اصنام – قسط 1


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : کلیم الدین احمد

کلیم الدین احمد ( 1908ء – 1983ء ) اردو و انگریزی کے مشہور ادیب ، شاعر و نقاد تھے۔ وہ صادق پور پٹنہ کے ممتاز مجاہد خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ اصناف شعر و ادب سے متعلق ان کی متعدد کتابیں ہیں۔ 1981ء میں بھارتی حکومت نے انہیں ادب کے لیے بہترین خدمات انجام دینے پر ” پدم شری ” اعزاز سے بھی نوازا۔ ” اصنام ” ان کی توحیدی مزاج کی حامل ایک گراں قدر تحریر ہے ، اصل تحریر انگریزی میں ہے ، اس کا اردو ترجمہ جناب محمد عطاء اللہ خان نے کیا جو نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد سے 1992ء میں منظر شہود پر آیا۔ اس کی افادیت کے پیش نظر قارئین الواقعۃ کے لیے یہ کتابچہ قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔ مطبوعہ نسخے میں قرآنی آیات درج نہیں تھے صرف ترجمے پر اکتفا کیا گیا تھا تاہم ادارہ الواقعۃ نے قرآنی آیات کا اندراج بھی کر دیا ہے۔ ( ادارہ )

٭  ٭  ٭  ٭  ٭ کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

دجّالیات سے ایمانیات تک۔ تدبر و تفکر کی آرزو


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد احمد

1۔ بحیثیت مجموعی امت مسلمہ بہت بڑے خلجان کا شکار ہے کہ وہ اپنی بقاء کے لیے کیسا لائحہ عمل ( STRATEGY ) مرتب کرے حالانکہ یہ بات بخوبی واضح ہو چکی ہے کہ اختتام وقت کی لڑائیاں ( End of Time Battles ) جاری رہیں گی۔ اگر ہم ہر لحظہ قرآن مجید کی طرف متو جہ رہیں اور اپنی ایمانیات ( Motivating Force ) کی ترقی و ترویج دل و جان سے کرتے چلے جائیں تو ہمارے قدم صحیح منزل کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے ۔ ارشاد باری تعا لیٰ ہے :
( اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انشَقَّ الْقَمَرُ ۔ وَ اِن یَرَوْا آیَةً یُعْرِضُوا وَ یَقُولُوا سِحْر مُّسْتَمِرّ ۔ وَ کَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أھْوَاء ھُمْ وَ کُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرّ ۔ وَ لَقَدْ جَآئَ ھُم مِّنَ الْأَنبَاء  مَا فِیْھِ  مُزْدَجَر ۔ حِکْمَة بَالِغَة فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ۔ فَتَوَلَّ عَنْھُمْ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلَی شَیْ نُّکُرٍ ۔ خُشَّعاً أَبْصَارُھُمْ یَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ کَأَنَّھُمْ جَرَاد مُّنتَشِر ۔ مُّھطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ یَقُولُ الْکَافِرُونَ ھٰذَا یَوْم عَسِر)
“ قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا ۔یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے۔انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے ۔یقینا ان کے پاس وہ خبریں آچکی ہیں جن میں ڈانٹ ڈپٹ (کی نصیحت ) ہے اور کامل عقل کی بات ہے لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائدہ نہ دیا پس (اے نبی صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ۔ یہ جھکی آنکھوں قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے کہ گو یا پھیلا ہوا ٹڈی دل ہے ۔ پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوں گے اور کافر کہیں گے یہ دن تو بہت سخت ہے ۔” (القمر :1 تا 8) کو پڑھنا جاری رکھیں