المغراف فی تفسیر سورۂ ق قسط 10


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

از قلم: مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ

تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اصحاب الرس
ان کا قصہ یوں ہے ۔ مسلم اوردوسرے صحاح میں حضرت صہیب ابن سنان رومی سے روایت ہے کہ ملک شام میں ایک بادشاہ جابر تھا اور اس کا ایک استاد بڑا ساحر تھا ۔ اس کے جادو کے زور سے مملکت پر رُعب رکھتا ، جب وہ ساحر بہت بوڑھا ہوا تو بادشاہ سے کہا کہ میں تو بہت آخر عمر کو پہنچ گیا ہوں کوئی ہوشیار لڑکا منتخب کرکے میری شاگردی میں دیجئے کہ میرے بعد میرا جانشین ہو ۔
کو پڑھنا جاری رکھیں
Advertisements

المغراف فی تفسیر سورۂ ق قسط 9


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 11 ربیع الثانی 1433ھ/ فروری، مارچ 2013

المغراف فی تفسیر سورۂ ق قسط 9

مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ
تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی
(3) پہلی آیتوں سے صرف اپنے وجود اور کمال، عظمت، جلال و بعثتِ انبیاء و حشر پر استدلال منظور ہے اور ان سب باتوں میں اس کے بندے باہم مختلف ہیں اور عموماً ان کو تسلیم نہیں کرتے، صرف وہ لوگ جن کی طبیعت میں رجوع الیٰ الحق کا مادہ ہے اِ ن سب کو جب تامل سے دیکھتے ہیں تو مان لیتے ہیں۔ اس لیے وہاں پر عبد کو منیب کے ساتھ مقید (ذکر) کیا۔ اور دوسری آیتوں میں جو مذکور ہے وہ مانی ہوئی بات ہے، پانی کے برسنے سے کسی کو انکار نہیں۔ زمین کی پیداوار میں آب باراں کی تاثیر سے کسی کو انکار نہیں۔ اس کے تمام مخلوقات کے لیے ذخیرہ رزق ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں، اس سے جس طرح ابرار اور اللہ کے ماننے والے فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی طرح فجار اور کفار بھی اس لیے یہاں للعباد میں کسی قید کی ضرورت نہیں تھی۔ منکرین اگر اب بھی انکار پر اڑے رہیں اور ایسی ایسی صاف و صریح باتوں کو جنہیں ہر شخص اپنی مدت عمر میں بارہا دیکھتا ہے غور نہ کریں اور رسول کے سمجھانے پر بھی نہ سمجھیں تو اب طریقِ استدلال اختیار کرنا لا حاصل ہے۔ اس لیے تہدید و تخویف (ڈر و خوف ) سنا کر راہ پر لانے کے لیے چند مثالیں گزشتہ زمانہ کے نافرمانوں کی سنائی جاتی ہیں۔ وہ لوگ بشر (انسان) کے نبی ہونے کو تعجب کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور تمہاری ہی طرح کفر و عناد پر اصرار کرتے تھے۔ آخر اللہ نے ان کو دھر پکڑا اور ایسی بری طرح سے دنیا سے گئے کہ خلق میں افسانہ ومثال بن گئے۔
کو پڑھنا جاری رکھیں

المغراف فی تفسیر سورۂ ق قسط 8


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 10 ربیع الاول 1433ھ/  جنوری، فروری 2013

 از قلم: مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ

تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

المغراف فی تفسیر سورۂ ق قسط 8 PDF Download

خرمے کے درخت کا ذکر کرکے دوبارہ علیحدہ سے اس کے پھل کے ذکر کرنے کی یہ وجہ ہے کہ خرمے کا درخت از سرتاپا آدمیوں کے حاجات میں کار آمد ہے تو یہ مستقل احسان ہوا اور اس کا پھل مستقل احسان اور دونوں قدرت خدا کا نشان ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

المغراف فی تفسیر سورۂ ق 7


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہتسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

المغراف فی تفسیر سورۂ ق

قسط نمبر 7
مگر یہ دولتِ تفکر و ذکر ہر آدمی کو نصیب نہیں ہوتی ۔ اس لیے کہ
(١) انسان جب سے ہوش سنبھالتا ہے ، عالم میں ساری چیزوں کے ظاہری اسباب کو دیکھتا ہے ۔
( ٢) خود کو کھانے پینے اور دیگر ضروریات کے بہم پہنچانے میں مصروف کردیتا ہے ۔
(٣) خود کو ایسے لوگوں میں پاتا ہے جو فی الجملہ مختار بھی ہیں اور مجبور بھی ۔
(٤) جن لوگوں میں نشو و نما پاتا ہے انہیں دیکھتا ہے کہ جن باتوں میں وہ مختار ہیں ، ان کو اپنی طرف نسبت دیتے ہیں اور جن باتوں میں مجبور ہیں ان کو کسی قوت غیبی کی طرف منسوب کرتے ہیں تو یہ بھی کسی غیبی قوت کا قائل ہوجاتا ہے اور تقلیداً انہیں کا کلمہ پڑھنے لگتا ہے ۔ یہی بنیاد ہے اللہ کے ماننے کی ، جس سے کسی انسان کا دل خالی نہیں مگر اس کے تعیین میں ، تعداد میں ، طریقِ پرستش میں ہزاروں دھوکے کھاتے ہیں ۔

المغراف فی تفسیر سورہ ق


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/  اگست ، ستمبر 2012

المغراف فی تفسیر سورہ  ق


مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ

تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

قسط نمبر 4

(١) جو خدا ایسی عظیم الجثہ کثیر المنافع چیز کے پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے ، وہ مردوں کو بھی زندہ کرنا اپنی قدرت میں رکھتا ہے ۔

(٢) زمین اس کا ملک ہے ، اور سارے مخلوقات اس کی رعایا اپنے ملک کی آراستگی و انتظام و رعایا کی تعلیم و تربیت کی غرض سے کسی بشر کو اپنا قانون لے کر بھیجنا اور تعلیم گاہیں کھولنا کتابیں متعین کرنا کچھ بھی جائے تعجب و اعتراض نہیں ۔

(٣) زمین باوجود اس کے کہ زمین ہونے میں ہر جگہ یکساں ہے مگر کہیں پیداوار کی صلاحیت اور معدنی ہونے کی حیثیت سے قابل قدر ہے ، اور دوسری جگہ بسبب شور و سنگلاخ ہونے کے ناقابل ۔

(٤) زمین میں سیکڑوں شہر اور دیہات آباد ہیں ، چھوٹے سے چھوٹاکوئی شہر لو اور دیکھو تو ایک حاکم، کچہری، بازار ، جیلخانہ ، شفا خانہ ، باغات ضرور اس میں ہوگا ۔

کچہری میں مختلف قسم کے آدمی ہوتے ہیں کوئی سرکاری ملازم ، کوئی مدعی ، کوئی مدعا علیہ ، کوئی گواہ ، کوئی مقدمہ جیت کر خوش خوش ہر ایک کو اپنے متعلقِ فیصلہ کی نقل سناتا پھر تا ہے ۔ کوئی ہار کر افسردہ دلگیر چلا جاتا ہے ، کوئی پاداش جرم میں پابہ زنجیر کشاں کشاں حاکم کے روبرو دلایا جاتا ہے ، اور مارے ہراس و ندامت کے حواس باختہ ہے ، کوئی بڑے اعزاز کے ساتھ سواریوں پر لباس فاخرہ پہنے چلا آتا ہے ۔ حاکم کسی کے صلۂ خدمت میں انعام کا پروانہ دے رہا ہے اور کسی کو پاداش جرم میں سزائے موت یا جیل یا جلائے وطن ہونے کا حکم سنا رہا ہے ۔

پھر بازار میں آئو کہیں نقود پرکھے جارہے ہیں کہ کھرے ہیں یا کھوٹے ، کوئی اپنے محاصل کے جانچنے کو بھی کھاتا کھولے حساب و کتاب میں مشغول ہے ، کہیں ترازونصب ہیں اور کہیں ناپ جوکھ جاری ہے ، کوئی خریدار ہے ، کوئی بیچنے والا۔
بیمارستان (ہسپتال) میں آؤ تو کتنے قسم کے آزار دہ امراض میں مبتلا پڑے نظر آتے ہیں ۔ کوئی سسک رہا ہے کوئی مارے تکلیف کے غش میں ہے ، کوئی جاں بلب آہیں کھینچ رہا ہے ۔

جیل خانے میں دیکھئے تو مختلف جرائم کے مختلف میعادی محبوس ہیں اور ذلت و خواری میں پڑے غم کھاتے ہیں ۔

امراء اور خوشحال اپنے باغوں اور محلوں میں پری جمالوں کے ساتھ عیش و عشرت میں مصروف اور خوش وقت ہیں ۔

بروزِ حشر یہی زمین کھینچ کر نہایت وسیع بنادی جائے گی اور یہی واقعات بیع و شرا جنت و نار کے اعمال سے ۔ اور فصلِ خصومات ۔ اور وزنِ اعمال اور مخفیات کی جانچ اور حساب و کتاب ہوں گے ۔ اور یہ ممکن ہے اس لیے کہ جو کام سیکڑوں برس سے ہورہا ہے ، وہی کام بہت دیر تک بہت زیادہ کرکے آسانی سے کیا جاسکتا ہے ، جیسا ارشاد ہوا کہ 
(وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ   Ǽ۝ۙ) (الانشقاق: ٣)  "جب زمین کھینچ کر پھیلائی 

جائے۔” اور فرمایا 
(يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ) (ابراہیم: ٤٨) 

"جس دن زمین اور آسمان کی موجودہ حالت بدل دی جائے گی اور سب لوگ 

اللہ کے حضور میں حاضر ہوں گے ۔” 
اور فرمایا : 
(وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بِالنَّـبِيّٖنَ 

وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ       69؀) )الزمر:٦٩( 

زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔
غرض زمین میں بھی دلائل توحید و حشر و نشر واضح طور پر موجود ہیں ، جیسا کہ ارشاد ہوا :)   وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ       20؀ۙ) (الذاریات:٢٠) "یقین لانے والوں کے لیے زمین میں بہیتری نشانیاں موجود ہیں ۔” اگر اس سے بھی نہ سمجھیں تو دیکھیں کہ ( وَ أَلْقَیْْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ ) "اور ہم نے ڈال رکھے ہیں اس میں اونچے اونچے پہاڑ” جو زمین کو ہلنے سے اور بعض بلادِ معمورہ پر سمندر کو بہ نکلنے سے روکے ہوئے ہیں ۔
(١) پہاڑ بھی مخلوقاتِ ارضیہ میں سے ایک مخلوق ہے مگر تمام مخلوقات ارضی کو ہلاکت سے روکے ہوئے ہے ۔ اس لیے اس کا رُتبہ بلند ہے ۔ اسی طرح سے منجملہ انسانوں کے ایک انسان ایسا پیدا کیا جا سکتا ہے جو اپنے تمام بنی نوع کو ہلاکتِ ابدی سے بچارکھے اور اس سبب سے تمام بنی نوع سے اس کا پایہ بلند ہو ۔

(٢)باوجود اس کے کہ پہاڑ بھی مخلوقات ارضیہ سے ہے مگر سب سے ارفع ، سخت ، انفع اور اٹل ہے ۔ اسی طرح سے اپنے تمام جنس میں سے ایک فرد انسان ارفع و اعلیٰ اونچی شان والا ہوسکتا ہے اور وہ انبیاء ہیں ۔

(٣) پہاڑوں میں سے بعض بعض پتھر جو منجملۂ اجزائے کوہ ہیں ، تاثیرات علوی سے جواہر بیش بَہا مثلاً لعل و یاقوت و الماس وغیرہا بن جاتے ہیں ۔ اور درحقیقت ہیں تو پتھر ہی ، اور انہیں پہاڑوں کے اجزاء مگر من حیث بہا (قیمت) و رونق و قدر و قیمت کوئی نسبت اپنے ہم جنسوں سے نہیں رکھتے ۔ اسی طرح کسی بشر میں تاثیرات علوی سے نبوت کا پایا جانا اور اس سبب سے اپنے تمام ہم چشموں سے بہا (قیمت) و رونق و قدر و منزلت میں فائق ہوجانا کوئی جائے تعجب نہیں ۔
(٤) پہاڑوں میں اکثر معدنیات ودیعت (پوشیدہ) رکھے ہوتے ہیں اور انسان بہیترے آثار و قرائن سے ان کا پتا لگا کر نکالتے ہیں ۔ نکلنے کے وقت تھکے اور ڈھیلے ہوتے ہیں ۔ بعد استخراج ( علیحدہ کرنا) کے مختلف اشکال و اوضاع (صورت) میں لائے جاتے ہیں ۔ کوئی ظروف (برتن) ، زیور و مضروب سکے بنتے ہیں ۔ کوئی آلات حراست و حرب بنائے جاتے ہیں ۔ پھر جب چاہتے ہیں گلا کر مثل سابق تھکّا (مائع ) بنا ڈالتے ہیں ۔ پس جو خدا اپنے مخلوقات کو آثار و علامات کی حس بخشتا ہے اور معدنیات کے مقام کی شناخت کی قدرت دیتا ہے ۔ جس کے سبب سے مدت ہائے دراز کے مودّع (پوشیدہ) چیزوں کو استخراج ( علیحدہ کرنا) کرکے کام میں لاتے ہیں ، وہ خدا کیا اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ انسان کو جو خاک میں مل گئے پھر واپس لائے ؟ اور اجزائے متفرق انسان کے مقام و محل کو پہنچا دے اور دوبارہ ان کو اصلی صورت و شکل پر لوٹا لائے 
(وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۢ بَهِيْجٍ        Ċ۝ۙ (١)  ) (سورہ ق :٧) "اور میں نے اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں ۔” 
جن کے رنگا رنگ پھول ، پتے ، ڈالیاں خود بھی دل لبھالینے والے ہیں اور اس تختہ زمیں کو جس پر اگتے ہیں ، خوشنما اور دلفریب بنا دیتے ہیں ۔

(١) جو خدا خود رو گھانس پات کے تخم  (بیج )کو زمین میں سڑ گل جانے اور انقلابات عظیم کے بعد طرح طرح کے شگوفے بنا کر نکالتا ہے ، وہ خدا انسان کو بھی زمین میں ایک مدت تک رہنے اور سڑ گل جانے کے بعد از سر نو پیدا کر سکتا ہے ۔

(٢) جس طرح عموماً نباتات بیچ سے سڑ گل کر درخت اور درخت سے پھول اورپھول سے پھل ہوتے ہیں ۔ اور پھر پھل میں وہی بیج موجود ہوتے ہیں ، جو زمین میں سونپے گئے تھے ، علیٰ ہٰذا القیاس خدا کی قدرت میں ہے کہ جو کچھ زمین کو سونپے بعد ایک مدت کے ہزاروں انقلاب اس میں ہوجائیں ۔ جب چاہے بعینہ جیسا سونپا تھا واپس لے ۔

(٣) جس طرح ہر نبات کا خلاصہ اور اس کی زینت و بہجت (خوشی) اس نبات کا پھول ہوتا ہے یا پھل، اور وہ درخت کا ایک جز ہی ہوتا ہے مگر خوشنمائی اور زینت و تر و تازگی و بو ولذت میں تمام اجزائے درخت سے فائق و ممتاز ہوتا ہے ۔ اسی طرح سے تمام بنی نوع انسان میں سے ایک شخص بسبب نبوت ممتاز و فائق ہوسکتا ہے ۔ جس کے سبب سے تمام بنی آدم کی رونق و بہا (قیمت) و زینت بڑھ جاتی ہے ۔

(٤) جس طرح درخت جڑ سے سر تک مختلف اجزاء سے مرکب ہوتا ہے جڑ کی پرورش در پردہ اجزائے ارضی سے ہوتی ہے ۔ جڑ تمام اجزائے ارضی سے غذا لے کر ہر اجزائے درخت کو پہنچاتا ہے ۔ جس کے سبب سے درخت کی زندگی اور ترو تازگی بحال رہتی ہے ۔ اسی طرح سے تمام بنی آدم کے مختلف المزاج اور مختلف الحالت افراد کے اصل اور باعثِ بقا وحیٰوةابدی –انبیاء –ہیں ۔ جن کی پرورشِ روحانی کا ذریعہ وحی و الہام ہے ، جو درپردہ اور مخفی ہوتا ہے اور وہ سارے بنی نوع کو اس سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔

تبصرہ
ان کاموں سے اور بنی آدم کے روبرو اس کارخانۂ عالم کے کھولنے سے میرا یہ مطلب ہے کہ جس طرح سے ان کی ظاہری آنکھیں ان عجائبات کے نظارے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں ، اسی طرح ان کی قلبی آنکھیں بھی روشن ہوں اور جس طرح ظاہری آنکھ سے دیکھ کر ہر شے کی نسبت موسم و آب و ہوا کی تاثیرات کی جانب کرتے ہیں ۔یا کسان و مالکِ زمین اور مزدوروں کی حسن تدبیر و انتظام و جانفشانی کی طرف کرتے ہیں ۔ دلی آنکھ سے غور کریں اور ہر چیز کے بونے اور اُگانے اور پھیلانے اور مِلک و مُلک کی نسبت اصل مالک اور بونے والے اور اگانے والے اور پھیلانے والے کی طرف کریں اور راہِ صواب و قول حق کے اوپر آجائیں ، اور ظاہری اسباب کے پیچ میں پھنس کر اصل مسبب الاسباب (اسباب کو پیدا کرنے والا)کو نہ بھول بیٹھیں ۔ جیساکہ ارشاد ہوا 
( فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ  حَدَاۗىِٕقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ  ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَـرَهَا    ) (النمل:٦٠) 
میں نے پانی کے ذریعہ سے خوشنما باغ اگائے ۔ تمہاری مجال نہ تھی کہ ان کے درختوں کو اگالیتے ۔”
( وَ ذِکْریٰ ) اور اس لیے کہ کارخانۂ عالم کی ہر چھوٹی بڑی چیزوں کو آسمان ہو یا اس کی فراخی و زینت ، زمین ہو یا اس کے نباتات کی خوبی و خوشنمائی ۔پہاڑ ہو یا اس کی رفعت و سختی دیکھ کرخدا یاد آئے اور اس کی خالقیت و حکمت و تدبیر و لطف و ترحم کا یقین بڑھے ۔
حواشی
(١)     ( زَوْجٍ ) بعض ائمہ مفسرین جن میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ بھی شامل ہیں ، نے زوج کے معنی جوڑا کیے ہیں ۔ یعنی قدرت الٰہیہ نے ہر صنفِ اشیاء و نباتات کو جوڑا جوڑا ( نر و مادہ ) بنایا ہے ۔قرآنی و حی و تنزیل کی صداقت کا یہ بہت بڑا ثبوت ہے کہ کائنات عالم کے جس اسرار کا انکشاف قرآن نے بغیر کسی مادّی وسائل کے چودہ صدی قبل کیا تھا آج سائنسی تحقیق بھی اسے درست تسلیم کرتی ہے ۔ ( بَہِیْجٍ ) کے معنی ہیں خوش منظر و خوش نما ، حسین و دلفریب ۔

[جاري ہے۔۔۔۔۔]

المغراف فی تفسیر سورۂ ق 4


جریدہ "الواقۃ” کراچی شمارہ ٤، رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی، اگست 2012

مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ

تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

قسط نمبر ٤ 

اور رسول اللہۖنے فرمایا :

 ” ما شی اثقل من میزان المؤمن یوم القیٰمة من خلق حسن و انّ اللّٰہ لیبغض الفاحش البذی ۔”رواہ الترمذی (١) عن أبی الدرداء رفعاً ” یعنی

” مسلمان کے ترازو میں قیامت کے دن عمدہ اخلاق سے زیادہ بھاری کچھ نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ نفرت رکھتا ہے بدکار کج خلق سے ۔” اس کو ترمذی نے ابی درداء سے ]مرفوعاً[روایت کیا ہے ۔

( چہارم ) آفتاب بھی من جملہ ستاروں کے ایک ستارہ ہے ، مگر جس قدر روشنی ، حرارت ، منفعت اور تأ ثر آفتاب میں ہے دوسرے ستاروں میں ہر گز نہیں ، بلکہ سب کے سب اس کے آگے ہیچ اور کالعدم ہیں ، اور جو کچھ بھی رکھتے ہیں ، تو آفتاب ہی کی بدولت ۔ اسی طرح سے زمین میں ہزاروں انسان ہیں اور ہر انسان بجائے خود زمین کی زینت ہے مگر انبیاء اور خاص کر ان میں سے ہمارے پیغمبر ۖ مثلِ آفتاب کے ہیں ، اور انہیں کی ضیاء و نور سے سب روشنی حاصل کرتے ہیں ، اور سارے انسان اور ان کے کمالات آپ ۖ کے سامنے اور آپ ۖ کے کمالات کے سامنے منعدم] ناپید ، غیر موجود[اور نیست ]فنا و نابود[ ہیں ۔

( پنجم )آسمان میں دن کو ایک خاص رنگ و روپ ہوتا ہے ،جو شام کے آنے سے متغیر ہونے لگتا ہے ۔ یہاں تک کہ جب پوری شب ہوجاتی ہے ، دن کے سارے سامان درہم برہم ہوجاتے ہیں اور ایک نئے سامان اور خاص طور سے آسمان میں ایک مجلس ستاروں سے ترتیب دی جاتی ہے ۔ پھر یہ حالت صبح کے آنے سے بدلنے لگتی ہے ۔ یہاں تک کہ جب اچھی طرح سے دن ہوجاتا ہے ، کل کی سما بعینہ عود ]لوٹ[ کر آتی ہے ، جس میں گزشتہ دن سے سرمو فرق نہیں ہوتا پھر رفتہ رفتہ شب ہوتی ہے ، اور گزشتہ شب کی پوری حالت عود کر آتی ہے ۔ ان انقلابات روز مرہ اور اعادئہ معدومات ]گزر جانے والے امر کو لوٹانا[ کو جو اللہ بڑی آسانی کے ساتھ کرتا ہے ، وہ اعادئہ روح اور احیائے موتیٰ پر قادر ہے اور اس کے آگے

(ذٰلِکَ رَجْع بَعِیْد) (٢) ] سورہ ق: ٣

کہنا خود جائے تعجب اور بعید ہے ۔

( ششم ) شب کو آسمان میں ہزاروں ستارے نظر آتے ہیں ، اور ہر ستارہ اپنی اپنی جگہ پر آسمان کی رونق و زینت ہے اور نور و ضیا میں کامل ہونے کی وجہ سے گویا  انا المضیُّ انا النّور و انا زینة الافلاک (٣) کا دم بھرتا ہے ۔ ان کے اختلاف سمت و قد و قامت و لون ]رنگ[ و ہئیت گھنے اور بکھرے ہونے کو غور سے دیکھے تو عجیب دلکش نظارہ معلوم ہوتا ہے ۔ ارباب ہیئت آلات رصد کے ذریعہ سے عجائبات سماوی کو بچشم سر خود دیکھتے ہیں اور صنعت کردگار کی داد دیتے ہیں ، مگر صبح ہوتے ہی آفتاب نکلتا ہے اور سارے ستارے اپنی اپنی جگہ سے غائب ہوجاتے ہیں ، اور سارا بساطِ شب الٹ جاتا ہے ۔ تمام آسمان میں صرف ایک آفتاب ہی کی روشنی نظر آتی ہے اور شب کے مدعیانِ نور و ضیا سے گویا بہ زبانِ حال پوچھتا ہے  این القمر و ضیاؤہ ، این عطارد و این مریخ و این الشھب الثواقب لمن النّور الیوم غیری  (٤) مگر کوئی نہیں جو دم مارے ۔

علیٰ ہذا المثال بروزِ حشر جناب باری تعالیٰ زمین پر رونق افروز ہوگا ، اور ساری جمعیت اور ملک و ملک کا خاتمہ ہوجائے گا ، اور صرف ایک ذات پاک باری میں منحصر رہے گا ، اس وقت فرمائے گا :

 (  لِّمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ) (٥)  ] سورہ غافر: ١٦[

 أین الملوک الارض ۔(٦) غرض آسمان کی مجموعی حالت ذاتی و صفاتی یعنی وجود و ارتفاع و زینت و وسعت دیکھو تو خداوندِ تعالیٰ کے کمالِ قدرت و غایت صنّاعی و تدبیر و حکمت کی دلیل ہے اور ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ غور کرو تو ہر ایک بالاستقلال دلیل ہے
( وَ الْأَرْضَ مَدَدْنَاہَا )  ” اور میں نے زمین کو پھیلایا ”
جس کی فراخی و وسعت کی وجہ سے اب تک اس کی انتہائی حدود کا ٹھیک اندازہ نہیں ملا ۔

حواشی
(١)        سنن الترمذی : کتاب البر و الصلة ، باب حسن الخلق ۔امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے ۔ شیخ البانی کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے ۔
(٢)         ” پھر یہ دوبارہ واپسی ناممکن ہے ۔ ”کفار نے بعید کا لفظ اپنی دانست میں ناممکن کے معنوں میں استعمال کیا تھا ۔
(٣)         ہم چمکا دینے والے ہیں ، ہم روشنی ہیں اور ہم آسمان کی زینت ہیں ۔ ( مؤلف )
(٤)         کہاں ہے چاند اور اس کی روشنی ، کہاں ہے عطارد ، کہاں ہے مریخ اور کہاں ہیں شہاب ثاقب جن کے لیے روشنی ہے ، جو آج موجود نہیں ۔
(٥)         ” کس کے لیے ہے آج کے دن کی بادشاہی ، صرف اللہ غالب کے لیے ۔”
(٦)         کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ۔

[جاري ہے۔۔۔۔۔]
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی، اگست 2012- سے ماخوذ ہے۔ 
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، – جمادی الثانی 1433ھ / اپریل، مئی 2012- سے قسط وار شائع ہو رہا ہے۔ 

المغراف فی تفسیر سورۂ ق قسط : (٣)



شمارہ نمبر ٣ 

مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ

تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

(٢) ان کا باہم مختلف ہونا اور جلد جلد تبدل رائے کرتے رہنا اور آپ ( ۖ ) کا ابتداء سے انتہاء تک اپنے دعویٰ پر ثابت و قائم رہنا ، اور بَرملا اس کو ظاہر کرتے رہنا اور روز بروز عقلا اور اہلِ دانش کا قبول کرتے جانا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آپ کا دعویٰ حق ہے اور اب ان کا انکار کسی دلیل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ نری [صرف] ہٹ دھرمی اور حماقت ہے اگر اب بھی کفار اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علمی کو تسلیم نہ کریں اور اپنے اختلافِ باہمی سے بھی اپنے کو غلطی پر نہ مانیں ، تو تیسری دلیل پیش کیجئے ، اور لوحِ محفوظ میں وقائع  ]واقعات[ کا لکھا ہونا بھی دلیل ہے ، وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کو کیا علم کہ اللہ جلّ شانہ کے یہاں وقائع و حوادث کی کوئی کتاب لکھی ہوئی دھری ہے ، تو دلیل عقلی سے سمجھائیے ۔

(٣ ) ( اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓا اِلَى السَّمَاۗءِ ) ان لوگوں نے آسمان کی طرف ایک نظر بھی نہیں ڈالی ۔ یہ کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ نہیں حالانکہ وہ  ( فَوْقَهُمْ ) ان کے سر پر ہے ( كَيْفَ بَنَيْنٰهَا) اسے کیسی اونچی چھت بنائی اس کی اونچائی کے سبب سے یہ بھی گمان نہیں ہوسکتا کہ کسی ارضی مخلوق نے بنایا ہو ۔ پھر دیکھو کہ ( وَزَيَّنّٰهَا )  نہایت مزین بنایا ، جو دن کو آفتاب کی چمکتی شعاع ، نیلگوں رنگ سے سجا ہوا نظر آتا ہے ، اور شب کو مختلف رنگ اور مختلف طور کے ستاروں سے سجا جاتا ہے جن کی ترتیب اور شعاع کی مجموعی کیفیت عجب دلفریب ہوتی ہے ۔ 
اور ظاہر ہے کہ یہ ارتفاع [بلندی] اور رنگ اور دلفریب سجاوٹ آسمان کی دوچار برس سے نہیں بلکہ خلقتِ آدم کے بہت پہلے سے ہے مگر جو رنگ روپ پہلے تھا ، اب بھی موجود ہے ، نہ تبدیل و تغیر ہے ، نہ تفاوت [فاصلہ ، فرق]، اور جب تک خدا چاہے گا رہے گا ، حالانکہ کوئی سی چھت جو پرانی ہوجانے سے کمزور ہوجاتی ہے ۔ اندرونی و بیرونی حصے میں اس کی سخت تغیر آجاتا ہے ، رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے یا بالکل اڑ جاتی ہے ۔ جا بجا پھٹ کر شگاف پڑ جاتا ہے مگر آسمان وہ چھت ہے ، جس میں نہ کبھی رنگ و روغن پھیرا جاتا ہے نہ شکست و ریخت ہوتی رہتی ہے ، جس آب و تاب و رنگ و روپ کا ایک بار بنا ویسا ہی موجود ہے ۔ (  وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ ) [٦] اس میں کہیں بھی بسببِ امتداد [درازی] زمانہ کے درار و شگاف نہیں ۔ 

آسمان اور اس کی رفعت اور زینت سے اثبات حشر و بعثت انبیاء پر کئی طرح سے استدلال کیا جا سکتا ہے ۔

( اوّل ) جو اللہ آسمان کو پیدا کرنے اور اس قدر اونچا بنانے پر اور ایسا خوشنما سجانے پر قادر ہے ۔ وہ اللہ دوبارہ ہستی کے لوٹانے پر بھی قدرت رکھتا ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوا :

( اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ  )  [ یٰس:٨١]

 "بھلا جس نے آسمانوں اور زمینوں کوپیدا کیا ،وہ ان کے مثل ( دوبارہ ) پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟”

 اور فرمایا:

( لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ ) [غافر: ٥٧]

"بے شک آسمان اور زمین کا پیدا کرنا آدمیوں کے پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے ۔”

 اور فرمایا:

 ( اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ) [الاحقاف : ٣٣]

"کیا ان لوگوں نے نہ دیکھا کہ جس اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ، اور اسے اس میں کچھ دقت نہ ہوئی وہ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہے ۔”


(دوم ) کیا جو اللہ آسمان کے رنگ و روپ کے وسعت و آراستگی کا زمانۂ دراز سے حافظ و نگہبان ہے ۔ وہ متفرق اجزائے انسان کا کسی عَالم میں ہوں حافظ نہیں ہوسکتا ۔

( سوم ) جو اللہ آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ، ضرور زینت و آراستگی وا نتظام کو دوست رکھتا ہے ، اور آراستگی کی دو قسمیں ہیں ۔ ظاہری و باطنی ۔ جب ظاہری آراستگی کا مخلوقات کے جو باطنی آراستگی سے کم رتبہ اور معرضِ زوال میں ہے اس قدر اہتمام ہے تو باطنی آراستگی کا جو مہتمم بالشان اور باقی ہے کس قدر اہتمام ہوگا پس اشرف المخلوقات انسان کو جب تمام مخلوقات سے ظاہری آراستگی میں اتم و اکمل بنایاجیسا کہ فرمایا:

(لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ) [التین :٤ ]

"انسان کو نہایت اچھی تناسب میں بنایا”

 تو اس کی باطنی آراستگی بھی اسی درجہ ضروری تھی ، اور اس کا ذریعہ پیدا کردینا لازم تھا ۔اسی لیے نبیوں کا بھیجا کہ ان کو باطنی نا ہمواری و بے تہذیبی و بد خلقی سے پاک کریں اور نہایت مہذب اور آراستہ و مزین بنائیں جیسا کہ فرمایا: 

(لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ  ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ) [ آل عمران :١٦٤]

"اللہ نے مسلمانوں پر بڑا ہی کرم کیا ، جو انہیں میں سے ایک بڑی شان والا رسول بھیجا ، جو ان کو قرآن پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں ( گندگیوں ) سے پاک کرتا ہے ، اور کتاب کی ( تعمیل کا طریقہ ) سکھاتا ، اور مکارم اخلاق بتاتا ہے ، ورنہ اس کے قبل یہ لوگ صریح گمراہی میں پڑے تھے ۔”

جاری ہے۔۔۔
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، شعبان معظم 1433ھ/ جون، جولائی 2012- سے ماخوذ ہے۔ 
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، – جمادی الثانی 1433ھ / اپریل، مئی 2012– سے  قسط وار شائع ہو رہا ہے۔