تبصرہ کتب


الواقعۃ شمارہ: 113 – 118، شوال المکرم 1442ھ تا ربیع الاول 1442ھ

مبصر : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

فتاویٰ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ
کا اردو ترجمہ

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تاریخ اسلام کی ان غیر معمولی شخصیات میں سے ایک اور نمایاں ترین مقام رکھتے ہیں جن کی ذات پر علم و عمل کو ناز ہے اور جو محض تاریخی نہیں بلکہ تاریخ ساز شخصیت تھے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

امت مسلمہ کا المیہ اور اس کا حل


الواقعۃ شمارہ: 113 – 118، شوال المکرم 1442ھ تا ربیع الاول 1442ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

مملکت عزیز کے تمام مذہبی حلقوں کو چند امور کا بخوبی ادراک کر لینا چاہیے:-۔

۔1 تمام اسلامی ممالک کی حکومتوں کا رویہ لبرل اور سیکولر جماعتوں کے ساتھ کچھ اور ہوگا اور خالص مذہبی جماعتوں کے ساتھ کچھ اور۔ رویے کا یہ فرق ماضی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، حال میں بھی اور مستقبل میں یہ فرق اپنی شدت کے ساتھ مزید نمایاں ہوگا۔

۔2 تمام مذہبی اسلامی جماعتیں تنہا پرواز کی بجائے اتحاد کی راہ اپنائیں۔ ان کا اتحاد لا دین قوتوں کو کمزور کرے گا اور ان کا انتشار امت محمدیہ علیٰ صاحبھا السلام کے ضعف کا سبب بنے گا۔ اس لیے اللہ اور رسول ﷺ کے نام لیوا، اللہ اور رسول ﷺ کی خاطر ہی متحد ہو جائیں۔

۔3 بنگلہ دیش ہو یا مصر یا پاکستان جب جب مذہبی طبقے نے اپنی اپنی حکومتوں سے محاذ آرائی کی راہ اختیار کی تو انھیں سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ کیوں کہ یہ سخت رد عمل عالمی طاقتوں کے اشارے اور ان کی خوشنودی پر کیا گیا اسی لیے عالمی حقوق انسانی سے وابستہ تنظیموں کا ضمیر کبھی بیدار نہیں ہوا۔

گو کہ امت مسلمہ اپنی مشکلات کے بد ترین دور سے گزر رہی ہے۔ اور ان حالات میں عمل سے زیادہ ماضی میں کی گئی غلطیوں کے نتائج بھگتنے کے دور سے گزر رہی ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ جلد از جلد اسلامی جماعتیں، علمی و فکری اشخاص اس حقیقت کا ادراک کر لیں:-۔

۔1 اس وقت تقریباً ہر مسلک میں متشدد مزاج گروہ کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جو ”پیالی میں طوفان اٹھانے “ کی صلاحیت سے معمور ہیں اور معمولی معمولی مسائل پر امت محمد ﷺ میں افتراق کے بیج بوتے ہیں۔ ضروری ہے کہ قیادت کی قوت اس محور سے تبدیل کر کے متعدل مزاج افراد کو دی جائے۔ اس طرح سیاسی و سماجی سطح پر ”عمل “ اور ”رد عمل “ دونوں کی نوعیت بدل جائے گی۔

۔2 تمام اسلامی جماعتیں جو اللہ، رسول ﷺ، قرآن اور صحابہ رضی اللہ عنھم پر ہم عقیدہ ہیں۔ آپس میں اتحاد کی فضا بنا کر رکھیں۔ لا دینی قوتوں کے خلاف مل کر کام کریں۔ تنہا پرواز کی بجائے ہمیشہ مشترکہ راہ عمل کو اختیار کریں۔ اس طرح انھیں خس و خاشاک کی طرح بہانا اور آسانی سے دبانا ممکن نہ ہوگا۔

۔3 تمام اسلامی جماعتیں ہر سطح پر مشترکہ پلیٹ فارم کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس طرح ایک مثبت معاشرتی تبدیلی رونما ہوگی۔

۔4 کسی بھی طبقے کے لیے کثرت کا زعم انتہائی خطرناک اور محض فریب ہے۔ لا دین طبقات ایسے ہی فریب سے مسلمانوں کے مختلف طبقات کو بے وقوف بناتے آئے ہیں اس لیے وقت آ چکا ہے کہ ہر قسم کے فریب سے باہر نکلا جائے۔

آخر میں عرض ہے کہ اس وقت ”جدید ریاستِ مدینہ “ میں جو قیامت برپا ہے اس کا جواب تمام دینی حلقے ایک ہو کر پورے شعور و اذعان کے ساتھ دیں۔ پوری قوت کے ساتھ لیکن مکمل فہم رکھتے ہوئے تمام لا دینی قوتوں کو بتا دیں کہ اسلام پسندوں کو کسی بھی طرح دیوار سے لگایا نہیں جا سکتا۔ دین کی بنیادی و اعتقادی اساسیات سے انحراف کسی صورت گوارا نہیں کیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کے نام کی عزت و حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور اس ذات عالی قدر کے ناموس کے لیے ہر قربانی بخوشی دی جا سکتی ہے۔ تمام دینی حلقے یک زبان ہو کر مطالبہ کریں کہ توہینِ رسالت کے مرتکب و ملوث ہر ملک سے ہر طرح کے تعلقات کا انقطاع اب رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کا مسئلہ بن چکا ہے۔ قوم ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ یورپ ہو یا عالمی طاقتیں وہ سطح ارضی کے فرعون تو ہو سکتے ہیں لیکن کائنات کے پالنہار نہیں۔ ہمارا رازق و مالک کل بھی اللہ تھا اور آج بھی وہی ایک اللہ ہے اور آئندہ بھی صرف اسی ایک اللہ پر ہمارا توکل استوار ہے۔ لہٰذا اسباب معیشت کی تنگی کا ڈراوا، حرمت رسالت ﷺ کی قیمت پر کسی طرح قبول نہیں۔

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا، ایماں ہو نہیں سکتا

قارئینِ ”الواقعۃ “ سے اعتذار

۔”الواقعۃ “ جب سے معرض اشاعت میں آیا ہے الحمدللہ اس کا سفر بلا تعطل جا ری رہا ہے۔ حالات کی نا مساعدت کی وجہ سے ہر ماہ طبع نہ ہو سکا تو دو ماہ پر شائع ہوتا رہا۔ خصوصی اشاعتوں کی وجہ سے اگر دو سے زائد ماہ شمارے کی طباعت ممکن نہ ہو سکی تب بھی جب شمارہ خاص منظر شہود پر آیا تو اس نے اس تاخیر کا بخوبی ازالہ کر دیا۔

تاہم موجودہ شمارہ چھے ماہ کا مشترکہ شمارہ ہے جو شمارہ خاص بھی نہیں۔ یقیناً اس طویل غیر حاضری کے لیے ہم قارئینِ ”الواقعۃ “ سے صمیم قلب سے معذرت خواہ ہیں۔ 15 جولائی کو راقم کی والدہ مکرمہ بقضائے الٰہی وفات پا گئیں۔ ان کا صدمہ جدائی میری ذاتی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ ثابت ہوا۔ اس غم سے ابھرنے میں مجھے کافی وقت لگ گیا۔

جانے والے نے ہمیشہ کی جدائی دے کر
دل کو آنکھوں میں دھڑکنے کے لیے چھوڑ دیا

اس کے بعد میرے کئی احباب سفر آخرت پر روانہ ہو گئے۔ ”الواقعۃ “ کی مجلس ادارت کے رکن جناب ابو الحسن بھی راہی ملک عدم ہوئے۔ الواقعۃ کے موجودہ شمارے میں کثرت سے تعزیتی مضامین اسی غم کے اظہار کی ایک شکل ہیں۔ اس بنا پر اگر موجودہ شمارے کو الرسالۃ الحزنیۃ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ رسالہ تیاری کے آخری مرحلے میں تھا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ طباعت کے لیے مزید تاخیر ممکن نہ تھی ان شاء اللہ ڈاکٹر صاحب کی حیات و خدمات پر اگلے شمارے میں مضمون شامل اشاعت ہوگا۔


The construction of the Al-Quds,The destruction of Yathrib By Muhammad Tanzeel as Siddiqi al Husaini


See the following:

  • Please like, share and subscribe to get new videos on time. Follow Dar ul Ahsan Media on social media:

فرانس، زنیموں کا معاشرہ اور توہینِ رسالت


الواقعۃ شمارہ: 104 – 106، محرم الحرام تا ربیع الاول 1442ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ایک رپورٹ کے مطابق فرانس کی 60 فیصد آبادی مجہول النسب افراد پر مشتمل ہے اور ولد الزنا افراد پر مشتمل آبادی میں فرانس دنیا بھر میں اول نمبر پر ہے۔ قرآنی اصطلاح میں ایسے افراد "زنیم” کہلاتے ہیں۔ فرانس میں تو "زنیموں” کا معاشرہ ہی تشکیل پا چکا ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

آرمینیہ کی جنگ سے متعلق کتب حدیث میں کیا ہے ؟


الواقعۃ شمارہ: 104 – 106، محرم الحرام تا ربیع الاول 1442ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

روایت:۔

عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ قال: "اذا خیرتم بین الأرضین فلا تختاروا أرمینیۃ فان فیھا قطعۃ من عذاب اللہ تعالیٰ۔”۔

تخریج:۔

۔”المستدرک علی الصحیحین” (کتاب الفتن والملاحم رقم : 8427، بتحقیق: مصطفیٰ عبد القادر عطا، طبع: دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)۔

ترجمہ:۔

۔”جب تم دو زمینوں کے مابین انتخاب کرو تو آرمینیہ کو پڑھنا جاری رکھیں

تبصرہ کتب: نوائے ضمیرؔ


الواقعۃ شمارہ: 101 – 103، شوال المکرم تا ذی الحجہ 1441ھ

نوائے ضمیرؔ

مجموعہ کلام حکیم محمود احمد ضمیرؔ برکاتی
مرتب: ڈاکٹر سہیل برکاتی
سن طباعت: 2019ء، صفحات: 122
ناشر: برکات اکیڈمی، سی 19، بلاک اے – 3، گلستانِ جوہر کراچی
رابطہ نمبر: 03323456259

حکیم محمود احمد برکاتی عالم، حکیم، فلسفی، طبیب اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ قدیم و جدید پر ان کی یکساں نظر تھی۔ علوم عقلیہ کی ایک مخصوص علمی و فکری دبستان کے نمائندہ عالم تھے۔ لیکن بہت کم لوگ ہوں گے جو یہ جانتے ہوں کہ حکیم صاحب با قاعدہ شاعر بھی تھے۔ ان کی شاعری ان کے افکار و خیالات کی طرح پاکیزہ اور با مقصد تھی۔ ان کا یہ مجموعہ کلام "نوائے ضمیرؔ” ان کی وفات کے چھے برس بعد پہلی مرتبہ منصہ شہود پر آیا ہے۔ حکیم صاحب کا کلام منتشر و متفرق تھا اس کے مرتب ان کے صاحب زادے ڈاکٹر سہیل برکاتی ہیں۔ جنھوں نے بڑی محبت کے ساتھ اپنے والد کے کلام کو یکجا کیا اور عمدہ انداز میں اس کی طباعت کی۔

کتاب کے آغاز میں حکیم صاحب کا مختصر سوانحی خاکہ تحریر کرنا چاہیے تھا جس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

حکیم محمود احمد برکاتی 21 اکتوبر 1924ء کو ریاست ٹونک (راجستھان، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ٹونک میں مدرسۂ خلیلیہ نظامیہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسۂ معینیہ عثمانیہ (اجمیر) میں درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ اُن کے اساتذہ میں مولانا معین الدین اجمیری، مولانا محمد شریف اعظم گڑھی، مولانا عبد الرحمن چشتی وغیرہم شامل ہیں۔ اس کے بعد الٰہ آباد سے فاضلِ ادب اور طبیہ کالج (دہلی) سے فاضل الطب والجراحت کی اسناد حاصل کیں۔

عملی زندگی کا آغاز ٹونک میں اپنے مطب سے کیا۔ 1954ء میں کراچی تشریف لے آئے اور اس کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ کراچی میں اپنا مطب برکاتی دواخانہ قائم کیا اور طب اور علم و ادب کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ طب کے میدان میں اُن کی غیر معمولی تحقیقی خدمات کے اعتراف میں ہمدرد یونی ورسٹی (کراچی) نے اُنھیں 1997ء میں ’’سندِ امتیازِ طب‘‘ اور 2001ء میں ’’ڈاکٹر آف سائنس‘‘ کی اعزازی سند عطا کی۔ تاریخ، سوانح اور طب ان کے پسندیدہ موضوعات تھے جن پر حکیم صاحب نے دو درجن سے زائد کتابیں لکھیں۔ 9 جنوری 2013ء کو فیڈرل بی ایریا کراچی میں  واقع ان کے مطب میں دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے انھیں شہید کر دیا۔ اللہ رب العزت ان کے درجات بلند کرے۔

۔”نوائے ضمیرؔ” مختصر سا مجموعہ کلام ہے۔ تاہم اس میں افکار کی مختلف جہتیں اور شاعری کے کئی اسالیب نظر آتے ہیں۔ کہیں تشبیہ و استعارات ہیں تو کہیں  واشگاف طور پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور کہیں گزشتہ شاعروں کے زمین کی پیروی اپنے اسلوب میں کرنے کی کوشش کی ہے۔

۔”حرم نامہ” کے زیرِ عنوان لکھتے ہیں:-۔

اک خطا کار و سیہ کار ہو مہمانِ حرم
اللہ اللہ رے ! یہ وسعتِ دامانِ حرم
لرزشِ دل کے سوا، اشکِ مسلسل کے سوا
کوئی ہدیہ نظر آتا نہیں شایانِ حرم

۔13 اگست 1996ء کو عمرہ کی سعادت کے موقع پر جو نظم انھوں نے لکھی اس میں امت کی پریشانیوں کا نوحہ بھی ہے اور عجز کا اعتراف بھی۔ اس کی ابتدا اس طرح کرتے ہیں:-۔

محمود خطا کار ہے اے رب محمد ﷺ
اب حاضر دربار ہے اے رب محمد ﷺ

اور اختتام اس طرح:-۔

چاہے تو ہمیں پھر سے مسلمان بنا دے
تو قادر و مختار ہے اے رب محمد ﷺ

۔نشید توحید” کے زیر عنوان ایک موحدانہ نظم کے اشعار ملاحظہ کیجیے:-۔

صنم کدے میں ترے جذبہ پرستش کو
نہ مل سکے گا سکوں، لا الہ الا اللہ
جیوں تو صرف خدا کے لیے ہو زیست مری
مروں تو کہہ کے مروں، لا الہ الا اللہ
ضمیرؔ بر سرِ اوراق عالم اسباب
نوشتہ ایم زخوں، لا الہ الا اللہ

موسم حج کے موقع پر جب شاعر زیارت سے محروم تھے تو بے اختیارانہ کہہ اٹھتے ہیں:-۔

موسم گل آ گیا زنداں میں بیٹھے کیا کریں
خون کے چھینٹوں سے کچھ پھولوں کے خاکے ہی سہی

حکیم صاحب ماہر منطق و فلسفہ بھی تھے، اُس کے اثرات بھی ان کی شاعری میں کہیں کہیں نمایاں ہیں۔ کلام ضمیرؔ میں عام قاری کے لیے عموماً یہ مقام قدرے مشکل ہے۔ ایک آسان سا فلسفیانہ شعر ملاحظہ ہو:-۔

اعتراف عدم علم، بایں لا علمی
دعویٰ علم عدم کے لیے ہے اک تقریب

کلام ضمیرؔ کے چند متفرق اشعار ملاحظہ فرمایئے:-۔

دل دیا، جاں سونپ دی اور نذر ایماں کر دیا
میں نے جو کچھ پاس تھا وہ نذرِ جاناں کر دیا
اللہ اللہ آپ کے رنگیں تصور کی بہار
قلبِ ویراں کو مرے، رشکِ گلستاں کر دیا
غم انسان کی فطرت میں داخل ہے شاید
خوشی میں بھی رونے کو جی چاہتا ہے
انکشافِ حادثات شام ہجراں کیا کریں
ہم پریشان ہیں تو ہوں ان کو پریشاں کیا کریں
دل بھی ان کا، دیں بھی ان کا، جاں بھی ان کی، اے ضمیرؔ
سوچنا یہ ہے کہ آخر ان پہ قرباں کیا کریں
اے قصر نشینِ روح و جاں اٹھ دل سے نکل کر باہر آ!
وہ قرب مجھے مطلوب نہیں، کر دے جو نظر سے پوشیدہ
جو وسوسے کہ دل میں اٹھائے ہوئے تھے سر
ساغر اٹھا لیا تو وہ موہوم ہو گئے
حاصل در نبی کی زیارت سے کیا ہوا
آیا جو انقلاب نہ اپنے مذاق میں
کافر کو اپنی جاں بھی نہیں اس قدر عزیز
مومن کو جس قدر کہ شہادت عزیز ہے

حکیم صاحب کے کلام کا یہ انتہائی مختصر سا مجموعہ ہے۔ بیشتر کلام یا تو ضایع ہو چکا ہے یا پھر ہنوزِ منتظر طباعت ہے۔

جو لوگ با مقصد شاعری پڑھنا پسند کرتے ہیں ان کے لیے نوائے ضمیرؔ ایک لائقِ مطالعہ مجموعہ ہے۔ اسی طرح جو لوگ شعر و ادب کی تاریخ قلمبند کرتے یا اس سے دل چسپی رکھتے ہیں انھیں چاہیے کو کلامِ ضمیرؔ کو بھی اس کا جائز ادبی مقام دیں۔

مبصر: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

مقامِ عبرت یا موجبِ بصیرت


الواقعۃ شمارہ: 101 – 103، شوال المکرم تا ذی الحجہ 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

حوادثِ مسلسل میں ہجومِ افکار کی بھی اپنی ہی ایک دنیا ہے۔ کبھی ناکامی کے اندیشے ڈراتے ہیں تو کبھی کوئی امید زندگی بن جاتی ہے۔ جس طرح فرد کی زندگی احساس و جذبات کی ایک مکمل دنیا ہے اسی طرح قوموں کی زندگی میں حوادث بھی آتے ہیں اور افکار بھی۔ اندیشے بھی ڈراتے ہیں اور امیدیں بھی پروان چڑھتی ہیں۔

جس طرح ایک انسان کی زندگی میں جہد للبقاء کی ایک ایسی منزل آتی ہے کہ جہاں ناموسِ ملی پر سمجھوتے کے ساتھ جینا یا غیرت ایمانی کے ساتھ مر جانے کی راہ کا انتخاب نا گزیر ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح قوموں کی زندگی میں بھی یہ مرحلہ آتا ہے۔ جب وقت کا منصف بتاتا ہے کہ تمہاری فتوحات کا موسم چلا گیا، اب یا تو مٹ جاؤ یا پھر غیرت ملی کو بچا لو۔ اور ایک تیسری راہ بھی ہے جو کم ہمتوں اور مصلحت کیشوں کی ہمیشہ اوّلین ترجیح رہی ہے، کہ کسی بھی طرح جی لو، خواہ ایمان کا سودا کرنا پڑے یا غیرت ملی کو قربان کرنا پڑے۔

یہاں کم ظرفوں اور کم ہمتوں کے راہِ انتخاب پر مکالمہ مقصود نہیں۔ یہ دنیا کم ہمتوں کو ٹھوکروں پر رکھتی ہے۔ یہ لوگ جی کر بھی مر چکے ہیں، اور ان کے متعفن جسم کی بو آج بھی تاریخ کے صفحات میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان کے نفاق نے انھیں ہمیشہ غیرتِ ایمانی کی موت میں جسمِ ظاہر کی زندگی دکھائی ہے اور انھوں نے ہمیشہ منافقت کو مصلحت اور بزدلی کو حکمت کے لباسِ فریب سے سنوارا ہے۔

اصل زندگی ان ہی کی ہے جنھوں نے بطلان و عصیان کے مقابلے میں حق پرستی کی راہ منتخب کی۔ وقت کے فرعونوں کا للکارا اور نماردہ عالم کو آنکھیں دکھائیں۔ اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کیا اور اس کی صداقت کی راہ میں اپنی جانیں لڑا دیں اور اس یقین کے ساتھ کہ جو کوئی اللہ، اس کے رسول اور اہلِ ایمان کے ساتھ ہو وہی ہمیشہ غالب ہوگا۔ وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٗ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّـٰهِ هُـمُ الْغَالِبُوْنَ (المائدۃ: 56)۔

دنیائے فانی کی آزمائشیں ہر دور اور زمانے میں آئی ہیں اور آتی رہیں گی۔ مگر ایک صاحبِ ایمان کی غیر فانی صداقت کی راہ اس سے کہیں بلند ہے کہ وہ آزمائشوں سے گھبرا کر اپنے مقصد سے منحرف ہو جائے۔ اس کا یقین اسے بتاتا ہے کہ جو کوئی بھی راہِ الٰہ سے منحرف ہوگا مٹ جائے گا، اس کے اعمال ضائع ہوں گے اور زندگی اکارت جائے گی۔ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَـاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۚ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (البقرۃ: 217)۔

دنیا بدل رہی ہے، بالخصوص اسلامی دنیا۔ سطح ارضی پر کھینچی گئی لکیروں میں تبدیلی کا وقت تیزی سے آ رہا ہے۔ چشم بصیرت وَا ہو تو اسلامی دنیا کے نقشے سے ٹپکتا ہوا لہو بھی نظر آ سکتا ہے اور سسکتی ہوئی زندگی کی پکار بھی سنائی دے سکتی ہے۔

تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے، لیکن اس کا فیصلہ کبھی نہیں بدلتا۔ بنی نوع انسان کی تاریخ کا فیصلہ کن باب کھل چکا ہے۔ ملتِ اسلامیہ کے سمندر میں تلاطم بپا ہے۔ موت کے خوف میں زندگی کی خواہش اور ظلم کے سایے میں عدل کی امید دم توڑ رہی ہے۔ اسلام کی تاریخ میں اگر خالد کی تلوار، ایوبی کی یلغار اور ابن زیاد کی للکار ہے تو وہیں سقوطِ بغداد، دہلی ، ڈھاکہ و قدس کی خونیں داستانیں بھی ہیں۔

وقت کا پہیہ ایک بار پھر امت مسلمہ کو اسی مقام پر لے آیا ہے جہاں ہمیں یا تو تلوار، یلغار اور للکار کی راہ کا انتخاب کرنا ہے یا پھر سقوط و زوال کی ذلت برداشت کرنی ہے۔ اب صرف اسلاف کی عظمتوں کی داستانیں سنا کر کام نہیں چل سکتا۔ یہ وقت اپنی روایات اور نسب کو گلے لگا کر سحر انگیز فسانوں کو تیار کرنے کا وقت نہیں ہے کہ ہم ماضی کے اسیر بن کر مستقبل میں قدم نہیں رکھ سکتے۔

بکہ کی وادیوں میں فاران کی چوٹیوں سے صدائے توحید بلند ہو رہی ہے اور یثرب کے غیر فانی بادشاہ کی فوجیں آراستہ ہو رہی ہیں۔ ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے کہ قوموں کی تاریخ میں یہ مقامات حکمتِ الٰہی کا ایک دروازہ ہے، جو کھلتا ہے اس لیے کہ بہروں کو سنا سکے اور اندھوں کو دکھا سکے۔ جو کسی کے لیے مقامِ عبرت بنتا ہے اور کسی کے لیے موجب بصیرت۔

Where will the Antichrist come from? By Mohammad Tanzeel as Siddiqi al Husaini


The most frequently asked question about the antichrist is where will the antichrist come from?

It is stated in the hadith that the antichrist will come out of Khurasan and what kind of people will follow him? People will follow him whose faces will be like layers of shields.

This video is prepared from an article in Al-Waqia Magazine Karachi’s special fitna Dajjal edition.
https://alwaqiamagzine.wordpress.com/

 

To know more about Antichrist and to understand his system and its demons, see the following:

https://www.youtube.com/playlist…

Please ♥️like and 📣share the video
and don’t forget to subscribe for new videos on time.

Follow Dar ul Ahsan Media on social media:
👉https://www.facebook.com/DarulAhsanMe
👉messenger: https://m.me/DarulAhsanMedia

🌐Website: https://www.darulahsan.com/

 

کرونا وائرس، لاک ڈاؤن اور نور و ظلمت کی دنیا – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 98 – 100، رجب المرجب تا رمضان المبارک 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زندگی فریبِ نفس و نظر کے سوا کچھ بھی نہیں۔ قریب ہے کہ "متاع الغرور” کی حقیقت آشکارِ عالم ہو جائے۔ کتنی ہی امیدیں ہیں جو دم توڑ رہی ہیں اور کتنے ہی خواب ہیں جو بکھر چکے ہیں۔ دل آرزوؤں کے مدفن بن رہے ہیں اور حسرت نا تمام کے داغ انسانی زندگی کا فسانہ بیان کر رہے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

Respect the legacy of Prophet Muhammad (P.B.U.H): By Mohammad Tanzeel as Siddiqi al Husaini


👉#Religion should not be used as #entertainment. But Today, unfortunately, many people are #violating the #legacy of the #Prophet #Muhammad (PBUH).
👉For Allah’s sake! Correct yourself and do not desecrate the legacy of the Prophet Muhammad (PBUH).
May Allah Almighty help us all to accept the #truth and follow it. Aameen.

وَذَرِ الَّـذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَـهُـمْ لَعِبًا وَّلَـهْوًا وَّغَـرَّتْـهُـمُ الْحَيَاةُ الـدُّنْيَا ۚ (الانعام : ۷۰)
“And leave those who have made their religion a sport and a pastime, and the worldly life has deceived them.”

 

Please ♥️like, 📣share and subscribe to get new videos on time. Follow Dar ul Ahsan Media on social media:

دجال مادہ پرستوں کا خدا (ویڈیو)۔


تحقیق: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

دجال کے ساتھ پانی اور آگ (ویڈیو)۔


تحقیق: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

(The Antichrist, Dajjal) دجال انسانی تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اور گزشتہ تمام انبیاء نے دجال سے اپنی امتوں کو ڈرایا ہے۔ دجال کا ظہور آخری زمانے میں ہوگا۔ اس کے ظاہر ہونے سے پہلے دجالی نظام کو دنیا پہ رائج کیا جائے گا۔ (مزید تفصیلات کے لئے) یہ ساری علامتیں اور نشانیاں صحیح احادیث میں موجود ہیں۔ اس وڈیو میں احادیث کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ دجال کے ساتھ پانی اور آگ کا ہونا کیسا ہوگا اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ دجال کو جاننے اور اس کے نظام اور اس کے فتنوں کو سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل

نئی وڈیوز بر وقت حاصل کرنے کے لئے برائے مہربانی سبسکرائب کریں۔

دجال کے ساتھ پانی اور آگ (ویڈیو)۔


تحقیق: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی