"قرآن" غیروں "بائبل" اپنوں کی نظر میں


تبصرہ  کتب ٣ 

"قرآن” غیروں"بائبل” اپنوں کی نظر میںمؤلف :محمود ریاض
 
صفحات : ١٤٤
قیمت : ( مجلد )درج نہیں
ناشر : مکتبہ سعد بن ابی وقاص کراچی
محل فروخت  : اقبال نعمانی بک سینٹر صدر کراچی ، اقبال بک ڈپو صدر کراچی ، طاہر بک ہائوس صدر کراچی، ادارة المعارف جامعہ دارالعلوم کراچی ، فضلی بک اردو بازار کراچی ، مکتبہ دار الاحسن یٰسین آباد کراچی ۔
 
محمود ریاض تاریخ اسلام ، بین الاقوامی تعلقات اور سیاسیات کے طالب علم ہیں تاہم انہیں تقابل ادیان بالخصوص اسلام اور نصرانیت کے تقابلی مطالعے سے خصوصی دلچسپی ہے ۔
 
زیر تبصرہ کتاب میں انہوں نے قرآن پاک سے متعلق غیر مسلم علماء و مفکرین کے اقوال نقل کیے ہیں جو قرآن مجید کی عظمت کے اعترافات پر مبنی ہیں ۔

 
کتاب کے دوسرے حصے میں مولف نے بائبل سے متعلق اپنی تحقیقات عیسائی علماء کی تحریروں کی مدد سے پیش کی ہیں ۔بائبل شروع ہی سے متنازع رہی ہے ۔ اس کے تصنیفی انتساب پر ہر دور میں حرف تنقید زبان و قلم پر لائی گئی ۔اس کے مختلف نسخے اس کے مابین تضادات کو نمایاں کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ایک قدیم ماہرِ الٰہیات ،فلسفی اور شارح بائبل اوریجن Origen کا یہ قول بقول مولف مسیحی دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے :
 
” اناجیل میں اتنے اختلافات ہیں کہ ان سے آدمی کا سر گھومنے لگ جاتا ہے ۔ ” ( ص ٩٢ -٩٣)
 
مولف نے صفحہ ٥٣ تا ٥٦ قرآن کی عظمت میں ڈاکٹر موریس بوکائلے کی کتاب The Quran, The Bible and The Scienceسے اقتباسات نقل کیے ہیں ۔ مولف کی اطلاع کے عرض ہے کہ ڈاکٹر موریس بوکائلے نے اسلام قبول کرلیا تھا ۔ جیسا کہ ڈاکٹر گیری ملر نے اسلام کو قبول کرلیا تھا ۔ ثانی الذکر کے اسلام کی تصریح مولف  نے کی ہے ۔
 
کتاب بڑے سلیقے سے مرتب کی گئی ہے اور اس کی طباعت میں بھی معیارکی بلندی کا ثبوت دیا گیا ہے ۔
مولف اگر اخذ و ترتیب سے بڑھ کر اخذ استدلال ، تقابل اور تنقید کا فریضہ انجام دیں ۔تو اپنے ذوق و شوق اور لگن کی بدولت بہت جلد بائبل کے ایک بلند پایہ محقق کی حیثیت سے اجاگر ہوں گے ۔ اسی روشنی میں وہ اپنی آئندہ کی تحقیقات کو ، جو قرآن کریم اور سیرت نبویؐ کے موضوع کا احاطہ کرتی ہیں ، قلمبند کریں تاکہ ان کی تحریروں کا علمی و استنادی معیار بڑھ جائے اور معاملہ صرف اخذ و ترتیب تک محدود نہ رہے ۔ بلکہ اس میں ایک تصنیفی شان نمایاں ہو ۔
 
الغرض مولف کی جستجو اور لگن لائقِ تعریف ہے ۔ وہ اسی جہت میں اپنی لگن کے تقاضے پورے کرتے رہیں تو جلد ہی عالم اسلام کوایک اچھا محقق میسر آجائے گا ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ان کی کاوشوں کوقبول فرمائے آمین۔
 
قارئین بالخصوص قرآنیات کا ذوق رکھنے والے افراد سے گزارش ہے کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں ۔ اس کا مطالعہ ان کے علم میں اضافے کا باعث ہوگا ۔
 
محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

غیر مسلم ممالک میں سکونت ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (3 ) 

غیر مسلم ممالک میں سکونت ۔ایک  تحقیقی  و  تنقیدی  جائزہ

ابو موحد عبید الرحمن


قسط  نمبر 1 قسط  نمبر 2 قسط  نمبر 3 قسط  نمبر 4

٢ ) 

اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى ۙ الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ ۭ وَاَمْلٰى لَهُمْ (٢٦ ) ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ښ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ (٢٧ٓ) (سورة محمد :٢٥-٢٦)

” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد اس سے پھر گئے ، ان کے لیے شیطان نے اس روش کو سہل بنادیا اور جھوٹی خواہشات کا سلسلہ ان کے لیے دراز کر رکھا ہے ۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کے ناپسند کرنے والوں سے یہ کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری اطاعت کریں گے ، اللہ ان کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے ۔ ” 

نکتۂ استدلال

یہاں یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ ”دین سے پھر جانے والے” ان لوگوں کو قرار دیاگیا ہے جنہوں نے ”بعض ” باتوں میں طواغیت کی اطاعت کا وعدہ کیا ہے اور یہ وعدہ بھی ” مستقبل ” سے متعلق ہے اور ” خفیہ ” طور پر کیا گیا ہے ۔ تو پھر ایسے میں ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو ” بعض ” باتوں کی بجائے ” کل ” باتوں میں ، ” مستقبل ” میں نہیں ” حال ” میں طواغیت عصریہ کی مطلق اطاعت کر رہے ہیں ، جبکہ یہ شنیع فعل ” خفیہ ” بھی نہیں ” اعلانیہ ” ہے ۔ فتدبر!

٣ )

(يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ ) (النسائ:١٤٤)


” اے ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا ولی نہ بنائو ۔”

نکتۂ استدلال

اس آیتِ مبارکہ میں لفظ اولیاء کا ترجمہ عمومی طور پر دوست کیا جاتا ہے لیکن عربی لغت میں اس کے اور معنی بھی منقول ہیں ۔ صاحب ” القاموس المحیط ” نے ولی ( اسم صیغہ ) کے یہ معنی بھی تحریر فرمائے ہیں معاون ، مددگار ، محبوب ، قریب وغیرہ [القاموس المحیط ، مادة ” و ل ی ”]۔ طواغیت کے معاشرے میں رہنے والا شخص ولی کے اس معنوی سانچہ میں ہر زاویہ سے متعلق ہوتا ہے ۔ پھر مزید کسی تفصیل کی حاجت اس لیے نہیں رہتی کہ صاحب ” لسان العرب ” نے ولی نے معنی ”پڑوسی ” کے بھی کیے ہیں [لسان العرب ، مادة ” و ل ی ”]۔ ایسے میں درسِ آیت یہ ہوا کہ اے ایمان والو! اہلِ ایمان کے قرب و جوار کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ کے قرب و جوار میں نہ جا بسو ۔یہ وہی درس ہے ، جسے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

” من بنی ببلاد الاعاجم ، وصنع نیروزھم و مھرجانھم ، و تشبہ بھم حتی یموت ، و ھو کذلک ، حشر معھم یوم القیامة ۔” [اقتضاء الصراط المستقیم : ١٨٨]

” جس نے عجمیوں ( کافروں ) کے علاقہ میں گھر تعمیر کیا ، ان کے نیروز و مہرجان میں شریک ہوا اور ان کی مشابہت اختیار کی یہاں تک کہ وہ مر گیا ، تو یہ انہی میں سے ہے ۔ روزِ محشر اس کا حشر انہی کے ساتھ ہوگا ۔ ”

یعنی صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن عمر نے اہلِ کفر کے علاقہ میں گھر تعمیر کرنے کو بھی ایک مستقل الگ جرم کی حیثیت سے ذکر کیا ہے ۔ بصورت دیگر ترک ولایت کی تاکید کی گئی ہے ۔ 

٤)

وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗٓا اِلَى الْكَهْفِ ) [ الکہف :١٦]

” جب تم ان ( مشرکین ) سے الگ ہوجائو تو غار میں جاکر پناہ لے لو ۔ ”

نکتۂ استدلال

اصحاب کہف سے متعلق یہ آیت اس حقیقت کا بیان ہے کہ اہلِ حق کا ہمیشہ سے یہ شیوہ رہا ہے وہ اہلِ باطل کے قرب و جوار میں بسنے سے تنفر برتتے رہے ہیں اور صالح اجتماعیت کو مجتمع کرنے کے لیے مقام وحدت بغرض وحدانیت کے متلاشی ہوتے ہیں چاہے وہ نکتۂ اجتماع ایک ویران غار ہی کیوں نہ ہو !

٥ ) 

وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ ) [سورة ہود :١١٣]

” ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجائو گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سر پرست نہ ملے گا جو اللہ سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی ۔”

نکتۂ استدلال

” لا ترکنوا ” کا عمومی ترجمہ ” نہ جھکنا ” کیا گیا ہے ، مقصود ظالم طواغیت سے ادنیٰ درجہ میں بھی معاونت نہ کرنا ہے ۔ امام ابن جریح فرماتے ہیں :” لا تمیلوا الیھم ”    ( یعنی ان کی جانب میلان تک نہ ہو )۔امام ابو العالیة فرماتے ہیں : ” لا ترضوا اعمالھم ”( ان کے اعمال سے راضی نہ ہو ) [تفسیر قرطبی : ٩/٧٢]۔ ظاہر ہے یورپی ممالک وہ احباب ہی جاتے ہیں جو ان کے معاشی یا معاشرتی پہلوکی جانب میلان رکھتے ہیں اور ان کے اعمال سے ہمارا راضی ہونا تو درکنار ، وہاں کے قانون کوتسلیم کرکے خود ان کے احکام کے ہم پابند ہوجاتے ہیں ۔ جبکہ مسلمان کیا ، مسلمان کے جانور تک کو علماء نے دارالحرب میں چھوڑنے کی ممانعت کی ہے تاکہ وہ طواغیت کی تقویت کا سبب نہ بنے ۔ علّامہ ابو الحسین احمد بن محمد قدوری رقمطراز ہیں : 

” اذا اراد الامام العود الی دار الاسلام و معہ مواش فلم یقدر علی نقلھا الی دار الاسلام ذبحھا۔ ”[التکمیل الضروری شرح القدوری :٢/٤٩٥]

” اگر امام ( دار الکفر سے ) دارا لاسلام (جہاد کے بعد ) لوٹنا چاہے اور اس کے ساتھ مویشی بھی ہوں ، جن کو وہ دار الاسلام منتقل نہ کرسکے تو پھر چاہئیے کہ انہیں ذبح کر ڈالے ۔ ”

جب ایک جانور تک کو دار الکفر میں چھوڑنے کی اجازت نہیں ،توایسے میں ایک موحد کیوں اور کیسے رہ سکتا ہے ؟

٦) 

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۡ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗٓ ) [الممتحنة :٤ ]

”تمہارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کا ہے ۔جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم بیزار ہیں تم سے اور جن کی تم اللہ کے علاوہ عبادت کرتے ہو ۔ ہم تمہارے انکاری ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت ظاہر ہوچکی ہے جب تک کے تم ایک اللہ پر ایمان نہ لائو ۔ ”

نکتۂ استدلال

اس آیتِ مبارکہ کو علماء آیتِ اظہارِ دین قرار دیتے ہیں یعنی دین کے اظہار پر ایک مسلمان اس درجہ قادر ہو کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اللہ کے باغی مشرکین کے سامنے وہ ٹھیٹھ موحدانہ اسلوب اختیار کرے جوآپ علیہ السلام نے اختیار کیا ہے ، اور ان سے اعلانِ برأت دوٹوک الفاظ میں کرے ۔اگر کوئی اس طرزِ پر اظہار دین کرنے سے قاصر ہے ، تو پھر علماء کے متفقہ فتاویٰ کی روشنی میں اسے اپنا دیار ترک کرکے توحیدی آب و ہوا کو اختیار کرنا چاہیئے ۔ یورپی ممالک میں بسنے والے حضرات کو اگر آیتِ اظہارِ دین کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو وہ اس طرزِ اظہارِ دین کے علاوہ اور بھی بہت سے امور دینیہ پر عامل ہونے سے یکسر معذور ہیں ۔ مثلاً 

(١) ایک باپ اپنے بیٹے یا بیٹی کو ترکِ صلاة پر سرزنش کرتا ہے توہ وہ یہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہاں کا قانون اس میں مانع ہے ۔

( ٢) کوئی شخص اگر دوسری شادی کسی طبعی مجبوری کی وجہ سے کرنا چاہے تو یہ بھی جرم ہے ۔ 

( ٣ ) دعوت جہاد جوکہ روحِ اسلام ہے وہ بھی شجرِ ممنوعہ ہے ۔ 

( ٤ ) نہی عن المنکر بھی جرم ہے اور بسا اوقات امر بالمعروف بھی ۔

( ٥ ) کوئی مسلمان مرد یا عورت بغرضِ ” حفاظتِ ستر ” Scanning Machine سے نہ گزرنا چاہے تو وہ ایسا نہیں کرسکتا ۔ 

(٦ ) وہ مجبور ہے کہ مشرکین کے ہاتھ کا ذبیحہ کھائے ۔

( ٧ ) مرد و زن کا اختلاط اس حد تک ہے کہ بسوں تک میں صاحب و صاحبہ شانہ بشانہ بیٹھتے ہیں ۔ 

( ٨) شوہر قرآن کی روشنی میں اپنی بیوی کو کسی منکر پر سرزنش کرے تو یہ بھی غیر قانونی فعل ہے ۔

(٩)کتاب اللہ کی روشنی میں اگر کوئی تفریحی مقام جانا چاہے تو وہاں سوائے ننگ Nudismکے اور کچھ نہیں ملتا ۔ 

(١٠) نبی ۖ نے فرمایا ہے کہ ان دستر خوانوں پر نہ بیٹھو جہاں شراب کے جام چلیں لیکن یورپی فائیو اسٹار میں کھانا کھانے والا مجبور ہے کہ وہ طعام کے لیے ان ہوٹل نما مے خانوں میں کھانا کھائے بلکہ بسا اوقات تقریبات میں بھی اسے ٹکراتے جام کے مناظر کو دیکھنا پڑتا ہے ۔

(١١)نامحرم کو دیکھنا حرام ہے لیکن یورپی باشندہ یہاں پھر مجبور ہے ۔ 

(١٢) نبی ۖ نے فرمایا ہے کہ یہود و نصاریٰ کو راستے میں پائو تو انہیں تنگ راستے پر سے گزرنے پر مجبور کردو] صحیح مسلم : حدیث نمبر ٢١٦٧[۔لیکن یورپ میں یہ Human Rightsکے خلاف ہے ۔ 

تاہم اس سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک مسلمان شریعتِ محمدی کو بلادِ مغرب میں رہتے ہوئے ” حق ” تو خیال کرسکتا ہے ، لیکن ” الحق ” ( The Only Truth )خیال نہیں کرسکتا کہ یہ رویہ Human Right Charterسے متعارض ہے ۔ پس جب آپ دوسروں کے کفر و الحاد کو ان کا ” حق ” سمجھتے ہیں اور وحدانیت ربّانی کو اپنا ” حق ” تو اسلام ” الحق ” کیسے رہا ؟ اسلام میں الحق اگر ” حق ” ہوجائے تو یہ شرک فی الحکم ہے ۔ اسلام میں تصور الحق کا اس درجہ اہتمام کیا گیا ہے کہ اس کے لیے اقدامی جہاد ، فریضہ اقامتِ دین ، استخلاف فی الارض ، جزیہ ، حدود جیسے عملی تصور ات بیان کیے گئے ہیں تاکہ کسی اور شہ کا حق ہونا حاشیۂ خیال میں بھی نہ آئے ۔ اس زیرِ بحث آیت سے جہاں مسئلہ اظہارِ دین منقح ہوا کہ جس پر ایک یورپی مسلمان قادر نہیں وہیں ایک قابلِ غور حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے محض مشرکین کے بتوں سے اعلان برأت نہیں بلکہ خود مشرکین سے بھی اعلان برأت کی ، پھر جو ہجرت فرمائی وہ مشہور و معروف واقعہ ہے ۔ طالب علمانہ استفسار ہے کہ جو معاشرہ آپ سے شرک و الحاد کو ایک حق ( Right )کی حیثیت سے تسلیم کروائے ، وہاں ان مشرکین سے اعلان برأت تو کجا ، کیا آپ ان کے شرک سے اعلان برأت کرنے پر بھی قادر ہیں ، ہجرت تو بعد از برأت کی بات ہے ؟

٧)

اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ  ۭقَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۭقَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا  ۭفَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ   ۭوَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا ) ( النسائ:٩٧)

” جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ، جب فرشتے ان کی روح قبج کرنے پہنچے تو پوچھا تم کس حال میں تھے ؟ یہ جواب دیتے تھے کہ ہم کمزور و مغلوب تھے ۔ فرشتوں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم وہاں ہجرت کر جاتے ؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بُری جائے قرار ہے ۔ ”

نکتۂ استدلال

آیت کا پیغام بہت واضح ہے ، لیکن ہم قارئین کی توجہ اس اہم نکتہ کی طرف دلائیں گے جسے امام زید الدین محمد الرازی ( المتوفی ٦٦٦ھ ) نے ”نکات القرآن ” میں اٹھایا ہے ، اور وہ یہ کہ جب فرشتوں کے سوال کے جواب میں ان ” مستضعفین ” نے مدینہ ہجرت نہ کرنے کی علت بیان فرمادی تو پھر جواباً فرشتوں کا یہ کہنا ( أَلَمْ تَکُنْ أَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَةً ) ”کیااللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ وہاں منتقل ہوجاتے ” کیا معنی رکھتا ہے ؟ امام زید الدین جواب مرحمت فرماتے ہیں : ” مطلب یہ ہے کہ اگر تم دور ہونے کی وجہ سے مدینہ ہجرت نہیں کرسکتے تھے تو مکہ سے کسی قریبی علاقہ کی طرف چلے جاتے جہاں تم اپنے دین کے اظہار پر قدرت رکھ سکتے ۔ ” (مسائل الرازی : ٧٩)

علّامہ قاضی ثناء اللہ عثمانی پانی پتی ” تفسیر مظہری ” میں یہی جواب دیتے ہیں نیز علامہ قرطبی اندلسی بھی تفسیر میں فرماتے ہیں : ” و فی ھذہ الایة دلیل علی ھجران ۔” ” اس آیت میں دلیل ہے دونوں اقسام ہجرت پر ” (تفسیر قرطبی : ٥/٢٢٢)۔ اس لیے بعض حضرات کا یہ خیال کہ ہجرت کے لیے دار الاسلام ہونا شرط ہے اور آج یورپی ممالک کا بندہ کوئی دار الاسلام نہیں پاتا اس لیے اس کے لیے احکام ہجرت غیر متعلق ہیں ، صحیح نہیں ۔ جب دارا لاسلام ( یعنی مدینہ منورہ ) کے ہوتے ہوئے بھی دارا لفتن سے دارالامان کی طرف ہجرت کا حکم باقی تھا تو آج کا دور بدرجہ اولیٰ اس حکم کا مستحق ہے ۔ 

٨) ( رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا  ) ( النسائ:٧٥)

”اے ہمارے رب ! ہم کو اس بستی سے نکال جو ظالموں کی بستی ہے  ۔ ”

نکتۂ استدلال

امام ابو حیان اندلسی اس دعا کی تفسیر میں فرماتے ہیں :  ” و المجمھور علی ان اللّٰہ تعالیٰ استجاب دعاء ھم ۔ ” ” جمہور کا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کمزور مسلمانوں کی یہ دعا قبول کی ۔ ” (البحر المحیط : ٢ /٧٧٧)۔ گو دنیا میں اور بھی ظلم کی بستیاں ہیں لیکن ظلم و بربریت کا مظہرِ اتم اور حال کی دنیا میں ظلم کا سبب یہی بلادِ مغرب ہے جبکہ ظلم و معصیت کی پستیوں سے دور رہنا ہی مقصودِ شریعت ہے ، دوری جس قدر برتی جائے گی اسی قدر محمود ہے ۔ صحیح روایت میں سو اشخاص کے قاتل کی مغفرت کی علت ( جو اپنی اس معصیت ہر نادم تھا ) یہ بتلائی گئی ہے کہ اس کی موت بدی کی بستی سے دور اور صالحین کی بستی کے قریب واقع ہوئی تھی ۔” فکان الی القریة الصالحة اقرب بشبر فجعل من اھلھا ۔”      ” صالحین کی بستی سے اس کا فاصلہ ( بدی کی بستی کے مقابلہ میں ) ایک بالشت نکلا سو وہ ان ہی میں شمار کیا گیا ۔ ” (ریاض الصالحین :١ /٢٩)۔ اس لیے ظالموں کی محبت یا ان کی اعانت کسی بھی قسم کی کرے ، تو یہ مذموم حرکت ہے ، خصوصاً ان اقوام سے تعاون جو اہلِ ایمان کے دشمن ہیں ان کی اعانت تو نہ صرف ظلم کی اعانت ہے بلکہ مسلم امہ پر بھی براہِ راست ظلم ہے ۔ امام ابن حزم اندلسی کا یہ فکر انگیز فتویٰ ملاحظہ ہو :

” فان کان ھناک محارباً للمسلمین معیناً للکافرین بخدمتہ أو کتابہ فھو کافر ۔” (المحلیٰ : مسئلہ رقم ٢٢٥٢)

” اگر کوئی شخص دیارِ کفر میں رہ کر مسلمانوں سے لڑے یا کسی بھی نوعیت کی خدمت کرے یا محض کاتب بن کر کافروں کی اعانت کرے تو ایسا شخص بھی کافر ہے ۔ ”(١)

٩) 

(وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ   ) ( ابراہیم :٤٥)

”حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان سے کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے دے کر ہم تم کو بھی سمجھا چکے تھے  ۔ ”

غرض یہ اور بہت ساری دیگر آیات بھی اس زیرِ بحث مسئلہ پر دلالت کرتی ہیں جو اہلِ ایمان کو ظالموں کی بستیاں اور دیگر دار الکفر ترک کرکے ایک جہانِ صالح آباد کرنے کی دعوت دیتی ہیں ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔



حواشی 

(١) امام ابن حزم کی یہ رائے اصولِ فقہ کی روشنی میں اعتقادی حالت پر منطبق ہوتی ہے ۔ باقی اس شنیع فعل کا معصیت ہونا تو ایک معلوم و اجماعی حقیقت ہے ۔ 

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، شعبان المعظم 1433ھ/ جون ، جولائی سے قسط وار شائع ہو رہا ہے۔

سود سے نجات کیسے حاصل کریں؟


الواقعۃ شمارہ ٣ 

ابو عمار محمد سلیم

قسط ١ 

قران مجید اور احادیث مبارکہ میں سود کی ممانعت

١۔قران مجید میں سود کی ممانعت

قران مجید فرقان حمید جو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لیے سر چشمہ ہدایت ہے انسان کو ان تمام کاموں کے کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس کی دنیاوی زندگی کے لیے بہترین سامان فراہم کرتی ہے اور اس کی آخرت میں بھی بڑی نعمتوں کی فراہمی کا وعدہ کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ قران پاک ہر اس چیز کو کرنے سے رکنے کا حکم دیتا ہے جو انسانی معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرنیوالا ہو ، جس سے آپس میں ایک دوسرے کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو یا پھر جس سے اخلاقی اور معاشرتی برائیاں جنم لیتی ہوں۔
قرآن ایسی تمام برائیوں سے انسان کو دور رہنے کا حکم دیتا ہے اور سرکشی اور بغاوت کی روش اختیار کرنے والوں کو آخرت کے عذاب سے ڈراتا ہے۔چغلی ، جھوٹ ، چوری ، دھوکہ دہی ، زنا اور قتل و غارت گری جیسے غلط کاموں کی نشاندہی کرتا ہے اور ان سے دور رہنے کا درس دیتا ہے۔ انسان کو ایسے تمام غلط کاموں سے رک جانے کے لیے قرآن نے بڑی خوبصورتی سے بڑی مثالیں دے کر تفصیل بتائی ہے تاکہ انسانیت راہ ہدایت پر رہے اور بھٹکنے سے محفوظ رہے۔ 
 
ان تمام برائیوں میں سود کا لین دین بھی ایک ایسا ہی برا کام ہے جس سے قرآن نے انسان کو بڑی شدومد سے روکا ہے۔اس لیے کہ سود بہت بڑا ظلم ہے جو ایک انسان دوسرے انسان پر کرتا ہے۔سود ایک دھوکہ ہے اور دوسرے انسان کا خون چوسنے کے مترادف ہے۔ قرآن سود کو حرام قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ کہ جو لوگ سودی کاروبار میں ملوث ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں ( سورة البقرة آیات ٢٧٨ ، ٢٧٩)۔اسی کو مزید تفصیل میں جا کر یوں بیان کیا کہ

 : ”…….اور یہ جو تم سود دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں شامل ہوکر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ہے۔اور جو زکوٰة تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو ، تو جو کوئی بھی ایسا کرتا ہے وہ اپنے مال کو کئی گنا بڑھا لیتا ہے۔” (سورة الروم : ٣٩)۔

 انسان ہر غلط کام کو کرنے کے لیے حیلے بہانے تراش کرکے اس کو جائز بنانے کی کوشش کرتا ہے اور یہ انسانی فطرت کا تقاضہ بھی ہے اور شیطان کی ترغیب بھی۔قرآن مجید نے انسان کی اس غلط فہمی کو اس طرح بیان کیا ہے

 ”………یہ اس لیے کہ یہ کہتے ہیں کہ تجارت بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ایسا ہی ہے جیسے سود (لینا)۔ حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔’ ‘ (سورة البقرة: ٢٧٥) 

 
سود سے روکنے کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ کر روکا اور حکم دیا کہ

 ” اے ایمان والو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھائو اور اللہ سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو ۔ ” ( سورة آل عمران : ١٣٠)۔

 اور پھر مزید ہدایت اس طرح دی کہ

 ” اللہ سود کو نابود (بے برکت) کرتا ہے اور صدقہ (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے گنہگار سے محبت نہیں کرتا ۔” (سورة البقرہ : ٢٧٦)۔

 اور پھر یہ ہدایت بھی عطا کی کہ

” مومنو! اللہ سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔ ”(سورة البقرة: ٢٧٨)

 سود سے باز نہ آنے والوں کو اللہ نے بڑی سخت وعید دی ہے اور فرمایا کہ

 ” جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ( قبروں سے) اس طرح اٹھیں گے جیسے کسی کو شیطان نے چھو کر دیوانہ بنا دیا ہو……….اور پھر جو (حرام کی طرف لوٹا) اور (سود) لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔”(سورة البقرة: ٢٧٥)۔

 اللہ نے انسانی تاریخ کے ہر دور میں اپنے تمام رسولوں اور پیغمبروںکے ذریعہ سے انسان کو حرام سے روکاہے۔ ہر شریعت میں سود کو حرام ٹھہرایا گیا اور لوگوں کو اس سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا۔مگر انسان نے بھی ہر دور میں سر کشی کی روش اختیار کی اور شیطان کے بہلاوے میں آکر اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال دیا۔ قرآن اسی چیز کی طرف اشارہ کر کے پہلی امتوں کے لیے کہتا ہے 

”….اور اس کے سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اوراس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے….” (سورة النسائ: ١٦١)

 
قرآن مجید کی ان واضح ہدایات کے آ جانے کے بعد یہ صاف طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ سود ایک ایسا معاملہ ہے جس میں ” حرام اور باطل ذرایع سے دوسروں کے مال سے اپنے مال میں اضافہ کر لیا جائے۔” اور پھر یہ مزید واضح ہوتا ہے ” روپیہ اس شرط پر ادھار دیا جائے کہ پہلے سے مقرر شدہ اضافہ کے ساتھ رقم واپس کی جائے۔” قرآن کی اس تعریف کی رو سے سود وہ اضافہ ہے جو پہلے سے طے کر لیا جائے۔ اللہ اس اضافہ کو ناجائز قرار دیتا ہے اور اس سے روک رہا ہے۔ سود کا کاروبار تجارت نہیں ہے اس لیے کہ تجارت میں اگر نفع ہے تو نقصان کا اندیشہ بھی موجود رہتا ہے۔ تجارت محفوظ اور آزاد ماحول میں ہوتی ہے اور تجارت میں ملوث دونوں فریق کو برابری کے حقوق حاصل ہوتے ہیںجب کہ سود کے کاروبار میں رقم دینے والا ہر حالت میں اپنی رقم ایک مدت کے بعد اضافہ کے ساتھ واپس لینے کا معاہدہ کرتا ہے اور یہ رقم بھی اور اضافہ بھی رقم لینے والے کو لازماً واپس کرنی ہوتی ہے خواہ اس کو اپنی تجارت یا کاروبار میں نقصان ہوا ہو۔ اس طرح ادھار دینے والا ادھار لینے والے کا خون چوستا ہے۔ اس کو تو ہر طرح کا تحفظ حاصل ہے اور اس کا سرمایہ بغیر کسی جدوجہد اور محنت کے بڑھتا رہتا ہے اور دوسرا فریق نقصان پر نقصان برداشت کرتا چلا جاتا ہے۔اور یہ ہی وہ وجہ ہے جو اس لین دین کو اللہ کی نظروں میں حرام ٹھراتی ہے۔

٢۔ احادیث مبارکہ میں سود سے ممانعت

جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی شریعت نازل کرتا ہے اور انسان کو ہدایات دیتا ہے تو اس کے رسول ان تمام ہدایات پر عمل کرکے مثال قائم کرتے ہیں اور معاشرہ میں عدل و انصاف کا بول بالا کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے جب اپنے ماننے والوں کو سود سے روکا تو پھر حضور نبی کریم رحمت اللعالمین ۖ نے سود کی بنیادی جزئیات ، اس کی کچھ قسموںاور تفاصیل سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ اگر ہم حضور اکرم ۖ کی ان احادیث پر غور کریں جن میں سود کے اوپر استفسار ہے اور جو کہ ستر سے زائد ہیں۔ [مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنی کتاب مسئلہ سود (مطبع ادارة المعارف ، کراچی) میں چالیس سے کچھ اوپر احادیث کو یکجا کردیا ہے۔ یہ کتاب بھی اس مسئلہ پر اچھی اور مدلل چیز ہے جس کا مطالعہ یقیناً نفع بخش ہوگا] تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حضور ۖ نے فرمایا کہ ربا یعنی سود کی ستر قسمیں ہیں جس میں سود پر رقم کا لین دین صرف ایک قسم ہے۔ گو کہ نبی برحق ۖ نے ستر کا لفظ استعمال فرمایاہے مگر ان سب کا نام لے کر وضاحت نہیں فرمائی۔آپۖ نے ان میں سے صرف چند کی نشاندہی کی ہے۔ آج کی دنیا میں معیشت کے موجودہ جاری نظام میں بھانت بھانت قسم کے سود کا اجرا ہو چکا ہے اور دنیا سود کے ان بندھنوں میں بری طرح جکڑی جاچکی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج کے علماء سر جوڑ کر بیٹھیں اور ان پر تفصیلی غور کریں اور امت مسلمہ کو ان سے آگاہ کریں اور اس کا توڑ بھی بتائیں۔ آج جتنے قسم کے سود جاری ہیں یہاں پر ہم نہ ان کی تفصیل میں جاسکتے ہیں اور نہ اس پر بحث کر سکتے ہیں۔ تاہم اس سلسلہ میں مزید معلومات کے لیے جناب شیخ عمران نذر حسین صاحب کا ایک مفید اورمعلوماتی کتابچہ بر زبان انگریزی بہ عنوان "Importance of Prohibition of Riba in Islam” موجود ہے جسکا اردو ترجمہ راقم نے ہی ” اسلام میں ربا کے حکم امتناعی کی اہمیت ”کے نام سے کیا ہے اور مفت تقسیم کیا جارہا ہے۔ یہ کتابچہ یقیناً پڑھنے کے لائق ہے اور سود سے نجات حاصل کرنے کی طرف ترغیب دلانے کا باعث ہے۔ اللہ شیخ عمران صاحب کو اس کی جزا عطا کریں۔ آمین۔ 

مروجہ سود کی قسموں کا جائزہ

اس مختصر کتابچہ میں ہم صرف مروجہ سود کی چند ایک قسموں کا تذکرہ کریں گے اور قاری کو مشورہ دیں گے کہ مزید تفاصیل کے لیے اس علم کے علماء و معیشت کے ماہرین سے استفادہ کرے۔ تاہم چند ایک کی نشاندہی یوں ہے ، 
 
(الف) ادھار لین دین۔ حضور ۖ نے فرمایا کہ ” ادھار میں ربا ہے۔” اور یہ اس وقت ہے جب کہ ادائیگی تاخیر سے ہو اور اضافہ کے ساتھ رقم واپس ہو۔اگر لین دین میں ادائیگی ساتھ کے ساتھ ہو تو اس میں سود نہیں ہے۔اور اگر ادائیگی بعد میں بھی ہو مگر قیمت میں اضافہ نہ ہو تو یہ معاملہ بھی سود سے پاک ہے۔ 
 
( ب) ادھار سودا ہو تو اشیاء کی قیمت میں اضافہ کردیا جائے 
 
( ج) نیلام میں جھوٹی بولی لگانا تاکہ قیمت کہیں سے کہیں پہنچ جائے اور خریداردھوکہ میں آجائے۔
 
( د) لین دین میں دھوکہ دہی کرنا۔ حرام مال دینا ، نقص کو چھپانا ، یا پھر ناجائز منافع کمانا یہ سب اس میں شامل ہے۔
 
( ر) ذخیرہ اندوزی کرکے بازار میں مصنوعی قلت پیدا کرنا اور پھر زیادہ منافع کے ساتھ بیچ کر پیسے بٹورنا بھی اس میں شامل ہے۔
 
( ز) اجارہ داری کے ذریعہ سے بازار کا سارا مال خرید لینا اور پھر اپنی مرضی کی قیمت پر فروخت کرنا۔ اس طرح چونکہ آزاد تجارتی ماحول متاثر ہوتا ہے یہ کام منع ہے۔
 
( س) سٹے بازی کرنا یعنی جب معلوم ہو جائے کہ مال کی قیمت چڑھنے والی ہے تو اس کو خرید کر روک لینا اور جب قیمت بڑھ جائے تو زیادہ پیسوں پر فروخت کرنا۔
 
(ش) رشوت اور بدعنوانی کے ذریعہ سے عوام کی دولت کو لوٹ لینا۔
 
اوپر درج شدہ چیزیں نہ تو مکمل ہیں اور نہ حرف آخر۔ اس سے صرف یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے سود اور بدعنوانی نے مختلف شکلوں سے معیشت کو جکڑا ہوا ہے اور اپنے قابو میں کر لیا ہوا ہے۔ آج کا ایک عام انسان اپنی مجبوریوں کے تحت یا پھر انجانے میں اور یا پھر اللہ کے خوف سے نڈر ہو کر اس دھوکہ دہی کے کاروبار میں ملوث ہو گیا ہے اور آج صورت حال یہ ہے کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ حضور نبی اکرم صادق الوعد ۖ نے بڑے واشگاف الفاظ میں سود کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے جو حضرت ابو ہریرہ نے یوں روایت کیا ہے

 ” رسول اللہۖ نے فرمایا کہ ربا کے ستر حصے ہیں اور اس میں سب سے کمترین حصہ اس کے برابر ہے کہ انسان خود اپنی ماں کے ساتھ شادی کرے (یعنی ہم بستری کرے)۔” (سنن ابن ماجہ) ۔

 استغفرا للہ۔ 
 
اتنی شدید وعید اور اتنی بھیانک تعریف کے بعد بھی اگر کوئی سودی لین دین میں گرفتار ہے تو اس کے بے باک اور نڈر ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے؟ ۔ اس کی آخرت کیسی ہوگی اور کیا بھیانک انجام ہوگا یہ تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ 

آج کے دور کا نظام معیشت

اوپر جو کچھ درج کیا گیا ہے وہ آج کے دور کے نظام معیشت کی ایک بالکل سرسری تعریف ہے۔ مگر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ آج کی دنیا معاشی لحاظ سے دو بڑے بڑے گھنائونے کاروبار میں بری طرح ملوث ہے جس میں ایک ہے سود کا کاروبار اور دوسرا ہے قمار بازی یعنی جوا۔ گو کہ قمار بازی اس مضمون کا موضوع نہیں ہے مگر آج کے دور کی اس برائی کا سرسری تذکرہ کئے بغیر تشنگی باقی رہے گی اس لیے آخر میں اس مسئلہ پر بھی تھوڑا سا اظہار خیال ضروری ہوگا تاکہ اندازہ ہو کہ اللہ کی ایک اور ممنوعہ چیز کو شیطان ملعون نے کس طرح ہماری زندگیوں میں داخل کردیا ہے اور ہم کس قدر انجان ہیں کہ اس کو برا جاننا تو درکنار اس کو بڑی حد تک جائز سمجھتے ہیں۔ 
 
سود سے بچائو کے بارے میں گفتگو شروع کرنے سے قبل ہمیں ایک مختصر جائزہ اس بات کا لینا چاہئے جس سے یہ معلوم ہو جائے کہ ہماری زندگیوں اور ہمارے کاروباری لین دین میں سود کی کون سی قسمیں شامل ہیں جن سے بچنا اپنے آپ کو اللہ رب العزت کے قہر و غضب سے بچانا ہوگا۔آئے دیکھتے ہیں کہ ایسی کون سی چیزیں ہیں جو سود کے زمرے میں آتی ہیں جنہوں نے ہمیں بری طرح جکڑ رکھا ہے اور مزیدغلامی کی طرف ڈھکیلتے ہوئے لے جارہی ہیں۔ 

١۔ ذاتی اور کاروباری لین دین

انسان اپنی ذاتی ضروریات یا کاروباری حاجتوں کے لیے بعض اوقات دوسروں کی امداد لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایسے میں وہ یا تو عزیز و اقارب یا پھر دوستوں سے رجوع کرتا ہے تاکہ کچھ رقم قرض مل جائے۔ یہ رقم اکثر و بیشتر قرض حسنہ کے طور پر لیا جاتا ہے اور ایک مخصوص مدت کے اندر جو رقم لی ہو وہ واپس کر دی جاتی ہے۔ اس پر کوئی اضافہ نہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی رقم دینے والے کا اس پر حق ہوتا ہے۔ یہ ایک انتہائی جائز معاملہ ہے۔ اس میں بعض اوقات ضمانت کے طور پر کوئی چیز رہن رکھ دی جاتی ہے جو رقم واپس کرنے پر مل جاتی ہے اور اگر رقم واپس کرنے والا رقم واپس نہ کرے تو ادھار دینے والا اس رہن رکھی ہوئی چیز سے اپنے رقم کی واپسی ممکن کرلیتا ہے۔ اس میں ادھار دی ہوئی رقم سے فالتو کچھ ادا نہیں کیا جاتا۔ ہمارے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اگر کوئی تم میں سے کسی کو قرض دے تو پھر وہ شخص تمہیں کوئی ہدیہ دے تو مت قبول کرو کیوں کہ اس میں سود ہوجانے کا احتمال ہوگا۔ ہمارے اسلاف نے تو اس سلسلہ میں اس قدر احتیاط برتی کہ اگر قرض دیا ہو ہے تو مقروض کی دیوار کے سائے میں بیٹھنے سے بھی احتیاط کیا کہ کہیں سود کے زمرے میں نہ آجائے۔ اللہ اللہ کیا احتیاط ہے اور اللہ کے احکامات کو توڑنے سے بچنے کے لیے وہ لوگ کس حد تک چلے جاتے تھے۔آج اگر ہم ادھار دے بھی دیں تو اتنے نخرے اٹھواتے ہیں کہ بیچارے مقروض کو ناگوار ہونے لگتا ہے۔ بعض اوقات جب ادھار نہ ملے تو بہت سے سود خور لوگ ایسے مل جاتے ہیں جو سود کے اوپر رقم دینے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس معاہدہ کے تحت آپ ہرماہ سود کی مقرر شدہ رقم ادا کرتے رہیں تو اصل زر اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ جب سود کی ماہانہ ادائیگی نہیں کی تو پھر جرمانے کے طور پر یہ رقم بڑھ جاتی ہے اور انسان مزید جکڑا جاتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آج سے کچھ عرصہ قبل تک ہمارے معاشرے میں کتنے ہی خاندان ہندو بنئے کے اسی سودی حساب کتاب میں غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ 

٢۔ بینک کاکاروباری نظام

آج کے دور کی معیشت کو شیطان مردود نے اپنی ایک عظیم الشان ایجادیعنی بینک کے ذریعہ سے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔آج کا کاروبار تمام کا تمام بینک کے گرد گھومتا ہے۔ ہماری ذاتی لین دین ہو یا ہماری تجارتی ضرورت ، سب کو بینک کے گرداگرد لپیٹ دیا گیا ہے۔ ہماری ضرورتوں کو اشتہارات کے ذریعہ سے بڑھا دیا گیا ہے اور ان کے حصول کو بینک کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے۔ ہماری تجارتی حاجتوںکو بھی اسی طرح بینک کے چکروں میں الجھا دیا گیا ہے۔ اور اب ہماری آپس کی لین دین اور درآمد و بر آمد سب بغیر بینک کی شمولیت کے ممکن ہی نہیں۔چھوٹا بڑا ہر قسم کا کاروباری لین دین بینک سے مشروط ہے۔ آپ مکان بنا نا چاہتے ہیں تو بینک جاتے ہیں ، گاڑی خریدنا چاہتے ہیں تو بینک سے رابطہ کرتے ہیں۔ کاروباری مقاصد کے لیے مدد درکار ہو تو بینک سے رجوع کرتے ہیں۔ پنشن کے ذریعہ یا اور کسی ذریعہ سے کوئی موٹی رقم ملے تو اس کو اٹھا کر بینک میں رکھ دیتے ہیں اور پھر ہر ماہ دھکے کھا کر اپنی پاکیزہ کمائی کے بدلے سود کی گندگی وصول کرتے ہیں اور پھر ان تمام چیزوں کے بعد کریڈٹ کارڈہے اور اس کے ذریعہ سے سود در سود کے ایک لامتناہی سلسلہ سے منسلک ہوجاتے ہیں۔ 
 
بینکوں کا سلسلہ کچھ یوں شروع ہوا کہ صلیبی جنگوں کے دوران عیسائی زائرین یورپ اور دیگر علاقوں سے اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے آیا کرتے تو راستے میں چوری اور راہزنی کے واقعات کی وجہ سے اکثرلوگ لوٹ لیے جاتے تھے۔ اس سے بچائو کے لیے یہ سلسلہ شروع ہوا کہ اپنی نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء لوگ کسی کمپنی یا گروپ کے پاس جمع کرا دیتے اور اس کے بدلے انہیں ایک رسید مل جاتی جسے دکھا کر مطلوبہ شہر میں انہیں ان کی چیزیں یا اس کے عوض رقم واپس مل جاتی تھیں۔رفتہ رفتہ یہ صورت بہت ترقی کر گئی اور اس کاروبار میں ملوث لوگوں نے عوام کے جمع شدہ پیسوں کو سود پر ادھار دینے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ذاتی غرض کے لیے بھی اور کاروباری مقاصد کے لیے بھی لوگوں کو یہ رقم آسانی سے مل جاتی تھی اور آج یہ صورت حال ہے کہ یہ معاملہ ترقی کرکے یہاں تک آ پہنچا ہے جہاں دنیا بھر کی غریب عوام اپنی محنت سے کمائی ہوئی رقم ان بینکوں میں جمع کراتی ہے۔ بینک یہ رقم کسی بڑی کمپنی کو یا کسی سیٹھ کو ادھار دے دیتا ہے جو اس رقم سے کاروبار کرکے ڈھیروں منافع کماتا ہے اور ایک معمولی رقم بنک کو واپس کرتا ہے اور بینک اپنے کھاتے داروں کو اس رقم کا ایک معمولی حصہ منافع یا پرافٹ کے نام پر دے کر ان کا منہ بند کر دیتا ہے اور اگر ادھار لینے والا سیٹھ نقصان ظاہر کردے ، تو عوام کا روپیہ ڈوب جاتا ہے جب کہ بینک اور سیٹھ دونوں اپنی رقم انشورنس کے ذریعہ سے واپس لے لیتا ہے جب کہ انشورنس میں بھی غریب عوام کا ہی پیسہ لگا ہوا ہوتا ہے۔ یوں غریب ہر طرف سے پٹتا ہے۔یہ ایک ایسا گھنائونا چکر ہے جس کی تفصیل میں جاکر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بینک کس طرح دھوکہ دہی کرتے ہیں۔ ایک عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ بینک اس کے فائدے کے لیے کام کررہے ہیںمگر حقیقت اس سے کوسوں دور ہے۔
 
بینکوں نے عوام کے لیے مختلف اسکیمیں شروع کر رکھی ہیںجو سب کی سب سود سے ملوث ہیں اور عوام کو بے وقوف بنا کر ایسے دل لبھانے والے انداز میں ان کی تشہیر کی جاتی ہے کہ لوگ اس کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں اور اس چیز کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ اللہ کے احکامات سے بغاوت کر رہے ہیں۔آئیے ان میں سے چند ایک چیزوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہم صرف موٹی موٹی چیزوں کا مختصراً تذکرہ کریں گے۔ تفصیل جاننے کے لیے دیگر کتابوں اور رسائل سے استفادہ کیا جا سکتاہے۔ 
 
(الف) سیونگ اکائونٹ۔ اس مد میں آپ اپنا پیسہ جمع کروادیں اور ایک مقرر شدہ منافع مخصوص وقت میں حاصل کر لیں۔ یہ سود کی سب سے سیدھی سادھی شکل ہے۔ یعنی روپیہ نے وقت گذرنے کے ساتھ بغیر کسی محنت کے اپنی قیمت بڑھا لی۔ اسی کی مزید تبدیل شدہ شکل میں ماہانہ آمدنی اکائونٹ یا پھر پرافٹ لاس شیرنگ اکائونٹ وغیرہ کو بھی عوام میں مقبول کردیا گیا ہے۔اس اکائونٹ میں پرافٹ تو ہے اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ بینک کو معلوم ہے کہ کسی نے اگر ایک ہزار روپیہ جمع کرایا ہے وہ اگر ایک سال کے بعد نو سو ہو جائے توکوئی اپنا روپیہ بینک میں نہیں رکھے گا۔اسی لیے تو ا صل رقم محفوظ اور منافع کی شرح پکی معین ہوتی ہے تاکہ لوگ آئیں اور سود میں گھس جائیں ۔ 
 
(ب) مکان یا گاڑی وغیرہ خریدنے کے لیے ادھار بھی اسی سود کے زمرے میں آتا ہے جسے بینک بڑی چالاکی سے اسلامی بینکنگ کا لبادہ اڑھا کر پیش کرتا ہے۔یہ تمام کا تمام سود میں ملوث ہونے کا کاروبار ہے اور اس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔
 
(ج) کاروباری ادھار۔ اس سودی کاروبار کو تو بعض بینک کھلم کھلا سود یعنیInterestکی بنیاد پر چلاتے ہیں اور بعض نے اس کو اسلامی رنگ میں ڈھال لیا ہے۔ مگر ہے یہ سب سود اور حرام۔
 
(د ) کریڈٹ کارڈ۔ میرے نزدیک آج کے دور کا سب سے گندا شیطانی دھندا۔ اس کے ذریعہ عوام کی قیمت خرید کو مصنوعی طریقہ سے بڑھا دیا گیاہے۔ آپ کی جیب میں خواہ کوئی پیسہ نہ ہو ، مگر آپ اپنی حیثیت اور استطاعت سے کہیں مہنگی چیزیں اسی کارڈ کے ذریعہ خرید لیتے ہیں اور ہر ماہ تھوڑی تھوڑی رقم بینک میں ادکرتے رہتے ہیں۔ لوگ سمجھتے نہیں ہیں مگر حقیقتاً جتنے کی چیز خریدی جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ رقم ادا کی جاتی ہے اور اسی لیے یہ بھی سودی کاروبار ہے۔ حرام ہے۔ اس ضمن میں یہ بات قابل غور ہے کہ بینک کہتا ہے کہ اگر آپ تمام کی تمام رقم جو واجب الا دا ہوتی ہے مہینہ ختم ہونے سے قبل یکمشت ادا کردیں تو کوئی سود نہیں لگتا۔ یہ بات شائد درست ہو مگر یاد رکھیں کہ جب آپ نے ادائیگی میں تاخیر کی تو سود کے چکر میں گرفتار ہوگئے۔ اور اس کے بعد یہ بھی انتہائی اہم بات جو لوگ نظر انداز کردیتے ہیں کہ جب آپ کارڈ حاصل کرنے کے لیے بینک کے شرائط کافارم بھرتے ہیں تو اس میں آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اگر آپ نے رقم کی ادائیگی مقررہ وقت پر نہ کی تو بینک اس پر سودلگانے کا حقدار ہوگا۔ آپ نے اس پر دستخط کر دئے تو آپ نے حامی بھر لی اور پھر آپ اس حدیث مبارک کے مطابق جہنم کے حقدار ہو گئے جس میں رسول بر حق صادق و امین ۖ نے یہ خبردی کہ” جس نے سود دیا ، سود لیا ، سود کا معاہدہ لکھا اور سود کے معاہدہ کی گواہی دی ( دونوں گواہ) سب جہنمی ہیں۔”

٣۔ قومی سیونگ سرٹیفیکیٹ

ہماری حکومت نے سیونگ سرٹیفیکیٹ کے نام پر بہت سی اسکیموں کا اجرا کیا ہے۔ ان تمام قسموں میںیوں ہوتا ہے کہ آپ اپنی رقم ایک مخصوص مدت کے لیے لگا کر کوئی سرٹیفیکٹ خرید لیتے ہیں اور پھر آپ ماہانہ یا سالانہ پرافٹ کے حقدار ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام اسکیمیں خالصتاً سود میں ملوث ہیں خواہ ان کا کتنا ہی خوبصورت نام رکھ دیا جائے اس لیے آپ کے اس پیسے سے سود کا حرام کاروبار ہوتا ہے اور اس کے منافع سے آپ کو آپ کا منافع ادا کیا جاتا ہے۔ اس کی تمام شکل ناجائز اور حرام ہے۔

٤۔ پرائز بانڈ

قومی اور ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ کی طرح یہ اسکیم بھی حکومت کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی اسکیم ہے جو سود اور قمار دونوں کا ملغوبہ ہے۔ آپ اپنی رقم کے عوض ایک خاص مالیت کے پرائز بانڈ خرید لیتے ہیں۔ عوام کی یہ رقم سود کے کاروبار میں لگائی جاتی ہے اور پھر اس سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک انتہائی معمولی حصہ قرعہ اندازی کے ذریعہ سے کچھ خوش قسمت لوگوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ یہ سود بھی ہے اور جوا بھی اور دونوں حرام ہیں۔ مگر لوگوں کے پاس یہ باتیں سوچنے کا وقت بھی نہیں ہے اور شیطان اور اس کے گرگوں نے لوگوں کی عقلوں پر پردے بھی ڈال رکھے ہیں۔

٥۔ قسطوں پر خریداری

یہ بھی ایک ایسا ہی کاروبار ہے جس کی بنیاد بھی سود کی اسی قسم پر ہے جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔لوگ اپنی ضرورت کی کوئی چیز خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں تو بینک سے یا اس کا کاروبار کرنے والے سے اپنی مطلوبہ شئے حاصل کرلیتے ہیں۔ کچھ معمولی رقم ابتدائی ادائیگی کے سلسلہ میں دے دیتے ہیں اور بقیہ رقم ماہانہ قسطوں پر ادا کرتے ہیں۔ اور یہ ادائیگی یقینا اس چیز کی اصل قیمت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔بعض لوگ اس کو ایک معاہدے کا نام دے لیتے ہیں اور اس کے جائز ہونے کا جواز بنا لیتے ہیں۔ تفصیل سے دیکھا جائے تو یہ حرام نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک چیز لے لیجئے جس کی قیمت ایک ہزار روپیہ ہو اور اس رقم پر بازار میں عام طور پر دستیاب ہو۔ آپ اس چیز کو بازار میں پندرہ سو پر بیچنا چاہیں تو آپ کو اس کا خریدار نہیں ملے گا۔ ہاں اگر آپ اس چیزکو اس شرط پر بیچیں کہ اس رقم کی ادائیگی چھہ ماہ بعد کرنی ہے تو لوگ لے لیں گے۔ اب دیکھیں کہ ہوا کیا۔ یعنی روپیہ نے چھہ ماہ کی مدت کے عوض اپنی قیمت خود بڑھا لی۔ یہ اضافہ شریعت کی رو سے حرام ہے اور ربا کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ کاروبار آج کل بہت عام ہے اور گلی کوچوں میں اس کا کاروبار کرنے والے بیٹھے ہیں۔ بینک وغیرہ نے اس کو مرابحہ یا معاہدہ اور اسی طرح کے دیگر اسلامی نام دے کر حلال بنا یا ہوا ہے اور عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ پر خریدی گئی چیزوں کا اطلاق بھی اسی سود کے زمرے میں آتا ہے۔

٦۔ ہائوس بلڈنگ کا قرض

حکومت کی طرف سے قائم شدہ یہ ادارہ لوگوں کو مکان بنانے کے لیے قرض فراہم کرتا ہے۔بظاہر تو یہ ادارہ لوگوں کی سہولت کے لیے قائم کیا گیا ہے مگر اس کا پورا نظام سود کی بنیادوں پر رکھ کر اس کو عوام کا خون چوسنے کا ایک ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ ایک فلاحی ادھار ہوتا اور حکومت کے بیت المال سے عوام کو قرض کی سہولت ہوتی جو سود سے پاک ہوتی۔ مگر آج کتنے ہی لوگ اس کے چکر میں پھنس کر سود در سود میں الجھے ہوئے ہیں اور نہ اس سے گلو خلاصی ہو رہی ہے اور نہ اس قرض سے نجات مل رہی ہے۔ ایک اسلامی حکو مت کی زیر سر پرستی سود کا یہ کاروبار اپنے ہی عوام کا خون چوس رہا ہے اور ہم سب بے بس تماشائی بنے اس کو برداشت کئے جارہے ہیں۔جان لیجئے کہ یہ حرام ہے اور اس ادارے سے رقم حاصل کرکے آپ نے جو گھر بنا یا ہے وہ حرام کی بنیادوں پر کھڑا ہے اور یہاں تو شائد یہ مکان قائم رہے مگر آپ کی آخرت کے لیے جہنم کی عمیق ترین گہرائیوں میں اس کی جڑیں ہیں۔ اللہ ہم سب کو محفوظ رکھیں۔ آمین۔

٧۔ پوسٹ آفس کے سیونگ اکائونٹ اور سرٹیفیکیٹ

یہ بھی ہماری بدقسمتی ہے کہ پوسٹ آفس کے ادارے نے بھی حکومت کی سر پرستی میں سود کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ پوسٹ آفس کا کام عوام تک خطوں ، ٹیلی گرام اور پارسلوں کی ترسیل کا تھا مگر عوام میں بچت کا شعور بیدار کرنے کے لیے اس میں سیونگ اور مختلف قسم کے سرٹیفیکیٹ کا اجرا کر دیا گیا اور مروجہ اصولوں کے مطابق بغیر سوچے سمجھے اس کو بھی سود کے نظام سے منسلک کرکے حرام میں شامل کر دیا گیا۔ پوسٹ آفس کی پہنچ ملک کے گوشے گوشے میں ہے اور دور دراز دیہاتوں تک ان کی شاخیں قائم ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پوسٹ آفس میں روپیوں کے لین دین کا کاروبار شائد بینکوں سے بھی زیادہ ہورہا ہے۔ نتیجہ کے طور پر اس سود کی لعنت کو ہمارے ملک کے انتہائی دور دراز دیہاتوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔

٨۔ حرام آمدنی کے دیگر ذرائع

اوپر جن چیزوں اور اداروں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ سب سود کی بنیاد اور حرام کاروبار پر مبنی ہیں ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے کاروبار ایسے بھی پھل پھول رہے ہیں جس کے ڈانڈے بھی سود سے منسلک ہیں اور اسی لیے یہ بھی حرام ہیں۔ آج کے معاشرہ میں لوگوں نے یہ سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ ان کے پیٹ میں حرام جا رہا ہے یا حلال۔ جب اس کی تخصیص نہیں رہ گئی تو پھر دیکھنے بھالنے اور احتیاط کے تقاضے بھی ختم ہوگئے۔ سود ، جوا اور قمار بازی مختلف شکلوں میں معاشرے میںسرائت کر گئی ہے۔آج ہم جو کھارہے ہیں اس سے جو خون بن رہا ہے حرام کے مال سے بن رہاہے اس لیے اس سے تیار شدہ گوشت اللہ کے رسول برحق ۖ کی وعید کے مطابق صرف جہنم میں جلنے کے قابل ہے۔ حرام کی اس ریل پیل سے معاشرہ میں دیگر حرام اور ناجائز کاموں کی بھر مار ہورہی ہے۔ جھوٹ ، رشوت ستانی ، چور بازاری ، لوٹ مار، جوا، زنا ،شراب نوشی ، قمار بازی ، دھوکہ دہی وغیرہ وغیرہ معاشرے کا ایک حصہ بن چکے ہیں اور ایک عام انسان یہ سمجھتا ہے کہ ان کا نہ سد باب ہوسکتا ہے اور نہ ان سے بچنے کی کوئی ترکیب ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ایسی اور کون سی چیزیں ہیں جن سے بچنا چاہئے۔
 
(الف) شیرز کا کاروبار۔ جب آپ کسی کمپنی کے شئیرز خریدتے ہیں تو آپ اس کمپنی میں اور اس کے کاروبار کے حصے دار بن جاتے ہیں۔ خواہ کتنی ہی چھوٹی سطح پر کیوں نہ ہو آپ کا شمار کمپنی کے مالکوں میں ہوتا ہے۔ آج کے سود کے کاروباری لین دین میں کوئی بھی کمپنی اس حرام معاملے سے الگ نہیں ہے۔ سود کسی نہ کسی شکل میں ہر کاروبار کا حصہ ہے۔ اب اگر یہ کمپنی ایسے کسی طور سے حرام میں ملوث ہے تو آپ بطور مالک ہونے کے اس کے وبال کے ذمہ دار ہونگے۔ اگر کوئی کمپنی ایسی ہے جو حرام تجارت میں ملوث نہ ہو اور حرام ذرایع سے روپیہ حاصل نہ کرتی ہو اور سود سے کلی طور پر پاک ہو تو آپ یقیناً اس حلال کام میں سرمایہ کاری کریں اس کا منافع آپ کے لیے حلال ہوگا۔ بصورت دیگریہ کام درست نہیں ہے۔ علماء نے شیرز کے اوپر سیر حاصل بحث کی ہے اور ان کے خیال سے استفادہ اس موضوع پر موجود کتابوں سے کیا جا سکتا ہے۔ 
 
(ب) قمار اور جوا۔ ہمارے معاشرے میں جوا بھی بے دریغ داخل ہو چکا ہے۔مختلف انداز کی قرعہ اندازیاں صریح طور پر سورة المائدہ کی آیت نمبر ٩٠ کی رو سے(رِجس ِمن عمل الشیطان ) میں داخل ہے اور ممنوع ہے۔ شرط لگانا اوراس کے اوپر رقم یا کسی اور چیز کو شامل کر لینا بھی ممنوع ہے۔ جوا اور سٹے بازی تو اس قدر مقبول ہے کہ اس کا مظاہرہ کسی کرکٹ میچ کے دوران دیکھا جاسکتا ہے کروڑوں روپے کا سٹہ ایک ایک گیند پر لگا ہوا ہوتا ہے اور اس کو انتہائی معصومیت سے تفریح اور کھیل کے زمرے میں ڈال کر اس کو جائز قرار دے دیا گیا ہے۔
 
(ج) رشوت اور بد عنوانی۔ آج ہمارے معاشرہ میں رشوت کے بغیر کوئی کام ہوجانا انتہائی دشوار ہے۔ رشوت کے ذریعہ سے عوام کا مال ناجائز طریقہ سے ہتھیا لیا جاتا ہے۔ بے چارے مظلوم انسان کی مجبوری کو کیش کرایا جاتا ہے۔ جبکہ نبی کریم ۖنے رشوت لینے اور دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے مگر ہم رسول اللہ کی لعنت سے بھی نہیں ڈرتے ۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ قرآن پاک کا حکم ہے کہ لوگوں کا مال ناحق مت کھائو اور اسی طرح قرآن کریم یہ بھی کہتا ہے کہ حکام کے ساتھ مل کر عوام کی دولت مت لوٹو۔ آپ کسی بھی سرکاری ، نیم سرکاری بلکہ اب تو غیر سرکاری دفتر میں بھی چلے جائیں تو آپ کو یہ دونوں برائیاں اپنی پوری حشر سامانیوں کے ساتھ ملیں گی۔

ہمارے اسلاف کا طرز عمل

گزشتہ صفحات میں ہم نے جن چیزوں کا تذکرہ کیا ہے اور انہیں سود اور حرام ہونے کے زمرے میں شامل کیا ہے وہ اس معاشرہ میں رواج پائی ہوئی حرام کاروبار میں سے صرف چند ایک ہیں۔ شیطان اور اس کے گرگے انسان کو اللہ کی راہ سے بھٹکانے کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں۔ یہ ساری مروجہ چیزیں بظاہر بہت معصوم اور بے ضرر نظر آتی ہیں مگر یہ انسان کی دبی ہوئی خواہشات کو بھڑکاتی ہیںاور ان کے حصول کے لیے جدوجہد اور حلال ذرایع کو استعمال کرنے کی بجائے آسان اور شارٹ کٹ راستہ پیش کرتی ہیں۔ اور ان ہی راستوں کو اختیار کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ یوں انسان نہ صرف یہ کہ اللہ کے احکامات کے خلاف چل پڑ تا ہے بلکہ سود در سود کے چکر میں گرفتار ہو کر اپنے آپ کوغلامی کی زنجیروں میں جکڑوانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔اور اس کی اس حرکت کا اثر اس کی آنے والی نسلوں پر بھی مختلف طریقوںسے اثر انداز ہوتا ہے اور دور تک چلا جاتا ہے۔اگر ہم اپنی خواہشات کو قابو کر لیں اور یہ تہیہ کر لیں کہ ہم اپنی چادر سے پائوں باہر نہیں نکالیں گے اور ہر قسم کے ادھار سے حتی الامکان پرہیز کریں گے تو بھی ہم غلط چیزوں کی طرف ہاتھ بڑھانے سے رک جائیں گے اور شائد ارادہ پکا ہو تو سود کے ذرائع کی طرف بھی قدم نہ بڑھے۔
 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمۖ نے فرمایا کہ

 ” لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا جس میں ایسا کوئی شخص باقی نہیں رہے گا جس نے سود نہ کھایا ہو ، اور اگر کسی نے سود نہ کھایا ہو گا تو اس کا غبار اس تک ضرور پہنچے گا۔ ” (سنن ابو دائود اور ابن ماجہ)۔

حضور پاک نبی رحمت ۖکی یہ حدیث مبارک ہمارے آج کے دور پر صادق آتی ہے۔ انسان کو بھٹکانے کے لیے شیطان لعین نے جتنی چیزیں ایجاد کی ہیں ان میں سب سے بڑا شاہکار سود کا نظام ہے۔ سود کو ہر شریعت میں اللہ نے حرام قرار دیا۔ مگر آج کا انسان جس طرح اس حرام کاروبار میں ملوث ہے اس طرح پہلے کبھی نہ رہا ہوگا۔ اور اسی کی وجہ سے آج انسانیت جس طرح مغلوب ہے شاید ہی پہلے کبھی رہی ہو۔ اپنے گرد نظر ڈالیں تو ہر چیز میں سود دکھائی دیتا ہے۔ اسی الجھاوے کو دیکھ کر بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ سود سے پاک رہ کر زندگی گزارنا اور کاروبار کر نا ممکن ہی نہیں ہے۔ اوپر بیان کی ہوئی حدیث مبارک کو پیش نظر رکھیں تو شاید لوگوں کا یہ بیان درست نظر آئے کہ سود کا غبار تو ضرور پہنچے گا تو وہ توپہنچ رہا ہے۔ مگر حضرت غبار کہاں یہ تو مکمل آلودگی ہے۔یہ انسان کی کمزوری ہے کہ اس نے شیطان مردود کو اس قدر چھوٹ دے رکھی ہے اور اس کے چکروں میں اس طرح الجھ گیا ہے کہ سود کے ذریعہ سے شیطان کے گرگوں کی غلامی میں جکڑا گیا ہے۔ ساری دنیا کی معیشت مشرق سے مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک سود کے ذریعہ سے ان چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہو گئی ہے جو شیطان کے لیے کام کرتے ہیں اس کو پوجتے ہیں اور اس کے غلام ہیں۔ ان لوگوں نے ساری دنیا کی دولت اپنے قبضہ میں کر لی ہے اور ان کی آئندہ کی پلاننگ اور منصوبے اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں جو وقت آنے پر ظاہر ہونگی۔
 
اس حدیث مبارک کے صحیح ہونے میں ہمیں کوئی شک نہیں ہے۔ اس لیے کہ ہمارے نبی برحق انتہائی صادق ہیں اور آپ ۖ نے جو بھی فرمایا یقیناً ویسا ہی ہوگا۔ مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ہر برائی کے خلاف آواز بلند کریں اور اس کو ختم کرنے کے لیے اقدام کریں ، اس کو روکنے کی کوشش کریں اور اس کو پھیلنے نہ دیں۔ ہم اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں یہ بالکل الگ معاملہ ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ہمارے اعمال کی درستگی درکار ہے نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو۔ اللہ کے نزدیک جزا اور انعام کا دارومدار نتیجہ پر نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو ذرا غور کیجئے کہ ایک مجاہد جو اللہ کے نام کی بلندگی اور اعلائے کلمة حق کے لیے نکلتا ہے اور جہاد اور قتال کر تا ہے۔ وہ مجاہد مقابلہ میں اگر اپنے مد مقابل سے کمزور پڑتا ہے اور قتل ہوجاتا ہے تو مادی دنیا کی نظروں میں وہ ناکام ہو گیا اس لیے کہ اس کا دشمن اس پر غالب آگیا اور وہ کافر جس سے وہ لڑ رہا تھا وہ کامیاب ہوگیا۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا کہ اللہ نتیجہ کو میعار بناتا تو اس مقتول کو شہید کا رتبہ دے کر اعلیٰ مرتبہ نہ دیتا۔بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک تو معاملہ نیت اور عمل کی درستگی کا ہوتا ہے۔ شہید اللہ کا نام بلند کرنے کے لیے قدم اٹھاتا ہے تکلیفیں جھیلتا ہے اور مار تا بھی ہے اور اپنی جان بھی لٹا دیتا ہے اپنا سر بھی کٹا دیتا ہے۔ اور یہی جذبہ اللہ تعالیٰ کو پسند آتا ہے اور وہ شہید اللہ کو محبوب ہوجاتا ہے۔
 
آج کے فتنوں کے اس دور میں ہمارے دائیں بائیں ، گھر کے اندر بھی اور باہر بھی ہر طرف فتنے اپنی انتہائی حشر سامانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ یہ فتنے جتنی شدت سے ظاہر ہو رہے ہیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کا سدباب بھی اسی شدومد اور جذبہ کے تحت کیا جائے۔شیطان کی چالوں کو سمجھنا اور پھر ان سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرنا ہی ہماری زندگی کا مطمح نظر ہونا چاہیے۔ اسی میں ہماری کامیابی ہے اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ اگر آج سود قدم قدم پر موجود ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر قدم دیکھ بھال کر اٹھائیں۔ اپنی پوری کوشش کریں کہ سود میں ملوث نہ ہوں ۔ ہر وہ چیز جس میں سود نظر آئے اس کو چھوڑ دیں خواہ اس میں کتنی ہی مشکل کیوں نہ درپیش ہو۔ ہمارا کام کوشش کرنا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ چاہیں گے تو اپنی مصلحتوں اور اپنے حکم سے برائی کو ختم کردیں گے۔ یا پھر اس کو اسی طرح قائم رکھیں گے۔ مگر ہماری تمام کوششیں اور ہماری تمام قربانیاں اور وہ تمام اقدام جو ہم نے اس برائی کے خلاف اٹھائے وہ ضائع نہیں ہونگی۔ اللہ اس کا حساب رکھتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ یقیناً اس کا بہتریں صلہ عطا کریں گے اور ہماری بخشش اور مغفرت کا ذریعہ یہی کوشش بنے گی۔ ا ن شا ء اللہ۔ یہ ہی ہماری اور آپ کی کامیابی ہے۔ یہی اس مضمون کا مقصد ہے اور اسی بات کی ضرورت ہے کہ امت محمدیہ علیٰ صاحب سلام و تسلیم کو اس کی ذمہ داریاں یاد دلائی جائیںاور ہر شخص اپنی انفرادی سطح پر سود کے خلاف اپنا پہلا قدم اٹھائے۔ان شا ء اللہ معاشرے سے یہ برائی ضرور ختم ہوجائے گی۔
 
اگر اس بات کا احساس ہو جائے کہ معاشرہ کے ہر فرد کو انفرادی کوشش کرنی چاہئے اور ہر فرد اپنی جگہ پر خواہ کتنی ہی چھوٹی چیز سے آغاز کردے ، برائی کے منہ پر تھپڑ تو ضرور لگا دیگا۔ ہم نے حلال اور حرام کے درمیان امتیاز کے لیے احتیاط کا دامن چھوڑ دیا ہے اسی لیے اس حال تک پہنچ گئے ہیں۔ ذرا غور کیجئے اس روایت پر
 
” حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ

” حضور نبی اکرم ۖ پر جو آخری آیت نازل ہوئی وہ سود کے متعلق تھی اورحضور نے اس کی پوری تشریح بیان نہیں فرمائی تھی کہ آپ ۖ کا وصال ہوگیا۔ لہٰذا سود کو بھی چھوڑ دو اور ان چیزوں کو بھی چھوڑ دو جن میں سود کا شائبہ بھی ہو۔”

 
اسی طرح حضرت عمر کے احتیاط برتنے کا یہ واقعہ بھی احادیث میں مرقوم ہے 

” حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایااور کہا کہ ہم نے نوے فیصد حلال کو ربا کے خوف سے چھوڑ رکھا ہے۔”

ہمارے اسلاف میں یہ خوبی تھی کہ وہ ہر چیز میں اللہ کا حکم اور رسول اللہ کی سنت کو تلاش کرتے تھے اور جہاں ہلکا سا شبہ بھی ہوتا اچھی بھلی حلال چیزوں کو بھی چھوڑ دیا کرتے۔ یہی ان کی کامیابی کا راز تھا اور آج ہمیں بھی اسی چیز کو اپنانے کی ضرورت ہے۔مگر ہمارا رویہ ایسا ہے کہ ہم لوگ دنیاوی زندگی اس کی آسائشوں اور اس کے آرام کو مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ کے احکامات ، حضور نبی اکرم ۖ کی سنت اور اپنے اسلاف اور بزرگوں کی روایات سب کو چھوڑ دیا ہے۔ ہمیں نہ تو یہ علم ہے کہ غلط کیا ہے اور نہ کوئی ایک عام انسان کو یہ سمجھا رہا ہے کہ زندگی گذارنے کا طریقہ کیا ہے۔قرآن مبارک ہم پڑھتے نہیں ہیں ، جو پڑھتے بھی ہیں تو سمجھتے نہیں ہیں اور جو تھوڑا بہت کسی وجہ سے سمجھتے ہیں تو اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ سود گندگی ہے ، اللہ نے اس سے روکا ہے۔ مگر یہ نہیں معلوم کہ سود کس چیز میں ہے۔ اور اگر پتہ بھی چل جائے تو اس کو چھوڑنے میں جو دشواری اور تکلیف ہے اس کو اٹھانے اور برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔اللہ نے کتنی شدت سے مزمت کی ہے اور آخرت میں سود خوروں کا کیاا نجام ہوگا لوگ اس سے بالکل نابلد ہیں اور جو جانتے ہیں وہ انتہائی بے باکی سے اس کا انکار کرتے ہیں۔ جو تھوڑا بہت ڈرتے ہیں وہ اللہ کی رحمت کے اوپر اس قدر انحصار رکھتے ہیں کہ ان کو یقین ہے کہ اللہ معاف کردے گا۔ذرا یہ تو سوچئے کہ معاف کرنے کی بات ہوتی تو اللہ اور اس کا رسول اتنے سخت اور شدید الفاظ استعمال کرکے سود خوروں کی آخرت کا احوال کیوں بیان کر رہے ہوتے۔اللہ کے واسطے اپنے پر رحم کیجئے اور اپنی آخرت کو سنوارنے کی کوشش کیجئے کہ یہی کامیابی ہے۔ 
جارى ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
 
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، شعبان معظم 1433ھ/ جون، جولائی 2012- سے ماخوذ ہے۔

حقیقت Reality کیا ہے؟ یہ کون بتائے گا؟ منشائے کلام متکلم بتائے گا یا کوئی اور؟


الواقعۃ شمارہ ٣ 

سیّد خالد جامعی  ( کراچی یونی ورسٹی ،کراچی )

حقیقت Reality کیا ہے؟ یہ کون بتائے گا؟ منشائے کلام متکلم بتائے گا یا کوئی اور؟ 


Athense کے میلے میں ایک مصور کا شاہکار نصب کیا گیا اور لوگوں کی رائے مانگی گئی مصور نے انگوروں کا ایک خوشہ بنایا جسے انسانی ہاتھ نے اپنی گرفت میں لے رکھاتھا انگور اصل [Real]سے اس قدر مماثل [Similar] تھے کہ پرندے ان انگوروں پر چونچ مارنے کے لیے بار بار آرہے تھے یونان میں اس شاہکار کے چرچے ہوگئے ہر ایک مدح سرا تھا۔

دوسرے دن ایک شخص نے اس شاہکار کو باطل قرار دیا اس کا کہنا تھا کہ اس تصویر میں بہت بڑا عیب ہے ہاتھ نقلی ہے پرندوں نے نقلی ہاتھ کو پہچان لیا اگر یہ اصلی ہوتا تو پرندے کبھی انگور پر چونچ مارنے کی جرأت نہ کرتے جو مصور اصلی انگور بنا سکتا تھا وہ اصلی ہاتھ کیوں نہ بنا سکا یہ اس کے فن کا نقص ہے۔ اس تنقید نے یونان کو ہلا کر رکھ دیا کئی روز تک اس نقد کے چرچے رہے۔ دو ہفتے بعد ایک نقاد نے اس تنقید کا جائزہ پیش کیا اس کا خیال تھا کہ مصور نے تضادات کے ذریعے کمال فن کا مظاہرہ کیاہے۔ نقلی ہاتھ اس مہارت سے بنایا کہ پرندے اس ہاتھ کی حقیقت سے واقف ہوگئے حالانکہ انسانی آنکھ بھی بہ ظاہر اس ہاتھ کو اصل سمجھ رہی ہے اگر پرندوں کے لیے اصلی ہاتھ کے مماثل ہاتھ بنایا جاتا تو لوگ انگوروں پر چونچیں مانے کے حسین منظر سے محروم رہتے اور یہ شاہکار لوگوں کی توجہ کا مرکز ہی نہ بنتا اور نقلی انگور اس کمال سے بنائے کہ پرندوں نے اس پرنقلی ہونے کے باوجود اصل کا گمان کیا حالانکہ یہی پرندے نقلی ہاتھ کو پہچان گئے تھے جبکہ انسانوں نے ہاتھ بھی اصل کے مماثل جانا مصور نے اس فن پارے کے ذریعے یہ بھی بتایا کہ پرندوں کی حسی صلاحیتیں انسانو ںسے نصف بہتر ہوتی ہیں تضادات کے ذریعے مصوری کمال فن ہے اس تنقید نے یونان میں زلزلہ پیدا کردیا اگلے کئی ماہ اس نقدکا غلغلہ برپا رہا۔چند ماہ بعد ایک اور ناقد نے اس نقد کے پرخچے اڑادیے اس نے بتایا کہ ہاتھ بھی اصل سے مشابہ ہے اور انگور بھی اصل سے مماثل ہیں اس شاہکار میں کوئی عیب نقص نہیں ہے لیکن پرندوں نے یونان میں کبھی اتنے خوبصورت رسیلے اعلیٰ ترین انگور نہیں دیکھے لہٰذا وہ انسانی ہاتھ کو اصل جانتے ہوئے بھی اپنی جان پر کھیل کر ان انگوروں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اس مدح نے تو یونان میں تہلکہ برپا کردیا لوگ اس تشریح و توضیح و تاویل پر عش عش کر اٹھے یہ مدح سرائی کئی سالوں تک ہوتی رہی۔ پھر ایک نئے محقق تشریف لائے انہوں نے تمام سابقہ تشریحات و توضیحات کو رد کردیا اور کہا کہ بہ ظاہر ہاتھ بھی اصلی ہے اور انگور بھی اصلی ہیں لیکن پرندوں نے چند پروازوں کے بعد اندازہ کرلیا کہ مصور نے ہمیںانسانی ہاتھ کے ذریعے خوف زدہ کرنے کی کوشش کی اور جو پرندے ہمت کرکے جان پر کھیل کر ان جعلی انگوروں تک پہنچ گئے مصور نے ان پرندوں کوبھی دھوکہ دیا کیونکہ انگور نقلی ہیں۔لہٰذا اب پرندے مسلسل غصے میں انگوروں کے خوشوں پر چونچیں ماررہے تھے یہ پرندوں کا انتقام ہے اس تنقید نے تو یونان کے درو دیوار کو لرزا کر رکھ دیا۔اس نقد پر ایک اور ناقد کا تبصرہ آیا کہ اگر پرندے اس قدر زبردست حسی صلاحیت رکھتے تھے کہ انہوں نے انسان کے دھوکے کو پہچان لیا تو پھر پرندوں کو چاہیے تھا کہ وہ انسانی ہاتھ پر انتقاماً چونچیں مارتے وہ انگوروں پر چونچیں کیوں مار رہے ہیں؟ اس کا رد کرتے ہوئے ایک اور ناقد نے کہا کہ انسانی ہاتھ بالکل مردہ لگتاہے لہٰذا پرندے مردہ ہاتھ پر چونچ نہیں مارتے لیکن انگوروں میں زندگی کے آثار نظر آتے ہیں لہٰذا وہ انگوروں پر چونچیں ماررہے ہیں دھوکہ معلوم ہونے کے بعد بھی پرندے دھوکہ کھارہے ہیں یہی اس فن پارے کا کمال ہے۔ 

لیکن اب سوال یہ ہے کہ منشائے تصویر کون بنائے گا مصور یا نقاد، منشائے کلام کون بتائے گا متکلم یا کوئی اور یا اس کا نامزد فرد۔ ایک ہی حقیقت کی ایک ہزار تشریحات ہوسکتی ہیں اور وہ صورت بھی پیش آسکتی ہے جسے علم منطق میں تاؤیل القول بما لا یرضی عنہ قائلہ یعنی قول کی ایسی تاویل کرنا جس سے متکلم خود راضی نہ ہو چنانچہ کون سی تشریح حقیقت ہے اس کا تعین، فیصلہ کیسے ہوگا؟ کلام اللہ اور کلام رسول اللہ ۖکی تشریح و توضیح و توجیہہ و تفسیر اللہ کے نامزد رسولۖ کے صحبت یافتہ اصحا ب اور دین کی روح سے آشنا صلحائے امت کریں گے یا کوئی بھی ایرا غیرا یہ کام کر ے گا؟ ظاہر ہے فقہائے عابدین اس کی تشریح کریں گے اور تشریح بہر حال انسان کریں گے اور عقل کی مدد سے کریں گے تو خطاء کا امکان ہمیشہ رہے گا لہٰذا اس امکان کا ازالہ اسلامی علمیت ،منہاج تہذیب و تاریخ میں اجماع سے کیا گیا ہے کیونکہ دین کی تعبیر و تشریح میں عقل انسانی استعمال ہوگی۔ افراد کی عقل انفرادی سطح پر غلطی کرسکتی ہے۔ لیکن امت کے فقہائے عابدین کی اکثریت اجتماعی غلطی نہیں کرسکتی اس لیے رسالت مآب ۖ نے فرمایا کہ میری امت کا اجماع کسی غلط بات پر نہیں ہوسکتا۔ عقل جب بھی تنہا استعمال ہوگی تو غلطی کا امکان رہے گا لہٰذا اس غلطی کے امکان کو ختم کرنے کا طریقہ الہٰی حکمت بالغہ نے امت کے اجتماعی تعقل کو بروئے کار لاتے ہوئے اجماع امت کی صورت میں اختیار کیا۔ظاہر ہے یہ اجماع عوام کا نہیں صرف اور صرف علماء عابدین و ساجدین کا معتبرہے مسلک جمہور کی اصطلاح سے علامہ اقبال جیسے فلسفی کو یہ شبہ ہوا کہ اس سے مراد عوامہیں جو عربی میں کالانعام کہلاتے ہیں اس طرح  ساجدین عابدین کے اجتماعی تعقل کے فیصلوں کو رسالت مآبۖ کی حدیث مبارک سے تائید حاصل ہوگئی کہ امت کا اجماع کسی غلط بات پر ممکن نہیں۔ اس قول کی تصحیح اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی لہٰذا یہ قول اذنِ ربانی کی بھی وضاحت کررہا ہے کہ اللہ کی تائید بھی اس موقف کو حاصل ہے ۔اس لیے رسالت مآبۖ نے ہر نئے معاملے، نئے مسئلے اور نئی الجھن کو سلجھاتے ہوئے کسی بڑی غلطی کے امکان سے بچنے کے لیے ہدایت فرمائی کہ فقہائے عابدین سے مشورہ کرو۔روایت ہے کہ حضرت علی نے آنحضرتۖ سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کے متعلق کوئی صریح حکم یا ممانعت قرآن و سنت میں موجود نہ ہو تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اس سلسلے میں عبادت گزار فقہاء سے مشورہ کرو خود اس میں کوئی خاص رائے قائم نہ کرو شاوروافیہ الفقہاء العابدین ولا تمضوا فیہِ رأَیَ خاصَّةٍ ]مجمع الزوائد ١٧٨١[ اس امت میں جب بھی لوگوں نے رسالت مآب ۖکے اس حکم سے انحراف کیا ٹھوکر کھائی جدید اسلامی سائنس ، اسلامی سرمایہ داری ، اسلامی اکنامکس ، اسلامی جمہوری سیاست ، اسلامی سوشل سائنسز اور نکاح المیسار یعنی اسلامی متعہ کے ذریعے اسلامی معاشرت کی تباہی و بربادی کے حیلے عہد حاضر میں اس کی زندہ مثالیں ہیں ۔ ان امور میں عجلت کے باعث ہم سے غلطیاں سرزد ہوئیں غلطیاں کرنے والوں نے خود اپنے موقف کو الحق نہیں کہا خطاء کا امکان تسلیم کیا لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ماضی کی اغلاط سے احتراز کریں اور ایک نئی دنیا تعمیر کریں جس کے اپنے ادارے ہوں جو اپنی علمیت پر انحصار کریں نہ کہ مغرب کی اسلام کاری کا فریضہ انجام دیں۔

جس طرح اسلامی اصطلاحات کے معانی فقہاء و علماء امت بتائیں گے بالکل اسی طرح مغرب  سے آنے والی اصطلاحات اور نظریات کا اصل مطلب مغرب کے فلسفی، ان کے دانشور اور ان اصطلاحات کے موجد ومصنف بتائیں گے۔ اس کے بجائے ان مغربی اصطلاحات کا ترجمہ کرکے ان کی اسلام کاری کرلینا ایک غیر علمی رویہ ہے مثلاً مغرب میں ماڈرن ازم فریڈم ، بینکنگ ، فائینانس ، اکنامکس ، مساوات ، Democracy, Tolerance ، معیار زندگی [Standard of living]،  scarcity،  capital  پروگریس، ڈیویلپمنٹ [Poverty] سٹیزن ، فریڈم آف ایکسپیریشن ہیومن رائٹس کا مطلب وہ قطعاً نہیںہے جو انگریزی سے واقف ہمارے بعض مذہبی مفکرین اردو ترجمہ کرکے بیان کرتے ہیں۔ کسی بھی اصطلاح کاکامل ترجمہ ممکن نہیں لیکن اس کی تشریح ، توضیح ، تفسیر ممکن ہے جو ترجمے سے عموماً نہیں ہوتی۔ لہٰذا مغربی اصطلاحات کا اصل مفہوم سمجھنے کے لیے ہمیں مغرب کے بڑے فلسفیوں کا مطالعہ کرنا ہوگا ورنہ ہم بد ترین علمی خیانت کے مسلسل مرتکب ہوتے رہیں گے۔ڈاکٹر یوسف قرضاوی ، وحید الدین خان ، طہٰ جابر العلوانی اور ذاکر نائیک صاحب کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ یہ حضرات جدید مغربی فلسفے کے ذیلی علوم جدید سائنس اور سوشل سائنس اور کافرانہ علم کے نئے دریچے فلسفۂ سائنس سے قطعاً ناواقف ہیں لہٰذا مغربی اصطلاحات اور نظریات کے نا مکمل ، محرف ، غلط سلط غیر علمی ،غیر مصدقہ ترجمے کرکے ان کو خواہ مخواہ اسلامی سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ ایک زبان اور تہذیب کی اصطلاحات کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں ممکن نہیں صرف اصطلاح کی تشریح و توضیح ممکن ہے ۔ خصوصاً وہ اصطلاحات جو خاص تاریخ ، تہذیب ، ثقافت اور ما بعد الطبیعیات سے نکلی ہوں جیسے ”عدت” کا ترجمہ ناممکن ہے اگر ترجمہ کیا جائے تو اس کا مطلب گننا ہوگا مگر کیا گننا؟ کب؟ کیسے؟ کب تک؟ کیوں؟ کس لیے؟ کس کے لیے؟ ترجمہ ان سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے لیکن ایک ان پڑھ مسلمان بھی اس اصطلاح کے تمام مفاہیم ایک لمحے میں جان سکتا ہے کہ اس اصطلاح کے لیے جو علم درکار ہے وہ اس کی عملی زندگی کا تجربہ ہے۔ یہ تجربہ وہ اپنی تاریخ و تہذیب میں زندہ تجربے کے طور پر برتتا ہے لہٰذا علم کے بغیر وہ عامل ِکامل ہوتا ہے کیونکہ اس اصطلاح کے مکمل تناظر سے وہ واقف ہے۔ لیکن ایک دوسری تہذیب کا بڑے سے بڑا عالم بھی اس اصطلاح کا مطلب نہیں جان سکتا۔ اگر ان اصطلاحات کے تاریخی تناظر سے واقف نہ ہو۔ بعض اصطلاحات ہر تہذیب ، دین میں یکساں ہوتی ہیں مثلاً عیسائیت یہودیت اسلام میں اللہ ، صلوٰة ، صوم مشترکہ اصطلاحات ہیں لیکن ان اصطلاحات کی حقیقت تینوں مذاہب میں بالکل مختلف ہے۔لہٰذا اگر اصطلاحات یکساں ہوں ان کے الفاظ بھی ملتے جلتے ہوں تب بھی ان کا ما بعد الطبیعیاتی تناظر بدل جانے سے ایک جیسی اصطلاحات کے معانی بھی بدل جاتے ہیں مثلاً عیسائیوں کے یہاں مسیح ابن اللہ ہیں اسلام میں مسیح صرف رسول اللہ روزہ عیسائی اور یہودی بھی رکھتے ہیں لیکن دونوں کے یہاں روزے کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔عیسائی روزے میں ایسی چیزیں کھاسکتے ہیں جو آگ پر پکی ہوئی نہ ہوں ، حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ  یہودی، عیسائی عقیدے کے مطابق خدا کے بیٹے تھے اسلام توحید اورصوم کے ایسے تصورات کو تسلیم نہیں کرتا لہٰذا اصطلاحات کی یکسانیت اور الفاظ کی مماثلت سے دھوکہ کھانے کی ضرورت نہیں ایک جیسی اصطلاح کے معانی مفاہیم ، مطالب ،بھی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہو سکتے ہیں۔مثلاً مغرب کی فلسفیانہ اصطلاح فریڈم ]آزادی[ کا ترجمہ عربی میں حریت اور اردو میں آزادی درست ترجمہ نہیں یہ اس اصطلاح کے صرف ایک پہلو کو بیان کرتاہے آزادی مغرب کی قدر[Value] ایمان عقیدہ [Faith believe] ہے یہ اصطلاح ان کے فلسفے ، مذہب ، عقیدے کی اساس ہے دیگر تہذیبوں میں آزادی محض صلاحیت [Ability] ہے اسی طرح مساوات اور ترقی جیسی اصطلاحات جو آزادی کی طرح مغرب کے تمام ازموں کی مشترکہ اقدار ہیں ان کے حقیقی مفاہیم اور تاریخی تناظر کو نظر انداز کرکے ہم انہیں ترجمہ کرکے سادہ طریقے سے بیان کرتے ہیں تو غیر علمی رویہ اختیار کرتے ہیں جو بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اس کے نتیجے میں مغربیت اسلامی معاشروں میںتیزی سے سرایت کرتی ہے ۔ اصطلاحات کی حقیقت سے آگہی کے بغیر جب ہم ان اصطلاحوں کی اسلام کاری کرتے ہیں تو در اصل کفر کی اسلامی توجیہہ بیان کرتے ہیں جو علمی دیانت کے خلاف ہے دیانت داری کا تقاضہ یہ ہے کہ اصطلاح کو اس کے حقیقی تناظر اور اس کی تاریخ و فلسفہ کی روشنی میں سمجھا جائے امت مسلمہ کو اس معاملے میں شدید حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ابھی تک جدید مسلم معیشت دانوں کے خیال میں سرمایہ داری میں ذاتی ملکیت ہوتی ہے حالانکہ سرمایہ داری اور اشتراکیت میں جو خود سرمایہ داری کی بد ترین شکل ہے۔ ذاتی ملکیت تو باقی ہی نہیںرہتی ۔ سرمایہ داری خواہ لبرل ہو یا نیشنل اس میں ایک شخص قانونی املاک کی ذمہ داری سنبھال لیتا ہے،ذاتی ملکیت [Private property] کی جگہ کارپوریٹ ملکیت [Corporate Property] لے لیتی ہے ۔ حصص یافتگان ہوتے ہیںدولت [Wealth] ، سرمایہ [Capital] میں تبدیل ہو جاتی ہے اور سرمایہ میں مسلسل و مستقل اضافہ ہوتا رہتا ہے اسی لیے لوگ بینک ، اسٹاک مارکیٹ ، میوچل فنڈ سے پیسہ نہیں نکالتے۔ حالانکہ اگر لوگ بینک سے اپنا پیسہ نکال لیں توبینک اسی وقت بند ہو جائے جدید مارکیٹ کے سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ لوگوں کا غلام نہیں ہوتا بلکہ یہ تمام سرمایے کے غلام ہوتے ہیں جبکہ اشتراکیت میں سرمایہ ریاست کی ملکیت ہوتا ہے لہٰذا سرمایہ داری اور ا س کی دوسری شکل سوشلزم و کمیونزم کے ساتھ ساتھ لبرل ازم سوشل ویلفیئر ازم میں بھی نجی ملکیت باقی ہی نہیں رہتی۔ کارپوریٹ کلچر، شیئرز اور میوچل فنڈز کے کاروبار وغیرہ کے ذریعے تمام سرمایہ چند مینجرز کے قبضے میں ہوتا ہے ہر شخص ان کا اسیر اور غلام ہوتا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیوں کے ادغام [merger] اس کا ثبوت ہیں ۔ الغرض جدید مغربی اصطلاحات کو سمجھنے کے لیے فی الحال The Development Dictionary: A guide to knowledge as power Edited by WOLFGANG SACHS 1993 Zed Books Ltd. London & New Jersey کا مطالعہ کیا جائے۔ اس کتاب میں جدید مغربی اصطلاحات کو تاریخی تناظر میں بیان کیا گیا ہے اور Development، Environment، Equality، Helping، Market,Need، One World، Participation ، Planing، Population ، Poverty، Production، Resources، Science، Socialism ، Standard of Living، State، Technology کی دل فریب ملمع سے پر اصطلاحات کا حقیقی تناظر میں جائزہ لیا گیا ہے۔اسی طرح جدید مغربی فلسفے کی تاریخ، مقصد، ہدف منزل اور حقیقت مغربی فلاسفہ کی اصل تحریروں کی روشنی میں سمجھنے کے لیے Alex Callinicos کی کتاب Social Theory: A historical introductiion 2003, Polity Press Cambridge UK کا مطالعہ ضروری ہے جس میں Hegal The Enlightenment ، Marx،Liberals، Life & Power،The golden Age، Weber، Durkheim، Revolution & Counter، Revolution، The illusion of Progress جیسے عنوانات پر مدلل گفتگو کی گئی ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی سے مرعوبیت کے بجائے اس کی حقیقت واضح طور پر سمجھنے کے لیے فلسفۂ سائنس کے مفکر A.F. Chalmer کی کتاب What is this thing called cience 1988 Open University Press کا مطالعہ ضروری ہے۔ اس کتاب میں استقرائ، استخراج، کی بنیاد پر اخذ نتائج کی حقیقت کھول کر رکھ دی گئی ہے اس کے مطالعے سے جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے سلسلے میں مشرق کے مفکرین کی خواہ مخواہ مرعوبیت کے اسباب بھی معلوم ہوتے ہیں۔ کہ یہ بے چارے نہ سائنس کو جانتے ہیں نہ ٹیکنالوجی کو نہ فلسفۂ سائنس کے مباحث سے واقف ہیں یہ سائنس و ٹیکنالوجی پر ایمان بالغیب کے بعد اس کی اسلام کاری کا عمل شروع کرتے ہیں فلسفہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی اصطلاحات کے سلسلے میںStanford Encyclopedia of Philosophy  یا دیگر لغات فلسفہ سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ درج ذیل کتب اور رسائل کا مطالعہ مفید رہے گا :

[١] جریدہ ٢٩ ، جریدہ ٣٥ ، جریدہ ٣٧ ، شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ ، جامعہ کراچی۔ [٢] سرمایہ دارانہ نظام :ایک تنقیدی جائزہ ، مرتبہ محمد احمد۔ [٣] جمہوریت یا اسلام ، مرتبہ محمد احمد ، [٤] ماہنامہ ساحل ، کراچی ، ٢٠٠٥ء ، ٢٠٠٦ء ،  ٢٠٠٧ء اور ٢٠٠٨ء کے تمام شمارے ۔[٥] مریم جمیلہ کی کتاب اسلام اینڈ ماڈرن ازم ۔ [٦] کشاف اصطلاحات فلسفہ ، قاضی عبدالقادر۔ [٧] Business ethics in Pakistan، ڈاکٹر جاوید انصاری اس کتاب کے آخر میں فلسفیانہ اصطلاحات کی تشریح کی گئی ہے۔ [٨] اصطلاحات فلسفہ کی لغت [انگریزی] آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی۔

مغربی اصطلاحات اور اداروں کی حمایت سے پہلے ان تحریروں کا مطالعہ کر لیا جائے۔عالم کی شان یہ ہے کہ ان یکون بصیراً بزمانہ اپنے زمانے سے واقف ہوتا ہے رسالت مآبۖ کی دعا ہے  اللّٰھم ارنی حقیقة الاشیاء کماہی۔ کہ اے اللہ ہمیں اشیاء کی حقیقت ویسی ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔ حضرت عمر کا ارشاد ہے کہ وہ شخص دین کی کڑیاں بکھیر دے گا جو جاہلیت کی حقیقت سے نا واقف ہو۔ اس لیے جدید دنیا میں جدید مغربی فلسفے اور جدید سائنس اور سوشل سائنس اور جدید اداروں سے واقفیت کے بغیر ان کافرانہ علوم کی اسلام کاری کی تحریک زور و شور سے چل رہی ہے اس تحریک کے چلانے والے مغرب کے علوم، فنون، فلسفے سے سرسری طور پر بھی آگاہ نہیں۔ مغرب کے فہم سے محروم یہ مفکرین تاریخ بلوچستان کے اہم کردار عیدو کی طرح عالم اسلام میں مغربیت، جدیدیت، کے نفوذ، نفاذ کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں یہ عید و کون تھا آئیے اس کا مطالعہ کریں۔

جب ان سرحدی بلوچوں کی حریت پسندی خطر ناک حد تک تمام علاقے میں پھیل گئی تو فروری ١٩١٦ء میں انگریزوں نے جنرل ڈائرکو بھیجا تاکہ سرحدی بلوچوں کو کچل دے ۔ یہ جنرل ڈائر وہی ظالم ہے جس نے بعد ازاں جلیانوالہ باغ میں ہندوؤں ، مسلمانوں اور سکھوں کا قتل عام کرایا۔ ڈائر نے ”کچو” کے مقام پر پہنچ کر بلوچ سرداروں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا لیکن انھوں نے اس مطالبے کو حقارت سے ٹھکرادیا۔ ڈائر ایک تجربہ کار اور مکار انگریز جنرل کی حیثیت سے بخوبی اندازہ لگا چکا تھا کہ اس کوہستان جس کی چپہ چپہ زمین سے دشمن واقف ہے ،براہ راست مقابلے کی دعوت دینا انگریز سپاہ کی تباہی و بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔چنانچہ اس نے بلوچوں کی مجموعی طاقت سے ٹکرانے کی بجائے ان میں خوف و ہراس، بد نظمی اور انتشار پھیلانے کی تجویزیں سوچ لیں۔ ڈائر نے مشّاق اور ہوشیار جاسوسوں کے پروپیگنڈے سے بلوچوں کو انگریزوں کی پانچ ہزار مسلح فوج اور بہت بڑے توپ خانے اور جنرل ڈائر کی ”موٹر” کی ہیبت ناک داستانیں سنا کر ڈرانا چاہا۔ یہاں کسی نے موٹر کار نہیںدیکھی تھی۔ اس لیے جاہل خانہ بدوش اور جنگلی بلوچ قبائل موٹر دیکھ کر اس قدر حواس باختہ اور حیران ہوتے کہ ان کی چیخیں نکل جاتیں اور بے تحاشا بھاگ اٹھتے، ان میں جو زیادہ سمجھدار تھے وہ موٹر کو خطر ناک جنگی مشین خیال کرتے تھے اور اس کے مقابلے میں آنے سے گھبراتے تھے۔ جنرل ڈائر نے اپنے دو انگریز افسروں اور عید و نامی بلوچ رہبر کے ساتھ کوہستان میں کاروانوں کے راستے پر موٹر دوڑائی، راستے میں جہاں کہیں خانہ بدوش نظر آتے موٹر ٹھہرائی جاتی عیدو ان کے پاس جاتا اور موٹر کی شکل و صورت ، برق رفتاری اور ہولناکی کے ایسے  ایسے من گھڑت قصے بیان کرتاکہ بلوچوں پر سکتے کی سی کیفیت طاری ہو جاتی۔ موٹر کے ریڈی ایٹر کے ساتھ سوراخ دکھا کر عید و بلوچوں سے کہتا کہ ہر سوراخ بندوق کی نالی ہے اور ایک بٹن دباتے ہی ان میں سے ہزاروں سنسناتی ہوئی گولیاں نکل کر مینہ کی طرح دشمن پر برسنے لگتی ہیں۔ عیدو انہیں موٹر کی بتیاں دکھا کر کہتا کہ یہ اس کی دور بین کی آنکھیں ہیں دشمن کہیں بھی اور کتنی ہی ہوشیاری سے چھپا ہوا ہو یہ آنکھیں اسے ڈھونڈ نکالتی ہیں اور پھر اس پر گولیاں برساکر اسے ختم کردیتی ہے۔ عید و نہایت ذہین اور طرار بلوچ تھا اسی قسم کی بیسیوں داستانیں گھڑ کر ان کے ہوش اُڑاتا ۔ عید و کا پروپیگنڈہ کوہستانوں اور وادیوں میں آگ کی طرح پھیلتا گیا، جنگ جو اور بہادر بلوچ پتھروں پر اپنی رائفلیں رکھ کر حیران پریشان ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جاتے۔ایک مقام پر عزت نامی ایک بلوچ نے اپنے آدمیوں کے ساتھ جنرل ڈائر کا رستہ روکا۔ انہیں دیکھ کر ڈرائیور نے زور سے موٹر کا ہارن بجایا اور تیزی سے ان کی طرف موٹر دوڑائی نتیجہ یہ نکلا کہ عزّت اور اس کے آدمی حملے سے باز رہے ]تاریخ بلوچستان بہ حوالہ اثیر عبدالقادر شاہوانی، جنگ ، مڈ ویک میگزین ١٤اکتوبر٢٠٠٩ئ[۔ اگر بلوچ اس موٹر کی حقیقت سے آگاہ ہوتے تو اس پر پتھراؤ کردیتے، اس کے سامنے آگ کی خندق بچھادیتے اس کے ٹائر پنکچر کردیتے لیکن رعب، خوف و دبدبہ ۔ قرآن میں بار بار اس سے پناہ اسی لیے مانگی گئی ہے۔موٹر کار سے خوف زدہ سادہ دل بلوچ ہیبت کا شکار ہوگئے۔ وہ توڑے دار بندوق سے موٹر کے اگلے حصے کو نشانہ بناتے تو موٹر چلنے کے قابل نہ رہتی اس میں آگ لگ جاتی وہ موٹر پر چٹانیں گرا کر اسے تہس نہس کر دیتے مگر خوف، دہشت، ہیبت جب طاری ہو تو کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ دلوں پر کسی شے کا رعب قائم ہوجائے تو اسے دور کرنا محال ہوجاتا ہے۔ ایمان کے نتیجے میں کفر، شرک اور اس کی قوتوں کا رعب دل سے نکل جاتا ہے اور صرف اللہ کا رعب دلوں پر طاری ہوتا ہے اسی لیے مومن خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا حتیٰ کہ موت سے بھی نہیں جس دل میں یہ خوف اور یہ رعب راسخ ہو اس کا رعب اللہ تعالیٰ دشمنوں پر بھی طاری کر دیتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اس نے اہل ایمان کا رعب کفار کے دلوں پر طاری کر دیا تھا۔ سورہ حشر میں یہ مضمون عجیب طریقے سے بیان ہوا ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اس کی تفصیل یہ ہے۔

( هُوَ الَّذِيْٓ اَخْرَجَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ڼ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ يَّخْرُجُوْا وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا   ۤ وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ وَاَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَ ۤ فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ  ) [٥٩:٢]

وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلے حشر کے وقت نکالا  تمہارا گمان (بھی) نہ تھا کہ وہ نکلیں گے اور وہ خود بھی سمجھ رہے تھے کہ ان کے (سنگین) قعلے انہیں اللہ (عذاب) سے بچا لیں گے . پس ان پر اللہ کا عذاب ایسی جگہ سے آپڑا کہ انہیں گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا اور وہ اپنے گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں اجاڑ رہے تھے اور مسلمان کے ہاتھوں (برباد کروا رہے تھے) پس اے آنکھوں والو! عبرت حاصل کرو۔  

 قرآن بتاتا ہے کہ اہل ایمان کفار کے خلاف جہاد کے راستے میں ثابت قدم رہیں تو اللہ ان کا رعب کفار کے دلوں میں ڈال دیتا ہے

 ( اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰۗىِٕكَةِ اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا   ۭسَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ   ) [٨:١٢]

 ہم منکرین حق کے دلوں میں مومنین کا رعب بٹھادیں گے

 ( سَـنُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَآ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا  ۚ وَمَاْوٰىھُمُ النَّارُ  ۭ وَبِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِيْنَ ) [٣:١٥١]

کفار کے رعب ، لاؤ لشکر شان و شوکت، دبدبے کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر اطمینان اور بے خوفی کی کیفیت طاری کردیتا ہے

( اِذْ يُغَشِّيْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ  ) [٨:١١]

اسی نفس مطمئنہ کے باعث مومن نہ دل شکستہ ہوتا ہے نہ غم کرتا ہے

 (وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ) [٣:١٣٩]

 مومن مصیبتیں پڑنے پر دل شکستہ نہیں ہوتا

( فَمَا وَهَنُوْا لِمَآ اَصَابَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَكَانُوْا  ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيْنَ  ) [٣:١٤٦]

 کفار مکہ کو بھی خانہ کعبہ کی برکت سے رزق کثیر ، امن اور خوف سے نجات عطا کیا گیا تھا۔

( الَّذِيْٓ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ   ڏ وَّاٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ) [١٠٦:٤]

عہد حاضر کے جدید مسلم مفکرین ، مغرب سے مرعوب بعض راسخ العقیدہ علماء ، مغرب کی معیشت ، سیاست ، ثقافت ، تہذیب ، اقدار ، روایات ، ما بعد الطبیعیات ، ایمانیات ، اعتقادات ، مقاصد ، اہداف ، معاشرت سائنس ، ٹیکنالوجی ، سوشل سائنسز کا تنقیدی جائزہ لیے بغیر اسے غیر اقداری [Value Nutral] تصور کر کے اس کی مدح و ثناء میں مصروف بعض مشائخ اور ذرائع ابلاغیات خصوصاً برقیاتی ذرائع ابلاغ ]الیکٹرانک میڈیا[ عیدو بلوچ کا کردار ادا کررہے ہیں میڈیا کے اینکر پرسن ، کالم نگار ، صحافی عیدو بلوچ کی طرح عالم اسلام کے لوگوں کو مغرب کی سائنس ، ٹکنالوجی ، ترقی سے اسی طرح ڈرا کر مرعوب و مغلوب کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے مغرب سے واقفیت از حد ضروری ہے۔صحف ابراہیم میں عجیب قول ہے :  وعلی العاقل ان یکون بصیراً بزمانہ دانا شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے کو جاننے والا ہو۔ اور حضرت عمر کا ارشاد کہ وہ شخص دین کی کڑیاں بکھیر دے گا جو جاہلیت کی حقیقت سے واقف نہیں ہے۔ فتویٰ دینے سے متعلق جو شرائط امہات کتب میں بیان کی گئی ہیں ان میں اہم ترین شرط یہ ہے کہ مفتی اپنے زمانے سے واقف ہو ورنہ وہ جاہل ہے فھو جاھل 

اپنے زمانے سے واقف ہونے اور جاہلیت کی حقیقت سے آگاہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حق کی شناخت، حق کی تلاش، حق کا حصول صرف اور صرف جاہلیت کے فہم پر منحصر ہے۔ لہٰذا جب تک مغرب کا فلسفہ اس کی سائنس گہرائی سے نہ پڑھی جائے اس کا ادراک، فہم اور مقابلہ ممکن نہیں بلکہ جاہلیت سے آگہی ان کے لیے ضروری ہے جو مغرب اس کے فلسفے اور اس کی سائنس کو پڑھے، جانچے، آزمائے اور جانے بغیر قبول کرلیتے ہیں اور خذ ما صفاء و دع ماکدر کے فلسفے کے تحت مغرب سے آنے والی دل پسند اشیاء کے استعمال کی بھرپور وکالت شروع کر دیتے ہیںایسے لوگ پہلے عصر حاضر پر اس کے تعقل غالب پر روح عصر پر مغرب کے اداروں ارادوں اور اس کی مصنوعات ایجادات ترقی پر ایمان لے آتے ہیں اس کے بعد اس ایمان ویقین کی اسلامی توضیحات تصریحات تشریحات بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے مغرب کے فلسفے، مذہب اور ما بعد الطبیعیات کا مطالعہ ضروری ہے ۔ کسی شے میں کیا شے اچھی ہے کیا بری ہے، کتنے فی صد بہتر ہے ،کتنے فی صد ناقابل قبول ہے، اس کا اندازہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک شے کی ماہیت ، حقیقت ، اصلیت ، علمیت ، ما بعد الطبیعیات ، مقاصد سے واقفیت نہ ہو۔ اس لیے رسالت مآبۖ نے فرمایا کہ اے اللہ مجھے چیزوں کی حقیقت ویسی ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔  اللّٰھم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ اے اللہ ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرما اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرما ۔لہٰذا جو شخص مخالف تہذیب، مذہب علم کی ہر شے کو رد کرتا ہے اس کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ اپنے مدمقابل تہذیب مذہب کی اشیاء افکار ، علوم ، نظریات ، حاصلات ، سائنس ، ٹیکنالوجی نظریۂ افادیت کے تحت قبول اور استعمال کرنے لگتے ہیں ، کیونکہ اسلامی ، علمیت میں افادہ پرستی، مادہ پرستی اور نتائجیت پرستی [Utilitaerianism, Matrialism, Pragmatism] کی بنیاد پر فیصلے نہیں کیے جاتے فیصلوں کی بنیاد شریعت ہوتی ہے کہ مالک حقیقی کی رضا کیا ہے؟۔ جدیدیت اور لبرل ازم کا اصول یہ ہے کہ کیا ممکن ہے! اور اکثریت کو کس شے سے فائدہ ہوسکتا ہے خواہ یہ فائدہ شریعت کو مطلوب نہ ہو لیکن نفس کا خدا چاہتا ہو، اسلامی علمیت میں افادہ پرستی نفس پرستی اور حرص و ہواکے ایسے کسی نظریے کی کوئی گنجائش نہیں یہ خالص مغربی فسادات قلب ہیں ۔اسلامی علمیت میں ہر شے کو اصول پر جانچا پرکھا جائے گا کہ وہ مقاصد شریعہ کے حصول میں معاون ہے یا مزاحم ہے۔ ایک شے خلق کے لیے بے حد فائدہ مند ہے لیکن دل ،روح ، مقاصد شریعہ اور ایمان کے خاتمے کا اعلامیہ ہے تو اسے کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا چنانچہ واضح ہوا کہ خذ ما صفا و دع ماکدر یعنی جو اچھا ہے وہ لے لو اور جو برا ہے اسے ترک کردو کے فلسفہ پر عمل پیرا مکاتب فکر پر لازم ہوگا کہ اس جاہلیت جدیدہ کی علمیت ، مابعد الطبیعیات اور جدید اشیاء میں مستور خیر قلیل و کثیر اور شر کثیر و قلیل کا میزانیہ مغربی فلاسفہ و مفکرین کی تصریحات اور نصوص اسلامی کی روشنی میں قائم کریں۔ بصورتِ دیگر یہ مکاتب فکر تاریخ کے میزانیے میں ”مصیب” ]صحیح رائے تک پہنچنے والا [ قرار نہیں دیے جاسکتے۔ ٹرائے [Troy] کے گھوڑے کو استعمال کرنے والے کو اس کی باطنی، اندرونی حقیقت بھی معلوم ہونا چاہیے ورنہ یہ گھوڑا ایک تہذیب و تاریخ کوشکست دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ رسالت مآبۖ اور حضرت عمر کے ارشادات کا مقصد یہی ہے کہ امت مسلمہ اپنے عہد کے عیدو بلوچ سے خبردار رہے اور کسی تہذیب سائنس، ٹکنالوجی اورکسی قوم سے مرعوب نہ ہو۔یہ اسی وقت ممکن ہے کہ ہم ہر عہد کے عیدو بلوچ سے واقف ہو ںجو ہر شعبہ زندگی میں داخل ہو کر مغرب کی سائنس اسلحہ، مغرب کی ترقی،اس کے اداروں اس کے مقاصد ، اس کی چکا چوند ، اس کے طریقوں اس کی ترقی اس کی طاقت ، برتری ، بلندی ، عظمت ، عروج و اقبال کے قصیدے سنا کر اس جھوٹ ، فریب ، ملمع اور دجل سے عالم اسلام کو خوف زدہ کرنے میں مصروف ہیں لہٰذا مغربی سائنس اور فلسفہ پڑھنا ضروری ہے تاکہ کفر کی حقیقت سے آگہی ہو۔اس آگہی کے بغیر عہد حاضر کے پیدا کردہ سوالات کا جواب دیتے ہوئے نہایت توجہ، احتیاط اور توقف کی ضرورت ہے تاکہ دین کی ایسی تعبیر و تشریح سامنے آسکے جو مقاصد شریعہ کو ممکن بناسکے عجلت میں دی جانے والی رائے اسلامی روایت کو کم زور کرنے کا باعث بن سکتی ہے ہماری علمی تاریخ احتیاط، توازن اور توقف کی تاریخ ہے عجلت کی تاریخ نہیں عجلت علم کی دنیا کے لیے نا قابل قبول رویہ ہے ۔اسی لیے حضرت عبداللہ بن عمر فتویٰ دینے میں احتیاط برتتے اور بلاتکلف لا ادری فرما دیتے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے کہ میں نہیں جانتا کہنا نصف علم ہے۔ امام مالک سے چالیس مسئلے پوچھے گئے، آپ نے صرف آٹھ کا جواب دیا اور بقیہ بتیس مسائل کے بارے میں فرمایا لا ادری سائل نے کہا میں چھ سو میل سفر طے کر کے آیا ہوں اگر آپ نہیں جانتے تو پھر کون جانے گا۔ فرمایا ملائکہ کہتے ہیں لاعلم لنا الا ما علمتنا یہ رویہ ، مزاج ، اسلوب ، دیانت عہد حاضر میں کیوں مفقود ہوگئی ہے۔ ہم ہرسوال کا جواب دینا کیوں ضروری سمجھتے ہیں جس کے بارے میں ہم آگہی نہیں رکھتے۔ کیا ہمارارویہ اسلامی علمیت، دیانت اور ایمان سے ہم آہنگ رویہ ہے۔

یہ ضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، شعبان معظم 1433ھ/ جون، جولائی 2012- سے ماخوذ ہے۔

تنِ حرم میں رُوحِ بت خانہ


الواقعۃ شمارہ ٣ 

عبدالخالق بٹ

مساجد کو اسلامی معاشرے میں ہمیشہ ہی سے مرکزیت حاصل رہی ہے، اور اس کی سب سے روشن مثال مسجدِ نبوی ہے، جسے بیک وقت عبادت گاہ، مشاورت گاہ، تربیت گاہ، عدالت، حکومت کا سیکرٹریٹ اور جہادی سرگرمیوں کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کا مقام حاصل تھا۔
 
مسجد کی اسی ہمہ گیر افادیت اور مسلمانوں کی اس سے محبت کے پیشِ نظر ہی منافقین مدینہ نے ”مسجد ضرار” بنائی تھی، تاکہ یہاں رہتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشی سرگرمیاں باآسانی جاری رکھ سکیں اور عام مسلمانوں پر اْن کی پارسائی کا پردہ بھی پڑا رہے۔ مگر خود اللہ نے منافقین کی سازش کا پردہ چاک کردیا:
 
”کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے ایک مسجد بنائی اِس غرض کے لیے کہ (دعوتِ حق کو) نقصان پہنچائیں، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں، اور اہلِ ایمان میں پھوٹ ڈالیں، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اْس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور اْس کے رسولۖ کے خلاف برسر پیکار رہ چکا ہے۔ وہ ضرور قسمیں کھا کھا کرکہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ تم اس عمارت میں کھڑے نہ ہونا۔ جو مسجد اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اْس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو، اْس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں۔” (سورہ توبہ:108 – 107)
”مسجد ضرار” کا یہ واقعہ قرآن کا حصہ بن کر تاقیامت محفوظ ہوگیا اور یوں صدیوں تک پھر کسی کو ”مسجد” کے نام پر دھوکہ دینے کی ہمت نہیں ہوئی، یہاں تک کہ مسلمان اپنا عروج دیکھ کر زوال کی راہ پر لڑھکنے لگے، اور یورپ نشاةثانیہ سے گزر کر عالمی سیادت کا دعویدار بن گیا، عظیم خلافتِ عثمانیہ (١) یورپی اقوام کی چیرہ دستی اور شریفِ مکہ ( ٢ ) (پیدائش : ١٨٥٢ء – وفات:١٩٣١ئ) اور مصطفی کمال پاشا اتاترک (٣) (پیدائش: ١٨٨١ء – وفات:١٩٣٨ئ) کی امت سے بے وفائی کے سبب١٩٢٤ء میں ختم کردی گئی۔
 
چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ
(نظم:غرہ شوال یا ہلالِ عید/بانگِ درا)
 
یہ اسلامی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب مسلمان مرکزِ خلافت سے محروم کردیے گئے، اور یوں حضرت ابوبکرصدیق (وفات:١٣ ہجری) سے شروع ہونے والا سفرِ خلافت خلیفہ عبدالمجید خان ثانی (پیدائش: مئی ١٨٦٨ء – اگست،ستمبر ١٩٤٤ء ) کی برطرفی پر تمام ہوا۔
 
سلسلہ خلافت کے انقطاع میں تمام یورپی اقوام کا حصہ بقدرِ جثہ کے مصداق شریک تھیں۔ یورپ مسلم دنیا پر چڑھ دوڑا تھا، ایسے میں الجزائر ، تیونس ، شام اور لبنان فرانسیسی استبداد کا نشانہ بنے، فرانس اپنے مقبوضات کے لیے اٹِیلا (٤) اور ہلاکو (٥) ثابت ہوا۔ صرف سرزمین شام میں فرانس نے١٩٢٤ء کے دوران بیس ہزار مسلمان شہید کردیے، فرانسیسی توپ خانے اور جنگی جہازوں نے دومرتبہ دمشق کو گولہ باری کا نشانہ بنایا۔
 
سرزمینِ شام کو متعدد انبیائے کرام اور صحابہ کی آخری آرام گاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، پھر دارالحکومت دمشق کا شمار دنیا کے اْن چند قدیم ترین شہروں (٦) میں ہوتا ہے جہاں ہزاروں سال میں ایک دفعہ بھی زندگی معدوم نہیں ہوئی اور یہ شہر طویل عرصہ سے آباد چلے آرہے ہیں۔
 
سر زمین انبیاء میں اس قتل عام نے مسلمانوں میں بے چینی کی لہر پیدا کردی تھی، جسے فرانسیسی استعمار نے بھی بھانپ لیا تھا، لہٰذا مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے اور انھیں اپنی اسلام دوستی کا یقین دلانے کے لیے پیرس میں مسجد کی تعمیر کے لیے زمین دینے کا اعلان کیا اور یوں ١٩٢٦ء میں پیرس کے انتظامی علاقے نمبر٥ میں ”جامع مسجد پیرس” (Grande Mosque de Paris) کا قیام عمل میں آیا۔
 
جامع مسجد پیرس ”المغرب” (٧) طرزِ تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہے، دس ہزار نمازیوں کی گنجائش کے ساتھ اسے یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مسجد کا افتتاح اْس وقت کے فرانسیسی صدر گستون دومرگ (٨) (پیدائش: یکم اگست ١٨٦٣ئ-وفات:١٨ جون ١٩٣٧ئ) نے کیا جبکہ پہلی نماز صوفی شیخ احمد بن مصطفی العلاوی (٩) (پیدائش : ١٨٦٤ء – وفات : ١٤ جولائی ١٩٣٤ء ) کی امامت میں ادا کی گئی (١٠)۔
 
یورپ کے قلب میں ایک پْر شکوہ مسجد کا قیام بظاہر ایک اہم واقعہ تھا مگر علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ( پیدائش : ٩ نومبر ١٨٧٧ء – وفات:١٢اپریل ١٩٣٨ئ) کی عمیق نگاہیں اس مسجد کی تعمیر کے پس پردہ فرانسیسی استعمار کے مقاصد کو بھانپ گئیں لہٰذا انھوں نے ”پیرس کی مسجد” پر شدید ردعمل کا اظہار کیا:
مری نگاہ کمالِ ہنر کو کیا دیکھے

کہ حق سے یہ حرمِ مغربی ہے بیگانہ!

حرم نہیں ہے فرنگی کرشمہ بازوں نے

تن حرم میں چھپادی ہے روح بْت خانہ!

یہ بت کدہ اْنھیں غارت گروں کی ہے تعمیر

دمشق ہاتھ سے جن کے ہْوا ہے ویرانہ!
(نظم : پیرس کی مسجد /ضربِ کلیم)
 
ایک اور مقام پرفرانس کے ہاتھوں شام کی لہو رنگ داستان کا ذکر اِن الفاظ میں کیا:
رندانِ فرانسس کا مے خانہ سلامت

پْر ہے مئے گل رنگ سے ہر شیشہ حلب کا

(نظم: فلسطین /ضربِ کلیم)
 
مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور اْن پر ڈھائے جانے والے مظالم کے باوجود اپنی ”مسلم دوستی” کے ثبوت کے طور پر ”مسجد کی سیاست” صرف مسجدِ ضرار اور جامع مسجد پیرس تک ہی محدود نہیں بلکہ اس منافقانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ ماضی قریب میں شیشان (Chechnya) میں بھی کیا گیا۔
 
قفقاز (١١) کے علاقے میں شیشان ہمیشہ سے مزاحمت کا مرکز رہا ہے۔ پہلے زارِ روس (١٢) پھر سوشلسٹ روس اور اب روسی فیڈریشن (١٣) ، ہر دور میں ماسکو نے قفقاز کے مسلمانوں کو زیرِ دام لانے کے لیے بدترین مظالم ڈھائے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ روسی افواج کو یہاں چپے چپے پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، ماسکو کی بالادستی کے خلاف علمِ جہاد بلند کرنے والوں میں مندرجہ ذیل افراد کو نمایاں مقام حاصل ہے:
 
٭ امام منصور (١٤) ( وفات : ١٧٨٥ء ) ،
٭ امام شامل ( پیدائش : ١٧٩٩ء -وفات : ١٨٧١ء ) ،
 ٭ جوہر دادیوف (١٦) ( پیدائش : ١٥ فروری ١٩٤٤ء – شہادت : ٢١ اپریل ١٩٩٦ء ) ،
 ٭ زیلم خان یندربائیوف (١٧)  (پیدائش: ١٢ ستمبر ١٩٥٢ء – شہادت : ١٣ فروری٢٠٠٤ء )،
٭ اسلان مسخادوف (١٨) (پیدائش : ٢١ ستمبر ١٩٥١ء – شہادت : ٨مارچ  ٢٠٠٥ء ) ،
٭ شامل بسائیوف (١٩) (پیدائش : ٤جنوری ١٩٦٥ء – شہادت : ١٠جولائی٢٠٠٦ء )۔
 
اہلِ شیشان کا جذبہ حریت ایک زندہ حقیقت ہے جس کا ماسکو نے سالہا سال تلخ تجربہ کیا ہے۔ اس لیے اس نے پہلی جنگِ شیشان ( ١١ ستمبر ١٩٩٤ئ- ١٣اگست١٩٩٦ئ) اور دوسری جنگِ شیشان (اگست ١٩٩٩ئ- مئی ٢٠٠٠ئ) کے دوران مجاہدین کے خلاف بدترین جبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے دارالحکومت گروزنی کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور حالات ”معمول” پرآنے کے بعد ماسکو نے اہلِ شیشان کا ”دل موہنے” کے لیے گروزنی کے نواح میں ایک ”شاندار مسجد” تعمیر کردی۔
 
مسجد کا باقاعدہ افتتاح شیشان کے موجودہ صدر رمضان احمد قادروف (پیدائش : ٥اکتوبر١٩٧٦ء ) نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں روسی وزیرِ اعظم ولادی میر پوتین (٢٠) (پیدائش: ٧ اکتوبر١٩٥٢ء )اور روسی صوبہ جات سے تعلق رکھنے والے مختلف مذاہب و مسالک کے سربراہان سمیت 18ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
 
مسجد کا نام سابق شیشانی صدر احمد عبدالحامد قادروف ( پیدائش : ٢٣ اگست ١٩٥١ء – ہلاکت : ٩ مئی ٢٠٠٤ء ) کے نام پر ”جامع احمد قادروف” رکھا گیا ہے، تاہم اسے ”قلبِ شیشان” بھی کہا جارہا ہے۔ اکتوبر٢٠٠٨ء میں مکمل ہونے والی یہ مسجد استنبول کی مسجدِ سلیمان (تکمیل: ١٥٥٨ئ) کا عکس ہے، اس میں ١٠ ہزار نمازی باآسانی سما سکتے ہیں۔ مسجد کی بیرونی اور اندرونی دیواریں کمیاب سنگِ مرمر سے مزین ہیں۔ مسجد میں آویزاں کتبے ترکی کے معروف خطاطوں کے قلمِ معجز رقم کا شاہکار ہیں، ان کتبوں کے لیے قدرتی اور مصنوعی رنگ استعمال کیے گئے ہیں جو کم از کم نصف صدی تک برقرار رہ سکیں گے، اس کے علاوہ قرآنی آیات کے لیے اعلیٰ قسم کا سونا استعمال کیا گیا ہے۔ مسجد کی محراب٨ میٹر اونچے اور٦.٤میٹر چوڑی ہے، جس کی تعمیر میں سفید سنگِ مرمر استعمال کیاگیا ہے۔ مسجد کے مرکزی گنبد کے اندرونی حصے میں آیاتِ قرآنی نقش ہیں جبکہ اس کے اردگرد اسمائے حسنیٰ درج ہیں۔ مسجد کی تزئین میں استعمال ہونے والی اشیا میں سب سے جاذبِ نظر وہ فانوس ہیں جو اعلیٰ ترین بلور (کرسٹل) سے بنائے گئے ہیں، یہ فانوس دنیا کی معروف مساجد (مسجد ِحرام، مسجد ِ بنویۖ، مسجد ِ اقصیٰ) کی شبیہ اور شیشانی طرزِ تعمیر کا نمونہ ہیں۔ مسجد کے مینار ٦٢ میٹر بلند ہیں۔
 
مسجد کا کل رقبہ ١٣٥ایکڑ ہے، جس میں مسلمانوں کی ”روحانی کونسل” کے دفاتر، اسلامی یونیورسٹی، لائبریری اور مہمان خانے کی عمارات واقع ہیں۔ جبکہ باغات، روشیں اور فوارے اس کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔
 
مسجد بنانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ احمد قادروف کا خواب تھا جو انہوں نے اس وقت دیکھا تھا جب وہ ٨٠ کی دھائی میں استنبول میں زیرِ تعلیم تھے اور اس دوران ترکی میں فن تعمیر کا شاہکار ”مسجدِ سلیمان” کی پر شکوہ عمارت سے بیحد متاثر ہوئے تھے، اور انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ شیشان میں ایسی ہی مسجد تعمیر کریں گے، مگر وہ اپنی زندگی میں اس خواب کی تعبیر نہ پاسکے، اس کی تکمیل اْن کے بیٹے رمضان احمد قادروف نے کی۔
 
”جامع مسجد قادروف” کی تعمیر و آرائش کا حال پڑھ کر یقینا دل کو طمانیت ہوئی ہوگی تاہم اگر تھوڑا سا غور سابق احمد قادروف اور اْن کے صاحبزادے رمضان احمد قادروف کے کردار اور مسجد کے افتتاح کے موقع پر موجود روسی وزیرِ اعظم ولادیمیر پوتین کی شیشان پالیسی پر کیا جائے تو شاید فوراً بات سمجھ میں آجائے۔
 
پوتین سابقہ سوشلسٹ روس کے خفیہ ادارے KGB کے سابق سربراہ، موجودہ روسی فیڈریشن کے پہلے صدر بورس یلسن ( پیدائش : یکم فروری ١٩٣١ئ- وفات : ٢٣ اپریل  ٢٠٠٧ئ) کے اچانک مستعفی ہونے پر قائم مقام صدر، بعد ازاں مسلسل دوبار باضابطہ صدر اوراب بحیثیت وزیراعظم فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کے کارناموں میں سب سے نمایاں کارنامہ قفقاز کی تحریک مزاحمت کا خاتمہ ہے۔ جس کے لیے انہوں حیلے اور ہتھیار سمیت ہر حربہ استعمال کیا اور حالات معمول پر آنے کے بعد احمد عبدالحامد قادروف کو ”جمہوریہ شیشان” کا صدر نامزد کیا۔
 
احمد عبدالحامد قادروف پہلی جنگِ شیشان کے دوران شیشان کے مفتی اعظم کے فرائض انجام دے رہے تھے تاہم دوسری جنگ شیشان میں انہوں نے اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوکر روسی سایہ عاطفت میں ملازمت اختیار کرنے کو ترجیح دی، اور اس دوران اپنی سابقہ پوزیشن کا جو اثر رہا ہوگا، اسے مجاہدین کے خلاف استعمال کرتے رہے نتیجتاً جنگ کے شعلے سرد پڑنے پر انھیں اِن کی شاندار خدمات کے صلے میں ٥ اکتوبر ٢٠٠٣ء کو ”جمہوریہ شیشان” کا صدر بنا دیا گیا، مگر ماسکو کے ارمانوں پر اْس وقت اْوس پڑ گئی جب احمد قادروف صدربنائے جانے کے چند ماہ بعد ہی ٩مئی ٢٠٠٤ء کو اْس وقت مجاہدین کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے جب وہ گروزنی میں دوسری جنگِ عظیم (١٩٣٩ئ- ١٩٤٥ء ) کی فتح کی یاد میں منعقدہ ”وکٹری پریڈ” میں شریک تھے۔ احمد قادروف کے مارے جانے کے تھوڑے عرصہ بعد ہی اْن کے بیٹے رمضان احمد قادروف (پیدائش: ٥ اکتوبر ١٩٧٦ء ) کو شیشان کا صدر بنادیا گیا۔
 
رمضان قادروف روسی فیڈریشن میں شامل ریاستوں کے سربراہان میں سب سے کم عمر صدر ہیں، پہلی جنگِ شیشان میں رمضان قادروف ماسکو کے ”باغی” تھے، مگر ”مچھلی کے جائے کو تیرنا کون سکھائے ” کے مصداق رمضان قادروف نے ”بغاوت سے اطاعت” تک کا سفر اتنی سرعت سے طے کیا کہ خود ماسکو بھی حیران رہ گیا اور اْن کے نظریات میں اس جوہری تبدیلی پر ولادی میر پوتین نے انہیں روس کے اعلیٰ ترین اعزاز ”بطلِ روس” (Hero of Russia) سے نوازا اور پھر مارچ ٢٠٠٧ء میں انہیں اہلِ شیشان پر بطورِ صدر مسلط کردیا گیا۔
 
مسجد کی سیاست کا آغاز منافقین مدینہ کی ”مسجد ِضرار” سے ہوا اور جو آسمانی فیصلے (التوبہ:١١٠-١٢٠) کے نتیجے میں مسجد کے انہدام کے ساتھ ہی تمام ہوگئی، اور کم وبیش ساڑھے تیرہ سو سال بعد اس منافقانہ نفسیات نے اولاً فرانس میں ظہور کیا اور ثانیاً روس میں اِس کے مظاہر سامنے آئے۔ مگر شایداللہ کو کچھ اور منظور تھا،اسی لیے ان مساجدکے قیام سے مسلمان، یورپ کی ”مسلم دوستی ” کے فریب میں تو نہیں آئے البتہ ان مساجد میں پانچ وقت اللہ کی کبریائی ضرور بیان کی جانے لگی اور اللہ اسی طرح شر سے خیر برآمد کرتا ہے۔
 
حواشی
(١) ایشیا ئے کوچک (اناطولیہ) میں ترکمان عثمان کی حکومت کا باقاعدہ آغاز عثمان خان (پیدائش: ١٢٥٨ئ۔وفات:١٣٢٤ئ)کے عہد سے ہوا،عثمانیوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ایشیا اور یورپ میں قدم جمانا شروع کردیے۔١٥١٨ء میں سلطان سلیم اوّل (پیدائش : ١٤٦٥ء ۔وفات : ١٥٢٠ء ) کے ہاتھوں مصر کی فتح پر عباسی خلیفہ متوکل سوم ( مدت خلافت : ١٥١٤ء تا ١٥١٨ئ) ، سلطان سلیم کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگیا اور یوں آلِ عثمان کی خلافت کا آغاز ہواجو ٤٠٠ سال تک برقرار رہنے کے بعد ٣ مارچ ١٩٢٤ء کو سلطان عبدالمجید خان ثانی (مدت خلافت :١٩٢٢ء تا١٩٢٤ء ) کی معزولی کے ساتھ ہی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔
 
(٢) شریف حسین نے عثمانی سلطنت سے بغاوت کے بعد ٢٩ اکتوبر ١٩١٦ء کو حجاز میں اپنی ”بادشاہت” کا اعلان کیا،بعدازاں ٣مارچ ١٩٢٤ء کو خلافت کے خاتمے پر اس نے١٢مارچ١٩٢٤ء کو اپنی ” خلافت ”کا اعلان کردیا،مگراْردن وعراق(جہاں اْس کے بیٹے حکمران تھے) کے سوا کسی نے بھی اْس کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا۔دوسری طرف عبدالعزیز ابن سعود (جنوری ١٨٧٦ء ۔نومبر١٩٥٣ئ)کی پیش قدمی نے شریف حسین کو اہل ِ خانہ سمیت سرزمین حجازچھوڑنے پر مجبور کردیا،اس کا انتقال ٦ جون ١٩٣١ء کو اردن میں ہوا۔ اس کا سلسلہ نسب ٣٧ویں پشت میں حضرت علی سے جاملتا ہے۔”شریف”اس کے نام کا حصہ نہیں تھا بلکہ خاندانِ رسالت سے تعلق کی وجہ سے عربوں میں سادات کو”شریف”کہا جاتا ہے۔
 
(٣) مصطفی کمال پاشا اتاترک یونان کے شہر سالونیکا میں پیدا ہوا۔ابتدائی تعلیم کے بعد فوجی اسکول میں داخلہ لیا اور تکمیل تعلیم کے بعد فوج میں منصب سنبھالا۔ مصطفی کمال نے ١٩٠٦ء میں ”وطن وحریت” کے نام سے ایک خفیہ تنظیم کی بنیاد رکھی،جسے بعد ازاں تنظیم ”اتحاد و ترقی” میں ضم کر دیا۔ جنگِ عظیم اول کے دوران میں انہوں نے گیلی پولی کے معرکے میں برطانیہ اور فرانس کی متحدہ قوت کو پسپا کر کے بین الاقوامی شہرت حاصل کی،”خلافت عثمانیہ ”کا خاتمہ، ”جمہوریہ ترکیہ” کا قیام اور ”پر تشدد سیکولرازم کا فروغ ” اْن کے نمایاں ”کارناموں” میں شامل ہیں۔
 
(٤) یورپ میں ہن سلطنت کا بانی،جسے تاریخ میں ”قہر الٰہی” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس نے مشرقی و مغربی رومی حکومتوں سمیت یورپ کے ایک بڑے حصہ کو روند ڈالا تھا۔
 
(٥) منگول حکمران چنگیز خان کا پوتا اور’ ‘ایل خانی” حکومت کا بانی، اسماعیلیوں کے مرکز ”قلعہ الموت” کی تباہی کے بعد اس نے ١٢٥٨ء میں ابنِ علقمی کے اْکسانے پر بغداد کا رْخ کیا اور اْسے کھنڈرمیں بدل دیا اور عباسی خلیفہ مستعصم باللہ (١٢١٣ئ- ١٢٥٨ئ) سمیت ہزار ہا افراد کو تہہ تیغ کردیا۔
 
(٦) دیگر شہروں میں صنعاء (یمن) ، ارابیل (کردستان، عراق) ، پرش پورہ ، پشاور اور سیالکوٹ (موجودہ پاکستان) شامل ہیں۔
 
(٧) ”المغرب”جغرافیائی اصطلاح ہے جسے عرب عہدِ قدیم سے استعمال کرتے آئے ہیں۔”المغرب” کا اطلاق الجزائر، تیونس،مراکش،لیبیا،پرتگال اور اسپین کی سر زمین پر ہوتا ہے۔
 
(٨) ” گسٹون دومرگ ” کٹّر نظریات رکھنے والے پروٹسٹنٹ عیسائی تھے ، جن کا شمار فرانس کے منجھے ہوئے سیاستدانوں میں ہوتا تھا،گسٹون دومرگ دو مرتبہ فرانس کے وزیر اعظم اور ایک مرتبہ فرانس کے عہدہ صدارت پر متمکن رہے۔
 
(٩) شیخ احمد بن مصطفی العلاوی کا تعلق سوڈان سے تھا اور وہ ماڈرن صوفی ازم کے علمبردار اور تصوف میں سلسلہ ”ضرقوّ یہ” کے بانی تھے۔
 
(١٠) پہلی امامت کے لیے ”ماڈرن صوفی ”کا انتخاب بھی بڑا معنی خیز ہے،یہی ذہنیت آج امریکی استعمار کے ان اقدام میں پنہاں ہے جو وہ”صوفی ازم”کے فروغ کے لیے کر رہا ہے۔
 
(١١) قفقاز وہی علاقہ ہے جسے بچوں کی کہانیوں میں ”کوہ قاف” کہا جاتا ہے۔یہ ایک جغرافیائی اصطلاح ہے، جو بحیرہ خزر سے بحیرہ اسودکے درمیان واقع سرزمین کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔یہ علاقہ جنوبی (ایشیا) اور شمالی(یورپ) قفقاز میں تقسیم ہے۔
 
(١٢) ”زار” دراصل سیزر(cesar)کا روسی تلفظ ہے جو عربی میں”قیصر” ہوگیا ہے،روس کے مطلق العنان بادشاہ جو آرتھوڈکس فرقے کے مذہبی رہنما بھی تھے ”زار”کہلاتے تھے،زاروں کی بادشاہت١٩١٧ء میں کمیونسٹ انقلاب کے نتیجے میں ختم ہوئی۔
 
(١٣) ”روسی فیڈریشن ” سابقہ USSRکی ریاستوں کا مجموعہ ہے ، جو ١٩٩١ء میں سوشلسٹ روس انہدام کے بعد وجود میں آئی۔
 
(١٤) امام منصور قفقاز کے اولین مزاحمت کرنے والوں کے سالاراعلیٰ تھے۔
 
(١٥) امام شامل شمالی قفقاز کے مسلمانوں کے عظیم رہنما تھے، جن کی قیادت میں زارانِ روس کے خلاف بے مثل معرکے لڑے گئے،گوریلا جنگ کی جدیدتاریخ میں امام شامل کو نمایاں مقام حاصل ہے۔فرانسیسی مصنفہ ”لیز لی بلانش” کی کتاب ”شمشیرِ فردوس” میں آپ کی گوریلا حکمتِ عملی کازبردست تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب دنیا کی بہت سے ملٹری اکیڈمیز کے لازمی نصاب کا حصہ ہے، آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا اور جنت البقیع میں تدفین عمل میں آئی۔
 
(١٦) جوہر دادیوف کو روسی فوج میں کلیدی عہدہ حاصل تھا تاہم انہوں نے روسی فوج میں اپنے روشن مستقبل پر قومی آزادی کو ترجیح دیتے ہوئے ”جمہوریہ شیشان” کی آزادی کا اعلان کردیا۔آپ نے پہلی جنگِ شیشان میں روس کی افواج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔انہیں روس نے امریکی معاونت سے ١٩٩٦ء میں ایک میزائل حملے میں شہید کردیا۔
 
(١٧) زیلم خان یندربائیوف،آزادجمہوریہ شیشان کے دوسرے سربراہ تھے۔آپ نے اپنے پیشرو صدر جعفر دادیوف کی طرح روسی افواج کے خلاف جہادی سرگرمیاں جاری رکھیں ۔ آپ کو ١٣فروری٢٠٠٤ء کو روسی خفیہ ادارے نے قطر میں ایک بم دھماکے میں شہید کیا۔
 
(١٨) اسلان مسخادوف،زیلم خان کی شہادت کے بعد جمہوریہ شیشان کے تیسرے صدر تھے۔آپ نے بھی روس کے خلاف زبردست مزاحمت جاری رکھی اور اس راہ میں مرتبہ شہادت حاصل کیا۔
 
(١٩) شامل بسایوف نے پہلی اور دوسری جنگ ِ شیشان میں روسی افواج کے خلاف زبردست دادِ شجاعت دی۔ آپ ١٠ جولائی ٢٠٠٦ء کو انگشتیا کے ایک گاؤں میں روسی فوجیوں سے ہونے والی جھڑپ میں شہید ہوئے۔
 
(٢٠) سینٹ پیٹرز برگ میں پیدا ہونے والے ولادی میر پوتین سابق سوشلسٹ روس کے خفیہ ادارے KGB کے سابق سربراہ ہیں۔انہیں دسمبر١٩٩٩ء میں صدر بورس یلسن کے اچانک مستعفی ہونے پر روس کا قائم مقام صدر نامزد کیا گیا،بعدازاں ٢٠٠٠ء اور ٢٠٠٤ء میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں مسلسل دوبار روسی فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے اور وزیر اعظم منتخب ہوئے۔آج کل روسی فیڈریشن کے صدر، یونائیٹڈ رشیا اور کونسل آف منسٹرز کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
 
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، شعبان معظم 1433ھ/ جون، جولائی 2012- سے ماخوذ ہے۔

تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش


الواقعۃ شمارہ ٣ 

محمد عالمگیر 

مترجم : ابو عمار محمد سلیم

شیخ عیسیٰ نورالدین اور حلول کا تصور 

 فرتھیوف شوؤن ( Frithjof Schuon ) عرف شیخ  عیسیٰ نورالدین (١٩٩٨- ١٩٠٧)۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے worldwisdom.com۔  ان کی زندگی کی تفصیل اور اسلامی نقطہ نظر سے گمراہ کن خیالات کو ان صفحات میں ظاہر کرنا ممکن نہیں ۔ یہ موجودہ دور کے ایک صوفی اور صاحب قلم حضرت تھے۔انہوں نے اپنا پورا زور اس نظریہ کی اشاعت پر صرف کیا کہ تمام مذاہب کی ایک ماورائی وحدت ہے۔

ان کے مطابق مذاہب کے درمیان جو اختلافات ہیں وہ در اصل پردے ہیں۔ اگر ان پردوں کو اٹھا دیا جائے تو تمام مذاہب ایک ہو جاتے ہیں۔ اس خیال کا پرچار کرتے ہوئے وہ ایک قدم اور آگے بڑھے اور یہ بیباکانہ بیان دیا کہ خدا انسان بن گیا تاکہ انسان خدا بن جائے (استغفراللہ)۔ یہ سچ ہے کہ معاشرتی اور تہذیبی اقدار کے حوالے سے تمام مذاہب میں بڑی یکسانیت پائی جاتی ہے، اور صرف چھوٹے ذہن کے لوگ ہی اس بات پر کہ کھانے پینے کے آداب،  کپڑے پہننے کے اطوار، عبادات کے طریقے، مذہبی رسوم اور اس طرح کی چیزوں پر آپس میں جھگڑتے ہیں۔ یہ اختلافات بذات خود بڑا فساد نہیں ہیں اس لیے معاشرے میں عموماًان پر آپس میں سمجھوتا ہو جاتا ہے ، اور ان کو قبول کرلیا جاتا ہے۔  حلانکہ یہ اختلافات بھی ان کے مذاہب کے اعتقادات سے ہی پیدا ہوئے ہیں اور ان تمام مذاہب کی بنیادی تعلیم کے ضمن میں یہ اختلافات حقیقی ہیں، ناقابل مصالحت ہیں اور ان پر سمجھوتا نہیں ہو سکتا ہے۔
 
مغرب کے وہ صوفی جو دوسرے مذاہب سے اچھی چیزیں ڈھونڈھ کر اسلام میں داخل کرنا چاہتے ہیں انہوں نے ایک نیا نظریہ قائم کیا ہے کہ خدا ئی منصوبہ کے تحت دنیا مختلف علاقوں میں تقسیم کی ہوئی ہے اور ان علاقوں میں سے ہرعلاقہ میں ایک خاص مذہب کوپھلنے پھولنے کی آزادی ہے۔ ان کی ایک منطق یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو جب ان علاقوں پر دوسرے مذاہب کے لوگ حملہ آور ہوئے پھر بھی ان علاقوں میں ان کا اپنا  مذہب اسی طرح صدیوں سے قائم و دائم چلا آرہا ہے۔یہ نظریہ اسلام کے مرکزی تعلیم سے متحارب ہے، جس کا کہنا ہے کہ انسان نے جب اللہ کے احکامات سے رو گردانی کی اور خاص طور سے توحید کے خلاف ہوئے تو اللہ نے اپنے پیغمبر بھیجے اور ہدایات نازل کیں تاکہ انسان اللہ کو اس طرح سمجھ سکے جس طرح اسے سمجھنا چاہئے۔  خدا کا انسان بن جانا ایک عیسا ئی نظریہ ہے جو ان کے نظریہ تجسیم کی پیداوار ہے ۔ اسی طرح انسان کا خدا بن جانا  ہندووںکے فلسفہِ نروان کا داعی ہے جس کے تحت انسان اللہ سے مل جاتا ہے اور آواگون کے دائمی چکر سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔
 

 شیخ عبدالواحد یحیٰ کا پیدائش اور موت کے چکر کا فلسفہ  

اوپر درج شدہ سلسلہ فلسفہ کی ایک اور شخصیت رِنے گِنوں ( Rene Guenon ) جو ١٨٨٦ء میں پیدا ہوئے اور ١٩١١ ء میں  شیخ عبدالواحد یحیٰ کے نام سے جانے گئے۔  انہوں نے ١٧ کتابیں لکھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی کتاب Introduction to the Study of Hindu Doctrines  ١٩٢١ء میں شائع ہوئی۔ یعنی ان کے اسلام قبول کرنے اور شیخ کے عہدے پر فائض ہونے کے دس سال بعد۔ اور اس سے اگلے چھ سال کے بعد ١٩٢٧ء  میں ان کی ایک اور زبردست کتاب منظر عام پر آئی جس کا نام تھا Man and His Becoming According to Vedanta  ۔ اس سے بھی زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ  ٩٢٩ ١ء میں اپنے کچھ ہمرازوں اور ساتھیوں کے اصرار پر انہوں نے فرانس میں ایک روایتی انداز کاMasonic Lodge کی بنیاد ڈالنے کے لیے رضامندی کا اظہار کر دیا ، جس کا نام ان کی ایک کتاب La Grande Triade   یعنی تین کا جوڑا کے نام پر رکھا گیا۔ اس لاج کے اولین بانی اس سے کچھ عرصہ بعد الگ ہو گئے، مگر یہ لاج آج بھی زندہ ہے اور Grande Lodge de France کا حصہ ہے۔  اس کے بعد انہوں نے ایک کتاب لکھی  Symbolism of the Cross   جو ١٩٣١ء میں منظر عام پر آئی اور یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ ١٩٤٥ء میں انہوں نےThe Reign of Quantity and the Signs of the Times لکھی۔ وہ ١٩٥١ء میں فوت ہوئے۔ ( ماخوذ از وکی پیڈیا) 
انہوں نے اپنی کتاب The Reign of Quantity and the Signs of the Times   میں لکھا :
 ”درحقیقت دنیا کا آخری وقت بار بار آسکتا ہے۔ اس لیے کہ مختلف دوران کے کئی چکر ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے اندر چکراتے رہتے ہیں۔ اس لیے بھی کہ یہ تخمینہ مشابہت رکھنے والے دوسرے ادوار میں ہر درجہ پر لاگو ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہر مرتبہ آخر کی اہمیت ایک جیسی نہیں ہے، بلکہ جس دور کے آخر کی بات ہو رہی ہے وہ بہت اہم ہے اس لیے کہ یہ آخر پورے مَنوَنْتَر یا انسانیت کے وجود سے متعلق ہے۔ مگر پھر بھی یہ بات زور دے کر کہی جاسکتی ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ آخر پوری کائنات کا اختتام ہے بلکہ دائمی بحا لی کے نظام کے تحت اس آخر کے بعد فوری طور پر ایک نئے منو نتر کی ابتدا ہوگی ۔”
وہ آگے چل کر لکھتے ہیں:
” اس موضوع پر ابھی ایک اور نکتہ کی وضاحت باقی ہے۔ مسلسل ترقی کے داعی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ سنہرا دور ماضی میں نہیں بلکہ مستقبل میں ہے۔  حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک ہمارے اپنے منونتر کا تعلق ہے ،  یہ دور ماضی میں تھا۔ اس لیے کہ یہ اولین دور سے متعلق ہے۔  ایک احساس یہ بھی ہے کہ یہ ماضی میں بھی ہے اور مستقبل میں بھی، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری نظر نہ صرف  موجودہ منونتر پر رہے، بلکہ کائناتی نظام کے چکر کا تواتر پر  بھی ہماری نظر رہے ۔ اس لیے کہ جب مستقبل کی بات ہوگی تو وہ سنہرا دور ایک اگلے منونتر ہی میں ممکن ہے۔

  مَنْوَنْتَر 

اوپر درج کیے گئے اقتباس کو سمجھنے کے لیے منونتر کے مطلب کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ پورانوں یعنی ہندئووں کی مذہبی کتابوں سے اخذ کیا ہوا ایک دیو مالائی تصور ہے۔ وکی پیڈیا اس کے متعلق یہ کہتا ہے: 
 
منونتر یا منو و نتر یا منو کا دور۔ منو ہندئوں کے یہاں نسل انسانی کا بانی ہے۔ منونتر آفاقی وقت کی پیمائش کا ایک پیمانہ ہے۔ منونتردراصل منو اور انتر یعنی دور کا امتزاج ہے جس کا مطلب بنتا ہے منو کا دور یا اس کی زندگی کا دور ۔
  ہر منونتر ایک خاص منو کی تخلیق ہے اور اس کی حکومت کے زیر اثر ہے۔ اس منو کی تخلیق برہما نے کی ہے جو کہ خالق ہے۔ منو دنیا اور اس کی تمام چیزوں کی تخلیق اپنے دور میں خود کرتا ہے، جو اس کی زندگی تک قائم رہتا ہے۔ اس منو کی موت پر برہما ایک اور منو کی تخلیق کرتا ہے تاکہ یہ چکر جو سرشٹی کا چکر کہلاتا ہے چلتا رہے۔ اسی طرح وشنو بھی ایک نئے اوتار کو جنم دیتا ہے اور ایک نیا اِندر اور سات رِشیوں کا تقرر کرتا ہے ۔
ہندئووں کے وقت کے حساب سے ہر ١٤ منو اور ان کے منونتر مل کر ایک کلپا بنتا ہے جس کو جُگ بھی کہتے ہیں، جو  برہما کا دن ہوتاہے۔ ہر کلپا کے خاتمہ پر تمام چیزیں فنا ہوجاتی ہیں اور دنیا بھی ختم ہو جاتی ہے، اور آرام کے دور میں چلی جاتی ہے جسے برہما کی رات کہتے ہیں۔
اس عمل کے بعد برہما تخلیق کا عمل دوبارہ شروع کرتا ہے۔ اور یہ کبھی ختم نہ ہونے والا چکر چلتا رہتا ہے۔ تخلیق کے ہر عمل کے بعد تباہی کا عمل شروع ہوتاہے۔ ان دونوں کاموں کی ذمہ داری ہندئوں کے دیوتا شیو پر ہوتی ہے۔ 
 سُوِیتا وَراہا کلپا (موجودہ کلپا ) کے ١٤ منو  
 پہلا منونتر :  سو یمبھو منو کا دور   دوسرا منونتر:  سو روچش منو کا دور تیسرا منونتر:  اُتم منو کا دور چوتھا منونتر:  تمش منو کا دور پانچواں منونتر:  رَیوت منو کا دورچھٹا منونتر:  چَکشُش منو کا دور ساتواں (موجودہ) منونتر:  ویوسو تھ منو کا دورآٹھواں (اگلا) منونتر:  ساورنی منو کا دورنواں منونتر:  دکشا ساورنی منو کا دور دسواں منونتر:  برہما ساورنی منو کا دور گیارہواں منونتر:  رُدْرا ساورنی منو کا دوربارہواں منونتر:  دھرما ساورنی منو کا دورتیرہواں منونتر:  رَوکیا یا دیو ساورنی منو کا دورچودھواں منونتر:  بَھوتا یا اِندرا ساورنی منو کا دور (ختم  اقتباس وکی پیڈیا )
یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ ہر منونتر کا دورانیہ ٠٠٠،٧٢٠،٣٠٦ برس کا ہوتاہے جو کہ ٧١ چترُجگ پر مشتمل ہے ۔ ہر  چترُجگ کا دورانیہ ٤٣٢٠٠٠٠ سال کا ہے اور ایک چترُجگ میں ٤ جُگ ہوتے ہیں، جن میں  ١٧٢٨٠٠٠ برس ستیہ جگ کا ، ١٢٩٦٠٠٠ تریتا جگ کا ،  ٨٦٤٠٠٠ برس دواپر جگ کا اور ٤٣٢٠٠٠ برس کالی جگ کا ہوتا ہے۔
مختصراً یہ کہ تخلیق ، خاتمہ اور تخلیقِ نو کا یہ لامتناہی چکر  اسی طرح ایک کلپا سے دوسرے کلپا تک جس کے اندر ایک منونتر سے دوسرے منونتر تک اور اس کے اندر چترُجگ سے چترُجگ تک اور اس کے اندر جگ سے جگ تک چکر در چکر مسلسل اور لگاتار چلتا رہتا ہے۔ گو کہ شیخ عبدالواحد نے اس چکر در چکر سلسلہ کو اپنی تحریر میں وضاحت سے ظاہر نہیں کیا ہے، مگر ما قبل میں دیے گئے ان کے اقتباس کودوبارہ پڑھیں جس میں ہم نے قوسین کے اندر اندراجات کا اضافہ کردیا ہے تاکہ بات آسانی سے سمجھ میں آجائے کہ شیخ صاحب کے ذہن میں کیا ہے :
درحقیقت دنیا کا آخری وقت (یعنی قیامت) کئی مرتبہ آسکتا ہے ( جو کہ کسی خاص مانو کے دور پر منطبق ہو) ۔  اس لیے کہ مختلف دوران کے کئی چکر ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے اندر چکراتے رہتے ہیں ( یعنی کلپائوں کے اندر  منونتر، منونتروں کے اندرچترجگ، اور چترجگوں کے اندر٤ جگ)۔اس لیے بھی کہ یہ تخمینہ مشابہت رکھنے والے دوسرے ادوار میں ہر درجہ پر لاگو ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہر مرتبہ آخر کی اہمیت ایک جیسی نہیں ہے، بلکہ جس دور سے وہ متعلق ہو اس پر منحصر ہے (اس لیے کہ ایک کلپا سے دوسرے کلپا تک کی تبدیلی بہت بڑی تبدیلی ہے بمقابلہ منونتر ، چترجگ اورجگ کی تبدیلیوں کے) ، آج کل جس دور کے آخر کی بات ہو رہی ہے وہ بہت اہم ہے اس لیے کہ یہ آخر پورے منو نتر یا انسانیت کے وجود سے متعلق ہے ( شائد اس لیے کہ یہ ساتویں منونترکا اکہترویں چترجگ کا چوتھا جگ ہے) ۔ گویا کہ اسے انسانیت کے زمانی وجود کا دوربھی کہہ سکتے ہیں ( جو ابھی اکہترویں چترجگ کے کالی جگ کا حصہ ہے) ۔ مگر پھر بھی یہ بات زور دے کر کہی جاسکتی ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ آخر پوری کائنات کا اختتام ہے بلکہ دائمی بحالی کا جو اثر ہے وہ فوری طور پر اس آخر سے ایک نئے  منو نتر کے آ غاز ( سوارنی منو کے دور کا آغاز ہوگا جو کہ جاری  وراہا کلپا کا آٹھواں حصہ ہے) کو بحال کرے گا جو ایک دوسرے منو نتر کے دور کا ابتدا بن جائے گا۔
 وہ آگے چل کر لکھتے ہیں:
 ”ابھی ایک اور نکتہ کی وضاحت باقی ہے۔ ترقی کے داعی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ سنہرا  دور ماضی میں نہیں تھا بلکہ مستقبل میں ہے ( یہاں مصنف ترقی کے داعیوں کو قصور وار ٹھہرا رہے ہیں کہ وہ اس قول پر تکیہ کیے ہوئے ہیں کہ ” جیت سچ کی ہوگی” جو یہ اشارہ دے رہا ہے کہ آخر میں آکر سچ ہی جیتے گا)۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک ہمارے اپنے منو نتر کا تعلق ہے ، ( اس کا سنہری دور) ماضی میں تھا۔ ( ایک خیالی تصور جس کی رو سے روحانی یا اخلاقی ترقی بے معنی ہو جاتی ہے ) اس لیے کہ یہ اولین دور سے متعلق ہے۔ ( ان کا اشارہ ستیہ جگ یا سچائی کے دور سے ہے جو موجودہ چتر جگ کا حصہ ہے)۔ ایک احساس یہ بھی ہے کہ یہ ماضی میں بھی ہے ( یعنی پچھلے چتر جگ کے ستیہ جگ میں جو ساتویں منونتر کا حصہ تھا) اور مستقبل میں بھی ( یعنی اس ستیہ جگ میں جو آٹھویں منونتر کا پہلا چترجگ میں ہوگا)۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ نظریں صرف اس موجودہ منوونتر پر نہ رہے ( اس حالت کے قابل قبول ہونے کے لیے یہ قبول کرنا ضروری ہے کہ اس چکر در چکر منونتر اور چترجگ کا کوئی خاتمہ نہیں ہے) بلکہ اس کو تمام کائناتی نظام کے چکر یا دور تک بھی لے جایا جا ئے اس لیے کہ جب مستقبل کی بات ہوگی تو وہ سنہرا دور شائد ایک اگلے منونتر کے دور کے بارے میں بھی ہو سکتا ہے ( یعنی ستیہ جگ جو آٹھویں منونتر کے پہلے چتر جگ میں وقوع پذیر ہوگا)۔ 
اس تمام بحث کو ہم مابعداطبیعیات میں ماورائی نظریہ کے بچائو کی مجبوری سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں، جو ایک مہمل اور لا یعنی بات ہے اور جو موجودہ دور میں سنہرے دور کی موجودگی کے رد کرنے پر مصرہے ۔ اس میں لفظ ” شائد” کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ علم الیقین کا فقدان ہے اور اشارہ دیتا ہے کہ یہ ما بعدالطبیعیات کا ایک کھیل ہے۔ 
 
جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، اسلام کے فلسفہ کے تحت زندگی کی روانی ایک سیدھے خط کے مطابق ہے نہ کہ کسی گول چکر کے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان اور کائنات کی ایک آخری حد مقرر کر رکھی ہے اور ہر چیز اپنے آخر کی طرف رواں دواں ہے۔ جبکہ ہندئوں کا چکر نا ختم ہونے والی تخلیق ، تباہی اور پھر تخلیقِ نو کا پرچار کرتی ہے۔ ان کے عقیدہ کے مطابق نہ کوئی پہلا کلپہ تھا ، اور نہ کوئی آخری کلپہ ہوگا۔ لہٰذا خالق اور مخلوق کے ہمیشہ قائم رہنے کا یہ نظریہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ بڑی آسانی سے اللہ اور اس کی تخلیق کے ایک (یعنی واحد وجود)  ہونے کو قبول کر رہا ہے، جہاں تخلیق صرف فریبِ نظر یعنی مایا بن کر رہ جاتی ہے۔ ( وحدت الوجود بھی اسی نظریہ کا ایک بدل ہے)۔ اور حقیقت یا سچائی کو لِیلا یعنی برہما کے دل بستگی کے کھیل سے مشابہت دی گئی ہے۔ جبکہ قرآن کریم کا فرمان ہے:( وما خلقنا السمٰوات والارض و ما بینھما لاعبین )سورة دخان ( ٣٨ : ٤٤)، یعنی ”ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے کھیل کے لیے نہیں بنایا ہے۔” تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک صوفی شیخ ( یعنی شیخ عبدالواحد) کو اس فرمان قرانی کا علم نہیں تھا؟۔

موت کے بعد کوئی موت نہیں

اسلام میں صاف صاف الفاظ میں تخلیق کا عمل لا شئی سے بتا یا گیا ہے۔ البدیع جو اللہ سبحانہ’ و تعالیٰ کے صفاتی ناموں سے ایک نام ہے، اس بات کی گواہی دیتا ہے۔ انسان بلا شک و شبہ موت کا ذائقہ چکھے گا مگر صرف ایک بار۔ اس کے بعد اس کو ایک دوسری دنیا میں اٹھا یا جائے گا۔ ( وہ دنیا اس دنیا جیسی نہیں ہوگی کہ جس کو دوبارہ تخلیق کیا گیا ہو) اور اس میں اس کو دوبارہ موت نہیں آئے گی۔ قرآن مجید نے کہا کہ:
( لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى ۚ  ) سورة دخان ( ٥٦ : ٤٤)
یعنی پہلی موت کے علاوہ اور کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھے گا۔ 
ایک دوسری جگہ قرآن ان لوگوں کی فرحت کا ذکر کرتا ہے جو جہنم سے بچا لیے گئے اور جنت میں داخل کیے گئے:
( وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّيْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ ٥٧  ۔ اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ  اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَ ۙ  ٥٨۔ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ ٥٩۔ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ٦٠۔ لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ ٦١۔)  سورة صافات ( ٦١- ٥٧ : ٣٧)
(پھر وہ خوشی کے عالم میں اپنے ساتھیوں سے کہے گا) اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی دوزخ میں حاضر کیے جانے والوں میں ہوتا۔ اچھا تو کیا اب ہمیں موت نہیں آئے گی؟ سوائے اس موت کے جو ہمیں پہلے آچکی؟  اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ زبردست کامیابی یہی ہے۔ اس جیسی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے۔ 
اور جو دوزخ میں داخل ہو گا اس کے لیے کہا کہ:

 لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي  )

 یعنی وہ اس میں نہ مریگا، نہ زندہ رہے گا ۔ سورة طٰہٰ(٧٤ : ٢٠) اور سورة اعلیٰ ( ١٣ : ٨٧)،

جس کا مطلب ہے کہ دوزخی بھی دوسروں کی طرح موت کا مزہ نہیں چکھے گا ، اور اس کی زندگی موت سے بھی بد تر ہو گی۔
 
اب یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن حکیم کا یہ سیدھا سادہ صاف ستھرا بیان ایک ایسے شخص کی نظروں سے نہ گزرا جو مسلمان بھی تھا ، صوفی بھی اور شیخ بھی ؟
 
 اسلام تاریخ کی حد بندی کا نظریہ نہیں دیتا ۔ اس لیے سنہری دور کے لیے کسی خاص دور کے شروع سے متعلق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ’ کی ہدایت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا،  جبکہ وہ ابھی جنت میں ہی تھے۔ تمام بنی آدم کے اقوام اور قبیلوں کو یہ آزادی حاصل رہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان ہدایات پر عمل پیرا ہو کر اپنے دور کو سنہرا بنا لیں۔ انسان نے جب کبھی شیطان مردود کی اتباع کی (جنت میں بھی) تو اس کی قسمت میں تباہی لکھ دی گئی۔ اس لیے پوری انسانی تاریخ  وقتاً فوقتاً اپنے عمل کے زیر اثر یا تو اپنے بہترین سنہرے دور سے گزری یا پھر انتہائی برے دور سے۔
 
اس سلسلہ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ خیالی سنہری دور جس کا اوپر تذکرہ ہواہے کسی ایسے دور میں وقوع پذیر ہوا جس میں سے کوئی خوش قسمت انسان گزرا ہوگا۔ یہ ممکن ہے کہ ایسا دور انسان کی جبلی فطرت کے زیر اثر نہیں تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسی اولین حالت جس کا تذکرہ ہوا، انسان کی اپنی فطرت کے اندر ودیعت کیا ہوا ہے۔ اور یہ فطرت وہی ہے جو اسے صحیح یا غلط عمل کا انتخاب کرواتی ہے۔ مختصراً یہ کہ اس فطرت کی مجموعی پرورش کسی بھی دور کو سنہرے دور میں بدل سکتی ہے۔
 
ایسا بھی ہوا ہے کہ تاریخ کے کسی دور میں قوموں کی انفرادی یا اجتماعی زندگی کے اندر سے تمام اچھائی غائب ہو گئی ہوجیسے جناب خاتم المرتبت پیغمبر اسلام ۖ کی بعثت سے قبل دنیا بھر کا حال تھا۔ ایسے تمام مواقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ہدایات کے نزول کا اعادہ کیا تاکہ ما بعد الطبیعیاتی نحوست کو صاف کیا جا سکے۔( عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں Scribes اور Pharisees کی کارکردگی غور طلب ہیں)۔  اور پھر انسانیت نے پیغمبروں کی رہنمائی میں سچائی کا سفر شروع کیا۔ پیغمبروں کے رحلت فرما جانے کے بعد آنے والی نسلوں کو بار بار اس سچائی کو عملی جامہ پہنانا پڑا۔ اس فطری رہنمائی کو چھوڑدینے کی صورت میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر ماضی کی طرح مستقبل میں بھی فرد اور جماعت ذمہ دار ٹھہرائے جائینگے اور یہی وہ فطرت اولین ہے جو انسان کو عطا ہوئی ہے جس کی بدولت وہ ہدایت کی روشنی کو دیکھتا بھی ہے اور اس کے مطابق عمل بھی کرتا ہے۔
 

نور اور ہدایت

جیسے انسانی آنکھ کو مختلف وجہ سے نظروں کی درستگی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، اسی طرح اندرونی آنکھ یعنی عقل کو بھی نورِ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے گردا گرد ہونے والے حالات و واقعات کو دیکھ کر پرکھتا ہے اور اپنی استعداد میں اضافہ کرتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے کوئی نئی چیز آئے تو علم کے میکانیکی عمل کے ذریعہ اس کو اس کی تفصیل سمجھانی پڑتی ہے تاکہ آنکھ اس کو اچھی طرح سمجھ لے،  اسی طرح فطرت انسانی کو بھی ہدایت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعہ سے وہ اپنے اعمال کو بہتری کی طرف لے جاتا ہے اور طبعی دنیا میں اپنا مقام بنا تا ہے۔
در حقیقت یہی نور اور ہدایت تمام علوم کا جوہر ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم ۖ تک پھیلا ہوا ہے، جو آج کی بحث کا موضوع ہے۔ اللہ کی طرف سے آنے والی ہر نئی ہدایت تصدیق کرتی رہی ہے کہ پچھلی ہدایت میں نور بھی تھا اور ہدایت بھی اسی لیے اللہ پاک نے قرآن کریم میں فرمایا:
( اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ) سورة مائدہ ( ٤٤ : ٥ )۔
  یعنی
”ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی۔”
 اور پھر آیت نمبر ٦ ٤ میں یہ فرمایا:
 ” اور ہم نے ان (پیغمبروں)کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو اپنی سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا۔”
اور پھر آیت نمبر ٤٨ میں یہ فرمایا:
” اور (اے رسول محمد! ۖ) ہم نے تم پربھی حق پر مشتمل کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی نگہبان ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کروجو اللہ نے نازل کیا ہے، اور جو حق بات تمہارے پاس آگئی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو۔”  
اوپر کی آیات سے یہ پر زور دعویٰ سامنے آتا ہے کہ 
 
( الف) پچھلی کتابیں بھی اللہ کی طرف سے تھیں اس لیے ان میں بھی ہدایت اور نور تھا۔
 
( ب) اگلی آنے والی کتاب یہ تصدیق کرتی رہی ہے کہ پچھلی کتاب میں ہدایت اور نور موجود تھا۔ اور
 
( ج) موجودہ آئی ہوئی کتاب انہی عقائد کو پاک صاف کرکے پیش کر رہی ہے ( جن کو تم نے گڈ مڈ کردیا تھا)  اور عمل کے لیے زیادہ صحیح ہدایات پر مبنی ہے۔ 
اس کا مطلب یہ ہوا کہ نئی آنے والی کتاب کو پچھلی کتابوں سے کچھ ادھار نہیں لینا پڑا اور نہ ان کی تصدیق کی ضرورت تھی۔ اور یہ سلسلہ قران مجید فرقان حمید کے آنے تک اسی طرح چلتا رہا ، اور اب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ اعلان کردیا کہ وہ اس ہدایت کی بذات خود حفاظت کریں گے کیونکہ یہ بنی نوع انسانی کے لیے آخری کتاب ہے جو اللہ پاک نازل کر رہے ہیں۔
 
پچھلی تمام کتابوں میں جو ہدایات اور نور تھی وہ قرآن پاک میں بھی موجود ہے، اسی لیے قرآن مجید کے باہر سے کوئی چیز اس سلسلہ میں نہیں چاہئے۔ یعنی پچھلی کتابوں میں جو کچھ بھی قرآن کی ہدایت کے مطابق ہے وہ سچی ہدایت اورنور ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو اس کو رد کر دیا جائے اور پھر اس کا یہ مطلب بھی ہوا کہ اگر کسی مسئلہ میں دوسری کتابوں کا موقف قرآن سے مختلف ہے تو اب یہ لازم ہے کہ اُن  مواقف کو درست کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اپنے آپ کو فرقان کہا ہے یعنی وہ معیار جس پر تمام غلط اور درست کو ناپا جائے، اور فیصلہ کیا جائے کہ کیا غلط ہے اور کیا درست۔ کونسی بات جائز ہے اور کون سی ناجائز، دوسری کتابوں میں کیا سچ ہے اور کہاں جھوٹ کی آمیزش ہے۔ اس کے بر خلاف اگر دوسری کتابوں میں درج شدہ عقائد ، واقعات اور فطری عوامل کے بارے میں قرآن خاموش ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ان کے بارے میں وقف کرنا چاہئے، چھوڑ دینا چاہئے اور اس کو کسی طور پر سچائی کا درجہ نہیں دینا چاہئے۔
 
اسلام یہ تر غیب دیتا ہے کہ دنیاوی علم کو جہاں سے ملے حاصل کیا جائے۔ اسلام نے دوسرے لوگوں کے ساتھ میل جول اور تعلقات کے سلسلہ میںاپنے دروازے بند نہیں کیے ہیں۔ ایک طرف اسلام خود اپنے لوگوں کے لیے زندگی کو بہتر انداز سے گزارنے کی ترغیب دیتا ہے، تو دوسری طرف دوسرے لوگوں کو اپنے سچ کی طرف آنے اور اس بہتری کو قبول کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ مگر ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلام غیرمذہب کے لوگوں پر تشدد سے بھی منع کر تا ہے اور ان کی دولت لوٹنے سے بھی روکتا ہے۔ قرآن کا انداز تو یہ ہے کہ( لا اکراہ فی الدین )  سورة البقرة ( ٢٥٦ : ٢)۔  یہ ہے اسلام میں آزاد خیالی کا تصور۔ آزاد خیالی مذہبی عقائد اور روحانیت کا ملغوبہ نہیں ہے۔ صرف اسلام ہی جیو اور جینے دو کے اصولوں کی تعلیم دیتا ہے۔

بے جا آزاد خیالی

اسلام کے ابتدائی د ورکے مسلمانوں نے دوسرے معاشروں میں پائے جانے والے انسانی تصورات اور خیالات کی سرپرستی کرنے میں کوئی جھجک روا نہیں رکھی۔ ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر یونانی افکار ہیں جس کو عیسائیت نے اپنے عروج کے دور میں بالکل نظر انداز کر دیاتھا اور وہ ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ سرپرستی کے اس عمل میں بعض مسلمانوں نے ان افکار کوکچھ زیادہ ہی نگل لیا اور پھر اسلامی بنیادی عقائد کو یونانی فلسفہ، خصوصی طور پر نو افلاطونی افکار کے مطابق پرکھنا شروع کردیا۔ اس کے نتیجہ میں ذہنی فہم وفراست ، افراتفری ، پراگندگی، پھوٹ اورنزاع نے جنم لیا۔ یہی چیز پھر پھیل بھی گئی۔ مگر صحیح العقیدہ مسلمان (سوادِ اعظم) قرآن اور سنت رسولۖ سے چمٹے رہے اس لیے کہ ان کی یہ محبت اسلام کی سچائی اور حقانیت کی بدولت تھی۔ روایتی علماء ، امام غزالی وغیرہ جیسے جید عالم حضرات ایسے موقع پر اٹھ کھڑے ہوئے۔  انہوں نے انتہائی خوبی کے ساتھ مسلمانوں کے ذہنوں میں در آئے ہوئے باطل تفکرات کو پہچانابھی اور ان کو دور کرنے کی کو شش بھی کی ، تاکہ فوت شدہ معاشرتی اقدار سے ان کے رومانس کو ختم کیا جا سکے۔ اور ایسا کرنے کے عمل کے دوران جو ماحول پیدا ہوا اس میں وہ لوگ جو اسلام سے دور ہورہے تھے ان لوگوں کی تعریف میں مصروف رہے، جنہیں اللہ نے کفار کا نام دیا تھا۔

مسلمانوں میں دیگر مذاہب کے خیالات کا دخول

Syncretism  یعنی دوسرے مذاہب کے تصورات کی آمیزش کا وہ سلسلہ جو ایک مرتبہ شروع ہو گیا تھا وہ کبھی بھی مکمل طور پر اکھاڑ کر پھینکا نہ جا سکا۔ اور یہ ہمیشہ ہی حالت نمو میں موجود رہا اور مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے سامنے آتا رہا۔ اس کی سب سے بد ترین مثال مغل بادشاہ اکبر کے دین الٰہی میں ملتی ہے جو اس کے دور کے تمام مذاہب کے عقائد کا ایک ملغوبہ تھا۔ اسی طرح مسلم علاقوں پر برطانوی راج کے دوران جمال الدین افغانی ( ١٨٩٧- ١٨٣٨ ) کی صورت میں سامنے آیا جو ایک ایرانی شیعہ مسلم تھا۔ وہ مصر کے فری میسن لاج کا سر پرست تھا۔ اس کا ایک پیرو محمد عبدہ  ( ١٩٠٥- ١٨٤٩ ) اس کے بعد اس عہدہ پر فائض ہوا۔ دینی لحاظ سے محمد عبدہ چار سنّی مذاہب کے بجائے بارہ امامی شیعہ فرقہ کے بہت قریب تھا، جس کی بڑی وجہ جمال الدین افغانی کا اثر تھا۔ اس نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا ” اسلام اور عیسائت ” اس میں اس نے لکھا:
” تمام مذاہب ایک ہیں۔ ان کا اختلاف صرف ظاہری ہے۔یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کی حمایت کرنی چاہئے۔ ” اس نے لندن کے ایک پادری کو لکھا: ”میں دو بڑے مذاہب ، اسلام اور عیسائیت کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گلے ملتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ پھر تورات ، انجیل اور قرآن ایسی کتابیں ہونگی جو ایک دوسرے کی حمایت اور تائید کر رہی ہونگی، جو ہر جگہ پڑھی جا رہی ہونگی اور ان کی ہر قوم میں عزت و تکریم بھی ہو رہی ہو گی۔”
مصر میں اس ہم خیال گروہ کا ملاپ بہت اہم ہے۔ شیخ عبدالواحد یحیٰ ١٩٣٠ء سے لے کر اپنی موت ١٩٥١ء تک وہیں رہے، اور فرانس کے فری میسن لاج دی گریٹ ٹرایڈ کی بنیاد ڈالنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ لاج پیرس کے گرینڈ لاج کے ساتھ منسلک ہے۔ شیخ عیسیٰ نورالدین  بیس سال تک شیخ عبدالواحد کے ساتھ خط وکتابت کرتے رہے اور آخر کار ان سے ملنے کے لیے سن ٣٨ او ر ٣٩ میں مصر کا دورہ کیا۔ شیخ ابو بکر سراج الدین ( ٢٠٠٥- ١٩٠٩) جو شیخ عیسیٰ نورالدین کے شاگرد تھے ١٩٣٩ء میں مصر گئے اور ١٩٥٢ء تک وہاں مقیم رہے اور اس کے بعد بھی اپنی موت تک وہاں جاتے رہے۔ اسی طرح سید حسین نصر بھی، جو پچاس سال تک شیخ عیسیٰ نورالدین کے شاگرد رہے ، اور جن کے تمام تصانیف Perennial Philosophyکے عقائد اور نظر یات پر مبنی ہیں۔
 

("Philosophia Perennis” is the central concept of the "Traditional School” formalized in the writings of Rene Guenon, Frithjof Schuon and Ananda Coomaraswamy. The term was first used in the 16th century by Agostino Steuco in his book entitled De perenni philosophia libri X (1540), in which scholastic philosophy is seen as the Christian pinnacle of wisdom to which all other philosophical currents in one way or another point. The idea was later taken up by the German mathematician and philosopher Gottfried Leibniz, who used it to designate the common, eternal philosophy that underlies all religions, and in particular the mystical streams within them. The term was popularized in more recent times by Aldous Huxley in his 1945 book: The Perennial Philosophy. The Hindu revivalist notion of Sanatana Dharma has been taken as a translation of Philosophia Perennis) – (Wikipedia)

اسی کی ہم عصر ایک اور تحریک کی بنیاد تھیو سو فیکل سوسائٹی کے نام سے ١٨٧٥ء میں نیو یارک میں مادام ہیلینا  بلاواٹسکی ( ١٨٩١- ١٨٣١) اور ان کے ساتھیوں نے ڈالی۔  اس کا مقصد یہ تھا کہ آریہ اور دیگر مذاہب عالم کی تحریروں کو پڑھنے کی ترغیب دلائی جائے تاکہ ایشیائی ادب یعنی برہمنی ،  بدھ اور زرتشتی فلاسفی کی اہمیت کو بآور کرایا جائے۔یہ تھیو سوفیکل سوسائٹی مسلمانوں کی نظریہ کے تحت نقصان دہ تو تھی ہی، مگر شیخ عبدالواحدیحیٰ ایک قدم اور آگے بڑھے ۔ انہوں نے مادام بلاوٹسکی کی تحریکِ syncretismکو اکھاڑ پھینکا اور اس کی جگہ synthesis یعنی مصنوعیت کے ایک نئے تصور کی بنیاد ڈالی ۔ان کی کتاب Symbolism of the Cross    کے تجزیہ میں وکی پیڈیا کہتا ہے:
 

” گِنوں (یعنی شیخ عبد الواحد یحیٰ) synthesis اور  syncretism کو الگ الگ واضح کرتا ہے۔ syncretism  میں دوسری جگہوں سے جمع کیے گئے اجزا کو ملا کر اکٹھا کیا جاتا ہے جبکہ وہ اجزا باہم بے محل ہوتے ہیں،  اور آپس میں گھل مل نہیں سکتے۔ یہ ایک بیرونی چیز ہے جس کے اجزا کو دوسری جگہوں سے مستعار لیا جا سکتا ہے یکساں نہیں کیا جا سکتا۔ اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے وہ  Symbolism of the Cross میں لکھتا ہے کہ: ”syncretism فوری طور پر پہچان میں آجاتا ہے جب یہ نظر آئے کہ اس کے مختلف اجزا کو باہر سے مستعار لے کر اکٹھا کیا گیا ہے یہ سوچے بغیر کہ یہ سب اجزا ایک ہی عقیدے کی مختلف تشریحات اور شکلیں ہیں ، یا پھر مختلف النوع اعمال ہیں جو کسی خاص حالت اور زمان و مکاں سے متعلق ہیں۔ گِنوں کے مطابق یہ انداز فکر تھیوسوفیکل سوسائٹی کے عقائد میں ملتا ہے۔ اس کے بالمقابل synthesis میں چیزوں کو ان کے اصل کے تناظر میں دیکھا جا تا ہے، اور اگر وحدانیت کے پس منظر میں رکھا جائے، اور اس ادراک کے ساتھ ان کے عقائد سے منسلک رکھا جائے، تو اظہار کے کثیر التعداد مظاہر کے باوجود سچ کی اصل حقیقت کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس آگاہی کے ساتھ ایک شخص کو یہ آزادی حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ  مذہب کے کسی بھی شکل میں سچ  کو اپنالے۔ ہر ایک کا اپنا اپنا اندازِ بیان ہے، جو انہیں خاص تحفہ کے طور پر عطا کی گئی ہے ۔ لہٰذا تمام کے تمام روایتی مظاہر کو synonymies  یا ایک دوسرے کے مترادف کہہ سکتے ہیں۔ رِنے گِنوں کہتا ہے کہ صلیب کا نشان قدیم زمانے سے مختلف شکلوں میں مختلف علاقوں میں رائج رہا ہے ۔ اس لیے صلیب صرف عیسائیوں کے عقیدہ سے منسلک نہیں ہے ، اور اس کو کسی بھی روایتی پس منظر میں مختلف اعتبار سے دیکھا جا سکتا ہے۔

چونکہ syncretism ایک ایسی تصویر بنانے کی کوشش کرتی ہے جو فی الوقت موجود نہیں ہے، اس لیے شیخ عبدالواحد یحیٰ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس تصویر کو بنا نے کی ضرورت بھی نہیں ہے اس لیے کہ وہ تو محض ایک مصنوعی مرکب کا نام ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صلیب کی روح ہر نظریٔہ  میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ یہ ایک Kaleidoscope  کی طرح ہے جس کی تصویریں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیںمگر وہ ایک ہی اجزاء سے بنے ہوتے ہیں، اور ان میں ایک مخفی مصنوعی اکائی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لیے صلیب کی نشانی اپنی مختلف شکلوں میں تقریباً ہر جگہ مل جاتی ہے۔ یہاں تقریباً کا لفظ یقیناً علم یقین کا ہم پلہ نہیں ہے۔ اگر اس کو قبول کر لیا جائے تو یہ کہنا پڑیگا کہ منونتر کا بے اصل نظریہ بمع دیگر ہندو نظریوں کے، صلیب کا مختلف شکلوں میں اظہار، اور اسلام کا خالص نظریہ توحید سب ایک ہی تصویر کے مختلف اجزا ہیں۔ہمارے نزدیک یہ سب انتہائی انوکھی اور انہونی خرافات کے برابر ہیں۔ واہیاتِ محض!!
 
 اگر اس نظر یہ کو درست سمجھا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر دنیا میں کفار اور مشرک کن لوگوں کو کہا جائے گا۔ اس قسم کا آزاد نظریے کے تحت تو تمام مذاہب کے علماء کفر کے  شمار میں نہیں آ ئیں گے اس لیے کہ تحفۂ بیان میں سب کو برابر کا حصہ ملا ہے، یعنی زبانیں مختلف ہیں مگر اشارہ تو سب کا  ایک ہی چیز کی طرف ہے۔ اسی طرح عوام کی بھی ایک بڑی تعداد شرک سے بری الذمہ ہو جائے گی، اس لیے کہ ان کی وہ ذہنی استعداد نہیں ہے کہ اُن باریکیوں کو سمجھ سکیں جو اشراف کے ذہنی قلابازیوں کے زمرے میں آتی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب ایک مسلمان قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے تو اس کو اس میں لفظِ کفر مختلف شکلوں میں پانچ سوسے زیادہ مرتبہ واسطہ پڑ تا ہے۔ کیا اس بات پر کسی کا ایمان ہو سکتا ہے کہ قرآن جو کچھ کہہ رہا ہے وہ اس کا اصل مطلب نہیں ہے؟  نعوذباللہ۔ قرآن کا یہ بیان ہے کہ
 
” اور( حقیقت یہ ہے کہ) اِن ( مشرکین) میں سے اکثر لوگ کسی اور چیز کے نہیں، صرف وہمی انداز ے کے پیچھے چلتے ہیں، اور یہ یقینی بات ہے کہ حق کے معاملے میں وہمی اندازہ کچھ کام نہیں دے سکتا۔ یقین جانو، جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں، اللہ اس کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔” سورة یونس ( ٣٦ :١٠)
 ۔ اور پھر کہتا ہے کہ:
 ”وہ محض وہم و گمان کے پیچھے چل رہے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ وہم و گمان حق کے معاملے میں بالکل کار آمد نہیں۔” سورة نجم (٢٨:٥٣)۔
 اس حقیقت کے باوجود کہ کسی شخص نے کتنی ہی معرکة الآرا کتابیں لکھی ہوں اور دنیا بھر کی ادبی تنظیموں سے اس کو کتنے ہی انعامات ملے ہوں، بطور ایک مسلمان کے، اس کاہندو اور عیسائی اعتقادات کو اسلام میں داخل کردینا بہت بڑی غلطی ہے ، اس لیے کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مکمل نہیں ہے اور اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ اسلام میں صلیب اور منونتر جیسے خیالات مخفی طور پر موجود ہیں، گویا کہ اسلام بھی دیگر مذاہب سے مختلف کوئی نظریہ نہیں ہے۔
جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

قسط نمبر ١ کا مطالعہ کیجئے   قسط نمبر ٣   کا مطالعہ کیجئے

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، شعبان معظم 1433ھ/ جون، جولائی 2012- سے ماخوذ ہے۔ 

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے قسط (1)


الواقعۃ شمارہ نمبر ٣ 

علّامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی

وحی متلو اور غیر متلو قرآنی تقسیم ہے


ربع صدی سے زیادہ عرصہ گزرا ایک بار جماعت امت مسلمہ کی دعوت پر شمس العلماء حافظ محب الحق مرحوم کے ساتھ امرتسر گیا تھا تو ادارہ البیان کے بہت سے احباب ملے اور امت مسلمہ کے ارکان بھی ۔ مولانا احمد الدین سے بھی ملاقات ہوئی مگر وہ ملاقاتیں محض سرسری ہی رہیں البتہ البیان میں میرے مضامین برابر چھپتے رہے ۔ مگر ادارہ البیان بالکل انکارِ حدیث کی طرف مائل تھا اور میں مطابق قرآن حدیثوں کو دین میں حجت سمجھنے پر مصر تھا مگر باہم مخلصانہ افہام و تفہیم کا سلسلہ جاری رہا ۔
میرے ایسے مضامین بھی برابر چھپتے رہے جن سے ادارے کو کم و بیش اختلاف تھا ۔ ہجرت کے بعد میں ڈھاکہ پہونچا اور ادارہ طلوعِ اسلام نے کراچی کو اپنا مستقر بنایا باوجود بُعد المشرقین کے باہمی مخلصانہ تعلقات قائم ہوئے اور میرے مضامین طلوعِ اسلام میں چھپنے لگے ۔ البیان بھی لاہور سے نکلنے لگا اور اس میں بھی میرے مضامین چھپتے رہے مگر البیان زندہ نہ رہ سکا جس کا مجھ کو افسوس ہے ، طلوعِ اسلام میں میرے وہی مضامین چھپتے رہے جو ادارہ طلوعِ اسلام کے مسلک کے موئد تھے اور جن سے ادارے کو ذرا سا بھی اختلاف ہوا وہ مضامین شائع نہ ہوئے چنانچہ بعض واپس شدہ مضامین اب تک میرے پاس موجود ہیں طلوعِ اسلام سے تعلقات پیدا ہونے کے چند برس کے بعد ہی سے مجھ کو اس کے مسلک سے اختلاف ہوا تو میںنے کسی اور رسالے میں اپنے اختلافی مضامین شائع کرانے کے بجائے نجی طور پر مراسلت شروع کی اور اپنے اختلاف سے مطلع کرتا رہا کیونکہ اس طور پر افہام وتفہیم سے اصلاح کی توقع زیادہ ہوتی ہے ، بہ نسبت اس کے کہ رسائل و جرائد میں ردّ و قدح کا ہنگامہ برپا کیا جائے اس لیے کہ ایسی صورت میں مناظرے اور ضد کی نوعیت پیدا ہوجانے کا قوی امکان ہوتا ہے ، چنانچہ بہت سے مسائل پر نجی خطوط کے ذریعہ مسلسل افہام و تفہیم کرتا رہا اور یہ صورت حال امسال تک جاری رہی ۔

بلاغ القرآن 
١٣٨٧ھ میں جب میں کراچی گیا تھا اور وہاں چھ ماہ تک قیام رہا ، تو اسی قیام کے زمانے میں ، رسالہ ” بلاغ القرآن ” کا تعارف ہوا جس کا مفصل ذکر رسالہ الصلوٰة پر تبصرہ میں موجود ہے ۔ اعادہ بے سود ہے ، اس ادارے کی روش نے مجھ کو بے چین کردیا یہاں تک کہ میں ایک ایسی تصنیف میں مصروف تھا جس کواس وقت کی بہت اہم دینی خدمت سمجھتا تھا اور بہت کچھ لکھ چکا تھا ،لیکن اس کو چھوڑ کر اس ادارے کی طرف متوجہ ہوا اور اس کے بعد گہری نظر سے طلوعِ اسلام کے مطالعے کی بھی ضرورت محسوس ہوئی تو میں یہ سمجھنے پرمجبور ہوا کہ دونوں کی ایک ہی راہ ہے فرق اتنا ہے کہ بلاغ القرآن دوڑ رہا ہے اس لیے اس کی دوڑ نمایاں ہے اورطلوعِ اسلام بہت دبے پائوں جارہا ہے ، قدم ذرا کھسکساتا ہوا اس لیے وہ دور سے دیکھنے والوں کو کھڑا ہی نظر آتا ہے ۔
صرف قرآن کریم 
ادارہ بلاغ القرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر صرف قرآن کریم اترا ، قرآن کریم کے علاوہ کسی قسم کی وحی بھی آنحضرتﷺ کی طرف اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں فرمائی ۔ سنّت اگر کوئی چیز واجب الاتباع ہوتی تو قرآن کی طرح رسول کریم ﷺ ضرور اس کو بھی لکھوا کہ کتابی صورت میں قرآن کریم کے ساتھ امت کو دے جاتے ۔ اس لیے سنّت کہاں ہے ؟ کس کتاب میں ہے ؟ کوئی ایسی کتاب دکھائیے جس میں تمام فرقوں کی متفق علیہ سنت ہو جس کے کسی جز سے کسی فرقے کو اختلاف نہ ہو ، اور طلوعِ اسلام کا مؤقف بھی یہی ہے ۔ ان کے اس سوال کا جواب تو میرے رسالہ ” السنة” میں ہے یہاں اعادہ بے فائدہ ہے مگر یہاں مجھ کو صرف یہ دکھانا ہے کہ صرف قرآن کریم کو قبول کرنے اور باقی سب چیزوں کو روایت کہہ کر ٹھکراتے رہنے سے ان کا اصل مقصد کیا ہے ؟
اصل مقصد
قرآن مجید کو قبول کرلینے اور باقی سارے دینی لٹریچر کو ردی قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ قرآنی آیتوں کو توڑ مروڑ کر جو مفہوم جس آیت سے چاہیں گے نکال لیں گے ، جس لفظ کے چاہیں گے معنی حقیقی کی جگہ مجازی لے لیں گے، جس واقعے کو چاہیں گے خواب کا واقعہ کہہ دیں گے، جس عبارت میں ضمیر جدھر چاہیں گے پھیر دیں گے ، جس اسم اشارہ کا جس کو چاہیں گے مشار الیہ قرار دیں گے ، جس لفظ کے متعدد معانی لغت والوں نے لکھے ہیں ان میں سے جو معنیٰ چاہیں گے حسبِ دلخواہ مرادلے لیں گے، اس طرح قرآن مجید کی آیتوں کو اپنے منشا اور اپنی اغراض کے تابع رکھنے کی پوری آزادی حاصل رہے گی ۔ دوسروں نے کیا لکھا ہے اس کو دیکھنے کی ضرورت نہیں اس لیے کہ دوسرے تو سب کسی نہ کسی فرقے کے ہیں اور فرقہ وارانہ روایات کے پابند ہیں اور یہاں روایات کے اتباع کو گمراہی بلکہ شرک سمجھتے ہیں اس لیے ان ” مشرکین ” کی تفسیروں اور ترجموں کو دیکھنا بھی گناہ ہے ۔ ہاں ! ان میں سے اگر کسی کا کوئی قول ایسا مل جائے جس سے اپنے خیال کو تقویت ہو تو البتہ اس کو پیش کریں گے بلکہ ضعیف سے ضعیف روایت اور کسی منافق راوی کا قول بھی اپنے موافق مل جائے گا تو اس کو اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کریں گے اور کہیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ( وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰن ) ہم نے ضرور اس قرآن کو آسان کردیا ہے تو پھر انسان کے سمجھنے میں دشواری کیوں ہوگی ؟ ہم جو مطلب جس آیت کا سمجھے ہیں صحیح ہی سمجھے ہیں ۔ آسان بات کے سمجھنے میں غلطی نہیں ہوسکتی ۔ مگر قرآنی آیات کو سمجھنے کی کوشش کب کی جاتی ہے ؟ ساری کوششیں تو آیات سے اپنے موافق مفہوم پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہیں اس لیے ضرورت ہوئی کہ اس فرقے کی طرف خصوصیت سے توجہ کی جائے ۔ خصوصاً اس لیے دیکھ رہا ہوں کہ کوئی صاحبِ علم اس فرقے کی طرف پوری طرح سے متوجہ نہیں ہو رہا ۔ صرف ” فتنہ انکارِ حدیث ” کہہ دینے یا بعض رسالوں سے اس فتنہ کا انسداد نہیں ہو سکتا ۔ حدیث کا ثبوت حدیث سے ، روایت کا ثبوت روایت سے منکرینِ حدیث کے سامنے پیش کرنا کیا مفید ہوسکتا ہے ۔
یہ رسالہ صرف وحی کے اقسام اوروحی غیرمتلو یعنی حدیث صحیح کے ثبوت میں اوردین میں اس کے حجت ہونے کے اثبات میں ہے ۔ اس کے ساتھ اور متعدد رسالے ہیں جن میں ” السنة ” میں اتباعِ سنّت کی فرضیّت ازروئے آیات قرآنی ثابت کی گئی ہے ۔ گویا وہ اس رسالے کا دوسرا حصہ ہے ۔ ( اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ  ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا بِاللّٰهِ  ۭ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ  )
وحی 
آلات تکلم یعنی لب و زبان و کام و دہن کے واسطہ کے بغیر جو باتیں کی جائیں اس کو ازروئے لغت وحی کہتے ہیں ۔ 
سورہ مریم میں حضرت زکریا کے ذکر میں فرمایا گیا ہے:
فَاَوْحٰٓى اِلَيْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّعَشِـيًّا  11؀مریم
حضرت زکریا کو خبر دی گئی تھی کہ تم تین دن کچھ نہ بول سکو گے یہی علامت ہے اس کی کہ اب تم کو ایک پسر (بیٹا) صالح اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا ۔  تو وہ مسجد سے نکلے اور اپنے لوگوں کو اشارے سے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح صبح و شام کیا کرو ۔ 
اللہ تعالیٰ کا ہر کلام وحی ہے اس لیے کہ آلات تکلم کی حاجت اللہ تعالیٰ کو نہیں ہے وہ بغیر آلات تکلم کے کلام فرماتا ہے ۔ غیر ذوی العقول کی فطرت میں بعض امور جو داخل کردیئے گئے ہیں ان کو بھی وحی کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے ، جیسے:  
وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِيْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُوْنَ )(  النحل : ٦٨ )
"اور تمہارے رب نے شہد کی مکھیوں کی طرف وحی کردی ہے کہ وہ پہاڑوں ( کے کسی حصے ) میں اور درختوں میں اور ٹٹیوں ( یا چھتوں ) میں گھربنائیں ۔" 
یا کائنات کے آغازِ تخلیق کا ذکر سورئہ حٰم سجدہ کی آیتِ کریمہ ١٠ ، ١١ ، ١٢ میں فرماتے ہوئے آسمانوں کی تکمیلِ تخلیق کے بعد فرمایا ہے ( وَ اَوْحیٰ فِی کُلِّ سَمَآئٍ اَمْرَھَا ) اورہر آسمان ( اور اس کے ماتحت کی کائنات ) میں سارے متعلقہ قوانین تفویض فرمادیئے ( تاکہ ان قوانین کے مطابق کارخانہ کائنات چلتا رہے ) یہاں تفویض احکام و قوانین کو وحی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ مگر یہ مضامین اس وقت میرے موضوع سے خارج ہیں میرا موضوع وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کی جاتی ہے ۔ 
غیر رسول کی طرف وحی 
اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی غیررسول کی طرف بھی وحی ہوتی ہے بذریعہ القاء فی القلب یعنی دل میں بات ڈال کر ۔
قرآن مجید میں ہے :
وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ  ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ   القصص 7
"اورہم نے مادرِ موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اس کو دودھ پلائو تو جب اس کے بارے میں تم پر خوف و ہراس غالب ہو تو اس کو دریا میں ڈال دو اور کچھ پروا اس کے بارے میں نہ کرو ۔"
 یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل میں جو بات ڈالی گئی تھی اس القاء فی القلب کو وحی کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ۔ اسی طرح جب حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے ایک کنوئیں میں ڈال دیا تو اس وقت وہ کمسن مراہق نابالغ تھے ، نبی و رسول نہ تھے ۔ مگر قرآن مجید میں ارشاد ہے : 
 وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ           15؀
 اور ہم نے وحی کی یوسف کی طرف کہ ( گھبرائو نہیں ) تم ضرور ان لوگوں کو ان کی اس حرکت سے ( کسی وقت ) ضرور متنبہ کرو گے اور یہ سب ( اس کو ) نہیں سمجھتے ہیں ۔” ( یوسف : ١٥
القاء وحی شیطانی بھی ہوتی ہے 
قرآن مجید میں ارشاد ہے :
وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــهِمْ ) ( انعام :١٢١)
شیاطین اپنے ( انسانی ) ساتھیوں کی طرف وحی کیا کرتے ہیں ) ۔ "
اس لیے ہر شخص ایسی باتوں کو جو اس کے دل میں القاء ہوجائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نہ سمجھ لے اس کے لیے بھی منہ چاہیئے ، ایسے مکاشفے کہ جب ذرا گردن جھکائی لوحِ محفوظ تک نظر پہونچ گئی محض افسانہ طرازی ہے ۔ کسی نبی کو یہ اختیار نہ تھا کہ غیب کی کوئی بات بطورِ خود دریافت کرلیں یا کسی فرشتے کو جب چاہیں بلوالیں ، کسی بات کی وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب چاہیں منگوالیں ، تو کسی غیر نبی کو یہ اختیار کب حاصل ہوسکتا ہے ۔ بعض فرقوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے اماموں کو اسمِ اعظم معلوم تھا اور وہ اسمِ اعظم کے ذریعے غیب کی جس بات کو چاہتے تھے دریافت کرلیتے تھے یہ ساری باتیں سخت گمراہ کن ہیں ۔ البتہ مومنین صالحین کو بلا ارادہ غیرمتوقع طور پر کسی بات کا اگر اتفاقاً انکشاف ہوجائے تو وہ منجانب اللہ ہوسکتا ہے ۔ بشرطیکہ قرآن مجید اور سنّت ثابتہ کے یا تجربہ یا عقل کے خلاف کوئی بات نہ ہو ۔ 
عُجب و غرور 
بعض آئندہ ہونے والی باتوں کے قبل از وقت بلا ارادہ غیر متوقع کشف سے نفس میں عُجب و غرور پیدا ہو تو سمجھ لینا چاہیئے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے اس کے پاس معلومات کے ذرائع انسانوں سے زیادہ ہیں اس نے ایک مردِ مومن صالح کو عُجب و غرور میں مبتلا کرکے اس کے نفس کو خراب کرنے کے لیے ایسی وحی کی ہے فوراً توبہ کرے اور اپنے نفس کو عجب و غرور سے پاک کرے ۔ 
منجانب اللہ وحی 
اللہ تعالیٰ جو اپنے صالح بندوں پروحی فرماتا ہے اور اپنے مکالمے سے سرفراز فرماتا ہے اس کو قرآن مجید میں خود وضاحت کے ساتھ فرمادیا ہے ۔ سورئہ شوریٰ کی آخری تین آیتیں پڑھئے :
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ       51؀ وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ۭ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِنَا ۭ وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ       52؀ۙ
صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ اَلَآ اِلَى اللّٰهِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ       53؀ۧ  شوریٰ 51- 53
کسی بشر کا ( وہ نبی و رسول ہی کیوں نہ ہو ) یہ منہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے دو بدو ہوکر بجز اس کے کہ یا تو ( بلا توسط کسی فرشتے کے القاء یعنی دل میں بات ڈال کر یا خواب کے ذریعے ) وحی فرمائے یا پردے کی اوٹ سے یا کسی فرشتے کو بھیج کر کہ اللہ کے حکم سے جو کچھ اللہ چاہے ( اس کے نبی کے پاس ) وہ فرشتہ اس کی وحی پہونچائے بیشک اللہ تعالیٰ بہت بلندہے ( اس سے کہ کوئی اس سے بالمشافہ بیداری میں روبرو ہو کر باتیں کرے ) وہ حکمت والا ہے ( بندوں کے منافع و مصالح کے پیشِ نظر وحی کی تین صورتیں اس نے قائم کردی ہیں ) ( اے رسول ) ہم نے اسی طرح تمہاری طرف اپنے دین کا پر عظمت کلام وحی کیا ہے تم تو ( اے رسول ) جانتے بھی نہ تھے کہ ( اللہ تعالیٰ کی ) کتاب کیسی ہوتی ہے بلکہ (١) تم ایمان کی حقیقت سے کچھ واقف نہ تھے لیکن ہم نے اس ( کلام ) کو روشنی بنایا ہے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں گے اس کے ذریعے ہدایت کریں گے اور تم ( اس کلام کے ذریعے ) بلاشبہ صراطِ مستقیم ہی کی طرف ( لوگوں کی ) رہنمائی کرو گے ۔ اس راہ کی طرف جو اللہ کی راہ ہے ( وہ اللہ ) جس کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ( اے جن و انس ) سن رکھو کہ سارے امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع ہوکر رہیں گے (٢)"
اوّل و آخر
اول بآخر نسبتے دارد اسی طرح آخر بھی اوّل سے ضرور مناسبت رکھتا ہے اس لیے سورئہ شوریٰ کی ان آخری تین آیتوں کے ساتھ حروف مقطعات کے بعد کی پہلی آیت کو بھی پیشِ نظر رکھ لیجئے پہلی اور دوسری دو آیتیں تو حروف مقطعات کی ہیں اس لیے شمار کے حساب سے یہ تیسری آیت ہے اور آیت مقطعات کے بعد پہلی آیت ہے :
كَذٰلِكَ يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۙ اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ      Ǽ۝
  لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ      Ć۝
شوریٰ 3-4
عزت و حکمت والا اللہ اسی طرح تمہاری طرف وحی کر رہا ہے (جس طرح یہ وحی اس وقت ہورہی ہے) اور جو (نبی) تم سے پہلے گزرے (ان کی طرف بھی اسی طرح وحی کرتا رہا) ………….”
غرض وحی کے تین طریقے بتائے گئے ۔
( ١) القاء جس کو الہام بھی کہتے ہیں ۔
( ٢) پردے کی اَوٹ سے جس طرح حضرت موسیٰ علیٰ نبینا علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے باتیں کیں ۔
( ٣ ) تیسرا طریقہ جو انبیاء و مرسلین علیہم السلام میں برابر معمول بہ رہا ہے یعنی فرشتے کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنا کلام اپنے نبی اور اپنے رسول کے پاس بھیجے ۔ان تینوں طریقوں سے انبیاء و مرسلین کے پاس وحی آتی تھی ۔ علیہم السلام۔ مگر آخری دونوں طریقے انبیاء علیہم السلام کے لیے مخصوص تھے ۔ 
پہلا طریقہ القاء و الہام کا جو بیداری میں بھی ہوتا تھا اور خواب میں بھی ۔وہ غیر نبی ، مومنین و صالحین کو بھی نصیب ہوسکتا ہے مگر غیر نبی کا الہام اور خواب محض کسی وہم کے تحت ، تخیلات کے زیرِ اثر اور شیطانی وسوسے سے بھی ہوسکتا ہے مگر کسی نبی کا الہام یا خواب غلط نہیں ہوسکتا وہ من جانب اللہ وحی ہی ہوتا تھا اس لیے حج کے ارکان میں سر کا منڈانا یا سر کے بال تراشنا بحیثیت فرض کے داخل ہے باوجود اس کے کہ کوئی آیت حکم حلق یا قصر کی قرآن مجید میں نہیں ہے صرف رسول اللہ ﷺ کے ایک خواب مبارک کا ذکر سورة فتح کے چوتھے رکوع میں ہے :
لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ ۙ مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَمُقَصِّرِيْنَ ۙ لَا تَخَافُوْنَ ۭ
بہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے ضرور سچا خواب دکھایا ہے اپنے رسول کو مبنی بر حقیقت کہ تم لوگ ( اے مومنین )ضرور داخل ہوگے مسجدِ حرام میں ( بعضے) سر منڈوانے والے اور ( بعضے ) بال کتر لینے والے ، امن و امان کے ساتھ بغیر کسی خوف و ہراس کے ۔"
اس خواب کے ذکر کی وجہ سے حج کے ارکان مفروضہ میں حلق یا قصر داخل ہوگیا ۔ 
وحی را بہتر کہ فہمد از رسول 
جس پر وحی اتری ہے وہی توا س وحی کا مخاطب اولیٰ ہے چاہے وہ وحی کتابی ہو یا غیر کتابی یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ خود رسول نے اس وحی کا کیا مفہوم سمجھا تھا اور احکام وحی کی کس طرح تعمیل فرمائی تھی رسول صرف مبلغ کتاب بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے بلکہ معلّم اور مبینِ کتاب بھی تھے اس لیے تعلیم و تبیین رسول سے واقفیت حاصل کرنے کی ضرورت نہ سمجھنا اور بطور خود اپنی خواہش کے مطابق آیات قرآنی کی تفسیرکرنا سخت گمراہی اور بدترین الحاد ہے ۔ 
انبیاء سابقین کی طرف غیر کتابی الہامی و القائی وحی 
سورة مومنون آیت ٢٧ میں ہے :
فَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا
تو ہم نے نوح کی طرف وحی کی کہ تم کشتی تیار کرو ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ۔
کیا حضرت نوح پر جو کتاب اتری تھی اس کتاب میں کشتی بنانے کا حکم آیا تھا اور کشتی بنانے کا طریقہ بتایا گیا تھا ؟ یقینا یا تو القاء و الہام کے ذریعے ان کو حکم بھی ہوا اور کشتی بنانے کا طریقہ بھی بتایا گیا یا کسی فرشتے کو بھیج کر زبانی حکم بھی فرشتے نے سنایا اور فرشتے نے حکم ربانی کے مطابق کشتی بنانے کا طریقہ بھی بتایا ۔ بہر حال غیر کتابی ہی وحی تھی ۔ 
سورة اعراف ( آیت ١٦٠ ) میں ہے :
وَاَوْحَيْنَآ اِلٰي مُوْسٰٓي اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗٓ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ
 اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی جس وقت ان کی قوم نے ان سے پانی کا مطالبہ کیا تھا اس پتھر پر اپنے عصا سے مارو ۔
کیا ان کے صحیفوں میں کوئی آیت اس وقت اس حکم کی اتری تھی ؟ یقینا قوم نے پانی کا مطالبہ کیا تو ان کے دل میں القاء و الہام ہوا کہ سامنے جو پتھر ہے اس پر عصا سے مارو یا فرشتے نے آکر حکم سنایا ، تورات میں اس واقعے کا ذکر ہے جس طرح قرآن مجید میں اس وقعے کا ذکر ہے تورات میں پتھر پر عصا سے ضرب لگانے کے حکم کی کوئی آیت نہیں ہے یہ غیر کتابی وحی تھی ۔ حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ السلام کے متعلق اور بھی کئی جگہ وحی کا ذکر ہے جو فوری طور پر القاء و الہام کے ذریعے ہوئی یا فرشتے کے ذریعے بھیجی گئی تھی ۔ تورات میں ان واقعات کا بعد وقوع ذکر ہے جس طرح قرآن مجید میں ان واقعات کا ذکر ہے ۔ حکم کی آیتیں اس میں نہیں ہیں ۔ غرض انبیائے سابقین علیہم السلام پر تینوں اقسام کی وحی آتی رہیں اور ارشاد ہوا ہے :
اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ  ۚ  وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِيْسٰى وَاَيُّوْبَ وَيُوْنُسَ وَهٰرُوْنَ وَسُلَيْمٰنَ ۚ وَاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا     ١٦٣؀ۚ نساء : ١٦٣
” (اے محمد رسول اللہ ﷺ ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی کی ہے جس طرح ہم نے نوح کی طرف اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف وحی کی تھی اور ( جس طرح ) ابراہیم اور اسمٰعیل اور یعقوب ( اور ان کے بارہ بیٹے ) اسباط اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی کی تھی اور تم کو قرآن دیا جس طرح ہم نے دادود کو زبور دیا تھا ۔"
اس آیتِ کریمہ میں گیارہ انبیائے مرسلین علیہم السلام کے اسمائِ گرامی مذکور ہیں اور بارہ اسباط یعنی حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے تو تئیس انبیاء علیٰ نبینا و علیہم السلام کا ذکر فرما کر ارشاد ہوا ہے کہ جس طرح ان لوگوں کی طرف ہم نے وحی کی تھی اسی طرح تمہاری طرف بھی وحی کی ہے ان ٢٣ نبیوں میں سے صحفِ ابراہیم و صحفِ موسیٰ ( تورات ) اور انجیل و زبور کا ذکر قرآن مجید میں صراحةً موجود ہے ۔ حضرت نوح پہلے رسول ازروئے قرآن مبین تھے اس لیے ان پر کوئی کتاب ضرور اتری تھی ۔ سورئہ بقرہ کی آیت ٢١٣ میں آغاز سلسلہ بعثت انبیاء علیٰ نبینا علیہم السلام کا ذکر فرمایا ہے ۔ 
فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ  ۠ وَاَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ
میں صاف مذکور ہے
تو اللہ تعالیٰ نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے نبیوں کو مبعوث کرنا شروع کیا اور ان کے ساتھ کتاب بھی اتاری ۔
حضرت نوح تو پہلے رسول تھے اس لیے ان پر ضرور کتاب اتری تھی البتہ بیک وقت کئی نبی بھی پہلے مبعوث ہوتے تھے ۔ تو ان میں سے ایک پر کتاب اترتی تھی اور سب ہمعصروں کی وہی کتاب ہوتی تھی ، جس طرح حضرت موسیٰ و ہارون پر الگ الگ کتابیں نہیں اتری تھیں ، حضرت موسیٰ کے وہ وزیر تھے مگر ان پر غیر کتابی وحی اترتی تھی اس لیے اس آیت میں ان کا بھی اسم گرامی ہے اور بھی انبیاء اس آیت میں مذکور ہیں ۔ خصوصاً اسباط کہ ان میں کسی پر بھی کوئی کتاب نہیں اتری تھی ۔ حضرت سلیمان پر بھی کوئی کتاب نہیں اتری ان سب پر غیر کتابی وحی ہی اترتی رہی تو جب رسول اللہ ﷺ کو فرمایا گیا کہ ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی کی ہے جس طرح ان ٢٣ غیر نبیوں کی طرف وحی کی تھی تو اگر آنحضرت ﷺ کی طرف قرآن مجید کے سوا دوسری اور کسی قسم کی کوئی وحی نہیں ہوئی تو اسباط و ہارون و سلیمان علیہم السلام کے ساتھ تمثیل تو صحیح نہ ہوگی ۔ ایسے انبیاء علیہم السلام کے مماثل حضور ﷺ کو قرار دینا جن پر کوئی کتابی وحی اتری ہی نہ تھی ،غیر کتابی ہی وحی اتری تھی ۔ ان کے ساتھ صاحبِ وحی ہونے میں آپ کی مماثلت جبھی صحیح ہوسکتی ہے کہ آپ پر بھی غیر کتابی وحی آئی ہو اس لیے یہ آیتِ کریمہ اس کی واضح دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ پر وحی غیر قرآنی بھی ضرور اترتی رہی ہے وحی غیر قرآنی کا انکار اس آیت کریمہ کا انکارِ صریح ہوگا ۔
غیر قرآنی وحی کی دوسری قرآنی شہادت 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(الۗمّۗرٰ   ۣتِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ  ۭ وَالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ    Ǻ۝ الرعد  1
المر، یہ ( اس آیت سے لے کر آخر سورة تک ) کتاب اللہ کی آیتیں ہیں اور بھی جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے ( سب ) برحق ہے لیکن اکثر لوگ ( سب پر یا بعض پر ) ایمان نہیں لاتے ۔ ( سورہ رعد کی پہلی آیت )”
تلک، اسم اشارہ مؤنث ہے عربی زبان میں غیر ذوی العقول کی جمع کی طرف عموماً واحدمؤنث ہی اسم اشارہ سے اشارہ کرتے ہیں اور ضمیر بھی واحد مؤنث ہی کی پھیرتے ہیں ، اس کو ہرمبتدی عربی دان بھی جانتا ہے ۔ مثالیں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ۔ تو  تلک اسم اشارہ واحدمونث صرف صورةً ہے ،مفہوم کے اعتبار سے جمع مونث ہے ، اس کا مشار الیہ اس پہلی آیت سے اس سورة کی آخری آیت تک ہے ۔ یہ طریقہ ہر زبان میں رائج و سائر ہے کہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں پہلے اس کی طرف اشارہ بھی کردیں جیسے کسی سے آپ کہیں ، کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں ۔اتنا کہنے کے بعدجو کہنا چاہتے ہیں وہ پندرہ بیس منٹ میں کہہ ڈالیں ، تو پہلے جملے میں جو ” یہ ” اسم اشارہ تھا اس کا مشار الیہ وہ آپ کی طویل بات قرار پائی جس کو آپ نے ١٥ ، ٢٠ منٹ میں کہہ ڈالا تھا ۔ بالکل اسی طرح یہاں تلک اسم اشارہ ہے اور اس آیت سے آخر سورة تک اس کا مشار الیہ ہے آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ تو الکتاب یعنی کتاب اللہ کی آیتیں ہی ہیں ( الکتاب پر الف لام عوض مضاف الیہ ہے ) مومنین کتاب اللہ پر تو ایمان لا ہی چکے ہیں مگر اس کتاب کے علاوہ بھی وحی تم پر تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے وہ سب برحق ہے ۔ رسول کے خواب کو عام لوگوں کے خواب کی طرح سمجھنا ، رسول کو جو الہام ہو اس کو عام لوگوں کے ذہنوں میں جیسے کوئی بات آجاتی ہے اُس کی طرح سمجھ لینا ، فرشتے نے قرآنی آیات کے علاوہ زبانی کوئی پیغام یا مژدہ آ کہ پہونچایا تو چونکہ وہ قرآنی آیت نہیں ہے اس لیے اس کو وحی نہ سمجھنا ۔ ممکن ہے یہ باتیں بعض کم فہموں کے ذہن میں آرہی ہوں ۔ اللہ تعالیٰ تو دلوں کی بات جانتا ہے ان کے ایسے وسوسوں کی اصلاح ضروری تھی اس لیے یہاں وضاحت سے بتادیا کہ جو کتاب اللہ کی آیتیں ہیں صرف وہی نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو وحی بھی جس قسم کی وحی بھی رسول پر نازل کی گئی ہو ، سب وحی ہے اور سب برحق ہے ، اسی لیے ” آیات الکتاب ” پر وقف مطلق ہے یعنی الکتاب پر پہلا جملہ پورا ہوگیا اس کے بعدنیا جملہ وائو استیناف کے ساتھ آیا ہے جس کا عطف جملے پر عطف جملہ بر جملہ ہے عطف لفظی نہیں ۔
اس وقت بھی ایک جماعت ہے جو قرآنی آیات کے سوا کسی قسم کی وحی کو وحی نہیں سمجھتی بلکہ غیرقرآنی وحی کو وحی منزل من اللہ ہی تسلیم نہیں کرتی ، ان کی طرف سے کہا جاسکتا ہے اس آیت کریمہ میں تلک اسم اشارہ ہے جس مشار الیہ اس کے سامنے ” آیات اللہ ” موجود ہے جو معطوف علیہ ہے وائو عطف کے بعد ( وَالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ  ) معطوف ہے اور یہ عطف ، عطف تفسیری ہے ، یعنی یہ آیات کتاب وہی ہیں جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اتاری گئی ہیں ۔ معطوف اور معطوف علیہ مل کر مشار الیہ اور اشارہ مشار الیہ مل کر مبتدا اور الحق خبر ہے ۔ ترجمہ یوں ہو گا : ” یہ آیات کتاب یعنی تمہارے رب کی طرف سے جو تم پر اتاری گئی ہیں ، بر حق ہیں ۔” ( کتنی صاف نحوی ترکیب ہے ) لہٰذا اس آیہ کریمہ سے غیر قرآنی وحی ثابت نہیں ہوئی یہ استدلال بھی میں نے ان حضرات کی طرف سے پیش کردیا ہے جو صرف قرآن ہی کو وحی کا مصداق قرار دیتے ہیں اور غیر قرآنی وحی کو وحی منزل من اللہ تسلیم نہیں کرتے اگر اس فرقہ میں سے آج تک میں نے کسی کو کسی موضوع پر بھی اپنے مخصوص دعویٰ کے لیے مغالطہ آمیزی سہی مگر سلجھا ہوا استدلال پیش کرتے ہوئے نہیں دیکھا یہ استدلال بظاہربہت سلجھا ہوا ہے مگر مغالطہ ہی مغالطہ ہے ۔
الجواب 
مذکورہ مغالطہ استدلال نما کا دارو مدار اس دعویٰ پر ہے کہ (آیَاتُ الْکِتَابِ ) اور (  وَالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ) دونوں ایک ہی ہیں دونوں کے درمیان وائو عطف گویا تفسیر ہی کے لیے آیا ہے ۔ مگر یہ دعویٰ ہی صحیح نہیں ہوسکتا اس لیے کہ آیات مونث ہیں اسی لیے اس کے لیے مبتدا مونث لایا گیا ہے ۔ تلک آیات الکتاب فرمایا گیا ہے ۔ اگرانہی آیات کی تفسیر الذی انزل ہوتا تو دونوں لفظ مونث لائے جاتے اورالتی انزلت فرمایا جاتا ، پہلا جملہ اپنا مسند الیہ اور مسند دونوں مونث رکھتا ہے اور دوسرا جملہ اپنا مسند الیہ و مسند دونوں مذکر رکھتا ہے ، ایسی حالت میں ایک جملہ دوسرے جملے کی تفسیر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ دونوں مذکر ومونث جملوں میں محرمیت ہے باہم عقد و نکاح کی طرح عقد تفسیر نہیں ہوسکتا ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ دونوں جملوں کا مسند الیہ ایک نہیں ۔ دو ہیں تو پھر دوسرا جملہ پہلے جملے کی تفسیر کس عقل کی رو سے کہا جائے گا ۔
بڑی مصیبت 
یہ ہے کہ ہرزبان کی صرف ہے ، نحو ہے ، معانی ہے ، بیان ہے جن کے ماتحت کسی زبان کی عبارت سمجھی جاتی ہے مگر معانی و بیان کو تو یہ مدعیان قرآن فہمی جانتے بھی نہیں کہ ان دونوں فنون کے موضوع اورمباحث کیا ہیں ، معمولی صرف و نحو سے بھی واقف نہیں الف لام کی قسمیں بھی نہیں جانتے وائو تفسیر اور” من ” ابتدائیہ کے مفہوم سے بھی واقف نہیں ۔ مگر قرآنی آیات کی کسی قدر دوسروں کے اردو ترجموں سے سمجھ کر مجتہد بن گئے ہیں اور جس آیت سے چاہتے ہیں اپنے مطلب کے مطابق کھینچ تان کر مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر ان کے سامنے معانی و بیان کو تو چھوڑیئے ، نحوی مسائل کے غوامض بھی بیان کیجئے گو ان کے سمجھنے کی بھی ان میں صلاحیت نہیں اور ضد ہٹ دھرمی اور ناخدا ترسی کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں اور قرآن میں اجتہاد کے لیے صرف و نحو اور معانی و بیان وغیرہ علوم سے کماحقہ واقفیت کے ضروری سمجھے جانے پر ” اٹھارہ علوم کا پشتارہ ” کی پھبتی کسی جاتی ہے ۔ دعویٰ یہ ہے کہ میں نے قرآن مجید میں غور و فکر کرتے ہوئے زندگی بسر کی ہے ۔ کاش اس سے پہلے اور کچھ نہیں تو کافیہ اور مختصر المعانی ہی کسی سے پڑھ لیا ہوتا اس کے بعد قرآن مجید پر غور کرتے ۔ 
بیس پچیس برس قرآن مجید پر غور کرتے ہی بسر کیے تو اس لیے نہیں کہ یہ معلوم کریں کہ قرآن مجید کیا ارشاد فرماتا ہے بلکہ اس لیے کہ ڈارون کی تھیوری کو کس طرح قرآنی آیات سے ثابت کریں اور لینن و مارکس کے نظریوں کا ثبوت کس طرح قرآنی آیات سے پیدا کریں اس لیے جو شخص سیاہ عینک آنکھوں پر لگا کر دیکھے گا تو ساری فضا اس کو سیاہ ہی نظر آئے گی ایسے لوگ تلک آیات الکتاب اورالذی انزل کو ایک قرار دیں تو کیا تعجب ہے ؟ غرض کسی طرح بھی  تلک آیات الکتاب اور الذی انزل الیک من ربک دونوں سے ایک چیز مراد نہیں لی جاسکتی ۔ دونوں کے دو مفہوم ۔ آیٰت الکتاب خاص ہے اور الذی انزل الیک من ربک عام ہے جس میں آیٰت الکتاب بھی داخل ہیں دونوں کے درمیان وائو اضراب بھی کہا جاسکتا ہے ” بلکہ ” کے معنیٰ میں ، یعنی آیت کا ترجمہ یوں کیا جائے تو نامناسب نہ ہوگا ، ” یہ آیتیں ( جو یہاں سے آخر سورة تک چلی گئی ہیں ) جو کتاب اللہ کی آیتیں ہیں ، یہی نہیں بلکہ ان کے علاوہ جو کچھ بھی تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے ، سب برحق ہیں وائو عطف اضراب کے لیے قرآن مجید میں متعدد جگہ آیا ہے جیسے :
وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ 
تم نہیں ہوتے کسی کام میں اور نہیں ہوتے اس ( کتاب ) سے کچھ قرآن پڑھتے بلکہ نہیں ہوتے کسی عمل کو بھی کرتے ہوئے کہ ہم موجود ہوتے ہیں جس وقت اس میں تم لوگ مشغول ہوتے ہو ۔ ” (یونس : ٦١ )
اس آیت کریمہ میں ولا تعلمون پر وائو اضراب ہی کے لیے ہے بلکہ کے معنیٰ میں ۔ اسی طرح او بھی اضراب کے لیے آتا ہے جیسے- تاب قوسین او ادنیٰ -میں او بلکہ ہی کے معنیٰ میں ہے اضراب کے لیے لایا گیا ہے ان کے علاوہ اور بھی بہت سی مثالیں میرے ذہن میں ہیں ۔ 
جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، شعبان معظم 1433ھ/ جون، جولائی 2012- سے ماخوذ ہے۔ 


 حواشی

(١) وائو اضراب کے لیے بھی بلکہ کے معنی میں بھی آتا ہے قرآن میں متعدد جگہ وائو اور اَوْ اضراب کے لیے ” بلکہ ” کے معنی میں آیا ہے آگے ایک اور آیت میں ہے ۔
(٢) اس چودھویں صدی ہجری میں ایک مدعی نبوت جو اپنے آپ کو امتی نبی و ظلی و بروزی نبی کہتے تھے اللہ تعالیٰ سے ” عریاں مکالمہ ” کے مدعی تھے ان کی تصنیفات میں ان کا یہ دعویٰ بڑے زوردار الفاظ میں موجود ہے معلوم نہیں ” عریاں مکالمہ ” سے ان کی کیا مراد ہے ۔ یہ کچھ عجیب و غریب لفظ بھی ہے ۔ یعنی قرآن مجید کی مذکورہ آیت میں مکالمہ نبی کی جو تین صورتیں بتائی گئی ہیں ان میں سے کسی صورت کو ” عریاں مکالمہ ” نہیں کہہ سکتے ۔ مجھ پر ان کے جھوٹے دعویٰ کی حقیقت پہلے پہل ان کے ” عریاں مکالمہ ” ہی کے دعویٰ سے واضح ہوگئی تھی ۔