قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری اور ان کی کتب سیرت


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/  اگست ، ستمبر 2012

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری اور ان کی کتب سیرت

محمد ساجد صدیقی

حب رسول سے سر شار کتاب ، رحمتہ للعالمین کے مصنف قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمتہ اللہ علیہ ١٨٦٧ء کو منصور پور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم والد قاضی احمد شاہ سے حاصل کی۔سترہ سال کی عمر میں مہندرا کالج پٹیالہ سے منشی فاضل کے امتحان میں پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے۔ (برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن ازمحمد اسحاق بھٹی)۔ اس کے بعد انہوں نے ریاست پٹیالہ میں محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی۔اپنی قابلیت و صلاحیت اوربفضل تعالیٰ وہ ترقی کرتے ہوئے ١٩٢٤ء میں سیشن جج مقرر ہوگئے ۔
 قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قابلیت ،صلاحیت اور علم کو اسلام کے لئے موثر طریقے سے استعمال کیا۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول سے انتہائی محبت اور عقیدت کا اظہار اُن کی جملہ تصانیف سے بخوبی ہوتا ہے۔انہوں نے متعدد کتابیں تصنیف کیں جن میں کتب سیرت کے نام درجِ ذیل ہیں۔

١) سید البشر٢) اسوہ حسنہ٣) مہر نبوت٤) رحمتہ اللعالمین٥) اصحاب بدر

قاضی محمد سلیمان منصور پوری بحیثیت جج انتہائی مصروف ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ علمی اور تصنیفی کام کرتے تھے بلکہ روزانہ درسِ قرآن بھی دیتے تھے ۔ معتدد عیسائیوں اور پادریوں سے مناظرے بھی کیے ۔دروس و تبلیغ کے خاطر دوردراز کے سفر بھی کرتے تھے ۔وہ عربی میں مہارت رکھتے تھے اور قرآن پاک کے تفسیری نکات بھی بیان کرتے تھے۔انہوں نے دو مرتبہ حج کیا۔ دوسرے حج سے واپسی پر جہاز میں ان کا انتقال ہوگیا۔ مولانا محمد اسمعٰیل غزنوی رحمتہ اللہ نے اُن کا جنازہ پڑھایا اور پھر انہیں سمندر کے سپرد کردیا گیا۔ (اناللھ وانا الیھ راجعون ) اس طرح اُن کی یہ دعامقبول الہی ہوگئی کہ ”اے مولا! مجھے ایسے وقت اپنے حضور بلانا جب میں دنیا کی ہر قسم کی آلائشوں سے پاک ہوں۔” (اصحاب ِبدر چوتھا ایڈیشن ،حکیم محمد عبداللہ جہانیاں کے مضمون سیرتِ سلیمان سے ماخوذ)

قاضی محمد سلیمان منصور پوری کی کتب سیرت کا جائزہ

قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمتہ اللہ کو سیرت رسول  کے موضوع سے خاص شغف تھا۔وہ فرماتے ہیں۔ ”سالہا سال سے میری یہ آرزو رہی ہے کہ حضرت سید ولد آدم محمد النبی الاُمی، کی سیرت پر تین کتابیں لکھ سکوں ۔ مختصر ۔متوسط ۔مطول۔١٨٩٩ء میں مختصر کتاب لکھ کر شائع کر چکا ہوں ۔اس کا نام مہر نبوت ہے ۔ متوسط کتاب کا نام رحمتہ اللعالمین تجویز کیا گیا ہے۔” (رحمتہ اللعالمین جلد نمبر ١)۔ ذیل میں ان کی دو معروف کتبِ سیرت کا تعارف پیش کیا جارہاہے۔

رحمتہ اللعالمین :

