ور اور اتنی کامیاب نہ ہو سکتی تھیں اگر وہ اپنے اصولوں پر اتنا پختہ اعتقاد نہ رکھتیں اگر وہ اپنے لیڈروں کی اس قدر سختی کے ساتھ مطیع نہ ہوتیں۔

یہ قاعدہ کلیہ ایسا ہے جس میں کوئی استثنا نہیں۔ ایمان اور اطاعت دراصل نظم کی جان ہیں۔ ایمان جتنا راسخ ہوگا اور اطاعت جتنی کامل ہوگی نظم اتنا ہی مضبوط اور طاقت ور ہوگا۔ اور اپنے مقاصد تک پہنچنے میں اتنا ہی زیادہ کامیاب ہوگا۔ بخلاف اس کے ایمان میں جتنا ضعف اور اطاعت سے جتنا انحراف ہوگا اسی قدر نظم کمزور ہوگا اور اسی نسبت سے وہ اپنے مقاصد تک پہنچنے میں ناکام رہے گا۔ یہ قطعاً نا ممکن ہے کہ کسی جماعت میں نفاق، بد عقیدگی ، انتشارِ خیال ، کود سری ، نا فرمانی اور بے ضابطگی کے امراض پھیل جائیں اور پھر بھی اس میں نظم باقی رہے۔ اور وہ کسی شعبہ حیات میں ترقی کی طرف روان نظر آئے۔ یہ دونوں حالتیں ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ دنیا جب سے آباد ہوئی ہے اس وقت سے آج تک ان دونوں کا کبھی اجتماع نہیں ہوا۔ اور اگر قانونِ فطرت اٹل ہے تو اس قانون کی یہ دفعہ بھی اٹل ہے کہ یہ دونوں حالتیں کبھی یکجا نہیں ہو سکتیں۔

اب ذرا اس قوم کی حالت پر نظر ڈالیے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے ۔ نفاق اور بد عقیدگی کی کونسی قسم ایسی ہے جس کا انسان تصور کر سکتا ہو اور وہ مسلمانوں میں موجود نہ ہو۔ اسلامی جماعت کے نطام میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات تک سے نا واقف ہیں اور اب تک جاہلیت کے عقائد پر جمے ہوئے ہیں، وہ بھی ہیں جو اسلام کے اساسی اصولوں میں شک رکھتے ہیں اور شک کی علانیہ تبلیغ کرتے ہیں ، وہ بھی ہیں جو علی الاعلان انکار کرتے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو اسلامی عقائد اور شعائر کا  کھلم کھلا مذاق اراتے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو علانیہ مذہب اور مزہبیت سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو خدا اور رسول کے قانون پر جاہلیت کی رسوم ، کفار کے قوانین کو مقدم رکھتے ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو خدا اور رسول کے دشمنوں کو خوش کرنے کے لیے شعائرِ اسلامی کی توہین کرتے ہیں ، وہ بھی ہیں جو اپنے چھوٹے سے چھوٹے فائدہ کی خاطر اسلام کے مصالح کو بڑے سے بڑا نقصان پہنچانے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ جو اسلام کے مقابلہ میں کفر کا ساتھ دیتے ہیں۔ اور اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ اسلام ان کو اتنا بھی عزیز نہیں کہ اس کی خاطر وہ ایک بال برابر بھی نقصان گوارا کر سکیں۔ راسخ الایمان اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کی ایک نہایت ہی قلیل جماعت کو چھوڑ کر اس قوم کی بہت بڑی اکثریت اسی قسم کے منافق اور فاسد العقیدہ لوگوں پر مشتمل ہے۔

یہ تو تھا ایمان کا حال۔ اب سمع و طاعت کا حال دیکھیے۔ آپ مسلمانوں کی کسی بستی میں چلے جائیے آپ کو عجب نقشہ نظر آئے گا۔ اذان ہوتی ہے مگر بہت سے مسلمان یہ بھی محسوس نہیں کرتے کہ مؤذن کس کو بلا رہا ہے۔ اور کس چیز کے لیے بلا رہا ہے۔ نماز کا وقت آتا ہے اور گذر جاتا ہے مگر ایک قلیل جماعت کے سوا کوئی مسلمان اپنے کاروبار لہو و لعب کو یادِ خدا کے لیے نہیں چھوڑتا ۔ رمضان کا زمانہ آتا ہے تو بعض مسلمانوں کے گھروں میں یہ محسوس تک نہیں ہوتا کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے۔ بہت سے مسلمان علانیہ کھاتے پیتے ہیں اور اپنے روزہ نہ رکھنے پر ذرہ برابر نہیں شرماتے بلکہ بس چلتا ہے تو روزہ رکھنے والوں کو شرم دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر جو لوگ روزہ رکھتے بھی ہیں ان میں بھی بہت کم ہیں جو احساس فرض کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ورنہ کوئی شخص رسم ادا کرتا ہے۔ کوئی صحت کے لیے مفید سمجھ کر رکھ لیتا ہے اور کوئی روزہ رکھ کر وہ سب کچھ کرتا ہے جس سے خدا اور رسول ﷺ نے منع کیا ہے۔ زکوٰۃ اور حج کی پابندی اس سے بھی کم تر ہے۔ حلال اور حرام ، پاک اور ناپاک کا امتیاز تو مسلمانوں میں سے اٹھتا ہی چلا جاتا ہے وہ کونسی چیز ہے جس کو خدا اور رسول نے منع کیا ہو اور مسلمان اس کو اپنے لیے مباح نہ کر لیتے ہوں ۔ وہ کونسی حد ہے جو خدا اور رسول نے مقرر کی ہو اور مسلمان اس سے تجاوز نہ کرتے ہوں۔ وہ کونسا ضابطہ ہے جو خدا اور رسول نے قائم کیا ہو اور مسلمان اس کو نہ توڑتے ہوں ۔ اگر مردم شماری کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مسلمان کروڑوں ہیں مگر ان کروڑوں میں دیکھیے کہ کتنے فیصدی نہیں ، کتنے فی ہزار بلکہ کتنے فی لاکھ ہیں جو خدا اور رسول کے احکام کو ماننے والے اور اسلامی ضوابط کی پابندی کرنے والے ہیں۔

