تہذیبوں کا تصادم


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

ایم ابراہیم خاں

تہذیبوں کا تصادم

”تہذیبوں کا تصادم” بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے میں ایک متنازع نظریہ ہے۔ سیمیوئل پی ہنٹنگٹن نے اس نظریے کو عالمگیر شہرت بخشنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے 1993 میں معروف جریدے "فارن افیئرز” میں ایک مضمون لکھا جس میں یہ تصور صراحت سے بیان کیا گیا تھا کہ جدید دنیا میں بین الاقوامی جنگوں کی بنیاد تہذیبی اختلاف پر ہوگی۔ تہذیبوں کے تصادم کی اصطلاح برنارڈ لیوئس نے 1990 میں معروف جریدے "دی اٹلانٹک” منتھلی کے ستمبر کے شمارے میں شائع ہونے والے مضمون "دی روٹس آف دی مسلم ریج” میں دی تھی۔ ہنٹنگٹن نے جب تہذیبوں کے تصادم سے متعلق مضمون لکھا تو دنیا بھر کے سیاسی اور علمی حلقوں میں تہلکہ مچ گیا۔ اپنے مضمون پر غیر معمولی ردعمل دیکھ کر ہنٹنگٹن نے 1996 میں ایک ضخیم کتاب "تہذیبوں کا تصادم اینڈ دی ری میکنگ آف ورلڈ آرڈر” کے عنوان سے شائع کی۔ اس کتاب کو بھی عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ بہت سے سیاسی مبصرین کے نزدیک جو کچھ ہنٹنگٹن نے بیان کیا اس میں زیادہ دم خم نہیں، اور کسی بھی جنگ کی اصل بنیاد مفادات کا تصادم ہے، تہذیبوں کا تصادم نہیں۔

سرد جنگ کے بعد دنیا میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ان سے تجزیہ کاروں کو تحریک ملی کہ وہ عالمی سیاست اور معیشت کو نئے زاویوں سے دیکھیں اور پرکھیں۔ مغرب کی لبرل ڈیمو کریٹک اقدار کو ہی دنیا کا مقدر سمجھا جانے لگا۔ ایک صدی کے دوران مغرب نے جو فقید المثال ترقی کی ہے اس کی روشنی میں کسی اور تہذیب کے پنپنے کی امید کی ہی نہیں جاسکتی۔ بیسویں صدی کے اوائل میں کمیونزم کو غیر معمولی مقبولیت ملی تھی، مگر اس صدی کے ختم ہوتے ہوتے یہ نظریہ بظاہر دم توڑ گیا۔ کمیونسٹ بلاک کی شکست و ریخت اور بالآخر تحلیل نے سیاسی مبصرین کو یہ نتیجہ اخذ کرنے کی راہ دکھائی کہ فکری محاذ پر اب کوئی فیصلہ کن تبدیلی رونما نہیں ہوگی اور دنیا نظریاتی اعتبار سے اپنی منطقی منزل تک پہنچ گئی ہے ! چند مصنفین اور دانشوروں کے نزدیک مغرب کی سیاسی سوچ ہی اب دنیا کا فکری مقدر ہے۔ جو کچھ دکھائی دے رہا تھا اس کے تناظر میں ایسی سوچ کا ابھرنا حیرت انگیز بھی نہ تھا۔ ترقی پذیر دنیا ہر معاملے میں مغرب کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ترقی سے ہمکنار ہونے والے نئے ممالک بھی مغرب کی فکری کاسہ لیسی سے بچے ہوئے نہ تھے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر فرانسس فوکویاما نے یہ متنازع نظریہ پیش کیا کہ دنیا نظریاتی اعتبار سے مکمل ہوچکی ہے، لہٰذا فکری تاریخ کا سفر ختم ہوا۔ اس موضوع پر انہوں نے ایک ضخیم کتاب بھی لکھی جو علمی اور عوامی حلقوں میں خاصی مقبول ہوئی۔ فوکویاما کے نزدیک دنیا اب مغرب کے نظریات سے دامن بچاکر نہیں چل سکتی۔ ان کا بنیادی استدلال یہ تھا کہ مغرب کی برتری انتہائی واضح ہے اور اس کا دائرۂ اثر اس قدر وسیع ہے کہ دنیا اس کی دست نگر ہوکر رہ گئی ہے۔

ہنٹنگٹن نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اکیسویں صدی میں جنگیں پانی یا زمین کے حصول کی خواہش کی بنیاد پر نہیں، بلکہ تہذیبی اور مذہبی اختلاف کی بنیاد پر ہوں گی۔ اس تصور یا نظریے نے سنجیدہ حلقوں میں ہلچل مچادی۔ یہ بآور کرلیا گیا کہ مغرب کے انتہائی طاقتور ممالک اس نظریے کو بنیاد بناکر ترقی پذیر معاشروں کو زیر نگیں کرنا چاہتے ہیں۔ امریکا اور یورپ نے جس طرح جارحانہ طور پر کمزور ممالک کے خلاف کارروائیاں شروع کیں اور ان کی زمین اور وسائل ہتھیانے کا عمل شروع کیا اس سے دنیا کو یہ پیغام ملا کہ اب مغرب اپنے مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ تہذیبوں کے تصادم کا بہانہ تراش کر افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانا چاہتے ہیں۔ ہنٹنگٹن کا استدلال یہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات اور تنازعات کو اب مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی بنیاد پر سمجھنا زیادہ آسان ہوگا۔ "فارن افیئرز” میں ہنٹنگٹن نے لکھا ہے:

"میرا نظریہ یہ ہے کہ سرد جنگ کے بعد جو نئی دنیا معرض وجود میں آئی ہے اس میں تمام بڑے اور فیصلہ کن تنازعات کی بنیاد معاشی مفادات اور نظریات سے کہیں بڑھ کر تہذیبی اقدار پر استوار ہوگی۔”

ہنٹنگٹن نے اپنی کتاب میں دنیا کو سات تہذیبوں میں تقسیم کیا ہے۔ آئیے، اس تقسیم پر ایک نظر ڈالیں۔
·        یورپ، شمالی امریکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پر مشتمل عیسائی تہذیب۔ (عیسائی دنیا میں روس بھی شامل ہے تاہم وہ آرتھوڈوکس ہے۔ قدامت پرست عیسائیوں کے عقائد کیتھولک یا پروٹیسٹنٹ عیسائیوں کے خیالات سے یکسر مختلف ہیں۔ روس اور مشرقی یورپ کے دیگر ممالک بھی ایک تہذیبی علاقہ تشکیل دیتی ہیں ۔ سابق سوویت یونین کی ریاستیں خود فیصلہ کریں گی کہ انہیں یورپ اور شمالی امریکا کے ساتھ رہنا ہے یا روس کے ساتھ۔ روس اور اس کے زیر نگیں علاقوں کو ایک علاحدہ تہذیبی علاقہ اب تک تو تصور نہیں کیا جاتا، ممکن ہے آگے چل کر اس کی راہ ہموار ہو۔ جن علاقوں میں آرتھوڈوکس عیسائی رہتے ہیں انہیں باضابطہ تہذیب بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔)
·        مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، جنوبی ایشیا، ملائیشیا اور انڈونیشیا پر مشتمل اسلامی تہذیب
·        ہندوستان اور نیپال پر مشتمل ہندو تہذیب
·        صحرائے صحارا کے زیریں علاقے پر مشتمل تہذیب
·        چین، ویت نام، سنگاپور، تائیوان وغیرہ پر مشتمل چینی تہذیب
·        تھائی لینڈ، کمبوڈیا، ویت نام، بھوٹان، منگولیا، لائوس، تبت، میانمار، نیپال اور شمالی بھارت سے تعلق رکھنے والے بدھ باشندوں پر مشتمل بدھ تہذیب
·        اور آخر میں جاپان۔ بہت سوں کو حیرت ہوتی ہے کہ ہنٹنگٹن نے جاپان کو علاحدہ تہذیب شمار کیا ہے۔ انہوں نے اس کی ٹھوس وجوہ بھی بیان کی ہیں۔
ہنٹنگٹن کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ دنیا بھر میں تہذیبوں کے مابین اختلافات تیزی سے ابھر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے سابق یوگوسلاویہ ، چیچنیا اور پاک بھارت تنازعے کی مثال پیش کی ہے۔ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہنٹنگٹن نے یہ بھی لکھا ہے کہ مغربی اقدار کو برتر قرار دے کر انہیں دنیا کا حتمی مقدر بنادینا کسی طور درست نہیں، بلکہ سادہ لوحی ہے۔ مغرب نے جہاں جہاں قدم جمائے ہیں، جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام بھی نافذ اور رائج کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے نتیجے میں صرف خرابیاں پیدا ہوئی ہیں۔ مغرب اس بات کو قبول یا ہضم نہیں کر پارہا کہ اس کی دی ہوئی ہر سوغات لاجواب نہیں۔ مغرب کو اس بات کا احساس (اور فخر) ہے کہ اس نے جدید بین الاقوامی نظام بنایا، اس کے لیے قوانین مرتب کیے اور اقوام متحدہ کی شکل میں دنیا کو ایک لڑی میں پرویا۔ مگر یہ سب تو اس نے اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا ہے، پھر بھلا کوئی بھی دوسری تہذیب مغرب کے دیئے ہوئے ہر اصول کو اپنانے کے لیے صبر اور قرار کیوں داؤ پر لگائے؟

ہنٹنگٹن نے چین کی تہذیب کو مستقبل میں مغرب کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ چین اور اسلامی دنیا کے مابین مناقشے کی تاریخ نہیں، لہٰذا دونوں ایک دوسرے کو زیادہ آسانی سے قبول کرسکتے ہیں۔ اسلامی ممالک نے چین میں دلچسپی دکھائی بھی ہے۔ چین کے مستحکم ہونے سے ہر اسلامی ملک کی انفرادی سیاست اور معیشت کے علاوہ مجموعی طور پر اسلامی تہذیب بھی توانا ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں تہذیبوں کے مابین تصادم کا خطرہ مزید پروان چڑھے گا۔ مغرب کے لیے بہت سے مسائل موجود ہیں۔ ایک طرف تو اس کی آبادی کم ہوتی جارہی ہے اور رقبہ بھی محدود رہ گیا ہے۔ عالمی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ مغرب اس معاملے میں دنیا کا ساتھ نبھانے سے قاصر ہے۔

ہنٹنگٹن نے آرتھوڈوکس، ہندو اور جاپانی تہذیب کو swing civilization قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تہذیبوں کا جھکاؤ کسی بھی سمت ہوسکتا ہے۔ ہندو تہذیب کسی بھی مرحلے پر چینی یا اسلامی تہذیب سے مل سکتی ہے۔ اسلامی اور چینی تہذیب کے ممکنہ ملاپ کو ہنٹنگٹن نے شک کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ اس معاملے میں وہ قدرے متعصب دکھائی دیئے ہیں۔ چین کو عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے پاکستان، ایران اور دیگر اسلامی ممالک کا ساتھ درکار ہے۔ یہ ساتھ پانے کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ عالمی میڈیا میں چین کے خلاف مغربی پروپیگنڈا کا بنیادی سبب بھی یہی خوف ہے کہ کہیں چین اور اسلامی دنیا ایک نہ ہوجائیں۔

جدیدیت، مغربیت اور منقسم ممالک

ہنٹنگٹن کے ناقدین روایتی تہذیب کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ وہ جدید دور کے تقاضے نبھانے سے قاصر ہیں۔ ان کے خیال میں اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بیشتر قدامت پسند تہذیبیں اپنے آپ کو تبدیل کرنے سے گریزاں ہیں۔ ان کی نظر میں بہتر یہ ہے کہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فروغ کی کوشش کی جائے۔ اس کوشش میں وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔ اس ذیل میں جاپان ایک ایسی مثال ہے جسے بنیاد بناکر کئی پس ماندہ تہذیبیں اپنے لیے نیا جہان پیدا کرسکتی ہیں۔ جاپان نے مغرب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ حالات کے مطابق اپنے آپ کو تبدیل کرکے اس نے ترقی کی متعدد منازل طے کی ہیں اور اب وہ عالمی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ جاپان نے آزاد معیشت کو فروغ دیا ہے، جمہوریت کو اپنایا اور اس کے باوجود مغرب سے یکسر جدا تہذیبی شناخت برقرار رکھی ہے۔ چین بھی ابھرتی ہوئی غیر مغربی معیشت ہے۔ روس کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جو غیر مغربی جدیدیت کی عمدہ مثال ہیں۔ روس کے لیے ابتدا ہی سے شناخت کا مسئلہ موجود رہا ہے۔ اب تک یہ طے نہیں ہوسکا کہ وہ مشرقی ملک ہے یا مغربی۔ مغربی دنیا اسے اپنا حصہ بنانے کے معاملے میں کبھی سنجیدہ دکھائی نہیں دی۔

مغرب نے جس دور میں بیرون ملک نوآبادیاں بنانے پر توجہ دی، فطری علوم کو پروان چڑھایا اور روشن خیالی اپنائی اسی دور میں آرتھوڈوکس تہذیب اندرونی فروغ کی جانب مائل رہی۔ اقدار کے معاملے میں اس نے بازنطینی تہذیب کے بجائے روم کی سلطنت پر انحصار کیا۔ ظاہر ہے کہ مشرق سے روس کا فاصلہ بھی بڑھ گیا۔ ترکی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دو تہذیبوں کے سنگم پر کھڑا ہے۔ اسلامی دنیا میں اس کا مقام غیر معمولی رہا ہے، مگر جدید دور میں اس نے مغرب کو بہتر آپشن کی حیثیت سے اپنایا ہے۔ ترک زبان رومن رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ مغرب کی اقدار کو نمایاں طور پر اپنایا گیا ہے۔ ترک سیاست اور معیشت میں فوج کا کردار کلیدی نوعیت کا رہا ہے۔ اب بھی فوج تمام معاملات پر حاوی ہے۔ ترکوں نے جدید مغربی لباس کو بھی اپنالیا ہے۔ ترکی یورپی یونین کا حصہ بننے کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا چکا ہے۔ ترکی کا معاملہ بہت واضح ہے کہ وہ مغرب کا حصہ بننا چاہتا ہے۔ یورپی یونین کا حصہ بننے کی صورت میں ایران پر بھی دباؤ بڑھ جائے گا۔ swing civilization کے حامل کسی بھی ملک کے لیے کسی برتر تہذیب کا حصہ بننے کی راہ اسی وقت ہموار ہوتی ہے جب تین شرائط مکمل کی جائیں۔
·       سب سے پہلے تو اس ملک کی اشرافیہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہو،
·        دوسرے یہ کہ اس فیصلے یا ارادے کو عوام کی حمایت حاصل ہو
·       اور تیسرے یہ کہ جس تہذیب کا حصہ بننے کی تیاری کی جارہی ہے اس کی اشرافیہ بھی اس معاملے کو قبولیت کی سند دے۔
ہنٹنگٹن کے تصورات نے خاصا ہنگامہ کھڑا کیا۔ ان سے اختلاف کرنے والے بھی کمر کس کے میدان میں آگئے۔ بہت سے سرکردہ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال یہ تھا کہ ہنٹنگٹن نے کہیں سے کوئی اشارہ پاکر یہ شوشہ چھوڑا ہے! اختلاف کرنے والوں کا بنیادی استدلال یہ تھا کہ تہذیبی بنیاد پر عالمی مناقشوں کا جواز پیش کرنا تاریخی حقائق سے درست ثابت نہیں ہوتا۔ ایک ہی تہذیب سے وابستہ ہونے کے باوجود یورپی ممالک نے دو عالمگیر جنگیں لڑی ہیں اور ایک دوسرے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ہنٹنگٹن کے نظریے کے مطابق چین اور مشرق بعید کے بیشتر ممالک ایک ہی تہذیب کا حصہ ہیں لہٰذا ان کے مابین مخاصمت کی کوئی گنجائش نہیں۔ مگر دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ ویت نام اور دوسرے بہت سے ممالک اب بھی چین سے خوفزدہ ہیں۔ ویت نام خاص طور پر قابل ذکر ہے جس نے اب بھی خاصی بڑی فوج رکھی ہوئی ہے۔ مسلم دنیا بھی اب تک منتشر چلی آرہی ہے۔ پاکستان، ایران، ترکی، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ملائیشیا، انڈونیشیا اور دیگر اسلامی ممالک اپنی اپنی ترجیحات کے تحت جی رہے ہیں۔ ان کے باہمی تعلقات کسی واضح تہذیبی رشتے کی جانب اشارہ نہیں کرتے بلکہ اس سے کہیں دور جاکر یہ سب اپنے اپنے "تکوینی” مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے علاحدہ بلاکس سے وابستگی رکھے ہوئے ہیں۔

بھارت اور جاپان نے اپنی تاریخی اور تہذیبی روایات کے برعکس جمہوریت کو عمدگی سے اپنایا ہے اور ثابت کیا ہے کہ دیگر تہذیبوں سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے، لیا جاسکتا ہے۔ کئی ممالک ایسے ہیں جو کسی بھی دوسری تہذیب سے وابستہ کسی بھی ملک سے معاملات طے کرتے وقت حکومت کی نوعیت یا سیاسی نظام پر خاصا زور دیتے ہیں۔ بھارت، جاپان اور روس اس کی واضح مثال ہیں۔

11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد بہت سوں کو محسوس ہوا کہ ہنٹنگٹن نے جو کچھ کہا تھا وہ بالکل درست تھا۔ افغانستان اور عراق پر جنگ تھوپنے کے عمل کو تہذیبی ٹکراؤ سے تعبیر کیا گیا۔ 1995 سے 2004 تک یورپی یونین میں توسیع کی جاتی رہی۔ مشرقی یورپ کے آرتھوڈوکسی کو چھوڑ کر کئی ممالک مغربی یورپ کے مرکزی دھارے کا حصہ بننے کی جانب مائل ہوئے۔ جرمن جغرافیہ دان البرٹ کولب کے مطابق قومی تاریخ کی تشکیل میں مذہب سے کہیں بڑھ کر معاشرت اور معیشت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ہنٹنگٹن کا سوانحی خاکہ

سیمیوئل فلپس ہنٹنگٹن کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تاریخ اور سیاست کے حوالے سے علمی حلقوں میں تہذیبوں کے تصادم کو پروان چڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ 18 اپریل 1927 کو پیدا ہونے والے ہنٹنگٹن نے علمی محاذ پر بھرپور زندگی بسر کی ہے۔ انہیں جمہوری اور فوجی حکومتوں کے مابین کشمکش سے متعلق امور کا ماہر تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے 1968 میں ایک متنازع مضمون میں مشورہ دیا تھا کہ ویت نام میں امریکا نواز عناصر کو مستحکم کرنے لیے دیہی علاقوں پر بمباری کی جائے۔ اسی زمانے میں انہوں نے شریک مصنف کی حیثیت سےThe Governability of Democracies لکھی۔

امریکا کے ٹرائی لیٹرل کمیشن نے یہ رپورٹ 1976 میں شائع کی۔ ہنٹنگٹن کی شہرت کا آغاز 1960 کی دہائی سے ہوا جب ان کی کتاب Political Order in Changing Societies شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انہوں نے سیاسی مفکرین کی اس رائے کا جواب پیش کیا تھا کہ دنیا بھر میں نوآبادیاتی تسلط سے نجات پانے والے ممالک میں سیاسی اور معاشی اصلاحات تیزی سے نافذ ہوں گی۔

1970 کی دہائی میں ہنٹنگٹن نے اپنے سیاسی نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے کئی تجربے کیے۔ انہوں نے ہر طرح کی حکومت کے ساتھ کام کیا۔ برازیل سمیت کئی ممالک کی حکومتوں کو انہوں نے لبرل ڈیموکریسی کی طرف جانے کے معاملے میں خبردار کیا تاکہ وہ ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھائیں۔ ہنٹنگٹن کے نظریات پر تنقید بھی بہت ہوئی۔ سیاسی مفکرین کا کہنا تھا کہ وہ کبھی کبھی غیر منطقی نوعیت کی باتیں کرتے ہیں۔

ہنٹنگٹن کو حقیقی شہرت 1996 کی کتاب Clash of Civilizations سے ملی۔ اس کتاب نے انہیں متنازع مصنفین کی اگلی صف میں کھڑا کردیا۔

ہنٹنگٹن کی کتابیں

ü  THe Soldier and the State: The Theory and Politics of Civil-Military Relations (1957)
ü  The Common Defense: Strategic Programs in National Politics (1961)
ü  Political Order in Changing Societies (1968)
ü  American Politics: The Promise of Disharmony (1981)
ü  The Third Wave: Democratization in the Late Twentieth Century (1991)
ü  The Clash of Civilizations and the Remaking of World Order (1996)
ü   Who Are We? The Challenge to America’s National Identity (2004)
Advertisements

فنا فی الآزاد. مولانا ابو الکلام آزاد کے ایک عقیدت مند کو خراج عقیدت


 یہ ٹھیک ہے کہ حیاتِ ابو الکلام کا ایسا کوئی گوشہ نہیں جس میں ابو سلمان کا گزر ہوا ہو اور ابو سلمان کی زندگی کا ایسا کوئی پَل نہیں جس میں ابو الکلام کی شراکت ہو ۔ لیکن اس کے باوجود نہ ہم ابو الکلام کی زندگی سے ابو سلمان کو خارج کر سکتے ہیں اور نہ ہی ابو سلمان کی زندگی سے ابو الکلام کو نکال سکتے ہیں ۔ ابو الکلام، ابو سلمان کے لیے اور ابو سلمان، ابو الکلام کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔

 
دنیا میں بڑی بڑی شخصیات پیدا ہوئی ہیں ان کے بڑے بڑے عقیدت مند پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے ممدوحین کے لیے اپنی زندگی کی کتنی ہی ساعتیں وقف کردیں اور اپنے ممدوحین کے ہر اہم گوشے کو کھنگال ڈالا۔ لیکن ابو سلمان اپنے طرزِ خاص کے سب سے منفرد عقیدت مند ہیں ۔ وہ زندگی کی ساعتیں وقف کرنے کے قائل نہیں ، انہوں نے زندگی ہی وقف کردی ۔ انہوں نے ابو الکلام کی زندگی کے اہم گوشوں کو نہیں کھنگالا بلکہ ہر گوشے کو کھنگال ڈالا ۔ ابو سلمان علمی تاریخ کی واحد مثال ہیں جنہوں نے اپنے ممدوح ابو الکلام پر سب سے زیادہ کتابیں لکھ ڈالیں، جن کی مجموعی تعداد ٥٠ سے زائد ہے ۔
اسے جنون کہیے یا دیوانگی ١٩٨٨ء ابو الکلام کی صد سالہ پیدائش کا سال ۔ ہندوستان میں اس سال کو بڑے بڑے اداروں نے اپنے بھرپور مالی وسائل کے ساتھ شاندار طریقے سے منایا لیکن کراچی میں مالی وسائل سے محروم اور مالی مسائل سے بھرپور ابو الکلام کے اس عقیدت مند نے جس طرح منایا وہ ہماری علمی تاریخ میں "تاریخ عقیدت" کی یادگار ترین مثال ہے ۔ چنانچہ خود لکھتے ہیں :
"میں نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ پاک و ہند کا کوئی ایک ادارہ مولانا ابو الکلام آزاد پر یا ان کی یاد میں زیادہ سے زیادہ جتنی کتابیں شائع کرے گا ۔ اس سے زیادہ کتابیں ، خواہ ایک ہی زیادہ ہو شائع کروں گا ۔”
ابو الکلام کے اس عقیدت مند نے محض نذرانۂ اشک کے ہدیے پیش کرکے اپنی عقیدت کا تقاضا ادا کرنا اپنی غیرت اور خودداری کے منافی سمجھتے ہوئے عالی حوصلگی کی مثال قائم کی ۔ ابو الکلام پر تحقیق و جستجو کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنی داستانِ عقیدت رقم کرکے قرطاس کے ڈھیر لگادیئے ۔ پھر ان کاغذی گلدستوں کی منصہ شہود پر آمد بھی ایک مرحلۂ دشوار تھا ۔ یہاں اس عقیدت مند نے اپنی درماندگی کو خاطر میں لائے بغیر عزیمت و استقامت کی تاریخ رقم کی ۔
 
ابو سلمان عمل کی مثال ہیں ۔ وہ اپنی عقیدت میں سچے ہیں ۔ ابو الکلام کی "کلامیات” سے انہیں جو دلچسپی ہے اس نے انہیں "کلام غیر” سے بے نیاز کردیا ہے ۔ کوئی کچھ ہی کہے وہ اپنا کام کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ زبانِ قال سے نہیں بلکہ زبانِ عمل سے بتاتے ہیں کہ کام کیسے کیا جاتا ہے ۔
 
ابو سلمان علم و تحقیق کے آدمی ہیں ۔ ان کی بدقسمتی ہے کہ وہ ہمارے عہد اور معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اگر انہیں علم پرور معاشرہ ملتا تو ان کی قدر ہوتی ۔ لوگ ان پر تحقیقی مقالے لکھتے ۔ ان کے اعزاز میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ۔ ان کے نام پر شاہراہ وقف کی جاتی ۔ مگر زمانے سے جو "سزائے تحسین” انہیں ملی اس پر شکوہ کناں ہونے کی بجائے انہوں نے تسکینِ قلب کے مملکتِ قناعت میں پناہ گزیں ہوناپسند کیا۔
فائز چو قدسیم نہ برد مال و زر زجا
آتش نیم کہ تیز کند خار و خس مر

فنا فی الآزاد

مولانا ابو الکلام آزاد کے ایک عقیدتمند کو خراج عقیدت

جو تمام عقیدت مندوں سے بازی لے گیا

از قلم: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

 

ی

مریم جمیلہ مغرب کے لیے اسلام کی سفیر


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

ابو محمد معتصم بااللہ

مریم جمیلہ

 

مغرب کے لیے اسلام کی سفیر
 
مریم جمیلہ ( پیدائشی نام: مارگریٹ مارکس ) مغرب کے لیے اسلام کی سفیر تھیں ۔ ان کی زندگی اور ان کے رویے نے اہلِ مغرب کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اسلام ایک واقعی غیر معمولی روحانی تاثیر کا حامل دین ہے ۔ وہ اپنی ذات میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی نشانی تھیں ۔ ٢٣مئی ١٩٣٤ء کو نیو یارک کے ایک یہودی خانوادے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا خاندان جرمنی سے تعلق رکھتا تھا ۔
 
ان کی ابتدائی زندگی نیویارک میں گزری ۔ وہ زمانۂ طالب علمی میں اسلام اور عرب تہذیب سے متعارف ہوئیں جو بعد ازاں تعارف سے بڑھ کر تاثر میں تبدیل ہوگیا ۔
 
لڑکپن ہی سے جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن سے شائع ہونے والے مسلم ڈائجسٹ کے لیے تحاریر بھی لکھتی رہی تھیں ۔ وہ علامہ محمد اسد ( سابق یہودی لیوپولڈوس ) اور محمد مارماڈیوک پکھتال کے قبول اسلام سے خاصی متاثر تھیں ۔ اوّل الذکر کی کتاب Road to Makkah ( اردو ترجمہ ” طوفان سے ساحل تک ” ) نے ان کے ذہن و قلب پر اچھے اثرات مرتب کیے تھے تاہم انہوں نے اپنے اشکالات مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی خدمت میں پیش کیے اس سلسلے میں ان کی مستقل خط و کتابت رہی . بالآخر انہوں نے ٢٤ مئی ١٩٦١ء کو اسلام قبول کر لیا۔
 
اسلام قبول کرنے کے بعد مولانا مودودی کی دعوت پر وہ ١٩٦٢ء میں وہ لاہور پہنچیں جہاں انہوں نے مولانا موددوی اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور یہاں محمد یوسف خان نامی شخص –جو جماعت اسلامی کے رکن ہیں –سے  شادی کی۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محمد یوسف خاں پہلے سے شادی شدہ تھے اور مریم جمیلہ ان کی دوسری بیوی کی حیثیت سے ان کی زندگی میں شامل ہوئیں ۔
 
کہا جاتا ہے کہ ان کے اسلام قبول کرنے کی وجہ” مسلم ڈائجسٹ ” میں مولانا مودودی کا چھپنے والا مضمون "حیات بعد الموت ” تھا جس کے بعد انہوں نے ٥دسمبر ١٩٦٠ء کو مولانا مودودی سے بذریعہ خط پہلا رابطہ کیاتھا۔مولانا مودودی اور مریم جمیلہ کے درمیان خط و کتابت کا یہ سلسلہ ١٩٦٢ء تک جاری رہا۔ ان خطوط کا موضوع اسلام اور مغرب ہوا کرتا تھا۔ دونوں کے خطوط بعد ازاں ”مولانا مودودی اور مریم جمیلہ کی خط و کتابت ” کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوئے ۔
 
مریم جمیلہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی تمام تر قلمی صلاحیتیں تبلیغِ اسلام کے لیے وقف کردی ۔ ان کی کتابوں میں حسبِ ذیل کتابیں شامل ہیں ::
 
 ISLAM VERSUS THE WEST
2. ISLAM AND MODERNISM
3. ISLAM IN THEORY AND PRACTICE
4. ISLAM VERSUS AHL AL KITAB PAST AND PRESENT
5. AHMAD KHALIL
6. ISLAM AND ORIENTALISM
7. WESTERN CIVILIZATION CONDEMNED BY ITSELF
8. CORRESPONDENCE BETWEEN MAULANA MAUDOODI AND MARYUM JAMEELAH
9. ISLAM AND WESTERN SOCIETY
10. A MANIFESTO OF THE ISLAMIC MOVEMENT
11. IS WESTERN CIVILIZATION UNIVERSAL
12 WHO IS MAUDOODI ?
13 WHY I EMBRACED ISLAM
14 ISLAM AND THE MUSLIM WOMAN TODAY
15 ISLAM AND SOCIAL HABITS
16 ISLAMIC CULTURE IN THEORY AND PRACTICE
17 THREE GREAT ISLAMIC MOVEMENTS IN THE ARAB WORLD OF THE RECENT PAST
18 SHAIKH HASAN AL BANNA AND IKHWAN AL MUSLIMUN
19 A GREAT ISLAMIC MOVEMENT IN TURKEY
20 TWO MUJAHIDIN OF THE RECENT PAST AND THEIR STRUGGLE FOR FREEDOM AGAINST FOREIGN RULE
21 THE GENERATION GAP ITS CAUSES AND CONSEQUENCES
22 WESTERNIZATION VERSUS MUSLIMS
23 WESTERNIZATION AND HUMAN WELFARE
24 MODERN TECHNOLOGY AND THE DEHUMANIZATION OF MAN
25 ISLAM AND MODERN MAN
 
وہ لاہور میں رہائش پذیر تھیں اور یہیں بروز بدھ ٣١ اکتوبر ٢٠١٢ء کو ان کا انتقال ہوا۔
 
Deborah Baker نے مریم جمیلہ کی سوانح The Convert: A Tale of Exile and Extremism کے عنوان سے لکھی ۔ یہ کتاب ٢٠١١ء میں طبع ہوئی ہے ۔
 
