امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات


الواقعۃ شمارہ 48 – 49 جمادی الاول و جمادی الثانی 1437ھ

از قلم : محمد یاسین شاد

امام المحدثین ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری کے شاگرد قاضی ابو العباس ولید بن ابراہیم بن زید الہَمذَانی رَے کے قاضی تھے ۔ یہ شہر ( رَے ) ایران کے شہر تہران کے مضافات میں ہے۔ قاضی صاحب کو علم حدیث کا شوق پیدا ہوا ۔ امام بخاری کا علم حدیث میں بلند مقام و مرتبہ تھا ان کی شہرت کی وجہ سے قاضی ابو العباس امام بخاری کی خدمت میں حصول علم حدیث کے لیے حاضر ہوئے اپنی آمد کا مقصد بیان کیا۔

امام بخاری نے فرمایا :

"یا بنی ! لا تدخل فی امر الا بعد معرفة حدوده و الوقوف علی مقادیره۔"

” بیٹا ! کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں ، اس کی حدود اور مقدار کو جاننا ضروری ہے۔”

امام صاحب کی طرف سے مزید ہدایات کی وضاحت و تفصیل

"یاد رکھو ! کوئی عالم اس وقت تک کامل محدث نہیں بن سکتا جب تک وہ احادیث اس طریقے سے نہ لکھے۔ وہ چار چیزیں لکھے۔ چار چیزوں کے ساتھ لکھے۔ چار چیزوں کی طرح لکھے۔ چار چیزوں جیسی لکھے۔ چار حالتوں میں لکھے۔ چار قسم کے علاقوں میں لکھے۔ چار چیزوں پر لکھے۔ چار قسم کے لوگوں سے لے کر لکھے۔ چار مقاصد کے تحت لکھے۔ جب ان سب رُباعیات کی شرائط (چار باتوں کے مجموعے کو "رُباعی ” کہتے ہیں اس کی جمع "رُباعیات ” ہے) پوری ہو جائیں تو اس کے لیے چار چیزیں آسان ہو جائیں گی اور چار چیزوں سے اسے آزمایا جائے گا۔ پھر ان رُباعیات پر جو شخص عمل کرے اسے دنیا میں چار انعامات سے نوازا جائے گا اور چار انعامات آخرت میں دیئے جائیں گے۔”

قاضی ابو العباس ولید بن ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاری سے گزارش کی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے۔ آپ ذرا ان رُباعیات کی تفصیل بیان کر دیں امام صاحب نے فرمایا : ہاں ان کی تفصیل سن لو۔

رُباعی : 1

ان یکتب اربعاً : وہ چار چیزیں لکھے۔

  • احادیث رسول ﷺ
  • صحابہ کے اقوال اور ان کے حالات زندگی
  • تابعین کے احوال و اقوال
  • دیگر علماء کے حالات لکھے

رُباعی : 2

مع اربع : چار چیزوں کے ساتھ لکھے۔

  • رجال ( راویانِ ) حدیث کے نام
  • ان کی کنیتیں
  • ان کی جائے سکونت
  • ان کے سنین ولادت و وفات اور دیگر احوال تحریر کرے

رُباعی : 3

کاربع : چار چیزوں کی طرح لکھےجس طرح

  • خطبے میں حمد و ثنا سے بات کا آغاز لازم ہے
  • اطمینان کے ساتھ دعا مانگنا لازم ہے
  • قرآنی سورتوں کے ساتھ بسم اللہ ضروری ہے
  • نمازوں کے ساتھ تکبیر لازم ہے

رُباعی : 4

مثل اربع : چار چیزوں جیسی لکھے۔

  • مسند احادیث ( وہ احادیث جن کی نسبت اللہ کے رسول ﷺ کی طرف ہو )
  • مرسل احادیث ( جن میں صحابی کا نام مذکور نہ ہو )
  • موقوف احادیث ( صحابہ کے اقوال )
  • مقطوع احادیث ( تابعین کے اقوال )

الغرض تمام قسم کی احادیث سے واقفیت حاصل کرے۔

رُباعی : 5

فی اربع : چار اوقات میں لکھے ۔

  • کم سنی میں لکھے
  • نوجوانی میں لکھے
  • بھرپور جوانی ( ادھیڑ عمری ) میں لکھے
  • بڑھاپے میں لکھے

یعنی کہ عمر کے کسی بھی حصے میں حصولِ علم کا ذوق ماند نہ پڑے ، قلم رکے نہ کبھی وہ علم سے سیر ہو۔

رُباعی : 6

عند اربع : چار حالتوں لکھے ۔

  • کام کاج کے دوران میں لکھے
  • فرصت کے لمحات میں لکھے
  • فقر و فاقہ میں لکھے
  • خوشحالی میں لکھے

ہر حال میں اسے حدیث ہی کی دھن لگی رہے۔

رُباعی : 7

باربع : چار قسم کے علاقوں میں لکھے۔

  • پہاڑی علاقوں میں علم کی تلاش جاری رکھے
  • بحری سفر کرنا پڑے تو دورانِ سفر لکھے
  • شہروں میں گھوم پھر کر علم تلاش کرے
  • عام آبادیوں میں جائے اور علم تلاش کرے

یعنی علم جہاں بھی پائے ، لکھے۔

رُباعی : 8

علیٰ اربع : چار چیزوں پر لکھے ۔

  • پتھروں پر لکھے
  • سیپیوں پر لکھے
  • چمڑے پر لکھے
  • ہڈیوں پر لکھے

غرضیکہ کاغذ نہ ملے تو جو چیز میسر ہو اس پر لکھتا چلا جائے۔

رُباعی : 9

عن اربع : چار قسم کے لوگوں سے لے کر لکھے۔

  • بڑی عمر کے لوگوں سے لکھے
  • اپنے سے کم عمر لوگوں سے علم حاصل کرے
  • اپنے ہم عمر لوگوں سے لکھے
  • اپنے والد کی کتاب سے پڑھ کر علم حاصل کرے ، بشرطیکہ اسے یقین ہو کہ یہ کتاب اس کے والد ہی کی لکھی ہوئی ہے

رُباعی : 10

لاربع : ذیل کے چار مقاصد پیشِ نظر رکھے۔

  • رضائے الٰہی کا حصول
  • جو احکام کتاب الٰہی کے مطابق ہوں ان پر عمل کرنے کی نیت ہو
  • طالبان دین تک ابلاغ کی نیت ہو
  • علمی ذخیرے کو محفوظ کرنے کے لیے اس کی کتابی شکل میں اشاعت مقصود ہو

اس کے بعد فرمایا : مذکورہ بالا دس رُباعیات درج ذیل دو رُباعیوں کے مکمل نہیں ہو سکتیں۔

رُباعی : 1

  • ذاتی کوشش
  • فنِ کتابت سے واقفیت
  • علم لغت
  • علم النحو اور علم الصرف میں مہارت ہو

رُباعی : 2

  • صحت
  • صلاحیت
  • حصول علم کا شوق
  • قوی حافظہ

پھر فرمایا : یہ چیزیں جسے نصیب ہو جائیں تو ذیل کی چار چیزیں اس کے لیے کوئی قیمت نہیں رکھتیں:

  • بیوی
  • اولاد
  • مال و دولت اور جائیداد
  • وطن

اس مقام تک انسان پہنچ جائے تو اسے چار ناگوار صورتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے :

  • تکلیف میں مبتلا دیکھ کر دشمن خوش ہوتے ہیں
  • دوست ملامت کرتے ہیں
  • جاہل طبقہ طعنے دیتا ہے
  • ہم عصر علماء حسد کرنے لگتے ہیں

ان تکالیف پر جو شخص صبر کر لے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں چار انعامات سے نوازتا ہے :

  • قناعت کی دولت عطا کر کے معاشرے میں معزز بناتا ہے
  • ایمانی رُعب عطا کرتا ہے
  • علم کے ذریعے سے قلبی سکون اور دلی مسرت و راحت حاصل ہوتی ہے
  • دائمی خوشی نصیب ہوتی ہے

پھر آخرت میں انسان ذیل کے چار انعامات  کا مستحق قرار پاتا ہے:

  • اپنے قرابت داروں میں سے جس کی شفاعت کرنا چاہے اسے اس کی اجازت مل جائے گی
  • عرشِ عظیم کا سایہ نصیب ہوگا
  • حوض کوثر سے وہ جسے چاہے گا پانی پلا سکے گا
  • جنت الفردوس میں انبیاء و رسل علیہم السلام کا پڑوس نصیب ہوگا

اس کے بعد امام بخاری نے ارشاد فرمایا :

بیٹے ! میں نے اپنے اساتذہ سے مختلف اوقات اور مختلف مجالس میں جو کچھ سنا تھا ، وہ میں نے تمہیں ایک ہی بار سنا دیا اب حدیث پڑھنا چاہو تو پڑھ لو ورنہ ارادہ ترک کردو۔

قاضی ابو العباس کہتے ہیں کہ میں امام بخاری کی یہ بات سن کر سخت گھبرا گیا ۔ میں خاموش ہو کر ادب سے سر جھکا لیا اور گہری سوچ میں پڑ گیا کیونکہ امام صاحب نے علم حدیث کے لیے جس مشقت اور محنت کی بات کی تھی ، میں اس کا متحمل نہ تھا۔ انہوں نے مجھے متفکر پایا تو فرمایا : اگر تم اس قدر کوشش اور محنت کی ہمت نہیں رکھتے تو پھر علم فقہ کی طرف دھیان دو۔ یہ علم تو مختلف شہروں میں گھومے پھرے اور سمندروں میں لمبے لمبے سفر کیے بغیر گھر بیٹھے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ علم ہی کا ثمر ہے۔

حوالہ  : تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی از حافظ جلال الدین سیوطی جلد دوم ، ص 157 – 159 ، نشر المکتبۃ العلمیۃ بالمدینۃ المنورۃ 1392ھ

ٍمزید استفادہ : (1) سیرۃ البخاری از علامہ عبد السلام مبارک پوری (2) سیرۃ الامام البخاری ، عربی تعلیقات الدکتور عبد العلیم بن عبد العظیم البستوی (3) سیرت امام بخاری ، مطبوعہ مکتبہ دار السلام الریاض – لاہور

Advertisements

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا نظام احتساب


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا محمد یاسین شاد

خاتم النبین رسول اللہ ﷺ کے صحابی عشرہ مبشرہ میں شامل ، خلیفہ ثانی ، تمام غزوات نبوی کے ساتھی ، ابو حفص عمر بن خطاب القرشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نظام حکومت کا اہم حصہ احتساب کا واقعہ تحریر کرنے سے قبل لفظ صحابی کی تعریف ، مقام و مرتبہ پیش ہے۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

تعارف ترجمہ قرآن مجید بزبان سرائیکی


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16
تعارف ترجمہ قرآن مجید بزبان سرائیکی

مولانا عبد التواب محدث ملتانی کے ترجمہ قرآن مجید کاایک تعارف

Introduction to translation of Holy Quraan in Saraiki language by Abd-ul-Tawab Multani

مولانا محمد یٰسین شاد

اردو زبان باہمی رابطہ و بین الصوبائی قومی زبان ہے ۔ علاقائی زبانوں کی افادیت و ضرورت سے کوئی صاحبِ بصیرت انکار نہیں کرسکتا۔ ماضیِ قریب میں متحدہ پنجاب کے نامور مصلح حافظ محمد بن بارک اللہ لکھوی رحمة اللہ علیہ کی تفسیر محمدی منظوم پنجابی زبان میں سات جلدوں میں شائع شدہ ہے ۔ ان کی دیگر تصانیف منظوم پنجابی کی وجہ سے لاکھوں خاندانوں نے دعوت قرآن و حدیث کو قبول بھی کیا اور عملی زندگی میں اپنایا بھی کچھ عرصہ قبل پرانی تفسیر محمدی کو دوبارہ قدیم فوٹو کاپی کراکر شائع کیا تاہم اس کا معیارِ طباعت بہتر نہیں ہے ۔ اسی طرح سندھی زبان میں سیّد بدیع الدین شاہ راشدی رحمة اللہ علیہ کی بدیع التفاسیر شائع ہوئی ہے جوکہ اب اردو زبان میں ترجمہ ہوکر جامعہ بحر العلوم سلفیہ میر پور خاص سندھ سے ان شاء اللہ جلد شائع ہوگی ۔ و بید اللہ التوفیق کو پڑھنا جاری رکھیں

سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012
تبصرہ کتب 8،9

سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز

از: قاری عبدالرحمن صاحب مہتم جامعہ رحمانیہ
مرتبین : مو لانا عبدالحنان جانباز،  ملک عبدالرشید عراقی اور عبدالعزیز سوہدروی

مبصر: محمد یاسین شاد عفی عنہ

 
محترم قاری عبدالرحمن صاحب مہتم جامعہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ٩١٢ صفحات پر مشتمل ضخیم سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز  متوفی ١٤ذالحجہ ١٤٢٩ھ بمطابق ١٣دسمبر ٢٠٠٨ء شائع کی اس کے مرتبین مو لانا عبدالحنان جانباز ملک عبدالرشید عراقی اور عبدالعزیز سوہدروی ہیں ۔
 
قاری صاحب ناشر سوانح اس سال ١٤٣٣ھ  ١٢٠١٢ کو فریضہ حج کی ادائیگی کی سعادت حاصل کر چکے ہیں قرآن مجید میں ہے :

( یَرْفَعِ اللّٰھُ ا  لَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ )(المجادلة:١١)

ترجمہ :” اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا ۔”