ہڑتال


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/ مئی، جون 2013
ہڑتال

 

دل کیگہرائیوں میں اتر جانے والی ایک گداز تحریر

محمدتنزیل الصدیقی الحسینی

"ارے سنتے ہو ! منے کی دوا کب لاؤ گے؟” اس نے ذرا تیز لہجے میں اپنے شوہر سے کہا ، جو خلاؤں کو گھور رہا تھا۔
"ہاں ہاں لے آؤں گا۔آج تو دہاڑی لگ ہی جائے گی، آج ضرور لے آؤں گا۔” اس نے پُر عزم لہجے سے کہا اور یہ کہہ کر اپنے کپڑے جھاڑ کر کھڑا ہو گیا اور گھر سے نکلنے کے لیے تیار ۔
"ارے اتنی جلدی بھی نہیں ہے، ناشتہ تو کرتے جاؤ۔”
اس نے زیرِ لب تلخ لہجے میں کہا : "ناشتہ” اور چل دیا۔ وہ جانتا تھا کہ ناشتہ کیا ہوگا ایک آدھی روٹی اور پانی کا سالن۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

آج شہر کی فضا پر آغازِ صبح ہی سے خاموشی و سکوت کا دورہ ہے، لوگ گھروں میں دَبکے پڑے ہیں، اس لیے کہ نکلنا نہیں چاہتے۔آج نفاذِ اسلام کی تحریک کے سب سے بڑے داعی جلسۂ عام سے خطاب کرنے والے ہیں۔جن کے دل نفاذِ نظامِ اسلامی کی تڑپ رکھتے ہیں وہ جلسۂ عام میں جمع ہورہے ہیں۔ حکومتِ وقت کے جبر و استبداد کے باوجود ایک بڑی تعداد جمع ہوگئی۔خطاب شروع ہوا اربابِ اقتدار سے پُرزور مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی نظام نافذ کیا جائے، ابھی فضا پر اس مجاہدِ عصر کی آواز کی گونج باقی ہی تھی کہ یک بیک سپاہیوں کی بہت بڑی نفری حملہ آور ہوئی۔ ان اللہ کے بندوں کے پاس تھا ہی کیا جو اپنا دفاع کرتے۔اک نشہ تھا جس کی بے خودی انہیں یہاں تک لے آئی تھی۔ یہ وہ نشہ نہیں تھا جو قدموں کو بہکا دیتی ہے اور عقل و خِرد کے پردوں کو چاک کردیتی ہے، بلکہ یہ وہ نشہ تھا جو روح و قلب پر سرشاری طاری کردیتی ہے اور ذہن و فکر کو عقل سے گویا کردیتی ہے۔ ابھی یہ عالم و حشت و سراسیمگی جاری ہی تھا کہ فضا تکبیر کے کلمات سے گونج اٹھی، مغرب کا وقت آچکا تھا، لاٹھی برداروں نے تاریکی کے طلوع ہوجانے پر اور کچھ اپنے تھک جانے کے باعث بھی ہاتھ روک لیے، انہوں نے جانا کہ جس طرح تاریکی روشنی پر غالب آگئی بعینہ وہ بھی پیروکارانِ حق پر غالب آگئے،مگر وہ نادان نہیں جانتے کہ روشنی ہمیشہ تاریکی کے سینے کو چیر کر ہی نمودار ہوتی ہے۔خزاں نے ہمیشہ باغوں کو اجاڑا اور گلشن کو برباد کیا،مگر اُمیدِ بَہار پر ہی درختوں کی زندگی کا مدار ہے اور پھر بارش کی ایک بوند زمین کو زندگی سے ہَمکنار کردیتی ہے۔

درس وفا


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

مولانا ابو الکلام آزاد کے قلم معجز رقم سے

درس وفا

ہجرت کی تیسری صدی قریب الاختتام ہے ۔ بغداد کے تخت خلافت پر المعتضد باللہ عباسی متمکن ہے ۔معتصم کے زمانے سے دارالخلافہ کا شاہی اور فوجی مستقر سامرہ میں منتقل ہو گیا ہے ۔پھر بھی سر زمین بابل کے اس نئے بابل میں پندرہ لاکھ انسان بستے ہیں ۔ایران کے اصطخر ، مصر کے ریمس اور یورپ کے روم کی جگہ اب دنیا کا تمدنی مر کز بغداد ہے ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں