سید اظہار الحق : تحریک پاکستان کے گمنام مجاہد


الواقعۃ شمارہ : 80 – 81، محرم الحرام و صفر المظفر 1440ھ

از قلم : سید کمال احمد

ملی نہیں ہے ہمیں ارضِ پاک تحفے میں
جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا

بقول سابق گورنر سندھ جناب حکیم محمد سعید :-
"اپنے محسنوں اور قومی ہیروز کو نظر انداز کرنے والی اقوام تباہ و برباد ہو جاتی ہیںاور ہماری بد حالی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم نے بھی اپنے ہیروز کے کارناموں کو فراموش کر کے اپنی تاریخ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ انڈیا لائبریری میں تمام ہندو لیڈروں کے مکمل فائل موجود ہیں، لیکن مولانا ابو الکلام آزاد سمیت کسی مسلمان لیڈر کی فائل مکمل نہیں ہے۔” (بحوالہ روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء) کو پڑھنا جاری رکھیں

بیرسٹر عبد العزیز، عزیز ملت


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

از قلم : سید محمد رضی ابدالی

دسمبر ۱۹۰۶ء کو ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ ڈھاکہ کے اجلاس میں صوبہ بہار کے مسلم زعماء میں جسٹس شرف الدین، مظہر الحق بار ایٹ لاء، سر سیّد علی امام، جسٹس حافظ سیّد عنایت کریم، نواب نصیر حسین خیالؔ عظیم آبادی اور مولانا شمس الہدیٰ وکیل نے شرکت کی تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ بہار کے رہنماؤں میں ایک اہم نام بیرسٹر عبد العزیز کا بھی ہے۔ انھوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے عوامی اجلاس کے جو دسمبر ۱۹۳۸ء کو پٹنہ میں منعقد ہوا، کے تمام اخراجات برداشت کیے تھے۔ بیرسٹر عبد العزیز ۱۸۸۲ء کو پٹنہ (بہار) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سیّد حفاظت حسین ایک بلند پایہ حکیم تھے۔ آپ کے والدین کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ آپ نے اسکول کی تعلیم جسٹس شرف الدین کے گھر میں رہ حاصل کی جو آپ کے قریبی عزیز بھی تھے۔ بعد ازاں پٹنہ اسکول میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد سینٹ کولمبس کالج ، ہزاری باغ سے انٹر میڈیٹ کیا، انٹر میڈیٹ کے بعد آپ کو بیرسٹری کے لیے لندن بھیج دیا گیا۔ انگلستان میں قیام کے دوران آپ نے مقامی اخباروں میں مضامین لکھے جس کی وجہ سے انھیں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ۱۹۱۱ء میں آپ نے لندن سے بیرسٹری کی سند حاصل کی اور ۱۹۱۲ء میں وطن واپس لوٹے۔ بیرسٹر سیّد عبد العزیز نے وکالت کا آغاز کلکتہ ہائی کورٹ سے شروع کیا جہاں آپ کو سر سیّد علی امام اور سیّد حسن امام کے ساتھ وکالت کرنے کا موقع ملا۔ ۱۹۲۶ء میں کلکتہ میں ہندو مسلم فساد ہوا اور مسلمانانِ کلکتہ کو بہت بڑی تعداد میں گرفتار کر لیا گیا ان کے مقدمات کی پیروی کے لیے مسلمانوں کی نظر انتخاب بیرسٹر عبد العزیز پر پڑی۔ ان کی قانون سے متعلق صلاحیتوں کے پیشِ نظر حکومت برطانیہ نے دلی سازش کے مقدمہ کی پیروی کے سلسلے میں ۱۹۳۲ء میں ان کی خدمات حاصل کیں۔

مسلمانانِ بہار نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے ہمیشہ بڑی کوشش کیں۔ لیکن جب شدھی اور سنگھٹن تحریک شروع ہوئی اور بہار میں ہندو مہا سبھائیوں نے مسلمان برقع پوش عورتوں کی زندگی اجیرن بنا دی تو مسلمانانِ بہار نے ’’انجمن محافظت‘‘ قائم کی، جس کے صدر سر سیّد علی امام منتخب کیے گئے اور نائب صدارت کے لیے بیرسٹر عبد العزیز کا انتخاب عمل میں آیا۔ آپ نے انگریزی اور اردو میں ’’پروگریس‘‘ اور ’’پیام‘‘ کے نام سے دو اخبار جاری کیے ان اخبارات کے ذریعے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی خلیج کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ آپ اپنی آمدنی سے آنکھ کے مریضوں کاہر سال کیمپ بھی قائم کیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ ۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۳ء تک قائم رہا۔ مریضوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی کوئی تخصیص نہ تھی۔

