عقیدہ ختم نبوت کو متنازعہ نہ بنایا جائے ! – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 68 – 69، محرم الحرام و صفر المظفر 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

عقیدہ ختم نبوت، اسلام کے نظریہ ایمان و ہدایت کا ایک بنیادی و اساسی عقیدہ ہے۔ جس کے اعتراف کے بغیر کوئی انسان دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ مشترکہ اسلامی میراث ہے جس پر کسی فرقہ کی کوئی اجارہ داری نہیں۔ کوئی مسلمان ایک لمحے پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

جنرل راحیل شریف


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

پاکستان کی افواج کا شمار مملکت کے تمام سرکاری اداروں میں سر فہرست رہا ہے۔ ماضی میں بھی اور موجودہ دور میں بھی، بیشتر مواقع پر فوج کے کردار سے پوری قوم نے اتفاق کیا اور اس پر اپنے مکمل بھروسے اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ہر مشکل گھڑی میں فوج نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر قوم کے مفاد اور حکومتی احکامات کو بجا لانے میں کسی کوتاہی کا ارتکاب نہیں کیا۔ پاکستانی اداروں کا تو یہ حال ہے کہ قوم ہر کام کے لیے فوج کی طرف دیکھتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

افتراء علی اللہ – اللہ پر تہمت


الواقعۃ شمارہ : 26 – 27 ، رجب و شعبان 1435ھ

از قلم : ابو الحسن

معنی و مفہوم ایک مقدس امانت ہے اور الفاظ ان کے امین ۔ لیکن مال و دولت کی طرح الرحمٰن ( علمہا البیان ) کی اس نعمت میں بھی خیانت ہوتی ہے ، ہوتی رہی اور ہوتی رہے گی ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہودی علماء کی حقیر دنیاوی مقاصد کے لیے اپنی گمراہ سوچ کو احکام الٰہی کی تاویل وتعبیر قرار دینے کے تعلق سے فرمایا   :

ثم یقولون ھذا من عند اللہ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا

” پھر کہتے ہیں یہ کتاب الہی کے احکام ہیں اور سب کچھ اس لیے کرتے ہیں تاکہ اس کے بدلے میں ایک حقیر سی قیمت دنیاوی فائدے کے لیے حاصل کر لیں ۔”

افسوس کہ امت محمدیہ بھی اس گمراہی سے بیگانہ نہ رہی اور اپنائیت بڑھتی جا رہی ہے ۔ مقدس دینی اصطلاحات کو مضمحل ،  مجروح اور مسخ کر کے مال تجارت بنا دیا گیا۔

اس سلسلے میں حرام ، حلال ، مکروہ الفاظ کی عیادت کریں ضرورت ہو تو تعزیت ۔ پاکستان میں لفظ شہید کی وہ درگت بنائی گئی کہ یہ مقدس دینی اصطلاح اپنی بے بسی پر خون کے آنسو رو رہی ہے ۔

لفظ حرام کا ثلاثی مادہ ح ، ر ، م ہے اس کے 23 مشتقات 83 بار قرآن میں استعمال ہوئے ۔ لفظ حلال کا ثلاثی مادہ ح ، ل ، ل ہے اس کے 27 مشتقات 51 بار قرآن میں استعمال ہوئے ۔ لفظ مکروہ کا ثلاثی مادہ ک ، ر ، ہ ہے اس کے 20 مشتقات 41 بار قرآن میں استعمال ہوئے ۔ تینوں الفاظ اردو میں اس طرح مستعمل ہیں گویا اردو ہی کے الفاظ ہیں ۔ مختصراً یہ کہ حرام وہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ۔ اس کا ارتکاب گناہ اور موجب سزا ہے ۔ حلال وہ ہے جس سے منع نہیں فرمایا جسے مستحب اور پسندیدہ قرار دیا ۔ اس کے ارتکاب کی اجازت ہے ، بالکل قابل مواخذہ نہیں ۔ لفظ مکروہ کو عام طور پر حرام اور حلال کے درمیان کی ایک چیز سمجھا جاتا ہے لیکن اس مفہوم کی نہ صرف قرآن کی  سند نہیں  بلکہ قرآن اور آثار صحابہ سے اس مفہوم کی نفی ہوتی ہے۔

بنیادی بات یہ ہے کہ کسی چیز کے استعمال یا فعل کے ارتکاب کو حرام یا حلال قرار دینے کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ پیغمبر بھی اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں رکھتے وہ بھی احکام الٰہی کے پابند ہیں ان کا کام احکام کو بندوں تک پہنچانا ہے ۔ حرام و حلال ایک دوسرے کی ضد ہیں اس لیے جن چیزوں کو حلال قرار نہیں دیا  گیا ۔ انہیں حرام کہنے کے بجائے یہ تعبیر اختیار کی گئی   ” لا  یحل لکم ” اور جسے حرام قرار نہیں دیا گیا اس کے لیے ” یحل علیکم ” فرمایا گیا قرآن کی بعض آیات  میں دونوں الفاظ استعمال  ہوئے ۔ سورہ بقرہ آیت 275 میں فرمایا : ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫﭬ (  اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا )۔

مسلمانوں کے لیے وقت واحد میں چار سے  زائد بیویاں رکھنا منع ہے ۔ لیکن آنحضرت ﷺ کو اللہ نے اس حکم سے مستشنٰی رکھا اور براہ راست آپ کو مخاطب کر کے فرمایا :

یایھا النبی اذا احللنا لک ازوٰجک التی ءاتیت اجورھن ( احزاب : 50 )

” اے نبی ہم نے تیرے لیے وہ بیویاں حلال کر دیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے ۔” ( نزول آیت کے وقت امہات المومنین چار سے زائد تھیں ) ۔

سورہ نحل آیت 116 میں  ارشاد ہوا :

ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلٰل و ھذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون

” اور دیکھو ایسا نہ کرو کہ تمہاری زبانوں پر جھوٹ بات آجائے بے دھڑک نکال دیا کرو اور اپنے جی سے ٹھہرا کر حکم لگا دو یہ چیز حلال اور یہ چیز حرام ہے اس طرح حکم لگانا اللہ پر افترا پردازی کرنا ہے اور یاد رکھو جو لوگ اللہ پر افترا پردازیاں کرتے ہیں وہ کبھی فلاح پانے والے نہیں۔”

کسی شخص کی پسند نا پسند سے اللہ کی حلال  کی ہوئی چیزوں کو اپنے لیے ممنوع قرار دے لینا منع ہے اس سلسلے میں خود رسول کریم ﷺ نے جب چند امہات المومنین کی پیدا کردہ صورت حال میں ایک حلال چیز کو اپنے لیے ممنوع قرار دے لیا تو اللہ نے اپنے نبی کو یوں مخاطب فرمایا :

یا یھا النبی لم تحرم مآ احل اللہ لک تبتغی مرضات اازوٰجک و اللہ غفور الرحیم                 ( تحریم : 1)

” اے  نبی جس چیز کو اللہ نے تمہارے لیے  حلال کر دیا ہے اسے تم کیوں  حرام کرتے ہو ۔ کیا  تم اپنی  بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہو اور اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔”

سورہ مائدہ کی ابتدائی پانچ آیات میں  حرام  و حلال کے احکام صرف غذاوں کے لیے نہیں بلکہ دیگر اعمال کے تعلق سے بھی ہیں ۔ آیت 1 احلت لکم سے شروع ہوتی ہے اور پھر حلال چیزوں کا ذکر ہے ۔ آیت 2 میں منع کا انداز اس طرح ہے لا تحلوا شعائر اللہ مولانا ابوالکام آزاد نے لا تحلوا  کا ترجمہ ” بے حرمتی نہ کرو ” کیا ہے آیت میں ممنوعات کا ذکر ہے اور آیت کا خاتمہ ان الفاظ پر ہے ان اللہ شدید العقاب۔ ﯾ۔  آیت 3 مسلمانوں سے خطاب اس طرح ہے حرمت علیکم ممنوعات کے ذکر کے بعد آیت کے آخری حصے میں بھوک سے بے بس ہو کر اور دانستہ گناہ نہ کرنا چاہنے والا ایسی کوئی حرام چیز کھالے تو اللہ نے  اس کے لیے اپنی بخشش و رحمت کا اظہار فرمایا : فان اللہ غفور رحیم ۔ آیات چار اور پانچ میں احل لکم الطیبٰت فرما کر حلال چیزوں کا ذکر ہے ۔ سورہ نحل کی آیات 114 – 115 میں بھی مائدہ کی آیات کے موضوع کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ ظاہر ہے کہ قرآن میں دنیا بھر کے جانوروں اور زندگی کے دیگر شعبوں میں حلال و حرام ہونے کا ذکر نہیں ۔ سورہ مائدہ کی آیت 1 میں فرمایا احلت لکم بھیمۃ الانعٰم (  تمہارے لیے مویشی حلال کر دیے گئے ) مویشی کا زیادہ تر اطلاق اونٹ ، گائے اور بھیڑ ، بکری پر ہوتا ہے۔ بھینس ، ہرن ، گدھا ، گھوڑا اور اسی قبیل کے چوپائے جو دنیا کے بہت سے علاقوں میں پائے جاتے ہیں ان کے تعلق سے کیا کیا جائے ؟ انہیں حلال سمجھیں یا حرام ؟ اسی طرح کونسے پرندے اور دریائی مخلوق حلال ہے کونسی حرام ؟ ان مسائل پر ان  راسخون فی العلم کا اجتہاد و اجماع سند ہے ۔ جس کے تعلق سے اللہ نے فرمایا : انما یخشی اللہ من عبادہ العلمٰؤا (  اللہ سے اس کے وہی نیک بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں ) ان علماء کا اجتہاد سند کا درجہ رکھتا ہے ۔ لفظ اجتہاد کا ثلاثی مادہ ج ، ہ ، د ہے اور یہی مادہ لفظ جہاد کا ہے ۔ باب افتعال سے اجتہاد کا مصدر حاصل ہوا ۔ اجتہاد اصل میں ذہن کا وہ جہاد ہے جس میں مجاہد کے ہتھیار ذہانت کے ساتھ علم راسخ ، دیانت فکر ، تقوٰی اورخشیت الہی ہیں اور اسے رسول کریم کی منظوری حاصل ہے ۔ حضرت رسالت مآب جب مشہور جلیل القدر صحابی حضرت معاذ بن جبل کو یمن بھیج رہے تھے تو دریافت فرمایا : جب کوئی مقدمہ تمہارے سامنے پیش ہوگا تو کیسے فیصلہ کرو گے ؟  جواب دیا جیسا کتاب اللہ میں ہے ۔ پھر سوال کیا : کتاب اللہ میں صراحت نہو تو کیا کرو گے ؟ انہوں نے کہا پھر سنت رسول کے مطابق فیصلہ کروں گا ۔ پھر پوچھا اگر سنت میں صراحت نہ ہو تو کیا کرو گے ؟ جواب میں کہا ایسی حالت میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ( اجتھد برائی )  اس پر رسول اللہ خوش ہوئے اور فرمایا : اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اپنے رسول کے فرستادہ کو اس بات کی توفیق دی جو اس کے رسول کو پسندیدہ ہے ( وفق رسول رسولہ بما یرضی بہ رسولہ ) ۔ اب دیکھیں اجتہاد کے نتیجے میں فتویٰ دینے میں صحابہ اور علماء سلف کا انداز بیان کیا تھا اس سلسلے میں مولانا ابو الکلا م آ زاد لکھتے ہیں :

” ائمہ سلف افتاء و تکلم فی الشرع ( شرع کے بارے میں فتویٰ دینے اور کلام کرنے ) میں نہایت احتیاط کرتے تھے ۔ خصوصاً کسی بات کو حلال کہنے یا حرام ٹھہرانے میں ان کی خشیت و تقویٰ کا یہ حال تھا کہ تاکید اور دعویٰ کے ساتھ کبھی زبان نہیں کھلتی تھی ۔ یہ وہ لوگ تھے کہ بقول حضرت ابن مسعود ابرھم قلوباً و اعمقہم علما صرف ان کا علم ہی سب سے زیادہ گہرا نہ تھا بلکہ ان کے دل بھی سب سے زیادہ نیک تھے ۔ اس لیے  ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں حلال حرام کے بارے میں کوئی لغزش نہ ہو جائے ۔ ان کے سامنے قرآن کی یہ وعید موجود تھی : و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلٰل و ھذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب انہیں صحابہ کرام کا حال معلوم تھاکہ حلت و حرمت کے افتاء میں کس قدر حزم و احتیاط کرتے تھے اور اللہ اور اس کی شریعت کی طرف کوئی حکم منسوب کرنا کس طرح ان کے لیے زندگی کا سب سے زیادہ کٹھن کام تھا ۔ چناچہ امام دارمی نے سنن میں صحابہ و تابعین کے وہ اقوال و اعمال جمع کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں کوئی حکم لگانا خصوصاً حلال اور حرام کا لفظ بولنا ان پر کیسا کٹھن تھا اور کس طرح حتیٰ الامکان اس کی ذمہ داری سے گریز کرتے تھے۔ اس حالت کا نتیجہ یہ تھا کہ باب حلال و حرام میں ان کی ایک خاص محتاط بول چال ہوگئی تھی چونکہ قرآن و حدیث میں اپنے خیال سے حلال و حرام ٹھہرانے کے لیے بڑی ہی سخت و عیدیں آئی ہیں ۔ اس لیے حتی الامکان تاکید اور قطع کے ساتھ حلال و حرام  کا لفظ نہیں بولتے تھے۔ ایسے الفاظ بولتے جن میں قطع و جزم کی جگہ عموم و وسعت اور جزم و احتیاط کا پہلو ہوتا تھا۔ چناچہ اگر کسی بات کو ناجائز اور حرام سمجھتے تو کہتے ” انا اکرہ ہذا ” ، ” لا ینبغی ہذا ” ، ” لیس بحسن ” ، ” لا یعجبنی ان یعمل کذا ” و غیر ذالک ” یعنی میں مکروہ رکھتا ہوں ، ایسا نہیں کرنا چاہئے ، یہ ٹھیک نہیں ہے ، مجھے پسند نہیں کہ ایسا کیا جائے اور جب کسی بات کا وجوب ظاہر کرنا مقصود ہوتا تو اس صورت میں بھی تاکید و جزم کے الفاظ کی جگہ عموماً عام و محتاط اطلاقات سے کام لیتے مثلاً ” انا احب ان یعمل کذا ” ، ” اریٰ ہذا حسنا ” ، ” یعجبنی ان یعمل کذا ” ، ” یستحب ان یعمل کذا ” ، ” ینبغی ہذا " ، یعنی یہ بات اچھی ہے، یہ بات مجھے پسند ہے، چاہئے کہ ایسا کیا جائے، مستحب ہے کہ ایسا کیا جائے، ایسے موقعوں پر ان کا مقصود مستحب سے وہ ایک خاص درجہ شروع کا نہ تھا جو بعد کو قرار دیا گیا ہے بلکہ اس کے لغوی معنوں میں بولتے تھے یعنی یہ امر پسندیدہ ہے۔

لفظ مکرہ کو عام طور پر حرام و حلال کا درمیانی درجہ دیا گیا ہے ۔ یعنی ایسا کام جس کا نہ کرنا کرنے سے بہتر ہے ۔ لیکن کرنے کی قطعی ممانعت نہیں ہے اور پھر مکروہ کی دو قسمیں مکرہ تحریمی و مکرہ تنزیہی قرار دی گئی ہیں ۔ علماء سلف جب کبھی لفظ کراہت استعمال کرتے ہیں تو اس کے عام لغوی معنوں میں استعمال کرتے ہیں جس سے مقصود علی اطلاق نا پسندیدگی اور عدم مشروعیت ہے اور مراد ان کی وہی ہوتی ہے جو حرمت اور حرام سے ظاہر کی جاتی ہے ۔ اور یہ قرآن اور حدیث کی متابعت میں ہے ۔ سورہ حجرات کی آیات 6 اور 7 میں مسلمانوں سے خطاب ہے ۔ آیت 7 میں ارشاد ہے : و کرّہ الیکم الکفر و الفسوق و العصیان ” کفر کو گناہ اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں نا پسندیدہ کر دیا ۔” سورہ بنی اسرائیل میں آیات 23 ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے ۔ و قضیٰ ربک تمہارے رب نے یہ بات ٹھہرا دی ، صاف صاف حکم دیا ہے ۔ اور پھر احکامات کا سلسلہ آیت 38 تک ہے اور اس آیت کا خاتمہ ان الفاظ پر ہے : کل ذٰلک کان سیئۃ عند ربک مکروھا اعمال سیئہ کے متعلق ان احکامات میں اہانت ابوین ، قتل اولاد ، قتل نفس ، اکل مال یتیم ، زنا کی ممانعت کے بعد فرمایا یہ سب کام تمہارے رب کے پاس نا پسندیدہ ( مکروہ ) ہیں ۔ ان گناہ کبیرہ اور حرام کاموں کے لیے مکروہ کا لفظ استعمال ہوا اور لفظ مکروہ استعمال کرنے سے پہلے انہیں سیئہ کہا گیا ۔ سیئات ، حسنات کی ضد ہے اور سوء ہر قسم کی برائی کی صورت کو کہتے ہیں خواہ وہ  بڑا عذاب ہو یا برا عمل ۔ حدیث میں بھی بے ہودہ قیل و قال ، کثرت سوال ، اضاعت مال کے لیے جو حرام کام ہیں اس طرح بیان فرمایا گیا ” ان اللہ عز و جل کرہ یکم القیل و قال و کرہ السوال و اضاعتہ المال ” اور حضرت عمر کا بھی قول ہے ” انا اکرہ ان احل حراماً و احرم حلالاً ” میں حرام کو حلال قرار دینا اور حلال کو حرام قرار دینا نا پسند کرتا ہوں ۔ فقہ کے چاروں فقہاے کرام نے بھی حرام کے لیے مکروہ اور انا اکرہ کے الفاظ استعمال کئے۔

تصر یحات سلف کے فہم میں بعض نا خلف کو تاہ نظر متا خرین سے سخت غلطی ہوئی اور سلف نے جن امور کو مکرہ یعنی حرام قرار دیا تھا اسے مکروہ تنزیہی ٹھہرا کر لوگوں پر دروازہ منکرات و ممنوعات کا کھول دیا اور اس طرح منکرات شرعیہ کی اہمیت عوام کے حیلہ جو قلب میں باقی نہ رہی۔”

حرام ، حلال ، مکروہ الفاظ کے جائزے کے بعد لفظ حلالہ پر غور کریں جس کا ثلاثی مادہ وہی ہے جو حلال کا ہے لیکن یہ لفظ قرآن میں نہیں اس کی حقیقت پر غور کریں۔

دین صرف خدا پرستی کی تعلیم نہیں دیتا انسانوں کو اچھی زندگی گذارنے کے اصول بھی بتاتا ہے ۔لیکن انسانوں نے دین کے ان دونوں مقاصد میں رختہ اندازی کی ۔ خدا پرستی کو نفس پرستی سے آلودہ کیا ۔ اچھی زندگی کے اصولوں کو تاویلوں ، تعبیروں ، حیلوں ، بہانوں کے ذریعے بگاڑنے کی کوشش کی کہ حرام کے ارتکاب کے لیے حلال کے احکام کو مسخ کر کے حیلے ، بہانے کے ذریعے مطلب برآری کرے حرام کا کھلا ارتکاب نہ کر سکے تو اس کے چہرے پر حلال کی دلکش نقاب ڈال دے تاکہ ” رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی ”  کا معاملہ ہو۔

قرآن نے احکام دین کو مال تجارت بنانے کی گمراہی کے ساتھ حیلوں ، بہانوں کے ذریعے حرام کو حلال قرار دینے کے  معاملات کابھی ذکر کیا ۔ یہ بھی فرمایا :

یخدعون اللہ والذین اٰمنوا و ما یخدعون الا انفسھم وما یشعرون ( البقرہ : 9 )

” اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں حالانکہ وہ خود دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں اگرچہ ( جہل و سرکشی سے ) اس کا شعور نہیں رکھتے۔ "

قرآن نے یہودی اصحاب سبت کے مکر و خدیعت کا ذکر کیا ۔ وہ ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت کی اس طرح تعمیل کرتے تھے کہ ہفتہ کی خلاف ورزی سے اتوار کو استفادہ کرتے ۔ رسول کریم ﷺ نے یہودیوں کی اس روش کی اس طرح مذمت کی :

” لعن اللہ الیھود حرمت علیھم الشحوم فجملوھا و اکلوا ثمنھا ”

” اللہ کی پھٹکار ہو یہود پر ، چربی ان پر حرام کر دی گئی تو حیلے بہانے نکال کر اس کو حلال بنا لیا ۔”

اور اپنی امت کو حکم دیا :

” و لا تزتکبوا مالا ارتبکت الیھود فتستلوا محارم اللہ بادنی الحیل ”

” وہ کام نہ کرنا جو یہودیوں نے کیا کہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو ادنیٰ حیلوں بہانوں سے حلال کر لیا ۔”

مسلمانوں نے اس حکم کی غالباً جو پہلی خلاف ورزی کی اس کا نام ” حلالہ ” ہے ۔ صحابہ کرام کے زمانے میں نکاح تحلیل ( یعنی فرضی طور پر بہ نیت استحلال حلالہ کرنے کا خیال بعض لوگوں کو پیدا ہوا تاکہ طلاق ثلاثہ کے بعد بھی مطلقہ کو رجوع کرنے کا ” شرعی طریقہ” اختیار کیا جائے۔ اللہ کے رسول نے فرمایا :

” لعن اللہ المحلل و المحلل لہ ” ( ابو داود ، ترمذی ، ابن ماجہ ، الدارمی ، مسند احمد )

حضرت عمر کو بھی ایسے خطبوں میں اعلان کرنا پڑا : ” لا اوتی بمحلل و لا محلل لہ الا رجمتھا ” یعنی جس شخص نے بطور حیلہ کے مطلقہ سے رجعت کی میں اس کو زنائے محصن کی حد جاری کیے بغیر نہ چھوڑونگا ۔

پھر بھی دوسری صدی ہجری کے اوائل میں بعض فقہائے دنیا دارنے حیلہ تراشیاں شروع کر دی تھیں اور تیسری صدی میں کتاب الحیل مرتب ہوئی ۔ بعض علماء  حق نے ان حیلوں پر فتویٰ دینے والوں کو کافر ٹھہرایا ۔ زکوةٰ سے بچنے کے لیے  سال پورا ہونے سے پہلے مال بیوی یا کسی اور کے نام منتقل کر کے زکوٰة سے بچنے کے حیلے کا ذکر سب نے سنا ۔ ازمئہ گزشتہ کے علماء حق کی جانفروشیوں اور حق گوئیوں اور علماء سود کی دین فروشوں اور کذب بیانیوں کے احوال تو کتابوں میں درج ہیں ۔ یہ علم الیقین کے زمرہ میں ہیں ۔ عین الیقین کے لیے خود  اپنے معاشرہ کے احوال دیکھیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی خلاف ورزیوں سے جو صورت حال پیش آنی تھی اور جواب ہمارے پیش نظر ہے ۔ حضرت رسالت مآب ﷺ نے اس کی پیشین گوئی فرمائی تھی ۔ یہ پیشین گوئیاں ہمارے معاشرے کے احوال اور واقعی صورتحال کی تصویر کشی ہیں ۔ صرف چار احادیث کے ترجمے درج ذیل ہیں ۔ سید المرسلین صادق الوعد و  الامین نے فرمایا :

1- "تم سے پہلے جو قومیں گذر چکی ہیں ضرور ہے کہ تم ان کے سارے طریقوں اور چالوں کی ہو بہو پیروی کرو ۔ صحابہ نے کہا : کیا یہود و نصاریٰ کی ۔ فرمایا : ہاں اور کون ۔” ذہنی غلامی سے آج ہمارا مذہب سارے نظام ہاے معیشت ، سیاست ، معاشرت ، نظام تعلیم ، کون سا نظام ہے جو یہود و نصاریٰ کی نقل اور اثر سے بری ہو۔”

