بنگلہ دیش کا حیا باختہ ناٹک


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16

بنگلہ دیش کاحیا باختہ ناٹک

عرفان صدیقی

بنگلہ دیش (Bangladesh) میں ایک بار پھر اضطراب کی لہریں اٹھ رہی ہیں۔ مجیب الرحمن کی بیٹی کے دل و دماغ میں ایک بھٹی مسلسل دہک رہی ہے۔ پاکستان اور اس سے نسبت رکھنے والی ہر شے اس کے دل میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے۔ بھارت کو وہ اپنا نجات دہندہ خیال کرتی ہے۔ جن دنوں میں ایوان صدر میں جناب محمد رفیق تارڑ کا پریس سکریٹری تھا حسینہ واجد بطور وزیر اعظم پاکستان کے دورے پہ تشریف لائیں۔ صدر سے ان کی ملاقات کے دوران میں بھی موجود تھا۔ اپنی گفتگو میں وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی باہمی تعلقات کے بجائے مسلسل بھارت کی وکالت کرتی رہیں۔ اگر کسی کو تعارف نہ ہو تو ان کی باتیں کلی طور پر بھارتی سفیر کی باتیں لگتی تھیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

تعارف ترجمہ قرآن مجید بزبان سرائیکی


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16
تعارف ترجمہ قرآن مجید بزبان سرائیکی

مولانا عبد التواب محدث ملتانی کے ترجمہ قرآن مجید کاایک تعارف

Introduction to translation of Holy Quraan in Saraiki language by Abd-ul-Tawab Multani

مولانا محمد یٰسین شاد

اردو زبان باہمی رابطہ و بین الصوبائی قومی زبان ہے ۔ علاقائی زبانوں کی افادیت و ضرورت سے کوئی صاحبِ بصیرت انکار نہیں کرسکتا۔ ماضیِ قریب میں متحدہ پنجاب کے نامور مصلح حافظ محمد بن بارک اللہ لکھوی رحمة اللہ علیہ کی تفسیر محمدی منظوم پنجابی زبان میں سات جلدوں میں شائع شدہ ہے ۔ ان کی دیگر تصانیف منظوم پنجابی کی وجہ سے لاکھوں خاندانوں نے دعوت قرآن و حدیث کو قبول بھی کیا اور عملی زندگی میں اپنایا بھی کچھ عرصہ قبل پرانی تفسیر محمدی کو دوبارہ قدیم فوٹو کاپی کراکر شائع کیا تاہم اس کا معیارِ طباعت بہتر نہیں ہے ۔ اسی طرح سندھی زبان میں سیّد بدیع الدین شاہ راشدی رحمة اللہ علیہ کی بدیع التفاسیر شائع ہوئی ہے جوکہ اب اردو زبان میں ترجمہ ہوکر جامعہ بحر العلوم سلفیہ میر پور خاص سندھ سے ان شاء اللہ جلد شائع ہوگی ۔ و بید اللہ التوفیق پڑھنا جاری رکھیں

جمال الدین افغانی ۔ تصویر کا دوسرا رُخ


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16

جمال الدین افغانی ۔ تصویر  کا  دوسرا رُخ

Sayyid Jamal ad Din al Afghani; The another face

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

جمال الدین افغانیSayyid Jamāl ad-Dīn al-Afghānīاسلامی تاریخ کے انتہائی غیر معمولی اور متاثر کن شخصیت رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے دور کے تقریباً ہر بڑے اسلامی خطے میں اپنی جگہ بنائی اور وہاں کی سیاست و معاشرت میں اثرا نداز ہوئے ۔ جس سے ان کی عبقریانہ صلاحیتوں کا بَر ملا اظہار ہوتا ہے ۔ انہوں نے ایران ، افغانستان ، ہندوستان ، مصر اور خلافتِ عثمانیہ میں اپنا وقت گزارا ۔ ہندوستان میں ان کا عرصۂ قیام بہت کم رہا ۔ یہی وجہ رہی کہ یہاں کہ اہلِ علم ان کی شخصیت کے ہَمہ گیر پہلوؤں سے اس قدر واقف نہیں ۔ اسلامی ممالک میں صرف خطۂ حجاز ہی ان کے اثر و نفوذ سے محروم رہا ۔ اسلامی خطوں کے علاوہ جمال الدین افغانی نے یورپ اور روس میں بھی کچھ عرصہ گزارا ۔ وہ ایک متحرک شخصیت کے حامل تھے جہاں بھی گئے تحریک برپا کرتے گئے ۔ان کی شخصیت ہَمہ گیر بھی تھی اور اس کے پہلو ہَمہ جہت بھی ۔ برصغیر پاک وہند کے مسلمان عام طور پر انہیں ایک مصلح و مجدد کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔ اس کے بَر عکس عالم عرب خصوصاً مصر کے راسخ العقیدہ علماء ان کے شدید مخالف ہیں ۔ کیونکہ جمال الدین افغانی کی زندگی کا بیشتر عملی حصہ بھی مصر ہی میں گزرا ہے۔ گو ان کی ” پُر اسرار شخصیت ” کے ” اسرار ” اب برصغیر کے اہلِ علم پر بھی کھلتے جا رہے ہیں ۔ مولانا سیّد ابو الحسن علی ندوی نے بھی اپنی کتاب ” مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش” میں بھی جمال الدین افغانی کی شخصیت کے اس دوسرے پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ جدید تحقیقات کے نتیجے میں کئی چشم کشا انکشافات ہوئے ہیں ۔ ذیل کے مضمون میں تصویر کے اسی دوسرے رُخ کو دکھانا مقصود ہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟ 2 جاری ہے


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ 16

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟ 2 (جاری ہے)

جناب عنایت اللہ

١٥جولائی ١٠٩٩ء کے روز بیت المقدس پر عیسائیوں کا قبضہ ہوگیا ۔

٢اکتوبر ١١٨٧ء کے روز سلطان صلاح الدین ایوبی (alāḥ ad-Dīn Yūsuf ibn Ayyūb)  نے عیسائیوں کو شکست دے کر بیت المقدس پر قبضہ کیا ۔ وہ جمعہ کا دن تھا ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے مسجدِ اقصیٰ سے صلیبیں اٹھوا کر وہاں نماز پڑھی ۔

فلسطین پر مسلمانوں کی حکومت ١٩١٧ء تک رہی ۔ فلسطین میں یہودیوں کی آبادی نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی ۔ وہ ساری دنیا میں بکھرے ہوئے تھے ۔ وہ ہر سال بیت المقدس میں زائرین کی حیثیت سے جاتے اور یہ الفاظ دہراتے رہے —” آئندہ سال یروشلم میں  — وہ اس عزم کا زبانی اعادہ کرتے رہے کہ وہ ایک نہ ایک دن مسجدِ اقصیٰ کو مسمار کرکے یہاں ہیکلِ سلیمانی تعمیر کریں گے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

(ولا تقربوا الزنا)


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16

(ولا تقربوا الزنا)

And Do Dot Come Near Adultery

محمد عالمگیر ( سڈنی ، آسٹریلیا )

ترجمہ : ابو عمار سلیم

 آزادیٔ نسواں کی جو عالمگیر تحریک آج ہمیں بڑی شد ومد سے ساری دنیا پر چھائی ہوئی نظر آتی ہے، وہ صرف صدیوں پر محیط مردوں کی برتری کےرد عمل کا نتیجہ نہیں ہے۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دنیا کے تقریباًتمام معاشروں میں ہزاروں برسوں سے جاری و ساری ناروا ظلم اور زیادتیوں کے احتجاج کا ایک عملی مظاہرہ بھی ہے جو ہر دور کے تہذیبی ادوار میں مختلف اقسام کی نا انصافیوں سے مزین رہا ہے ۔ حقوق آزادیٔ نسواں کی تحاریک جو آج عرف عام میں عورتوں کی آزادی کے نعرے میں تبدیل ہوچکی ہے بڑی حد تک اسی ظلم و ناانصافی کی ہی پیدا وار ہے جسے آج آواز مل گئی ہے اور اسی رویہ کی ایک منطقی توجیہ ہے جو آج کے معاشرہ  کے زندگی گزارنے کے آداب کے اصولوں کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

اسرار ایَّاکَ نَعْبُدُ وَ ِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16

 اسرار  ایَّاکَ نَعْبُدُ وَ ِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ

امام حافظ ابن قیم الجوزیة رحمہ اللہ

ترجمہ : مولانا عبد الغفار حسن رحمہ اللہ

خلق و ا مر ، کتب و قوانین ، ثواب و عتاب کا سر چشمہ دو کلمے ہیں (ایاک نعبد و ایاک نستعین ) انہی پر عبودیت  (بندگی) اور تو حید کا دار و مدار ہے ۔ اسی بنا پر کسی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں اتاری ہیں ۔ جن کا خلاصہ تورات، انجیل اور قرآن میں ہے اوران تینوں کے معنیٰ قرآن میں یکجا جمع ہیں اور پھر پورے قرآن کا مضمون مفصل (حجرات تا والناس) موجود ہے ۔ان تمام کے معانی سورہ فاتحہ میں ہیں اور سورہ فاتحہ کالب لباب (ایاک نعبد و ایاک نستعین ) میں آ گیا ہے ۔ یہ دو نوں کلمے رب اور بندے کے در میان منقسم (بٹے ہو ئے ) ہیں ( ایاک نعبد ) رب کے
لیے ہے اور ( ایاک نستعین ) بندے کے لیے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

Present day challenge and the Muslim World


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16
 
عالم اسلام اور عصر حاضر کا چیلنج (اداریہ)

Present day challenge and the Muslim World

محمدتنزیل الصدیقی الحسینی
اس وقت عالم اسلام بیک وقت دو محاذوں پر نبرد آزما ہے :
(١) پہلے محاذ کا تعلق میدانِ جنگ و حرب سے ہے اور
(٢)دوسرے محاذ کا تعلق میدانِ علم و فکر سے


عالم اسلام پر مسلط جنگ
عالم اسلام کی زمینی سیاسی حقیقت یہ ہے کہ چارو ناچار اسے حالتِ جنگ کا سامنا ہے ۔ شاید ہی کوئی اسلامی ملک ایسا ہو جسے اندرونی یا بیرونی طور پر اغیار کی سازشوں کا سامنا نہ ہو ۔ یہ جنگ باقاعدہ طور پر میدانِ حرب میں بھی لڑی جا رہی ہے اور بساطِ سیاست پر بھی ۔ اب چونکہ جنگوں کے طریقے بدل چکے ہیں ۔ جنگیں کئی محاذوں پر لڑی جاتی ہیں ۔ میدان حرب میں اسلحہ و بارود کی گھن گرج کے ساتھ بھی لڑی جاتی ہے اور معاشیات کے میدان میں طلبِ زر کی کمی و زیادتی سے بھی یہ بازی جیتی جاتی ہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں