مشعر باصطلاح صوفیہ و معارج و مدارج اہل سلوک


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمة اللہ علیہترجمہ : مولانا عبد العزیز صمدن فرخ آبادی

مشعر باصطلاح صوفیہو معارج و مدارج اہل سلوک

شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمة اللہ علیہکا ایک ایمان افروز مکتوب

نحمدہ و نستعینھ و نصلی و نسلم عاجز سیّد نذیر حسین بخدمت شریف میرے مفتخر و محبوب مولوی سیّد عبد العزیز صمدنی سلمہ ربّہ۔
بعد السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ ۔ واضح ہو کہ آپ کا خط پہنچ کر خوشی و خرمی حاصل ہوئی ۔ انبساط (کشادگی ) و انشراحِ قلب کی حالت تحریر کرکے میرے ناسور کہنہ کو تازہ کردیا ۔
اے عزیز ! تراخی و توقف شانِ باری تعالیٰ ہے ، جو چیز دیر سے حاصل ہوتی ہے ، وہ دیرپا ہوتی ہے ۔ سلطان الاذکار قرآن مجید ہے ۔ جو مجھ سے سیکھا ہے اس سے کام لیں ۔ ” فنا فی الشیخ ” میرے حضرات کا طریقہ نہیں ہے بلکہ شیخ اس لیے ہے کہ قرآن و حدیث سے ان کو جو کچھ معلوم ہوا ہے یا بزرگانِ طریقتِ صادقہ نے ان کو عطا فرمایا ہے ، وہ طالب کو پہنچادیں ۔ شیخ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ اپنا قدم حلقۂ شریعت سے باہر رکھے جو کوئی میرا حال دریافت کرے اس کو میری طرف سے کہہ دو۔

بلبل از گل نگزرد گر در چمن بیند مرا
بت پرستی کے کند گر برہمن بیند مرا
در سخن پنہاں شدم مانند بو در برگ گل
ہر کہ دیدن میل دارد در سخن بیند مرا
میری باتیں صرف اللہ اور اس کے رسول کا قول ہے ۔صحاح ستہ میں باب رقاق کو دیکھا اور پڑھا ہے ، وہ سب تصوف و درویشی ہے ۔ درویشوں نے کہاں سے حاصل کیا ہے اسی فصل رقاق سے میرے شیخ علیہ الرحمة (١)  برابر فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے فعل سے آنکھیں بند کرلو ، میری باتوں پر کان رکھو اور اپنے دل میں جگہ دو ۔ ” یاد ہوگا کہ فقیر نے آپ سے بیان کیا تھا کہ اگر تہجد کے وقت خلوصِ دلی میسر ہو اور کسی طرف توجہ نہیں ہو تو یہ خلوص ہزار چلّوں کے برابر ہے ۔ اربعین ( چلّہ کشی ) یہ نہیں ہے کہ قبر پر بیٹھیں ، یہ فعل رسول سے منقول نہیں ہے اور نہ اس کا اجر مذکور ہے ۔ خدا رسیدگی کا مقام مسجد ہے نہ کہ قبر ۔ مسجد سے جو کوئی بھاگے اور مزار پر بیٹھے وہ خدا سے بھاگتا ہے ، اس کی تقدیر میں خدا رسیدگی نہ ہوگی ۔ کشفِ قبور کے رمز کو واضح طریق آپ سے کہہ چکا ہوں ان باتوں کو خدا رسیدگی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اگر کوئی شخص کہے کہ میرے پیر پانی پر چلتے ہیں یا وہ آسمان پر اُڑ جاتے ہیں ہرگز اس کے اڑنے اور آسمان پر جانے کا یقین نہ کرو کیونکہ درویشی میں ایسی شعبدہ بازی یعنی ” بر آب رفتن و بر آسمان پریدن ”سے کیا تعلق بلکہ
چشم بند و گوش بند و لب بہ بند
گر نہ بینی سرّ حق بر ما بخند
اے عزیز ! ایسی چلّہ کشی سے کیا حاصل ، جو آج کل کے لوگ ( ارباب ریاست ) قبر پرستی کو آئینِ درویشی خیال کرتے ہیں ۔ حالانکہ قرآن و حدیث اس کے خلاف ندا کر رہا ہے ۔ بزرگانِ طریقت ( اللہ تعالیٰ ان کی دلیل کو روشن کرے ) وہ اس قبر پرستی سے ہمیشہ بیزار تھے اور بیزار رہے ۔ ” لطائفِ خمسہ ” ( نمازِ پنجگانہ ) حل مشکلات کی کفیل ہوکر نورانیت کے نزول کا باعث ہوتی ہے ۔ گو یا نماز اسمِ اعظم ہے ۔ ہمیشہ اپنی حالت پر نظر ڈالنا چاہیئے اور دوسرے کی عیب جوئی سے پرہیز کرنا چاہیئے ، یہ بات مشکلوں کے حل کرنے والی ہے ۔ سمجھو اور غور کرو آفات نازلہ پر صبر کرنا آلِ عباد و صالحین کا طریقہ ہے اور صبر پر ثابت قدم رہنا صوفیا کا شعار ہے ۔ جو کچھ پہنچتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو کچھ جاتا ہے وہ اس کے حکم سے باہر نہیں ہے ۔ فی زمانہ کے صوفیا کا ذکر آپ نے کیا یہ سب مکرو فریب سے گدائی کرتے اور پیٹ پالتے ہیں اور دنیا و آخرت کی رُو سیاہی حاصل کرتے ہیں ۔ ان مکار دیو سیرت سے پرہیز کرنا دانشمندوں کا کام ہے ۔ حضرت سیّد السالکین (٢)قدس سرہ صادق پور (٣) میں فرماتے تھے کہ” فقیروں کی نظر میں اللہ تعالیٰ نے تاثیر دی ہے اگر طالب صادق ہے تو ایک نگاہ میں مراتبِ اعلیٰ کو پہنچادیتے ہیں ۔” وہ مراتب کیا ہیں ؟ خدا کو پہچاننا اور اپنے آپ کو خدا کا بندہ جاننا ۔ یہی تعلیم درویشی کا اصل اصول ہے ۔
 حلقہ قائم کرنا ، ہو حق کرنا ، شور و غل مچانا اور اہلِ محلہ کو پریشانی میں ڈالنا سوتے ہوؤں کو جگانا یہ سب باتیں حصولِ زر کے لیے ہیں ، ورنہ خدا سے مخفی کلامِ الٰہی ناطق ہے ۔ حضرت قدسی سیرة شاہ محمد آفاق صاحب  فرماتے تھے کہ ” مینڈک کی طرح شور مچانا شانِ درویشی نہیں ہے خدا تعالیٰ سویا ہوا نہیں ہے کہ اس کو جگائیں ۔”بلکہ حرکاتِ بیہودہ کو وہ عملِ غیر صالح تصور کرتے ہیں۔ حضرت رسولِ خدا نے فرمایا کہ ” میں عبادت بھی کرتا ہوں ، نکاح بھی کرتا ہوں اور غذا بھی کھاتا ہوں لیکن میں شور و غل نہیں کرتا ہوں اور عاجزی و انکساری نبیوں کی شان ہے ۔ ”
اے عزیز ! شرک و بدعت سے الگ رہنا اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا صوفیائِ کرام کا بہترین طریقہ ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے چند اعمال کو دریافت کیا ہے ، یہاں آئیے اور سنیے اور چپ رہیے کیونکہ
خموشی معنی دارد کہ در گفتن نمے آید
و اللہ اعلم بحقیقة الحال ۔ و السلام خیر الختام
حواشی
(١)          شیخ سے مراد شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی رحمہ اللہ ( ١١٩٢ھ -١٢٦٢ھ )ہیں ۔
(٢)         سیّد السالکین سے مراد حضرت سیّد احمد شہید رائے بریلوی رحمہ اللہ ( ١٢٠٠ھ -١٢٤٦ھ ) ہیں ۔
(٣)         صادق پور ، عظیم آباد پٹنہ کا مشہورِ انام محلہ ، جو انگریزی استبداد کے زمانے میں اندرونِ ہند مجاہدین کا مرکزِ اوّل تھا ۔

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

سیّد خالد جامعی  ( کراچی یونی ورسٹی ،کراچی )

قسط  نمبر 1 قسط  نمبر 2

جامع ترمذی میں روایت ہے ابن عباس کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے اپنے سینۂ مبارک سے چمٹالیااور دعا فرمائی ” اللّٰھم علمھ الحکمة ” ( جامع ترمذی،ج٢،ص٢٢٣و صحیح بخاری باب ذکر ابن عباس) ان کی کم عمری کے باوجود حضرت عباس کے تفقہ فی الدین کو تمام صحابہ کرام اہمیت دیتے۔ حفظ مراتب میں عمر نہیں علم اور عمل مراتب کا تعین کرتے ہیں۔
حضرت عمر فرماتے تھے” ذلک فتی الکھول نہ لسان سنول وقلب عقول” ( سیر اعلام النبلاء ،ج٣،ص٣٤٥) ”یہ ایسے نوجوان ہیں جنھیں پختہ عمر لوگوں کا فہم و بصیرت حاصل ہے۔ ان کی زبان علم کی جو یا اور قلب عقل کی محافظ ہے ۔” حضرت سعد بن ابی وقاص  فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ حاضر دماغ ، عقل مند ، صاحب علم ، حلیم و بردبار شخص نہیں دیکھا۔ حضرت عمر مشکل مسائل کو حل کرنے کے لیے حضرت عباس کو بلاتے اور کہتے ایک مشکل مسئلہ پیش آچکا ہے پھر ان کے قول کے مطابق ہی عمل کرتے حالانکہ ان کی مجلس میں بدری صحابہ بھی موجود ہوتے تھے۔” فیقول قد جاء ت معضلة ثم لا یجاوز قولہ و ان حولہ لاھل بدر” ( سیر اعلام النبلاء ،ج٣،ص٣٤٧)  لہٰذا حضرت عباس کو کم عمری کے باوجود حضرت عمر اکابر صحابہ ، بدری صحابہ کے ساتھ بٹھاتے تھے

یہ مقام ابن عباس کو دین کے لیے محنت سے ملا اور محنت کا طریقہ کیا تھا حضرت عباس کی زبان مبارک سے ان کے الفاظ میں سنیئے کہ:

"میں نے خود اکابر صحابہ کرام کے پاس جا جاکر رسول اللہ کی احادیث اور دین کا علم حاصل کرنا شروع کردیا کبھی ایسا بھی ہوا کہ مجھے معلوم ہوا کہ رسول اللہ کی ایک حدیث فلاں صحابی کے پاس ہے ان کے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ قیلولہ کررہے ہیں۔ یہ سن کر میں نے چادر بچھائی اور ان کے دروازے کی چوکھٹ پر سر رکھ کر لیٹ گیا ، ہواؤں نے میرے سر اور جسم پرگردو غبار لاکر ڈال دیا ، اتنے میں وہ صحابی نکل آئے اور مجھے اس حال میں دیکھ کر کہا آپ رسول اللہ کے بھائی ہیں آپ مجھے بلالیتے میں حاضر ہوجاتا ۔ آپ نے کیوں زحمت فرمائی میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کے پاس رسول اللہ کی ایک حدیث ہے میں وہ حدیث آپ سے حاصل کرنے آیا ہوں اور اس کام کے لیے میرا آنا ہی زیادہ مناسب ہے”۔

 اس جدوجہد ، دلچسپی، کوشش، خشوع و خضوع اور احترام علم و اکرام حدیث کا نتیجہ یہ نکلا کہ اکابر صحابہ کی رحلت کے بعد لوگ طلب علم کے لیے حضرت عباس کے پاس آنے لگے۔ ( مجمع الزوائد ، ج٩،ص٢٧٧، وتذکرہ الحفاظ ج١،ص٤٣) فرماتے تھے کہ میں ایک حدیث یا ایک مسئلے کو تیس تیس صحابہ کرام سے معلوم کرتا تھا۔ ان کنت لاسئال عن الامر الواحد ثلثین من اصحاب النبی (سیر اعلام النبلاء ،ج٣،ص٣٤٤) 
علم دین عہد رسالت میں کیسے حاصل کیا جاتا تھا اور اس طریقے سے حاصل کرنے والوں کو کن کن شدید آزمائش سے گزرنا پڑتا تھا کن اصولوں کی پاسداری کرنی ہوتی تھی اور پھر ان اہل علم کا مرتبہ امت میں کیا ہوتا تھا اس کے لیے حضرت ابو ہریرہ  کی زندگی دیکھیے۔ رسالت مآب نے مسجد نبوی میں ایک چھپڑ ڈالواکر علم دین سیکھنے والوں کے لیے مخصوص کردیا تھا۔ یہ اصحاب صفہ تھے یہی ان کی رہائش گاہ درس گاہ تھی جس کے معلم رسالت مآب تھے ۔ علم الٰہی علم دین اور علم نبوی کے حاملین ان طالبان کی کفالت اہلِ مدینہ کے ذمہ تھی، ان کو کسی سے سوال کرنے کی قطعاً اجازت نہ تھی ۔ خواہ کچھ بھی گزرجائے اور کیا کیا زمانے ان پر نہیں گزرے ، بھوک ، نقاہت، غربت،فقروفاقہ،افلاس، غربت اور فاقے کے باعث یہ اصحاب نماز میں کھڑے ہوتے تو گرجاتے، رسالت مآب نماز سے فارغ ہوکر فرماتے تم لوگوں کو اگر معلوم ہوجائے کہ تمہارے لیے ان فاقوں کے بدلے اللہ کے یہاں کیا کیا اجرو ثواب ہے تو تم خواہش کرو کہ ان فاقوںمیں مزید اضافہ ہو۔ (جامع ترمذی باب ما جاء فی معیشة اصحاب النبی)عصر حاضر کے ذہن کے لیے اس زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں کیونکہ وہ اپنے زماں و مکاں میں مقید محصور اور مسرور ہے۔ تعقل غالب اس طرز زندگی سے ہم آہنگ ہے لہٰذا یہ قابل قبول نہیں۔ صفہ میں بہت سے طالبان دین تھے۔ حضرت ابو ہریرہ بھی انہی میں سے ایک طالب علم تھے اکثر بھوک سے بے ہوش ہوکر گرجاتے صحابہ سمجھتے کہ مرگی کا دورہ ہے حالانکہ یہ حالت بھوک کی وجہ سے ہوتی تھی۔ (جامع ترمذی ، مسحولہ بالا) اس فقروفاقہ قربانی کا صلہ یہ نکلا کہ آپ نے سب سے زیادہ احادیث روایت کیں ان کی تعداد٥٣٧٤ہے۔ (اصابہ ،ج٧،ص٢٠١) حضرت ابو ہریرہ ٧ ہجری میں اسلام لائے مگر اس کثرت سے آپ کی احادیث کے دو اسباب ہیں ۔ وہ خود بیان فرماتے ہیں کہ (١):
"میں ہمیشہ رسول کے ساتھ رہتا تھا نہ اچھا کھانا کھاتا تھا اور نہ اچھا کپڑا پہنتا تھا اور نہ کسی سے خدمت لیتا تھا، بھوک کے باعث کبھی کبھی مجھے اپنے پیٹ کے بل زمین پر لیٹ جانا پڑتا تھا کبھی فرماتے کنت رجلا مسکیناََ اخدم رسول اللّٰھ علیٰ مل بطنی وکان المھاجرون یتغلھم ایفام علیٰ اموالھم(صحیح مسلم باب فضائل ابوہریرہ) میں ایک مسکین شخص تھا رسول اللہ کی خدمت کرتا تھا اور در دولت ہی سے کچھ کھانے کو مل جاتا تھا حضرات مہاجرین تجارت میں مشغول رہتے اور انصاری صحابہ اپنے باغات میں (اس لیے مجھے آپ کی احادیث و اقوال محفوظ کرلینے کا زیادہ موقع میسر آیا) دوسری وجہ حضرت ابی بن کعب  یہ بتلاتے ہیں کہ ابو ہریرہ رسول اللہ سے ایسے سوالات کرلیا کرتے تھے جن کی ہمت ہم میں سے کوئی نہیں کرسکتا تھا۔(اصابہ ،ج٧،ص٢٠٢) علم دین جو اصل علم ”العلم” ہے حضرت ابو ہریرہ  اس کے اس قدر حریص تھے کہ دنیا کی ساری نعمتیں ان کے نزدیک اس علم کے سامنے ہیج تھیں۔ ایک بار رسول اللہ نے ان کی غربت ،خستہ حالی،مسکینی ، فقر و فاقہ کشی کے پیش نظر بلایا اور فرمایا : التسالنی عن ھذہ الغنائم ابو ہریرہ غنیمت کے ان مالوں میں سے کچھ مانگو۔ حضرت ابو ہریرہ  نے اس غربت و افلاس کے عالم میں جواب دیا اسئلک ان تعلمنی مما علمک اللّٰھاللہ کے رسول مجھے وہ علم عنایت فرمادیجیے جو اللہ نے آپ کو عنایت فرمایاہے۔(اصابہ،ج٧،ص٢٠٤) رسالت مآب نے آپ کے ذوق و شوق کے پیش نظر آپ کے لیے دعائیں بھی کیں اس لیے آپ کا حافظہ غضب کا تھا ۔ محدثین آپ کو احفط اصحاب محمد اور احفظ من روی الحدیث فی عصرہ کہتے ہیں۔ ایک بار حضرت ابو ہریرہ نے رسالت مآب سے بھول جانے کی شکایت کی کہ آپ سے بہت سی باتیں سنتا ہوں لیکن یاد نہیں رہتیں۔تو آپ نے فرمایا اپنی چادر پھیلاؤ میں نے چادر پھیلادی اس پر آپ نے کچھ پڑھا پھر آپ کے حکم سے میں نے اسی چادر کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگالیا اس دن کے بعدسے میں کبھی آپ کی کوئی بات نہیں بھولا (صحیح مسلم و جامع ترمذی ابوا ب المناقب و الفضائل) حضرت ابو ہریرہ کی رائے تھی کہ صحابہ کرام میں سے کوئی شخص بھی رسول اللہ سے اس کثرت سے روایتیں نقل نہیں کرتاجس کثرت سے میں نقل کرتا ہوں البتہ عبداللہ بن عمروبن العاص مجھ سے زیادہ روایات نقل کرتے ہیں اس لیے وہ لکھتے ہیں اور میں نہیں لکھتا ہوں فانہ کان یکتب ولا اکتب (صحیح بخاری باب کتابةالعلم) حیرت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کی حفظ کردہ روایات کی تعداد حضرت عبداللہ بن عمربن العاص سے بہت زیادہ ہیں۔

