آئیے ! خاتمہ خیر کا نوحہ پڑھ لیں – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 61-62، جمادی الثانی و رجب المرجب 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ابھی کل کی بات تھی کہ ہمارے قلم نے حلب کی سر زمین پر آتش باری کا نوحہ لکھا تھا اور آج ادلب کی سوگوار فضا کا المیہ در پیش ہے۔ ارباب آئین و ریاست ہوں یا اصحاب منبر و محراب یا پھر ہنر مندانِ قلم و قرطاس کسی کے پاس فرصت نہیں کہ دم توڑتی لاشوں اور خوف و ہراس کی سراسیمہ فضاؤں پر ایک حرف تعزیت ہی ادا کریں۔ نغمہ شادی کے متوالوں کے پاس نوحہ غم کی فرصت کہاں ؟ پڑھنا جاری رکھیں

دجال کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے


الواقعۃ شمارہ : 53 – 54 ، شوال المکرم و ذیقعد 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

حادثے اس تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ واقعات کا اعتبار اٹھ سا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جسے زمانہ پرورش کر رہا تھا برسوں ، وہ حادثے اب رونما ہو رہے ہیں۔ عالم اسلام پر ہر طرف سے یلغار ہی یلغار ہے۔ چمنستانِ اسلام کا کونسا گوشہ ہے جو درد و الم کی سسکیوں اور آہ و غم کی صداؤں کے شور سے بوجھل نہیں۔ وہ کونسی فصل ہے جس کی آبیاری خونِ مسلم سے نہیں ہو رہی۔ پڑھنا جاری رکھیں

ترکی : عزیمت کے راستے پر یا ۔۔۔۔۔۔۔


الواقعۃ شمارہ 53 – 54 ، شوال المکرم و ذیقعد 1437ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

15 جولا ئی 2016 ء کو رات کے 10بجے ترک فوج کے ایک باغی دستے نے اچانک فوجی بغاوت کا اعلان کردیا اور حکومت کی مشینری کے مختلف اداروں پر قبضہ کرلیا۔ ان لوگوں نے مختلف جگہوں پر فائرنگ بھی کی، ٹینک بھی سڑک پر نکل آئے اورفضائیہ کے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ سے پولیس کی عمارت پر اور دیگر کئی اور حکومتی عمارتوں پر فائرنگ بھی کی گئی اور بمباری بھی کی گئی ،اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے دو ڈھائی سو نہتے اور معصوم لوگ اس حملے کا شکار ہوگئے۔ اور تقریبا ً دو ہزار سے اوپر افراد زخمی ہوئے۔ اس تمام کارروائی کے دوران ہی ترکی کے صدر طیب اردگان پڑھنا جاری رکھیں

اللہ کے ساتھ تجارت


الواقعۃ شمارہ 50 ، رجب المرجب 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ایسا پُر آشوب دور پہلے کبھی نہیں آیا۔ مسلم امہ  بحیثیت مجموعی ہر اعتبار سے زوال پذیر ہو گئی ہے۔ سیاسی زوال سے بھی کہیں بڑھ کر جس المیہ کا ہمیں رونا ہے وہ ہمارا روحانی و اخلاقی انحطاط ہے۔ ایک قوم یا ملت ہر قسم کے مادی وسائل سے محروم ہوجانے کے بعد دوبارہ انہیں حاصل کر سکتی ہے مگر اخلاقی جواز کھو دینے اور اپنی اصل کو فراموش کردینے کے بعد قوم اپنی شناخت ہی کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد کوئی ترقی یا کامیابی کچھ معنی نہیں رکھتی۔

افسوس اس دور جدید میں جب کہ الفاظ اپنی معنویت کھو رہے ہیں دعوت حق کے اسرار بھی کہیں دفن ہو گئے ہیں۔ ایک واضح اور انتہائی معلوم حقیقت بھی ہماری بصیرتوں کے لیے حجاب بن گئی ہے۔

دنیا نے ہر دور میں داعیانِ حق پرست کی نا قدری کی ہے۔ مگر وہ جس بازارِ جنس کے خریدار ہیں اس کی تو دنیا ہی مادیات کی سطح سے کہیں بلند ہے۔