جس قوم میں منافقت اور ضعف اعتقاد کا مرض عام ہو جائے ۔ جس قوم میں فرض کا احساس باقی نہ رہے۔ جس قوم سے سمع و طاعت اور ضابطہ کی پابندی اٹھ جائے اس کا جو کچھ انجام ہونا چاہیے ٹھیک وہی انجام مسلمانوں کا ہوا ہے اور ہو رہا ہے ۔ آج مسلمان تمام دنیا میں محکوم و مغلوب ہیں ۔ جہاں ان کی اپنی حکومت موجود ہے وہاں بھی وہ غیروں کے اخلاقی، ذہنی اور مادی تسلط سے آزاد نہیں ہیں۔ جہالت مفلسی اور خستہ حالی میں وہ ضرب المثل ہیں۔ اخلاقی پستی نے ان کو حد درجہ ذلیل کر دیا ہے۔ امانت، صداقت اور وفائے عہد کی حفاظت جن کے لیے وہ کبھی دنیا میں ممتاز تھے اب ان سے دوسروں کی طرف منتقل ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ خیانت ، جھوٹ، دغا اور بد معاملگی نے لے لی ہے۔ تقویٰ ، پرہیز گاری اور پاکیزگی اخلاق سے وہ عاری ہوتے جاتے ہیں ۔ جماعتی غیرت و حمیت روز بروز ان سے مفقود ہوتی جاتی ہے۔ کسی قسم کا نظم ان میں باقی نہیں رہا ہے۔ آپس میں ان کے دل پھٹے چلے جاتے ہیں اور کسی مشترک غرض کے لیے مل کر کام کرنے کی صلاحیت ان میں باقی نہیں رہی ہے۔ وہ غیروں کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے ہیں۔ قوموں پر سے ان کا اعتماد اٹھ گیا ہے اور اٹھتا جا رہا ہے ان کی قومی تہذیب و شائستگی فنا ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اپنے حقوق کی مدافعت اور اپنے شرف قومی کی حفاظت سے وہ عاجز ہوتے جا رہے ہیں ۔ باوجودیکہ تعلیم ان میں بڑھ رہی ہے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ اور یورپ کے تعلیم یافتہ حضرات کا اضافہ ہو رہا ہے۔ بنگلوں میں رہنے والے موٹروں پر چڑھنے والے، سوٹ پہننے والے بڑے بڑے ناموں سے یاد کیے جانے والے ، بڑی سرکاروں میں سرفرازیاں پانے والے ان میں روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں ۔ لیکن جن اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے وہ پہلے متصف تھے اب ان سے عاری ہیں۔ اپنی ہمسایہ قوموں پر ان کی جو ساکھ دھاکھ پہلے تھی وہ اب نہیں ہے۔ جو عزت وہ پہلے رکھتے تھے وہ اب نہیں ہے اور آئندہ اس سے بھی زیادہ خراب آثار نظر آ رہے ہیں۔

کوئی مذہب یا تہذیب ہو یا کسی قسم کا نظام جماعت ہو۔ اس کے لیے دو ہی طرزِ عمل انسان کے لیے معقول ہو سکتے ہیں اگر وہ اس میں داخل ہو تو اس کے اساسی اصول پر پورا پورا اعتقاد رکھے اور اس کے قانون و ضوابط کی پوری پوری پابندی کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو اس میں داخل نہ ہو یا ہو چکا ہے تو بالاعلان اس میں سے نکل جائے ان دونوں کے درمیان کوئی تیسری صورت معقول نہیں ہے۔ اس سے زیادہ نا معقول کوئی طرزِ عمل نہیں ہو سکتا کہ تم ایک نظام میں شریک بھی ہو ، اس کے ایک جز بھی بن کر رہو، اس نظام کے تابع ہونے کا دعویٰ بھی کرو اور پھر اس کے اساسی اصولوں سے کلاً یا جزءاً انحراف بھی کرو، اس کے قوانین کی خلاف ورزی بھی کرو، اپنے آپ کو اس کے آداب اس کے ضوابط کی پابندی سے مستثنیٰ بھی کرلو۔ اس طرزِ عمل کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تم میں منافقانہ خصائل پیدا ہوں۔ خلوص نیت سے تمہارے دل خالی ہو جائیں ، تمہارے قلوب میں کسی مقصد کے لیے گرم جوشی عزم راسخ باقی نہ رہے کہ کسی نظام جماعت کے کار آمد رکن بن سکو۔ ان کمزوریوں اور بد ترین عیوب کے ساتھ تم جس جماعت میں بھی شریک ہو گے اس کے لیے لعنت بن جاؤ گے۔ جس نظام میں بھی داخل ہو گے اسے درہم برہم کر دو گے۔ جس تہذیب کے جسم میں داخل ہو گے اس کے لیے جذام کے جراثیم ثابت ہو گے۔ جس مذہب کے پیرو بنو گے اس کو مسخ کر کے چھوڑو گے۔ ان اوصاف کے ساتھ تمہارے مسلمان ہونے سے بدرجہا بہتر یہ ہے کہ جس گروہ کے اصولوں پر تمہارا دل کھٹکے اور جس گروہ کے طریقوں کی تم پیروی کر سکو اس میں جا شامل ہو۔ منافق مسلمان سے وہ کافر بہتر ہیں جو اپنے مذہب اور اپنی تہذیب کے دل سے معتقد ہوں۔ اور اس کے ضوابط کی پابندی کریں۔

جو لوگ مسلمانوں کے مرض کا علاج تعلیم مغربی اور تہذیب جدید اور اقتصادی حالات کی اصلاح اور سیاسی حقوق کے حصول کو سمجھتے تھے وہ غلطی پر تھے اور اب بھی جو ایسا سمجھ رہے ہیں وہ غلطی کر رہے ہیں۔ بخدا اگر مسلمانوں کو ہر فرد بی اے اور پی ایچ ڈی اور بیرسٹر ہو جائے ، دولت و ثروت سے مالا مال ہو۔ مغربی فیشن سے از سر تا بقدم آراستہ ہو اور حکومت کے تمام عہدے اور کونسلوں کی تمام نشستیں مسلمانوں ہی کو مل جائیں مگر ان کے دل میں نفاق کا مرض ہو۔ وہ فرض کو فرض نہ سمجھیں وہ نافرمانی ، سر کشی ، بے ضابطگی کے خوگر ہوں تو اسی پستی اور ذلت اور کمزوری میں وہ اُس وقت بھی مبتلا رہیں گے جس میں آج مبتلا ہیں ۔ تعلیم، فیشن، دولت اور حکومت کوئی چیز ان کو اس گڑھے سے نہیں نکال سکتی جس میں وہ اپنی سیرت اور اپنے اخلاق کی ان بنیادی کمزوریوں کی وجہ سے گر گئے ہیں اگر ترقی کرنی ہے اور ایک طاقت ور با عزت جماعت بننا ہے تو سب سے پہلے مسلمانوں میں ایمان اور اطاعت امر کے اوصاف پیدا کرو۔ اس کے بغیر نہ تمہارے افراد میں کس بل پیدا ہو سکتا ہے نہ تمہاری جماعت میں نظم پیدا ہو سکتا ہے اور نہ تمہاری اجتماعی قوت اتنی زبردست ہو سکتی ہے کہ تم دنیا میں سر بلند ہو سکو، ایک منتشر جماعت جس کے افراد کی اخلاقی اور معنوی حالت خراب ہو کبھی اس قابل نہیں ہو سکتی کہ دنیا کی منظم اور مضبوط قوموں کے مقابلہ میں سر اٹھا سکے۔ پھوس کے پولوں کا انبار خواہ کتنا ہی بڑا ہو کبھی قلعہ نہیں بن سکتا۔

اسلام اور مسلمانوں کے بد ترین دشمن وہ ہیں جو مسلمانوں میں بد عقیدگی اور نا فرمانی پھیلا رہے ہیں ۔ یہ منافقوں کی سب سے زیادہ بری قسم ہے جس کا وجود مسلمانوں کے لیے حربی کافروں سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ باہر سے حملہ نہیں کرتے بلکہ گھر میں بیٹھ کر اندر ہی اندر ڈائنا میٹ بچھاتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کو دین اور دنیا دونوں میں رسوا کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ "وہ تمہیں بھی اسی طرح کافر بنانا چاہتے ہیں جس طرح خود ہو گئے ہیں” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآء۔ ان کے شر سے بچنے کی کم سے کم تدبیر یہ ہے کہ جو لوگ دل سے مسلمان ہیں اور مسلمان رہنا چاہتے ہیں وہ ان سے قطع تعلق کر لیں فلا تتخذوا منھم اولیآء ۔ ورنہ قرآن مجید نے تو ان کی آخری سزا یہ قرار دی ہے کہ ان سے جنگ کی جائے فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم۔

Advertisements

استشراق اور مستشرقین


یورپ میں اسلامی علوم و فنون کی مختصر تاریخ

الواقعۃ شمارہ 50 ، رجب المرجب 1437ھ

از قلم : قاضی اطہر مبارک پوری

جب مشرق میں بنو امیہ کی حکومت و خلافت پر زوال آیا تو مغرب کی سر زمین نے اس خاندان کے لیے اپنی آگوش کھولی ، چنانچہ عباسی خلفاء کے مظالم سے بھاگ کر عبد الرحمٰن داخل نے اندلس کے شہر قرطبہ میں جا کر 138ھ میں ایک تازہ دم اموی حکومت کی بنیاد رکھی۔ مغرب کی اموی خلافت نے 284 سال تک عبد الرحمٰن کی نسل سے 19 خلفاء کو یکے بعد دیگرے تخت نشیں بنایا۔ پھر اس کے بعد اس میں طوائف الملوکی پھیل گئی اور مختلف خاندانوں نے اندلس کے مختلف مقامات پر اپنی اپنی حکومت و ریاست قائم کی۔

اندلس میں اسلامی علوم کی تجلّی

خلفائے اموی نے مغرب میں اپنی اس سیاست کو نہیں چلایا، جو مشرق میں ان کے لیے طغرائے امتیاز تھی، اور جس کی بدولت خلفائے بنو امیہ نے دین اسلام ، عربی تہذیب و تمدن اور عربی زبان و ادب کو اغیار کے اثرات سے ہر طرح محفوظ رکھا تھا ، بلکہ مغر ب میں انہوں نے مغربی قوموں سے میل جیل پیدا کرکے ان کے ساتھ علمی اور دینی رابطہ پیدا کیا، جس طرح کہ مشرق میں بنو عباس نے عجمی عناصر سے تعلقات وسیع کر کے ان سے ربط پیدا کیا۔

مگر اس میں مغرب کے اموی خلفاء مشرق کے عباسی خلفاء سے زیادہ کامیاب سیاست کے مالک رہے، یعنی اندلس میں خلفائے بنو امیہ نے دوسری مغربی قوموں کو اپنے ثقافتی، تہذیبی، دینی اور لسانی اثرات سے متاثر کر کے ان سے میل جول پیدا کیا، اور بغداد میں خلفائے بنو عباسیہ غیر قوموں پر اپنا اثر ڈالنے کے بجائے خود ہی ان کے اجنبی اثرات و خیالات سے متاثر ہوئے اور دوسروں نے آکر ان کی سیاست ، ثقافت، خیالات اور زبان و ادب پر قبضہ جمایا ، مغرب میں یہ صورت نہ تھی، بلکہ وہاں پر مغربی قوموں نے مسلمانوں سے تعلق پیدا کر کے آس طرح اسلامی زبان و ادب اور دینی خیالات کو اپانا کہ مسیحی پادریوں کو مجبوراً اپنی مذہبی کتابوں کو قدیم زبانوں سے عربی زبان میں منتقل کرنا پڑا۔

اندلس میں خلیفہ عبد الرحمٰن ثانی ( 206ھ تا 238ھ ) سے لے کر خلیفہ عبد الرحمٰن ثالث (300ھ تا 350ھ ) اور اس کے بیٹے حکم تک کا زمانہ نہایت زرین زمانہ گذرا ہے اس دور میں مغرب میں اسلامی علوم و فنون نے خوب ترقی کی ، اسلامی افکار و خیالات کو خوب عروج ہوا اور اسلامی ثقافت و تہذیب نے مغربی قوموں کو اپنے اندر خوب جذب کیا۔

یورپ میں جہالت کا خطرناک دور

اس زمانہ میں اندلس سے متصل مغربی ممالک کی قومیں جہالت کی زندھیری میں گرفتار تھیں، عوام کے دل و دماغ پر کلیسائی جہالت سوار تھی، اور مسیحی پادری علوم و فنون کی ہر روشنی کو بجھا کر اپنے اور مسیحی حکمرانوں کے لیے عوامی ذہن و فکر پر تخت بچھا رکھے تھے، آخر یورپ کو علم کی روشنی اندلس کی اسلامی درسگاہ ہی سے ملی اور مغربی قوموں نے نہایت سرعت سے ساتھ تحصیل علم میں کوشش کی اور اس معاملہ میں بعض مسیحی پیشواؤں نے سبقت کی، چنانچہ 1130ء میں اندلس کے شہر طیطلہ میں ایک مدرسہ جاری کیا گیا جس میں عربی زبان کے علوم کو لاطینی زبان میں ترجمہ کرنے کا شعبہ قائم کیا گیا، اس مدرسہ کا نگران ریموند نامی ایک پادری تھا، اندلس کے یہودیوں نے اس علمی اکاڈمی میں خوب حصہ لیا، اور عربی زبان کی بڑی بڑی کتابوں کو لاطینی زبان میں منتقل کرنے کا کام نہایت تیزی سے ہوا ، ان تراجم نے مغربی قوموں میں علم و فن کی روشنی بخشنی شروع کی، جس کی وجہ سے اہلِ مغرب میں علمی دلچسپی نئے رنگ میں نئی امنگ کت ساتھ ابھرنے لگی، عربی کتابوں کے تراجم کا بہت بڑا ذخیرہ مغرب کے پاس آ گیا ، ڈاکٹر کلارک نے شمار کر کے بتایا ہے کہ چودہویں صدی تک عربی زبان کی 340 بڑی بڑی کتابوں کا لاطینی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔

یورپ کے عقلیاتی دور کی ابتدا

اس اداروں میں جن کتابوں کا ترجمہ کیا گیا ان کا زیادہ تر حصہ فلسفہ اور طبعی اور عقلی علوم سے تھا، اور اس وقت خاص طور سے زکریا رازی، ابو القاسم زہراوی، ابن رشد اور بو علی ابن سینا جیسے اسلامی فلسفہ اور علوم عقلیہ کے ماہرین کی کتابیں مغربی زبانوں میں ترجمہ کی گئیں، نیز اہلِ یورپ نے عربوں کے واسطہ سے اسی زمانہ میں جالینوس، بقراط، افلاطون ، ارسطو اور اقلیدس کی کتابوں کو جو یونانی زبان سے عربی میں منتقل ہو چکی تھیں ان کا ترجمہ بھی لاطینی زبان میں کیا۔

اور یہی کتابیں یورپ میں علمی شعور کے ساتھ ساتھ مقبول ہوئیں اور پڑھی گئیں، بلکہ بارہویں صدی سے لے کر ان مذکورہ بالا کتابوں میں سے اکثر و بیشتر کتابیں، پانچ چھ صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں عقلی و طبعی علوم و فنون کے لیے نصاب بنی رہیں ، بلکہ ان میں سے بعض بعض کتابیں تو انیسویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں داخلِ درس رہیں اور اہل مغرب ان سے استفادہ کرتے رہے۔

اس طرح اہل مغرب نے اندلس کے اسلامی علوم و فنون کی شمع سے روشنی حاصل کرکے اپنے کلیسائی دورِ جہالت سے نجات حاصل کی اور مسلمانوں کے توسط سے قدیم یونانیوں کی کتابیں اور خود مسلمان عقلاء و فلاسفہ کی کتابیں حاصل کیں اور ان کو پڑھا پڑھایا، اس علمی نہضت کے نتیجہ میں آج یورپ ایجاد و فلسفہ اور فکر و سائنس میں اس قدر آگے بڑھ گیا ہے ، اگر اسے اندلس سے روشنی نہ ملی ہوتی تو یقیناً آج بھی یورپ جہالت اور لا علمی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہوتا۔

ایک انگریزی مؤرخ مسٹر ملر اپنی کتاب "فلسفہ تاریخ” میں لکھتا ہے کہ

"مغربی علوم کے اصل مآخذ عربوں کے وہ مدارس ہیں جو ہسپانیہ میں قائم تھے، اور یورپ کے ہر ہر ملک کے طلبہ ان مدرسوں کی طرف دوڑتے تھے، اور ان میں علوم ریاضیہ اور علوم ما وراء الطبیعہ حاصل کرتے تھے، اسی طرح جب عربوں نے جنوبی اٹلی پر قبضہ کیا تو وہ بھی یورپ میں اسلامی علوم کے داخلہ کا واسطہ بنا۔”

اسلامی علوم سے یورپ کی دل چسپی

ہسپانیہ کی درسگاہ سے جو پہلا مغربی عالم نکال ہے۔ وہ ایک فرانسیسی پادری بریزت نامی ہے، اس نے اپنے لاہوتی علوم کی تکمیل کرکے فرانس سے اشبیلہ کی راہ لی، اور وہاں پر تحصیل علم کیا۔ پھر قرطبہ میں جاکر ریاضی اور فلکیات وغیرہ کا علم تین سال تک حاصل کیا۔ پھر فرانس آ کر ان علوم عربیہ سے عوام کو روشناس کرایا جس پر اسے جادوگر اور کافر کا خطاب دیا گیا ، مگر 955ء میں اس نے اپنی ترقی کی راہ لی اور نادانوں سے اسے نجات ملی اسی طرح قرطبہ کی درسگاہ سے شانجہ نامی ایک مغربی حکمران نے بھی علم کی تکمیل کی، اسی زمانہ میں اٹلی کے بعض لکھے پڑھے لوگوں نے عربی زبان کو حاصل کی اور اسے دنیا کی بہترین ادبی زبان سمجھ کر اس میں مہارت حاصل کی ، نیز اسی دور میں ایک مسیحی راہب نے مسیحی قوم کو عربی زبان حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بتایا کہ

"اللہ حکمت کو جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، اس نے لاطینی زبان کو حکمت نہیں دینا چاہا بلکہ یہدو اور عرب وغیرہ کو دیا، اس لیے تم لوگ عربی زبان حاصل کرکے حکمت کو حاصل کرو۔”

اس طرح مغربی قوموں میں علمی شعور کی جڑ بنیاد پیدا ہوئی اور ترقی پسند پادریوں اور مذہبی طبقوں نے عربی زبان اور اسلامی علوم سے دلچسپی لینی شروع کی، یورپ کے جس ملک میں یہ ذہن پیدا ہوا ، وہاں کے لکھے پڑھے لوگوں نے اندلس کی اسلامی درسگاہوں کا رخ کیا اور واپس آ کر اپنے ملک میں علم و حکمت کی بساط بچھائی۔

یورپ کے علمی شعور میں سیاسی شعور کی آمیزش

آہستہ آہستہ یورپ میں علمی شعور پیدا ہوتا گیا اور وہاں کے علمی دارئرہ میں وطنیت اور قومیت کا عمل دخل بھی ہونے لگا۔

اس قومی اور وطنی احساس نے یورپ کی علمی سرگرمی میں دوسرا رنگ پیدا کر دیا ، چنانچہ اہل مغرب نے آگے چل کر عربی علوم و فنون کے علاوہ مشرق کے دوسرے معاملات میں دلچسپی لینی شروع کی اور ان کی توجہ تجارت ، استعماریت اور دینی تبلیغ کی طرف بھی ہوگئی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کی قومیت نے ان نظریات کو سامنے رکھ کر مشرق کے ساتھ ربط پیدا کرنا شروع کیا، مشرقی دنیا کے حالات کا پتہ چلایا، یہاں کے ملکی اور جغرافیائی حالات دریافت کیے ، یہاں کے دینی تہذیبی اور تمدنی و معاشرتی رجحانات معلوم کیے اور مشرقیت کے مخفی خزانوں کی دریافت کے لیے عام مشرقی علوم و فنون حاصل کیے ، اپنے یہاں مشرقی ادب کو زندہ کیا ، یہاں کی کتابوں کو چھاپا ، ان کے ترجمے کیے اور عربی زبان کے علاوہ فارسی، ہندی، سنسکرت، اردو وغیرہ زبانوں کو حاصل کیا، ان کی کتابوں کو پڑھا اور ان زبانوں میں خود بھی کتابیں لکھیں۔

اس طرح یورپ کے "مستشرقین” نے "استشراق” کو ایک فن کی حیثیت دے دی ، جس کی رو سے وہ مشرق کی زندہ اور مردہ زبانوں کو حاصل کرنے لگے، اور اس کے ادب و اسلوب کو پوری طرح معلوم کرنے لگے۔

اسلامی علوم کے لیے پریس اکاڈمی اور دوسرے تصنیفی مشاغل

اس مقصد کے لیے اہل ،غرب نے پریس اور مطابع جاری کیے اور عربی زبان کی کتابیں شائع کرنی شروع کیں، چنانچہ یورپ والوں نے اپنے یہاں سب سے پہلے عربی کتابوں "المجموع المبارک” اور ابن العمید سکین کی تاریخ، ابن عربی کی کتاب تاریخ الاول، سعید بن بطریق کی نظم الجواہر، پھر تاریخ ابو الفداء اور مقاماتِ حریری کو چھاپ کر ان کو شائع کیا۔

اہلِ یورپ نے مشرقی علوم و فنون کی فراہمی کے لیے خاص خاص کتب خانے قائم کیے اور کتابٰں یکجا کیں، انیسویں صدی عیسوی کی ابتداء میں یورپ کے مختلف کتب خانوں میں عربی زبان کی ڈھائی لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں جو لینن گراڈ، پیرس، برلین، لندن، اکسفورڈ، روم، اسکوریال وغیرہ کے کتب خانوں میں رکھی ہوئی تھیں، اسی طرح عربیت کے لیے اہل مغرب نے بہت سی علمی اکادمی کی بنیاد ڈالی اور علمی مجلسیں قائم کیں، جن میں عربی کتابوں کی نشر و اشاعت کا کام ہوتا تھا، سب سے قدیم انجمن 1781ء میں جاوا کے دارا لحکومت میں قائم کی گئی، پھر کلکتہ میں سر ولیم جونس نے 1784ء میں عربی کی اشاعت کے لیے ایشیاٹک سوسائٹی قائم کی، اور 1788ء سے 1836ء تک بیس جلدوں میں اس سلسلہ کی کتابیں شائع ہوئیں، نیز کلکتہ کی اس سوسائٹی کی طرف سے ایک رسالہ بھی 1833ء سے شائع ہونا شروع ہوا تھا، جو برابر شائع ہوتا تھا۔

اس زمانہ میں لندن میں شاہ انگلستان کی سرپرستی میں مشرقیات کے پڑھنے کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی گئی، انگلستان کے بڑے بڑے فضلاء اس کے ممبر تھے۔

1820ء میں فرانسیسی مستشرقین نے فرانس میں عربی کتابوں کی طباعت و اشاعت کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی اور انہوں نے اس سوسائٹی کی طرف سے ایک رسالہ بھی جاری کیا جن میں عربی اور عربیت کے بارے میں قیمتی معلومات ہوتی تھیں۔

اسی طرح امریکہ، روس، اٹلی ، بلجیم، ہالینڈ، ڈنمارک وغیرہ کے مستشرقین نے انگریزوں اور فرانسیسیوں کے نقشِ قدم پر چل کر عربی علوم و فنون کے لیے اکاڈمی اور سوسائٹی قائم کی، کتابیں شائع کیں اور رسالے جاری کیے ، مشرقی علوم و فنون کے سلسلے میں یورپ کے مستشرقین نے بڑی بڑی کانفرنسیں بھی کیں، بلکہ آج تک مستشرقین یورپ کی بین الاقوامی کانفرنسیں دنیا کے مختلف ممالک میں ہوتی رہتی ہیں، خاص طور سے مستشرقین نے یورپ کے مختلف ممالک میں عربیت کے لیے انیس کانفرنسیں قائم کیں۔

پہلی کانفرنس 1872ء میں پیرس میں منعقد ہوئی، 1908ء میں بھی پیرس میں یہ کانفرنس ہوئی، اس قسم کی کانفرنسوں میں اہلِ مغرب مشرقیات کے مختلف پہلوؤں پر علمی اور تحقیقی مقالات پیش کرتے ہیں اور بڑی تلاش و جستجو سے ایک ایک موضوع پر بیش بہا اور قیمتی معلومات جمع کرتے ہیں۔

اہل یورپ نے عربی علوم کی نشر و اشاعت کے لیے عربی کے مجلات و جرائد جاری کیے ، دنیا بھر سے مخطوطات اور قلمی کتابوں کے ذخیرے جمع کیے ، نادر و نایاب اور عمدہ سے عمدہ کتابوں کو بہترین حواشی تحقیق اور نوٹ  کے ساتھ شائع کیا ، ان میں فہرستوں جا اضافہ کیا ، اور مختلف ناموں ، موضوعوں اور مقامات کی الگ الگ فہرست مرتب کرکے لگائی ، الفاظ کی تحقیقات اور اصول لغت کی تنقیحات میں کمال دکھایا۔

واقعہ یہ ہے کہ کتابوں کی تصحیح اور ان کو پورے اہتمام کے ساتھ شائع کرنے میں اہلِ مغرب اپنی نظیر نہیں رکھتے، اور یہ ان کا امتیازی کارنامہ ہے۔

موجودہ حالات پر ایک نظر

اس طرح اہل یورپ نے اسلامی علوم اور عربی زبان کو حاصل کر کے اپنی زندگی میں ایک ایسا عظیم انقلاب برپا کیا جس نے ایک طرف ان کو علم و تحقیق، سائنس و ایجاد اور فلسفہ میں اختراع میں مشہور کیا اور دوسری طرف ان کو مغرب سے اٹھا کر مشرقی ممالک کی حکومت کے تخت پر بٹھایا۔

اہل یورپ نے اگرچہ اسلامی علوم و فنون کی وجہ سے قومیت و وطنیت کی راہ پائی اور مغرب سے چل کر مشرق کی حکمرانی کی ، مگر اس حال میں بھی انہوں نے اسلامی علوم  و فنون کا ذوق ختم نہیں کیا بلکہ آج بھی یورپ اور امریکہ میں اسلامیات پر بہت کچھ کام ہو رہا ہے اور ان ممالک کے علماء اور فضلاء، عربی زبان اور عربی علوم کی نشر و اشاعت میں لگے رہتے ہیں اور اسلامی کتابوں کی اشاعت میں اسی نشاط سے کام کرتے ہیں۔

اسپین میں جنرل فرانکو کی سرپرستی میں عربی کتابوں کی اشاعت کا طباعت کام جاری ہے ، امریکہ میں عربی کتابوں کی تعلیم اور اشاعت کا کام جاری ہے ، اسی طرح یورپ کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں اسلامیات کے شعبے قائم ہیں ، اور اسلامی علوم و فنون پر اہلِ مغرب اپنے ذوق کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

حرفی پریس کی مختصر تاریخ

اس سلسلہ میں پریس اور مطبع کی تاریخ ایک دلچسپ کہانی معلوم ہوگی مختصر طور پر اس کا حال ملاحظہ ہو :-

ٹائپ کے ذریعہ طباعت کی ایجاد ایک جرمن نے 1440ء میں کی، اس کو عربی زبان میں "حناجونمبرج” کہتے ہیں، طباعت کی ایجاد نے علوم اور فنون کی ترقی میں کافی مدد کی، اور ایک مدت تک یورپ میں اس کا دائرہ عمل وسیع ہوتا رہا، اور عربی زبان کی سب سے پہلی کتاب 1514ء میں چھاپی گئی، اس کے بعد مشرقی ممالک میں پریس ترقی کرتا گیا ، خصوصیت سے عربی زبان کی کتابیں دن بدن زیادہ چھپنے لگیں ، مگر ابتدا میں ان کی طباعت بھی یورپ ہی کے ممالک میں ہوتی رہی، چنانچہ ان ہی زمانوں میں نزہۃ المشتاق ادریسی ، قانون بو علی بن سینا، تحریر اصول اقلیدس وغیرہ یورپ سے شایع ہوئیں بلکہ اب تک یورپ سے نادر و نایاب کتابیں شایع ہوتی رہتی ہیں ، اس کے بعد مشرقی دنیا میں طباعت کا فن سلطنت ترکیہ کی راہ سے 1490ء میں داخل ہوا، اور آستانہ میں ایک یہودی عالم نے 1490ء میں پریس قائم کر کے کئی علمی اور مذہبی کتابیں چھاپیں، مگر اب تک چھپائی کا کام رومن رسم الخط میں ہوتا رہا ، پھر 1728ء میں عربی حروف کی ابتدا ہوئی ، اور ان کا پریس قائم ہوا ، اس دور میں عربی حروف کا سب سے مشہور پریس آستانہ کے پریسوں میں مطبعۃ جوائب تھا، جو احمد فارس شدیاق مرحوم کی ملکیت میں تھا، اس مطبع میں مختلف علوم و فنون اور ادب کی امہات الکتب چھاپی گئیں ، یہ مطبع ترکی کا مشہور ترین مطبع تھا۔

