بغیاً بینھم – تفسیر اور تاریخ کی روشنی میں


 

 

 

 

 

05 Baghyam Bainahum Title کو پڑھنا جاری رکھیں

علوم و معارف قرآن


شمارہ 34 اور 35، جنوری / فروری 2015

ربیع الاول و ربیع الثانی  1436ھ

03 uloom e quran Title کو پڑھنا جاری رکھیں

تکبر اور اس کے نتائج قرآن کریم کی روشنی میں


محرم و صفر 1436ھ نومبر، دسمبر 2014ء شمارہ 32 اور 33

قرآنیات

تکبر اور اس کے نتائج قرآن کریم کی روشنی میں

اختر احسن اصلاحی

04 istikbaar Title کو پڑھنا جاری رکھیں

امن عالم اور قرآن کریم


ربیع الاول و ربیع الثانی 1435ھ جنوری، فروری 2014، شمارہ 22 اور 23

am
کو پڑھنا جاری رکھیں

تعارف ترجمہ قرآن مجید بزبان سرائیکی


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16
تعارف ترجمہ قرآن مجید بزبان سرائیکی

مولانا عبد التواب محدث ملتانی کے ترجمہ قرآن مجید کاایک تعارف

Introduction to translation of Holy Quraan in Saraiki language by Abd-ul-Tawab Multani

مولانا محمد یٰسین شاد

اردو زبان باہمی رابطہ و بین الصوبائی قومی زبان ہے ۔ علاقائی زبانوں کی افادیت و ضرورت سے کوئی صاحبِ بصیرت انکار نہیں کرسکتا۔ ماضیِ قریب میں متحدہ پنجاب کے نامور مصلح حافظ محمد بن بارک اللہ لکھوی رحمة اللہ علیہ کی تفسیر محمدی منظوم پنجابی زبان میں سات جلدوں میں شائع شدہ ہے ۔ ان کی دیگر تصانیف منظوم پنجابی کی وجہ سے لاکھوں خاندانوں نے دعوت قرآن و حدیث کو قبول بھی کیا اور عملی زندگی میں اپنایا بھی کچھ عرصہ قبل پرانی تفسیر محمدی کو دوبارہ قدیم فوٹو کاپی کراکر شائع کیا تاہم اس کا معیارِ طباعت بہتر نہیں ہے ۔ اسی طرح سندھی زبان میں سیّد بدیع الدین شاہ راشدی رحمة اللہ علیہ کی بدیع التفاسیر شائع ہوئی ہے جوکہ اب اردو زبان میں ترجمہ ہوکر جامعہ بحر العلوم سلفیہ میر پور خاص سندھ سے ان شاء اللہ جلد شائع ہوگی ۔ و بید اللہ التوفیق کو پڑھنا جاری رکھیں

اسرار ایَّاکَ نَعْبُدُ وَ ِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16

 اسرار  ایَّاکَ نَعْبُدُ وَ ِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ

امام حافظ ابن قیم الجوزیة رحمہ اللہ

ترجمہ : مولانا عبد الغفار حسن رحمہ اللہ

خلق و ا مر ، کتب و قوانین ، ثواب و عتاب کا سر چشمہ دو کلمے ہیں (ایاک نعبد و ایاک نستعین ) انہی پر عبودیت  (بندگی) اور تو حید کا دار و مدار ہے ۔ اسی بنا پر کسی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں اتاری ہیں ۔ جن کا خلاصہ تورات، انجیل اور قرآن میں ہے اوران تینوں کے معنیٰ قرآن میں یکجا جمع ہیں اور پھر پورے قرآن کا مضمون مفصل (حجرات تا والناس) موجود ہے ۔ان تمام کے معانی سورہ فاتحہ میں ہیں اور سورہ فاتحہ کالب لباب (ایاک نعبد و ایاک نستعین ) میں آ گیا ہے ۔ یہ دو نوں کلمے رب اور بندے کے در میان منقسم (بٹے ہو ئے ) ہیں ( ایاک نعبد ) رب کے
لیے ہے اور ( ایاک نستعین ) بندے کے لیے ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

طلبِ استعانت کا قرآنی تصور


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/ مئی، جون 2013

طلبِ استعانت کا قرآنی تصور

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

استعانت کیا ہے ؟

“استعانت” عربی زبان کا لفظ ہے ، “ عون “ سے ماخوذ ہے ، جس کے معنی ہیں : مدد و اعانت ۔ تاہم استعانت و معاونت میں فرق ہے ۔ استعانت کے معنی ہیں :

“اپنی پیش آمدہ مصائب و بلا پر کامل یقین کے ساتھ کسی سے مدد چاہنا ۔ “

آخرت کی بھلائی چاہنا یا وہ امور جو حس و ادارک سے بالا تر ہیں ان میں کسی سے مدد 

چاہنا ۔ “

امام بغوی فرماتے ہیں :
علی ما یستقبلکم من أنواع البلاء و قیل: 

علی طلب الآخرة ۔” (معالم التنزیل، للامام البغوی المتوفی
٥١٠ھ ، طبع دار طیب للنشر و التوزیع ١٤١٧ھ ) کو پڑھنا جاری رکھیں

سدرہ یا بیری ڈاکٹر اقتدار حسین فاروقی کی قرآنی تحقیق کا ایک شاہکار


قرآنی نام
سِدر، سِدرة ۔
دیگر نام
CEDAR (انگریزی)۔ CEDRE (فرانسیسی)۔ CEDRUS (لا طینی)۔ CEDRO (اطالوی، ہسپانوی)۔ KEDROS CEDROS (یونانی)۔ EREZ (عبرانی)۔ ZEDER (جرمن)۔ شجرة الرب، سدر، الارز، شجرة اللہ، ارز البنان (عربی)۔ کاج، سرو آزاد (فارسی)۔
نباتاتی نام
Cedrus libani Loud.
Family: (Pinaceae)

کو پڑھنا جاری رکھیں

سائنس اور فلسفہ کی ترقی میں قرآنِ کریم کا حصہ


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

مولانا محمد حنیف ندوی

اسلام کی اثر آفرینیوں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس نے جہاں توحید کے اسرار فاش کیے ہیں۔ عظمت انسانی کا پرچم لہرایا ہے، اخلاق و سیر کے گوشوں کو پاکیزگی عطا کی ہے، جہاں دلوں میں محبت الہٰی کی شمعوں کو روشن کیا ہے اور ایسے پا کیزہ اور ایسے اونچے معاشرہ کی تخلیق کی ہے کہ جس کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ عالم قاصر ہے۔ وہاں مذاہب عالم پر اس کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے فکر و تعمق کے دواعی کواکسا یا ہے، عقل و خرد کے اجالوں کو عام کیا ہے اور دنیا کے تیرہ و تاریک افق پر استدالال و استنباط کے نئے نئے آفتاب ابھارے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012
علّامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے 3

حقیقی و اصلی اتباع

حقیقی و اصلی اتباع تو قرآن مجید ہی کا ہے وحی متلو کو بھی قرآنی آیات ہی کے مطابق دیکھ کرواجب الاتباع سمجھتے ہیں ۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے :
( وَ اتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَاْ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ )
” تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں سے بہترین چیز کا اتباع کرو ۔”
( احسن ما انزل ) سے یہ مراد لینا بھی صحیح ہے کہ جتنی کتابیں جتنے صحیفے اگلے انبیاء علیہم السلام پر اُترے تھے سب سے احسن جو کتاب اب اتری ہے اس کی اتباع کرو گویا اس کی مخاطبت اہل کتاب کی طرف ہے یہ مفہوم بھی ضرور صحیح ہے مگر اہل کتاب کی طرف مخاطبت نہ اس آیت سے پہلے ہے نہ اس آیت کے بعد البتہ عام مخاطبت ہے ۔ لیکن یہ مفہوم زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ جس مسئلے میں وحی قرآنی اور وحی غیر قرآنی دونوں متفقہ فتویٰ دیں وہی ( احسن ما انزل ) ہے ۔ بخلاف اس کے کہ اس متفقہ فتویٰ کو چھوڑ کر اسی مسئلے میں صرف آیت سے ایک نیا مفہوم نکالا جائے جو وحی غیر قرآنی سے مختلف یا اس کے خلاف ہو جہاں تک ہوسکے ہر مسئلے میں وحی قرآنی کے ساتھ وحی غیر قرآنی کا اتباع بھی پیشِ نظر رہے مگر یہ روش بڑی غلط ہوگی وحی غیر قرآنی کے اتباع کے لیے قرآنی آیات کو کھینچ تان کرکے اس وحی غیر قرآنی کے تابع رکھنے کی کوشش کی جائے ۔ وحی قرآنی محفوظ بحفاظت خیر الحافظین تبارک و تعالیٰ ہے اور وحی غیر قرآنی کی حفاظت امت نے کی ہے ظاہر ہے کہ امت کی حفاظت اللہ کی حفاظت کی برابری نہیں کرسکتی ۔

اتباع و اطاعت

آج کل عموماً اچھے اچھے مدعیانِ قرآن فہمی اتباع و اطاعت کا فرق نہیں سمجھتے اور اطاعت قانون اور اطاعت احکام وغیرہ برابر الفاظ استعمال کرتے رہتے ہیں حالانکہ اطاعت کسی شخص اور کسی ذات کی ہوتی ہے ۔ احکام و قانون کا اتباع ہوتا ہے ۔ اتباع کسی شخص کا بھی ہوسکتا ہے ۔
” اطاعت ” باب افعال کا مصدر ہے اس کا مادہ طوع ہے جس کے معنیٰ ہیں پسند ۔ جس کی ضد ہے کرھ یعنی مجبوری و ناپسندیدگی اور دباؤ میں رہنا ۔ طوعاً و کرھاً اردو میں بھی پڑھے لکھے لوگ بولتے ہیں ۔ واؤ بمعنی او ہے بمعنی طوعاً و کرھاً یعنی پسند سے خوشدلی سے یا مجبوری سے دباؤ سے ۔
سورة توبہ میں ہے :
( قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ کَرْھًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْکُمْ )
 ” ( اے رسول ) منافقین سے کہہ دو کہ تم ( کسی کارِ خیر میں ) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ۔”
باب افعال کا ایک خاصہ سلب مآخذ کا بھی ہے یعنی اصل مآخذ مادہ کے جو معنی تھے ۔ وہ باب افعال پر لانے سے اس مفہوم کے سلب کرلینے کے معنیٰ پیدا ہوجاتے ہیں تو اطاعت کے معنی ہوئے اپنی پسند اور اپنی خوشی کا سلب کرلینا اس کی پسند اس کی خوشی کے مقابل جس کی اطاعت کی جائے ۔ ( اطیعوا اللّٰہ ) کے معنیٰ ہیں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مقابل اپنی خواہش اپنی رضا اپنی پسند کو دل سے نکال پھینکو ۔
( اطیعوا الرسول ) کے معنیٰ ہیں اپنی پسند کو رسول کی پسند میں فنا کردو ۔ تویہ اطاعت کسی ذات ، کسی شخص ، کسی حاکم ، صاحبِ اقتدار و اختیار ہی کے ساتھ ہوسکتی ہے ۔ غیر ذوی العقول ، غیر صاحب اقتدار و قوت کی اطاعت نہیں ہوسکتی ۔ جن کی کوئی اپنی پسند نہ ہو بلکہ غیر ذی روح محض اقوال وہ بھی تحریری قوانین ہوں ان کی اپنی کوئی مرضی اور اپنی کوئی پسند تو ہے نہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے گی البتہ جس کا نافذ کردہ قانون ہے جس کے احکام ہیں اس کی اطاعت ہوگی ۔
اگر کوئی یہ کہے کہ مجازاً قانون کی اطاعت کہی جاتی ہے مقصود صاحبِ قانون ہی کی اطاعت ہے تو یہ ویسا ہی ہے کہ کوئی دینے والے کا شکر ادا نہ کرے ۔ روپے کا شکر ادا کرے کہ اس کا کام روپے سے نکلا ہے ۔ پھر یہ کہ گفتگو عربی استعمال سے متعلق ہورہی ہے نہ کہ اردو میں زبان و استعمال سے متعلق ۔ اس سلسلے میں مدعیانِ قرآن فہمی ایک بڑے مغالطے سے کام لیتے ہیں وہ یہ کہ اطاعت ذات اور شخص ہی کی ہوتی ہے اور اسے ” بالمشافہ ” ہی ہونا چاہئے لہٰذا آج جبکہ رسول اللہ دنیا میں تشریف فرما نہیں ہیں تو ان کی اطاعت کے کیا معنی ؟ اس بنا پر یہ حضرات بزعمِ خود یہ ثابت کرتے ہیں کہ قرآن میں واردشدہ اطاعت رسول سے مراد ہے ہر دور کے مرکزِ ملت کی اطاعت ۔
یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جو رسول اورمنصب رسالت سے بالکل نابلد ہو اور اپنے مزعومہ مرکزِ ملت کو مقام رسالت پر بٹھانا چاہتا ہو ۔ یقینا اطاعت ذات اور شخص کی ہوتی ہے لیکن ان حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ محمد بن عبد اللہ کی وفات ہوئی ہے نہ کہ محمد رسول اللہ کی اور اگر ایسا نہیں ہے تو حلقہ بگوشِ اسلام ہونے کے لیے قیامت تک لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ پر بھی ایمان کوئی معنی نہ رکھے گا ۔ لہٰذا اطاعتِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ احکام رسول کی اتباع کرتے ہوئے رسول اللہ کی اطاعت کی جائے یعنی رسول کی پسند کے مقابل اپنی پسند کو سلب کرلیا جائے ۔ رہا ان حضرات کا یہ کہنا کہ اطاعت ” بالمشافہ ” ہی ہوتی ہے تو یہ ایک بلا دلیل بات ہے ، دوسرے یہ کہ پھر تو اللہ کی اطاعت کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اللہ ” بالمشافہ ” نہیں ہے یعنی وہ ہماری نظروں کے سامنے نہیں ہے لہٰذا جس طرح اللہ کے ” بالمشافہ ” نہ ہونے کے باوجود اس کی مرضی اور پسند معلوم کی جاسکتی ہے اور اس کی مرضی اور پسند کے مقابل اپنی مرضی اور پسند کو سلب کیا جاسکتا ہے ، اسی طرح آج بھی رسول اللہ کی پسند معلوم کی جاسکتی ہے اور حضور کی پسند کے مقابل اپنی پسند کو سلب کرکے اطاعتِ رسول کی جاسکتی ہے اور کرنی چاہئے کہ اطاعتِ رسول ہر دور میں قیامت تک کے لیے منصوص ہے ۔
یاد رکھئے
کہ اطاعت بغیر محبت کے نہیں ہوسکتی ۔ قانون جس کے منشاء کے خلاف ہو وہ کبھی خوشدلی سے اس قانون کو قبول نہیں کرسکتا جب تک صاحبِ قانون سے محبت نہ ہو ۔ قانون بھی پیارا ہوگا اگر صاحبِ قانون پیارا ہے ۔
اتباع حکم کا اور قانون کا بھی ہوسکتا ہے اور کسی راہنما کا بھی اسی لیے قرآن مجید میں وحی کے اتباع کا بھی حکم ہے اور رسول کے اتباع کا بھی مہاجرین و انصار کے اتباع پر دوسروں کے لیے رضائے الٰہی موقوف ہے ۔
اتباع وحی و تلاوت وحی
قرآن مجید میں اتباعِ وحی کا حکم انہی پانچ مذکورہ سورتوں میں اور ان کی مذکورہ انہی پانچ آیتوں میں ہے مگر ہر آیت میں عام وحی اور ہر قسم کی وحی کے لیے حکم اتباع ماننا پڑے گا عموم لفظ کی بلا دلیل تخصیص جائز نہیں ۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ حضور پر ہر قسم کی وحی آتی رہتی تھی جیسا کہ اگلے انبیاء علیہم السلام پر اُترتی رہی اور بلا تخصیص عام وحی کے اتباع کا حکم ہے تو یقینا کسی قسم کی وحی بھی حکم اتباع سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتی ۔
اور تلاوت وحی کا حکم پورے قرآن مجید میں دو ہی جگہ ہے ایک اکیسویں پارے کی پہلی آیت کریمہ میں جو سورہ عنکبوت کی پینتالیسویں آیت ہے جس میں صاف طور سے فرمایا گیا ہے : (اُتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ  ) تلاوت کرو اس وحی کی جو وحی اس کتاب سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ۔
کس قدر صاف لفظوں میں وحی کتابی ہی کی تلاوت کا حکم ہے عام وحی کی تلاوت کا حکم نہیں ۔ اسی طرح دوسری آیت کریمہ میں ہے : ( وَ اتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ ْکِتَابِ رَبِّکَ )اور تلاوت کرو اس وحی کی ( اے رسول ) جو تمہارے رب کی کتاب ( قرآن ) سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ۔ ( کہف :٣٧) یہاں بھی صراحت و وضاحت کے ساتھ تلاوت کا حکم ہے اس وحی کے لیے جو ( من کتاب ربک ) تمہارے رب کی نازل کردہ کتاب سے ہو ۔
صرف دو ہی آیتوں میں تلاوت وحی کا حکم ہے اور دونوں جگہ صاف اور واضح طور سے وحی کتابی کی قید موجود ہے اس لیے وحی کی دو قسمیں متلو اور غیر متلو ۔ قرآن مبین نے صراحتاً خود کردی ہیں ۔ علمائِ سلف کا اختراع نہیں ہے ۔
وحی غیر متلو کو ” غیر قرآنی ” کہہ کر رد کرنا اور قبول نہ کرنا اور اس کے اتباع سے انکار کرنا در حقیقت قرآن مجید کا انکار ہے ۔ ( اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ
روایت
وحی غیر متلو جس کو مدعیانِ قرآن فہمی وحی تو تسلیم ہی نہیں کرتے ، ” غیر قرآنی ” باتیں کہہ کر رد کردیتے ہیں ان میں بہت سی تو ایسی ہیں جن کا ذکر کسی نہ کسی طرح قرآن مجید میں کردیا گیا ہے مگر اس فرقے والوں کو ان آیات سے کیا بحث ؟ ان کو ایسی آیتوں کی تلاش رہتی ہے جن سے وہ آج کل کے الحاد زدہ نوجوانوں کو مطمئن کرسکیں اور دنیا میں انسانوں کو خودساختہ نظام معیشت قائم کرسکیں اور بزعم خود سرمایہ داری کا استیصال کرسکیں ۔ ڈارون کی تھیوری کو قرآنی آیتوں سے ثابت کرسکیں ۔ غرض ان کا حاصل یہ ہے :
(اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا ١٠4؁ )
” ان کی ساری جدو جہد دنیاوی ہی زندگی کے مفاد میں کھو گئی ( خرچ ہوگئی ہے ) اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔” ( کہف : ١٠٤ )
اس لیے وہ کبھی اس پر غور ہی نہیں کرتے کہ ( اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ )سے نمازِ جمعہ کا ثبوت تو مل رہا ہے مگر نمازِ جمعہ کب فرض ہوئی تھی ؟ اور کس آیت کے ذریعے فرض ہوئی تھی ؟
پھر” نداء للصلوٰة ”  یعنی اذان کا ذکر قرآن مجید میں کئی جگہ ہے اذان کا حکم اور اذان کے کلمات کی تعلیم کس آیت سے ثابت ہوتی ہے ؟ ان باتوں پر غور کرنے کا ان کے پاس وقت کہاں ؟ ا س لیے یہ ان وحی ہائے غیر متلو سے بالکل بے خبر ہیں جو قرآ ن مجیدمیں صراحتاً مذکور نہیں اور جو قرآن مجید میں صراحتہً مذکور نہیں ان کو غیر قرآنی اور روایتی کہہ کر ٹھکرا دیتے ہیں حالانکہ قرآن مجید ان کی صداقت کی گواہی دے رہا ہے ۔

قرآن مجید اور روایت

قرآن مجید نے روایت کو رد کرنے یا قبول کرنے کے متعلق بہترین اصول خود بتادیا ہے ۔ ارشاد ہے :
( اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا) (حجرات :٧ )
” ( اے ایمان والو! ) اگر کوئی فاسق کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیقات کرو ۔ ”
یہ حکم دنیاوی امور ، جنگ ، صلح ، حملہ ، دشمن وغیرہ کے متعلق ہے کہ کوئی فاسق بھی کوئی خبر لائے تو محض اس کے فسق کی وجہ سے اس کی خبر دہی کو چھوٹتے ہی غلط اور جھوٹ قرار دے کر اس سے بے پروائی نہ برتو ممکن ہے کہ تحقیقات سے خبر صحیح ثابت ہوجائے ۔ اور نہ اس پر فوراً اعتماد کرلو ۔ ممکن ہے خبر غلط ہو اور تم کو خواہ مخواہ کی پریشانی اٹھانی پڑے غرض یہ حکم نہیں ہوا کہ چونکہ خبر لانے والا فاسق ہے اس لیے اس کو جھٹلادو ۔
حدیثیں جن میں وحی غیر متلو ، وحی غیر قرآنی کا بھی کچھ حصہ ضرور ہے جن اقوال و افعال کی نسبت رسول اللہ کی طرف کرکے راوی روایت کررہا ہو ۔ بغیر راوی کی وثاقت و عدم وثاقت کا پتہ لگائے ، بغیر اس کو قرآنی درایت کی میزان پر تولے ہوئے صرف روایت روایت کا شور مچاکر رد کردینا تو دراصل قرآن مجید کی اس آیتِ کریمہ کی کھلی ہوئی مخالفت ہے اور اس کے ساتھ نسبت الی الرسول کی توہین بھی ۔ کسی قول منسوب الی الرسول کی نسبتِ صحت سے انکار اور بات ہے اور عام طور سے ہر حدیث قولی و فعلی کا انکار اور بات ہے ۔کسی ایک یا چند یا بہت سی حدیثوں کا عدم قبول اور باقی کا اقرار کرنے والے کو کہا جاسکتا ہے کہ اس کا عدم قبول مبنی بر دیانت ہے جس طرح موضوعات پر کتابیں لکھنے والوں نے کافی تعداد میں حدیثوں کو موضوع قرار دیا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں بعض حدیثیں صحیح ہوں اور جن حدیثوں کو صحیح قرار دیا ہے ان میں کچھ موضوع حدیثیں بھی ہوں ۔ بہ ہر حال جن حدیثوں کو کتاب الموضوعات لکھنے والوں نے موضوع قرار دیا ہے ان کے پاس حدیثوں کے پرکھنے کا معیار ہے اپنے معیار کے مطابق موضوعات الگ کرکے جن حدیثوں کو صحیح سمجھا ان کو وہ دین میں حجت سمجھتے ہیں یہاں ایک بلا دلیل یہ خیال قائم کرلیا کہ قرآن مجید کے سواکوئی وحی آنحضرت کی طرف بھیجی نہیں گئی ۔ حضور کو کبھی کسی بات کا الہام ہوا ہی نہیں ۔ جبریل قرآن مجید کے سوا اور کوئی بات پہنچاتے ہی نہ تھے ۔ اور اس تنکے پر انکار کا پہاڑ اٹھائے ہوئے ہیں ۔
محکم دلیل
کتاب اللہ کے ساتھ ، سنت کا نام لینے والوں کے سامنے بزعم خود گویا ایک پہاڑ لا کر رکھ دیا جاتا ہے یہ کہہ کر کہ سنت کہاں ہے ؟ کس کتاب میں ہے ؟ کوئی ایسی کتاب دکھاؤ جس میں سارے اسلامی فرقوں کی متفق علیہ حدیثیں ہوں جس پر سارے فرقوں کا یکساں عملدرآمد ہو ، دکھاؤ ایسی کتاب ؟ ایسا کہنا قرآن فہمی نہیں بلکہ دراصل قرآن سے بے خبری کی شہادت ہے میں نے ان مدعیانِ قرآن فہمی کی اس پہاڑ ایسی دلیل کو کالعہن المنفوشدکھانے کے لیے ایک مستقل رسالہ ” السنّہ ” کے نام سے لکھا ہے ، اس بنا پر یہاں اس بحث کی تفصیلات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے چند بنیادی اور اہم باتوں پر اکتفا کرتا ہوں ۔
رسول اللہ   کو تلقینِ ایمان کس وحی کے ذریعہ ہوئی ؟
” منجانب اللہ وحی ” کے عنوان کے تحت کچھ پہلے سورۂ شوریٰ کے آخر کی تین آیتیں لکھ کر وحی کے تین اقسام میں نے قرآن مجید کی ان آیتوں سے ثابت کیے ہیں ۔ ان تین آیتوں میں سے دوسری آیت یعنی سورۂ شوریٰ کی آخری آیت سے پہلے جو آیت ہے اس میں رسول اللہ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ( مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ  ) ”(اے رسول ) تم تو جانتے بھی نہ تھے کہ الکتاب ( کتاب اللہ ) کیسی ہوتی ہے بلکہ ایمان (١)کی حقیقت سے بھی واقف نہ تھے ۔ ”
حیرت ہے کہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ حضرت موسیٰ جب وادی مقدس ” طویٰ ” میں پہنچتے ہیں ۔ تو حسبِ صراحت قرآنی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ میں تمہارا رب ہوں( اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ) گویا اللہ اپنا تعارف کراتا ہے ۔ پھر انہیں بتاتا ہے کہ وہ کس مقدس جگہ کھڑے ہیں ( اِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی ) پھر ان کو منصبِ رسالت پر فائز کرنے کی وحی کرتا ہے (وَ اَنَا اخْتَرْتُکَ)  پھر اس کے بعد دوبارہ گویا اپنا تعارف اس طرح کراتا ہے کہ ( اِنَّنِیْ اَنَا اللّٰھُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا ) ( بے شک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی الہٰ نہیں ) پھر انہیں حکم دیتا ہے کہ ( فَاعْبُدْنِیْ ) ( لہٰذا میری ہی عبادت کیا کرو ) پھر اس عبادت کے سلسلے میں حکم دیتا ہے کہ ( وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِکْرِیْ)( میری یاد کے لیے نماز کی پابندی رکھو ) پھر حضرت موسیٰ اور اللہ کے کے درمیان کچھ اور گفتگو ہوتی ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو” ایک کارِ خاص ” پر مامور فرماتا ہے ۔ ( اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعُوْنَ اِنَّہ طَغٰی ) ( فرعون کے پاس جاؤ ، کہ وہ سرکش ہورہا ہے )۔

لیکن رسول اللہ کے پاس حضرت جبریل آتے ہیں تو نہ اپنا تعارف کراتے ہیں نہ ایمان کی تلقین کرتے ہیں ۔ باوجودیکہ رسول اللہ ایمان کی حقیقت سے واقف نہ تھے (٢) ۔ ( مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ ) اور نہ وہ رسول اللہ کو یہ بتاتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو منصبِ رسالت پر فائز کردیا ہے ، پس اچانک وہ نمودار ہوتے ہیں اور آتے ہی سورۂ علق کی ابتدائی چند آیات پڑھوادیتے ہیں !!

یقینا منصبِ نبوت عطا کرنے سے پہلے آپ کو تلقینِ ایمان کی گئی ہوگی ، تاکہ آپ اوّل المومنین ہوں ، مگر نبوت کا آغاز کس طرح ہوا ؟ تلقینِ ایمان کس طرح ہوئی ؟ قرآن مجید اس کو بیان نہیں فرماتا ۔ روایتیں جو آغازِ وحی کی ہیں ان میں کہیں تلقینِ ایمان کا ذکر نہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غشی سے افاقے کے بعدفرمایا ( اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ ) مگر رسول اللہ کے لیے قرآن مجید میں اوّ ل المومنین کا لفظ کہیں نہیں ہے اور اس کے ذکر کی ضرورت بھی نہ تھی کیونکہ حضور کا اوّل المومنین ہونا قطعی و یقینی ہے ۔ عیاں را چہ بیاں۔
سورۂ بقرہ کے آخری رکوع آیت ٢٨٥ کے شروع میں ہے :
(  اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ  )
” یہ رسول ایمان لائے ان سب وحیوں پر جو ان کے رب کی طرف سے ان پر اتاری گئیں اور سارے مومنین ایمان لائے ۔ سب کے سب ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر ۔ ”
تو یہ خبر وہی ہے سب کے ایمان لانے کی ۔ سب کے سب بیک وقت بیک روز تو ایمان نہیں لائے تھے ۔ مومنین نے تو جب رسول سے دعویٰ نبوت و رسالت سنا قرآن مجید کی آیتیں سنیں تب رسول پر ایمان لاتے گئے ۔ خود رسول اللہ کب ایمان لائے ؟ کس دن کس وقت ؟ اور کس حکم سے ایمان لائے اور کس کی تلقین سے ایمان لائے یقینا کوہِ حرا میں حضرت جبریل حضور کے پاس آئے تو پہلے انہوں نے اپنا تعارف کرایا ہوگا اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے تلقینِ ایمان کی وحی پیش کی ہوگی کیونکہ آپ ایمان کی حقیقت اور تفصیل سے ناواقف تھے ( جیسا کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں بتصریح مذکور ہے )۔اللہ تعالیٰ پر اگرچہ فطری ایمان ہوگا مگر فرشتوں پر کتابوں پر اگلے رسولوں پر اور قیامت پر ایمان کی تفصیل کا علم نہ ہوگا ۔ تلقینِ ایمان کے بعد جب آپ اوّل المومنین ہوگئے تو پہلے آپ کو آپ کے منصب نبوت و رسالت کی حقیقت سے مطلع کیا ہوگا اور اس کی بھی وحی ہی لے کر آئے ہوں گے ، اس کے بعد سب سے پہلی وحی جو حضور کے سامنے پیش ہوئی وہ بسم اللہ الرحمان الرحیم کی ، پھر اس کے بعد پوری سورۂ فاتحہ کی وحی ہوئی (٣)۔ تو وحی قرآنی سے پہلے حضرت جبریل نے اپنے ذاتی تعارف کی وحی غیر متلو پیش کی پھر تلقینِ ایمان کی وحی غیر متلو پیش کی پھر منصبِ نبوت و رسالت کی حقیقت سے آگاہ کرنے کی وحی غیر متلو پیش کی ، تین وحی غیر متلو کے بعد پھر پہلے بسم اللہ الرحمان الرحیم کی وحی کتابی پیش کی ۔ پھر سورۂ فاتحہ کی وحی کتابی پیش کی ، تو تین وحی غیر متلو کے بعد دو وحی متلو پیش کیں۔ سورة فاتحہ میں ( اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن ) کا اقرار تھا ( ایّاک نستعین) میں تو طلبِ اعانت کا اقرار ہے اور طلب کا تعلق قلب سے ہے وہ تو آسان بات تھی مگر( ایاک نعبد ) کا تعلق صرف قلب سے نہیں ہے بلکہ جوارح یعنی دست وپا اور سر و جبین سے بھی ہے لہٰذا کس طرح اس قلبی اقرار کا عملی ثبوت دیا جائے اس کی تعلیم یقینا ضروری تھی ۔ ضرور حضرت جبریل نے حضور کو نماز پڑھانے کے طریقے کی وحی بھی دی بلکہ بہت زیادہ قرینِ عقل و قرینِ قیاس ہے کہ حضرت جبریل نے خود دو رکعت نماز پڑھ کر بتا دیا ہو اور حضور نے اسی جگہ تعلیمِ جبریل کے مطابق دو رکعت نماز پڑھی ہو ۔
غرض ، پہلے تین وحی غیرمتلو ، پھر دو وحی متلو ، ان کے بعد پھر تعلیم صلوٰة کی دو وحی غیر متلو ، زبانی اذکار کی اور عملی ہئیات صلوٰة کی بالواسطہ اور بالتوسط پہونچائی ، اس کے بعد سورہ علق کی پانچ ابتدائی آیتوں کی بسم اللہ الرحمان الرحیم کے ساتھ وحی متلو پیش ہوئی ۔
وحی بالواسطہ اور وحی بالتوسط
سورۂ الشوریٰ کی آیت ٥٢ میں ہے :
( اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہ مَا یَشَآئُ )
”اللہ تعالیٰ کسی فرشتے کو اپنے نبی کے پاس بھیجتا ہے تو جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اس کے حکم کے مطابق فرشتہ وحی پیش کرتا ہے ۔”
تو اللہ تعالیٰ مرسل یعنی وحی بھیجنے والا اور نبی مرسل الیہ یعنی جس کی طرف وحی بھیجی گئی اور فرشتہ اللہ تعالیٰ اور اس کے درمیان واسطہ ہوا ۔ اگر فرشتے کی حیثیت محض ایک امین کی ہے کہ وحی جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرشتے کو دی فرشتے نے بالکل اسی طرح اس کو نبی تک پہنچا دیا فرشتے کا بذات خود اس وحی سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں تو وہ وحی بالواسطہ ہے اور اگر فرشتے کا بھی فی الجملہ کوئی تعلق قولی یا عملی اس وحی سے ہو تو وہ وحی بالتوسط ہوئی ۔
چونکہ ( اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ) فرما کر اللہ تعالیٰ نے کتابی وحی کی تلاوت کا حکم دیا ہے ۔ اس لیے ایسی وحی جو بالفاظ بطور امانت اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیر مشروط طور پر بالکل امانت کی حیثیت سے فرشتے نے آنحضرت کے پاس پہنچائی وہ وحی بالواسطہ وحی متلو ہوئی اور وہی کتابی وحی ہے ۔
دوسری وہ وحی کلامی جو اللہ تعالیٰ نے فرشتے کی طرف فرمائی اور حکم یہ فرمایا کہ انہیں الفاظ میں اس وحی کو تم اپنی طرف سے ہمارے نبی سے کہیو یہ بھی کتابی وحی رہے گی تاکہ ہر تلاوت کرنے والا قیامت تک اس وحی کے مضمون سے آگاہ رہے ۔
جیسے سورة مریم کی دو آیتیں ٦٤، ٦٥ ہیں :
(وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ ۚ  لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْــنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذٰلِكَ ۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِـيًّا        64؀ۚ
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ ۭ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا        65؀ۧ
”(اے نبی ) ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترسکتے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کا مالک وہی ہے اور تمہارا رب بھولنے (٤)  والا نہیں ہے اور وہ سارے آسمانوں کا اور ساری زمین کا اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کا رب ہے تو پھر تم اسی کی بندگی کا حق ادا کرو اور اسی کی بندگی پر ثابت قدمی کے ساتھ جمے رہو ( اس کی ) ذات و صفات و اختیارات کا شریک تو کوئی کیا ہوگا )تم اس کے نام کا شریک بھی کیا کسی کو پاتے ہو ؟”
یہ وحی ہے تو کلامی اور بالفاظ اور امانت ہی کی حیثیت سے لفظاً لفظاً پہونچائی گئی مگر اس میں فرشتے کا ذاتی تعلق بھی ہے۔ فرشتے کو حکم ہے کہ اس قول کو تم اپنی طرف سے کہو تو دوہری وساطت ہوئی کلام پہنچانا اور اپنی طرف سے پہنچانا اس لیے میں نے اس قسم کی وحی کا نام وحی بالتوسط رکھا ہے مگر اس قسم کی وحی بالتوسط متلو ان دو آیتوں کے سوا تو کوئی تیسری آیت میرے ذہن میں نہیں ہے ممکن ہے دو ایک اور بھی کہیں ہوں ۔ و اللہ اعلم

وحی بالمفہوم

غرض وحی کلامی بالفاظہ تعالیٰ صرف وحی کتابی ہی ہے اور وحی بالواسطہ ہی ہے بجز مذکورہ دو آیتوں کے جو وحی متلو کتابی بالتوسط نازل ہوئیں یا شاید کوئی اور آیت بھی اس طرح کی ہو البتہ اللہ تعالیٰ نے فرشتے پر مفہوم القاء فرمایا اور فرشتے نے اس مفہوم کو اپنے الفاظ میں نبی تک پہنچایا تو یہ وحی بالتوسط ہے اگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتے نے پہنچایا ہے تو وہ حدیثِ قدسی ہے اور اگر حسبِ حکم ربانی فرشتے نے اپنی طرف سے کہا ہے تو وہ حدیث جبریل ہے اگر حضرت جبریل ہی اس وحی کو پہنچانے والے ہیں ورنہ جو فرشتہ بھی ہو اس کی طرف وہ حدیث منسوب ہوگی ۔
حواشی
(١)           ولا ایمان پر واو اضراب کے لیے آیا ہے یعنی ” بلکہ ” کے معنی میں ہے ۔
(٢)           یعنی ایمان اور اعمال ایمانیہ کی یہ تفاصیل جو بذریعہ وحی معلوم ہوئیں ” پہلے سے کہاں معلوم تھیں ” گو رسول اللہ نفسِ ایمان کے ساتھ ہمیشہ متصف تھے ۔( مولانا شبیر احمد عثمانی )
(٣)          بعض روایتوں میں مذکور ہے کہ سب سے پہلے سورۂ فاتحہ نازل ہوئی اور میرے خیال میں یہی قرینِ عقل و صواب ہے اور علّامہ زفخشری کی تحقیق کے مطابق تو اکثر مفسرین کی رائے میں سب سے پہلے نازل ہونے والی سورة الفاتحہ ہے ۔
(٤)          یعنی تم کو بھول نہیں گیا تھا وہ کسی بات کو کسی شخص کو بھی بھولتا نہیں ہے ۔

"قرآن" غیروں "بائبل" اپنوں کی نظر میں


تبصرہ  کتب ٣ 

"قرآن” غیروں"بائبل” اپنوں کی نظر میںمؤلف :محمود ریاض
 
صفحات : ١٤٤
قیمت : ( مجلد )درج نہیں
ناشر : مکتبہ سعد بن ابی وقاص کراچی
محل فروخت  : اقبال نعمانی بک سینٹر صدر کراچی ، اقبال بک ڈپو صدر کراچی ، طاہر بک ہائوس صدر کراچی، ادارة المعارف جامعہ دارالعلوم کراچی ، فضلی بک اردو بازار کراچی ، مکتبہ دار الاحسن یٰسین آباد کراچی ۔
 
محمود ریاض تاریخ اسلام ، بین الاقوامی تعلقات اور سیاسیات کے طالب علم ہیں تاہم انہیں تقابل ادیان بالخصوص اسلام اور نصرانیت کے تقابلی مطالعے سے خصوصی دلچسپی ہے ۔
 
زیر تبصرہ کتاب میں انہوں نے قرآن پاک سے متعلق غیر مسلم علماء و مفکرین کے اقوال نقل کیے ہیں جو قرآن مجید کی عظمت کے اعترافات پر مبنی ہیں ۔

 
کتاب کے دوسرے حصے میں مولف نے بائبل سے متعلق اپنی تحقیقات عیسائی علماء کی تحریروں کی مدد سے پیش کی ہیں ۔بائبل شروع ہی سے متنازع رہی ہے ۔ اس کے تصنیفی انتساب پر ہر دور میں حرف تنقید زبان و قلم پر لائی گئی ۔اس کے مختلف نسخے اس کے مابین تضادات کو نمایاں کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ایک قدیم ماہرِ الٰہیات ،فلسفی اور شارح بائبل اوریجن Origen کا یہ قول بقول مولف مسیحی دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے :
 
” اناجیل میں اتنے اختلافات ہیں کہ ان سے آدمی کا سر گھومنے لگ جاتا ہے ۔ ” ( ص ٩٢ -٩٣)
 
مولف نے صفحہ ٥٣ تا ٥٦ قرآن کی عظمت میں ڈاکٹر موریس بوکائلے کی کتاب The Quran, The Bible and The Scienceسے اقتباسات نقل کیے ہیں ۔ مولف کی اطلاع کے عرض ہے کہ ڈاکٹر موریس بوکائلے نے اسلام قبول کرلیا تھا ۔ جیسا کہ ڈاکٹر گیری ملر نے اسلام کو قبول کرلیا تھا ۔ ثانی الذکر کے اسلام کی تصریح مولف  نے کی ہے ۔
 
کتاب بڑے سلیقے سے مرتب کی گئی ہے اور اس کی طباعت میں بھی معیارکی بلندی کا ثبوت دیا گیا ہے ۔
مولف اگر اخذ و ترتیب سے بڑھ کر اخذ استدلال ، تقابل اور تنقید کا فریضہ انجام دیں ۔تو اپنے ذوق و شوق اور لگن کی بدولت بہت جلد بائبل کے ایک بلند پایہ محقق کی حیثیت سے اجاگر ہوں گے ۔ اسی روشنی میں وہ اپنی آئندہ کی تحقیقات کو ، جو قرآن کریم اور سیرت نبویؐ کے موضوع کا احاطہ کرتی ہیں ، قلمبند کریں تاکہ ان کی تحریروں کا علمی و استنادی معیار بڑھ جائے اور معاملہ صرف اخذ و ترتیب تک محدود نہ رہے ۔ بلکہ اس میں ایک تصنیفی شان نمایاں ہو ۔
 
الغرض مولف کی جستجو اور لگن لائقِ تعریف ہے ۔ وہ اسی جہت میں اپنی لگن کے تقاضے پورے کرتے رہیں تو جلد ہی عالم اسلام کوایک اچھا محقق میسر آجائے گا ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ان کی کاوشوں کوقبول فرمائے آمین۔
 
قارئین بالخصوص قرآنیات کا ذوق رکھنے والے افراد سے گزارش ہے کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں ۔ اس کا مطالعہ ان کے علم میں اضافے کا باعث ہوگا ۔
 
محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے 2


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012

علّامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی
قسط 2

بات یہ ہےکہ یہ سورة رعد کی پہلی آیت ہے اس سے پہلے قرآن مجید میں بارہ سورتیں گزر چکی ہیں جن میں سے چھ سورتوں کے شروع میں قرآن مجید کی کچھ نہ کچھ منقبت ضرور بیان فرمائی گئی ہے ۔ سورة بقرہ کے شروع میں ہے
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ     ٻ فِيْهِ   ڔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ    Ą۝
 یہ کتاب ( یعنی اب دنیا میں کتاب اللہ یہی اور صرف یہی ایک تنہا ہے ۔ دوسری کتابیں اور صحیفے یا تو مفقود ہوگئے یا محرف ہوکر ان کے صرف ترجمے ہی ہر جگہ نظر آتے ہیں اصل کتاب کا کہیں پتہ نہیں ۔ اس لیے کتاب اللہ اب بس یہی ایک کتاب ہے ) اس کے اندر کسی طرح کے ریب و شک کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔ مگر اس سے وہی لوگ ہدایت کا فائدہ اٹھائیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں ۔ ”
اس کے بعد آل عمران کے شروع میں ہے :
اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ الْـحَيُّ الْقَيُّوْمُ  Ą۝ۭنَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ
 ” اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ زندگی کا مالک آپ اپنی ذات سے ہمیشہ قائم رہنے والا ہے اور دوسری ہر مخلوق کو قائم رکھنے والا اس نے اس کتاب کو مبنی بر حقیقت اتارا ہے ۔
سورئہ اعراف کے شروع میں ہے :
كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ    Ą۝
بڑی عظمت (١) والی کتاب ہے ( دشمنوں کی مخالفت سے ) تم میں دل تنگی پیدا نہ ہونی چاہیے ( یہ کتاب ) اس لیے ہے کہ تم ( مخالفین کو مخالفت کے برے نتیجے سے ) ڈراتے رہو یہ ( کتاب ) ایمان والوں کے لیے بڑی نصیحت (٢) ہے ۔
سورئہ یونس کے شروع میں ہے :
تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ   Ǻ۝
 ” یہ ( جو یہاں سے آخر سورة تک آیتیں ہیں ) بڑی حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں ۔
یہاں بھی تلک کا اشارہ پوری سورة کی طرف ہے ۔
سورئہ ہود کے شروع میں ہے :
كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ         Ǻ۝ۙ
بڑی عظمت والی یہ کتاب ہے جس کی آیتیں بہت استوار اس پر مفصل بڑے حکمت والے ہر ذرے ذرے سے باخبر کے پاس سے آئی ہوئی ہے ۔
سورئہ یوسف کے شروع میں ہے :
تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ        Ǻ۝ۣ
) یہاں سے آخر سورة تک جتنی آیتیں ہیں ) یہ ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنے مفہوم کو وضاحت کے ساتھ بیان کردینے والی ہے ۔
یہاں بھی تلک کا اشارہ پورے سورہ کی آیتوں کی طرف ہے جس کی تفصیل سورة رعد کی آیت میں گزر چکی ۔ سورة رعد کے بھی ۔ سورئہ ابراہیم ، سورة حجر ، سورة کہف وغیرہ کی ابتدا میں قرآن مجید کی منقبت کے الفاظ آئے ہیں ۔ اور بیسیوں سورتوں کے درمیان بھی قرآن مجید کی عظمت و اہمیت مختلف عنوان سے بیان فرمائی گئی ہے ۔ مگر غیر قرآنی وحی بھی تو آتی رہی ہے اس کا بالکل ذکر نہ کرنا مناسب نہ تھا ۔ اگرچہ اکثر غیرقرآنی وحی خصوصاً جن کا تعلق احکام دین سے ہے پہلے ان پر عمل غیر قرآنی وحی کے مطابق ہوتا رہا بعض کو ایسی ہر غیر قرآنی وحی کا ذکر قرآن مجید میں کسی نہ کسی عنوان سے ضرور فرمادیا گیا ہے تاکہ وہ احکام دین کسی ناقص الفہم کی نظر میں غیر قرآنی قرار نہ پائیں یا یہ کہ قرآن مجید سے باہر نہ رہیں اور قرآن مجیدکی جامعیت پر حرف نہ آئے مگر ابتدا ان احکام پر عملدرآمد کی ضرور غیر قرآنی وحی ہی سے ہوئی۔ جیسے ادائے فریضہ الصلوٰة کا طریقہ وغیرہ جس کی تفصیل آگے آتی ہے ۔ غرض ضرورت تھی کہ غیر قرآنی وحی جس کو علماء وحی غیر متلو کہتے ہیں اس کی اہمیت بھی بیان فرمادی جائے اس لیے سورة رعد کی مذکورہ آیت کریمہ میں ایک عام جملہ بیان فرمایا کہ صرف قرآنی آیات ہی نہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی جس قسم کی وحی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ کی طرف نازل ہوئی ہے وہ سب برحق ہیں جو وحی آپ پر الہام و القاء فی القلب کے ذریعے فرمائی گئی یا عالم خواب میں فرمائی گئی یا فرشتے کے ذریعے قرآنی آیات کے ماسوا بطور پیغام فرمائی گئی یا کسی فرشتے کے ذریعے بطور تلقین و تعلیم جو وحی کی گئی ہو زبانی ہو یا عملی وہ سب برحق ہیں ۔اس آیت میں
( وَالَّذِیَ أُنزِلَ ِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ الْحَقُّ )
 ” اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ سب برحق ہیں
فرماکر ہر قسم کے نازل شدہ وحی کے برحق ہونے کا ذکر فرمایا گیا ہے تاکہ وحی غیرمتلو کو غیر قرآنی قرار دے کر کوئی اس کا انکار نہ کرے ۔
وحی متلو و غیر متلو
یہ تقسیم علماء سلف نے اپنی طرف سے نہیں کی خود قرآن مجید نے تقسیم بیان فرمادی ہے ۔ سورة الکہف کی آیت ٢٧ پڑھیے :
وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ  رَبِّكَ 
اورتم تلاوت کرو اس وحی کیجو تمہارے رب کی کتاب سے تمہاری طرف کی گئی ہے ۔
 اس آیت کریمہ میں ( مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ ) کی قید بتارہی ہے کہ تلاوت وحی کتاب ہی کی مامور بھا ہے اور اس قید نے یہ بتادیا کہ کتاب سے باہر بھی بعض وحی ہوئی ہے جس طرح اگلے انبیاء علیہم السلام کی طرف کتابی و غیرکتابی دونوں طرح کی وحی آتی ہے ۔ اس لیے رسول اللہنے کاتبین وحی سے صرف کتابی وحی لکھوائی تاکہ اس کی تلاوت ہو غیر کتابی وحی کی تلاوت کا حکم نہ تھا ۔ اس لیے قرآن کی طرح باضابطہ اس کو نہیں لکھوایا ۔ کتابی وحی میں الفاظ وحی ہوتے جن کا محفوظ رکھنا ضروری تھا غیر کتابی وحی میں مفہوم کی وحی ہوتی تھی اوراگر مفہوم فرشتے کو القاء ہوتا تھا تو الفاظ فرشتے کے ہوتے تھے جو وہ رسول تک پہونچاتا اور اگرمفہوم رسول پر بیداری میں یا خواب میںا لقاء ہوتا تھا تو رسول اپنے الفاظ میں بیان فرماتے تھے ۔مگر مفہوم ایسی احکامی وحیوں کے بعد کو کہیں نہ کہیں قرآن مجید میں کسی نہ کسی طرح ضرور بیان فرمادیئے جاتے تھے تاکہ وہ مفہوم محفوظ رہ جائے اسی لیے دیکھئے دوسری جگہ بھی یونہی فرمایا ہے :
اُتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَاَقِـمِ الصَّلٰوةَ ۭاِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ ۭ وَلَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ   45؀
اس کتاب سے جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کرو اورنماز قائم کرو بے شک نماز بے حیائی کی باتوں اورناپسندیدہ کاموں سے روک دیتی ہے اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرو گے ۔” ( عنکبوت : ٤٥)
اس آیت کریمہ میں دو کاموں کا حکم دیا گیا ہے پہلا حکم  ( اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ) کا ہے یعنی حکم دیا جارہا ہے کہ اس کتاب سے جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کرو ۔ جو شخص کچھ بھی آخرت کی باز پرس سے ڈرتا ہو اوریقین رکھتا ہو کہ اگر قرآنی آیات کے مفہوم صحیح کے اقرار و انکار میں ہٹ دھرمی سے کام لیں گے تو قیامت کے دن ہم سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ میں ایسے مومن سے پوچھتا ہوں کہ ( مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ) میں جو قید (مِنَ الْکِتٰبِ ) کی ہے صاف بتارہی ہے یا نہیں کہ کتاب والی وحی کے علاوہ بھی وحی ضرور آتی تھی ورنہ من الکتاب کی قید محض فضول ٹھہرے گی اور قرآن مجید میں کوئی لفظ بھی بے سود نہیں لایا گیا ہے اور چونکہ صرف کتابی ہی وحی کی تلاوت کا حکم ہے اس لیے کتابی ہی وحی متلو ہوئی اور غیر کتابی وحی غیر متلو ہوئی قرآن مجید نے خود وحی کی دو قسم متلو و غیر متلو بتادی یا نہیں ؟ اور پھر متصلاً اس کے بعد ہی ( وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ) کا دوسرا حکم یہ ظاہر کر رہا ہے کہ نماز میں بھی قرآن  مجید کی تلاوت ہونی چاہیئے اور ( اقم ) سے یہ اشارہ سمجھا گیا کہ تلاوت صرف قیام میں ہونی چاہیئے ۔ رکوع و سجود دونوں صورتیں سر نیاز خم کرنے کی ہیں اس لیے دونوں کا ایک ہی حکم ہونا چاہیئے سجدے کے متعلق حکم ہے ۔
 ( فَسَبِّحْ بَحَمْدِ رَبِّکَ وَ کُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ )
اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو اور سجدہ کرنے والوں میں شامل ہوجائو ۔
 اس لیے رکوع و سجود میں تلاوت آیات کی ممانعت ہے کہ حکم صرف تسبیح و تحمید کا ہے ۔ سبحان ربی الاعلیٰ و بحمدہ سجدے میں اورسبحان ربی العظیم و بحمدہ رکوع میں کہنا چاہیئے ۔ تلاوت مخالفت حکم بھی ہوگی اور مخالفت سبیل المومنین بھی ۔ مخالفت سنت تو اس فرقے کا خاص ” دینی فریضہ ” ہے اس لیے مخالفت سنت کا الزام ان پر نہیں عائد کرتا ہوں ۔ قرآنی حکم اور سبیل المومنین کا اتباع ان پر بہر حال فرض ہے مگر سبیل المومنین کی تو مطلق پرواہی یہ لوگ کبھی نہیں کرتے باوجودیکہ ازروئے قرآن مجید سبیل المومنین کے خلاف راہ اختیار کرنے والا قطعی جہنمی ہے ۔ ( نساء ١١٥)
اس آیت کریمہ میں تلاوت کا حکم صریح ہے اور اشارہ نماز کے قیام میں تلاوت کا حکم ہے اس لیے وحی کتابی کی خصوصیت ظاہر کردی مگر اتباع چونکہ ہر قسم کی وحی کا فرض ہے اس لیے جہاں اتباع کا حکم ہے وہاں عام وحی کے اتباع کا حکم یا ذکر ہے ان آیتوں میں ( من الکتاب ) کی قید نہیں لگائی گئی ۔ تو اب اتباعِ وحی کے ذکر یا حکم کی آیات کریمہ ایمان و دیانت کی نظر سے خدا ترسی کے جذبے کے ماتحت ملاحظہ فرمائیے۔
1) قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّىْ مَلَكٌ  ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ  (انعام :٥٠
کہہ دو ( اے رسول ) کہ نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے ( دیئے ہوئے ) خزانے ہیں اور نہ میں غیب ( کی باتیں ) جانتا ہوں اور نہ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔ میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جس ( بات ) کی وحی میری طرف کی جاتی ہے ۔
٢)  اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ  ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ  ۚ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ  ١٠٦؁ (انعام : ١٠٧)
” (اے رسول ) تم اتباع کرو اس ( بات ) کا جس کی وحی تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے کی گئی اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور مشرکین کی طرف سے منہ پھیر لو ( ان کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کرو )۔
(٣) (ۭقُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ  ) ( اعراف:٢٠٣)
کہہ دو ( اے رسول ) کہ میں اتباع صرف اسی کا کرتا ہوں جس کی وحی میری طرف میرے رب کی طرف سے کی جاتی ہے ۔
(٤)  (وَاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتّٰى يَحْكُمَ اللّٰهُ     ښ      وَھُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ          ١٠٩؀ۧ
جو وحی ( اے رسول ) تمہاری طرف کی جائے تم اس کا اتباع کرو اور صبر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔”  ( سورئہ یونس کی آخری آیت
(٥) وَّاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا   Ą۝ۙ
( اے رسول ) تمہارے رب کی طرف سے جو وحی کی جائے اس کا اتباع کرتے رہو تم لوگ جو کچھ کروگے اللہ تعالیٰ بیشک اس سے باخبر ہے ۔” (احزاب :٢
ان پانچ آیتوں میں اتباعِ وحی کا حکم ہے اور یہ حکم عام وحی سے متعلق ہے کہیں بھی کتاب کی قید نہیں ۔
اتباع ما انزل
سورة اعراف کی تیسری آیتِ کریمہ ہے :
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ  ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ    Ǽ۝
تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ تمہاری طرف اتارا گیا ہے اسی کا اتباع کرو اور اپنے رب کے سوا ( دوسروں کو ) اپنا ولی ( کارساز مالک ) بنا کر ان کا اتباع نہ کرو ۔ بہت کم تم لوگ نصیحت کرتے ہو ۔
اس آیتِ کریمہ میں ( مَا أُنزِلَ ِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ ) سے صرف قرآن مجید مراد لینا صحیح (٣) مان بھی لیں تو یہاں من دونہ کی ضمیراسی ما انزل یعنی قرآن مجید کی طرف پھیرنا یا تو جہالت ہے یا جانتے بوجھتے ہٹ دھرمی ہے رسول اللہ کے قلبِ مبارک پر جو باتیں القاء ہوتی تھیں حضور کو جن باتوں کا الہام ہوتا تھا وہ بھی جب نزول وحی کی ایک صورت تھی جس کو میں قرآنی آیات سے ثابت کرچکا ہوں تو الہام نبوی کو ما انزل سے بالکل خارج کوئی مومن خدا ترس کس دلیل سے کرسکتا ہے ؟ اسی طرح خواب میں جو وحی حضور پر نازل کی گئی وہ بھی ما انزل میں ضرور داخل ہے اور جو زبانی پیغام یا ہدایت یا مژدہ فرشتہ لے کر نازل ہوا ( نزل بہ الروح الامین ) کی حیثیت سے اس کو ما انزل سے خارج کیوں سمجھا جائے گا ؟ جس طرح ما یوحیٰ اور ما اوحیٰ عام ہے بالکل اسی طرح ما انزل بھی عام ہے یقینا قرآن مجید ما اوحیٰ میں سے بہت زیادہ عظمت و اہمیت والی وحی ہے اس طرح ما انزل میں سے بھی وہ بہت زیادہ عظمت و اہمیت والا منزل من اللہ ہے مگر اس سے قرآن مجید کے سوا غیر متلو وحیوں کا انکار تو کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوتا ہر ما انزل واجب الاتباع ہے مگر منزل یعنی ما انزل کے نازل کرنے والے کو اپنا ولی واحد مان کر اس کی اطاعت کے ماتحت اس کے نازل کردہ احکام کا اتباع واجب ہے اگر کسی نے احکام قرآنی کا اتباع کیا حکومتِ اسلامیہ کے حکام کی داروگیر سے ڈرکر۔ اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور والی سمجھ کر نہیں تو اس نے بھی من دونہ اولیاء کا اتباع کیا ۔ اتباعِ احکام قرآنی میں نیت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ضروری ہے باقی رہی من دونہ کی ضمیر تو اس کو ما انزل کی طرف پھیرنا کھلی ہوئی جہالت یا کھلی ہوئی ہٹ دھرمی ہے ۔ ( لا تتبعوا من دونہ اولیاء ) میں لا تتبعوا کا مفعول اولیاء ہے یعنی جس کی طرف من دونہ کی ضمیر پھرتی ہے اسی کو اپنا ولی سمجھو اور اسی کے احکام کا اتباع کرو ، اسی کے بھیجے ہوئے رسول کا اتباع کرو اس کے سوا دوسروں کو اپنا ولی بنا کر ان کا اتباع نہ کرو ۔ قرآن کو ولی نہیں بنایا جاسکتا ۔ ولی وہی ہوگا جو علم و ارادہ اور قدرت و قوت والا ہو جو ولایت کا حق ادا کرسکے اور ظاہر ہے کہ قرآن مجید علم و ارادہ اور قدرت و قوت والا نہیں ہے ۔ جو ولایت کا حق ادا کرسکے اسی لیے قرآن مجید میں قرآن مجیدکے لیے ولی کا لفظ کہیں نہیں آیا جہاں آیا ہے اللہ کے لیے آیا ہے مومنین کا ولی اللہ ہے اور کفار کا شیطان ہے ۔
اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا 
اللہ تعالیٰ مومنین کا ولی ہے ۔” ( بقرہ : ٢٥٧)
حضرت یوسف علیہ السلام نے دعا کرتے ہوئے فرمایا :
(اَنْتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ
تو میرا ولی ہے دنیا و آخرت میں ۔” ( یوسف : ١٠١)
( وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ )
مومنین کا ولی اللہ تعالیٰ ہے ۔” ( آل عمران : ٧٨ )
وَاللّٰهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ           19؀
تقویٰ والوں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے ۔” ( جاثیہ :١٩)
اور بہت سی آیتیں ہیں ۔ غرض ولی کوئی صاحبِ عقل و علم و ارادہ و اختیار ہی ہوسکتا ہے ایک کتاب خواہ وہ کتاب اللہ ہی کیوں نہ ہو اس کو ولی قرار نہیں دے سکتے نہ کہہ سکتے ہیں اس لیے اس آیت کریمہ میں من دونہ کی ضمیر ربکم ہی کی طرف لوٹتی ہے جو شخص اس ضمیر کو ما انزل کی طرف پھیرے وہ جاہل ہے یا ہٹ دھرم یا معنوی تحریف کرنے والا ہے ۔
دوسری آیتِ کریمہ
وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ  (اعراف : ١٥٧)
اور اتباع کرو اس نور کا جو ان کے ساتھ اتارا گیا ۔
یہاں النور سے عام طور پر قرآن مجید ہی مراد لیا جاتا ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو وحی اور جس قسم کی وحی کسی نبی پر جب بھی نازل ہوئی تھی وہ نور ہی تھی ہر وحی ایک نورہے اس لیے اس آیتِ کریمہ سے بھی غیر قرآنی وحی کو خارج سمجھنا غلط ہے ۔ جب قرآنی آیتوں سے غیر قرآنی وحی کا وجود ثابت ہوچکا تو قرآنی و غیر قرآنی ہر قسم کی وحی اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ نور ہے ۔ یہ بات دوسری ہے جب کسی اسم جنس کا ذکر ہوگا تو عموماً فرد اعظم و اہم کی طرف پہلے ذہن جائے گا کتاب اللہ ہر دوسری قسم کی وحی سے زیادہ اہم اور زیادہ واجب التمسک ہے اس لیے اس آیتِ کریمہ میں ( النور الذی انزل معہ ) سے قرآن مجید ہی کی طرف پہلے ذہن جائے تو حق بجانب ہے اس لیے کہ دوسری قسم کی ہر وحی کتاب اللہ کے تابع ہے ۔ اسی لیے تلاوت کا حکم صرف قرآن مجید وحی متلو ہی کا ہوا ۔ وحی غیر متلو کی تلاوت کا حکم نہیں ہوا وحی متلو کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لے لیا اور اس کو ہر طرح محفوظ رکھا ۔ وحی غیر متلو کی حفاظت امت کے ذمے چھوڑ دی اورامت نے اس کی حفاظت کی ۔ اگلی امتوں کے ذمے کتاب اللہ وحی متلو اور سبیل المومنین سب کی حفاظت تھی چونکہ اگلی امتیں قومی امتیں تھیں ہر قوم میں نبی آتے تھے ان کا دین بھی قومی ان کی کتاب بھی قومی تھی ۔
جب پورے الناس کے لیے ایک نبی ، ایک کتاب اور ایک دین آگیا تو اب چونکہ نہ کوئی نبی آئے گا نہ کوئی نئی کتاب آئے گی اس لیے اس آخری کتاب کی حفاظت تو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمّہ رکھی اور نبی آخر الزماں پر جو وحی غیر متلو آئی تھی ان میں سے جو اہم دینی وحی تھی ان کو بھی قرآن مجید میں ذکر کرکے محفوظ کردیا گیا ہے باقی کل وحی غیر متلو اور سبیل المومنین کی حفاظت امت کے ذمے چھوڑ دی تاکہ یہ امت بھی اگلی امتوں کی طرح اپنی ذمہ داریوں کا خیال رکھے اور ذمہ داریوں سے بالکل آزاد نہ رہے اور اب چونکہ کوئی نبی نہیں آئے گا اس لیے جو کچھ وحی غیر متلو اور سبیل المومنین میں اختلافات اور کمی بیشی اور تبدیلی و تغیر پیدا ہوجائے اس کو کتاب اللہ کے ذریعے درست کرلیں اور دینی اختلافات کا فیصلہ کرلیں ۔
حواشی
(١)        کتاب میں تنوین وحدت تعظیمی ہے اس لیے ترجمہ میں عظمت کا اظہار کیا گیا ہر زبان میں وحدت تعظیمی ہوتی ہے ۔
(٢)         ذکریٰ چونکہ غیر منصرف ہے اس لیے اس پر تنوین نہیں آسکتی مگر تنکیر موجود ہے اور یہ تنکیر اس وحدت تعظیمی کی ہے ، جو کتاب میں تنوین کی صورت میں ہے اصل تو مفہوم تنکر و وحدت کا ہے ۔ تنوین تو تنکر و وحدت کی ظاہری علامت ہے ۔
(٣)       ما انزل الیکم من ربکم سے صرف قرآن مجید مراد لینا صحیح مان بھی لیں ، یہ اس لیے لکھا ہے کہ اگر نزل بہ الروح الامین اور نزلہ روح القدس کی حیثیت آپ جانتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ صرف وہی وحی معتبر ہو جس میں مفہوم اس کے الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل لائے ہوں اور وہ وحی معتبر نہ ہو جس کا صرف مفہوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل اپنے الفاظ میں لائے ہوں یا جس کے مفہوم کا القاء حضور کے قلبِ مبارک پر کیا ہو اور حضور علیہ السلام نے اپنے الفاظ طیبہ میں اس مفہوم کو ادا فرمایا ہو ۔ نزل بہ الروح الامین اور نزل روح القدس توتینوں قسم کی وحی ہوئی فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ کی نوعیت تینوں قسم کی وحیوں میں موجود ہے اس لیے صرف قرآن مجید کے منزل من اللہ ماننے پر اصرار اور باقی دونوں وحیوں کے منزل من اللہ ہونے سے انکار تو جائز نہیں خصوصاً جب ان دو قسم کی وحیوں کا ثبوت بھی قرآن مجید سے مل رہا ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ اصل وحی کتاب اللہ ہے اس کے علاوہ جتنی قسم کی وحی بھی ہوئی وہ کتاب اللہ کے تابع ہے اس لیے نزل بہ اور نزلہ کی ضمیر مجرور و مفعولی قرآن مجید ہی کی طرف پھرتی ہے اس لیے کہ ان آیات کریمہ کے مخاطب منکرین تھے ان سے اصل کتاب کو منزل من اللہ منوانا تھا جو کتاب پر ایمان لے آئے گا وہ ایسی ہی ہر چیز پر ایمان لے آئے گا جو کتاب سے ثابت ہو غیر کتابی وحی تو مومنین کے لیے ہے کہ نہ کہ منکرین کے لیے ۔جو لوگ مصلحةً صرف قرآن مجید کے الفاظ پر ایمان کا زبان سے اقرار کرتے ہیں مگر مفہوم ہر آیت میں اپنا ٹھونستے ہیں انکے نزدیک تو اللہ تعالیٰ نے صرف الفاظ بے مفہوم نازل کیے ہیں جو اپنا کوئی مفہوم ہی نہیں رکھتے تو جن کے نزدیک اللہ نے نازل ہی نہیں فرمایا وہ صرف مفہوم والی وحی کو منزل من اللہ کس طرح تسلیم کریں گے اس لیے وہ کوئی آیت بھی جب لکھتے ہیں تو ا سکا لفظی ترجمہ لکھ کر اگر مفہوم لکھیں تو ہر اردو داں ترجمہ اور مفہوم کو ملا کر سمجھ لے گا کہ یہ مفہوم جو بیان کیا گیا ہے واقعی اس آیت کریمہ کا صحیح مفہوم ہے یا نہیں ؟ اس لیے جب لکھیں گے تو بغیر لفظی ترجمہ کے آیت لکھ کر صرف مفہوم لکھیں گے مگر ان کو خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف لفظوں میں فرمادیا ہے ۔:
( اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا ) ۔
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012 سے ماخوذ ہے۔

المغراف فی تفسیر سورۂ ق 4


جریدہ "الواقۃ” کراچی شمارہ ٤، رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی، اگست 2012

مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ

تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

قسط نمبر ٤ 

اور رسول اللہۖنے فرمایا :

 ” ما شی اثقل من میزان المؤمن یوم القیٰمة من خلق حسن و انّ اللّٰہ لیبغض الفاحش البذی ۔”رواہ الترمذی (١) عن أبی الدرداء رفعاً ” یعنی

” مسلمان کے ترازو میں قیامت کے دن عمدہ اخلاق سے زیادہ بھاری کچھ نہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ نفرت رکھتا ہے بدکار کج خلق سے ۔” اس کو ترمذی نے ابی درداء سے ]مرفوعاً[روایت کیا ہے ۔

( چہارم ) آفتاب بھی من جملہ ستاروں کے ایک ستارہ ہے ، مگر جس قدر روشنی ، حرارت ، منفعت اور تأ ثر آفتاب میں ہے دوسرے ستاروں میں ہر گز نہیں ، بلکہ سب کے سب اس کے آگے ہیچ اور کالعدم ہیں ، اور جو کچھ بھی رکھتے ہیں ، تو آفتاب ہی کی بدولت ۔ اسی طرح سے زمین میں ہزاروں انسان ہیں اور ہر انسان بجائے خود زمین کی زینت ہے مگر انبیاء اور خاص کر ان میں سے ہمارے پیغمبر ۖ مثلِ آفتاب کے ہیں ، اور انہیں کی ضیاء و نور سے سب روشنی حاصل کرتے ہیں ، اور سارے انسان اور ان کے کمالات آپ ۖ کے سامنے اور آپ ۖ کے کمالات کے سامنے منعدم] ناپید ، غیر موجود[اور نیست ]فنا و نابود[ ہیں ۔

( پنجم )آسمان میں دن کو ایک خاص رنگ و روپ ہوتا ہے ،جو شام کے آنے سے متغیر ہونے لگتا ہے ۔ یہاں تک کہ جب پوری شب ہوجاتی ہے ، دن کے سارے سامان درہم برہم ہوجاتے ہیں اور ایک نئے سامان اور خاص طور سے آسمان میں ایک مجلس ستاروں سے ترتیب دی جاتی ہے ۔ پھر یہ حالت صبح کے آنے سے بدلنے لگتی ہے ۔ یہاں تک کہ جب اچھی طرح سے دن ہوجاتا ہے ، کل کی سما بعینہ عود ]لوٹ[ کر آتی ہے ، جس میں گزشتہ دن سے سرمو فرق نہیں ہوتا پھر رفتہ رفتہ شب ہوتی ہے ، اور گزشتہ شب کی پوری حالت عود کر آتی ہے ۔ ان انقلابات روز مرہ اور اعادئہ معدومات ]گزر جانے والے امر کو لوٹانا[ کو جو اللہ بڑی آسانی کے ساتھ کرتا ہے ، وہ اعادئہ روح اور احیائے موتیٰ پر قادر ہے اور اس کے آگے

(ذٰلِکَ رَجْع بَعِیْد) (٢) ] سورہ ق: ٣

کہنا خود جائے تعجب اور بعید ہے ۔

( ششم ) شب کو آسمان میں ہزاروں ستارے نظر آتے ہیں ، اور ہر ستارہ اپنی اپنی جگہ پر آسمان کی رونق و زینت ہے اور نور و ضیا میں کامل ہونے کی وجہ سے گویا  انا المضیُّ انا النّور و انا زینة الافلاک (٣) کا دم بھرتا ہے ۔ ان کے اختلاف سمت و قد و قامت و لون ]رنگ[ و ہئیت گھنے اور بکھرے ہونے کو غور سے دیکھے تو عجیب دلکش نظارہ معلوم ہوتا ہے ۔ ارباب ہیئت آلات رصد کے ذریعہ سے عجائبات سماوی کو بچشم سر خود دیکھتے ہیں اور صنعت کردگار کی داد دیتے ہیں ، مگر صبح ہوتے ہی آفتاب نکلتا ہے اور سارے ستارے اپنی اپنی جگہ سے غائب ہوجاتے ہیں ، اور سارا بساطِ شب الٹ جاتا ہے ۔ تمام آسمان میں صرف ایک آفتاب ہی کی روشنی نظر آتی ہے اور شب کے مدعیانِ نور و ضیا سے گویا بہ زبانِ حال پوچھتا ہے  این القمر و ضیاؤہ ، این عطارد و این مریخ و این الشھب الثواقب لمن النّور الیوم غیری  (٤) مگر کوئی نہیں جو دم مارے ۔

علیٰ ہذا المثال بروزِ حشر جناب باری تعالیٰ زمین پر رونق افروز ہوگا ، اور ساری جمعیت اور ملک و ملک کا خاتمہ ہوجائے گا ، اور صرف ایک ذات پاک باری میں منحصر رہے گا ، اس وقت فرمائے گا :

 (  لِّمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ) (٥)  ] سورہ غافر: ١٦[

 أین الملوک الارض ۔(٦) غرض آسمان کی مجموعی حالت ذاتی و صفاتی یعنی وجود و ارتفاع و زینت و وسعت دیکھو تو خداوندِ تعالیٰ کے کمالِ قدرت و غایت صنّاعی و تدبیر و حکمت کی دلیل ہے اور ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ غور کرو تو ہر ایک بالاستقلال دلیل ہے
( وَ الْأَرْضَ مَدَدْنَاہَا )  ” اور میں نے زمین کو پھیلایا ”
جس کی فراخی و وسعت کی وجہ سے اب تک اس کی انتہائی حدود کا ٹھیک اندازہ نہیں ملا ۔

حواشی
(١)        سنن الترمذی : کتاب البر و الصلة ، باب حسن الخلق ۔امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے ۔ شیخ البانی کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے ۔
(٢)         ” پھر یہ دوبارہ واپسی ناممکن ہے ۔ ”کفار نے بعید کا لفظ اپنی دانست میں ناممکن کے معنوں میں استعمال کیا تھا ۔
(٣)         ہم چمکا دینے والے ہیں ، ہم روشنی ہیں اور ہم آسمان کی زینت ہیں ۔ ( مؤلف )
(٤)         کہاں ہے چاند اور اس کی روشنی ، کہاں ہے عطارد ، کہاں ہے مریخ اور کہاں ہیں شہاب ثاقب جن کے لیے روشنی ہے ، جو آج موجود نہیں ۔
(٥)         ” کس کے لیے ہے آج کے دن کی بادشاہی ، صرف اللہ غالب کے لیے ۔”
(٦)         کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ۔

[جاري ہے۔۔۔۔۔]
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی، اگست 2012- سے ماخوذ ہے۔ 
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، – جمادی الثانی 1433ھ / اپریل، مئی 2012- سے قسط وار شائع ہو رہا ہے۔