بیرسٹر عبد العزیز نے وکالت کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی ہمیشہ دلچسپی لی اور بہار صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ۲ مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ آپ اس صوبے کے وزیر زراعت اور وزیر تعلیم بھی مقرر ہوئے۔ ۱۹۳۵ء کے انڈیا ایکٹ کے نفاذ کے بعد بر صغیر کے مسلمانوں نے ہر صوبے میں مقامی طور پر سیاسی جماعتیں تشکیل دے دیں۔ بیرسٹر عبد العزیز نے بھی ایک پارٹی قائم کی جس کا نام ’’یونائیٹڈ پارٹی‘‘ تھا۔ ۱۹۳۷ء میں مسلم لیگ کی تنظیم کے لیے قائد اعظم پٹنہ آئے تو اس موقع پر بیرسٹر عبد العزیز نے اپنی پارٹی کو آل انڈیا مسلم لیگ میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔

بیرسٹر عبد العزیز آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور بہار مسلم لیگ کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔ آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا پہلا جلسہ محمد علی پارک کلکتہ میں ۲۷ دسمبر ۱۹۳۷ء کو منعقد ہوا تھا۔ اس موقع پر قائد اعظم نے بیرسٹر عبد العزیز کو انجمن کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر دعوت نامہ ارسال کیا۔ دسمبر ۱۹۳۸ء کے آخری عشرے میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس پٹنہ (بہار) میں منعقد ہوا اور آپ مجلس استقبالیہ کے صدر منتخب ہوئے۔ اپنی افتتاحی تقریر میں انھوں نے محمد علی جناح کو ’’قائدِ اعظم‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ پنجاب کے ایک مسلم لیگی رضا کار میاں فیروز الدین نے مسٹر جناح کے پنڈال میں داخل ہوتے وقت ’’قائدِ اعظم زندہ باد‘‘ کا نعرہ بلند کیا جو بعد میں سارے ہندوستان میں مشہور ہو گیا۔ پٹنہ کے اجلاس میں آل انڈیا خواتین مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ آل انڈیا مسلم لیگ پٹنہ کے سالانہ اجلاس کے بعد بیرسٹر عبد العزیز نے پٹنہ میں ایک جلسہ عام طلب کیا جس کی صدارت سردار اورنگ زیب خان (سابق وزیر اعلیٰ سرحد) نے کی۔ نواب بہادر یار جنگ کو خصوصی طور پر مدعو کیا تھا اس جلسہ میں ریاستی مسلم لیگ کی بنیاد پڑی اور نواب بہادر یار

کو پڑھنا جاری رکھیں

علامہ راغب احسن


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

سید محمد رضی ابدالی

علامہ راغب احسن

علامہ راغب احسن ایک عالم ، فاضل ، صحافی اور اپنے عہد کی کئی تحاریک میں حصہ لینے کے حوالے سے بے حد مشہور شخصیت ہیں ۔ علّامہ تحریکِ پاکستان میں شروع سے پیش پیش رہے اور اپنی پوری زندگی مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور انہیں اقوام عالم میں صحیح مقام دلانے میں صرف کی ۔

علّامہ راغب احسن کا آبائی وطن ضلع گیا ، صوبہ بہار ( بھارت ) تھا ۔ آپ ایک غریب گھرانے میں ١٩٠٥ء میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد ریاض الدین احمد ، کلکتہ میں محکمۂ ڈاک میں ملازم تھے ۔ راغب احسن نے کلکتہ میں تعلیم پائی اور اپنی سیاسی زندگی کا آغاز خلافت کمیٹی میں شمولیت سے کیا اور اسی سلسلہ میں جیل بھی گئے ۔ علی پور جیل میں ان کی ملاقات کلکتہ کارپوریشن کے اس وقت کے میئر محمد عثمان سے ہوئی ۔ وہاں ان دونوں نے عہد کیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے اور انگریز کی ملازمت کرنے کے بجائے اس کے خلاف جہاد کریں گے چنانچہ انہوں نے جیل سے رہائی کے بعد ایم -اے کیا اور اس کے بعد صحافت کا پیشہ اختیار کرتے ہوئے ” اسٹار آف انڈیا ” کے عملہ میں شامل ہوگئے ۔
مولانا محمد علی جوہرکے اخبار ” کامریڈ ” کے اعزازی مدیر بھی تھے ۔ مولانا محمد علی جوہر کی صحبت نے علامہ راغب احسن میں ایسا زورِ قلم پیدا کیا کہ محمد علی جوہر کے انتقال کے بعد سارا ہندوستان آپ کو محمد علی ثانی کہنے لگا۔
علّامہ راغب احسن نے ١٩٣١ء میں ” آل انڈیا یوتھ لیگ ” کی بنیاد رکھی اور اسی دوران ” میثاق فکر اسلامیت و استقلال ملّت ” کے نام سے ایک فکر انگیز دستاویز مسلمانوں کے حقوق کے لیے مرتب کی ۔ ١٩٣٦ء میں راغب احسن نے کلکتہ مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور اس کی تنظیم سازی میں نہایت سرگرمی سے حصہ لیا ۔ حسین شہید سہروردی ( جو بعد میں متحدہ پاکستان کے وزیراعظم بنے) کو اس کا صدر اورسید محمد عثمان (سابق میئر کلکتہ ) کو جنرل سکرٹری مقرر کیا ۔
ہندوستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ جس مسئلہ کو ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان متنازع فیہ تسلیم کیا گیا وہ طرزِ انتخاب کا مسئلہ تھا ۔ ہندوستان کے بڑے بڑے مسلم رہنما مثلاً حکیم اجمل خاں ، سر علی امام ، حسن امام ، بیرسٹر مظہر الحق ، محمد علی جناح ، حسرت موہانی ، ڈاکٹر انصاری ، مولانا ظفر علی خان ، چودھری خلیق الزماں ، مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی جوہر وغیرہم متحدہ طرزِ انتخاب کو ہندوستان کے سیاسی نظام کے لیے بہتر سمجھتے تھے جبکہ مسلم کانفرنس کے اراکین و عہدیداران ہمیشہ جداگانہ طرزِ انتخاب کے حامی رہے مثلاً سر محمد شفیع ، سر علامہ محمد اقبال ، محمد شفیع داودی اور علامہ راغب احسن اس ضمن میں قابلِ ذکر ہیں ۔ جداگانہ طرزِ انتخاب پر جس قدر تحریر علامہ راغب احسن کی ہے ، کسی اور کی نہیں ۔ موصوف کی سیاست میں استحکام تھا ۔ ان کا نام نظریات کے تبدیل کرنے والوں میں نہیں لیا جا سکتا ۔
علامہ راغب احسن کی شخصیت کی اہمیت کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب قائد اعظم محمد علی جناح ١٩٣٥ء میں برطانیہ سے ہندوستان تشریف لائے تو دلی کی سرز مین پر تین اہم شخصیتوں محمد علی جناح ، علامہ محمد اقبال اور  علامہ راغب احسن نے ایک کمرے میں بیٹھ کر گھنٹوں ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار اور عالمی حالات و واقعات پر باتیں کیں ۔ اسی اجتماع میں علامہ اقبال نے علامہ راغب احسن سے درخواست کی کہ وہ مسٹر جناح کا ساتھ دین اور ان کے ہاتھ مضبوط کریں ۔ چنانچہ راغب احسن نے علامہ اقبال کی درخواست قبول کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم میں بھر پور حصہ لیا اور اسے نہایت مستحکم تنظیم بنادیا ۔
علامہ راغب احسن کی عظمت ، فہم و فراست اور ذہنی بالیدگی کا اندازہ اس حقیقت سے بھی ہوتا ہے کہ وہ مولانا محمد علی جوہر کے جتنے چہیتے تھے اتنے ہی قائد اعظم محمد علی جناح کے بھی پیارے تھے حالانکہ محمد علی جناح اور محمد علی جوہر میں اصولی طور پر سیاسی اختلافات بھی قائم رہے ۔
٤٦١٩٤٥ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی شاندار کامیابی کے بعد اپریل ١٩٤٦ء میں منتخب نمائندوں کا کنونشن دہلی میں منعقد ہوا تھا ۔ اس اجلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح نے علامہ راغب احسن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ

” کروڑوں ہیں جو میرے اندھے مقلد ہیں ، لاکھوں ہیں جو میری تائید کرتے ہیں اور لاکھوں ہیں جو میرے لیے سرگرمی سے کام کرتے ہیں لیکن ہندوستان کے طول و عرض میں مسلم لیگیوں میں صرف ایک راغب احسن ہیں جو اسلام اور پاکستان کے اصول کی محبت میں مجھ پر بے باکی کے ساتھ تنقید کی جرأت کرتے ہیں ۔ پاکستان کے نصب العین کی خاطر وہ مجھ پر سخت ترین گرفت کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔وہ مجھ کو چاہتے ہیں لیکن مجھ سے زیادہ اسلام اور پاکستان کو چاہتے ہیں ۔ راغب احسن لیگ اور تحریکِ پاکستان کے زندہ ضمیر ہیں اور راغب احسن پر مجھے فخر ہے ۔ "

١٩٣٣ء میں علامہ اقبال نے اپنے ایک خط میں علامہ راغب احسن کے متعلق لکھا کہ

"مولانا راغب احسن کی قابلیت و صلاحیت کی تصدیق کرتے ہوئے مجھے بے حد مسرت ہوئی ہے ۔ یہ ان گنتی کے چند قابل ترین اور انتہائی ہونہار نوجوانوں میں سے ہیں جن سے مجھے ملنے کا موقع ملا ہے ۔ مجھے کامل یقین ہے کہ وہ اسلام اور ہندوستان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہوں گے ۔ "

علامہ راغب احسن نے بنگال میں آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم بہ کمالِ محنت و مشقت کی تھی ، اسی لیے وہ سارے ہندوستان کی جان قرار پاگئی تھی ۔ ہر گائوں اور ہر محلہ مسلم لیگ کی تنظیم سے منسلک تھا ۔ جب آل انڈیا مسلم لیگ نے یوم رسات اقدام منانے کا اعلان کیا تو لاکھوں افراد کا مجمع کلکتہ میدان میں جمع ہونے لگا ، جس پر ہندوئوں نے منظم سازش کے ذریعے حملہ کردیا ۔ کلکتہ کے نقصانات کو وائسرائے ہند لارڈ ویول نے بہ چشم خود دیکھا ۔ وہ اس حادثہ پر انتہائی مضطرب ہوا اور ساتھ ہی مسلم قوم کی جانبازی اور سرفروشی کو بھی پرکھ لیا ۔ وائسرائے ہند نے مسلمانوں کی جانب سے یوم راست اقدام منانے کی حیثیت اور اہمیت کو سمجھ لیا اور اس کے بعد ہی اس نے عارضی حکومت میں آل انڈیا مسلم لیگ کو پانچ وزارتیں دینے کی پیش کش کی جبکہ اس سے چند ہفتہ قبل عارضی حکومت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی شمولیت کو ناقابل قبول قرار دیا تھا ۔ عارضی حکومت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی شمولیت ، تنہا کلکتہ مسلم لیگ کے عزمِ بلند کی مرہونِ منّت ہے ۔ کلکتہ کے فسادات میں مسلمانوں نے جو شہادت پیش کی اور جس طرح جرأت و ہمت کا مظاہرہ کیا ، در حقیقت اسی کے پیشِ نظر آل انڈیا مسلم لیگ کے پانچ ممبرانِ اسمبلی لیاقت علی خاں ، راجہ غضنفر علی خاں ، سردار عبد الرب نشتر ، آئی آئی چندریگر اور منڈل ہندوستان کی عارضی حکومت میں شامل ہوئے ۔ اس عارضی حکومت میں لیاقت علی خان کو وزیر خزانہ مقرر کیا گیا تھا ۔ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ علامہ راغب احسن جو کہ ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے رکن بھی تھے اور قائد اعظم کے ساتھ مل کر جدو جہدِ آزادی میں نمایاں حصہ لیا ، اس کے باوجود علامہ راغب احسن کو نہ ہی ہندوستان کی عارضی حکومت میں شامل کیا گیا اور نہ ہی ان سے حکومت کے نظم و نسق کے لیے کسی قسم کا صلاح و مشورہ کیا گیا ۔ تاریخ کے اوراق میں حقائق پھیلے ہوئے ہیں کہ پاکستان کو تعمیر کرنے میں راغب احسن نے کیا کردار ادا کیا لیکن قیام پاکستان کے بعد بھی حکومت کے دروازے ان پر بند کردیئے گئے ۔
آل انڈیا مسلم لیگ کی تحریک کی جب ابتدا ہوئی تو اسے بہت سی دشواریوں سے دوچار ہونا پڑا ۔ علامہ راغب احسن پر یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آئی کہ جب تک علماء کے حلقے اور خانقاہوں کی گدی نشینوں کو مسلم لیگ کا ہم خیال نہیں بنایاجائے گا اس وقت تک مسلم لیگ کی تحریک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کانگریس کے شکار مذہبی حلقوں کا زور توڑ دیا جائے چنانچہ علامہ راغب احسن نے جمعیت علمائے اسلام کے قیام اور اس کی کامیابی میں بھرپور حصہ لیا ۔علامہ راغب احسن اپنے ایک مضمون جو اخبار ” زمیندار ” کی اشاعت مورخہ ١٩ جنوری ١٩٤٩ء میں شائع ہوا ، لکھتے ہیں :

