المغراف فی تفسیر سورۂ ق قسط : (٣)



شمارہ نمبر ٣ 

مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ

تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

(٢) ان کا باہم مختلف ہونا اور جلد جلد تبدل رائے کرتے رہنا اور آپ ( ۖ ) کا ابتداء سے انتہاء تک اپنے دعویٰ پر ثابت و قائم رہنا ، اور بَرملا اس کو ظاہر کرتے رہنا اور روز بروز عقلا اور اہلِ دانش کا قبول کرتے جانا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آپ کا دعویٰ حق ہے اور اب ان کا انکار کسی دلیل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ نری [صرف] ہٹ دھرمی اور حماقت ہے اگر اب بھی کفار اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علمی کو تسلیم نہ کریں اور اپنے اختلافِ باہمی سے بھی اپنے کو غلطی پر نہ مانیں ، تو تیسری دلیل پیش کیجئے ، اور لوحِ محفوظ میں وقائع  ]واقعات[ کا لکھا ہونا بھی دلیل ہے ، وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کو کیا علم کہ اللہ جلّ شانہ کے یہاں وقائع و حوادث کی کوئی کتاب لکھی ہوئی دھری ہے ، تو دلیل عقلی سے سمجھائیے ۔

(٣ ) ( اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓا اِلَى السَّمَاۗءِ ) ان لوگوں نے آسمان کی طرف ایک نظر بھی نہیں ڈالی ۔ یہ کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ نہیں حالانکہ وہ  ( فَوْقَهُمْ ) ان کے سر پر ہے ( كَيْفَ بَنَيْنٰهَا) اسے کیسی اونچی چھت بنائی اس کی اونچائی کے سبب سے یہ بھی گمان نہیں ہوسکتا کہ کسی ارضی مخلوق نے بنایا ہو ۔ پھر دیکھو کہ ( وَزَيَّنّٰهَا )  نہایت مزین بنایا ، جو دن کو آفتاب کی چمکتی شعاع ، نیلگوں رنگ سے سجا ہوا نظر آتا ہے ، اور شب کو مختلف رنگ اور مختلف طور کے ستاروں سے سجا جاتا ہے جن کی ترتیب اور شعاع کی مجموعی کیفیت عجب دلفریب ہوتی ہے ۔ 
اور ظاہر ہے کہ یہ ارتفاع [بلندی] اور رنگ اور دلفریب سجاوٹ آسمان کی دوچار برس سے نہیں بلکہ خلقتِ آدم کے بہت پہلے سے ہے مگر جو رنگ روپ پہلے تھا ، اب بھی موجود ہے ، نہ تبدیل و تغیر ہے ، نہ تفاوت [فاصلہ ، فرق]، اور جب تک خدا چاہے گا رہے گا ، حالانکہ کوئی سی چھت جو پرانی ہوجانے سے کمزور ہوجاتی ہے ۔ اندرونی و بیرونی حصے میں اس کی سخت تغیر آجاتا ہے ، رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے یا بالکل اڑ جاتی ہے ۔ جا بجا پھٹ کر شگاف پڑ جاتا ہے مگر آسمان وہ چھت ہے ، جس میں نہ کبھی رنگ و روغن پھیرا جاتا ہے نہ شکست و ریخت ہوتی رہتی ہے ، جس آب و تاب و رنگ و روپ کا ایک بار بنا ویسا ہی موجود ہے ۔ (  وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ ) [٦] اس میں کہیں بھی بسببِ امتداد [درازی] زمانہ کے درار و شگاف نہیں ۔ 

آسمان اور اس کی رفعت اور زینت سے اثبات حشر و بعثت انبیاء پر کئی طرح سے استدلال کیا جا سکتا ہے ۔

( اوّل ) جو اللہ آسمان کو پیدا کرنے اور اس قدر اونچا بنانے پر اور ایسا خوشنما سجانے پر قادر ہے ۔ وہ اللہ دوبارہ ہستی کے لوٹانے پر بھی قدرت رکھتا ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوا :

( اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ  )  [ یٰس:٨١]

 "بھلا جس نے آسمانوں اور زمینوں کوپیدا کیا ،وہ ان کے مثل ( دوبارہ ) پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟”

 اور فرمایا:

( لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ ) [غافر: ٥٧]

"بے شک آسمان اور زمین کا پیدا کرنا آدمیوں کے پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے ۔”

 اور فرمایا:

 ( اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ) [الاحقاف : ٣٣]

"کیا ان لوگوں نے نہ دیکھا کہ جس اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ، اور اسے اس میں کچھ دقت نہ ہوئی وہ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہے ۔”


(دوم ) کیا جو اللہ آسمان کے رنگ و روپ کے وسعت و آراستگی کا زمانۂ دراز سے حافظ و نگہبان ہے ۔ وہ متفرق اجزائے انسان کا کسی عَالم میں ہوں حافظ نہیں ہوسکتا ۔

( سوم ) جو اللہ آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ، ضرور زینت و آراستگی وا نتظام کو دوست رکھتا ہے ، اور آراستگی کی دو قسمیں ہیں ۔ ظاہری و باطنی ۔ جب ظاہری آراستگی کا مخلوقات کے جو باطنی آراستگی سے کم رتبہ اور معرضِ زوال میں ہے اس قدر اہتمام ہے تو باطنی آراستگی کا جو مہتمم بالشان اور باقی ہے کس قدر اہتمام ہوگا پس اشرف المخلوقات انسان کو جب تمام مخلوقات سے ظاہری آراستگی میں اتم و اکمل بنایاجیسا کہ فرمایا:

(لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ) [التین :٤ ]

"انسان کو نہایت اچھی تناسب میں بنایا”

 تو اس کی باطنی آراستگی بھی اسی درجہ ضروری تھی ، اور اس کا ذریعہ پیدا کردینا لازم تھا ۔اسی لیے نبیوں کا بھیجا کہ ان کو باطنی نا ہمواری و بے تہذیبی و بد خلقی سے پاک کریں اور نہایت مہذب اور آراستہ و مزین بنائیں جیسا کہ فرمایا: 

(لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ  ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ) [ آل عمران :١٦٤]

"اللہ نے مسلمانوں پر بڑا ہی کرم کیا ، جو انہیں میں سے ایک بڑی شان والا رسول بھیجا ، جو ان کو قرآن پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں ( گندگیوں ) سے پاک کرتا ہے ، اور کتاب کی ( تعمیل کا طریقہ ) سکھاتا ، اور مکارم اخلاق بتاتا ہے ، ورنہ اس کے قبل یہ لوگ صریح گمراہی میں پڑے تھے ۔”

جاری ہے۔۔۔
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، شعبان معظم 1433ھ/ جون، جولائی 2012- سے ماخوذ ہے۔ 
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، – جمادی الثانی 1433ھ / اپریل، مئی 2012– سے  قسط وار شائع ہو رہا ہے۔ 
Advertisements