حضرت طلحہ بن عبید اللہ سے کسی نے کہا کہ کیا ابو ہریرہ نے واقعی آپ لوگوں سے زیادہ احادیث رسول اللہسے سنی ہیں یا یوں ہی روایت نقل کرتے ہیں ۔ حضرت طلحہ نے جواب دیا انھوں نے واقعی وہ روایات آپ سے سنی ہیں جو ہم لوگوں نے نہیں سنی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسکین شخص تھے مال و دولت ان کے پاس نہ تھا ۔ وہ رسول اللہ کے مہمان تھے ۔ آپ ہی کے ساتھ کھاتے پیتے تھے ، اور ہمہ وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے اور ہم لوگ اہل و عیال اور مال و متاع والے تھے ۔ ہماری حاضری صرف صبح ، شام ہوئی تھی اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو روایات وہ بیان کرتے ہیں انھوں نے رسول اللہ سے ہی سنی ہیں اور ہم اپنے مشاغل کی وجہ سے ان سے محروم رہ گئے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر نے بھی ایک موقع پر کہا ابو ہریرہ ہم لوگوں کے مقابلے میں رسول اللہ کی صحبت میں زیادہ رہتے تھے اور آپ کی احادیث زیادہ محفوظ رکھتے تھے (جامع ترمذی مناقب ابی ہریرہ)۔اسلامی تہذیب و تاریخ میں علم دین اگر مال و دولت کی حرص اور دنیا طلبی کی ادنیٰ سی آرزو کے بغیر اس مجاہدانہ درویشانہ طریقے سے حاصل ہوتو پوری امت کے لیے خیروبرکت کا ذریعہ بنتا ہے لیکن جب دین کے عالم اور معلم دین کو دنیاکمانے کے لیے استعمال کریں بڑے علماء ان مدارس میں کام کرنا پسند کریں جہاںتنخواہ زیادہ ملتی ہو اور علماء مدارس میں تدریس ترک کرکے اسلامی بینکوں کی ملازمت اختیار کرلیں کہ مدارس میں تنخواہ بہت کم ہوتی ہے اور طلباء ان مدرسوں کا انتخاب کریں جہاں وظیفے زیادہ ہوں رہائش کی سہولتیں عمدہ ہوں اور کھانے پینے کا اعلیٰ معیار ہو اور مدارس طلباء کو راغب کرنے کے لیے اشتہارات شائع کریں اور اپنے اشتہارات میں طلباء کو دعوت دیں کہ ان کے یہاں بھاری وظیفہ ملتا ہے ایئر کنڈیشنڈ درسگاہیں ہیں کھیل کے میدان ، سوئمنگ پول اور باغات ہیں اور علم دین بھی ہے تو ان رویوں کے نتیجے میں جو علم دین حاصل ہوگا وہ روح سے خالی اور دنیا کی لذتوں ، دلچسپیوں سے معمور علم ہوگا۔ یہ علم نہ فرد کی آخرت بدل سکتا ہے نہ امت کی تقدیر۔ ایسے علم سے پناہ مانگنے کی ضرورت ہے جس کا تقاضہ دنیا کے لیے ہو اور جو صرف دنیا سے تمتع کو سہل ترین بنادیتا ہو صرف علم سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اس کے ساتھ ساتھ خشیت خشوع و خضوع درکار ہے۔ انہی حضرت ابوہریرة کے بارے میں ابو عثمان الہندی تابعی کہتے ہیں کہ میں ایک بار سات دن تک حضرت ابو ہریرہ کے یہاں مہمان رہا مجھے معلوم ہوا کہ انھوں نے ان کی اہلیہ اور خادم نے رات کے تین حصے کرلیے ہیں باری باری ایک ایک شخص اپنے حصۂ شب میں جاگتا ہے اور یہ ان لوگوں کا مستقل معمول ہے۔ (اصابہ ، ج٧،ص٢٠٦) حضرت عمر نے انھیں بحرین کا عامل بنادیا تھا لیکن جلدہی آپ نے ان خدمات سے سبکدوشی حاصل کرلی دوبارہ حضرت عمر نے عامل بنانا چاہا تو انکار کردیا دنیا سے اس قدر لاتعلقی کے باوجود وفات سے پہلے آپ رونے لگے کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا من فلة الزادر وندة المفازةسفر سخت ہے اور زاد راہ کم ہے یہ خوف آخرت تھا ور نہ ان کے پاس زاد راہ کم نہ تھا اگر ان کے پاس کم تھا تو پھر کس کے پاس زیادہ ہوگا۔ کیا امت مسلمہ کے پاس ایسے شیخ الحدیث موجود ہیں اگر نہیں ہیں تو یہ امت زوال کے اندھیرے سے کبھی نہیں نکل سکتی۔ آج کے دین دار امراء اور لوگوں کے خدام ایسے ہوں گے کہ وہ رات کو عبادت کے لیے تیار ہوں ؟ ان امراء کا خدام کے ساتھ رویہ کیا ہے کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے امراء کے گھروں میں ڈکیتیاں، چوریاں، قتل وخون اغواء کی وارداتیں انہی خدام کے ذریعے ممکن بنائی جاتی ہے جن کے ساتھ غلاموں سے بدتر سلوک کیا جاتاہے ۔ اگر یہ امراء اخوت اسلامی کو ملحوظ رکھتے تو یہی خدام ان کے جان و مال و آبرو کی حفاظت کرتے لیکن اخوت اسلامی صرف لفظ کی سطح پر ہے عملی زندگی اخوت کے اس روحانی تصور سے خالی ہے جو ”مواخات” کے ذریعے تاریخ کے صفحات میں قیامت تک کے لیے محفوظ ہوگیا ہے۔ ظاہر ہے اس سطح کی مواخات تو ممکن نہیں عصر حاضر میں امراء کی جانب سے ہمدردی ، محبت اور انفاق کی ادنیٰ سے ادنیٰ سطح بھی گھروں کے خدام کے لیے روا نہیں رکھی جاتی ۔ ہماری معاشرت سرے سے اسلامی ہی نہیں ہے۔
حضرت زید بن حارثہ رسالت مآب کے خادم اور غلام تھے ان کے والد اور چچا کو ان کا سراغ ملا تو وہ مکہ آئے اور فدیہ کے لیے زر کثیر رسالت مآب کو پیش کیا ۔ آپ نے حضرت زید کو بلایا اور فرمایا ان لوگوں کو پہچانتے ہو اپنے والد اور چچا کو انھوں نے پہچان لیا آپ نے ان سے کہا کہ اپنا مال اپنے پاس رکھو یہ زید ہیں اگر یہ تم لوگوں کے ساتھ جانا چاہیں انھیں اختیار ہے ۔ رسالت مآب نے زید کی گردن سے غلامی کا طوق اتار دیا مگر حضرت زید نے رسالت مآب کی محبت کا طوق غلامی دوبارہ گلے میں ڈال لیا اور اپنے باپ و چچا کے ساتھ جانے سے انکار کردیا ۔ حضرت زید کی اس محبت کے باعث رسالت مآب نے حرم شریف میں قریش کو گواہ بناکر انھیں اپنا بیٹا قرار دیا وہ زیدبن محمد کہلانے لگے ۔ کیا عہدِ حاضر کے دین داروں کے لیے خدام و غلام سے برتاؤ کے اس واقعے میں کوئی سبق ہے رسالت مآب نے اس غلام اور خادم کو بیٹا بنانے کے بعد ان کی ایسی تربیت فرمائی کہ غزوۂ موتہ کا جو لشکر جو آٹھ ہجری میں روانہ ہوا اس کے امیر آپ ہی تھے ۔ آپ کی شادی اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب سے فرمائی پھر طلاق کے بعد آپ نے والد کی باندی سے ان کا نکاح فرمایا جن سے حضرت اسامہ بن زید پیدا ہوئے ۔ اس غلام اور خادم سے رسول اللہ کی محبت کا حال یہ تھا کہاایک بار وہ کہیں باہر سے مدینہ طیبہ آئے حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہمیرے گھر میں تشریف رکھتے تھے ۔ زید نے دروازہ کھٹکھٹایا آپ اتنی سرعت کے ساتھ ان کے استقبال کے لیے نکلے کہ آپ کی چادر جسم مبارک کے نیچے کھسک گئی اور آپ اسے گھسیٹتے ہوئے ہی باہر نکل گئے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی بھی آپ کو اس حالت میں باہر نکلتے ہوئے نہیں دیکھا آپ نے ان کو گلے لگایا اور بوسہ دیا۔ ان کی بہادری اور قائدانہ صلاحیت کے باعث جس غزوہ میں حضرت زید تشریف لے جاتے لشکر کا امیر انہی کو بنایا جاتا جب رسالت مآب خود غزوہ میں جاتے تو مدینہ میں اپنا خلیفہ زید کو بناکر جاتے۔(جامع ترمذی،باب ماجاء فی المعانقہ والقبلة، فتح الباری، ج٧، ص٨٧، بحوالہ سنن نسائی)

کیا عہد حاضر کی کوئی دینی شخصیت اپنے خادم سے یہ تعلق محبت، قرابت، الفت ظاہر کرسکتی ہے؟ ایک غلام حضرت زید اور ان کی اہلیہ ایک باندی ام ایمن کے  بطن سے حضرت اسامہ بن زید پیدا ہوئے ۔ آپ کی پرورش رسالت مآب نے پوتے کی طرح کی۔ پندرہ سال کی عمر میں غزوۂ خندق میں شرکت کی اجازت ملی، کئی غزوات میں شریک ہوئے اور کئی میں امیر بناکر بھیجے گئے۔ رسالت مآب نے وفات سے پہلے آپ کو بیس سال کی عمر میں امیر لشکر مقرر کیا، اس لشکر میں حضرت ابوبکر، عمر،سعد بن ابی وقاص اور حضرت ابو عبیدہ الجراح جیسے جلیل القدر سپاہی حضرت زید کی قیادت میں شریک تھے ۔ بعض حضرات کو اس پر اشکال ہوا تو آپ نے فرمایا زید بھی امارت کے اہل تھے اور واللہ مجھے انتہائی محبوب بھی تھے۔ اسی طرح یہ اسامہ بھی واللہ امارت کے اہل ہیں اور مجھے انتہائی محبوب بھی ہیں۔لقد کان خلیفاََ  للامارة واہم اللّٰہ ان کان من احب الناس الیٰ واہم اللّٰہ ان ھذا لخلیق لھا وان ھذا لمن احب الناس الیٰ (صحیح مسلم با ب فضا ئل زید بن حارثہ وابنہ اسامہ و صحیح بخاری باب غزونہ زید بن حارثہ و باب بعث النبی وجامع ترمذی مناجت زید بن حارثہ ) صحیح مسلم کی ایک روایت میں آتا ہے میں تم لوگوں کو اسامہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں اس لیے کہ وہ تم لوگوں کے صالحین میں سے ہیں۔ فاوصیکم بہ فانہ من صالحیکم۔

حضرت اسامہ یعنی ایک غلام باپ اور ایک باندی ماں کے صاحب زادے سے رسالت مآب کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کو اپنی گود میں لیتے ایک بار ان کی ناک صاف کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ حضرت عائشہ نے عرض کیا آپ رہنے دیجیے میں صاف کیے دیتی ہوں آپ نے فرمایا عائشہ احبیہ فانی ا حبہعائشہ یہ مجھے محبوب ہے تم بھی اس سے محبت کیا کرو ( جامع ترمذی مناقب اسامہ بن زید) رسالت مآب کے انتقال کے بعد بعض اصحاب کی رائے تھی کہ لشکر حضرت اسامہ  کی قیادت میں نہ بھیجا جائے اور کسی سن رسیدہ ، شخص کو امیر بنایا جائے لیکن حضرت ابوبکر نے اس لشکر کے بارے میں کسی تبدیلی کی رائے کو قبول نہیں کیا۔ یہ لشکر صحیح سالم فتح یاب لوٹا کیا عہد حاضر کے مسلمانوں کے لیے یہ طریقہ قابل قبول ہوسکتا ہے ؟ کیا وہ حضرت ابن عباس  اور حضرت اسامہ بن زید جیسے کم عمروں کی علمیت اور قیادت کو بخوشی قبول کرلیں گے؟ ایک کمسن نوجوان کی قیادت میں جہاد کے لیے ایک سپاہی کے طور پر شریک ہونے میں حضرت ابوبکر،حضرت عمر جیسے کسی بدری صحابی کو کوئی تردد نہ تھا انا ، خود پرستی، خود نمائی، برتری ،عظمت کے تمام تصورات اتباع رسالت نے ختم کردیئے تھے دین کو یہ عاجزی ، یہ سادگی، یہ رویہ، یہ ایمان، یہ اسلوب مطلوب ہے لیکن یہاں تو معاصرانہ رقابتیں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں ، اگر دعوت نامے میں نام آگے پیچھے کردیا جائے تقریر میں تقدیم و تاخیر ہو تو تعلقات ختم کردیئے جاتے ہیں اس کا نام عصرو حاضر میں دینی حمیت ہوگیا ہے ۔ عقلیت کے مارے ہوئے جدید ذہن اس فکر و نظر سے محروم ہیں جو خیر القرون کا طرۂ امتیازتھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر کے لیے رسالت مآب نے ارشاد کیا :” انعم الرجل عبداللّٰہ لو کان یصلی من اللیل” عبداللہ بہترین شخص میں کیا ہی اچھا ہو وہ تہجد بھی پڑھنے لگیں اس ارشاد کے بعد حضرت عبداللہ کا حال یہ تھا کہ ” بعد ذالک لابنام من اللیل الا قلیلا”حضرت عبد اللہ رات کو بس برائے نام ہی سوتے تھے ۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم فی المناقب) رسالت مآب نے ایک بار حضرت عبد اللہ بن عمر کا کندھا پکڑ کر فرمایا ” کن فی الدنیا کانک غریب اور عابر سیل وعد نفسک من اھل القبور”( جامع ترمذی باب ما جاء فی قصر الامل) یعنی دنیا میں ایسے رہو جیسے کہ تم پردیسی ہو یا مسافر اور اپنے کو اہل قبور یعنی مردوں میں شمار کرو اس ارشاد کی تعمیل میں حضرت عبداللہ بن عمر نے بے زارانہ زندگی گزار دی دنیا سے کوئی تعلق نہ رکھا ۔ شہادت عثمان کے بعد بعض صحابہ نے آپ سے بیعت کرنا چاہی لیکن آپ نے منع فرمادیا ۔ حضرت علی و حضرت معاویہ کے مابین شدید اختلافات ہوئے تب بھی بعض صحابہ نے کہا کہ آپ کے نام پر تقریباً سب متفق ہی ہوجائیں گے لیکن وہ پھر بھی راضی نہ ہوئے کیونکہ حضرت عمر نے بھی وصیت کی تھی کہ خلافت کے لیے مشورے میں میرے بیٹے عبداللہ کو بھی شامل کریں لیکن خلافت کے لیے ان کا انتخاب نہ کریں۔ (البدایہ والنھایہ،ج٧،ص١٤٥) حضرت عثمان نے انھیں قاضی بنانا چاہا تو آپ راضی نہ ہوئے (طبقات ابن سعد،ج٤، ص ١٤٦ ) دنیا سے اس قدر گریز کے باوجود انفاق میں بے مثال تھے راہِ خدا میں کثرت سے مال و دولت خرچ کرتے تھے ۔غلام باندی کو آزاد کردیتے آپ کے غلام نافع کے لیے ایک ہزار دینار کی پیش کش ہوئی لیکن آپ نے لوجہ اللہ آزاد کردیا ۔یہ غلام آپ کے شاگرد خاص تھے ۔ فیاضی سخاوت انفاق کا یہ عالم اس وقت تھا جب دنیا سے مکمل گریز بھی تھا ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود کی شہادت ہے ان املک شباب قریش لنفسہ عن الدنیا عبد اللّٰہ بن عمر”(اصابہ ،ج٤،ص١٠٧) ترجمہ:” قریش کے نوجوانوں میں دنیا کے معاملے میں اپنے نفس پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے عبد اللہ بن عمر  ہیں۔ ” ان کے مقام کا اندازہ صرف اس بات سے کیجیے کہ خلافت کی پیش کش ہورہی ہے مگر آپ قبول نہیں فرمارہے۔ عہدۂ قضا کو رد کررہے ہیں اور ایک عہد حاضر کے دنیا دار اور اہل دین ہیں جو خلافت، حکومت،سلطنت کے لیے ہر وہ کام کررہے ہیں جس کی شریعت میں اجازت نہیں ہے اقتدار کی غلام گردشوں میں گردش کرنے کا شوق انھیں کس کس وادی میں لیے پھرتا ہے سب پر عیاں ہے جس کو یہ عہدے نہیں مل رہے وہ اسے طلب کرنے میں مصروف ہے خود اپنے لیے خطابات ایجاد کرلیتا ہے کوئی عہدہ نہ ملے تو اپنے اپنے علاقوں اور جماعتوں میں خلیفہ بن کر قیادت فرمارہے ہیں اور اپنی جماعت کے لوگوں سے اسی اطاعت اور نظم و ضبط کا مطالبہ کررہے ہیں جو صرف ”الجماعت ” کے امیر کے لیے مطلوب ہے۔ ہر شخص کو امت کی قیادت رہنمائی کا شوق ہے نہ اس کے پاس زہد ہے نہ علم نہ خدا کا وہ خوف جو تمام معاملات کو درست کردیتا ہے ۔ ایسی قیادت امت کی تقدیر کیسے بدل سکتی ہے؟ حضرت سلمان فارسی کو حضرت عمر نے مدائن کا حاکم بنایا اور پانچ ہزار درہم وظیفہ مقرر کیا تھا لیکن وہ سب راہ خدا میں خرچ کرتے اور خود اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے ( کتاب ذکر اھل اصبھان) کیا یہ کردار ہمیں عہد حاضر کی اسلامی ریاستوں کے انقلابی رہنماؤں اور دینی قیادت کے رویوں میں نظر آرہا ہے۔ ان کے تو اخراجات ہی پورے نہیں ہوتے ضروریات زندگی تعیشات زندگی سے بدل گئی ہیں اس پر فخر بھی ہے ہر تعیش کو یہ ضرورت قرار دیتے ہیں اور اسلام کی عظمت اس سے وابستہ کردیتے ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمر کے صاحب زادے سالم کی روایت ہے کہ ان کی دعوت ولیمہ میں حضرت ابو ایوب انصاری میزبان رسول بھی مدعو تھے ۔ جب وہ تشریف لائے تو انھوں نے دیکھا کہ میرے مکان کی دیواروں پر کپڑے کے پردے لٹکے ہوئے ہیں جنھیں دیکھ کر حضرت ابو ایوب نے سخت ناگواری کا اظہار فرمایا اور کہا دیواروں کو کپڑے پہناتے ہو۔ حضرت ابن عمر  نے کہا عورتیں غالب آگئیں حضرت ابو ایوب  ناراض ہوئے اور کھانا کھائے بغیر چلے گئے اور کہا ” حسن حثیت ان لغلبہ النساء فلم اخش ان یغلینک لا ادخل لکم بینا ولا اکل لکم طعاما ” ( صحیح بخاری ھل یرجع اذا رای منکر فی الدعوة) خیر القرون کا ہر فرد ایمان ، یقین، عمل میں ایک سے بڑھ کر ایک تھا۔ ایک دوسرے کا محاسب ، نگران، خیر خواہ ناصح اور خلاف سنت عمل پر فوری گرفت کرنے والا اور جس کی گرفت کی جارہی ہے اس کا تقویٰ دیکھیے کہ وہ اپنے عمل کی کوئی تادیل توجیح پیش نہیں کررہے اس کو حیلے بہانے سے شرعی ثابت کرنے پر تیار نہیں دیانتداری اور ایمانداری کا عالم یہ ہے کہ حضرت ابن عمر جیسے زاہد عابد شخص کے بارے میں میزبان رسول کا سخت نقد چھپایا نہیں جارہا بلکہ ابن عمر کے صاحب زادے حضرت سالم اس واقعے کو امت سے چھپانے کے بجائے اس کو روایت کرکے امت کے لیے محفوظ کررہے ہیں کہ مومنین ایک دوسرے کے اعمال کے کیسے نگراں ہوتے ہیں اور حق کے اظہار پر کسی کو ناگواری نہیں ہوتی سورۂ عصر کی آیت (  و تواصوا بالحق و تواصوا بالصبر)کی بہترین تفسیر یہی واقعہ ہے ۔کیا یہ صورت حال عہد حاضر میں ممکن ہے؟ عہد حاضر میں یہ صورت درپیش ہو تو سب سے پہلے اس واقعے کی روایت ہی نہیں کی جائے گی اور اگر ایسا واقعہ علم میں آگیا تو فوری طور پر کہہ دیا جائے گا کہ طبیعت میں بہت تشدد ہے یہ ٹھیک نہیں ہے سب چلتا ہے۔ حضرت عمار بن یاسر کا کان کسی غزوہ میں کٹ گیا اس کے کٹنے پر عمار نے خوشی بلکہ فخر کا اظہار کیا فرماتے تھے جو کان کٹ گیا وہ زیادہ بہتر تھا اس کان سے جو بچ گیا اس لیے کہ وہ اللہ کے راستے میں کام آگیا ۔ عصر حاضر میں یہ مرحلہ درپیش ہو تو سب سے پہلے پلاسٹک سرجن کے مطب آباد ہوں گے۔ اسی ایمان کے باعث رسالت مآب نے فرمایا تھا ” دم عمار ولحمہ حرام علی النار ان لغطیمہ ”( فتح الباری ،ج٧،ص٩١) جہنم کی آگ کے لیے حرام ہے کہ وہ عمار کے خون اور گوشت کو کھائے۔ حضرت سیدنا معاویہ ملک شام کے حاکم ہوئے، حضرت عبادہ بن صامت وہیں قیام پذیر تھے۔ ایک دن ایک خطیب نے خطبے میں حضرت معاویہ کی موجودگی میں ان کی تعریف شروع کر دی۔ حضرت عبادہ نے زمین سے خاک اٹھائی اور خطیب کے منہ پر مار دی حضرت معاویہ نے جب اس عمل پر گرفت کی تو فرمایا ہمیں رسول اللہ نے یہی حکم دیا ہے کہ منہ پر تعریف کرنے والوں کے منہ پر خاک ڈال دیں (سیر اعلام النبلائ، ج٣، ص١٠) قیام شام میں آپ نے حضرت معاویہ کے بعض امور پر نکیر فرمائی اور حضرت معاویہ نے اسے تسلیم بھی کیا لیکن کیا عہد حاضر کی علمیت و تعقل کے لیے یہ طریقہ قابل قبول ہے جہاں بڑے بڑے دین دار لوگ اپنے رسائل و جرائد اور اداروں میں اپنے لیے بڑے بڑے القابات درج کرنے پر اپنی شان میں قصیدے پڑھے جانے پر کوئی اعتراض نہیں کرتے ان قصائد کو پڑھ کر دنیا دنگ ہوتی ہے۔ دینی جماعتیں اور دینی تحریکیں ہر سال کسی خاص تقریب میں یا خاص موقع پر اپنے قصائد خود دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں اور اسے کسی سطح پر بھی بدعت تصور نہیں کیا جاتا۔

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے؟

سیّد خالد جامعی  ( کراچی یونی ورسٹی ،کراچی )

قسط  نمبر 1 قسط  نمبر 2
عہد حاضر کا خدا ا علیٰ معیارِ زندگی ہے جو سرمایہ سے حاصل ہوتا ہے امت اسی میں مبتلا ہے یہ بھول گئی ہے کہ انقلاب امامت کے لیے بھوکا رہنا پڑتا ہے اپنا معیار زندگی کم کرنا پڑتا ہے اور مسلسل کم کرنے پر راضی رہنا ہوتا ہے۔ بھوکا  رہنا،خالی پیٹ ہونا کوئی عیب نہیں یہ اللہ کے مقربین کی صفت ہے کم کھانے کم سونے، کم بولنے دنیا سے کم سے کم تمتع کرنے کے باعث اہل اللہ پر اسرار کھلنے اور ان کے درجات بلند ہوتے ہیں، کھاتے رہنے سے بھوک نہیں مٹتی بھوک کم کھانے اور کھانا ترک کرنے سے مٹتی ہے، مستقل کھاتے رہنے والا ہمیشہ بھوکا ہی رہتا ہے جو بھوک کو قبول کرے اس کی بھوک مٹ جاتی ہے نفس قانع ہوجاتا ہے اس لیے صحابہ و صلحائے امت کثرت سے روزے رکھتے تھے۔
انبیاء کی تہذیبوں میں روزے رکھنا عام بات ہے لوگ لذات دنیا سے کنارہ کش رہتے ہیں تب ہی ان پرحکمت کے چشمے القاء ہوتے ہیں، لذت و چٹخارے میں مبتلا قوم کے معدے ہمیشہ کچھ نہ کچھ طلب کرتے رہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی قوم اس کی مثال ہے جسے حالت جہاد میں بھی من و سلویٰ پسند نہ تھا اسے قسم قسم کے کھانے درکار تھے ۔ جب جمعہ کے خطبے میں ہم یہ سنتے ہیں کہ خیر القرون قرنی (١) تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ دور جب آخرت ہر رویے پر غالب تھی جب دنیا سب سے حقیر شے تھی جب اللہ کی رضا اور معرفت ہی حاصل زندگی تھی دنیا سے تمتع کم سے کم تھا ۔ کوئی ترقی ، دنیا طلبی، لذات و آسائش کی تلاش میں سرگرداں نہیں تھا فقر کی خود اختیاری زندگی پر سب کو فخر تھا وہ کفار کی طرح دنیا سے تمتع کو درست نہیں سمجھتے تھے اور عیش و عشرت کی زندگی کے طالب اور حریص نہ تھے وہ صرف اور صرف حریص آخرت تھے اور اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی تگ و دو میں مصروف رہتے تھے ۔ اگر خیر القرون ہی اصل معیار ہے تو ہمارا موجودہ طرز زندگی اس کی نفی ہے۔ جدیدیت [ماڈرن ازم] اور خیرالقرون کی جستجو ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے دنیا اور دین برابر نہیں ہوسکتے

جو آخرت کو ترجیح دے گا وہ دنیا کا نقصان کرے گا جو دنیا کو ترجیح دے گا وہ لازماَ آخرت کا نقصان کرے گا یہ ارشاد رسالت مآبصلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

صحابہ کرام کی محبت کا مرکز و محور رسالت مآب ۖکی ذات گرامی تھی، ان کا جینا اور مرنا، کھانا پینا صرف اور صرف اسلام کے لیے تھا ۔ اپنی ذات کو وہ اللہ اور رسول اللہۖکے لیے فنا کرچکے تھے۔ ان کا حال ام المومنین حضرت جویریہ کے الفاظ میں یہ تھا 

”اخترت اللّٰہ و رسولہ” میں نے اللہ اور اس کے رسولۖہی کو اختیار کرلیا ہے۔ [زرقانی ج ٢،ص٢٥٥]

یہ الفاظ آپ نے اپنے والد اور قبیلۂ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار سے اس وقت کہے جب وہ آپ کو رہا کرانے کے لیے بہت سا مال و دولت بطور فدیہ لے کر آئے اور رسالت مآبۖسے حضرت جویریہ کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ آپۖنے فرمایا جویریہ موجود ہیں جانا چاہیں تو لے جائو ۔ باپ نے کہا کہ رسالت مآب محمد ۖ نے تمہیں میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دی ہے۔ ساتھ چلو مگر جواب انکار میں ملا۔ باپ نے اپنی عزت کا واسطہ دیا لیکن حضرت جویریہ نے خود کو دین اسلام کی محبت میں گرفتار کرلیا تھا۔ اس گرفتاری سے رہائی پر تیار نہ ہوئیں اور آپ کے ایمان و استقامت کے باعث نہ صرف آپ کے والد بھائی بلکہ پورا قبیلہ مسلمان ہوگیا۔ حضرت جویریہ کی سوکن ام المومنین حضرت عائشہ کا اعتراف محبت دیکھئے فرمایا :  

”ما اعلم امرأة اعظم برکة منھا علیٰ قومھا۔ "میرے علم میں کوئی عورت ایسی نہیں ہے جو جویریہ سے زیادہ اپنی قوم کے لیے باعث خیرو برکت ہو”۔

سوکن کا یہ اعتراف ایمان اور اسلام کی خیرو برکت کا نتیجہ ہے اور قرن اول کی روحانیت کا ثمر ہے۔ اسی روحانیت کا اثر یہ تھا کہ ام المومنین حضرت حبیبہ کے والد حضرت ابوسفیان صلح حدیبیہ کے بعد اہل مکہ کے نمائندے بن کر صلح سے متعلق بعض معاملات کے بارے میں گفتگو کے لیے مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور اپنی بیٹی ام حبیبہ کے گھر کاشانۂ رسالت میں ان سے ملنے گئے۔ جب گھر میں داخل ہوئے تو آپ نے رسول اللہۖکا بسترجو بچھا ہوا تھا لپیٹ دیا۔ حضرت ابو سفیان  نے پوچھا کہ یہ تم نے کیا کیا، آیا یہ بستر میرے لائق نہیں ہے یا میں بستر کے لائق نہیں ہوں تو آپ نے فرمایا ابا جان آپ مشرک ہیں اور یہ رسول اللہ کا بستر ہے اس لیے آپ اس بستر پر بیٹھنے کے لائق نہیں ہیں۔ [البدایہ والنھایہ ، ج٤، ص ١٤٣]

جامع ترمذی باب ماجاء فی عدة المتوفی عنھاز وجھامیں حضرت زینب بنت ام مسلمہ سے روایت ہے کہ حضرت زینب ،حضرت ام حبیبہ کے والد حضرت ابو سفیان  کی وفات پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئیں [آپ کی وفات کو تین دن گزر چکے تھے] حضرت ام حبیبہ نے ایک خوشبوجو زعفران وغیرہ سے بنائی جاتی ہے جس میں سرخ و پیلا رنگ ہوتا ہے منگائی اور ایک بچی کے لگائی پھر اپنے رخساروں پر بھی لگائی اور فرمایا مجھے خوشبو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن میں نے رسالت مآب ۖکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:

کسی صاحب ایمان عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی بھی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ منائے۔البتہ شوہر پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی۔

 میں نے رسول اللہ ۖکے اس ارشاد پر عمل کرنے کے لیے اپنے رخساروں پر خوشبو لگالی ہے۔ کیا عصر حاضر میں یہ رویہ کسی دینی گھرانے میں اختیار کرنا ممکن ہے؟کتنی بدعات رسوم و رواج کے نام پر اختیار کرلی گئیں ہیں ۔ ظہر، مغرب،اور عشاء ، اور فجر کی بارہ سنت موکدہ نمازوں کے بارے میں رسالت مآب ۖکی تاکید سننے کے بعد حضرت ام حبیبہ کا ارشاد تھا

”فما برحت اصلیھن بعد” [مسند احمد] یعنی

”جب میں نے آپ کا یہ ارشاد سنا ہے کبھی ان رکعتوں کا ناغہ نہیں کیا۔”

ام المومنین حضرت صفیہ کے باپ حیی ابن اخطب قبیلہ بنی نضیر کے سردار تھے۔ ان کا سلسلہ نسب حضرت موسیٰ کے بھائی حضرت ہارون تک پہنچتا تھا۔ حضرت صفیہ کی والدہ قبیلہ بنی قریظہ کے سردار کی بیٹی تھیں [ زرقانی ، ج٣، ص٢٥٦امیر اعلام النبلاء ج٢،ص٢٣١] غزوۂ خیبر کے بعد حضرت صفیہ حضرت وحیہ کلبی کو رسا لت مآب ۖنے عطا کیں بعد میں بعض اصحاب کے مشورے پر انہیں آزاد کردیا کہ وہ اپنے وطن چلی جائیں یا مسلمان ہوکر آپ سے نکاح کرلیں ۔ حضرت صفیہ نے فرمایا:

"اختیار اللّٰہ  و رسولہ لقد کنت اتمنی ذٰلک فی الشرک”میں تو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں تو الحمد اللہ اللہ نے ایمان کی دولت سے نواز دیا میری تو اسلام لانے سے پہلے بھی یہی خواہش تھی”[زرقانی ،ج٣، ص ٢٥٨ ]

اللہ کے لیے اللہ کے رسول کو اختیار کرنا یہی مطلوب ایمان ہے۔ عرب کے دو بڑے قبیلوں سے وابستہ ان خاتون کا نکاح خیبر سے واپسی پر راستے میں منعقد کیا گیا۔ دوسرے دن ولیمہ ہوا، صحابہ کرام نے اپنے اپنے سامان میں سے کھجور پنیر گھی وغیرہ لے آئے ایک دستر خوان پر رکھ کر کھالیا گیایہی ولیمہ ہوگیا [سیر اعلام النبلائ، ج٢،ص٢٣٢، صحیح بخاری جلد٢،ص ٦٠٦،باب غزونہ خیبر]
 کیا جمعہ کے خطبے میں خیر القرن قرونی (١) کی حدیث سننے والے دنیا میں آباد ایک ارب مسلمانوں میں سے کوئی ایک بھی عصر حاضر میں ولیمے کے لیے اس طرح کی دعوت کا تصور بھی کرسکتا ہے؟ اگر کسی سے کہہ بھی دیا جائے تو وہ ایسی دعوت کو اپنے پیغمبر کی اتباع میں بھی قبول نہیں کرے گا کیونکہ یہ سادگی عہد حاضر کے غالب پر تعیش تعقل سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ ام المومنین حضرت صفیہ کے بارے میں ان کی باندی نے حضرت عمر سے شکایت کی کہ وہ یہود کی طرح اب تک یوم السبت کی تعظیم کرتی اور یہود کے ساتھ صلۂ رحمی کرتی ہیں ۔ حضرت عمر نے حقیقت معلوم کرنا چاہی تو فرمایا کہ جب سے اللہ نے یوم الجمعہ عطا فرمایا ہے میں یوم السبت کی تعظیم نہیں کرتی، یہودیوں سے میری قرابت داری ہے ان کے ساتھ صلۂ رحمی کرتی ہوںپھر انہوں نے اپنی باندی سے پوچھا کہ کہ تم نے یہ شکایت کیوں کی باندی نے کہا کہ مجھے شیطان نے بہکا دیا تھا۔ آپ نے باندی کو سزا نہیں دی بلکہ فرمایااچھا جائو تم آزاد ہو۔ [اصابہ، ج٧،ص٧٤١] عفوو درگزر، کرم، محبت، انتقام سے گریز، عطا، سخاوت کا یہ رویہ خیر القرن میں عام تھا ۔ اب مفقود ہے۔ ام المو منین حضرت میمونہ کثرت سے نماز پڑھتی تھیں، غلام آزاد کرنے کا بھی بہت شوق تھا ان کے خوف خدا اور صلۂ رحمی کا اعتراف میں آپ کی سوکن حضرت عائشہ فرماتی ہیں :

”افھما کانت من اتفانا اللّٰہ واوصلنا للرحیم””میمونہ ہم لوگوں میں خوف خدا اور صلہ رحمی میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔” [ اصابہ وزرقانی بحوالہ طبقات ابن سعد]

اتباع رسالت کا عالم یہ تھا کہ آپ حج یا عمرہ کے لیے مکہ آئیں تھیں طبیعت خراب ہوئی تو اپنے بھانجے سے کہا کہ مجھے مکہ سے لے چلوں کیونکہ مکہ میںمیرا انتقال نہیں ہوگا ۔ رسول اللہ نے مجھے پہلے ہی اطلاع دے دی ہے کہ تم کو مکہ میں موت نہیں آئے گی اور رسالت مآب ۖ کی اطلاع کے مطابق آپ کا انتقال مدینہ سے قریب مقام سرف میں ٥١ ہجری میں ہوا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آپ کا نکاح اور ولیمہ سات ہجری میں ہوا تھا.

عہد رسالت میں جہیز کا کوئی تصور نہ تھا لہٰذا احادیث کی کسی کتاب میں جہیز کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔ حضرت علی نے مہرمیں اپنی درع یا اس کی قیمت دی تھی ان کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے اس کے سوا کچھ نہ تھا ۔ رسالت مآب ۖنے حضرت فاطمہ   کو ایک چادر ، ایک مشکیزہ چمڑے کا ، ایک گدا جس میں اذخر نام کی گھاس بھری ہوئی تھی اور چند چیزیں دیں۔ کیا عہد حاضر میں کسی دین دار گھرانے میں اس سادگی سے نکاح ممکن ہے؟ ایسے نکاح کو نہایت ذلت و حقارت سے دیکھا جائے گا اور کنجوس ، لیئم کے طعنے دیئے جائیں گے اس رویے کے ساتھ مسلمان پوچھتے ہیں کہ اللہ کی نصرت کب آئے گی؟ اسلامی انقلاب کب آئے گا اور استخلاف فی الارض کب عطا ہوگا؟ حضرت حسن کے بارے میں رسالت مآب ۖنے فرمایا تھا 

ابنی ھذا سیدہ ولعل اللّٰہ ان یصلح بہ بین الفنتین عظیمتین من المسلمین” ”میرا یہ بیٹا سید]سردار[ ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اللہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا۔” [ صحیح بخاری مناقب الحسن والحسین والترمذی،ج٢،ص٢١٨،فی المناقب]

حضرت حسن نے اس حدیث کے مطابق عمل کرتے ہوئے اپنی خلافت کے چھ سات ماہ بعد حضرت معاویہ سے صلح کرلی اور آپ کے حق میں دست بردار ہوگئے۔ بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو جواب دیا کہ اگر خلافت حضرت معاویہ کا حق تھی تو ان کو مل گئی اور اگر میرا حق تھی تو میں اپنے حق سے دست بردار ہوگیا۔ آپ کے اس اقدام کے نتیجے میں امت ایک بار پھر متحد ہوگئی اس سال کو امت کی تاریخ میں ”عام الجمع” کا سال کہا جاتا ہے۔ جب امت ایک بار پھر مجتمع ہوگئی تاریخ میں کوئی ایسی مثال دکھائی جاسکتی ہے کہ اللہ کے لیے کوئی فرد سلطنت حکومت سے دست بردار ہوجائے ۔ امت کو جوڑنے کے لیے ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرے اس وقت تو امت کا ہر گروہ خلافت ، حکومت ، اقتدار کی تگ و دو میں شب و روز مصروف ہے۔ سیاسی اسلام ، اسلام کا نفاذ بذریعہ حکومت و قوت اس عہد کا مقبول ترین نعرہ ہے۔ مگر امت میں دور دور تک کوئی حسنی نہیں جو کسی دوسرے اسلامی گروہ، اسلامی جماعت ، اسلامی قیادت کے حق میں دستبردار ہوکرامت کو اکٹھا کردے…یہ پارہ پارہ امت کیا کبھی مجتمع بھی ہوسکے گی؟ اگر نہیں تو اسے استخلاف فی الارض کیسے مل سکے گا؟ حضرت حسن نہایت امیر ترین آدمی تھے لیکن مال راہ خدا میں خرچ کرتے تھے ۔ بعض اوقات ایسابھی ہوا کہ اپنے موزے بھی اللہ کے راستے میں خرچ کردیئے اور صرف جوتے روک لیے کیا عہد حاضر میں کوئی امیر دین دار اس طرز زندگی کو اختیار کرنے کا تصور بھی کرسکتا ہے جس امت پر دنیا کا غلبہ ہو اور اس قدر کہ قرنِ اول کے طرزِ زندگی کا عصر میں تصور کرنابھی محال ہوگیا ہو تو اس امت کو دنیاپر غلبہ کیسے عطاہوسکتا ہے جو دنیامیں گرفتار ہے اور دنیا ہی جس کا ہدف اور مقصود ہے اللہ نے اس امت کو ا ہل دنیا کے سپرد کردیا ہے۔

خیر القرن کا خاص وصف مصیبتوں پر صبر اور اللہ سے بہترین مستقبل کی امید تھی ۔ تمام صحابہ رسالت مآبۖکے اس ارشاد پر عمل کرتے تھے کہ

 ”ما من مسلم تصیہ مصیبة فیقول ما امرہ اللّٰہ بہ انا اللّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اللّٰھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خبرا منھا الا احلف اللّٰہ لہ خیراََ منھا۔”

”جس صاحبِ ایمان پر کوئی مصیبت آئے]اور کوئی چیز فوت ہوجائے [ اور وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ سے وہ عرض کرے جو عرض کرنے کا حکم ہے کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہم سب لوٹ کر جا نے والے ہیںاے اللہ مجھے میری اس مصیبت میں اجر عطا فرما]اور جو چیز مجھ سے لی گئی ہے[ اس کے بجائے اس سے بہتر مجھے عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ اس چیز کے بجائے اس سے بہتر ضرور عطا فرمائے گا۔”

ام المومنین حضرت سلمہ کو شوہر کے انتقال کے بعد عدت مکمل ہونے پر حضرت عمر اور ابوبکر نے رسالت مآب ۖکی جانب سے نکاح کا پیغام دیا تو آپ نے اسے قبول کرنے کے بجائے تین عذرات پیش کیے ۔ وقت کے پیغمبر اور حکم راں کی جانب سے نکاح کی پیشکش ہورہی ہے اس سے بڑی سعادت کیا ہوسکتی ہے لیکن اس لمحۂ مسرت میں بھی نفس کا کوئی تقاضہ ایمان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ ذات رسالت مآبۖکے سامنے بھی اصل بات پیش کردی جائے کیونکہ اگر کوتاہی ہوئی تو ایمان باقی نہیں رہے گا یہ احساس ذمہ داری اس قرن کا خاص وصف تھا آج اس کی آرزو بھی نہیں ملتی۔ ان عذرات کے بیان کا مقصد رسالت مآب ۖکے سامنے اصل صورت حال پیش کرنا کہ آپ اگر فیصلہ تبدیل کرنا چاہیں تو کرلیں اور یہ خوف کہ رسالت مآبۖکی رفاقت حاصل ہو اور آپ کی خدمت میں کوتاہی ہو، حقوق کی ادائیگی نہ ہوسکے، عذر یہ تھا [١] میں بہت غیرت مند ہوں [٢] میرے کئی بچے ہیں [٣] میری عمر بہت زیادہ ہوگئی ہے[٤] میرا کوئی ولی مدینہ میں نہیں ہے۔ یہ دیانت داری ، صاف گوئی ، سچائی ہر اس مومن کے لیے دین کو مطلوب ہے جو اسلامی انقلاب کی آرزو رکھتا ہے اور دنیا بھر سے اس آرزو کی خاطر جہاد کے لیے تیار ہے لیکن اپنے نفس کے خلاف جہاد پر قطعاَ آمادہ نہیں اس لیے ہمارا خاندانی اور معاشرتی نظام مسلسل شکست و ریخت اور زوال کا شکار ہے۔
ام المومنین حضرت زینب نے رسالت مآبۖکے حکم پر ایک غلام حضرت زید بن حارثہ جو رسالت مآبۖکے منہ بولے بیٹے تھے اور علم و دین میں ممتاز ترین انہیں قبول فرمالیا اور جب نباہ نہ ہوسکا تو مکہ کے دو بڑے خاندانوں کی عورت ہونے کے باوجود اپنے شوہر سے طلاق بھی بخوشی قبول فرمالی۔ رسالت مآبۖنے ان کی دل جوئی کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا اور یہ پیغام حضرت زید ہی لے کر گئے تو اللہ کی اس نیک بندی کاجواب یہ تھا 

” ما انا بصانعة شیئاَ حتیٰ او امر ربی فقامت الیٰ مسجدھا ”[صحیح مسلم جلد١،ص٤٦١]

”کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میں اللہ سے استخارہ ضرور کروں گی یہ کہہ کر اپنے مصلے پر کھڑی ہوگئیں۔