ایک افسوسناک امر
مریم جمیلہ ( غفر اللہ لہا ) نورِ ہدایت کی متلاشی ایک پاکیزہ روح تھی ۔ جس نے محض اسلام کی خاطر اپنا خاندان ، معاشرہ اور ملک چھوڑ کر اسلام کے آغوشِ رحمت میں پناہ لی۔ اپنی پوری زندگی اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے لاہور میں گزاری ۔ وہ قبولِ اسلام کے بعد ایک انتہائی با پردہ خاتون ثابت ہوئیں۔ بدقسمتی سے ان کی خبر وفات کے ساتھ اخبارات میں ان کی پرانی تصاویر بھی شائع کی گئیں یہ روّیہ اسلامی اخبارات و جرائد کے صفحات پر ظاہر ہوا ۔ اس کارِ مذموم کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ۔ ایک باپردہ اسلامی بہن کی تصویر کی اشاعت غیر مناسب و غیر اخلاقی تھا ۔ مریم جمیلہ کی تصویر کی اشاعت کرنے والوں نے اپنی ہمشیرہ دینی کی حق تلفی کا ارتکاب کیا ہے ۔ کاش ایسا نہ کیا جاتا۔مانا زرد صحافت کے اپنے تقاضے ہیں مگر غیرتِ اسلامی کی کچھ رمق تو باقی رہے ۔

سیّد علی مطہر نقوی سے فکر انگیز گفتگو


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

ابو موحد عبید الرحمن

سیّد علی مطہر نقوی سے  فکر  انگیز  گفتگو

سیّد علی مطہر نقوی موجودہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سیّد منور حسن کے خسر ہیں ۔ وہ خود بڑے متحرک و فعال شخصیت کے حامل رہے ہیں ۔ انہوں نے کئی اہم کتابیں شائع کی ہیں ۔ پاکستان میں پہلے پہل مولانا عبد الشکور فاروقی لکھنؤی اور مولانا عامر عثمانی کے افکار و نظریات کی اشاعت بھی انہیں کا حصہ ہے ۔ انہیں اپنے عہد کے کبار علماء کی ہم نشینی و ہم جلیسی کا شرف حاصل رہا ہے ۔ اس اعتبار سے ان کا سینہ قیمتی معلومات کا مخزن ہے ۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ادارہ ” الواقعة ” نے ان کے ساتھ ایک فکری نشست کا اہتمام کیا ۔ اس دوران ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو رہی ۔


الواقعة:اپنی ابتدائی زندگی اور خاندانی پسِ منظر سے متعلق آگاہ فرمائیے ؟
سیّد علی مطہر نقوی : میری پیدائش ١٩٢٣ء میں امروہہ کے نقوی سادات خاندان میں ہوئی ۔ میرے تایا سید علی متقی امروہہ کے مشہور و معروف اصحاب میں سے تھے ۔ وہ امروہہ مسلم لیگ کے تا حیات صدر رہے ۔ انہیں اپنے زمانے میں سیاسی اعتبار سے نمایاں مقام حاصل تھا ۔ مولانا شوکت علی اور دوسرے سیاسی رہنما ان سے ملنے امروہہ تشریف لایا کرتے تھے ۔

الواقعة:آپ اپنی تعلیمی زندگی میں کن اساتذہ سے متاثر ہوئے ؟
سیّد علی مطہر نقوی : میری تعلیمی زندگی تو کوئی خاص نہیں تاہم مولانا انوار الحق صاحب شفیق استاد تھے ۔

الواقعة:اپنی علمی زندگی میں آپ کن اشخاص سے متاثر ہوئے ؟
سیّد علی مطہر نقوی: میں پہلے نمبر پر امام اہل سنت علامہ عبد الشکور فاروقی لکھنؤی سے بے انتہا متاثر رہا ہوں اور خود کو ان کا نیاز مند سمجھتا ہوں اور دوسرے نمبر پر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی علیہ الرحمة سے متاثر ہوں ۔

الواقعة:مولانا عبد الشکور لکھنؤی سے اپنے اس خاص ارتباطِ قلبی اور نیاز مندانہ تعلقات کی تفصیل بیان فرمائیے ؟
سیّد علی مطہر نقوی: علامہ لکھنؤی تو اپنے دور کے ممتاز علماء میں سر فہرست ہیں اور یقینا وہ صحیح معنوں میں امام اہل سنّت تھے بلکہ علامہ یوسف بنوری بھی انہیں ” امام اہل سنت ” کے لقب سے یاد فرمایا کرتے تھے ۔ مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ صاحب انہیں ” جامع معقول ومنقول ” بتلاتے تھے ۔علی میاں انہیں نہ صرف ” عمیق النظر فقیہ ”لکھتے ہیں بلکہ اپنے دور کا ” مجدد” بھی قرار دیتے تھے ۔ مجھے اور میرے بڑے بھائی یعنی قاری علی تجمل نقوی امروہوی کو علامہ لکھنؤی سے خاص قلبی انس تھا ۔ خود علامہ لکھنؤی بھی ہم سے محبت رکھتے تھے بلکہ آپ کی جب پاکستان آمد ہوئی دو بار ، تو دونوں بار تمہیدی گفتگو کے فوراً بعد اپنے مخصوص لہجہ میں بھائی کے متعلق دریافت فرماتے کہ تجمل کا کیا حال ہے ۔

الواقعة:مولانا سیّد ابو الاعلیٰ مودودی سے کب اور کس طرح متعارف ہوئے ؟
سیّد علی مطہر نقوی: فکرِمودودی سے میری پہلی آشنائی بذریعہ ترجمان القرآن ہوئی ۔ یہ ١٩٣٢ء کی بات ہے جب میں نے ” اشارات ” کا مطالعہ کیا اور پورے یقین کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ شخص ( یعنی سید مودودی ) صحیح اسلامی فکر کا حامل ہے اور اس کی دلیل نہ صرف سید صاحب کی کتابیں ہیں بلکہ ان کی کتاب زندگی بھی اسی پر شاہد ہے ۔ ان کی کتابیں اور کتاب زندگی میں آپ عین مطابقت پائیں گے ، یہی معاملہ ان کی صورت و سیرت کا ہے کہ وہاں بھی اس ناچیز نے فطرت کی جھلک کو واضح طور پر محسوس کیا ۔ میری سید صاحب سے خود ان کے گھر پر ملاقاتیں رہتی تھیں ، میرا قلبی تاثر ان کے متعلق یہی کچھ تھا جو میں نے آپ سے بلا تکلف بیان کیا ۔

الواقعة:آپ نے امّت مسلمہ کے دو بڑے اصحاب علم و فضل یعنی مولانا لکھنؤی و مولانا مودودی کا ذکر خیر کیا ۔ آپ کی اس قلبی محبت نے کیا ان دونوں شخصیتوں کے مابین کوئی نکتۂ اشتراک بھی دریافت کیا؟
سیّد علی مطہر نقوی:  جی ! بڑا عمدہ سوال ہے ، یقینا ہم ان دونوں اکابرین کے مابین نکتۂ اشتراک پاتے ہیں اور یہ نکتۂ اشتراک دونوں اکابرین کے مابین محبت و قدر دانی کا ہے ۔ دونوں ہی اکابرین ایک دوسرے کی جلالت علمیہ کے معترف تھے ۔ چنانچہ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ سیّد صاحب کے انتقال پر جب جانا ہوا تو جہاز میں میری ساتھ والی نشست پر محترم مولانا ملک غلام علی مرحوم ( مؤ لف ” خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا تجزیہ ” ) بھی تشریف فرما تھے ۔ انہوں نے اس موقع پر سیّد صاحب کے یہ الفاظ علامہ لکھنؤی کے بارے میں روایت کیے کہ” میں علامہ عبد الشکور لکھنؤی کے علم و فضل و تدین کا تہہ دل سے معترف ہوں ۔” اور ادھر خود مولانا عبد الشکور صاحب بھی سید صاحب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ چنانچہ جس دور میں سید صاحب کے خلاف فتوے بازی کی مہم جاری تھی کچھ مخالفین آپ کے پاس فتویٰ لینے آئے ، آپ نے اس وقت فتویٰ دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ جب تک خود اصل مآخذ کا مشاہدہ نہ کرلوں ، فتویٰ نہ دوں گا ۔چنانچہ آپ کوسید صاحب کی اصل کتب بھجوائی گئیں ۔ جب آپ نے ان کا مطالعہ کیا تو واضح الفاظ میں یہ خلاصۂ تحقیق بیان فرمایا کہ ” لوگ جو باتیں کرتے ہیں مجھے تو ان کا شائبہ بھی نظر نہیں آتا ، زیادہ سے زیادہ اگر کچھ کہا جا سکتاہے تو وہ عدم احتیاط ہے ۔” آپ دیکھیے کہ کس قدر معتدل و محتاط لوگ ہیں اور مولانا لکھنؤی کے یہاں احتیاط کا عالم یہی تھا کہ اصل مآخذ پڑھے بغیر تبصرہ نہ فرماتے تھے ۔ ایک بار میں آپ سے ملنے بنوری ٹائون گیا تو آپ کی میز پر ” خلافت معاویہ و یزید ” رکھی تھی فرمانے لگے محمود عباسی صاحب آئے تھے ، تقریظ لکھوانا چاہ رہے تھے میں نے کہہ دیا ہے کہ بغیر پڑھے تقریظ نہ کروں گا ، گو تقریظ تو آپ نے بعد میں بھی نہ لکھی اور بھلا آپ کیسے کسی ناصبی کی تائید کرسکتے تھے لیکن اصل مآخذ پڑھے بغیر آپ کوئی تبصرہ نہیں کرتے تھے ۔

الواقعة:آپ نے فتنہ ناصبیت کی بات کی اور اس سلسلہ میں آپ نے اس فتنہ کا علمی محاسبہ بھی اپنی تالیف ” محمود احمد عباسی اپنے عقائد و نظریات کی آئینے میں ” کیا ہے ،اس حوالے سے تحریک کیونکر بیدار ہوئی ؟
سیّد علی مطہر نقوی: میں دراصل خود بھی اس قسم کے علمی موضوعات سے شغف رکھتا ہوں ۔ میں یہ دیکھ رہا تھا کہ ایک منظم تحریک جو شیعیت کے مقابلہ میں میدان میں آئی ہے وہ حدود سے تجاوز کر رہی ہے اور اپنی اصل منزل کی طرف گامزن ہونے کی بجائے خانوادئہ اہل بیت پر تبرا کر رہی ہے اور یوں ناصبیت کا شکار ہو رہی ہے ۔ اس لیے ضروری ہوگیا تھا کہ ان کی اصلاح کی جاتی تاکہ اہل سنت کی توانائیاں غلط سمت میں استعمال نہ ہو پائیں ۔ باقی سیاسیات کے باب میں بھی یہ فطری سوال جنم لے رہا تھا کہ اگر عمر فاروق بھی خلیفہ راشد ہیں اور یزید بھی خلیفہ راشد ہے تو پھر مسلمانوں کا تصور خلافت آخر ہے کیا اور رہ کیا جاتا ہے ؟؟