2- "یہود و نصاریٰ ٹوٹ پھوٹ کر بہتر فرقے ہو گئے تھے ۔ ضرور یہ امت بھی اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ۔” حدیث میں افترقوا کا لفظ  ہے یعنی فرقوں میں بٹ جانا ۔ ہم نے فرقہ بندی کو مسلک کا نام دے رکھا ہے ۔ مسلک کی ذیلی تقسیم کا بھی ہو سکے تو حساب کر لیں ۔ کسی شخص کی مذہبی وابستگی کا سارا دار و مدار کسی نہ کسی مسلک سے وابستگی پر ہے۔”

3- "جب ایسا ہو کہ تمہارے امیر بد ترین لوگ ہوں ۔ تمہارے مالدار بخیل ہو جائیں اور تمہاری حکومت عورتوں کے اختیار میں چلی جائے تو پھر زمین کا اندر تمہارے لیے اچھا ہوگا بمقابلہ اس کی سطح کے ۔” اہل اقتدار و تمول کی کون سی کج ادائی عوام کے علم میں نہیں ؟ بخالت کے  بیشمار مظاہر ہیں کیا ٹیکس چوری اور اثاثوں کا غلط اعلان بخالت کی نشانی نہیں ؟ کیا آج سیاست میں عوام ان با اثر عورتوں کے نام سے واقف نہیں جن کے اشارہ چشم و ابرو پر وزیر اعلیٰ اور دیگر عوامی نمائندے اور عہدیدار ناچتے ہیں اور پس پردہ خلوت کدوں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی راز نہیں ۔ عورتوں کی راست حکومت ضروری نہیں با لواسطہ حکومت بھی ہوتی ہے ، ہو رہی ہے اور تاریخ بھی اس کی گواہ ہے ۔ غربت و بے کسی سے خود کشی کرنے والے ہی نہیں کروڑوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر زندگی گزارنے والوں اور کوفت و کلفت کے مارے لوگوں  کے لیے سوائے گوشئہ قبر کے کہاں چین ہے اور قبر میں بھی مردوں کو امان نہیں ان کی لاشیں اور اس کے اجزاء مال تجارت ہیں۔”

4- ( اخرجہ الشیخان و النسائی ) ” حضرت علی نے قسم کھا کر روایت کی کہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا :آخری زمانے میں ایک قوم ظاہر ہوگی نو خیز اور ناقص العقل لوگوں کی بظاہر ان کی باتیں بڑے ہی اچھے لوگوں کی سی ہو گی ، قرآن پڑھیں گے ، مگر ایمان ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار پر سے نکل جاتا ہے ۔” حدیث شریف میں ” سفہاء الاحلام ” کے الفاظ استعمال ہوئے یعنی پراگندہ خیال بے وقوف ۔ علماء سلف نے آخر زمانے کی تشریح کی ۔ مسلم کی حدیث زید بن وہب اور صحیحین و ابو داود کی روایت ابو سعید و انس میں آخر الزماں کے لفظ نہیں مگر یہ بھی صراحت کی کہ ہر استقبال قرب و بعد دونوں پر محیط ہے۔”

ہمارے ملک میں اس وقت علماء کی بہتات اور کئی قسمیں رائج ہیں ۔ مولانا ، علامہ ، مفتی ، عالم دین ، عالم آن لائن ، مذہبی اسکالر ، پروفیسر ، ڈاکٹر ، دانشور وغیرہ ۔ اس کے علاوہ ٹی وی نے ہر جاہل ان پڑھ ناظر کو بزعم خود عالم بنا دیا ہے ۔ یہاں عمومی طور پر عالم کے لیے ضروری ہے کہ علم و شرم سے بالکل عاری ہو اس پر  ان الذی جمع مالاً و عددا ( جو مال جمع کرتا اور گنتا جائے ) کا عالم طاری ہو ۔ ہر سیاست داں ، معاشی مذہبی جماعت کا سربراہ اور کارکن ، صاحب اقتدار و مال ، اینکر ، بینکر فتویٰ دیتا ہے ۔ ٹی وی پر ایک سنیٹر مفتی اعظم نے فتویٰ دیا کہ اس کی جماعت کے قائد کو برا کہنا کفر ہے اور وہ قائد ما شاء اللہ کئی مقدمات میں ملزم ہے اور یہ رویہ ہر سیاسی مذہبی جماعت کے ہر کارکن کا ہے جو اپنے قائد کا معتقد نہیں پجاری یا کم از کم امتی ہے اور قائد کا مقام وہ ہے جس کے خلاف زیر لب کچھ کہنا موت کا حقدار ہونا یا اور طریقے سے برباد ہونا ہے ۔ ہر ایک شریعت کا ترجمان ہے ۔ ایک سیاسی جماعت کا نو خیز قائد جسے شائد قرآن صحیح مخارج کے ساتھ پڑھنا بھی نہ آتا ہو کہتا ہے ہمیں شریعت نہ سکھاؤ ہم جانتے ہیں شریعت کیا ہے ۔ بے چارے کو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ دین اور شرع و منہاج میں کیا رشتہ ہے شائد کسی انکل نے کچھ لکھ کر دیا وہی پڑھ دیا ۔ یہی حال ایک بہت بڑے بکل شیئٍ علیم قائد کا ہے جو فتنہ انگیز مفتی بھی ہے اور باوجود کمال سفاہت فلسفی اور دانشور بھی ۔ وہ  کلاشنکوفی شریعت کا راگ الاپتا ہے ایک جہاں دیدہ حق آگاہ ، عمر رسیدہ عالم دین نے فتویٰ دیا کہ پاکستان میں شریعت نافذ ہے اس پاکستان میں جہاں معیشت کا دار و مدار بالکلیہ سود ، رشوت ، غبن ، تاوان ، بھتہ اور ہر قسم کی حرام خوری پر ہے ۔ جہاں قبائلی سردار حلالہ سے بدتر رسم ونی کے علی الاعلان فیصلے دیتے ہیں ۔ ایام جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا ۔ اسلامی شریعت والے پاکستان میں تین ، پانچ ، سات سال کی معصوم بچیوں کو اغواء کے بعد زنا بالجبر کر کے لاش ویرانوں میں پھینک دی جاتی ہے ۔ انفرادی یا اجتماعی زنا بالجبر جیسے بھیانک جرم کی سنگینی کو کم کرنے کے لیے اسے زیادتی کا نام دیا گیا ہے یہ جرائم روز وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔ کتنوں پر شرعی حد جاری ہوئی ؟ ہمارے معاشرے کے علماء کو معلوم ہی نہیں شریعت کیا چیز ہے کس طرح نافذ کی جاتی ہے؟ حضرت شارع ﷺ  کا اسوہ کیا تھا احکام کیا ہیں ؟  یہاں حرام و حلال گڈ مڈ ہیں ۔ ہر حرام ، ہر گناہ اہل اقتدار ، سرکاری ملازمین کی جانب سے یا ان کی ایماء پر یا ان کی سرپرستی میں یا فرائض منصبی سے چشم پوشی سے ہوتا ہے خواہ وہ مرے ہوئے حلال مویشی کے حرام گوشت کی فروخت ہو یا بابائے قوم کی قبر کے پہلو میں زنا کاری ۔ کارو کاری  کے نام پر قتل باعث فخر ہے غیرت کا کام ہے قتل عمد پر  عدالتوں سے موت کی سزا دی جاتی ہے لیکن قاتلوں پر سزا کی تعمیل نہیں ہوتی کیوں کہ ہماری حکومت کو معلوم ہے کہ امریکہ اور یورپ کو سزائے موت پسند نہیں پھر بھی کہا جا رہا ہے کہ یہاں شریعت نافذ ہے۔

اب تک کے وفاقی وزرائے مذہبی امور کی دین داری اور علمیت کا جائزہ لیں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل تو مختلف مسالک کے علماء کا کلب ہے انہیں قرآن و حدیث کا علم ہوتا تو فقہی تقسیم اور مسالک کی نمائندگی کا نام نہ لیتے اور پھر بھی عوام تو عوام ۔ علماء کہتے ہیں کہ پاکستان اسلامی ملک ہے یہاں شریعت نافذ ہے یہ اسلام کا قلع ہے ۔ کیا کافرانہ نظام کو اللہ کی شریعت کا نظام قرار دینا  افترا علی اللہ نہیں ؟