یعنی نماز شروع کردی ، اللہ سے یہ تعلق تھاکہ سورة احزاب کی آیت نازل ہوئی اور آسمان پر آپ کا نکاح ہوا، اللہ رب العزت آپ کے ولی بن گئے۔ حضرت زینب  اس بات پر فخر کرتی تھیں کہ میرا نکاح میرے اللہ نے کیا جب کہ دیگر ازواج مطہرات کا نکاح ان کے اولیاء اور اہلِ خا ندان نے کیا ہے ۔ فقول زوجکن اھالیکن و زوجنی اللّٰہ من فوق سبع السموات۔”]صحیح بخاری ، جلد٢، ص١١٠٤[ حضرت زینب کا نکاح اللہ کے حکم سے آسمانوں پر ہوا تو سب سے شاندار ولیمہ بھی آپ کا کیا گیا۔ بخاری کی روایت ہے کہ اس شاندار ولیمے میں صرف بکری زبح کی گئی تھی [ج٢، ص٧٧٧، صحیح مسلم،ج ا،ص ٤٦١] کیا روئے ارض پر کوئی ایسا صا حب حیثیت مسلمان عصر حاضر میں موجود ہے جو متمول بھی ہو، حکمراں بھی ہو، اور اس کے ولیمے میں صرف ایک بکری پر دعوت ولیمہ منعقد ہوسکے یہ تصور کرنا بھی عصر حاضر کے دینی ذہن کے لیے ناقابل قبول ہے اگر اس بیان میں شک ہو تو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ہر دینی مزاج رکھنے والا مسلمان غور کرلے ! حضرت زینب  کے بارے میں ام المومنین ام سلمہ اور حضرت عائشہ کی گواہی ہے۔ بہت صالحہ، کثرت سے روزہ رکھنے والی اور شب بیدار تھیں [ زرقانی شرح مواھب] میں نے ان سے زیادہ دیندار، متقی و پرہیزگار، سچ بولنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، صدقہ کرنے والی اور اپنی جان کو نیکی اور تقرب الی اللہ کے کاموں میں زیادہ کھپانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی۔ [ صحیح مسلم باب فضائل عائشہ] کیا عہد حاضر کی کوئی دینی ساس، بہو اور سوکن ایک دوسرے کے بارے میں کبھی اس طرح کے کلمات دیانتداری سے ادا کرسکتے ہیں اس معاشرت کی عدم موجودگی میں اسلامی انقلاب کے کیا معانی ہیں؟ حضرت زینب کوتاہ قامت اور ان کے ہاتھ بھی اسی لحاظ سے چھوٹے تھے لیکن سخاوت ، انفاق، کارِ خیر میں ان کے ہاتھ لمبے تھے، حضرت عائشہ کا قول ہے کہ رسالت مآب ۖنے فرمایا:

 ” قال لنا امرعکن لحوقاََ اطوالکن باعاََ فبشرھا  لبسرعة لحوقھا بہ وھی زوجة فی الجنة” [سیر الاعلام النبلاء ، ج٢، ص٢١٥]

”رسول اللہ نے ان کے بارے میں یہ خوشخبری دی ازواج مطہرات میں میری وفات کے بعد سب سے پہلے میرے پاس آنے والی میری وہ بیوی ہوگی جو سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی ہوگی ] یعنی کار خیر میں بہت خرچ کرنے والی[ اور وہ جنت میں بھی رسول اللہ کی بیوی ہیں۔”

رسالت مآبۖکے وصال کے بعد ازواج النبی ۖاپنے ہاتھ ناپا کرتی تھیں اور آپ کے فرمان اطوالکن باعاَ کا ظاہری مطلب ہی لیتی تھیں لیکن جب رسالت مآب ۖکی وفات کے بعد سب سے پہلے حضرت زینب کا انتقال ہوا تو ازواج مطہرات کو اطوالکن باعاَ کا مطلب سمجھ میں آیا سب سے زیادہ سخی اور فیاض۔ اور تمام ازواج مطہرات کی گواہی ہے کہ واقعی ام المومنین زینب ہم سب میں سب سے زیادہ سخی اور فیاض تھیں۔ حضرت زینب کی فیاضی کس درجے کی ہوگی اس کے لیے حضرت عائشہ اور حضرت ام المومنین سودہ بنت زمعہ کی فیاضی کے صرف دو واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔ ایک دفعہ حضرت عمر نے درہموں سے بھری ہوئی ایک تھیلی ان کی خدمت میں بھیجی، تھیلی حضرت سودہ نے لی اور سب درہم ضرورت مندوں پر تقسیم فرمادئیے ۔

حضرت عروہ کی روایت ہے کہ میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ حضرت عائشہ نے ستر ہزار درہم صدقہ کیے اور ان کے اپنے کرتے میں پیوند لگ رہا تھا یقیناَ یہ ازواج فیاضی میں حضرت زینب سے کم ہوں گی تو اندازہ کیجیے کہ حضرت زینب کی فیاضی کس درجے کی ہوگی کیا عہد حاضر کے دینی گھرانوں میں ایسی فیاض عورتیں موجود ہیں۔ عہد حاضر کی دینی مزاج عورتیں اتنی دنیا دار اور اس قدر حریص دنیا ہیں کہ اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کا تمام وقت صرف کپڑے بنانے ، کھانے پینے اور گھومنے پھرنے کے لیے وقف ہے۔ ایسی مائو ں کی گود سے قرن اول کی نسل کیسے پیدا ہوسکتی ہے جب وہ مائیں ہی مفقود ہیں تو قرن اول کا معاشرہ روئے زمین پر کیسے ظہور کرسکتا ہے ! رسالت مآب ۖنے حضرت زینب کے بارے میں حضرت عمر سے کہا تھا کہ زینب کو کچھ نہ کہو اس لیے کہ وہ ادھہ ہیں کسی صحابی نے ادھہ  کا مطلب دریافت کیا تو فرمایا کہ اداھہ  کے معنی ہیں خشوع و خضوع کرنے والی اور آپ نے آیت کریمہ پڑھی :

( ان ابراھیم حلیم او منیب) ”برد بار اور خشوع و خضوع کرنے والے اور اللہ کی طرف توجہ کرنے والے۔” 

حضرت زینب کی وفات پر حضرت عائشہ نے کہا تھا: 

” ذھبت حمیدة سعیدة مقزع الیتامی ‘ والارامل” ”ایک ستودہ صفات نیک بخت اور یتیموں و بیوائوں کی سہارا عورت دنیا سے رخصت ہوگئی ۔”

ایسی نیک بخت عورتوں کی کثرت کے بغیر نہ اسلامی خاندان بن سکتا ہے نہ اسلامی معاشرت جنم لے سکتی ہے افسوس کہ کسی اسلامی تحریک کے نصاب ، نظام تعلیم و تربیت میں ایسی عورتوں کی تعمیر و تشکیل و تربیت کا کوئی تصور تک موجود نہیں ہے ۔ قرن اول میں گفتگو کا اندازہ کیا تھا حفظ مراتب کیسے ملحوظ رکھے جاتے تھے اس کا تصور بھی آج محال ہے ۔ رسالت مآبۖکے چچا حضرت عباس عمر میں آپۖسے دو سال بڑے تھے لیکن جب بھی کوئی آپ سے سوال کرتا کہ آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ ۖتو وہ جواب میں کہتے کہ ”ھو اکبر وانا ولدت قبلہ ”]سیر اعلام النبلائ،ج٢،ص٨٠[یعنی ”بڑے تو رسول اللہ ۖہی ہیں ہاں پیدا پہلے میں ہوا تھا ۔حضرت عمر کے زمانے میں قحط پڑگیا تھا تو حضرت عمر  نے حضرت عباس سے بارش کی دعا کرنے کی درخواست کی ، انہوں نے درخواست قبول کی اور اللہ نے بارانِ رحمت نازل فرمایا ۔ [ صحیح بخاری باب سوال الناس الامام الاستسقاء اذا قحطورا]

 حضرت عبداللہ بن عباس حبر الامت انہی حضرت عباس کے صاحب زادے تھے وصال نبویۖکے وقت آپ کی عمر صرف تیرہ برس تھی ۔ رسالت مآب ۖنے حضرت عباس کی اولاد اور ان کے لیے دعا فرمائی تھی

اللّٰھم اغفر للعباس وولدہ مغفرة  ظاھرة وباطنة لاتفادر ذنبہ اللّٰھم احفظہ فی ولدہ” [جامع ترمذی باب مناقب عباس]

” اے اللہ! عباس اور ان کی اولاد کے تمام ظاہری و باطنی گناہ معاف فرمادیجیے او ر اے اللہ! ان لوگوں کی ایسی مغفرت فرمادیجیے کہ کوئی گناہ باقی نہ رہنے دے اے اللہ عباس کی حفاظت فرما ان کی اولاد کے بارے میں۔

اس دعا کا اثر یہ تھا کہ حضرت ابن عباس  علم و حکمت تفقہ فی الدین اور علم تفسیرالقرآن میں ممتاز تر تھے۔ رسالت مآبۖنے ایک بار آپ کے لیے دعا فرمائی:

"اللّٰھم فقہ فی الدین وعلمہ التاویل۔” "اے اللہ ان کو تفقہ فی الدین عطا فرما اورعلم تاویل۔” [مسلم ج٢،٢٨٩،باب فضائل عبد اللہ بن عباس، اصابہ ج٤،ص١٤٣]


حواشی
(١)          ” خیر القرون قرنی ” کے الفاظ کے ساتھ حدیث نبوی ۖثابت نہیں تاہم اس سے ملتے جلتے متعدد الفاظ سے یہ روایت ثابت ہے ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : ” خیر القرون قرنی -الفاظ حدیث کا تحقیقی جائزہ ” از محمد یوسف نعیم ۔

(جاری ہے۔۔۔۔۔۔)

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012 سے ماخوذ ہے۔