ان اللہ اشتریٰ من المؤمنین انفسھم و اموالھم بان لھم الجنۃ  ( التوبة: ١١١ )

"بلا شبہ اللہ نے مومنین کی جانوں اور ان کے مالوں کو نعیم اُخروی کے بدلے خرید لیا ہے۔”

کوئی تاجر ہو تو اسے نفع ذات مطلوب ہو۔ کسی کو حصولِ مادیت کی خواہش ہوتو اسے کھونے کا خوف بھی ہو۔ کسی کو اقتدار و سطوت کی تمنا ہو تو ناکامی کے اندیشے بھی ستائیں ، مگر یہاں کا تو عالم ہی دوسرا ہے۔

و من الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ ( البقرة: ٢٠٧ )

"اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کی رضا کی جستجو میں اپنی زندگی فروخت کر دی ہے۔”

ایک شخص جب اللہ کی غلامی اختیار کر لیتا ہے اور اس کے کارخانہ دعوت کا ملازم بن جاتا ہے تو اس سے صرف ایک ہی چیز مقصود و مطلوب ہوتی ہے ، وہ ہے — اخلاص۔

اخلاص، حق پرستی کی راہ کی سب سے بڑی اور مطلوب حقیقت ہے۔ اللہ سے تجارت کا کوئی خواہشمند اخلاص کی اس قیمت کو ادا کیے بغیر کبھی اللہ سے تجارت نہیں کر سکتا۔ وہ اگر حق پرستی کی راہ میں آنے والی مشکلات سے اپنا دامن چھڑانا چاہتا ہے یا بذلِ مال و متاع سے گریز کرتا ہے یا زندگی کی رعنائیاں موت کی وحشت ناکی پر غالب آنے لگتی ہیں تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے دل کی ساری آرزوئیں استوار کرے مگر ابتغاء مرضات اللہ کے بازار میں اپنے نرخ کے بالا ہونے کی امید نہ رکھے ۔کہ

روبازی کن عاشقی کار تو نیست

ایثار و قربانی، ایمان و عزیمت کی راہ کی سب سے بڑی اور روشن مثال حضرت صدیق اکبر کی مقدس زندگی میں ظاہر ہوتی ہے ۔ اپنا سب کچھ لٹا کر کاشانہ نبوت میں حاضر ہوتے ہیں۔ سوال ہوتا ہے ما ابقیت لاهلک ؟ اپنے اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو ؟ عرض کیا : ابقیت لهم الله و رسوله ! ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں۔

دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی

دیوانہ تو ہر دو جہاں را چہ کند ؟

یہ درست ہے کہ اس مقام رفیع تک بڑوں بڑوں کو رَسائی نہیں مگر ان کےمقدس نشانِ قدم کی پیروی تو لازم ہے۔

اللہ پر یقین محکم ہی ہے جو اللہ پر توکل کو جنم دیتا ہے۔ لوگوں کو اپنے فانی مالکان پر بھروسہ ہو سکتا ہے تو اللہ کو اپنا نفس فروخت کرنے والا اپنے اس غیر فانی مالک پر اپنے توکل کی بنیادیں کیوں نہ استوار کرے ؟

افسوس ہمیں پرودگارِ عالم کی جنت تو یاد رہی۔ مگر اس جنت کی قیمت کو بھول گئے۔ ہم ایمان کے ساتھ مشروط اس تجارت کو بھول گئے ہیں جو ہم نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھتے ساتھ ہی اللہ رب العزت سے کیا تھا۔

امت مسلمہ خواہ مادیت کی کیسی ہی پستی میں جا گرے اگر اللہ رب العزت سے اپنی تجارت کا ایفا کرنے کا عزم کرلے تو دنیا کی ہر طاقت کو سرنگوں کر سکتی ہے۔ کیونکہ اس تجارت میں کھونے کا کوئی خوف نہیں صرف پانے کا یقین ہے اور پانے کا یقین ہر خوف کو مٹا دیتا ہے۔ اور معلوم ہے کہ جس دل میں خوف نہ ہو اسے کوئی تسخیر نہیں کر سکتا۔