اردو زبان میں سیرت نبوی  پر لکھی جانے والی ابتدائی کتب میں ” رحمتہ اللعالمین ” شامل ہے ۔رحمتہ للعالمین کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس کے بعد اردو زبان میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر لکھی گئی تقریباًتمام قابل ذکر اور تحقیقی کتب کے مصنفین نے ”رحمتہ اللعالمین ” سے استفادہ کیا ہے۔ ”رحمتہ اللعالمین ”اپنی پہلی جلد کی اشاعت کے بعد ہی اتنی مقبول اور معروف ہوگئی تھی کہ کئی مدارس کے نصاب میں شامل کردی گئی۔
جب پہلے پہل لوگوں کو معلوم ہوا کہ علامہ شبلی نعمانی سیرت پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں تو لاہور کے اس وقت کے مشہور اخبار ”وطن ” کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خان نے یہ خیال ظاہر کیا کہ”جناب قاضی سلیمان صاحب منصور پوری تو سیرت لکھ ہی چکے اب اس کی کیا ضرورت ہے اور اس سے زیادہ کیا کچھ لکھا جاسکتا ہے۔” (بحوالہ مضمون ”برصغیر کے خادمان سیرت ” ازمولانا حسن مثنیٰ ندوی مشمولہ کتاب ” پیغمبر انسانیت ” از مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی ص٢٠مطبوعہ اول ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور )
اس کتاب میں یورپ کے مستشرقین کی جانب سے نبی کریم  کی ذات مقدس پر لگائے گئے الزامات اور غلط فہمیوں کا موثر انداز میں رد کیا ہے۔اور انجیل و تورات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ”رحمتہ اللعالمین ”ثابت کیا ہے۔
جلد اول میں نبی کریم کی سیرت مبارکہ کا مکمل احاطہ کرنے کے بعد باب ٥ میں نبی کریم  کے اخلاق عظیم کو انتہائی تفصیل اور جامعیت سے بیان کیا ہے۔سیرت نبوی اس طرح بیان ہوئی ہے کہ اس سے اسلام کی حقانیت کے ساتھ ساتھ فقہ رسول اور احادیث رسول کی بھی تبلیغ و تر غیب ہوجائے۔
جلد ثانی میں رسول اللہ  کے شجرہ نصب کو حضرت آدم علیہ السلام تک انتہائی محنت اور تحقیق سے بیان کیا ہے۔ قاضی محمد سلیمان منصور پوری غالباًوہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے نبی کریم  کی حیات مبارکہ کو ونوں ،گھنٹوں اور مختلف اقوام کے کلینڈروں سے اس قدر تحقیق سے بیان کیا۔ خاندان قریش کے کئی قابل ذکر افراد کے حالات و واقعات بھی اختصار کے ساتھ لکھے ہیں۔
نبی کریم کے عہد مبارکہ میں ہونے والے سر ایا اور غزوات کا تفصیلی نقشہ یا چارٹ جس میں ٨٢ غزاوات و سرایاکا ذکر ہے۔نبی کریم کی کثرت ازواج کے متعلق مستشرقین کے پھیلائے ہوئے افکار و نظریات کا بھر پور ردکیا ہے اور امہات المومنین کی سیرت مبارکہ کا اجمالی ذکر کیا ہے۔باب پنجم میں نبی کریم  کا دیگر انبیاء کرام کی زندگی سے مما ثلت اور اُن کی محمد رسول اللہ  کے حق میں کی گئی دعائوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ باب ششم میں نبی کریم  کے رحمتہ اللعالمین ہونے کے دلائل اور اسباب انتہائی خوبصورتی سے بیان کیے گئے ہیں۔
جلد سوم خصائص النبی  کے لیے مخصوص ہے ۔جس میں رسول اللہ  کے معجزات اور خصا ئص کو قرآن کریم اور کتب سابقہ و احادیث رسول  سے بیان کیا ہے۔مختلف انبیاء کرام کے واقعات بیان کرکے اُس کی تاریخ و لادت نبی  سے بیان کرتے ہیں۔
سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں :

مرحوم نے رحمتہ للعالمین لکھی، رب العالمین نے اس دنیا میں اس کو قبول کے شرف سے ممتاز کیا۔امید ہے کہ اس کی رب العالمینی اور اس کے رسول کی رحمتہ للعالمینی دوسری دنیا میں بھی اُس کی چارہ نوازی کریگی۔” (مقدمہ ”رحمتہ اللعالمین” جلد سوم)

سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں :

 ”اگر چہ اُردو میں سیرت النبی کے موضوع پر بے شمار کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔تاہم اِن کتب میں سے چند ہی ایسی ہیں جن کے اندر واقعات کی صحت بیان کا لحاظ رکھا گیا ہے اور ان چند کتب میں قاضی صاحب کی ”رحمت للعالمین”سر فہرست ہے۔

مولانا حسن مثنیٰ ندوی لکھتے ہیں :

خدمت سیرت کے سلسلے میں دوسرا اہم نام مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری کا ہے۔قاضی صاحب ریاست پٹیالہ پنجاب کے جج تھے اور وسیع النظر عالم و محقق تھے۔ ان کی مشہور کتاب رحمتہ اللعالمین کی پہلی جلد ١٩١٢ء میں شائع ہوئی۔یہ کتاب سیرت رسول پر بحیثیت سیرت پہلی تفصیلی جامعیت کی کتاب تھی جو اردو زبان میں منظر عام پر آئی۔ یہ تحریک سیرت سے مقصود کے مطابق تھی اور قاضی صاحب کو اس مرکزسے خصوصی ربط تھا ۔حسن میاں نے تبصرہ و تنقید کے ساتھ قاضی صاحب کو لکھا کہ ”اس کتاب کے بعد مجھے یہ کام کرنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔” ( پیغمبر انسانیت  ازشاہ محمد جعفر پھلواروی میں مولاناحسن مثنیٰ ندوی کے مضمون ”پاکستان و ہندوستان کے خادمانِ سیرت)

مولانا حسن مثنی ندوی نے دس اہم خصوصیات ” رحمتہ العالمین ” کی بیان کی ہیں اور انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ”مصنف نے اس کے صفحات پر دماغ کے ساتھ دل کے ٹکڑے بھی رکھ دیے ہیں ۔ایک ایک لفظ سے عشق نبوی اور حب انسانیت نمایاں ہے۔” (ایضاً )
اصحاب بدر
اسلام اور کفر کے درمیان فیصلہ کن معرکہ جنگ بدر میں شریک ہونے والے مسلمانوں کے حالات زندگی پر مشتمل اس کتاب میں مسلمانوں کے سپہ سالار اعظم اور نبی الخاتم محمد کے مختصر حالات زندگی بیان ہوا ہے۔جنگ بدر کا تفصیلی اور ایمان افروز نقشہ کھنچا ہے۔ قدم بقدم نبی  کا دعائیں کرنا ، مسلمانوں کے ساتھ مشورے کرنا ،مختلف سردارانِ کفار کی موت کی پیشنگوئیاں کرنا، صحابہ کا جوشِ شہادت ، قیدیوں سے حسنِ سلوک غرض نبی کے قائم کردہ جنگی اصل وقواعد کا بہترین اظہار کیا ہے۔اہل بدر کا مقام اور مرتبہ کو احادیث سے بیان کیا ہے۔
قابل ذکر و تحسین کام یہ ہے کہ نبی کریم کی ولادت باسعادت کو دنیا کے مختلف اقوام میں رائج ١٢مختلف سنین کے مطابق درج کیا ہے۔ پھر حضور  کی ولادت سے وفات تک کے ایام کو ”دنوں”اور ”گھنٹوں” میں بیان کیا ہے۔لکھتے ہیں:

عالم دنیوی میں حضور  نے ولادت سے لیکر وفات تک٢٢٣٣٠ دِن٦گھنٹے قیام فرمایا۔یہ چھ گھنٹے اکتیسویں دن کے تھے۔ مذکورہ بالا ایّام میں سے ٨١٥٦ دن تبلیغِ رسالت و نبوت کے ہیں۔ ” (اصحابِ بدر۔ از مولانا سلیمان سلمان منصور پوری ص ٦٣۔٦٤۔ناشر: مکتبہ نذیریہ، لاہور)

نبی کا مختصر نسب نامہ بیان کرنے کے بعد ان تمام غزوات کے نام تحریر کیے جن میں آپ  نے شرکت فرمائی۔
Advertisements

مولانا عبد الحلیم شرر اور ان کی کتبِ سیرت


الواقعۃ شمارہ نمبر 2

محمد ساجد صدیقی 

 
مولانا عبدالحلیم شرر ١٨٦٠ء میں مشہورادبی شہر لکھنؤ کے محلہ جھنوائی ٹولہ میں پیدا ہوئے ۔آپ کا سلسلہ نسب عباسی خلیفہ امین الرشید سے جا ملتا ہے ۔یعنی آپ ہاشمی و عباسی ہیں ۔ [تراجم علمائے حدیث ہنداز ابو یحیٰ امام خان نوشہری : ٥٢٢]۔ مختصر شجرہ نسب یوں ہے۔عبدالحلیم شرر بن تفضل حسن (عبدالرحیم ) بن مولوی محمد بن مولوی نظام الدین۔

[عبدالحلیم شرر بہ حیثیت ناول نگار از ڈاکٹر علی احمد فاطمی بحوالہ دلگداز۔جنوری ١٩٣٣ء ص١١]۔
 
سات یا آٹھ برس کی عمر میں ان کے والد نے انہیں لکھنؤ(جہاں وہ اپنی والدہ کے پاس تھے۔) سے اپنے پاس بغرض تعلیم کلکتہ بلوالیا۔اس طرح انہیں انتہائی کم عمری میں ہی والدہ کی گوشئہ عافیت سے دور ہونا پڑا۔عبد الحلیم شرر مٹیابرج میں انتہائی تیزی اور ذہانت سے دینی علوم حاصل کرنے لگے۔وہیں ان کو شہزادوں کی صحبت میسر آئی۔جہاں سے کچھ خرافات کا اثر ان کے اخلاق میں پڑا مگر ان کی ادبی شوق و ذوق کی بھی تر بیت یہاں ہی ہوئی ۔خراب صحبت کی وجہ سے والد نے انہیں دوبارہ لکھنؤ بھیج دیا۔لکھنؤ میں انہوں نے مشہور عالم علّامہ ابو الحسنات عبدالحی حنفی لکھنوی سے بعض کتبِ درسیہ کی تحصیل کی ۔پھر ایک شیعہ عالم حامد حسین کے پاس بغرض علم ملازمت کی۔
 
عبدالحلیم شرر کی زندگی میں اصل انقلاب اُس وقت آیا جب مولوی نور محمد صاحب ملتانی تلمیذ مولانا عبدالحی سے شرح نخبہ پڑھی اور جامع ترمذی کے پڑھنے کے دوران ہی ان کے قلب میں علم حدیث کی محبت اتنی شدت سے بڑھی کہ آپ شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے حلقہ درس میں شامل ہونے کے لیے دہلی پہنچ گئے اپنے شوق و جستجو کی بدولت صرف ڈیڑھ سال میں صحاح ستہ، موطا امام مالک اور تفسیر جلالین پڑھ کر واپس اپنے وطن لکھنؤ پہنچے۔[تراجم علمائے حدیث ہند]
 
مولانا کی پہلی دینی اور ادبی خدمت شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی مایہ ناز کتاب ”کتا ب التوحید ”کا اُردو میں ترجمہ ہے۔ [ماہنامہ ”دلگداز” نومبر ١٩٣٣ء بحوالہ عبدالحلیم شرربحیثیت ناول نگارازڈاکٹر علی احمد فاطمی].
 
”کتاب التوحید”سے اپنی علمی اور تصنیفی زندگی سے ابتداء کرنا ان کے لیے بہت مبارک اور باعثِ برکت ثابت ہوا۔ دہلی ہی میں انہیں مضمون نگاری کا شوق ہوا۔اِس کے علاوہ انہوں نے شاعری بھی کی اور اپنا تخلص”شرر”رکھا۔ پھر وہ اودھ اخبار میں بحیثیت سب ایڈیٹر ملازم ہوگئے۔جہاں انہوں نے مختلف علمی ، دینی، ادبی اور فلسفیانہ مضامین لکھے۔ اس طرح اُن کے اسلوب تحریر اور ذوق ادب میں نکھار پیدا ہوا۔
 
مولانا کی شہرت کا اہم سبب ناول نگاری ہے۔اُ ن کے ناولوں نے بالخصوص تاریخی ناولوں نے اردو ادب کو ایک نئی جہت دی۔انہوں نے تاریخی واقعات خصوصاًاسلامی تاریخی واقعات کو ناولوں کے ذریعے اس عمدگی سے بیان کیا ہے کہ قاری محسوس کرتا ہے کہ وہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہاہے۔مولانا نے متعدد ناول اور مضامین کے علاوہ سوانح عمری ، کتبِ تاریخ ،ڈرامے اور منظومات بھی لکھیں ۔جن کی تعداد تقریباً١٠٠ ہیں۔اردو ادب کے اس بے نظیر ادیب نے ١٧جمادی الثانی بروز جمعہ بمطابق ١٠ جنوری ١٩٢٦ء میں اس دنیائے فانی کو خیر باد کہہ دیا۔انا للہ واناالیہ راجعون۔ [عبدالحلیم شرر بہ حیثیت ناول نگار از ڈاکٹر علی احمد فاطمی ص١٤٦ ، انجمن ترقی اردو پاکستان ،کراچی]
 