"جمعیت علمائے اسلام کی تاسیس و تنظیم راقم الحروف نے سالہا سال کی کوشش و کاوش کے ساتھ ١١ جولائی ١٩٤٥ء کو کلکتہ میں کی تھی ۔” (بحوالہ حیات شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی : ٨٧)

 جمعیت علمائے اسلام کی وجہ سے آل انڈیا مسلم لیگ کو ١٩٤٦ء کے عام انتخابات میں بے مثال کامیابی ملی اور پاکستان کا قیام عمل میں آیا ۔
علّامہ شبیر احمد عثمانی نے علامہ راغب احسن کو ” سیف الملّت ” کا لقب دیا تھا جبکہ حسین شہید سہرورودی نے ” پاکستان کا ٹینک فورس ” کا خطاب دیا تھا ۔
علامہ راغب احسن کی کتابوں میں حسبِ ذیل کتابوں کا ذکر ملتا ہے ۔
* What Muslims want in India
*Principles of Islamic Economics
* The Political Case of Musalim India
* History of Making of Muslim Nationalism in India.
علامہ راغب احسن ١٩٥٧ء میں اسلامی لاء کمیشن کے رکن مقرر ہوئے ۔سینٹرل اقبال کمیٹی کے نائب صدر اور سلیمان ندوی کمیٹی آف اسلام ( کراچی ) کے رکن تھے ۔ ١٩٦٥ء کے عام انتخابات میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے حق میں اور اس وقت کے صدر پاکستان محمد ایوب خان کے خلاف مشرقی پاکستان میں بے حد کام کیا تھا ۔
قیام پاکستان کے بعد علامہ راغب احسن پاکستان ہجرت کرتے ہوئے سابق مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکہ میں مستقل سکونت پذیر ہوئے اور پھر بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ایک دفعہ پھر ڈھاکہ سے ہجرتے کرکے کراچی تشریف لے آئے ۔ علامہ راغب احسن کا انتقال ٢٧ نومبر ١٩٧٥ء کو کراچی میں ہوا اور وہ سخی حسن قبرستان میں مدفون ہوئے ۔ ١٩٩٠ء میں حکومت پنجاب نے آپ کی خدمات کے اعتراف میں ” تحریکِ پاکستان کا گولڈ میڈل ” دیا تھا ۔

مآخذ:

١-انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا از سیّد قاسم محمود
٢-انسائیکلو پیڈیا تحریکِ پاکستان از اس سلیم شیخ
٣-وفیات ناموران پاکستان از ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ
٤-شائق و عثمان و راغب از محمد انیس الرحمان انیس
٥-رہبران پاکستان از سیّد محمد رضی ابدالی
٦-حیات شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی از فیض الانبالوی و شفیق صدیقی
7-Allama Raghib Ahsan — Quaid-i-Azam Correspondence (1936-1947) by Syed Umar Hayat