عرب ممالک میں حروف کی چھپائی کی ابتدا لبنان سے ہوئی اور مسیحی پادریوں اور مبشروں نے اس میں سبقت کی، چنانچہ لبنانی مسیحی پادریوں نے سترہویں صدی عیسوی کے شروع میں سب سے پہلا پریس قائم کیا۔ اس کے بعد ان ہی کی طرف سے 1840ء میں "مطبعۃ کاثولیکہ” قائم ہوا ، اس پریس نے عربی زبان کی قدیم اور نادر کتابوں کو شائع کیا ، اور علم و ادب کی بہت خدمت کی، اس کے بعد ہی مصر میں مطبع کا قیام ہوا اور 1798ء میں نائبیون کے ہاتھوں چھپائی کا کام جاری ہوا ، اس نے سرکاری فرمانین اور احکام کو عربی زبان میں چھاپنے کے لیے "مطبعہ اہلیہ” کے نام سے پریس جاری کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ پریس بھی چلتا رہا اور محمد علی پاشا نے مطبعہ اہلیہ کی جگہ 1830ء میں "مطبعۃ بولاق” جاری کیا اور اس کی ادارت کا کام شام کے ایک ماہر "نقولا سایکی سوری” کے سپرد کیا۔ مطبعہ بولاق کے لیے خاص طور سے مختلف سائز کے بہترین طریقے پر حروف ڈھالے گئے ، پھر دوسری مرتبہ عربی حروف کی ڈھلائی مصر کے سب سے بڑے خوشنویس مرحوم جعفر بیگ کے قاعدہ کے مطابق ہوئی ، مصر میں آج تک مرحوم جعفر بیگ کے اصول پر ڈھالے ہوئے حروف کا استعمال ہوتا ہے۔

"مطبعہ بولاق” نے ریاضیات، طب و جراحت اور غیر زبانوں سے ترجمہ شدہ تقریباً تین سو کتابوں کو چھاپا، اور اس کے شعبہ "القسم الادبی” سے ادب کی امہات کتب چھاپی گئیں، اب بہت دنوں سے "مطبعہ بولاق” سرکاری چیزوں کو چھاپتا ہے، اور درسی کتابیں اور سرکاری کاغذات اس میں چھپتے ہیں۔ "مطبعہ بولاق” کے بعد مصر میں بہت سے چھاپہ خانے قائم ہوئے ، جو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کام کرتے ہیں۔

ہندوستان میں سب سے پہلے پرتگیزیوں نے جنوبی ہند میں ٹائپ پریس جاری کیا، اور تامل اور ملیالم زبان میں مذہبی کتابیں چھاپیں، کلکتہ میں 1781ء میں ٹائپ پریس قائم ہوا، جس میں بہت سی عربی کتابیں چھاپی گئیں ، بمبئی میں 1300ھ مطابق 1882ء میں ایک ٹائپ پریس تھا جس میں علامہ ادیب عبد الجلیل بن یاسین بصری متوفی 1270ھ کا دیوان 280 صفحات پر چھاپا گیا ، اس کے بعد بمبئی میں کئی حرفی پریس جاری ہوئے، مگر وہ بہت معمولی قسم کے تھے، اور زیادہ دنوں تک نہیں چل سکے، آج کل بعض پریس اچھا کام کر رہے ہیں ، ریاست حیدر آباد میں دائرۃ المعارف نے ایک پریس جاری کیا جس میں بہت سی نادر و نایاب کتابیں چھاپی گئیں ، زمانہ ہوا مولانا عاشق الٰہی میرٹھی نے میرٹھ سے ایک حرفی مطبع "مطبعہ نیمریہ” کے نام سے جاری کیا ، جس خاص طور سے ابن اثیر کی "جمع الفوائد” چھاپ کر شائع کی، جو حدیث کی اہم کتاب ہے، اسی طرح ہندوستان کے بعض دوسرے مقامات پر حرفی مطابع ہیں اور اپنے طور پر کام کر رہے ہیں۔

(ماہنامہ "البلاغ” بمبئی، "تعلیمی نمبر” دسمبر 1954ء، جنوری و فروری 1955ء)

مسئلہ فلسطین کی نظریاتی بنیادیں


شوال 1434ھ/ اگست 2013، شمارہ  17

مسئلہ فلسطین کی نظریاتی بنیادیں