الواقعة:آپ کے بڑے بھائی محترم قاری علی تجمل نقوی امروہوی ایک مشہور ادبی شخصیت رہے ہیں ، ان کے متعلق بھی ہمیں آگاہ فرمائیے ؟
سیّد علی مطہر نقوی: میرے بھائی قاری علی تجمل نقوی بڑی اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل تھے ۔ وہ فارسی زبان میں ید طولیٰ رکھتے تھے ۔ لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن سے بھی منسلک رہے ۔ میں عنقریب ان کا فارسی دیوان بھی شائع کرنے والا ہوں ۔ جس میں انہوں نے علامہ لکھنؤی و علامہ مودودی پر بھی قصائد سپرد قلم کیے ہیں ۔ بھائی کی شیعہ شعراء کے ساتھ امروہہ میں نوک جھونک چلتی رہتی تھی ۔ ایک بار بھائی کے ایک قصیدے کا جواب رئیس امروہوی صاحب نے اپنے تئیں دینے کی کوشش بھی کی لیکن جب یہ قصیدہ خود اہل تشیع مکتبہ فکر کی مجلس میں پیش کیا گیا تو قابلِ رد قرار دیا گیا کہ اس میں فارسی ادبیت کی وہ چاشنی نہ تھی جو بھائی کے قصیدہ میں ملحوظِ خاطر رکھی گئی تھی ۔ بھائی کو مولانا لکھنؤی ، مولانا مودودی ، علامہ اقبال اور جگر مرادآبادی سے بے حد عشق و تعلق تھا ۔

الواقعة:آپ کے بھائی علامہ موسیٰ جار اللہ سے بھی متعلق رہے ، اس حوالے سے بھی کچھ فرمائیے؟
سیّد علی مطہر نقوی: آپ کو معلوم کہ علامہ موسیٰ جار اللہ کا شمار کبار روسی علماء میں ہوتا ہے ۔ بھائی کے ان سے برادرانہ تعلقات تھے ۔ علامہ موسیٰ جار اللہ مجاہد آدمی تھے ۔ اسٹالن ان سے بہت خائف رہتا تھا ۔ اسٹالن اپنے مخالفوں کو ایک لمحہ برداشت نہ کرتا تھا اور انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتا تھا ۔ اس نے علامہ سے بھی کہاکہ مزاحمت و تنقید کرنا چھوڑ دو ورنہ موت کے لیے تیار ہوجائو ۔ اس پر علامہ موسیٰ جار اللہ نے فرمایا کہ اسی باب شہادت کا تو میں منتظر ہوں ۔ تاہم اسٹالن اپنی اس سرکشی سے باز رہا لیکن پھر انہیں جلا وطن کردیا۔ پھر وہ وہاںسے ہندوستان چلے آئے ۔ یہاں وہ پشاور کے ہوٹل میں مقیم تھے ۔ میرے بھائی وہاں ان سے ملنے گئے اور پھر متعدد بار ملے یوں ان سے خوشگوار تعلقات استوار ہوئے ۔ کچھ عرصہ بعد وہ تھوڑی تھوڑی اردو سمجھنے بھی لگے تھے ۔ تاہم روانی سے گفتگو نہیں کرسکتے تھے ۔ بھائی نے ان کو سید مودودی کی کتاب ” الجہاد فی الاسلام ” اور دیگر کتب پیش کیں ۔ ” الجہاد فی الاسلام ” پر علامہ نے تین علمی نوعیت کے نقد کیے جن میں سے ایک سید صاحب نے تسلیم بھی کرلیا تھا ۔ پرویزیوں اور منکرینِ حدیث کا لٹریچر بھی علامہ صاحب تک کسی نے پہنچادیا تھا جس کو پڑھ کر وہ کافی اشتعال میں آگئے تھے ۔ بھائی نے یہ صورتحال دیکھی تو علامہ صاحب کو ” تفہیمات ” لا کر دی ۔ اس کو پڑھ کر آپ کا دل ٹھنڈا ہوا اور فرمانے لگے میں تو پرویز صاحب کا جواب لکھنے کی تیاری کرچکا تھا لیکن استاذ مودودی کے قوت استدلال نے مجھے اس سے مستغنی کردیا ۔ بھائی علامہ صاحب کا تذکرہ کرتے ہوئے بعض دفعہ آبدیدہ ہوجاتے تھے اور پھر ان سے اپنی ملاقاتوں کا منظر کھینچتے تھے کہ میں جب جاتا وہ بے حد خوش ہوتے ، بڑی گرم جوشی سے ملتے ، خود اٹھ کر دودھ گرم کرتے اور گلاس میں لا کر دیتے ، یہ تواضع ان کا روزانہ کا معمول تھا ۔ 

الواقعة:آپ افکار عامرعثمانی کے بھی ناشر ہیں ، اس حوالے سے آپ ہمیں علامہ عامر عثمانی کے گفتار و افکار کے بارے میں بھی بتائیے؟
سیّد علی مطہر نقوی:  علامہ عامر عثمانی حق و اہل حق کے وکیل تھے اور ہمیشہ حق بات ہی کی وکالت کرتے تھے ۔ چاہے انہیں اپنے اساتذہ ہی سے کیوں نہ مخالفت کرنی پڑے ۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ اپنا ایک مخصوص علمی پسِ منظررکھتے تھے اور دیوبندی مدرسہائے فکر میں ان کا خانوادہ منصبِ امامت و علمیت پر فائز ہے ۔ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ان کے چچا تھے ۔مفتی عزیز الرحمن ( مولف ” فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ” ) و مفتی حبیب الرحمن تایا تھے ۔ اس کے علاوہ مشہور پیر طریقت علامہ مطلوب الرحمن ان کے والد محترم تھے جبکہ مولانا فضل الرحمن صاحب ( جن کا شمار دارالعلوم دیوبند کے بانیوں میں ہوتا ہے ) دادا تھے ۔ خود مولانا عثمانی ، مولانا حسین احمد مدنی کے تلامذہ میں سے تھے ۔ جب مولانا حسین احمد مدنی نے ” مودودی دستور و عقائد ” میں سید مودودی پر تنقید لکھی تو مولانا عثمانی نے پورے ادب و احترام کے ساتھ اس کا جواب لکھا ۔ مولانا محمد میاں صاحب نے خلافت و ملوکیت کے رد میں ” شواہد تقدیس ” لکھی تو اس کا جواب ” تجلیات صحابہ ” کے نام سے دیا جو میں نے شائع کردیا ہے ۔ اسی طرح مولانا احمد رضا بجنوری اور مولانا انظر شاہ صاحب سے مولانا کا تحریری مناظرہ ہوا جو ” تفہیم القرآن پر اعتراضات کی علمی کمزوریاں ” کے نام سے شائع شدہ موجود ہے ۔ مولانا مودودی کی حمایت ہی کی پاداش میں ان کے مکتبہ کو دو بار آگ لگائی گئی مگر ان کی طبیعت میں ذرا سی مصالحت و مفاہمت دیکھنے میں نہ آئی وہ جب علمی محاسبہ کرتے تو مخالف کی دھجیاں اڑا دیتے تھے ۔ ان کے زورِ قلم کا تو ایک زمانہ قائل ہے ۔

الواقعة:مولانا عثمانی آپ کے نزدیک عالم بڑے ہیں یا ادیب؟
سیّد علی مطہر نقوی:گو ادیب تو وہ بڑے ہیں لیکن ان کے ادب میں چاشنی و ثقاہت ان کے علم کی وجہ سے ہے اور ان کے علمی مقالوں میں ادبیت خود ان کے ادب کی وجہ سے ہے ۔

الواقعة:کیاعثمانی صاحب کے ماہنامہ ” تجلی ” دیوبند کی ساری فائلیں آپ کے پاس ہیں اور کیا ان کے خانوادے میں کوئی ایسا صاحبِ جستجو بھی ہے جو مولاناعثمانی کے علمی پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کا متمنی ہو؟
سیّد علی مطہر نقوی: جہاں تک بات ہے ”تجلی ”کی تمام فائلوں کی تو اس کی صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے ۔ عثمانی صاحب کی اہلیہ پاکستان دو بار آئیں تھیں ، میں نے ان کی آمد پر ان کی دعوت بھی کی تھی ، ان کو یہ افسوس تھا کہ عثمانی صاحب کے بعد ان کے بچوں میں وہ علمی ذوق منتقل نہ ہوسکا جس کے خود مولانا عثمانی نمائندہ تھے ۔

الواقعة:”اکابر صحابہ اور شہدائے کربلا پر افترا” مولانا عبد الرشید نعمانی کی تصنیف ہے اس پر آپ کا پیشِ لفظ موجود ہے ۔ کیا مولانا نعمانی مرحوم سے بھی آپ کے علمی روابط رہے ہیں ۔ آگاہ فرمائیے ؟
سیّد علی مطہر نقوی: میںخود کو مولانا عبد الرشید نعمانی کا کف بردار و ادنیٰ شاگرد سمجھتا ہوں اور ان کی حیات میں میری یہ کوشش رہتی تھی کہ میں زیادہ سے زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاروں ۔ ردّ ناصبیت کی وجہ سے وہ اور میں ہم ذوق واقع ہوئے تھے ۔ مولانا اسحاق سندیلوی جو مائل بہ ناصبیت تھے ، ان کے افکار سے علامہ نعمانی حد درجہ بیزار تھے ۔ چنانچہ انہوں نے مجھے مولانا عبد الماجد دریا آبادی کے جریدے ” صدقِ جدید ” کی قدیم فائلیں سپرد کیں ۔ اسی میں اسحاق صاحب کا وہ تحسینی خط بھی تھا جو انہوں نے محمود احمدعباسی صاحب کی کتاب ” خلافت معاویہ و یزید ” کے متعلق تحریر کیا تھا ۔ یہ خط میں نے علامہ نعمانی کو بتا کر شائع کردیا تھا جو ان کے جامعہ بنوریہ سے اخراج کے اہم اسباب میں سے ایک سبب تھا۔

الواقعة:حضرت محدث بنوری اور مفتی ولی حسن صاحب سے اپنے علمی روابط کے حوالے سے آگاہ فرمائیے ؟
سیّد علی مطہر نقوی:  علامہ یوسف بنوری صاحب سے تو میرے قریبی روابط رہے ۔ علامہ بنوری کی ” معارف السنن ” کی تین جلدیں میں نے ہی الحجاز پرنٹنگ پریس سے چھپوائی تھیں ۔ مفتی ولی حسن صاحب سے بھی قریبی تعلقات رہے ہیں ۔ میری کتاب ” محمود احمد عباسی اپنے عقائد و نظریات کے آئینے میں ” کے حوالے سے جو کچھ انہوں نے لکھا ہے وہ شائع شدہ موجود ہے ۔

الواقعة:مولانا حسین احمد مدنی سے آپ کے خانوادے کے روابط رہے ہیں ۔ اس حوالے سے بھی ذرا روشنی ڈالیے ؟
سیّد علی مطہر نقوی: ان رو ابط کی نوعیت اصلاحی تھی ۔ میری اہلیہ ، بہن ، بھائی اور بھاوج ان سے اصلاحی تعلق رکھتے تھے اور ان سے بیعت تھے۔

الواقعة:امروہہ میں رفض کی اشاعت کے پیچھے کیا عوامل کار فرما رہے ہیں ؟
سیّد علی مطہر نقوی:  اصل سبب تو خود وہاں کے حکمراں تھے جیسا کہ ” تاریخ امروہہ ” میں تصریح ہے کہ آصف الدولہ خود رافضی تھا ۔ جو شخص اس دور میں رافضی ہوجاتا اس کو جائیداد ملتی ۔ اس حوالے سے خود ہمارے اجداد کو آفر ہوئی لیکن انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔

الواقعة:علامہ تمنا عمادی سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟
سیّد علی مطہر نقوی:  میرا ان سے کوئی خاص تعلق نہیں رہا تاہم سنا ہے کہ وہ لائق اور ذہین آدمی تھے ۔

الواقعة:مولانا محمد چراغ ، مولانا معین الدین خٹک اور مفتی محمد یوسف بونیری سے آپ کے روابط رہے ہیں ، تفصیل بیان فرمائیے ؟
سیّد علی مطہر نقوی: مفتی محمد یوسف مرحوم سے ملاقات کی خواہش تو رہی لیکن ہو نہ سکی البتہ مولانا محمد چراغ سے ملاقات رہی ہے ۔ مولانا معین الدین خٹک تو نہایت ہی قابل و فاضل محقق تھے ۔ میں جب بھی کوہاٹ جاتا تھا انہی کے یہاں قیام کرتا ، ان دنوں وہ کوہاٹ کے امیر جماعت ہوا کرتے تھے انہوں نے اس ناچیز کی پُر تکلف دعوت بھی کی ۔
الواقعة:مولانا مسعود عالم ندوی سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟
سیّد علی مطہر نقوی: یقینا  مولانا مسعود عالم ندوی نے سید صاحب کی فکر کی اشاعت میں جو حصہ لیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔ وہ بڑے ذہین و قابل فرد تھے ۔ ان کی کتاب  ” محمد بن عبد الوہاب -ایک مظلوم و بدنام مصلح ” عمدہ تالیف ہے اور اہم تاریخی حقائق کا اس میں بیان ہے ۔

الواقعة:پاکستان کے تین اہم مسالک دیوبندی ، بریلوی اور اہل حدیث کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں اور کیا ان کے مابین اتحاد کی کوئی سبیل یا نکتہ اشتراک ہے ؟
سیّد علی مطہر نقوی:میں خود دیوبندی فکر سے وابستہ ہوں اور اسے مبنی بر صواب قرار دیتا ہوں ۔ اہل حدیث فکر کوبھی درست سمجھتا ہوں ۔ بریلوی مسلک کو بدعات سے متعلق جاننے کے باوجود اہل سنت و الجماعت سے خارج نہیں سمجھتا ۔ میرے خیال میں یہ تینوں ہی اہل سنت و الجماعت کا حصہ ہیں ۔

الواقعة:اپنی زندگی کا کوئی خوشگوار لمحہ؟
سیّد علی مطہر نقوی:  (مسکراتے ہوئے ) کوئی خاص نہیں فی الحال تو یہی ہے کہ آپ جیسے صاحبِ ذوق سے محو گفتگو ہوں ۔

الواقعة:ادارہ الواقعة کے توسط سے امت مسلمہ کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے ؟
سیّد علی مطہر نقوی: پیغام تو یہی ہے کہ دنیا و آخرت کی فلاح دین ہی سے وابستہ ہے ، لہٰذا دین پر ثابت قدمی و تصلب اختیار کیا جائے ، انسان کی زندگی کس قدر محدود ہے اس کا اندازہ بہر کیف ہر کسی کو جلد ہی ہونے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے امان میں رکھے ۔

علامہ راغب احسن


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

سید محمد رضی ابدالی

علامہ راغب احسن

علامہ راغب احسن ایک عالم ، فاضل ، صحافی اور اپنے عہد کی کئی تحاریک میں حصہ لینے کے حوالے سے بے حد مشہور شخصیت ہیں ۔ علّامہ تحریکِ پاکستان میں شروع سے پیش پیش رہے اور اپنی پوری زندگی مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور انہیں اقوام عالم میں صحیح مقام دلانے میں صرف کی ۔

علّامہ راغب احسن کا آبائی وطن ضلع گیا ، صوبہ بہار ( بھارت ) تھا ۔ آپ ایک غریب گھرانے میں ١٩٠٥ء میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد ریاض الدین احمد ، کلکتہ میں محکمۂ ڈاک میں ملازم تھے ۔ راغب احسن نے کلکتہ میں تعلیم پائی اور اپنی سیاسی زندگی کا آغاز خلافت کمیٹی میں شمولیت سے کیا اور اسی سلسلہ میں جیل بھی گئے ۔ علی پور جیل میں ان کی ملاقات کلکتہ کارپوریشن کے اس وقت کے میئر محمد عثمان سے ہوئی ۔ وہاں ان دونوں نے عہد کیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے اور انگریز کی ملازمت کرنے کے بجائے اس کے خلاف جہاد کریں گے چنانچہ انہوں نے جیل سے رہائی کے بعد ایم -اے کیا اور اس کے بعد صحافت کا پیشہ اختیار کرتے ہوئے ” اسٹار آف انڈیا ” کے عملہ میں شامل ہوگئے ۔
مولانا محمد علی جوہرکے اخبار ” کامریڈ ” کے اعزازی مدیر بھی تھے ۔ مولانا محمد علی جوہر کی صحبت نے علامہ راغب احسن میں ایسا زورِ قلم پیدا کیا کہ محمد علی جوہر کے انتقال کے بعد سارا ہندوستان آپ کو محمد علی ثانی کہنے لگا۔
علّامہ راغب احسن نے ١٩٣١ء میں ” آل انڈیا یوتھ لیگ ” کی بنیاد رکھی اور اسی دوران ” میثاق فکر اسلامیت و استقلال ملّت ” کے نام سے ایک فکر انگیز دستاویز مسلمانوں کے حقوق کے لیے مرتب کی ۔ ١٩٣٦ء میں راغب احسن نے کلکتہ مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور اس کی تنظیم سازی میں نہایت سرگرمی سے حصہ لیا ۔ حسین شہید سہروردی ( جو بعد میں متحدہ پاکستان کے وزیراعظم بنے) کو اس کا صدر اورسید محمد عثمان (سابق میئر کلکتہ ) کو جنرل سکرٹری مقرر کیا ۔
ہندوستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ جس مسئلہ کو ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان متنازع فیہ تسلیم کیا گیا وہ طرزِ انتخاب کا مسئلہ تھا ۔ ہندوستان کے بڑے بڑے مسلم رہنما مثلاً حکیم اجمل خاں ، سر علی امام ، حسن امام ، بیرسٹر مظہر الحق ، محمد علی جناح ، حسرت موہانی ، ڈاکٹر انصاری ، مولانا ظفر علی خان ، چودھری خلیق الزماں ، مولانا شوکت علی اور مولانا محمد علی جوہر وغیرہم متحدہ طرزِ انتخاب کو ہندوستان کے سیاسی نظام کے لیے بہتر سمجھتے تھے جبکہ مسلم کانفرنس کے اراکین و عہدیداران ہمیشہ جداگانہ طرزِ انتخاب کے حامی رہے مثلاً سر محمد شفیع ، سر علامہ محمد اقبال ، محمد شفیع داودی اور علامہ راغب احسن اس ضمن میں قابلِ ذکر ہیں ۔ جداگانہ طرزِ انتخاب پر جس قدر تحریر علامہ راغب احسن کی ہے ، کسی اور کی نہیں ۔ موصوف کی سیاست میں استحکام تھا ۔ ان کا نام نظریات کے تبدیل کرنے والوں میں نہیں لیا جا سکتا ۔
علامہ راغب احسن کی شخصیت کی اہمیت کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب قائد اعظم محمد علی جناح ١٩٣٥ء میں برطانیہ سے ہندوستان تشریف لائے تو دلی کی سرز مین پر تین اہم شخصیتوں محمد علی جناح ، علامہ محمد اقبال اور  علامہ راغب احسن نے ایک کمرے میں بیٹھ کر گھنٹوں ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار اور عالمی حالات و واقعات پر باتیں کیں ۔ اسی اجتماع میں علامہ اقبال نے علامہ راغب احسن سے درخواست کی کہ وہ مسٹر جناح کا ساتھ دین اور ان کے ہاتھ مضبوط کریں ۔ چنانچہ راغب احسن نے علامہ اقبال کی درخواست قبول کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم میں بھر پور حصہ لیا اور اسے نہایت مستحکم تنظیم بنادیا ۔
علامہ راغب احسن کی عظمت ، فہم و فراست اور ذہنی بالیدگی کا اندازہ اس حقیقت سے بھی ہوتا ہے کہ وہ مولانا محمد علی جوہر کے جتنے چہیتے تھے اتنے ہی قائد اعظم محمد علی جناح کے بھی پیارے تھے حالانکہ محمد علی جناح اور محمد علی جوہر میں اصولی طور پر سیاسی اختلافات بھی قائم رہے ۔
٤٦١٩٤٥ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی شاندار کامیابی کے بعد اپریل ١٩٤٦ء میں منتخب نمائندوں کا کنونشن دہلی میں منعقد ہوا تھا ۔ اس اجلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح نے علامہ راغب احسن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ

” کروڑوں ہیں جو میرے اندھے مقلد ہیں ، لاکھوں ہیں جو میری تائید کرتے ہیں اور لاکھوں ہیں جو میرے لیے سرگرمی سے کام کرتے ہیں لیکن ہندوستان کے طول و عرض میں مسلم لیگیوں میں صرف ایک راغب احسن ہیں جو اسلام اور پاکستان کے اصول کی محبت میں مجھ پر بے باکی کے ساتھ تنقید کی جرأت کرتے ہیں ۔ پاکستان کے نصب العین کی خاطر وہ مجھ پر سخت ترین گرفت کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔وہ مجھ کو چاہتے ہیں لیکن مجھ سے زیادہ اسلام اور پاکستان کو چاہتے ہیں ۔ راغب احسن لیگ اور تحریکِ پاکستان کے زندہ ضمیر ہیں اور راغب احسن پر مجھے فخر ہے ۔ "

١٩٣٣ء میں علامہ اقبال نے اپنے ایک خط میں علامہ راغب احسن کے متعلق لکھا کہ

"مولانا راغب احسن کی قابلیت و صلاحیت کی تصدیق کرتے ہوئے مجھے بے حد مسرت ہوئی ہے ۔ یہ ان گنتی کے چند قابل ترین اور انتہائی ہونہار نوجوانوں میں سے ہیں جن سے مجھے ملنے کا موقع ملا ہے ۔ مجھے کامل یقین ہے کہ وہ اسلام اور ہندوستان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہوں گے ۔ "

علامہ راغب احسن نے بنگال میں آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم بہ کمالِ محنت و مشقت کی تھی ، اسی لیے وہ سارے ہندوستان کی جان قرار پاگئی تھی ۔ ہر گائوں اور ہر محلہ مسلم لیگ کی تنظیم سے منسلک تھا ۔ جب آل انڈیا مسلم لیگ نے یوم رسات اقدام منانے کا اعلان کیا تو لاکھوں افراد کا مجمع کلکتہ میدان میں جمع ہونے لگا ، جس پر ہندوئوں نے منظم سازش کے ذریعے حملہ کردیا ۔ کلکتہ کے نقصانات کو وائسرائے ہند لارڈ ویول نے بہ چشم خود دیکھا ۔ وہ اس حادثہ پر انتہائی مضطرب ہوا اور ساتھ ہی مسلم قوم کی جانبازی اور سرفروشی کو بھی پرکھ لیا ۔ وائسرائے ہند نے مسلمانوں کی جانب سے یوم راست اقدام منانے کی حیثیت اور اہمیت کو سمجھ لیا اور اس کے بعد ہی اس نے عارضی حکومت میں آل انڈیا مسلم لیگ کو پانچ وزارتیں دینے کی پیش کش کی جبکہ اس سے چند ہفتہ قبل عارضی حکومت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی شمولیت کو ناقابل قبول قرار دیا تھا ۔ عارضی حکومت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی شمولیت ، تنہا کلکتہ مسلم لیگ کے عزمِ بلند کی مرہونِ منّت ہے ۔ کلکتہ کے فسادات میں مسلمانوں نے جو شہادت پیش کی اور جس طرح جرأت و ہمت کا مظاہرہ کیا ، در حقیقت اسی کے پیشِ نظر آل انڈیا مسلم لیگ کے پانچ ممبرانِ اسمبلی لیاقت علی خاں ، راجہ غضنفر علی خاں ، سردار عبد الرب نشتر ، آئی آئی چندریگر اور منڈل ہندوستان کی عارضی حکومت میں شامل ہوئے ۔ اس عارضی حکومت میں لیاقت علی خان کو وزیر خزانہ مقرر کیا گیا تھا ۔ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ علامہ راغب احسن جو کہ ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے رکن بھی تھے اور قائد اعظم کے ساتھ مل کر جدو جہدِ آزادی میں نمایاں حصہ لیا ، اس کے باوجود علامہ راغب احسن کو نہ ہی ہندوستان کی عارضی حکومت میں شامل کیا گیا اور نہ ہی ان سے حکومت کے نظم و نسق کے لیے کسی قسم کا صلاح و مشورہ کیا گیا ۔ تاریخ کے اوراق میں حقائق پھیلے ہوئے ہیں کہ پاکستان کو تعمیر کرنے میں راغب احسن نے کیا کردار ادا کیا لیکن قیام پاکستان کے بعد بھی حکومت کے دروازے ان پر بند کردیئے گئے ۔
آل انڈیا مسلم لیگ کی تحریک کی جب ابتدا ہوئی تو اسے بہت سی دشواریوں سے دوچار ہونا پڑا ۔ علامہ راغب احسن پر یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آئی کہ جب تک علماء کے حلقے اور خانقاہوں کی گدی نشینوں کو مسلم لیگ کا ہم خیال نہیں بنایاجائے گا اس وقت تک مسلم لیگ کی تحریک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کانگریس کے شکار مذہبی حلقوں کا زور توڑ دیا جائے چنانچہ علامہ راغب احسن نے جمعیت علمائے اسلام کے قیام اور اس کی کامیابی میں بھرپور حصہ لیا ۔علامہ راغب احسن اپنے ایک مضمون جو اخبار ” زمیندار ” کی اشاعت مورخہ ١٩ جنوری ١٩٤٩ء میں شائع ہوا ، لکھتے ہیں :

"جمعیت علمائے اسلام کی تاسیس و تنظیم راقم الحروف نے سالہا سال کی کوشش و کاوش کے ساتھ ١١ جولائی ١٩٤٥ء کو کلکتہ میں کی تھی ۔” (بحوالہ حیات شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی : ٨٧)

 جمعیت علمائے اسلام کی وجہ سے آل انڈیا مسلم لیگ کو ١٩٤٦ء کے عام انتخابات میں بے مثال کامیابی ملی اور پاکستان کا قیام عمل میں آیا ۔
علّامہ شبیر احمد عثمانی نے علامہ راغب احسن کو ” سیف الملّت ” کا لقب دیا تھا جبکہ حسین شہید سہرورودی نے ” پاکستان کا ٹینک فورس ” کا خطاب دیا تھا ۔
علامہ راغب احسن کی کتابوں میں حسبِ ذیل کتابوں کا ذکر ملتا ہے ۔
* What Muslims want in India
*Principles of Islamic Economics
* The Political Case of Musalim India
* History of Making of Muslim Nationalism in India.
علامہ راغب احسن ١٩٥٧ء میں اسلامی لاء کمیشن کے رکن مقرر ہوئے ۔سینٹرل اقبال کمیٹی کے نائب صدر اور سلیمان ندوی کمیٹی آف اسلام ( کراچی ) کے رکن تھے ۔ ١٩٦٥ء کے عام انتخابات میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے حق میں اور اس وقت کے صدر پاکستان محمد ایوب خان کے خلاف مشرقی پاکستان میں بے حد کام کیا تھا ۔
قیام پاکستان کے بعد علامہ راغب احسن پاکستان ہجرت کرتے ہوئے سابق مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکہ میں مستقل سکونت پذیر ہوئے اور پھر بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ایک دفعہ پھر ڈھاکہ سے ہجرتے کرکے کراچی تشریف لے آئے ۔ علامہ راغب احسن کا انتقال ٢٧ نومبر ١٩٧٥ء کو کراچی میں ہوا اور وہ سخی حسن قبرستان میں مدفون ہوئے ۔ ١٩٩٠ء میں حکومت پنجاب نے آپ کی خدمات کے اعتراف میں ” تحریکِ پاکستان کا گولڈ میڈل ” دیا تھا ۔

مآخذ:

١-انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا از سیّد قاسم محمود
٢-انسائیکلو پیڈیا تحریکِ پاکستان از اس سلیم شیخ
٣-وفیات ناموران پاکستان از ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ
٤-شائق و عثمان و راغب از محمد انیس الرحمان انیس
٥-رہبران پاکستان از سیّد محمد رضی ابدالی
٦-حیات شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی از فیض الانبالوی و شفیق صدیقی
7-Allama Raghib Ahsan — Quaid-i-Azam Correspondence (1936-1947) by Syed Umar Hayat

کیا امّت مسلمہ کی بے حسی برقرار رہے گی؟؟؟


جریدہ "”الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

 محمد اسماعیل شیرازی

کیا امّت مسلمہ کی بے حسی برقرار رہے گی؟؟؟

یہ کچھ زیادہ دنوں کا قصہ نہیں برما ( میانمار)میں مسلمانوں پر زمین تنگ کردی گئی ۔عراق پر امریکی اور اس کے اتحادی افواج کا سلسلۂ ظلم و ستم جاری ہے ۔ افغانستان پر استعمار قابض ہے ۔ افریقہ کے مسلم ممالک عالمی طاقتوں کے ہاتھوں بے بس ہیں ۔ لیبیا کی حکومت کا تختہ الٹا جا چکا ہے ۔ نائجیریا ، مالی ، تیونس ، سوڈان ، مصر ، مراکش وغیرہا سازشوں کے نرغے میں ہیں ۔ یمن میں بد امنی ہے اور خود ہمارا اپنا ملک پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردی کا شکار ہو رہا ہے ۔ بے شمار ڈرون حملے ، آئے دن کے بم دھماکے اور مسلسل جاری ٹارگٹ کلنگ ہمارا نصابِ زندگی بن گئے ہیں ۔ ان تمام تر سانحات سے بھی بڑا سانحہ یہ ہے کہ مسلم امہ پھر بھی بیدار ہونے کے لیے تیار نہیں ۔


ہر سال اللہ کے لاکھوں بندے فریضۂ حج کی ادائیگی کرتے ہیں ۔ کروڑوں افراد سنّت ابراہیمی انجام دیتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود نہ ہمارے اندر ایثار وقربانی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور نہ ہی ہمارے اندر عملِ صالح کی کوئی تحریک پیدا ہوتی ہے ۔ 
ہمارے لیے کس قدر آسان ہوتا ہے کہ ہم اپنی ہر غفلت کا الزام عالمی طاقتوں پر ڈال دیتے ہیں ۔ اپنی ہر برائی کا سبب امریکا کو قرار دیتے ہیں اور اپنے یہاں ہونے والی ہر آفت کے پیچھے یہودی سازش کا انکشاف کردیتے ہیں ۔ لیکن ہم خود اپنے عیوب و نقائص نہیں دیکھتے ۔ اسلام دشمن عناصر اگر اپنی دشمنی نبھارہے ہیں تو ان سے شکوہ کیسا ؟وہ اگر اپنے رہنما ابلیس کے احکام پر عمل کر رہے ہیں تو ان سے کس طرح گلہ کیا جا سکتا ہے ؟ جواب دہی تو ہم سے ہے کہ کیا ہم اپنے ربّ واحد کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں ؟ اپنے پیغمبر کی اطاعت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ؟ ہم اللہ کو تو ایک مانتے ہیں مگر اس کی ایک نہیں مانتے ۔
اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے کا تقاضا کیا ہے ؟ ہمیں چاہیئے کہ ہم اس حقیقی معبود کی عبودیت کو تسلیم کریں ۔ اس کے احکامات کو رسم و رواج سمجھنے کی بجائے اسے اپنی زندگی میں شامل کریں اور اسی کے مطابق اپنی زندگیوں کو بسر کریں ۔ ہم دوسروں سے تبدیلی کا تقاضا کرنے کی بجائے خود اپنے اندر سے تبدیلی کا آغاز کریں ۔
ہم غیروں سے شکوہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہم ان سے بڑے گستاخِ رسول ہیں جو ہر روز اپنے نبی کے احکامات سے استہزاء کرتے ہیں ۔
قرآن عمل کی کتاب تھی اسے ہم نے مردے بخشوانے کی کتاب بنادیا ۔ اس کی آیات کو تعویذ بنا کر بازئوں میں باندھنے اور بندھوانے کا کاروبار شروع کردیا ۔ ہمارے ملک کے اخبارات اپنے اوّلین صفحات پر آیات قرآنی درج کرتے ہیں اور یہی اخبارات سڑکوں پر گرے ملتے ہیں اور کسی کو توفیق نہیں ہوتی کہ قرآنی آیات کا حترام کرتے ہوئے انہیں اٹھالے الّا ماشاء اللہ۔
ہم نے جو اس توہین کے اسباب پیدا کر رکھے ہیں کیا ہمیں اس کی سزا نہیں ملے گی ۔ سود جس کی لعنت قرآنِ حکیم اور احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے ۔ کیا پوری امت مسلمہ بحیثیت مجموعی اس لعنت کا شکار نہیں اور اگر ہے ، یقینا ہے تو کیا ہم اس کی سزا سے بچ سکتے ہیں ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سودی کاروبار کرنے والوں کو جنگ کے لیے خبردار کیا ہے اور کیا ہم اللہ ربّ العزت سے جنگ کرکے جیت سکتے ہیں ؟ الامان الحفیظ ۔
ہم امریکا اور اسرائیل کے کایا پلٹ دینا چاہتے ہیں مگر خود ہمارے نفس نے ہماری کایا پلٹ رکھی ہے مگر ہم اس پر توجہ نہیں دیتے ۔
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم کی انتہا ہے کہ اس نے ہمارے لیے آج بھی اسباب کامیابی مہیا کر رکھے ہیں ۔ امت مسلمہ بحیثیت مجموعی عذاب الٰہی میں گرفتار نہیں ۔ جس قدر وسائل اللہ نے امت مسلمہ کو دیئے ہیں اس قدر وسائل اور کسی کے پاس نہیں ۔ بس ہمارے پاس ایک ہی چیز نہیں ہے اور وہ ہے جرأت ایمانی ۔ ہمارا ایمان ہمارے پست اعمال کے سامنے شکست خوردہ ہوگیا ہے ۔ بقول محمد تنزیل الصدیقی الحسینی :
"جہاں تک ہمارے جذبۂ ایمان کا تعلق ہے تو ہمارے اعمال کی سطحیت نے اسے سخت مجروح کرکے رکھ دیا ہے ۔ ہم دینی تقاضے بھی غیر دینی طریقوں سے نبھاتے ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ "کوکاکولا” کا "لوگو” اسلام دشمنی پر مبنی ہے اور "پیپسی” کی کمائی اسلام دشمنی پر صرف ہوتی ہے لیکن کیا ہمارے بازاروں میں یہ بکنا بند ہوگئے ؟ کیا ہم نے اسے پینا ترک کردیا ؟ جب ہم لذت کام و دہن کی انتہائی ادنیٰ سی قربانی نہیں دے سکتے تو کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ ہم اپنا سر دے کر بازی جیتنا کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ ” (مجلہ "الواقعة ” کراچی شمارہ نمبر ٥،٦)
ہمیں بخوبی جان لینا چاہئیے کہ ایمان اور عملِ صالح لازم و ملزوم ہیں ۔ ہمارا عمل ہی ہمارے ایمان کا آئینہ دار ہے ۔ جب تک امت مسلمہ ایک جسدِ واحد کی طرح اپنے دکھ سکھ میں شراکت نہیں کرتی تب تک ہم اغیار کی سازشوں کا ایسے ہی شکار ہوتے رہیں گے اور ہماری فلاح و کامرانی بھی ہم سے دور رہے گی ۔

اسماء الحسنیٰ اور قرآنی سورات و آیات کے فضائل


تبصرہ کتب 7

اسماء الحسنیٰ اور قرآنی سورات و آیات کے فضائل

مؤلف :محمد صدیق صدیقی

قیمت : مؤلف اور اس کے متعلقین و مرحومین کے لیے دعائے مغفرت
تاریخ طباعت:رمضان المبارک ١٤٣٣ھ
مطبع: قریشی آرٹ پریس، ناطم آباد نمبر 2

مبصر: ابو عمار سلیم

اسماء الحسنیٰ اور قرانی سورات اور آیات کے فضائل یا عرف عام میں ” اسمائے حسنیٰ ”  جو کہ کتاب کے سرورق پر درج ہے ، جناب محمد صدیق صدیقی صاحب کی تیسری کاوش ہے جو منظر عام پر آئی ہے۔ اس سے قبل آپ کی پہلی کتاب  ” آئیے نمازادا کریں ” اور پھردوسری کوشش ” آئیے قیامت کے احوال سے عبرت حاصل کریں ” منظر عام پر آچکی ہیں۔ جناب صدیقی صاحب کی پیش نظر کتاب پر کچھ کہنے سے پہلے یہ بتانا انتہائی ضروری ہے کہ آپ کسی مذہبی درسگاہ کے فارغ التحصیل نہیں ہیں بلکہ پیشے کے لحاظ سے ایک انجینئر ہیں اور پاکستان اور غیر ممالک میں کئی بیش قیمت اور قابل قدر پراجیکٹ پر کام کر چکے ہیں۔

گو کہ آپ کو ہمیشہ سے مطالعہ  اور تصنیف و تالیف سے شغف رہا ہے مگر نوکری سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے آپ کو دین کی خدمت کی طرف بڑی شدومد سے راغب کرلیاہے۔ آپ کے دل میں امت محمدی علیٰ صاحب سلام و تسلیم کی بھلائی کا جذبہ موجزن ہے ۔ امت مرحومہ کی بھلائی اور مسلمانوں کے اعمال کی درستگی اور آخرت کی تیاری کے سلسلہ میں کافی تشویش میں مبتلا رہتے ہیں اور خلوص دل سے چاہتے ہیں کہ عام مسلمان اپنے اعمال درست کرلیں اور اپنے عقائد اور عبادات کے اہم اور ناگزیر گوشوں سے اچھی طرح واقفیت حاصل کریں تاکہ اس کی محنت قابل قبول ہو اور وہ اللہ کی نظروں میں مخلص و موحد اور اطاعت گزار بن جائے اور اس کی عاقبت سنور جائے۔ اس سلسلہ میں آپ کافی تحقیق کرتے ہیں اور پھر اپنی کاوشوں کو اپنی جمع پونجی لگا کر طبع کرواتے ہیں اور فی سبیل اللہ تقسیم کرتے ہیں۔ان کی یہ سوچ اور ان کی تمام محنت یقینا قابل ستائش ہے اور ہماری دعا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کی ان کوششوں کو نہ صرف یہ کہ قبول کریں بلکہ ان کتابوں کو پڑھنے والوں کے لیے سود مند کردیں بلکہ خودان کے لیے توشئہ آخرت بنا دیں ۔ آمین ثم آمین۔

 

 

 

 

اسمائے رب ذوالجلال و الاکرام کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں کئی ایک احباب علم و فضل نے ان کی طرف خصوصی توجہ کی ہے اور ان اسمائے مبارک کے فیوض و برکات سے عامۃ المسلمین کو آگاہ کیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ  ایک عام مسلمان کے لیے اللہ جل جلالہ کے ننانوے نام اور ان کی صفات سے متعلق کوئی اشتباہ ہے اور نہ ہی کوئی اشکال۔ کسی کو اللہ کے تمام کے تمام بابرکت اسماء یاد ہونگے اور کسی کو چند ایک کے علاوہ زیادہ سے واقفیت نہیں ہوگی مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر مسلمان قرآنی حکم کے مطابق اللہ باری تعالیٰ کے حضور میں اپنی تمام التجائیں ان ہی مبارک اور با برکت اسماء کے ذریعہ سے ہی درخواست گذار ہوتا ہے۔ ان مبارک ناموں کی فضیلت اور ان کے برکات ہی ہیں کہ اللہ نے اعلان کیا کہ تمام اچھے نام اسی کے ہیں اور اللہ کو اس کے ناموں کے ساتھ پکارو۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے ناموں کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی کیا ہے اور پھر ان کی تعلیم سید المرسلین خاتم النبین علیٰ صاحب سلام و التسلیم نے بھی فرمائی ہے۔ بزرگوں نے ان تمام ناموں کو اکٹھا بھی کیا ہے اور ان مختلف فضائل اور ان کے ورد کی مختلف شکلیں اور ان کے فیوض و برکات بھی درج کر دی ہیں۔اللہ رب العزت کے ان صفاتی ناموںکو بزرگوں نے یکجا بھی کیا ہے اور ان پر مختلف انداز سے بحث بھی کی ہے۔ مگر زیر نظر کتاب آج کے دور کی کتاب ہے جس کا اسلوب تحریر تحقیق اور ریسرچ پر منحصر ہے۔ اللہ جل شانہ کے اسماء پر صرف طائرانہ نظر نہیں ڈالی گئی ہے بلکہ کمال خلوص اور انتہائی لگن کے ساتھ ان اسماء کی مختلف شکلوں کو بھی  کھنگالا گیا ہے۔ قرآن مجید میں کون سے اسماء کس انداز میں اللہ نے بیان کیے ہیں۔ کون سا بابرکت نام کن سورتوں میں اور کن آیات میں کتنی بار آیا ہے۔ ہر ایک اسم باری تعالیٰ کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے معانی ، ان کی خصوصیات کے ساتھ ان کے ورد کرنے کے روحانی اور جسمانی فوائد بھی درج کر دئیے گئے ہیں ۔ اور ان تمام اوراد و وظائف کے حوالے بھی لکھ دئیے گئے ہیں تاکہ کسی اشکال کی صورت میں ان کی طرف رجوع کیا جاسکے۔  میرے نزدیک یہ عمل ہی مولف کی نیک نیتی کی ضمانت ہے کیونکہ وہ خود اس میدان کے آدمی نہیں ہیں اور ان کے علم کی کل اساس مطالعہ پر مبنی ہے۔یہ کام صدیق صدیقی صاحب نے بڑی عرق ریزی سے کیا ہے اور یقینی طور پر ان کا یہ کام نہ صرف یہ کہ عام قاری کو پسند آئے گا بلکہ خصوصی طور پر ریسرچ اور تحقیق کرنے والوں کے لے بھی ایک اچھا مآ خذ بن جائے گا۔