حلب نہیں، امت مسلمہ کا قلب جل گیا ہے


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

شام کی سر زمین مسلمانوں کے خون سے سرخ آلود ہوگئی۔ کبھی یہاں خوب صورت باغات تھے اور لہلہاتے گلستاں۔ لیکن اب یہ اجڑا دیار ہے، جہاں گلتی سڑتی لاشوں کی بو اور مسمار ہوتی عمارتوں کا ملبہ ہے۔ آئندہ نسلیں جب کبھی یہاں فصل کی بوج بوئیں گی تو مجھے یقین ہے اس فصل میں شامی مسلمانوں کے خون کی بو بھی در آئے گی۔ سنا ہے کہ یہاں زیتوں کے باغات بھی ہوا کرتے تھے اور اپنے معیار کے اعتبار سے یہ دنیا کے عمدہ ترین زیتون ہوتے تھے لیکن آئندہ نسلیں جب زیتون کے باغات کی آبیاری کریں گی تو کچھ بعید نہیں کہ یہاں کے زیتون کے رنگ میں مسلمانوں کے لہو کی آمیزش بھی ہو۔

فرعون مر گیا ، مگر فرعون محض ایک شخص نہیں تھا جو مر جاتا، وہ درندگی کی علامت تھا۔ انسانی حیوانیت کی معراج تھا۔ بچوں کو قتل کرنے کی جو رسم اس نے شروع کی تھی آج کی اس مہذب دنیا میں اس کے پیروکار اسی فرعونی رسم کا احیاء کر رہے ہیں۔ بشار الاسد کو بشارت ہو دنیا اسے کبھی نہیں بھولے گی۔ وہ اسلامی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کی فرعونیت، بہیمیت اور درندگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اس نے تاریخ میں اپنے لیے اسی کردار کو منتخب کیا ہے تو اسے اسی عنوان سے یاد بھی رکھا جائے گا۔

زمین پر گرنے والاخون اگر مسلمانوں کا ہو تو نہ حقوق انسانی کے سب سے بڑے علمبردار امریکا کو کوئی تکلیف ہوتی ہے اور نہ ہی اشتراکیت زدہ روس کو۔ اقوام متحدہ بھی ایسے موقع پر خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔ مظلومانِ شام کی بربادی میں ان سب کا مشترکہ کردار ہے۔

اور داعش کا خلیفہ کہاں ہے !! تاریخ کا وہ لمحہ یاد کرو، جب تاتاریوں میں گھری ایک عورت وا معتصماہ پکارتی ہے اور عباسی خلیفہ معتصم باللہ اس کی مدد کے لیے نکل پڑتا ہے۔ شام کی کتنی ہی مظلوم عورتیں اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے ہی ہاتھوں ابدی نیند سو گئیں مگر خلافت اسلامیہ کے اس دعویے دار خلیفہ کی رگ حمیت نہ جاگی۔

اور وہ جو ہر سال القدس کی آزادی کی لیے ریلیاں نکالتے ہیں۔ اسی القدس پر غاضبانہ قبضہ کرنے والے اسرائیل کے ساتھ مل کر حلب کی سر زمین پر مسلمانوں کا لہو بہا رہے ہیں۔

تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو

افسوس اس بات کا نہیں کہ حلب جل گیا افسوس تو اس بات کا ہے کہ امت مسلمہ کا قلب جل گیا ہے۔ آج ایک ارب مسلمانوں میں ایسے دو ہاتھ بھی نہیں جو بارگاہ الٰہی میں اٹھیں تو خالی نہ لوٹائے جائیں اور ایسی ایک زبان بھی نہیں جس کی صدائے دل سوز عرش الٰہی تک پہنچ کر مرتبہ اجابت حاصل کرسکے۔

یہ سب ہماری بد عملی کی سزا ہے۔ ہم بد عمل ہیں اسی لیے "وھن” کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ لیکن وہ سب جو آج مظلوم مسلمانوں کے لہو سے اپنے ہاتھ رنگ رہے ہیں۔ خواہ شام و عراق میں ہوں یا فلسطین و کشمیر میں اور یا میانمار و فلسطین میں، بخوبی جان لیں جس دن ہم نے اپنے بد عملی سے توبہ کرلی وہ دن ان کے لیے انتہائی سخت دن ہوگا۔ ایک ایسا دن جسے چشم فلک نے آج تک نہیں دیکھا۔

اے اقوام تہذیب کے علمبردارو !

اے مساوات انسانی کے دعویدارو !

اور اے امت مسلمہ کی وحدت کا پرچار کرنے والے منافقو!

ڈرو اس دن سے جب ہم اپنے سر نہیں روح اللہ کی بارگاہ میں جھکا دیں گے۔

ڈرو اس دن سے جب ہم اپنے نفسوں کی نہیں صرف اللہ واحد قہار کی پرستش کریں گے۔

ڈرو اس دن سے جب زندگی ہمارے لیے بوجھ اور موت اللہ سے ملاقات کا ذریعہ بن جائے گی۔

ڈرو اس دن سے جب تمہارے پاس ہمیں ڈرانے کے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا۔

کیونکہ وہ دن ہماری تاریخ بھی بدل دے گا اور تمہاری تاریخ بھی۔

٭-٭-٭-٭-٭

ماہِ رمضان المبارک کا تقدس اور ہم


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ہمارا معاشرہ اخلاقی انحطاط و زوال کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ہمارے لیے دین رسم سے نکل کر مالِ تجارت بن چکا ہے۔ ہم اللہ کے ساتھ تعلق کی بھی قیمت لگانے لگے ہیں۔ اپنی عبادتیں بھی بیچنا چاہتے ہیں۔ اپنے شوقِ زر پرستی کے اظہار کے لیے ہم نے دین کو بھی مشقِ ستم بنا ڈالا ہے۔ انحطاط اور زوال ایک دم سے پیدا نہیں ہوتے۔  پڑھنا جاری رکھیں

اللہ کے ساتھ تجارت


الواقعۃ شمارہ 50 ، رجب المرجب 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ایسا پُر آشوب دور پہلے کبھی نہیں آیا۔ مسلم امہ  بحیثیت مجموعی ہر اعتبار سے زوال پذیر ہو گئی ہے۔ سیاسی زوال سے بھی کہیں بڑھ کر جس المیہ کا ہمیں رونا ہے وہ ہمارا روحانی و اخلاقی انحطاط ہے۔ ایک قوم یا ملت ہر قسم کے مادی وسائل سے محروم ہوجانے کے بعد دوبارہ انہیں حاصل کر سکتی ہے مگر اخلاقی جواز کھو دینے اور اپنی اصل کو فراموش کردینے کے بعد قوم اپنی شناخت ہی کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد کوئی ترقی یا کامیابی کچھ معنی نہیں رکھتی۔

افسوس اس دور جدید میں جب کہ الفاظ اپنی معنویت کھو رہے ہیں دعوت حق کے اسرار بھی کہیں دفن ہو گئے ہیں۔ ایک واضح اور انتہائی معلوم حقیقت بھی ہماری بصیرتوں کے لیے حجاب بن گئی ہے۔

دنیا نے ہر دور میں داعیانِ حق پرست کی نا قدری کی ہے۔ مگر وہ جس بازارِ جنس کے خریدار ہیں اس کی تو دنیا ہی مادیات کی سطح سے کہیں بلند ہے۔

ان اللہ اشتریٰ من المؤمنین انفسھم و اموالھم بان لھم الجنۃ  ( التوبة: ١١١ )

"بلا شبہ اللہ نے مومنین کی جانوں اور ان کے مالوں کو نعیم اُخروی کے بدلے خرید لیا ہے۔”

کوئی تاجر ہو تو اسے نفع ذات مطلوب ہو۔ کسی کو حصولِ مادیت کی خواہش ہوتو اسے کھونے کا خوف بھی ہو۔ کسی کو اقتدار و سطوت کی تمنا ہو تو ناکامی کے اندیشے بھی ستائیں ، مگر یہاں کا تو عالم ہی دوسرا ہے۔

و من الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ ( البقرة: ٢٠٧ )

"اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کی رضا کی جستجو میں اپنی زندگی فروخت کر دی ہے۔”

ایک شخص جب اللہ کی غلامی اختیار کر لیتا ہے اور اس کے کارخانہ دعوت کا ملازم بن جاتا ہے تو اس سے صرف ایک ہی چیز مقصود و مطلوب ہوتی ہے ، وہ ہے — اخلاص۔

اخلاص، حق پرستی کی راہ کی سب سے بڑی اور مطلوب حقیقت ہے۔ اللہ سے تجارت کا کوئی خواہشمند اخلاص کی اس قیمت کو ادا کیے بغیر کبھی اللہ سے تجارت نہیں کر سکتا۔ وہ اگر حق پرستی کی راہ میں آنے والی مشکلات سے اپنا دامن چھڑانا چاہتا ہے یا بذلِ مال و متاع سے گریز کرتا ہے یا زندگی کی رعنائیاں موت کی وحشت ناکی پر غالب آنے لگتی ہیں تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے دل کی ساری آرزوئیں استوار کرے مگر ابتغاء مرضات اللہ کے بازار میں اپنے نرخ کے بالا ہونے کی امید نہ رکھے ۔کہ

روبازی کن عاشقی کار تو نیست

ایثار و قربانی، ایمان و عزیمت کی راہ کی سب سے بڑی اور روشن مثال حضرت صدیق اکبر کی مقدس زندگی میں ظاہر ہوتی ہے ۔ اپنا سب کچھ لٹا کر کاشانہ نبوت میں حاضر ہوتے ہیں۔ سوال ہوتا ہے ما ابقیت لاهلک ؟ اپنے اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو ؟ عرض کیا : ابقیت لهم الله و رسوله ! ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں۔

دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی

دیوانہ تو ہر دو جہاں را چہ کند ؟

یہ درست ہے کہ اس مقام رفیع تک بڑوں بڑوں کو رَسائی نہیں مگر ان کےمقدس نشانِ قدم کی پیروی تو لازم ہے۔

اللہ پر یقین محکم ہی ہے جو اللہ پر توکل کو جنم دیتا ہے۔ لوگوں کو اپنے فانی مالکان پر بھروسہ ہو سکتا ہے تو اللہ کو اپنا نفس فروخت کرنے والا اپنے اس غیر فانی مالک پر اپنے توکل کی بنیادیں کیوں نہ استوار کرے ؟

افسوس ہمیں پرودگارِ عالم کی جنت تو یاد رہی۔ مگر اس جنت کی قیمت کو بھول گئے۔ ہم ایمان کے ساتھ مشروط اس تجارت کو بھول گئے ہیں جو ہم نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھتے ساتھ ہی اللہ رب العزت سے کیا تھا۔

امت مسلمہ خواہ مادیت کی کیسی ہی پستی میں جا گرے اگر اللہ رب العزت سے اپنی تجارت کا ایفا کرنے کا عزم کرلے تو دنیا کی ہر طاقت کو سرنگوں کر سکتی ہے۔ کیونکہ اس تجارت میں کھونے کا کوئی خوف نہیں صرف پانے کا یقین ہے اور پانے کا یقین ہر خوف کو مٹا دیتا ہے۔ اور معلوم ہے کہ جس دل میں خوف نہ ہو اسے کوئی تسخیر نہیں کر سکتا۔

تاریخ پاکستان کا خلاء — ایک با کردار قیادت


الواقعۃ شمارہ 48 – 49 جمادی الاول و جمادی الثانی 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

پاکستان کی نظریاتی سرحدیں عرصہ ہوا پامال ہو چکی ہیں ، اب تو اس نظریے کی لاش کے چیتھڑے اڑائے جا رہے ہیں۔ پاکستان اسلام کےنام پر وجود میں آیا، کم سے کم برصغیر کے مسلمانوں کو یہی جذباتی نعرہ دیا گیا۔ لیکن روزِ اوّل ہی سے یہاں اسلام کا دیس نکالا رہا۔ آقاؤں کے چہرے بدلے، غلامی کے انداز بدلے۔ باقی سب کچھ وہی رہا۔ مرعوب زدہ ذہنیت نے مسند اقتدار سنبھال لی۔ اسلام کا مذاق اڑانے کی رسم چل پڑی ، کھل کر کہنے کی جرات نہ ہوئی تو "مولوی” پر غصہ نکالا گیا۔ لیکن تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ غلامی سے بغاوت ، اور بغاوت سے انقلاب کا عمل جاری رہے گا۔ پڑھنا جاری رکھیں

مسلمانوں کا انتشار خیال –اور—اتحاد امت کاچیلنج


اداریہ: مسلمانوں کا انتشار خیال –اور—اتحاد امت کاچیلنج

پڑھنا جاری رکھیں

ادراک .اداریہ


شوال 1434ھ/ اگست ، ستمبر2013، شمارہ  17

ادراک .اداریہ

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

آج امت مسلمہ کی حالت 

آج امت مسلمہ کی حالت اس کبوتر کی مانند ہے جو بوقتِ مصیبت اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مصیبت ٹل گئی ۔ اس کچھوے کی طرح ہے جو اپنے سر اور پیر کو جسم کے اندر داخل کر لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ آنے والی مشکل سے بچگیا ۔ ادراک و آگہی جہاں اہلِ بصیرت کے لیے نعمتِ الٰہی ہے وہیں بزدلوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ۔ تاہم آج سے چودہ صدیوں قبل ہادی عالم صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلمنے اس نعمتِ الٰہی کی بشارت دنیا کو دے دی تھی: 
(  اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ) (یونس :٦٢)“ سن رکھو کہ اللہ کے دوستوں پر نہ

کوئی خوف ہے اور نہ ہی کسی طرح کی غمگینی ۔”  Idrak editorial PDF

حالات کی خواہ کتنی ہی سنگینیاں کیوں نہ ہوں حاملِ ایمان قلوب تقدیرِ الٰہی پر راضی برضا رہتے ہیں جبکہ جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ کسی آزمائش کے متحمل نہیں ہو سکتے پڑھنا جاری رکھیں

نبوی منہج کی تلاش۔ اداریہ


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 11 ربیع الثانی 1434ھ/ فروری، مارچ 2013

نبوی منہج کی تلاش (اداریہ)

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی
0 Nabwi Manhaj PDF PDF Download

اللہ تعالیٰ نے دینِ ہدایت کو بذریعہ "کتابِ ہدایت” دنیا پر پیش کیا۔ جس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کتاب جس طرح عرب کے ایک بدو کو مطمئن کرتی ہے اسی طرح علم و فضل کے گہواروں میں پرورش پانے والے ایک فلسفی مزاج عالم کو بھی تیّقن کی دولت سے ہمکنار کرتی ہے۔ صدیاں گزر گئیں مگر اس کتاب کے اسرار و رموز اور عجائب و لطائف کی عقدہ کشائی جاری ہے۔ الہامی علم کی یہی حیرت انگیز تاثیر تھی جس نے خواص اور عوام دونوں کو یکساں طور پر متاثر کیا۔ "سلسلۂ ہدایت و رہبری” جس طرح خواص کے لیے آسان ہے اسی طرح عوام الناس کے لیے بھی۔ مگر قرآنِ کریم نے خواص ہوں یا عوام، کسبِ ہدایت کے لیے "تقویٰ” کو شرطِ لازم قرار دیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں