مشعر باصطلاح صوفیہ و معارج و مدارج اہل سلوک


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمة اللہ علیہترجمہ : مولانا عبد العزیز صمدن فرخ آبادی

مشعر باصطلاح صوفیہو معارج و مدارج اہل سلوک

شیخ الکل سیّد نذیر حسین محدث دہلوی رحمة اللہ علیہکا ایک ایمان افروز مکتوب

نحمدہ و نستعینھ و نصلی و نسلم عاجز سیّد نذیر حسین بخدمت شریف میرے مفتخر و محبوب مولوی سیّد عبد العزیز صمدنی سلمہ ربّہ۔
بعد السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ ۔ واضح ہو کہ آپ کا خط پہنچ کر خوشی و خرمی حاصل ہوئی ۔ انبساط (کشادگی ) و انشراحِ قلب کی حالت تحریر کرکے میرے ناسور کہنہ کو تازہ کردیا ۔
اے عزیز ! تراخی و توقف شانِ باری تعالیٰ ہے ، جو چیز دیر سے حاصل ہوتی ہے ، وہ دیرپا ہوتی ہے ۔ سلطان الاذکار قرآن مجید ہے ۔ جو مجھ سے سیکھا ہے اس سے کام لیں ۔ ” فنا فی الشیخ ” میرے حضرات کا طریقہ نہیں ہے بلکہ شیخ اس لیے ہے کہ قرآن و حدیث سے ان کو جو کچھ معلوم ہوا ہے یا بزرگانِ طریقتِ صادقہ نے ان کو عطا فرمایا ہے ، وہ طالب کو پہنچادیں ۔ شیخ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ اپنا قدم حلقۂ شریعت سے باہر رکھے جو کوئی میرا حال دریافت کرے اس کو میری طرف سے کہہ دو۔

بلبل از گل نگزرد گر در چمن بیند مرا
بت پرستی کے کند گر برہمن بیند مرا
در سخن پنہاں شدم مانند بو در برگ گل
ہر کہ دیدن میل دارد در سخن بیند مرا
میری باتیں صرف اللہ اور اس کے رسول کا قول ہے ۔صحاح ستہ میں باب رقاق کو دیکھا اور پڑھا ہے ، وہ سب تصوف و درویشی ہے ۔ درویشوں نے کہاں سے حاصل کیا ہے اسی فصل رقاق سے میرے شیخ علیہ الرحمة (١)  برابر فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے فعل سے آنکھیں بند کرلو ، میری باتوں پر کان رکھو اور اپنے دل میں جگہ دو ۔ ” یاد ہوگا کہ فقیر نے آپ سے بیان کیا تھا کہ اگر تہجد کے وقت خلوصِ دلی میسر ہو اور کسی طرف توجہ نہیں ہو تو یہ خلوص ہزار چلّوں کے برابر ہے ۔ اربعین ( چلّہ کشی ) یہ نہیں ہے کہ قبر پر بیٹھیں ، یہ فعل رسول سے منقول نہیں ہے اور نہ اس کا اجر مذکور ہے ۔ خدا رسیدگی کا مقام مسجد ہے نہ کہ قبر ۔ مسجد سے جو کوئی بھاگے اور مزار پر بیٹھے وہ خدا سے بھاگتا ہے ، اس کی تقدیر میں خدا رسیدگی نہ ہوگی ۔ کشفِ قبور کے رمز کو واضح طریق آپ سے کہہ چکا ہوں ان باتوں کو خدا رسیدگی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اگر کوئی شخص کہے کہ میرے پیر پانی پر چلتے ہیں یا وہ آسمان پر اُڑ جاتے ہیں ہرگز اس کے اڑنے اور آسمان پر جانے کا یقین نہ کرو کیونکہ درویشی میں ایسی شعبدہ بازی یعنی ” بر آب رفتن و بر آسمان پریدن ”سے کیا تعلق بلکہ
چشم بند و گوش بند و لب بہ بند
گر نہ بینی سرّ حق بر ما بخند
اے عزیز ! ایسی چلّہ کشی سے کیا حاصل ، جو آج کل کے لوگ ( ارباب ریاست ) قبر پرستی کو آئینِ درویشی خیال کرتے ہیں ۔ حالانکہ قرآن و حدیث اس کے خلاف ندا کر رہا ہے ۔ بزرگانِ طریقت ( اللہ تعالیٰ ان کی دلیل کو روشن کرے ) وہ اس قبر پرستی سے ہمیشہ بیزار تھے اور بیزار رہے ۔ ” لطائفِ خمسہ ” ( نمازِ پنجگانہ ) حل مشکلات کی کفیل ہوکر نورانیت کے نزول کا باعث ہوتی ہے ۔ گو یا نماز اسمِ اعظم ہے ۔ ہمیشہ اپنی حالت پر نظر ڈالنا چاہیئے اور دوسرے کی عیب جوئی سے پرہیز کرنا چاہیئے ، یہ بات مشکلوں کے حل کرنے والی ہے ۔ سمجھو اور غور کرو آفات نازلہ پر صبر کرنا آلِ عباد و صالحین کا طریقہ ہے اور صبر پر ثابت قدم رہنا صوفیا کا شعار ہے ۔ جو کچھ پہنچتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو کچھ جاتا ہے وہ اس کے حکم سے باہر نہیں ہے ۔ فی زمانہ کے صوفیا کا ذکر آپ نے کیا یہ سب مکرو فریب سے گدائی کرتے اور پیٹ پالتے ہیں اور دنیا و آخرت کی رُو سیاہی حاصل کرتے ہیں ۔ ان مکار دیو سیرت سے پرہیز کرنا دانشمندوں کا کام ہے ۔ حضرت سیّد السالکین (٢)قدس سرہ صادق پور (٣) میں فرماتے تھے کہ” فقیروں کی نظر میں اللہ تعالیٰ نے تاثیر دی ہے اگر طالب صادق ہے تو ایک نگاہ میں مراتبِ اعلیٰ کو پہنچادیتے ہیں ۔” وہ مراتب کیا ہیں ؟ خدا کو پہچاننا اور اپنے آپ کو خدا کا بندہ جاننا ۔ یہی تعلیم درویشی کا اصل اصول ہے ۔
 حلقہ قائم کرنا ، ہو حق کرنا ، شور و غل مچانا اور اہلِ محلہ کو پریشانی میں ڈالنا سوتے ہوؤں کو جگانا یہ سب باتیں حصولِ زر کے لیے ہیں ، ورنہ خدا سے مخفی کلامِ الٰہی ناطق ہے ۔ حضرت قدسی سیرة شاہ محمد آفاق صاحب  فرماتے تھے کہ ” مینڈک کی طرح شور مچانا شانِ درویشی نہیں ہے خدا تعالیٰ سویا ہوا نہیں ہے کہ اس کو جگائیں ۔”بلکہ حرکاتِ بیہودہ کو وہ عملِ غیر صالح تصور کرتے ہیں۔ حضرت رسولِ خدا نے فرمایا کہ ” میں عبادت بھی کرتا ہوں ، نکاح بھی کرتا ہوں اور غذا بھی کھاتا ہوں لیکن میں شور و غل نہیں کرتا ہوں اور عاجزی و انکساری نبیوں کی شان ہے ۔ ”
اے عزیز ! شرک و بدعت سے الگ رہنا اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا صوفیائِ کرام کا بہترین طریقہ ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے چند اعمال کو دریافت کیا ہے ، یہاں آئیے اور سنیے اور چپ رہیے کیونکہ
خموشی معنی دارد کہ در گفتن نمے آید
و اللہ اعلم بحقیقة الحال ۔ و السلام خیر الختام
حواشی
(١)          شیخ سے مراد شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی رحمہ اللہ ( ١١٩٢ھ -١٢٦٢ھ )ہیں ۔
(٢)         سیّد السالکین سے مراد حضرت سیّد احمد شہید رائے بریلوی رحمہ اللہ ( ١٢٠٠ھ -١٢٤٦ھ ) ہیں ۔
(٣)         صادق پور ، عظیم آباد پٹنہ کا مشہورِ انام محلہ ، جو انگریزی استبداد کے زمانے میں اندرونِ ہند مجاہدین کا مرکزِ اوّل تھا ۔
Advertisements

تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش


الواقعۃ شمارہ ٣ 

محمد عالمگیر 

مترجم : ابو عمار محمد سلیم

شیخ عیسیٰ نورالدین اور حلول کا تصور 

 فرتھیوف شوؤن ( Frithjof Schuon ) عرف شیخ  عیسیٰ نورالدین (١٩٩٨- ١٩٠٧)۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے worldwisdom.com۔  ان کی زندگی کی تفصیل اور اسلامی نقطہ نظر سے گمراہ کن خیالات کو ان صفحات میں ظاہر کرنا ممکن نہیں ۔ یہ موجودہ دور کے ایک صوفی اور صاحب قلم حضرت تھے۔انہوں نے اپنا پورا زور اس نظریہ کی اشاعت پر صرف کیا کہ تمام مذاہب کی ایک ماورائی وحدت ہے۔

ان کے مطابق مذاہب کے درمیان جو اختلافات ہیں وہ در اصل پردے ہیں۔ اگر ان پردوں کو اٹھا دیا جائے تو تمام مذاہب ایک ہو جاتے ہیں۔ اس خیال کا پرچار کرتے ہوئے وہ ایک قدم اور آگے بڑھے اور یہ بیباکانہ بیان دیا کہ خدا انسان بن گیا تاکہ انسان خدا بن جائے (استغفراللہ)۔ یہ سچ ہے کہ معاشرتی اور تہذیبی اقدار کے حوالے سے تمام مذاہب میں بڑی یکسانیت پائی جاتی ہے، اور صرف چھوٹے ذہن کے لوگ ہی اس بات پر کہ کھانے پینے کے آداب،  کپڑے پہننے کے اطوار، عبادات کے طریقے، مذہبی رسوم اور اس طرح کی چیزوں پر آپس میں جھگڑتے ہیں۔ یہ اختلافات بذات خود بڑا فساد نہیں ہیں اس لیے معاشرے میں عموماًان پر آپس میں سمجھوتا ہو جاتا ہے ، اور ان کو قبول کرلیا جاتا ہے۔  حلانکہ یہ اختلافات بھی ان کے مذاہب کے اعتقادات سے ہی پیدا ہوئے ہیں اور ان تمام مذاہب کی بنیادی تعلیم کے ضمن میں یہ اختلافات حقیقی ہیں، ناقابل مصالحت ہیں اور ان پر سمجھوتا نہیں ہو سکتا ہے۔
 
مغرب کے وہ صوفی جو دوسرے مذاہب سے اچھی چیزیں ڈھونڈھ کر اسلام میں داخل کرنا چاہتے ہیں انہوں نے ایک نیا نظریہ قائم کیا ہے کہ خدا ئی منصوبہ کے تحت دنیا مختلف علاقوں میں تقسیم کی ہوئی ہے اور ان علاقوں میں سے ہرعلاقہ میں ایک خاص مذہب کوپھلنے پھولنے کی آزادی ہے۔ ان کی ایک منطق یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو جب ان علاقوں پر دوسرے مذاہب کے لوگ حملہ آور ہوئے پھر بھی ان علاقوں میں ان کا اپنا  مذہب اسی طرح صدیوں سے قائم و دائم چلا آرہا ہے۔یہ نظریہ اسلام کے مرکزی تعلیم سے متحارب ہے، جس کا کہنا ہے کہ انسان نے جب اللہ کے احکامات سے رو گردانی کی اور خاص طور سے توحید کے خلاف ہوئے تو اللہ نے اپنے پیغمبر بھیجے اور ہدایات نازل کیں تاکہ انسان اللہ کو اس طرح سمجھ سکے جس طرح اسے سمجھنا چاہئے۔  خدا کا انسان بن جانا ایک عیسا ئی نظریہ ہے جو ان کے نظریہ تجسیم کی پیداوار ہے ۔ اسی طرح انسان کا خدا بن جانا  ہندووںکے فلسفہِ نروان کا داعی ہے جس کے تحت انسان اللہ سے مل جاتا ہے اور آواگون کے دائمی چکر سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔
 

 شیخ عبدالواحد یحیٰ کا پیدائش اور موت کے چکر کا فلسفہ  

اوپر درج شدہ سلسلہ فلسفہ کی ایک اور شخصیت رِنے گِنوں ( Rene Guenon ) جو ١٨٨٦ء میں پیدا ہوئے اور ١٩١١ ء میں  شیخ عبدالواحد یحیٰ کے نام سے جانے گئے۔  انہوں نے ١٧ کتابیں لکھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی کتاب Introduction to the Study of Hindu Doctrines  ١٩٢١ء میں شائع ہوئی۔ یعنی ان کے اسلام قبول کرنے اور شیخ کے عہدے پر فائض ہونے کے دس سال بعد۔ اور اس سے اگلے چھ سال کے بعد ١٩٢٧ء  میں ان کی ایک اور زبردست کتاب منظر عام پر آئی جس کا نام تھا Man and His Becoming According to Vedanta  ۔ اس سے بھی زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ  ٩٢٩ ١ء میں اپنے کچھ ہمرازوں اور ساتھیوں کے اصرار پر انہوں نے فرانس میں ایک روایتی انداز کاMasonic Lodge کی بنیاد ڈالنے کے لیے رضامندی کا اظہار کر دیا ، جس کا نام ان کی ایک کتاب La Grande Triade   یعنی تین کا جوڑا کے نام پر رکھا گیا۔ اس لاج کے اولین بانی اس سے کچھ عرصہ بعد الگ ہو گئے، مگر یہ لاج آج بھی زندہ ہے اور Grande Lodge de France کا حصہ ہے۔  اس کے بعد انہوں نے ایک کتاب لکھی  Symbolism of the Cross   جو ١٩٣١ء میں منظر عام پر آئی اور یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ ١٩٤٥ء میں انہوں نےThe Reign of Quantity and the Signs of the Times لکھی۔ وہ ١٩٥١ء میں فوت ہوئے۔ ( ماخوذ از وکی پیڈیا) 
انہوں نے اپنی کتاب The Reign of Quantity and the Signs of the Times   میں لکھا :
 ”درحقیقت دنیا کا آخری وقت بار بار آسکتا ہے۔ اس لیے کہ مختلف دوران کے کئی چکر ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے اندر چکراتے رہتے ہیں۔ اس لیے بھی کہ یہ تخمینہ مشابہت رکھنے والے دوسرے ادوار میں ہر درجہ پر لاگو ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہر مرتبہ آخر کی اہمیت ایک جیسی نہیں ہے، بلکہ جس دور کے آخر کی بات ہو رہی ہے وہ بہت اہم ہے اس لیے کہ یہ آخر پورے مَنوَنْتَر یا انسانیت کے وجود سے متعلق ہے۔ مگر پھر بھی یہ بات زور دے کر کہی جاسکتی ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ آخر پوری کائنات کا اختتام ہے بلکہ دائمی بحا لی کے نظام کے تحت اس آخر کے بعد فوری طور پر ایک نئے منو نتر کی ابتدا ہوگی ۔”
وہ آگے چل کر لکھتے ہیں:
” اس موضوع پر ابھی ایک اور نکتہ کی وضاحت باقی ہے۔ مسلسل ترقی کے داعی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ سنہرا دور ماضی میں نہیں بلکہ مستقبل میں ہے۔  حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک ہمارے اپنے منونتر کا تعلق ہے ،  یہ دور ماضی میں تھا۔ اس لیے کہ یہ اولین دور سے متعلق ہے۔  ایک احساس یہ بھی ہے کہ یہ ماضی میں بھی ہے اور مستقبل میں بھی، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری نظر نہ صرف  موجودہ منونتر پر رہے، بلکہ کائناتی نظام کے چکر کا تواتر پر  بھی ہماری نظر رہے ۔ اس لیے کہ جب مستقبل کی بات ہوگی تو وہ سنہرا دور ایک اگلے منونتر ہی میں ممکن ہے۔

  مَنْوَنْتَر 

اوپر درج کیے گئے اقتباس کو سمجھنے کے لیے منونتر کے مطلب کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ پورانوں یعنی ہندئووں کی مذہبی کتابوں سے اخذ کیا ہوا ایک دیو مالائی تصور ہے۔ وکی پیڈیا اس کے متعلق یہ کہتا ہے: 
 
منونتر یا منو و نتر یا منو کا دور۔ منو ہندئوں کے یہاں نسل انسانی کا بانی ہے۔ منونتر آفاقی وقت کی پیمائش کا ایک پیمانہ ہے۔ منونتردراصل منو اور انتر یعنی دور کا امتزاج ہے جس کا مطلب بنتا ہے منو کا دور یا اس کی زندگی کا دور ۔
  ہر منونتر ایک خاص منو کی تخلیق ہے اور اس کی حکومت کے زیر اثر ہے۔ اس منو کی تخلیق برہما نے کی ہے جو کہ خالق ہے۔ منو دنیا اور اس کی تمام چیزوں کی تخلیق اپنے دور میں خود کرتا ہے، جو اس کی زندگی تک قائم رہتا ہے۔ اس منو کی موت پر برہما ایک اور منو کی تخلیق کرتا ہے تاکہ یہ چکر جو سرشٹی کا چکر کہلاتا ہے چلتا رہے۔ اسی طرح وشنو بھی ایک نئے اوتار کو جنم دیتا ہے اور ایک نیا اِندر اور سات رِشیوں کا تقرر کرتا ہے ۔
ہندئووں کے وقت کے حساب سے ہر ١٤ منو اور ان کے منونتر مل کر ایک کلپا بنتا ہے جس کو جُگ بھی کہتے ہیں، جو  برہما کا دن ہوتاہے۔ ہر کلپا کے خاتمہ پر تمام چیزیں فنا ہوجاتی ہیں اور دنیا بھی ختم ہو جاتی ہے، اور آرام کے دور میں چلی جاتی ہے جسے برہما کی رات کہتے ہیں۔
اس عمل کے بعد برہما تخلیق کا عمل دوبارہ شروع کرتا ہے۔ اور یہ کبھی ختم نہ ہونے والا چکر چلتا رہتا ہے۔ تخلیق کے ہر عمل کے بعد تباہی کا عمل شروع ہوتاہے۔ ان دونوں کاموں کی ذمہ داری ہندئوں کے دیوتا شیو پر ہوتی ہے۔ 
 سُوِیتا وَراہا کلپا (موجودہ کلپا ) کے ١٤ منو  
 پہلا منونتر :  سو یمبھو منو کا دور   دوسرا منونتر:  سو روچش منو کا دور تیسرا منونتر:  اُتم منو کا دور چوتھا منونتر:  تمش منو کا دور پانچواں منونتر:  رَیوت منو کا دورچھٹا منونتر:  چَکشُش منو کا دور ساتواں (موجودہ) منونتر:  ویوسو تھ منو کا دورآٹھواں (اگلا) منونتر:  ساورنی منو کا دورنواں منونتر:  دکشا ساورنی منو کا دور دسواں منونتر:  برہما ساورنی منو کا دور گیارہواں منونتر:  رُدْرا ساورنی منو کا دوربارہواں منونتر:  دھرما ساورنی منو کا دورتیرہواں منونتر:  رَوکیا یا دیو ساورنی منو کا دورچودھواں منونتر:  بَھوتا یا اِندرا ساورنی منو کا دور (ختم  اقتباس وکی پیڈیا )
یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ ہر منونتر کا دورانیہ ٠٠٠،٧٢٠،٣٠٦ برس کا ہوتاہے جو کہ ٧١ چترُجگ پر مشتمل ہے ۔ ہر  چترُجگ کا دورانیہ ٤٣٢٠٠٠٠ سال کا ہے اور ایک چترُجگ میں ٤ جُگ ہوتے ہیں، جن میں  ١٧٢٨٠٠٠ برس ستیہ جگ کا ، ١٢٩٦٠٠٠ تریتا جگ کا ،  ٨٦٤٠٠٠ برس دواپر جگ کا اور ٤٣٢٠٠٠ برس کالی جگ کا ہوتا ہے۔
مختصراً یہ کہ تخلیق ، خاتمہ اور تخلیقِ نو کا یہ لامتناہی چکر  اسی طرح ایک کلپا سے دوسرے کلپا تک جس کے اندر ایک منونتر سے دوسرے منونتر تک اور اس کے اندر چترُجگ سے چترُجگ تک اور اس کے اندر جگ سے جگ تک چکر در چکر مسلسل اور لگاتار چلتا رہتا ہے۔ گو کہ شیخ عبدالواحد نے اس چکر در چکر سلسلہ کو اپنی تحریر میں وضاحت سے ظاہر نہیں کیا ہے، مگر ما قبل میں دیے گئے ان کے اقتباس کودوبارہ پڑھیں جس میں ہم نے قوسین کے اندر اندراجات کا اضافہ کردیا ہے تاکہ بات آسانی سے سمجھ میں آجائے کہ شیخ صاحب کے ذہن میں کیا ہے :
درحقیقت دنیا کا آخری وقت (یعنی قیامت) کئی مرتبہ آسکتا ہے ( جو کہ کسی خاص مانو کے دور پر منطبق ہو) ۔  اس لیے کہ مختلف دوران کے کئی چکر ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے اندر چکراتے رہتے ہیں ( یعنی کلپائوں کے اندر  منونتر، منونتروں کے اندرچترجگ، اور چترجگوں کے اندر٤ جگ)۔اس لیے بھی کہ یہ تخمینہ مشابہت رکھنے والے دوسرے ادوار میں ہر درجہ پر لاگو ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہر مرتبہ آخر کی اہمیت ایک جیسی نہیں ہے، بلکہ جس دور سے وہ متعلق ہو اس پر منحصر ہے (اس لیے کہ ایک کلپا سے دوسرے کلپا تک کی تبدیلی بہت بڑی تبدیلی ہے بمقابلہ منونتر ، چترجگ اورجگ کی تبدیلیوں کے) ، آج کل جس دور کے آخر کی بات ہو رہی ہے وہ بہت اہم ہے اس لیے کہ یہ آخر پورے منو نتر یا انسانیت کے وجود سے متعلق ہے ( شائد اس لیے کہ یہ ساتویں منونترکا اکہترویں چترجگ کا چوتھا جگ ہے) ۔ گویا کہ اسے انسانیت کے زمانی وجود کا دوربھی کہہ سکتے ہیں ( جو ابھی اکہترویں چترجگ کے کالی جگ کا حصہ ہے) ۔ مگر پھر بھی یہ بات زور دے کر کہی جاسکتی ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ آخر پوری کائنات کا اختتام ہے بلکہ دائمی بحالی کا جو اثر ہے وہ فوری طور پر اس آخر سے ایک نئے  منو نتر کے آ غاز ( سوارنی منو کے دور کا آغاز ہوگا جو کہ جاری  وراہا کلپا کا آٹھواں حصہ ہے) کو بحال کرے گا جو ایک دوسرے منو نتر کے دور کا ابتدا بن جائے گا۔
 وہ آگے چل کر لکھتے ہیں:
 ”ابھی ایک اور نکتہ کی وضاحت باقی ہے۔ ترقی کے داعی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ سنہرا  دور ماضی میں نہیں تھا بلکہ مستقبل میں ہے ( یہاں مصنف ترقی کے داعیوں کو قصور وار ٹھہرا رہے ہیں کہ وہ اس قول پر تکیہ کیے ہوئے ہیں کہ ” جیت سچ کی ہوگی” جو یہ اشارہ دے رہا ہے کہ آخر میں آکر سچ ہی جیتے گا)۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک ہمارے اپنے منو نتر کا تعلق ہے ، ( اس کا سنہری دور) ماضی میں تھا۔ ( ایک خیالی تصور جس کی رو سے روحانی یا اخلاقی ترقی بے معنی ہو جاتی ہے ) اس لیے کہ یہ اولین دور سے متعلق ہے۔ ( ان کا اشارہ ستیہ جگ یا سچائی کے دور سے ہے جو موجودہ چتر جگ کا حصہ ہے)۔ ایک احساس یہ بھی ہے کہ یہ ماضی میں بھی ہے ( یعنی پچھلے چتر جگ کے ستیہ جگ میں جو ساتویں منونتر کا حصہ تھا) اور مستقبل میں بھی ( یعنی اس ستیہ جگ میں جو آٹھویں منونتر کا پہلا چترجگ میں ہوگا)۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ نظریں صرف اس موجودہ منوونتر پر نہ رہے ( اس حالت کے قابل قبول ہونے کے لیے یہ قبول کرنا ضروری ہے کہ اس چکر در چکر منونتر اور چترجگ کا کوئی خاتمہ نہیں ہے) بلکہ اس کو تمام کائناتی نظام کے چکر یا دور تک بھی لے جایا جا ئے اس لیے کہ جب مستقبل کی بات ہوگی تو وہ سنہرا دور شائد ایک اگلے منونتر کے دور کے بارے میں بھی ہو سکتا ہے ( یعنی ستیہ جگ جو آٹھویں منونتر کے پہلے چتر جگ میں وقوع پذیر ہوگا)۔ 
اس تمام بحث کو ہم مابعداطبیعیات میں ماورائی نظریہ کے بچائو کی مجبوری سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں، جو ایک مہمل اور لا یعنی بات ہے اور جو موجودہ دور میں سنہرے دور کی موجودگی کے رد کرنے پر مصرہے ۔ اس میں لفظ ” شائد” کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ علم الیقین کا فقدان ہے اور اشارہ دیتا ہے کہ یہ ما بعدالطبیعیات کا ایک کھیل ہے۔ 
 
جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، اسلام کے فلسفہ کے تحت زندگی کی روانی ایک سیدھے خط کے مطابق ہے نہ کہ کسی گول چکر کے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان اور کائنات کی ایک آخری حد مقرر کر رکھی ہے اور ہر چیز اپنے آخر کی طرف رواں دواں ہے۔ جبکہ ہندئوں کا چکر نا ختم ہونے والی تخلیق ، تباہی اور پھر تخلیقِ نو کا پرچار کرتی ہے۔ ان کے عقیدہ کے مطابق نہ کوئی پہلا کلپہ تھا ، اور نہ کوئی آخری کلپہ ہوگا۔ لہٰذا خالق اور مخلوق کے ہمیشہ قائم رہنے کا یہ نظریہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ بڑی آسانی سے اللہ اور اس کی تخلیق کے ایک (یعنی واحد وجود)  ہونے کو قبول کر رہا ہے، جہاں تخلیق صرف فریبِ نظر یعنی مایا بن کر رہ جاتی ہے۔ ( وحدت الوجود بھی اسی نظریہ کا ایک بدل ہے)۔ اور حقیقت یا سچائی کو لِیلا یعنی برہما کے دل بستگی کے کھیل سے مشابہت دی گئی ہے۔ جبکہ قرآن کریم کا فرمان ہے:( وما خلقنا السمٰوات والارض و ما بینھما لاعبین )سورة دخان ( ٣٨ : ٤٤)، یعنی ”ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے کھیل کے لیے نہیں بنایا ہے۔” تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک صوفی شیخ ( یعنی شیخ عبدالواحد) کو اس فرمان قرانی کا علم نہیں تھا؟۔

موت کے بعد کوئی موت نہیں

اسلام میں صاف صاف الفاظ میں تخلیق کا عمل لا شئی سے بتا یا گیا ہے۔ البدیع جو اللہ سبحانہ’ و تعالیٰ کے صفاتی ناموں سے ایک نام ہے، اس بات کی گواہی دیتا ہے۔ انسان بلا شک و شبہ موت کا ذائقہ چکھے گا مگر صرف ایک بار۔ اس کے بعد اس کو ایک دوسری دنیا میں اٹھا یا جائے گا۔ ( وہ دنیا اس دنیا جیسی نہیں ہوگی کہ جس کو دوبارہ تخلیق کیا گیا ہو) اور اس میں اس کو دوبارہ موت نہیں آئے گی۔ قرآن مجید نے کہا کہ:
( لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى ۚ  ) سورة دخان ( ٥٦ : ٤٤)
یعنی پہلی موت کے علاوہ اور کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھے گا۔ 
ایک دوسری جگہ قرآن ان لوگوں کی فرحت کا ذکر کرتا ہے جو جہنم سے بچا لیے گئے اور جنت میں داخل کیے گئے:
( وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ ٥٧  ۔ اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ  اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ ۙ  ٥٨۔ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ ٥٩۔ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ٦٠۔ لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ ٦١۔)  سورة صافات ( ٦١- ٥٧ : ٣٧)
(پھر وہ خوشی کے عالم میں اپنے ساتھیوں سے کہے گا) اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی دوزخ میں حاضر کیے جانے والوں میں ہوتا۔ اچھا تو کیا اب ہمیں موت نہیں آئے گی؟ سوائے اس موت کے جو ہمیں پہلے آچکی؟  اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ زبردست کامیابی یہی ہے۔ اس جیسی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے۔ 
اور جو دوزخ میں داخل ہو گا اس کے لیے کہا کہ:

 لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي  )

 یعنی وہ اس میں نہ مریگا، نہ زندہ رہے گا ۔ سورة طٰہٰ(٧٤ : ٢٠) اور سورة اعلیٰ ( ١٣ : ٨٧)،

جس کا مطلب ہے کہ دوزخی بھی دوسروں کی طرح موت کا مزہ نہیں چکھے گا ، اور اس کی زندگی موت سے بھی بد تر ہو گی۔
 
اب یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن حکیم کا یہ سیدھا سادہ صاف ستھرا بیان ایک ایسے شخص کی نظروں سے نہ گزرا جو مسلمان بھی تھا ، صوفی بھی اور شیخ بھی ؟
 
 اسلام تاریخ کی حد بندی کا نظریہ نہیں دیتا ۔ اس لیے سنہری دور کے لیے کسی خاص دور کے شروع سے متعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ’ کی ہدایت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا،  جبکہ وہ ابھی جنت میں ہی تھے۔ تمام بنی آدم کے اقوام اور قبیلوں کو یہ آزادی حاصل رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان ہدایات پر عمل پیرا ہو کر اپنے دور کو سنہرا بنا لیں۔ انسان نے جب کبھی شیطان مردود کی اتباع کی (جنت میں بھی) تو اس کی قسمت میں تباہی لکھ دی گئی۔ اس لیے پوری انسانی تاریخ  وقتاً فوقتاً اپنے عمل کے زیر اثر یا تو اپنے بہترین سنہرے دور سے گزری یا پھر انتہائی برے دور سے۔
 
اس سلسلہ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ خیالی سنہری دور جس کا اوپر تذکرہ ہواہے کسی ایسے دور میں وقوع پذیر ہوا جس میں سے کوئی خوش قسمت انسان گزرا ہوگا۔ یہ ممکن ہے کہ ایسا دور انسان کی جبلی فطرت کے زیر اثر نہیں تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسی اولین حالت جس کا تذکرہ ہوا، انسان کی اپنی فطرت کے اندر ودیعت کیا ہوا ہے۔ اور یہ فطرت وہی ہے جو اسے صحیح یا غلط عمل کا انتخاب کرواتی ہے۔ مختصراً یہ کہ اس فطرت کی مجموعی پرورش کسی بھی دور کو سنہرے دور میں بدل سکتی ہے۔
 
ایسا بھی ہوا ہے کہ تاریخ کے کسی دور میں قوموں کی انفرادی یا اجتماعی زندگی کے اندر سے تمام اچھائی غائب ہو گئی ہوجیسے جناب خاتم المرتبت پیغمبر اسلام ۖ کی بعثت سے قبل دنیا بھر کا حال تھا۔ ایسے تمام مواقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ہدایات کے نزول کا اعادہ کیا تاکہ ما بعد الطبیعیاتی نحوست کو صاف کیا جا سکے۔( عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں Scribes اور Pharisees کی کارکردگی غور طلب ہیں)۔  اور پھر انسانیت نے پیغمبروں کی رہنمائی میں سچائی کا سفر شروع کیا۔ پیغمبروں کے رحلت فرما جانے کے بعد آنے والی نسلوں کو بار بار اس سچائی کو عملی جامہ پہنانا پڑا۔ اس فطری رہنمائی کو چھوڑدینے کی صورت میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر ماضی کی طرح مستقبل میں بھی فرد اور جماعت ذمہ دار ٹھہرائے جائینگے اور یہی وہ فطرت اولین ہے جو انسان کو عطا ہوئی ہے جس کی بدولت وہ ہدایت کی روشنی کو دیکھتا بھی ہے اور اس کے مطابق عمل بھی کرتا ہے۔
 

نور اور ہدایت

جیسے انسانی آنکھ کو مختلف وجہ سے نظروں کی درستگی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، اسی طرح اندرونی آنکھ یعنی عقل کو بھی نورِ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے گردا گرد ہونے والے حالات و واقعات کو دیکھ کر پرکھتا ہے اور اپنی استعداد میں اضافہ کرتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے کوئی نئی چیز آئے تو علم کے میکانیکی عمل کے ذریعہ اس کو اس کی تفصیل سمجھانی پڑتی ہے تاکہ آنکھ اس کو اچھی طرح سمجھ لے،  اسی طرح فطرت انسانی کو بھی ہدایت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعہ سے وہ اپنے اعمال کو بہتری کی طرف لے جاتا ہے اور طبعی دنیا میں اپنا مقام بنا تا ہے۔
در حقیقت یہی نور اور ہدایت تمام علوم کا جوہر ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم ۖ تک پھیلا ہوا ہے، جو آج کی بحث کا موضوع ہے۔ اللہ کی طرف سے آنے والی ہر نئی ہدایت تصدیق کرتی رہی ہے کہ پچھلی ہدایت میں نور بھی تھا اور ہدایت بھی اسی لیے اللہ پاک نے قرآن کریم میں فرمایا:
( اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ) سورة مائدہ ( ٤٤ : ٥ )۔
  یعنی
”ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی۔”
 اور پھر آیت نمبر ٦ ٤ میں یہ فرمایا:
 ” اور ہم نے ان (پیغمبروں)کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو اپنی سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا۔”
اور پھر آیت نمبر ٤٨ میں یہ فرمایا:
” اور (اے رسول محمد! ۖ) ہم نے تم پربھی حق پر مشتمل کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی نگہبان ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کروجو اللہ نے نازل کیا ہے، اور جو حق بات تمہارے پاس آگئی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو۔”  
اوپر کی آیات سے یہ پر زور دعویٰ سامنے آتا ہے کہ 
 
( الف) پچھلی کتابیں بھی اللہ کی طرف سے تھیں اس لیے ان میں بھی ہدایت اور نور تھا۔
 
( ب) اگلی آنے والی کتاب یہ تصدیق کرتی رہی ہے کہ پچھلی کتاب میں ہدایت اور نور موجود تھا۔ اور
 
( ج) موجودہ آئی ہوئی کتاب انہی عقائد کو پاک صاف کرکے پیش کر رہی ہے ( جن کو تم نے گڈ مڈ کردیا تھا)  اور عمل کے لیے زیادہ صحیح ہدایات پر مبنی ہے۔ 
اس کا مطلب یہ ہوا کہ نئی آنے والی کتاب کو پچھلی کتابوں سے کچھ ادھار نہیں لینا پڑا اور نہ ان کی تصدیق کی ضرورت تھی۔ اور یہ سلسلہ قران مجید فرقان حمید کے آنے تک اسی طرح چلتا رہا ، اور اب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ اعلان کردیا کہ وہ اس ہدایت کی بذات خود حفاظت کریں گے کیونکہ یہ بنی نوع انسانی کے لیے آخری کتاب ہے جو اللہ پاک نازل کر رہے ہیں۔
 
پچھلی تمام کتابوں میں جو ہدایات اور نور تھی وہ قرآن پاک میں بھی موجود ہے، اسی لیے قرآن مجید کے باہر سے کوئی چیز اس سلسلہ میں نہیں چاہئے۔ یعنی پچھلی کتابوں میں جو کچھ بھی قرآن کی ہدایت کے مطابق ہے وہ سچی ہدایت اورنور ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو اس کو رد کر دیا جائے اور پھر اس کا یہ مطلب بھی ہوا کہ اگر کسی مسئلہ میں دوسری کتابوں کا موقف قرآن سے مختلف ہے تو اب یہ لازم ہے کہ اُن  مواقف کو درست کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اپنے آپ کو فرقان کہا ہے یعنی وہ معیار جس پر تمام غلط اور درست کو ناپا جائے، اور فیصلہ کیا جائے کہ کیا غلط ہے اور کیا درست۔ کونسی بات جائز ہے اور کون سی ناجائز، دوسری کتابوں میں کیا سچ ہے اور کہاں جھوٹ کی آمیزش ہے۔ اس کے بر خلاف اگر دوسری کتابوں میں درج شدہ عقائد ، واقعات اور فطری عوامل کے بارے میں قرآن خاموش ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ان کے بارے میں وقف کرنا چاہئے، چھوڑ دینا چاہئے اور اس کو کسی طور پر سچائی کا درجہ نہیں دینا چاہئے۔
 
اسلام یہ تر غیب دیتا ہے کہ دنیاوی علم کو جہاں سے ملے حاصل کیا جائے۔ اسلام نے دوسرے لوگوں کے ساتھ میل جول اور تعلقات کے سلسلہ میںاپنے دروازے بند نہیں کیے ہیں۔ ایک طرف اسلام خود اپنے لوگوں کے لیے زندگی کو بہتر انداز سے گزارنے کی ترغیب دیتا ہے، تو دوسری طرف دوسرے لوگوں کو اپنے سچ کی طرف آنے اور اس بہتری کو قبول کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ مگر ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلام غیرمذہب کے لوگوں پر تشدد سے بھی منع کر تا ہے اور ان کی دولت لوٹنے سے بھی روکتا ہے۔ قرآن کا انداز تو یہ ہے کہ( لا اکراہ فی الدین )  سورة البقرة ( ٢٥٦ : ٢)۔  یہ ہے اسلام میں آزاد خیالی کا تصور۔ آزاد خیالی مذہبی عقائد اور روحانیت کا ملغوبہ نہیں ہے۔ صرف اسلام ہی جیو اور جینے دو کے اصولوں کی تعلیم دیتا ہے۔

بے جا آزاد خیالی

اسلام کے ابتدائی د ورکے مسلمانوں نے دوسرے معاشروں میں پائے جانے والے انسانی تصورات اور خیالات کی سرپرستی کرنے میں کوئی جھجک روا نہیں رکھی۔ ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر یونانی افکار ہیں جس کو عیسائیت نے اپنے عروج کے دور میں بالکل نظر انداز کر دیاتھا اور وہ ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ سرپرستی کے اس عمل میں بعض مسلمانوں نے ان افکار کوکچھ زیادہ ہی نگل لیا اور پھر اسلامی بنیادی عقائد کو یونانی فلسفہ، خصوصی طور پر نو افلاطونی افکار کے مطابق پرکھنا شروع کردیا۔ اس کے نتیجہ میں ذہنی فہم وفراست ، افراتفری ، پراگندگی، پھوٹ اورنزاع نے جنم لیا۔ یہی چیز پھر پھیل بھی گئی۔ مگر صحیح العقیدہ مسلمان (سوادِ اعظم) قرآن اور سنت رسولۖ سے چمٹے رہے اس لیے کہ ان کی یہ محبت اسلام کی سچائی اور حقانیت کی بدولت تھی۔ روایتی علماء ، امام غزالی وغیرہ جیسے جید عالم حضرات ایسے موقع پر اٹھ کھڑے ہوئے۔  انہوں نے انتہائی خوبی کے ساتھ مسلمانوں کے ذہنوں میں در آئے ہوئے باطل تفکرات کو پہچانابھی اور ان کو دور کرنے کی کو شش بھی کی ، تاکہ فوت شدہ معاشرتی اقدار سے ان کے رومانس کو ختم کیا جا سکے۔ اور ایسا کرنے کے عمل کے دوران جو ماحول پیدا ہوا اس میں وہ لوگ جو اسلام سے دور ہورہے تھے ان لوگوں کی تعریف میں مصروف رہے، جنہیں اللہ نے کفار کا نام دیا تھا۔

مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے خیالات کا دخول

Syncretism  یعنی دوسرے مذاہب کے تصورات کی آمیزش کا وہ سلسلہ جو ایک مرتبہ شروع ہو گیا تھا وہ کبھی بھی مکمل طور پر اکھاڑ کر پھینکا نہ جا سکا۔ اور یہ ہمیشہ ہی حالت نمو میں موجود رہا اور مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے سامنے آتا رہا۔ اس کی سب سے بد ترین مثال مغل بادشاہ اکبر کے دین الٰہی میں ملتی ہے جو اس کے دور کے تمام مذاہب کے عقائد کا ایک ملغوبہ تھا۔ اسی طرح مسلم علاقوں پر برطانوی راج کے دوران جمال الدین افغانی ( ١٨٩٧- ١٨٣٨ ) کی صورت میں سامنے آیا جو ایک ایرانی شیعہ مسلم تھا۔ وہ مصر کے فری میسن لاج کا سر پرست تھا۔ اس کا ایک پیرو محمد عبدہ  ( ١٩٠٥- ١٨٤٩ ) اس کے بعد اس عہدہ پر فائض ہوا۔ دینی لحاظ سے محمد عبدہ چار سنّی مذاہب کے بجائے بارہ امامی شیعہ فرقہ کے بہت قریب تھا، جس کی بڑی وجہ جمال الدین افغانی کا اثر تھا۔ اس نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا ” اسلام اور عیسائت ” اس میں اس نے لکھا:
” تمام مذاہب ایک ہیں۔ ان کا اختلاف صرف ظاہری ہے۔یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کی حمایت کرنی چاہئے۔ ” اس نے لندن کے ایک پادری کو لکھا: ”میں دو بڑے مذاہب ، اسلام اور عیسائیت کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گلے ملتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ پھر تورات ، انجیل اور قرآن ایسی کتابیں ہونگی جو ایک دوسرے کی حمایت اور تائید کر رہی ہونگی، جو ہر جگہ پڑھی جا رہی ہونگی اور ان کی ہر قوم میں عزت و تکریم بھی ہو رہی ہو گی۔”
مصر میں اس ہم خیال گروہ کا ملاپ بہت اہم ہے۔ شیخ عبدالواحد یحیٰ ١٩٣٠ء سے لے کر اپنی موت ١٩٥١ء تک وہیں رہے، اور فرانس کے فری میسن لاج دی گریٹ ٹرایڈ کی بنیاد ڈالنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ لاج پیرس کے گرینڈ لاج کے ساتھ منسلک ہے۔ شیخ عیسیٰ نورالدین  بیس سال تک شیخ عبدالواحد کے ساتھ خط وکتابت کرتے رہے اور آخر کار ان سے ملنے کے لیے سن ٣٨ او ر ٣٩ میں مصر کا دورہ کیا۔ شیخ ابو بکر سراج الدین ( ٢٠٠٥- ١٩٠٩) جو شیخ عیسیٰ نورالدین کے شاگرد تھے ١٩٣٩ء میں مصر گئے اور ١٩٥٢ء تک وہاں مقیم رہے اور اس کے بعد بھی اپنی موت تک وہاں جاتے رہے۔ اسی طرح سید حسین نصر بھی، جو پچاس سال تک شیخ عیسیٰ نورالدین کے شاگرد رہے ، اور جن کے تمام تصانیف Perennial Philosophyکے عقائد اور نظر یات پر مبنی ہیں۔
 

("Philosophia Perennis” is the central concept of the "Traditional School” formalized in the writings of Rene Guenon, Frithjof Schuon and Ananda Coomaraswamy. The term was first used in the 16th century by Agostino Steuco in his book entitled De perenni philosophia libri X (1540), in which scholastic philosophy is seen as the Christian pinnacle of wisdom to which all other philosophical currents in one way or another point. The idea was later taken up by the German mathematician and philosopher Gottfried Leibniz, who used it to designate the common, eternal philosophy that underlies all religions, and in particular the mystical streams within them. The term was popularized in more recent times by Aldous Huxley in his 1945 book: The Perennial Philosophy. The Hindu revivalist notion of Sanatana Dharma has been taken as a translation of Philosophia Perennis) – (Wikipedia)

اسی کی ہم عصر ایک اور تحریک کی بنیاد تھیو سو فیکل سوسائٹی کے نام سے ١٨٧٥ء میں نیو یارک میں مادام ہیلینا  بلاواٹسکی ( ١٨٩١- ١٨٣١) اور ان کے ساتھیوں نے ڈالی۔  اس کا مقصد یہ تھا کہ آریہ اور دیگر مذاہب عالم کی تحریروں کو پڑھنے کی ترغیب دلائی جائے تاکہ ایشیائی ادب یعنی برہمنی ،  بدھ اور زرتشتی فلاسفی کی اہمیت کو بآور کرایا جائے۔یہ تھیو سوفیکل سوسائٹی مسلمانوں کی نظریہ کے تحت نقصان دہ تو تھی ہی، مگر شیخ عبدالواحدیحیٰ ایک قدم اور آگے بڑھے ۔ انہوں نے مادام بلاوٹسکی کی تحریکِ syncretismکو اکھاڑ پھینکا اور اس کی جگہ synthesis یعنی مصنوعیت کے ایک نئے تصور کی بنیاد ڈالی ۔ان کی کتاب Symbolism of the Cross    کے تجزیہ میں وکی پیڈیا کہتا ہے:
 

” گِنوں (یعنی شیخ عبد الواحد یحیٰ) synthesis اور  syncretism کو الگ الگ واضح کرتا ہے۔ syncretism  میں دوسری جگہوں سے جمع کیے گئے اجزا کو ملا کر اکٹھا کیا جاتا ہے جبکہ وہ اجزا باہم بے محل ہوتے ہیں،  اور آپس میں گھل مل نہیں سکتے۔ یہ ایک بیرونی چیز ہے جس کے اجزا کو دوسری جگہوں سے مستعار لیا جا سکتا ہے یکساں نہیں کیا جا سکتا۔ اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے وہ  Symbolism of the Cross میں لکھتا ہے کہ: ”syncretism فوری طور پر پہچان میں آجاتا ہے جب یہ نظر آئے کہ اس کے مختلف اجزا کو باہر سے مستعار لے کر اکٹھا کیا گیا ہے یہ سوچے بغیر کہ یہ سب اجزا ایک ہی عقیدے کی مختلف تشریحات اور شکلیں ہیں ، یا پھر مختلف النوع اعمال ہیں جو کسی خاص حالت اور زمان و مکاں سے متعلق ہیں۔ گِنوں کے مطابق یہ انداز فکر تھیوسوفیکل سوسائٹی کے عقائد میں ملتا ہے۔ اس کے بالمقابل synthesis میں چیزوں کو ان کے اصل کے تناظر میں دیکھا جا تا ہے، اور اگر وحدانیت کے پس منظر میں رکھا جائے، اور اس ادراک کے ساتھ ان کے عقائد سے منسلک رکھا جائے، تو اظہار کے کثیر التعداد مظاہر کے باوجود سچ کی اصل حقیقت کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس آگاہی کے ساتھ ایک شخص کو یہ آزادی حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ  مذہب کے کسی بھی شکل میں سچ  کو اپنالے۔ ہر ایک کا اپنا اپنا اندازِ بیان ہے، جو انہیں خاص تحفہ کے طور پر عطا کی گئی ہے ۔ لہٰذا تمام کے تمام روایتی مظاہر کو synonymies  یا ایک دوسرے کے مترادف کہہ سکتے ہیں۔ رِنے گِنوں کہتا ہے کہ صلیب کا نشان قدیم زمانے سے مختلف شکلوں میں مختلف علاقوں میں رائج رہا ہے ۔ اس لیے صلیب صرف عیسائیوں کے عقیدہ سے منسلک نہیں ہے ، اور اس کو کسی بھی روایتی پس منظر میں مختلف اعتبار سے دیکھا جا سکتا ہے۔

چونکہ syncretism ایک ایسی تصویر بنانے کی کوشش کرتی ہے جو فی الوقت موجود نہیں ہے، اس لیے شیخ عبدالواحد یحیٰ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس تصویر کو بنا نے کی ضرورت بھی نہیں ہے اس لیے کہ وہ تو محض ایک مصنوعی مرکب کا نام ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صلیب کی روح ہر نظریٔہ  میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ یہ ایک Kaleidoscope  کی طرح ہے جس کی تصویریں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیںمگر وہ ایک ہی اجزاء سے بنے ہوتے ہیں، اور ان میں ایک مخفی مصنوعی اکائی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے صلیب کی نشانی اپنی مختلف شکلوں میں تقریباً ہر جگہ مل جاتی ہے۔ یہاں تقریباً کا لفظ یقیناً علم یقین کا ہم پلہ نہیں ہے۔ اگر اس کو قبول کر لیا جائے تو یہ کہنا پڑیگا کہ منونتر کا بے اصل نظریہ بمع دیگر ہندو نظریوں کے، صلیب کا مختلف شکلوں میں اظہار، اور اسلام کا خالص نظریہ توحید سب ایک ہی تصویر کے مختلف اجزا ہیں۔ہمارے نزدیک یہ سب انتہائی انوکھی اور انہونی خرافات کے برابر ہیں۔ واہیاتِ محض!!
 
 اگر اس نظر یہ کو درست سمجھا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر دنیا میں کفار اور مشرک کن لوگوں کو کہا جائے گا۔ اس قسم کا آزاد نظریے کے تحت تو تمام مذاہب کے علماء کفر کے  شمار میں نہیں آ ئیں گے اس لیے کہ تحفۂ بیان میں سب کو برابر کا حصہ ملا ہے، یعنی زبانیں مختلف ہیں مگر اشارہ تو سب کا  ایک ہی چیز کی طرف ہے۔ اسی طرح عوام کی بھی ایک بڑی تعداد شرک سے بری الذمہ ہو جائے گی، اس لیے کہ ان کی وہ ذہنی استعداد نہیں ہے کہ اُن باریکیوں کو سمجھ سکیں جو اشراف کے ذہنی قلابازیوں کے زمرے میں آتی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب ایک مسلمان قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے تو اس کو اس میں لفظِ کفر مختلف شکلوں میں پانچ سوسے زیادہ مرتبہ واسطہ پڑ تا ہے۔ کیا اس بات پر کسی کا ایمان ہو سکتا ہے کہ قرآن جو کچھ کہہ رہا ہے وہ اس کا اصل مطلب نہیں ہے؟  نعوذباللہ۔ قرآن کا یہ بیان ہے کہ
 
” اور( حقیقت یہ ہے کہ) اِن ( مشرکین) میں سے اکثر لوگ کسی اور چیز کے نہیں، صرف وہمی انداز ے کے پیچھے چلتے ہیں، اور یہ یقینی بات ہے کہ حق کے معاملے میں وہمی اندازہ کچھ کام نہیں دے سکتا۔ یقین جانو، جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں، اللہ اس کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔” سورة یونس ( ٣٦ :١٠)
 ۔ اور پھر کہتا ہے کہ:
 ”وہ محض وہم و گمان کے پیچھے چل رہے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ وہم و گمان حق کے معاملے میں بالکل کار آمد نہیں۔” سورة نجم (٢٨:٥٣)۔
 اس حقیقت کے باوجود کہ کسی شخص نے کتنی ہی معرکة الآرا کتابیں لکھی ہوں اور دنیا بھر کی ادبی تنظیموں سے اس کو کتنے ہی انعامات ملے ہوں، بطور ایک مسلمان کے، اس کاہندو اور عیسائی اعتقادات کو اسلام میں داخل کردینا بہت بڑی غلطی ہے ، اس لیے کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مکمل نہیں ہے اور اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ اسلام میں صلیب اور منونتر جیسے خیالات مخفی طور پر موجود ہیں، گویا کہ اسلام بھی دیگر مذاہب سے مختلف کوئی نظریہ نہیں ہے۔
جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

قسط نمبر ١ کا مطالعہ کیجئے   قسط نمبر ٣   کا مطالعہ کیجئے

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، شعبان معظم 1433ھ/ جون، جولائی 2012- سے ماخوذ ہے۔ 

تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش


الواقعۃ شمارہ  ٢

محمد عالمگیر 

مترجم : ابو عمارسلیم

قسط نمبر ٢  کا مطالعہ کیجئے قسط نمبر 3 کا مطالعہ کیجئے

قسط 1

یہ مختصر تجزیہ بطور خاص صرف مسلمانوں کے لیے لکھا گیا ہے۔ ان مسلمانوں کے لیے جو مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں، کسی کو اذیت نہیں دیتے ۔ ان مسلمانوں کے لیے جن کو یہ دلی اطمینان حاصل ہے کہ اسلام بذات خود ایک مکمل اور کامل دین ہے اور اس کو کسی دوسرے مذہب، دیو مالائی کہانیوں، فلسفہ اور ما بعدالطبیعیاتی نظریوں کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور ان مسلمانوں کے لیے جو نہ تو کسی دوسرے طریق زندگی کی سرپرستی کرتے ہیں اور نہ ہی یہ پسند کرتے ہیں ان کی سرپرستی کی جائے۔
 

تصوف بطور احسان

 
اسلام سچائی کا دین ہے۔ خالق کائنات نے اس دین کو اپنے پیغام کے طور پر خود انسان کو عطا کیا ہے۔ اس پیغام کا ایک حصہ انسان کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی ہدایت پر مبنی ہے، یعنی یہ انسان کو اس کے معاشرتی ، سیاسی اور معاشی معاملات میں حتمی اور سچی راہنمائی دیتا ہے۔ ان ہدایات پر عمل پیرا ہوکر وہ اپنے اخلاقی اقدار کا داعی ہوتا ہے۔ اس پیغام کا دوسرا حصہ اس کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے مقام کے مقابلہ میں اس کی اپنی ذاتی حیثیت کا اتہ پتہ دیتا ہے۔ انسان اس علم کے تحت اپنی روحانی اہلیت اور قابلیت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس طرح ایک قابل اور صاحب فہم انسان کے لیے اس پیغام میں انتہائی معمولی دنیاوی معاملات سے لے کر اعلیٰ ترین معاملات تک کے لیے ہدایات موجود ہیں ۔
 
خالق کائنات کا یہ پیغام ہر انسان کے لیے ہے۔ مگر جن لوگوں نے اس پیغام کو قبول کیا ہے، ان کی اکثریت اس پیغام کے بہت ہی قلیل چیزوں پرقانع ہے، جس کے بغیر گذارا نہیں ہو سکتا۔ یا پھر انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ اس پیغام میں کتنی خوبصورتی موجود ہے۔ جب اسلام کے اس پیغام کو سہ رخی جہت سے یعنی اسلام ، ایمان اور احسان کے رو سے دیکھا جائے تو اس خوبصور ت حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام متقاضی ہے کچھ بنیادی عقائد اور لازمی عمل کا۔ ایمان ان تمام عقائد کا جوہر اور اصل ہے جو یقین کامل تک پہنچا دیتا ہے۔ احسان وہ سچی پرستاری ہے جس پر عمل سے کاملیت اور فضیلت کے راستے کھلتے ہیں اور سرفرازی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس پیغام پر کاربند ہوکرجو سفر طے ہوتا ہے وہ انہی تینوں جہت کے تحت ہوتا ہے، یعنی اسلام سے ایمان اور اس سے آ گے احسان کے درجے تک پہنچاتاہے ۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایمان بغیر اسلام کے قابل قبول نہیں ہے، اور ایسا احسان جس کی بنیاد اسلام اور ایمان کے اوپر نہ ہو صرف منافقت ہے ۔
 
(دیکھئے حدیثِ جبریل، جس میں احسان کے بارے میں نبیۖ نے فرمایا ہے:” الاحسان ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ، فان لم تکن تراہ فانہ یراک۔”یعنی ” اللہ کی عبادت اس طرح کرو، جیسے کے تم اسے دیکھ رہے ہو۔ حالانکہ تم اسے دیکھ نہیں سکتے، لیکن وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔” اسی کو احسان کہتے ہیں۔ تاریخ میںہم دیکھتے ہیں کہ احسان کے اس مرتبہ کو حاصل کرنے لیے ایک منظم ادارہ بنایا گیا، جس کو ہم تصوف اور طریقت کے نام سے پہچانتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو زبان میں احسان کا لفظ اس معنی میں کم ہی استعمال ہوتا ہے ۔ )
 
اب اگر یہ سوال کریں کہ اللہ کا پیغام کیا ہے؟ یا یہ کہ اللہ کیا چاہتا ہے، کہ ہم کیا کریں؟ تو یہ شریعت یعنی قانون کو جنم دیتا ہے اور یہ سوال کہ اللہ کے پیغام پر عمل کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ طریقت کو ہموار کر تا ہے۔ یہ دونوں تقسیم خالصتاً نظریاتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان جو کام بھی کرنا چاہے اس میں کیا اور کیسے لازم و ملزوم ہوتے ہیں، ایک دوسرے میں گتھے ہوتے ہیں اور ان کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اس کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شریعت اور طریقت دونوں کے دستور مسلمان علاقوں میں الگ الگ وجود رکھتے تھے اور دونوں کے ماہرین اپنے اپنے معاملات میں سر گرم تھے ۔
 
اصولی طور پر وہ لوگ جو شریعت کے امور میں ماہر ہیں یعنی جنہیں ہم علما ء کہتے ہیں وہ یقیناً طریقت کے علوم سے بھی بخوبی واقف ہیں ، اور ان معاملات کے کیا اور کیسے کے تمام سوالات کا بخوبی جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی نظر اسلامی تعلیمات کا مکمل احاطہ کیے ہوئے ہے۔  اور جب ہی توپیغمبر اسلام صادق الامین حضرت احمد مجتبٰی محمد مصطفٰی ۖ نے فرمایا کہ میری امت کے علما ء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں(١)۔اور یہ بات تو مسلّم ہے کہ پیغمبروں نے نہ صرف اللہ کے پیغام کو ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا ، بلکہ اس کی وضاحت بھی کر دی اور راستہ بھی دکھا دیا۔ اس لیے اسلام کے وہ علماء جو علماء کہلانے کے مستحق ہیں شریعت اور طریقت دونوں میں رہنمائی کرنے کے لیے بہترین لوگ ہیں۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں ان علماء کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ جیسے ترکی میں مولا، شمالی افریقہ میں مولایا یا مولے ، برصغیر میں مولانا اور عرب دنیا میں انہیں شیخ کہا کرتے ہیں ۔ 
 
مشاہدے میں آیا ہے کہ ان علماء میں سے کچھ اپنی ذاتی استعداد اور قابلیت کے اضافہ کے لیے اللہ کے پیغام کو اس کی تمام تر جزئیات سمیت سمجھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔  اس لیے کہ یہ لوگ اسلام اور ایمان کے تمام مراحل کو بحسن و خوبی طے کرکے احسان کی جہت میں داخل ہو جاتے ہیں،  اس لیے کہ ان کے پاس اس کی استطاعت ہوتی ہے۔ کچھ کچھ مسلم ممالک میں مشائخ کا لفظ صرف ایسے علماء کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی یہی لوگ طریقت کے ماہرین  سمجھے جاتے ہیں ۔ 
 
یہاں اس بات کی وضاحت ضر وری ہے کہ طریقت کے معاملات شریعت کے بغیر انفرادی طور پر نہیں چل سکتے۔ جو لوگ طریقت کے ماہرین ہیں ان پر شریعت کی پابندی اتنی ہی لازم ہے جتنی کسی دوسرے مسلمان پر۔ اگر ایسا ماہر ،  قانونِ شریعت کا علم نہ رکھتا ہو یاشریعت کو پس پشت ڈال دے یا اپنے ہی قوانین پیش کرنے لگے تو پھر وہ سچا ماہر کہلانے کا مستحق نہیں ہے ۔ 
 
یہاں اس بات کی وضاحت ضر وری ہے کہ طریقت کے معاملات شریعت کے بغیر انفرادی طور پر نہیں چل سکتے۔ جو لوگ طریقت کے ماہرین ہیں ان پر شریعت کی پابندی اتنی ہی لازم ہے جتنی کسی دوسرے مسلمان پر۔ اگر ایسا ماہر ،  قانونِ شریعت کا علم نہ رکھتا ہو یاشریعت کو پس پشت ڈال دے یا اپنے ہی قوانین پیش کرنے لگے تو پھر وہ سچا ماہر کہلانے کا مستحق نہیں ہے ۔ 
 
تاریخ میں ایک ایسا بھی وقت آیا ہے جب طریقت اپنے انفرادی روپ میں ایسے ابھری کہ اس کے اپنے خدوخال تھے، اپنا قانون تھا، اپنا مطمح نظر تھااور اس کے اپنے ماننے والوں کا ایک گروہ تھا۔ اور پھر ایسے میں یوں بھی ہوا کہ جانے پہچانے اصولوں سے تجاوز بھی کیا گیا اور اس کے لیے باطنی علوم ، حد سے بڑھی ہوئی روحانیت اور فراست کا لبادہ اوڑھ لیا گیا۔ مگر اس کے باوجود ایسے بہت سے لوگ اٹھے جو اپنی ذات میں اسلام ، ایمان اور احسان کے راستوں کے کوہ گراں تھے۔ اسلام کے سچے شیدائی کی طرح ان کی راتیں رکوع اور سجود میں اور دن گھوڑے کی پیٹھ پر بسر ہوتے تھے۔  یعنی جب تخلیہ میں ہوتے تو اللہ سے رازونیاز کرتے اور لوگوں کے ساتھ ہوتے تو عدل و انصاف کرتے۔ (نوٹ: ایسے لوگوں میں حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی جو مغل حکمراں اکبر اور جہانگیر کے دور میں اٹھے، شاہ جلال اور خان جہاں علی بنگال کے مسلم دور میں، جبکہ سید احمد بریلوی شہید برطانوی راج میں منظر عام پر آئے ۔ )
 

دورِ حاضر کے صوفیا

 
ماضی میں اور آج کے دور میں بھی بہت سے ایسے صوفیا موجود ہیں جو دن کی روشنی میں چھپے رہتے ہیں اور را توں کو نفس پرستی میں گزارتے ہیں۔ وہ عدل و انصاف کی باتیں نہیں کرتے بلکہ فلسفہ میں الجھے رہتے ہیںاور ایسے باطنی اور چھپے ہوئے ذرائع ڈھونڈتے ہیں جن کے ذریعہ سے باطل تصورات کو قابل قبول بنایا جاسکے۔ ایسے لوگ اسلام کی سچائی کو اجاگر کرنے کی بجا ئے د وسرے مذاہب کی تعلیم کو اسلام میں داخل کرکے اسلام کی صحیح صورت بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ان کے پیروکاروں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے تمام جستجو میں اسلام کا انقلابی نقطہ نظر پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
 
پچھلے کچھ عرصہ کے دوران مغرب کی برتری نے اسلام کے خدوخال کو اور بھی مسخ کر دیا ہے۔Esoteric  یعنی مخفی یا باطنی اور  Exotericیعنی خارجی یا ظاہری کی اصطلاحات ان کی لغت کے حساب سے مخفی اور ظاہری مطالب سے کہیں دور کی چیز بن گئی ہے۔ مغرب سے مستعار لی ہوئی اصطلاحات اسلامی لٹریچر میں شدتِ استعمال کی وجہ سے اب ایک نئی شکل میں آگئی ہے، اور اس نے مسلمانوں کو دو مختلف قسم کے گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے، یعنی نچلا طبقہ اور اونچا طبقہ ، یعنی عوام اور اشراف میں بانٹ دیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے اس گروہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے وہ در پردہ اپنے آپ کو ایک اعلیٰ درجہ کے فضیلت یافتہ لوگوں میں شمار کرنے لگتے ہیں  اور دوسروں پر نہ صرف یہ کہ حقارت کی نظر ڈالتے ہیں بلکہ ان کا گمان ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ کبھی ان کی حقیقت کو نہیں پا سکیں گے۔ اور پھر یہ گمان یافتہ لوگ دوسروں سے الگ تھلگ رہتے ہیںاور اسلام کا جو فلسفہِ جہادہے اس میں بالکل حصہ نہیں لیتے۔یہ لوگ گھات لگا کر نوجوان مسلمانوں کو قابو کر لیتے ہیں اور ذ ہنی طور پر ساکت و جامد کر دیتے ہیں تاکہ وہ کسی بھی اسلامی احیاء کی کارروائی میں حصہ نہ لے سکیں۔ وہ عیارانہ حربوں سے اور الفاظ کے ہیرا پھیری سے یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم روایتی اسلام کا احیاء کرنا چاہتے ہیں جبکہ ان کی تمام تر کوشش ہوتی ہے کہ اسلامی روایت کو پٹری سے اتار دیا جائے۔
 
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ روایتی اسلام، اسلام کو اس طرح دیکھتا ہے جیسا کہ اسلام آج کے دور میں مختلف اسلامی ممالک میں رائج ہے۔ فی الوقت اسلام میں جتنی غیر اسلامی روایات اور دوسرے مذاہب کی چیزیں در آئی ہیں یہ لوگ ان سب چیزوں کو بلا چوں و چرا تسلیم کر لینا چاہتے ہیں۔ جب کہ در حقیقت اسلامی روایت کا مطلب وہ قاعدہ اور کلیہ ہے جس کے ذریعہ سے اسلام میں گھس آنے والی تمام چیزوں کو دیکھا جائے ، جانچا جائے اور ان خرابیوں کو دور کیا جائے۔ یہ لوگ حصولِ علم الٰہی کو اپنا وظیفۂِ خاص بتاتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو ان کو صحیح سمت سے ہٹا دیتی ہے۔  بجائے اس کے کہ وہ اپنے اسلام اور ایمان کو علم یقین کی زینت سے آراستہ کریں جو احسان کی ایک جہت ہے، اس کی بجائے وہ اللہ کی ذات اور اس کے وجود کے بارے میں بیکراں قیاسی کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ ایسے دلائل میں الجھ جاتے ہیںجو اسلام اور ایمان کی تعلیم کے عین مخالف ہوتی ہیں۔
 

سچا علم

 
اگلے سطروں میں ہم عقائد کی بحث کی طرف پھر واپس آئیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ ہم پہلے علم کی حقیقت کو سمجھ لیں ۔علم حقیقی کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ یہ پتہ چل جائے کہ اللہ کی مشیت کیا ہے۔ تخلیق کائنات اللہ کی مشیت ہے۔  جب اللہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے کُن اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے اور جو چیز وجود میں آجاتی ہے وہ اللہ کی تخلیق ہے۔ مخلوق اللہ کے ارادے کی ظاہری حقیقت ہے۔ علم کی تمام شاخوں کو بروئے کار لاکر اللہ کی خلقت کو درست طریقہ سے سمجھ لینا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ کو سمجھ لینا ہے۔ کوئی شاعر اور فلسفی اگر تخلیق خداوندی کو اپنی عقل اور فہم کی بنیاد پر بیان کرے تو ایک عام آدمی جس کو حقیقت کا علم نہیں ہے اس کے زور بیان اور الفاظ کی خوبصورتی کی بدولت اس کی تعریف تو کرے گا مگر وہ بیان حقیقت پر مبنی نہیں ہوگا ،کیونکہ جب تک اس کو اللہ کی مشیت اور ارادہ کا ادراک نہ ہو وہ حقیقت کو نہ پا سکے گا ، نہ بیان کر سکے گا۔ مختصراً ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم اللہ کی حکمت اور مشیت کو قرآن کے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔ اس لیے کہ کوئی بھی زبان زد عام حکمت اور علم کو ہم اس وقت تک حکمت نہیں کہیں گے جب تک کہ وہ قرآن کریم کی نازل شدہ حکمت سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔
 
اللہ کی تمام مخلوق میں انسان کو یہ منفرد شرف حاصل ہے کہ اس کو قوتِ ارادہ عطا ہوئی ہے اور اس قوتِ ارادہ کے عملی اظہار کے لیے انسان کو کسی حد تک آزادی بھی دی گئی ہے ، جو دوسروں کو نہیں ملی ہے اور پھر یہی آزادی اس کو مکلف بھی بنا دیتی ہے۔ اب اس کی اپنی یہ خواہش کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے، اللہ کی مشیت اور ارادہ کی تابع ہوگی۔ یعنی انسان کا ہر قابل قبول عمل لازماً قرآن مجید کے احکامات کے عین مطابق ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ انسان کا ہر وہ عمل قابل تعریف ہوگا جو اللہ کی مشیت اور ارادہ کے مطابق ہوگا وگرنہ ناقابل ستائش اور قابل گرفت ہوگا۔ اب اس بحث کے بعد ہم واپس علم کی طرف لوٹیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر انسان کا عمل اللہ کی مشیت کی مطابقت میںہے تو یہ عمل علم پر مبنی ہے ، اس لیے کہ علم اللہ کی مشیت اور ارادہ کا دوسرا نام ہے۔ کسی جنگل یا صحرا میں ایک شخص ہو اور وہ اللہ کی مشیت اور ارادہ کا ادراک بھی رکھتا ہو اور اس کی پاسداری بھی کرتا ہو تو وہ شخص عالم کہلائے گاخواہ اس کے پاس کسی مدرسہ یا یونیورسیٹی کی کوئی سند بھی نہ ہو اور اگر اس کا عمل اللہ کی مشیت کے برخلاف ہوجائے تو وہ جاہل ہے چاہے اس نے کتنی ہی ڈگریاں کیوں نہ حاصل کر رکھی ہوں یا کتنی ہی ضخیم کتابوں کا مصنف ہو یا کتنے ہی لوگوں کو اس نے اپنی خوبصورت تقریروں اور پر اثر شخصیت کے سحر میں گرفتار کر رکھا ہو۔ (نوٹ:  اسلام کے ظہور سے قبل عرب کے معاشرتی دور ( بلکہ کل انسانی دور) کو دور جاہلیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس دور کے عرب نہ تو تجارت میں ، نہ سفارتکاری میں اور نہ شعر و ادب میں جاہل تھے ، اور نہ کسی دوسری قوم سے کسی طور بھی کم تر تھے۔ مگر ان کے پاس کمی تھی تو صرف اللہ کے علم کی۔)
 
انسان کو اللہ کی مشیت کے مطابق اپنی خواہش کو استوار کرنا چاہئے،جو قرآن مجید فرقان حمید میں بتفصیل موجود ہے۔ بیشک اس کو اس کے ان اعمال کی جزا ملے گی، یعنی جب اس کے ارادے اور اللہ کے ارادے یکساں ہو جائیں ۔ بہر صورت یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اس کے عمل سے وہی نتیجہ نکلے جو وہ چاہ رہا ہے خواہ اس کا وہ عمل قرآن و سنت کی حدود میں ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مشیت اس کی جا ئز خوا ہش سے مختلف ہو سکتی ہے ، اور پھر آخر کار ہوتا تو وہی ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ چاہتے ہیں۔ اللہ کا حکم اور اس کی بیکراں آزادی،انسان کی خواہشات کا پابند نہیں ہے ۔ یعنی انسان کا عمل قرآن و سنت کے مطابق جائز بھی ہو پھر بھی نتیجہ عمل پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ دوسری جانب ایسا علم جو اللہ کی خواہش کا عکس ہو علم لَدُنّی کہلاتا ہے، جس کا ذکر سورة کہف میں آیا ہے۔ 
 

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہ السلام 

 
اوپر دیئے ہوئے بیان کی شہادت میں حضرت خضر علیہ السلام کا، جو ایک بڑے عارف تھے، قرآن مجید میں دیا ہوا  واقعہ یہاں دہرایا جاسکتا ہے۔ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام اُن کے ہم سفر تھے جس کے دوران حضرت خضر نے ایک غریب آدمی کی کشتی میں سوراخ کردیا، آگے چل کر ایک نوجوان لڑکے کو مار دیا ، اور پھر ایک گرتی ہوئی دیوار کو اجرت لیے بغیر ٹھیک کردیا ، حالانکہ ان لوگوں کو کھانے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی، اور بستی والوں نے کھانا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کو بتایا کہ میں نے چاہا کہ کشتی کو عیب دار بنا دوںتاکہ ظالم بادشاہ غریب آدمی کی کشتی پر قبضہ نہ کر لے۔ نوجوان جس کو مار دیا تھا وہ اپنے والدین کا نافرمان تھا اس کے لیے انہوں نے کہا ہم نے چاہا کہ اس کو ختم کرکے ایک نیک فرمانبردار لڑکا دے دیا جائے۔ اور اس گرتی ہوئی دیوار کے نیچے ایک خزانہ دفن تھا جو ایک صالح آدمی کا تھا اور  تمہارے رب نے چاہا کہ خزانے کو محفوظ کردیا جائے تاکہ اس کے لڑکے بڑے ہو کر اس کو حاصل کر لیں۔
 
جب حضرت خضر  نے کہا میں نے چاہا تو انہیں اللہ کی مشیت اور اس کی خواہش کا علم تھا اور وہ اس کی مشیت کے خلاف کوئی ارادہ نہیں کر سکتے تھے۔ جب انہوں نے کہا کہ ہم نے چاہا  تو انہیں اللہ کے مشیت کے الہام نے تحریک دی اور اس دنیاوی کام کو انہوں نے اللہ کی طرف سے سر انجام دیا۔  اور جب انہوں نے کہا کہ تمہارے رب نے چاہا تو ایک طرف تو انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ انہیں اللہ کی طرف سے الہام ہوا ہے اور ساتھ ہی اللہ کی مشیت کی برتری ظاہر کی تاکہ ان کی خدائی کا دعویٰ نہ ہوجائے۔ ان تینوں واقعات میں حضرت خضر علیہ السلام کا ذاتی علم کوئی حقیقت نہیں رکھتا تھا سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کی مشیت کے۔ 
 
علم لدنّی کا تحفہ ان تمام علماء اور مشائخ کا اشتیاق ہے جو طریقت کے عالم ہیں اور احسان کے درجۂ کامل تک پہنچے ہوئے ہیں، اور اس کو مزید بہتر بنانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔ حضرت خضر کا یہ واقعہ یقینا ان کے لیے امید کی کرن ہے، اس لیے کہ حضور نبی کریم صادق الامین ۖ  نے فرمایا کہ سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ ایسا خواب نہ تو قرآن اور نہ ہی شریعت کا جزو ہے اور نہ ہی یہ کہ جس کو یہ عطا ہو جائے وہ خدائی طاقت کا حامل ہو گیا، اور اب اس کی پرستش ہونے لگے۔ یقینا وہ لوگ جو اللہ کی مرضی کو اپنی مرضی بنا لیتے ہیںاور اپنی خواہشات نفسانی کو اللہ کی خواہش کے تابع کر لیتے ہیں وہ اولیائَ اللہ ہوتے ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کے بارے میں نیک گمان کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ کے ولی ہیں مگر اصل ولی کون ہے اس کا علم صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ہی ہے۔ طریقت کے مرشدوں کو عموماً یہ درجہ دے دیا جاتا ہے لیکن یہ خیال ان لوگوں کو نظر انداز کرتا ہے جو بطور مرشدِ طریقت کے نہیں جانے جاتے ۔ یہاں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ جو مرشدِ طریقت ہو وہ ہی ولی بن سکتا ہے، ا ور دیگر تمام لوگ رد کر دیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان مرشدوں کے مریدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو مرید ہونے کی وجہ سے الہام الٰہی میں سے حصہ ملنے کا بہت واضح امکان ہے اس لیے کہ وہ دوسروں کی نسبت روحانی طور پر بہت آگے ہیں ، حالانکہ بسا اوقات دوسروں کے مقابلے میں یہی لوگ شریعت کی خلاف ورزی اور ایمان اور اسلام سے زیادہ روگردانی کرتے ہیں۔  
 

ذات و صفات 

 
قرآن کریم فرقان حمیدکی آ یات میں ایک تیسرا رخ خود اللہ ربّ العزت کی ذات و صفات سے متعلق ہے۔ وہ خود کو جانتا ہے، ہم نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہمارا علم وہاں تک ہی ہے جو اس نے خود ہمیں اپنے متعلق بتا یا ہے۔ہماری سوچ سے اس کا کوئی تعلق نہیںہے۔یہاں ضروری ہے کہ ہم اس کی ذات اور صفات کے درمیان فرق کو سمجھ لیں۔ انہوں نے ہمیں جو کچھ بھی بتایا ہے وہ ان کی کچھ صفات پر محیط ہے۔ انہوں نے ہماری توجہ اپنی تخلیق میں موجود نشانیوں (آیات ) کی طرف کرائی ہے جو ہمارے گردا گرد پھیلی ہوئی ہیںاور یہی نشانیاں ان کی صفات کو سمجھنے میں ہماری مدد گار ہیں۔ ان کی تخلیق کردہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جس میں ان کی ذات کی کسی طرح سے بھی تشبیہ ہو۔ ہم جو زبان ان کی تخلیق کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ زبان ان کی ذات کے احاطہ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہم جتنے بھی استفہامیہ الفاظ جیسے کیا، کیسے ، کیوں ، کہاں ، کب وغیرہ وغیرہ اس کی تخلیق کے تجزیہ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں اس خالق کائنات اللہ تبارک و تعالیٰ علیُّ العظیم و کبیر الجلیل کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔
 
اب ہم واپس عقائد کی طرف لوٹتے ہیں، اس لیے کہ یہاں پہنچ کر کچھ مرشدوں یا علماء کی نظروں سے اسلام اور ایمان کا علم اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ لوگ قرآن مجید کے دیئے ہوئے علم سے کٹ جاتے ہیںاور گمراہی میں جا پڑ تے ہیں۔  وہ خالق اور مخلوق کے درمیان فرق کا ادراک نہیں کرسکتے۔  وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مخلوق خالق ہی کا ایک روپ ہے، یا اس کا اظہار ہے ، یا پھر یہ کہ خالق بذات خود مخلوق میں موجود ہے۔  (نوٹ: بقول شیخ محی الدین ابن العربی جو وحدت الوجود کے فلسفہ کے بانی ہیں)۔ یا پھر یہ کہ مخلوق کی حقیقت صرف فریبِ نظر کی ہے۔ (نوٹ:  بقول ہندو دیو مالا میں مذکور مایا  اسی نظریہ کی ترجمانی کرتا ہے)، یعنی ا یسا لگتا ہے لیکن اصل میںکچھ بھی نہیں ہے۔ مختصراً یہ کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وجود سے مراد صرف وجودِ ِباری تعالیٰ ہے۔ بے شک اللہ کا وجود ایک حقیقت ہے جو اپنی ذات میں صمد ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ البدیع ہے اور اس نے کائنات کو لا شئے سے پیدا کیا ہے اور اس کو اس کی حقیقت عطا کی ہے جو کہ اسی سے مشتق ہے اور ماخوذ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ خالق اور مخلوق کی موجودگی کا نظر یہِ تقابل ( یعنی ایک طرف اللہ یعنی خالق اور دوسری سمت مخلوق) نہ تو ایک دوسرے سے متصل ہیں اور نہ ہی متحارب۔ قرآن حکیم نے کس قدر جامع اختصار کے ساتھ دونوں کو الگ الگ واضح کردیا ہے۔ جب قرآن دعویٰ کرتا ہے کہ ” اس جیسا کوئی چیز نہیں اور کوئی چیز اس جیسی نہیں ہے۔( لَیْسَ کَمِثْلِہ شَئی )]سورة شعرائ:٤٢[ اور( لَمْ یَکُن لَّہ’ کُفُواً اَحَد )]سورة اخلاص:١١٢[۔ اور یہی وہ سچ اور سچا علم ہے جو قرآن حکیم عطا کرتا ہے۔ کوئی فلسفہ، کوئی تشریح، کوئی نظریہ یا کوئی خیال جو اس سیدھی سادی زبان میں کی گئی بات کو توڑے مروڑے تو وہ سوائے خدا کی شان میں بے ادبی اور کفر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
 

شیخ ابوبکر سراج الدین کی تصنیف میں حلول کا تصور  

 
مارٹِن لِنگس ( Martin Lings ) عرف شیخ ابوبکر سراج الدین ( شاذلیہ  درقویہ علٰویہ طریقت کے مریمیہ شاخ کے ایک صوفی شیخ ) نے یہ لکھ کر دنیا کو چونکا دیا کہ انسان اور دیگر مخلوقات کے درمیان یہ فرق ہے کہ دوسری مخلوقات اللہ کی صفات کی مظہر ہیں جب کہ انسان اللہ کی ذات کا مظہرہے جس میں اس کی تمام صفات شامل ہیں۔( بحوالہ : Splendours of Qur’an Calligraphy and Illumination. Thesaurus Islamicus Foundation, 2004 )۔  وہ اس نتیجہ پر اس نظریہ کے تحت پہنچے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی شکل پر پیدا کیا ہے۔  جو کہ سراسر یہود و نصاریٰ کے عقیدہ کا ایک نمونہ ہے۔ ہم نے ابھی اوپر دیکھا ہے کہ سچ یہ ہے کہ اللہ کی ذات کا مظہر نہ کوئی چیز ہے ، نہ کوئی چیز اس جیسی ہے اور نہ ہی اس کا عکس ہے۔
 
یہ بات بطور خاص دہرائی جارہی ہے کہ شریعت اور طریقت کی تقسیم خالصتاً من مانی ہے۔ شریعت اسلامی روایت کے ان تین درجات کی تفصیل دیتی ہے جو اسلام ، ایمان اور احسان  سے متعلق ہے۔ جب کہ طریقت ان ہی تین چیزوںکے اندر موجود جوہر کو اجاگر کرتی ہے، اور ان کو قابلِ عمل بناتی ہے۔ یعنی طریقت مسلمانوں کے اندر یقین کو بڑھاتی ہے۔ نہ طریقت شریعت سے پہلے وجود پاتی ہے اور نہ ہی طریقت شریعت کے بعد کی کوئی چیز ہے۔ قرآن کی اصطلاح شِرعة یعنی قانون، اور منہاج یعنی رستہ ، دونوں کی بہت موزوں تعریف پیش کرتاہے۔ اور اگر قرآن کریم کی اس تعریف کو اپنی زندگیوں میں داخل کر لیں تو طریقت سے متعلق بہت ساری لغویات سے نجات مل جائے گی۔
 
کسی بھی مرشد اور فاضل عالم کے لیے ا حسان کے دائرہ میں پہنچ جانے کے بعد جہاںشریعت ایک خصوصی لطف کا باعث ہو تی ہے تو وہیں طریقت اس درجہ میں آکر اس کو عین الیقین، حق الیقین اور معرفت کی تجلیوں سے منور کرتی ہے۔اور دونوں کے امتزاج سے ایک ایسا ہنر اس مرشد کے ہاتھ آجاتاہے جس کے ذریعہ وہ اسلام اور ایمان کی محافظت کے قابل ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس بات پر بضد رہیں کہ طریقت ایک بالکل الگ چیز ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلام کے بارے میں ایک جامع بصیرت عطا کرتی ہے۔ پھر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ بصیرت اس مرشد کو باہر کھینچ نکالے اور اس کو معاشرے کے ان تمام معاملات میں متحرک کردے جن میں اسلامی اصول و ضوابط کے لاگو ہونے کی ضرورت ہے۔ اس طرح معاشرہ کی بہتری اور اس کی خدمت کا عمل روپذیر ہوگا۔اسی چیز کو شیخ مصلح الدین سعدی السہروردی نے کس خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔
 
کسی بھی مرشد اور فاضل عالم کے لیے ا حسان کے دائرہ میں پہنچ جانے کے بعد جہاںشریعت ایک خصوصی لطف کا باعث ہو تی ہے تو وہیں طریقت اس درجہ میں آکر اس کو عین الیقین، حق الیقین اور معرفت کی تجلیوں سے منور کرتی ہے۔اور دونوں کے امتزاج سے ایک ایسا ہنر اس مرشد کے ہاتھ آجاتاہے جس کے ذریعہ وہ اسلام اور ایمان کی محافظت کے قابل ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس بات پر بضد رہیں کہ طریقت ایک بالکل الگ چیز ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلام کے بارے میں ایک جامع بصیرت عطا کرتی ہے۔ پھر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ بصیرت اس مرشد کو باہر کھینچ نکالے اور اس کو معاشرے کے ان تمام معاملات میں متحرک کردے جن میں اسلامی اصول و ضوابط کے لاگو ہونے کی ضرورت ہے۔ اس طرح معاشرہ کی بہتری اور اس کی خدمت کا عمل روپذیر ہوگا۔اسی چیز کو شیخ مصلح الدین سعدی السہروردی نے کس خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔
 
طریقت  بجز  خدمت  خلق  نیست 

بہ  تسبیح  و  سجادہ  و  دلق  نیست

 

 
یعنی طریقت صرف خلق خدا کی خدمت میں ہے ، نہ کہ تسبیح ، جائے نماز اور گدڑی میں ہے۔ شیخ سعدی یہاں یہ واضح کرنا چاہ رہے ہیں کہ طریقت کا ایک مرشد (شیخ) جو احسان کے درجہ کو پہنچ جائے وہ ایسی چھوٹی موٹی چیزوں سے بہت پرے جا پہنچتا ہے۔ اس کو اب ظاہری دنیاوی دکھاوے اور بناوٹی چیزوں سے نکل آنا چاہئے ، اس لیے کہ دنیائے اسلام کو اس کے خدمات کی ضرورت ہے۔ اس کو چاہئے کہ اپنے گرد لوگوں کا ایک حلقہ بنائے اور ان پر اپنی شفقتوں کا سایہ کیے رکھے اور نئے آنے والوں کو بھی اس حلقہ میں شامل کرتا رہے، اس لیے کہ اسلام کوئی پرائیویٹ کلب نہیں ہے۔  اور پھر شیخ کی ذاتی زندگی بالکل شفاف اور قابل اتباع ر ہنی چاہئے۔ اس کے گرد کوئی پراسراریت نہیں ہونی چاہئے۔  ایسے ہی شیخ کو حضور نبی کریم ۖ کی اس حدیث کا مصداق ہونا چاہئے جس کے تحت آپۖ نے فرمایا :” اللہ کی رحمتیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو ایک گروہ میں ہو کر رہتے ہیں۔ ” ( یدُ اللّٰہِ فوق الجماعة )۔ اسلامی معاشرت کا یہ اصولِ اوّل (first principle)ہے۔ اب شیخ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دورہ کرے اور دیکھے کہ کوئی اکیلا تو نہیں رہ گیا اور بغیر کسی گروہ میں شامل ہوئے زندگی گزار رہا ہے۔
 

اسلامی روایت بمقابلہ روایتی اسلام 

 
اگر شیخ صاحب اسلامی روایات کو قابل عمل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اوپر درج شدہ تمام باتیں درست ہیں۔ اس کے بر خلاف اگر وہ روایتی اسلام کو پراسرار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو سب کے کان کھڑے ہو جانے چاہئیں اور ان شیخ صاحب پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے۔ کیونکہ روایتی اسلام وہ ہیں جن کے تحت دنیا کے مختلف علاقوں کے مسلمان اسلام کو سمجھتے رہے ہیں اور مختلف ادوار میں اس کے مطابق زندگی گزارتے رہے ہیں۔ مثبت بات اس میں یہ ہے کہ کچھ سمجھدار اور صاحب فہم شیوخ نے کچھ ایسے عمل شامل کر لیے جو لوگوں کو شریعت کی طرف مائل رکھنے میں مددگار ثابت ہوںمگر ان کی حیثیت زائد از ضرورت عمل یعنی نوافل سے زیادہ نہیںرہی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ نو وارد مسلمانوں کو اپنے پرانے مذہبی روایات کو چھوڑ کر اسلامی روایات کو اپنانے میں سہولت ہو جائے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہ زائداز ضرورت چیزیں مسلمانوں کے اندر لازمی جزو کی حیثیت سے داخل ہو گئیں اور ان شیوخ کے گدی نشیں اُس سوچ کے حامل نہ تھے کہ مریدین کو اس سفر میں اُس مقام سے آگے لے کر جاتے، نتیجے کے طور پر ان لوگوں نے اُنہیں اس بھنور میں پھنسا ہوا چھوڑ دیااور بد قسمتی سے نو واردوں نے ان ہی زائد از ضرورت چیزوں کو اسلامی تعلیمات میں تبدیل کرلیا۔ اور لوگوں نے یہ گمان بھی کر لیا کہ ان کے شیخ بڑے بلند مرتبہ لوگ تھے اور ان کی تعلیمات سے انحراف کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ 
 
وقت کے ساتھ ساتھ یہ نئی چیزیں ان کی معاشرت میں داخل ہو گئیں اور اسلام کی تعلیمات اور سنت رسول ۖ کے ہم پلہ ہو گئیں، یعنی یہی ان کے لیے صراط المستقیم بن گئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کے معاملات میں مسلمانوں کے اندر اختلاف رائے پیدا ہوئیںمگر ان میں درست اور غلط کا فیصلہ کرنا انتہائی دشوار معاملہ تھا۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ ان تمام اختلافات کا تعلق بدعت کے مسائل سے تھا۔  پھر ان میں سے کچھ کو بدعتِ حسنہ یعنی اچھی بدعت قرار دے کر برقرار رکھا گیا اور کچھ کو بدعت سئیہ یعنی بری بدعت قرار دیا گیا جو نا قابل قبول تھیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان تمام بدعات کو پرکھنے کا کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا، اس میں بھی تو کوئی شک نہیں کہ آخر بدعت حسنہ بھی تو ایک نئی چیز تھی جو دین میں داخل کر لی گئی۔ اگر اس کی کسی وجہ سے ضرورت تھی تو ایک خاص مدت اور مصلحت کے تحت اس کی اجازت ہو نی چاہئے تھی۔ اگر اس کو ایک مستقل حیثیت دے دی گئی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ایک مکمل دین نہیں تھا اور اس میں اس نئے عمل کی احتیاج باقی رہ گئی تھی۔ اس لیے بدعت حسنہ کے تمام مخالف حضور رسالت مآب ۖ کے اس انتباہ کی روشنی میںاپنی مخالفت میں درست تھے کہ تمام بدعت ضلالت کی طرف لے جاتی ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی اس نظریہ کے زبردست حامی تھے، اور پھر سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہ بھی یہ فرما چکے تھے کہ جب کوئی بدعت ہماری زندگی میں داخل ہوتی ہے ، تو ایک سنت رسول ۖ ہمارے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ ( نوٹ: مجدد الف ثانی یا دوسرے ہزار سال کا مصلح،  کی اصطلاح شیخ احمد سرہندی کے لیے استعمال ہوئی۔ ابو دائود کی ایک حدیث مبارک کے تحت اللہ ہر سو سال کے اوپر ایک مصلح پیدا کرے گا جو اسلام کا احیاء کرے گا ۔ اپنے دور میں شیخ صاحب کو اسلام کے بچائو کے لیے تین اطراف میں جنگ کرنی پڑی۔ اکبر کے دور میںدین الٰہی کا جھوٹا گمراہ کن جھگڑا جو اس کے غیر اسلامی رتنوں کا شوشہ تھا، پھر جہانگیر کے دور میں شیعہ حضرات کا پھیلائے ہوئے زہر کے خلاف، اور آخر میں وحدت الوجود کے فلسفہ کے خلاف جو اس بات کا داعی تھا کہ اللہ کائنات کی ہر چیز میں بہ نفسہ موجود ہے۔ )  
 
اسلام کو اس کے صراط مستقیم سے ہٹانے کی مہم مسلسل جاری تھی اور دوسرے مذاہب اور کلچر سے خیالات اور تصورات کو مستقلاً اسلامی نظریات میں ملایا جارہا تھا۔ یہ کارروائی ان لوگوں کی جانب سے ہو رہی تھی جو منحرف مسلمان تھے یا پھر وہ جنہوں نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔ ان تمام تصورات اور تعلیمات میں سب سے زیادہ نقصان دہ وہ فلسفہ تھا جس کی رو سے یہ کہا جا رہا تھا کہ دنیا کے تمام مذاہب ایک ہی ہیں اور سب کو تسلیم کیا جا سکتا ہے۔  وحدت الوجود کے ماننے والے ایک صوفی شاعر نے اس بات کویوں بیان کیا کہ 
 
سب یار کا جلوہ ہے

کعبہ ہو یا بت خانہ 

 

[[ جاری ہے ]]

قسط نمبر ٢  کا مطالعہ کیجئے قسط نمبر ٣   کا مطالعہ کیجئے

جناب محمد عالمگیر صاحب ١٩٤٢ء میں کولکتہ میں پیدا ہوئے ۔تقسیم کے بعد کراچی میں رہائش پذیر ہوئے۔ تعلیم کی تکمیل آپ نے کراچی سے ہی کی۔ ساٹھ کی دہائی میں کراچی کی ایک مشہور درسگاہ علیمیہ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز میں زیر تعلیم رہے اور اپنے وقت کے مشہور عالم ڈاکٹر محمد فضل الرحمٰن انصاری اور ”منہاج القرآن” کے مصنف ڈاکٹر برہان الدین احمد فاروقی کے زیر تربیت رہے اور ان سے کسب فیض کیا۔ محمد عالمگیر صاحب ١٩٧٤ء میں بغرض ملازمت آسٹریلیا روانہ ہوئے اور آج بھی سڈنی میں ہی مقیم ہیں۔ محمد عالمگیر صاحب علیمیہ انسٹیٹیوٹ میں شیخ عمران نذر حسین صاحب کے ہم مکتب رہے ہیں۔ آج وہ ملازمت سے ریٹائر ہوکر اپنا بیشتر وقت اپنے ہم جماعت اور دیرینہ دوست شیخ عمران نذر حسین صاحب کے کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ ان کی تمام تحقیقات اور تحریروں میں ان کی معاونت کرتے ہیں۔ ان کے بیرونی ممالک کے دوروں اور وہاں کے لکچروں کو پروگرام کرتے ہیں اور ان کا بندوبست کرتے ہیں۔
تصوف ایک ہَمہ جہت پہلوئوں کا حامل موضوع ہے ۔ اس کے کئی چہرے اور کئی رنگ ہیں ۔ اس پر بحث و تحقیق کرنے والے خواہ تائید میں ہوں یا تردید میں اس حقیقت کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ اس موضوع پر توازن اور اعتدال کے ساتھ خامہ فرسائی نہایت ضروری ہے ۔ محمد عالمگیر صاحب نے اس موضوع پر اعتدال کے ساتھ اپنے قلم کو اٹھانے کی سعی کی ہے ۔ اس سے اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے اور اختلاف بھی تاہم اگر کوئی صاحبِ علم اس موضوع پر دلائل کی رُو سے اپنے خیالات پیش کرنا چاہیں تو ” الواقعة ” کے صفحات اس کے لیے حاضر ہیں ۔ ( ادارہ )
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے دوسرے شمارہ، – رجب المرجب 1433ھ / مئی، جون 2012 – سے  قسط وار شائع ہو رہا ہے۔