اے ماؤ ، بہنو ، بیٹیو


مجلہ "الواقعۃ” شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

اے ماؤ ، بہنو ، بیٹیو !

ابو عمار سلیم

8 O! dear mothers and sisters pdf_Page_1

کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

تحریک آزادیِ نسواں. خواتین کے خلاف ایک پُر فریب شیطانی دھوکہ


جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013، شمارہ  12-13

ابو عمار محمد سلیم                اللہ سبحانہ وتعالیٰ ، خالق ارض و سما کا فرمان ہے کہ میں نے اس کائنات میں تمام چیزوں کو جوڑے جوڑے میں بنایا ہے۔ اسی سنت کو برقرار رکھتے ہوئے اللہ نے جب انسان کو پیدا فرمایا تو اس کا جوڑا بھی خلق کیا۔ یوں حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ ان کا جوڑا حضرت بیبی حوا علیہا السلام کی صورت میں بنایا اور ان کی تخلیق کی۔ اس طرح جوڑے جوڑے میںتمام چیزوں کو بنانے میں اللہ رب العزت نے جو اہتمام روا رکھا اس کی بنیادی حقیقتاس قسم کی نسل کو آگے بڑھانے اور ان کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرناتھا ۔انسان کے ساتھ ساتھ ہمارے کرہ ارض پر جو بھی معلوم چرند پرند اور بحری اقسام کےعلاوہ نباتاتی جاندار ہیں ان سب کے نسلوں کے پھیلاؤ کا واحد فارمولا اپنے جوڑے سےاختلاط ہے اور اس کے نتیجہ میں اسی جیسی ایک نئی زندگی وجود میں آتی ہے۔ انسان کےساتھ ساتھ بہت سے غیر انسانی گروہوں میں بھی اللہ نے مذکر جنس کو زیادہ طاقت عطا کی ہے جس کا استعمال کرکے وہ نہ صرف اپنے ساتھی جوڑے کا بلکہ اپنی کمزور افزائشپذیر نسل کی حفاظت کے لیے ہمہ دم چو کنا اور تیار رہتا ہے۔یہ ایک ایسا انتظام ہے جودنیا کے قیام کے بعد سے خالق کائنات کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق جاری و ساری ہےاور یہ ہی وجہ ہے کہ تمام انسانوں اور حیوانوں کی زندگیاں قائم ہیں۔ مذکر اور مؤنث
کا یہ جوڑ ہی کامیاب اور پر مسرت زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے۔ جوڑےکے اس انتظام میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایک عجیب امتزاج رکھا ہے۔ اس جوڑے کےایک حصہ کو بے انتہا طاقت ، ہمت اور دور اندیشی کی صفت عطاکی تو دوسر ے حصہ کو نزاکت، برداشت اور محبت کا وہ لازوال خزانہ دے دیا جو زندگی کی گاڑی کو کھینچنے کےلیے تیل کی فراہمی کا کام کرتا ہے۔ دونوں صنفوں کو ایک دوسرے کی ضد بھی بنایا مگرساتھ ہی ایسا جذبہ بھی بیچ میں رکھ دیا کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ناگزیر بنگئے۔یہ اوراس جیسے دیگرتمام عوامل ہر جنس میں رکھے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر قسمکی نسل نے اللہ کی عطا کی ہوئی طاقت اور قوت کا غلط استعمال بھی کیا۔ دیگر مخلوقاتمیں شاید اس کا ادراک اتنا زیادہ نہ ہو مگر ہم بنی آدم اپنی نسل میں اس بے جااستعمال کے شاہد ہیں جہاں ایک فریق نے اپنے دوسرے ساتھی کے ساتھ زیادتیاں کیں اوراس کے حقوق کو پامال کیا۔ ہمارے اس مضمون کا مطمح نظر بھی بنی آدم اوراس کے جوڑے
کا اسی حوالے سے جائزہ لینا ہے اور ہم اب اپنی توجہ صرف انسانی جنسوں یعنی مرد اورعورت کی طرف رکھیں گے اور ان ہی سے متعلق مختلف مسائل پر گفتگو کریں گے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں