Technology in the service of Dajjal (In Urdu) – By Abu Ammar Saleem


It is, of course, difficult to say whether all the advances in modern science have been made at the behest of Satan and the Antichrist (Dajjal or False Messiah) and that modern technology is paving the way for the Antichrist.

But the many important inventions of modern technology are, of course, the ones that are paving the way for the arrival of the antichrist (Dajjal ki aamad), and these developments are a reflection of the extraordinary powers of him. The background to this is that Satan and the satanic powers want the Dajjalic system to be established before the arrival of the Dajjal the Antichrist. They control the whole world. So that as soon as the Antichrist Dajjal appears, he will become the ruler of the world, not only enslaving humanity, but also claiming to be God and having all humanity worship him. In today’s age of technology, new inventions are coming to us day-by-day. If we take a closer look and look at the scientific advances, all these amazing things seem to be true.

Let’s take a brief look at whether the forces of the Antichrist that we have been told about have really been achieved.

To know the Antichrist and to understand his system and its demons, see the following:

Please like, share and subscribe to get new videos on time. Follow Dar ul Ahsan Media on social media:

شام کی جنگ میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال


شوال 1434ھ/ اگست 2013، شمارہ  17شام کی جنگ میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ابو محمد معتصم باللہ

کو پڑھنا جاری رکھیں

کیا قیامت کی اہم نشانیاں ظاہر ہونے والی ہیں؟


مجلہ "الواقعۃ” شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

کیا قیامت کی اہم نشانیاں ظاہر ہونے والی ہیں ؟

محمد جاوید اقبال 

 

کو پڑھنا جاری رکھیں

یوم الواقعہ۔ 21 دسمبر 2012ء کے بعد– ایک جائزہ


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 11، ربیع الثانی 1433ھ/ فروری، مارچ 2013

از قلم: ابو عمار محمد سلیم link

9 Yaum ul Waqia pdf

21 دسمبر 2012ء کا دن آیا اور گزر گیا۔ اس دن کے حوالے سے دنیا کے خاتمے کا جو شور اور ہنگامہ تھا وہ دن گزرنے کے بعد دم توڑ گیا۔ الحمد للہ کہ عالم اسلام میں اس دن کے حوالے سے کوئی خلفشار پیدا نہیں ہوا۔ دنیا کے بیشتر سنجیدہ طبقوں نے بھی اس دن کو کائنات یا نظام شمسی کے خاتمے کے دن کے طور پرجان کر کسی منفی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ کچھ علاقہ کے لوگوں نے البتہ مختلف النوع حرکات کا مظاہرہ کیا۔ جو لوگ اپنے گرد و پیش پر نظر رکھتے ہیں اور وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو گہری نظر سے دیکھتے ہیں اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ نقصانات کے ازالے کا بندوبست کرتے ہیں انہوں نے نظام کائنات میں تبدیلیوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی زمینی تباہیوں کے پیش نظر اپنے آپ کو تیار کیا اور اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے زمین دوز پناہ گاہیں بھی تیار کیں اور کھانے پینے کی ڈھیروں چیزوں کا انبار بھی اکٹھا کر لیا۔مگر وہ لوگ جو ایمانی تذبذب کا شکار تھے انہوں نے دنیا کے خاتمے کی ان افواہوں پر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ صبح سے شام تک رونے دھونے کا عمل جاری رکھا ۔ کئی دن قبل سے شہروں کو چھوڑ کر ویرانوں میں جا بیٹھے اور بعض لوگوں نے تو قیامت کی اذیت سے اپنے آپ کو بچانے کی خاطر خودکشی تک کر لی ۔ اس پورے ڈرامے کے دوران ایک چالاک طبقہ وہ بھی تھا جس نے اس موقع کا خوب فائدہ اٹھایا اور دونوں ہاتھوں سے خوب کاروبار کیا اور بڑی دولت سمیٹی۔
  کو پڑھنا جاری رکھیں