اسرار ایَّاکَ نَعْبُدُ وَ ِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16

 اسرار  ایَّاکَ نَعْبُدُ وَ ِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ

امام حافظ ابن قیم الجوزیة رحمہ اللہ

ترجمہ : مولانا عبد الغفار حسن رحمہ اللہ

خلق و ا مر ، کتب و قوانین ، ثواب و عتاب کا سر چشمہ دو کلمے ہیں (ایاک نعبد و ایاک نستعین ) انہی پر عبودیت  (بندگی) اور تو حید کا دار و مدار ہے ۔ اسی بنا پر کسی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں اتاری ہیں ۔ جن کا خلاصہ تورات، انجیل اور قرآن میں ہے اوران تینوں کے معنیٰ قرآن میں یکجا جمع ہیں اور پھر پورے قرآن کا مضمون مفصل (حجرات تا والناس) موجود ہے ۔ان تمام کے معانی سورہ فاتحہ میں ہیں اور سورہ فاتحہ کالب لباب (ایاک نعبد و ایاک نستعین ) میں آ گیا ہے ۔ یہ دو نوں کلمے رب اور بندے کے در میان منقسم (بٹے ہو ئے ) ہیں ( ایاک نعبد ) رب کے
لیے ہے اور ( ایاک نستعین ) بندے کے لیے ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں
Advertisements

طلبِ استعانت کا قرآنی تصور


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/ مئی، جون 2013

طلبِ استعانت کا قرآنی تصور

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

استعانت کیا ہے ؟

“استعانت” عربی زبان کا لفظ ہے ، “ عون “ سے ماخوذ ہے ، جس کے معنی ہیں : مدد و اعانت ۔ تاہم استعانت و معاونت میں فرق ہے ۔ استعانت کے معنی ہیں :

“اپنی پیش آمدہ مصائب و بلا پر کامل یقین کے ساتھ کسی سے مدد چاہنا ۔ “

آخرت کی بھلائی چاہنا یا وہ امور جو حس و ادارک سے بالا تر ہیں ان میں کسی سے مدد 

چاہنا ۔ “

امام بغوی فرماتے ہیں :
علی ما یستقبلکم من أنواع البلاء و قیل: 

علی طلب الآخرة ۔” (معالم التنزیل، للامام البغوی المتوفی
٥١٠ھ ، طبع دار طیب للنشر و التوزیع ١٤١٧ھ ) کو پڑھنا جاری رکھیں