حسینہ واجد کے نام ایک سینئر سعودی سفارتکار ڈاکٹر علی الغامدی کا کھلا خط


الواقعۃ شمارہ نمبر 2

قابل احترام!

پہلے میں اپنا تعارف کرادوں کہ بنگلہ دیش کی آزادی سے قبل میں بحیثیت سعودی ڈپلومیٹ ڈھاکا کا دورہ کرچکا ہوں۔١٩٦٠ ء میں عازمین حج کو ویزا کے اجرا کے لیے سعودی حکومت نے مجھے چٹاگانگ میں متعین کیا تھا۔ ١٩٨٠ء میں ، میں دارالحکومت ڈھاکا میں سعودی سفارتخانہ میں پورے اختیارات کے ساتھ واپس آیا۔
اس دوران بنگلہ دیش سے محبت کرنے والے کچھ لوگوں نے جدہ میں سعودی بنگلہ دیشی فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے قیام کا منصوبہ بنایا جس کا مقصدباہمی دلچسپی کے امور کے دوطرفہ تعلقات کا فروغ اور بنگلہ دیش کے ورک فورس کو سعودی عرب میں مدد فراہم کرنا تھا۔میرے لیے یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں کہ مجھے اس ایسوسی ایشن کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔ایسوسی ایشن کے بانی ارکان ہونے کے باوجود ہم میں سے کسی کے کبھی بھی کوئی مادی مفادات نہیں رہے ، ہماری ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ سعودی عرب اور (آبادی کے اعتبار سے) دنیا کی تیسری بڑے مسلم ملک بنگلہ دیش کے درمیان تعلقا ت کو کیسے مستحکم بنایا جائے۔میرے لیے یہ اعزا زکی بات ہے کہ میں نے کراچی میں جنرل ایوب خان کی زیر صدارت ہونے والی گول میز کانفرنس کے دوران آپ کے والد شیخ مجیب الرحمن سے ملاقات کی جس کا استقبالیہ جی ایم سید نے دیا تھا۔ میں واحد مہمان تھا جسے اس گول میز کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا۔ میں آپ کے والد سے مل کر ان کی کرشماتی شخصیت اور فن خطابت سے بہت متاثر ہوا۔ یہ بھی اعزا ز کی بات ہے کہ بنگلہ دیش میں جنر ل حسین محمد ارشاد کے دور حکومت میںڈھاکا میں سعودی سفارتخانہ میں تعیناتی کے دوران میری آپ سے بھی ملاقات رہی ۔مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جب اپوزیشن لیڈر ہونے کی حیثیت سے پولیس اہلکار آپ کو گرفتار کرنے آگے بڑھا تو آپ نے کہا کہ” مجھے ہاتھ مت لگانا، میں ایک مسلم عورت ہوں۔”اس مختصر سی تمہید کے بعد اب میں چند چیدہ چیدہ نکات پر بات کرنا چاہوں گاجس کا تعلق عدل و انصاف سے ہے۔

حسینہ واجد صاحبہ!

١ ۔آپ ان مشکل حالات سے بخوبی آگاہ ہیں جن کا آپ کے والدشیخ مجیب الرحمن کی قید سے رہائی اور ڈھاکا واپسی کے بعد وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ملک کو درپیش تھے۔آپ کے والد نے متعدد قانون بنائے جن میں War Crimes Law بھی شامل ہے جس کے تحت ١٩٥پاکستانی فوجی افسران کو مجرم قرار دیا گیا۔اس قانون کا کسی بنگلہ دیشی شہری یا سیاستدان پر اطلاق نہیں کیا گیا ۔مگر پھر ان ١٩٥پاکستانی فوجی افسران کو معاف کردیا گیا جس پر پورے مسلم دنیا نے شیخ مجیب الرحمن کو ان کے اس اقدام پر خراج تحسین پیش کیا ۔اُ س وقت آپ کے والد نے ایک تاریخی بیان دیا تھا کہ” میں چاہتا ہوں کہ دنیا یہ جان لے کہ بنگلہ دیشی اپنے دشمن کو معاف کردیتے اور بھول جاتے ہیں۔”

٢۔ آپ کے والد کے اُسی دور حکومت میں پاکستانی فوج سے تعاون کرنے کے الزام میں ایک اور قانون بنایا گیا جس کے تحت ایک لاکھ لوگوں کو اس جرم میں ملوث قرار دیا گیا لیکن ان میں بھی کوئی بنگلہ دیشی سیاستدان شامل نہیں تھا۔ بعد ازاں آپ کے والد نے انہیں بھی معاف کرنے کا فیصلہ کیا اور انہیں رہا کردیا گیا۔ آپ کے والد نے اپنے پورے دور حکومت میں کسی بھی سیاستدان پر کبھی جنگی مجرم ہونے کا کوئی الزام نہیں لگایا۔ حتیٰ کہ جب ١٩٩٦ء میں عنان حکومت سنبھالنے بعد آپ بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلیں۔١٩٩٦ء میں آپ کے دور حکومت میں کسی پر بھی جنگی جرم میں ملوث ہونے کا الزام عائد نہیں کیا گیا اور نہ کسی کی گرفتاری عمل میں آئی کیونکہ آپ کے والد( شیخ مجیب الرحمن) نے اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے حل کرتے ہوئے تما م مبینہ جنگی مجرموں کو عام معافی دے دی تھی۔

٣۔ مگر ہر کوئی اس وقت حیران رہ گیا جب آپ نے اپنے والد شیخ مجیب الرحمن کے عقلمندانہ فیصلہ کو منسوخ کرتے ہوئے جنگی جرم کے مسئلہ کو دوبارہ زندہ کردیا۔اپنے والد کے فیصلوں کو منسوخ کردینے کا یہ عمل شیخ مجیب الرحمن کی رسوائی کے سوا کچھ نہیں جو کسی صورت قابل قبول قرار نہیں دیا جاسکتابالخصوص ان اپوزیشن جماعتوں کے خلاف جنہوں نے اس فیصلہ کی منسوخی کی مخالفت کی اور آپ کی سابق حکومت میں بھی رہیں۔

٤۔ مسلم رہنمائوں کی گرفتاری کے غیر منصفانہ فیصلہ کی کوئی دلیل نہیں دی جاسکتی جنہیںآپ کے والد اور پھر1996ء میں آپ کے دور حکومت میں گرفتار نہیں کیا گیا۔یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوگا بلکہ اس فیصلہ کے نتیجے میں بنگلہ دیش کے عوام بحیثیت ایک قوم کے تقسیم اور مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔مسلم دنیا کے تیسرے بڑے ملک کے رہنما ہونے کی حیثیت سے اس فیصلہ کے آپ پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے اور اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔بنگلہ دیش اور اس کے عوام سے ایک محبت کرنے والے فرد کی حیثیت سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ دنیا بھر کے مسلم رہنما بنگلہ دیش کے مسلم رہنمائوں بالخصوص پروفیسر غلام اعظم کی گرفتاری پر حیران وپریشان ہیں، ان پر عائد کیے گئے الزامات پر کسی کوبھی یقین نہیں۔پروفیسر غلام اعظم پر ان کے مبینہ جرم پر ٤٠برس بعد الزامات عائد کیے جار ہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی ان پر نہیں لگائے گیے۔

٥۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنے والد کی خاطرجنہوں نے مذکورہ مسلم سیاسی رہنمائوں پر ایک معمولی الزام بھی نہیں لگایا، کی گرفتاری کے فیصلہ کی کوئی توجیح پیش کیے بغیر اس پر نظر ثانی کریں گی ۔ آپ کی جانب سے ان کی رہائی کے احکامات عوام کی جانب سے تحسین کا باعث اور آپ کے اپنے والد سے والہانہ محبت کا اظہار ہوگا۔

( ڈاکٹر علی الغامدی ایک سابق سعودی ڈپلومیٹ ہیں جنہوں نے سائوتھ ایشین افیئرز میں اسپیشلائزیشن کی ہے)   

یہ خط جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