مولانا شرر نے اپنی پوری زندگی تاریخ و ادب اسلامی کے لیے وقف رکھی ۔ افسوس ہے کہ ایسے جلیل القدر ادیب کی ہماری علمی دنیا نے قدر نہیں کی ۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی لکھتے ہیں :
"آج بازار میں شرر صاحب کا نام ماند پڑگیا ہے ، کل ” حشر و الے کل ” سے قبل ہی انشاء اللہ اسی دنیا میں پھر ابھرے گا ، جس وقت مسلمان اپنے خادموں کی تاریخ مرتب کرنا شروع کریں گے ۔ ” [معاصرین : ١١٨]

عبدالحلیم شرر کی کتب سیرت کا ایک جائزہ

 
ہمیں عبدالحلیم شرر کی سیرت مبارکہ ۖ کے متعلق تین کتب کا علم ہوسکا ہے۔
 
(١)جو یائے حق
(٢)ختم المرسلین
(٣)ولادت سرور عالم 
 

جو یائے حق

جو یائے حق ایک تاریخی ناول ہے ۔جس کا بنیادی کردار حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ذات گرامی کو بنایاگیاہے۔اس ناول میں حضرت سلمان فارسی خطوط کے ذریعے (جو وہ ایک عیسائی عالم ”بحیرا”کو لکھتے ہیں)نبی کریم  ۖ کی پوری حیات مبارکہ ،عربوں کا طرز زندگی ،نبی کریم  ۖکا حسن سلوک، یہودیوں کی چالبازیاں ،صحابہ کا نبی کریم ۖسے والہانہ محبت ، جنگوں میں مسلمانوں کی بہادری و آرزوئے شہادت، فتح مکہ، نبی کریم ۖ کا وصال ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے حالات اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور ِخلافت کو بھی بیان کیا ہے۔
 
ناول ہونے کی وجہ سے” جویائے حق ”میں منظر نگاری اور تخیلاتی جھلک موجود ہے لیکن عبدالحلیم شرر نے تاریخی واقعات کو عمدگی سے تخیل چمن سے سجاکر انتہائی مہارت سے پیش کیا ہے اور تاریخی واقعات کو تخیلات میں ضم ہونے سے بچالیا ہے۔ڈاکٹر علی احمد فاطمی لکھتے ہیں:

”یہ ناول جو دراصل ناول نہیں ہے بلکہ ایک مکمل تاریخی کتاب ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ٹھوس تاریخیت زیادہ ہے اور قصہ پن کم اس کی وجہ اس موضوع کی نزاکت ہے۔تاریخی مقصد کو ناول کی شکل دینے کے لیے تخیل کی نیرنگیاں دکھانا لازمی ہے۔لیکن اس مقدس و محترم موضوع میں تخیل کی باگ ڈور کو پورے ہوش و ہواس کے ساتھ قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔اس وجہ سے یہ ناول کم ایک تاریخی کتاب زیادہ ہے۔سیدھی اور ٹھوس عالمانہ قدروں سے بھرپور ایک مذہبی کتاب۔”[عبدالحلیم شرر بہ حیثیت ناول نگار ص٢٩٧]

” جویائے حق ” کے متعلق مولانا حسن مثنیٰ ندوی لکھتے ہیں:

”ہم مولانا عبدالحلیم شرر کی ضخیم کتاب ”جویائے حق”کو نظر انداز نہیں کرسکتے جو اپنے طرز کی نرالی کتاب ہے ۔ اس میں انہوں نے حضرت سلمان فارسی کی زندگی اس انداز میں پیش کی ہے کہ ان کی زبان سے سیرت نبوی نہایت ہی موثر انداز میں بطرز ناول بیان ہوجاتی ہے اور پڑھنے والا اسے ختم کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔”[برصغیر کے خادمین سیرت مشمولہ مضمون کتاب ” پیغمبر انسانیت ” از مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی]

ولادت سرور عالم ۖ 

یہ رسالہ امام ابن جوزی کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ [تراجم علمائے حدیث ہند از ابو یحیٰ امام خان نوشہروی : ١/ ٥٤١]
 

خاتم المرسلینۖ

 ابو یحییٰ امام خان نوشہری نے مولانا عبدالحلیم شرر کی تاریخی کتب میں اسے شامل کیا ہے۔ تفصیلات کا علم نہیں ہوسکا۔[تراجم علمائے حدیث ہند:٥٤١]
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