تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش


تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش

کو پڑھنا جاری رکھیں

جنگوں کے سوداگر


تبصرہ کتب ٢ 

جنگوں کے سوداگر

از: مسعود انور

معراج ایڈورٹائزرز ، 107-k ، بلاک ٢ ، سنگم شاہراہِ قائدین و خالد بن ولید روڈ ، پی ای سی ایچ ایس ، کراچی 021-34555764

مسعود انور پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ان کی پہلی کتاب ہے ۔ جسے صحافت اور تحقیق کا امتزاج قرار دیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے تحقیق کا فریضہ ذمہ داری سے انجام دیا ہے اور صحافتی ذمہ داری انجام دیتے ہوئے مختصر لیکن کام کی بات ذکر کی ہے ۔ تاریخ کا گہرا مطالع کرکے انہوں نے اس بحرِ ذخّار سے گہر آبدار نکالا ہے ۔

ہمارے یہاں تاریخ سے سبق لینے کی روایت نہیں رہی ۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو دہراتے چلے جا رہے ہیں جنہیں ہم صدیوں پہلے انجام دے چکے ہیں ۔ مولف نے تاریخ کو سرسری انداز میں پیش نہیں کیا ہے بلکہ وسیع مطالعے کے بعد اس کے گمشدہ پہلوئوں کو بے نقاب کیا ہے اور اس سے نتائج اخذ کیے ہیں ۔ خوشی کی بات ہے کہ مولف نے حقیقت نگاری کی ہے ۔ تاریخ کے اہم ترین انقلابات کے پس پردہ حقائق کو جیسا دریافت کیا ویسا ہی بیان بھی کردیا ۔ انقلاب برطانیہ ، انقلاب فرانس ، امریکی انقلاب ، روسی انقلاب ، سلطنتِ عثمانیہکا خاتمہ اور ہسپانوی انقلاب کی اصل حقیقت بیان کی ہے ۔ مولف نے بیان حقیقت کے لیے کسی مصلحت پسندی کو عذر نہیں بنایا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بہت سی باتیں انکشافات محسوس ہوں گی ۔ مثال کے طور پر
جمال الدین افغانی سے متعلق جو ناقابلِ تردید حقائق اب منظرِ شہود پر آ رہے ہیں ان سے مولف کی تائید ہوتی ہے ۔

مولف نے عالمی جنگوں اور ان کے اسباب پر بھی روشنی ڈالی ہے اور انہیں تیسری عالمی جنگ کے خطرے کا بھی پورا ادراک ہے ۔ دنیا میں جو اس وقت مالیاتی سازش اپنے عروج پر ہے کتاب میں اس پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔

تمام تر خوبیوں کے باوصف کتاب میں حوالوں کی عدم موجودگی نے کتاب کے استنادی معیار کو سخت مجروح کیا ہے ۔ صحافت اور تحقیق کے تقاضے مختلف ہیں ۔ یہ کتاب ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ موضوع پر لکھی گئی ہے ، اس میں حوالوں کا خصوصی اہتمام ہونا چاہیئے تھا ۔ گو یہ درست ہے کہ مولف نے جو نکات پیش کیے ہیں ان کی تائید دیگر تحریری حوالوں سے ہوجاتی ہے لیکن حوالوں کا اہتمام کتاب کو مزید اعتبار عطا کرتا ۔
کتاب ایک انتہائی اہم موضوع پر قابلِ قدر کاوش ہے ۔ اس کا مطالعہ ہر اعتبار سے مفید رہے گا اور چشم کشا ثابت ہوگا ۔
ابو محمد معتصم باللہ

اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھے گا، شاہ فیصل شہید


الواقعۃ شمارہ نمبر ٢ 

سعودی عرب کے شہید فرمانروا شاہ فیصل کا ایک تاریخی انٹرویو

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل شہید نے ستمبر١٩٧٠ء میں (جب اردن میں عرب بالخصوص فلسطینی مجاہدین کی نسل کشی کی جارہی تھی) امریکی رسالے” رانٹر پلے” کے نمائندے ٹام دمان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ” مقبوضہ عرب علاقوں اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے اسرائیل کے خلاف جہاد کیا جائے۔ انہوں نے اسرائیل کی ہٹ دھرمی، غرور اور توسیع پسندانہ عزائم کی بنا پر عربوں اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت کو خارج از امکان قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک اسرائیلی جارحیت کی روک تھام اور اسے معقول رویہ اختیار کرنے کے لیے طاقت استعمال نہیں کی جائے گی ، اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں مفاہمت نہیں ہوسکتی۔شاہ فیصل نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے اسرائیل پر معقول رویہ اختیار کرنے اور دوسرے عرب علاقے خالی کرنے کے لیے دبائو نہ ڈالا تو عوام مجھے مجبور کردیں گے کہ میں دوسرے عرب سربراہوں کی طرح روس کی حمایت حاصل کروں۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تمام مسائل اور مشکلات کی وجہ کمیونزم اور صہیونیت ہیں۔ شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ سعودی عرب بیت المقدس کے بارے میں کوئی سودے بازی قبول نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر ان تمام لوگوں کے لیے صدیوں کھلا رہا جن کے مقامات مقدسہ وہاں واقع ہیں، اس لیے اب اسے بین الاقوامی شہر قرار دینے کا کوئی جواز نہیں۔ شاہ فیصل نے یہ بات اعلانیہ طو رپر کہی کہ ہم فلسطینی حریت پسندوں کی بھرپور حمایت اور مدد کرتے ہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں جو اپنے وطن کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں، انہیں طاقت کے بل پر ان کے گھروں سے نکال پھینکا گیا ہے،اس ظلم کے خلاف ان کی جدوجہد جائز اور منصفانہ ہے۔”

(بحوالہ: روزنامہ ”جسارت” کراچی مورخہ ٢ ستمبر١٩٧٠ء ) 

وہاں بدلتا ہے لحظہ لحظہ یہاں بدلتا نہیں ہے زمانہ


 

الواقعۃ شمارہ نمبر 2

 
 محمدجاویداقبال
 
وہاں بدلتا ہے لحظہ لحظہ یہاں بدلتا نہیں ہے زمانہ
 

وہاں بدلتا ہے لحظہ لحظہ یہاں بدلتا نہیں ہے زمانہ

اقبال کا یہ مصرع وطن عزیز کی صورتِحال دیکھ کر یاد آیا۔ جس ذہنی مرعوبیت اور نقالی کاذکر اکبر الہ آبادی نے کیا تھا اور جس کی مذمت اقبال تمام عمر کرتے رہے وہ اب ہمارے رگ و پے میںسرایت کرچکی ہے۔ اس لیے کہ نہ صرف ہمارا تعلیمی نصاب بلکہ میڈیا بھی سو فی صد مغرب کی عکاسی کررہا ہے۔ لہٰذا ہماری نئی نسل اور خواتین جو زیادہ تر وقت ٹی وی کے سامنے گذارتی ہیںایک سیلِ بے پناہ کی زد میں ہیں۔دور غلامی میںایک آدھ نواب یا رئیس کا بچہ تعلیم حاصل کرنے انگلینڈجاتاتھا۔ آج پاکستانی بچے اس کثرت سے آکسفورڈ اور کیمبرج پڑھنے جارہے ہیں کہ برطانیہ کی قومی آمدنی کا ٣٨ فیصد پاکستانی نوجوانوں کو تعلیم دینے سے آتا ہے۔ اگر یہ مدرسے ہم خود قائم کرتے تو ہمارے کتنے ٹیچرز کو روزگار ملتا اور ہم انھیں اپنے دین اور عقائد کے مطابق تعلیم دیتے۔ لیکن آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہماری ذہنی غلامی نہیں گئی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیںکہ وہاں و ہ جس بے راہ روی کے ماحول میںتعلیم حاصل کرتے ہیںوہ انہیں اسلامی اقدار سے بیگانہ کردیتی ہے۔ خود پاکستان میں جن اداروں میں برطانوی تعلیم دی جارہی ہے وہاں اسی طرح کو ایجوکیشن ہے اور وہی اخلاق باختہ ماحول ہے جہاں لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو ہگ کرتے ہیں اور کِس کرنے میں بھی تکلف نہیں کرتے۔
 
اِسی طرح ہمارا میڈیاخود ہمارے خرچ پر ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو بے غیرت بنارہا ہے۔ مثلا ً موبائل کا اشتہار ہی دیکھ لیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اس سہولت کی بدولت ایک الکٹریشین یا پلمبرکو کام میں آسانی ہوئی ہو اور اس کا بزنس بڑھ گیا ہو۔ یا کسی سیلزمین کو زیاد ہ آڈر مل سکے ہوں۔ موبائل فون کا پہلا اور آخری کام یہ ہے کہ وہ نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو آپس میں دوستی کرنے میں بہترین معاون بن سکتاہے۔ ہر اشتہار کا زور اسی ایک سہولت پر ہے۔ آج پاکستان کے ہر گلی کوچے میں کوئی نہ کوئی فرد موبائل اٹھائے بات کرتا نظر آتا ہے۔ہم نے ضرورت سے کہیں زیادہ موبائل امپورٹ کرلیے ہیںاور نہ ان کی ٹکنولوجی حاصل کی ہے اور نہ مقامی مینوفیکچرنگ کے حقوق۔جو کچھ ہمیں ملا ہے وہ اخلاق باختگی اور بے راہ روی ہے۔ نوجوانی کا زمانہ تعلیم وتربیت حاصل کرنے کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ مگر جہاںصنفی اختلاط کو فروغ دیاجارہا ہووہاںپڑھنے کی فرصت کس کافر کو ہے؟ اقبال اور اکبر کو عرصہ ہوا تعلیم سے دیس نکالا دیا جاچکا ہے۔ پس کوئی نہیں ہے جو انہیںیاد دلاسکے:
کبھی اے جوانِ مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے پالا ہے اس قوم نے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پائوں میں تاجِ سرِدارا
لہٰذا ہمارا تعلیمی نظام اور میڈیا نہ صرف ہمیں حقائق سے بے خبر رکھ رہے ہیں بلکہ ہم سے ہماری اخلاقی اور روحانی اقدار بھی چھین رہے ہیں۔تاکہ ہم ایک روبوٹ کی طرح نیو ورلڈ آڈر پر عمل کرسکیں۔ لیکن میڈیا کی مضرتیں یہیں تک محدود نہیں ہیں۔امریکی محاور ہ ہے کہ ایک برا نام دو اور اسے آسانی سے ہلاک کردو۔ بین الاقوامی میڈیا اسی کام میںمحو ہے۔وہ ہر مسلمان کو بنیاد پرست، قرانِ کریم کو جنگ پر اکسانے والی کتاب اور رسول ِمقبول ۖ کو ایک جنگجو رسول بناکر پیش کررہے ہیں۔وہ دینی جماعتیں جو اسلامی نظام کااحیاء چاہتی ہیں بنیاد پرست ہیں۔ جو جماعتیں کشمیر میں رائے شماری اور اس کی آزادی کے لیے کام کررہی ہیںوہ انتہا پسند اور جنگجو جماعتیں ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں امریکہ نے جماعت الدعوة کے امیر پر وفیسر حافظ سعیدکے سر کی قیمت مقرر کی ہے۔ بہت سے پاکستانی نہیںجانتے کہ دنیا کا ٩٦ فیصد میڈیاصرف ٦ یہودی میڈیا کمپنیز کی ملکیت ہے۔ جن کے ذمے یہ مشن ہے کہ مسلمانوں سے نفرت کو فروغ دو۔ ہمارے کالم نگاروں، مدیروں اور اینکرز پرسنز نے جس سرعت سے امریکی نکتہ نظر کو اپنایا ہے اس کی داد نہ دینا ظلم ہوگا۔ محض چند ٹکڑوں کے لیے انھوں نے حب الوطنی اور خدا پرستی کو ترک کرکے امریکہ سے وفاداری اختیار کرلی اور اپنی روح شیطان کو فروخت کردی اور یہ ہمارا سب سے ذہین طبقہ تھا۔ ہمارے میڈیا کی یہی چالاکی ملاحظہ ہو کہ امریکہ ایک درجن سے زیادہ مسلم ممالک پر حملہ آور ہوچکا ہے اور فقط افغانستان اور عراق میںوہ تیس لاکھ کے قریب مرد و زن کو ہلاک اور لاکھوں کو معذور بنا چکا ہے۔ لیکن ہمارا میڈیا اسے اسلام کے خلاف جنگ کا نام نہیںدیتا۔ بلکہ اسے مسلمانوں کی انتہا پسندی قرار دیتا ہے کہ کیوں خوامخوہ اپنی جانیںگنوا رہے ہیں اور چپکے سے ہتھیا ر ڈال کیوں نہیں دیتے۔
 
پس چہ باید کرد۔ اتنی تاخیرہوجانے کے بعد کیا کیا جاسکتا ہے؟میری ناچیز رائے میں ہمیںسب سے پہلے اپنامتبادل پریس قائم کرنا چاہیے۔ خواہ وہ فوٹو اسٹیٹ کیے جانے والے چند صفحات پر ہی مشتمل کیوں نہ ہو۔انٹرنیٹ کی چند سائٹس اور بلاگز عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ ہمارے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ صرف نوجوانوں کو حالاتِ حاضرہ سے باخبر رکھنا ہوگا۔ پھر وہ اپنا لائحہ عمل خود بنالیں گے۔ مگریہ کام فوراً سے پیش تر کرنا ہوگا۔اس لیے کہ وقت بالکل نہیں رہا ہے۔
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔

مولانا عبد الحلیم شرر اور ان کی کتبِ سیرت


الواقعۃ شمارہ نمبر 2

محمد ساجد صدیقی 

 
مولانا عبدالحلیم شرر ١٨٦٠ء میں مشہورادبی شہر لکھنؤ کے محلہ جھنوائی ٹولہ میں پیدا ہوئے ۔آپ کا سلسلہ نسب عباسی خلیفہ امین الرشید سے جا ملتا ہے ۔یعنی آپ ہاشمی و عباسی ہیں ۔ [تراجم علمائے حدیث ہنداز ابو یحیٰ امام خان نوشہری : ٥٢٢]۔ مختصر شجرہ نسب یوں ہے۔عبدالحلیم شرر بن تفضل حسن (عبدالرحیم ) بن مولوی محمد بن مولوی نظام الدین۔

[عبدالحلیم شرر بہ حیثیت ناول نگار از ڈاکٹر علی احمد فاطمی بحوالہ دلگداز۔جنوری ١٩٣٣ء ص١١]۔
 
سات یا آٹھ برس کی عمر میں ان کے والد نے انہیں لکھنؤ(جہاں وہ اپنی والدہ کے پاس تھے۔) سے اپنے پاس بغرض تعلیم کلکتہ بلوالیا۔اس طرح انہیں انتہائی کم عمری میں ہی والدہ کی گوشئہ عافیت سے دور ہونا پڑا۔عبد الحلیم شرر مٹیابرج میں انتہائی تیزی اور ذہانت سے دینی علوم حاصل کرنے لگے۔وہیں ان کو شہزادوں کی صحبت میسر آئی۔جہاں سے کچھ خرافات کا اثر ان کے اخلاق میں پڑا مگر ان کی ادبی شوق و ذوق کی بھی تر بیت یہاں ہی ہوئی ۔خراب صحبت کی وجہ سے والد نے انہیں دوبارہ لکھنؤ بھیج دیا۔لکھنؤ میں انہوں نے مشہور عالم علّامہ ابو الحسنات عبدالحی حنفی لکھنوی سے بعض کتبِ درسیہ کی تحصیل کی ۔پھر ایک شیعہ عالم حامد حسین کے پاس بغرض علم ملازمت کی۔
 
عبدالحلیم شرر کی زندگی میں اصل انقلاب اُس وقت آیا جب مولوی نور محمد صاحب ملتانی تلمیذ مولانا عبدالحی سے شرح نخبہ پڑھی اور جامع ترمذی کے پڑھنے کے دوران ہی ان کے قلب میں علم حدیث کی محبت اتنی شدت سے بڑھی کہ آپ شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے حلقہ درس میں شامل ہونے کے لیے دہلی پہنچ گئے اپنے شوق و جستجو کی بدولت صرف ڈیڑھ سال میں صحاح ستہ، موطا امام مالک اور تفسیر جلالین پڑھ کر واپس اپنے وطن لکھنؤ پہنچے۔[تراجم علمائے حدیث ہند]
 
مولانا کی پہلی دینی اور ادبی خدمت شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی مایہ ناز کتاب ”کتا ب التوحید ”کا اُردو میں ترجمہ ہے۔ [ماہنامہ ”دلگداز” نومبر ١٩٣٣ء بحوالہ عبدالحلیم شرربحیثیت ناول نگارازڈاکٹر علی احمد فاطمی].
 
”کتاب التوحید”سے اپنی علمی اور تصنیفی زندگی سے ابتداء کرنا ان کے لیے بہت مبارک اور باعثِ برکت ثابت ہوا۔ دہلی ہی میں انہیں مضمون نگاری کا شوق ہوا۔اِس کے علاوہ انہوں نے شاعری بھی کی اور اپنا تخلص”شرر”رکھا۔ پھر وہ اودھ اخبار میں بحیثیت سب ایڈیٹر ملازم ہوگئے۔جہاں انہوں نے مختلف علمی ، دینی، ادبی اور فلسفیانہ مضامین لکھے۔ اس طرح اُن کے اسلوب تحریر اور ذوق ادب میں نکھار پیدا ہوا۔
 
مولانا کی شہرت کا اہم سبب ناول نگاری ہے۔اُ ن کے ناولوں نے بالخصوص تاریخی ناولوں نے اردو ادب کو ایک نئی جہت دی۔انہوں نے تاریخی واقعات خصوصاًاسلامی تاریخی واقعات کو ناولوں کے ذریعے اس عمدگی سے بیان کیا ہے کہ قاری محسوس کرتا ہے کہ وہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہاہے۔مولانا نے متعدد ناول اور مضامین کے علاوہ سوانح عمری ، کتبِ تاریخ ،ڈرامے اور منظومات بھی لکھیں ۔جن کی تعداد تقریباً١٠٠ ہیں۔اردو ادب کے اس بے نظیر ادیب نے ١٧جمادی الثانی بروز جمعہ بمطابق ١٠ جنوری ١٩٢٦ء میں اس دنیائے فانی کو خیر باد کہہ دیا۔انا للہ واناالیہ راجعون۔ [عبدالحلیم شرر بہ حیثیت ناول نگار از ڈاکٹر علی احمد فاطمی ص١٤٦ ، انجمن ترقی اردو پاکستان ،کراچی]
 
مولانا شرر نے اپنی پوری زندگی تاریخ و ادب اسلامی کے لیے وقف رکھی ۔ افسوس ہے کہ ایسے جلیل القدر ادیب کی ہماری علمی دنیا نے قدر نہیں کی ۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی لکھتے ہیں :
"آج بازار میں شرر صاحب کا نام ماند پڑگیا ہے ، کل ” حشر و الے کل ” سے قبل ہی انشاء اللہ اسی دنیا میں پھر ابھرے گا ، جس وقت مسلمان اپنے خادموں کی تاریخ مرتب کرنا شروع کریں گے ۔ ” [معاصرین : ١١٨]

عبدالحلیم شرر کی کتب سیرت کا ایک جائزہ

 
ہمیں عبدالحلیم شرر کی سیرت مبارکہ ۖ کے متعلق تین کتب کا علم ہوسکا ہے۔
 
(١)جو یائے حق
(٢)ختم المرسلین
(٣)ولادت سرور عالم 
 

جو یائے حق

جو یائے حق ایک تاریخی ناول ہے ۔جس کا بنیادی کردار حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ذات گرامی کو بنایاگیاہے۔اس ناول میں حضرت سلمان فارسی خطوط کے ذریعے (جو وہ ایک عیسائی عالم ”بحیرا”کو لکھتے ہیں)نبی کریم  ۖ کی پوری حیات مبارکہ ،عربوں کا طرز زندگی ،نبی کریم  ۖکا حسن سلوک، یہودیوں کی چالبازیاں ،صحابہ کا نبی کریم ۖسے والہانہ محبت ، جنگوں میں مسلمانوں کی بہادری و آرزوئے شہادت، فتح مکہ، نبی کریم ۖ کا وصال ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے حالات اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور ِخلافت کو بھی بیان کیا ہے۔
 
ناول ہونے کی وجہ سے” جویائے حق ”میں منظر نگاری اور تخیلاتی جھلک موجود ہے لیکن عبدالحلیم شرر نے تاریخی واقعات کو عمدگی سے تخیل چمن سے سجاکر انتہائی مہارت سے پیش کیا ہے اور تاریخی واقعات کو تخیلات میں ضم ہونے سے بچالیا ہے۔ڈاکٹر علی احمد فاطمی لکھتے ہیں:

”یہ ناول جو دراصل ناول نہیں ہے بلکہ ایک مکمل تاریخی کتاب ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ٹھوس تاریخیت زیادہ ہے اور قصہ پن کم اس کی وجہ اس موضوع کی نزاکت ہے۔تاریخی مقصد کو ناول کی شکل دینے کے لیے تخیل کی نیرنگیاں دکھانا لازمی ہے۔لیکن اس مقدس و محترم موضوع میں تخیل کی باگ ڈور کو پورے ہوش و ہواس کے ساتھ قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔اس وجہ سے یہ ناول کم ایک تاریخی کتاب زیادہ ہے۔سیدھی اور ٹھوس عالمانہ قدروں سے بھرپور ایک مذہبی کتاب۔”[عبدالحلیم شرر بہ حیثیت ناول نگار ص٢٩٧]

” جویائے حق ” کے متعلق مولانا حسن مثنیٰ ندوی لکھتے ہیں:

”ہم مولانا عبدالحلیم شرر کی ضخیم کتاب ”جویائے حق”کو نظر انداز نہیں کرسکتے جو اپنے طرز کی نرالی کتاب ہے ۔ اس میں انہوں نے حضرت سلمان فارسی کی زندگی اس انداز میں پیش کی ہے کہ ان کی زبان سے سیرت نبوی نہایت ہی موثر انداز میں بطرز ناول بیان ہوجاتی ہے اور پڑھنے والا اسے ختم کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔”[برصغیر کے خادمین سیرت مشمولہ مضمون کتاب ” پیغمبر انسانیت ” از مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی]

ولادت سرور عالم ۖ 

یہ رسالہ امام ابن جوزی کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ [تراجم علمائے حدیث ہند از ابو یحیٰ امام خان نوشہروی : ١/ ٥٤١]
 

خاتم المرسلینۖ

 ابو یحییٰ امام خان نوشہری نے مولانا عبدالحلیم شرر کی تاریخی کتب میں اسے شامل کیا ہے۔ تفصیلات کا علم نہیں ہوسکا۔[تراجم علمائے حدیث ہند:٥٤١]
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔

غیر مسلم ممالک میں سکونت: ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ


الواقعۃ شمارہ نمبر ٢ 

ابو موحد عبید الرحمن


تاریخِ اسلامی کے اوراق اس فطری حقیقت پر شاہد ہیں کہ اس کے باسیوں نے بغرضِ معاش دیارِ اسلامی کو ترک کرکے دیارِ کفر میں کبھی دائمی سکونت اختیار نہیں کی ۔ لیکن عصرِ جدید کی جدت کے جہاں اور غیر فطری عجائب ہیں ، وہیں یہ عجوبہ بھی گاہے بگاہے مشاہدہ میں آتا رہتا ہے کہ تلاشِ معاش کے لیے لوگ اپنا خطہ چھوڑنے پربخوشی راضی ہیں ، جو کہ ایک غیر معمولی امرِ واقعہ ہے ۔ اس غیر معمولی امرِ واقعہ کا سبب ہمیں اسلامی تاریخ میں ایک غیر معمولی ” فکری تغیر ” ملتا ہے اور یہ فکری تغیر اسلامی تصورِ علم کا مغربی تصورِ علم سے تبدیل ہوجانا ہے۔

 مغرب کا عنوانِ علم ” مادیّت ” (Materialism) اور اس کے ارتقاء اور ترقی کے لیے اساس ” تشکیک ” (Spritualism) اور اس کی بنیاد ” ایمان ” (Faith)کو قرار دیا گیا ہے ۔ یوں اسلام اور مغرب کا تصورِ علم ایک دوسرے کی ضد پر قائم ہے یعنی کسی ایک کا اقرار ، دوسرے کے انکار کو  مستلزم ہے ۔ علمیت کے اس مخصوص سانچہ سے جو ” شخصیت ” اور ” تصورِ ترقی ” برآمد ہوتا ہے ، وہ بھی باہم متضاد ہیں ۔ اسلامی علمیت (Islamic Epistemology) سے برآمد ہونے والی شخصیت ، اپنے تاریخی پسِ منظر سے وابستہ ، خاندانی نظام سے پیوستہ اور آنے والی نسل کو یہی اقدارِ سلف منتقل کرنے کے لیے کمربستہ ہوتی ہے ۔ مغربی علمیت (Western Epistemology) سے برآمد ہونے والی شخصیت کے پاس تشکیک سے بالا وہ یقینی تاریخی نکتۂ آغاز ہے ہی نہیں جہاں سے وہ اپنے فکری سفر کا آغاز کریں ۔ اسی لیے وہ خود اپنی تاریخ کو تاریکی (Dark Ages) سے تعبیر کرتے ہیں اور جبھی ان کے یہاں اہلِ اسلام کے بَر خلاف سائنسی تجربہ (Scientific-experiment) کو تاریخی تجربہ (Historical-experiment) پر ہر زاویہ ہائے نظر سے فوقیت حاصل ہے ۔ شخصیت کے اس تقابل کے بعد اسلامی و مغربی تصورِ ترقی کے مابین فرق کو بھی ملحوظِ خاطر رکھیے ۔ مغرب کا تصور ترقی ” آگے اور آگے ” پر مبنی ہے کیونکہ پیچھے Dark Ages ہیں جبکہ اسلامی تصور ترقی ” پیچھے اور پیچھے ” پر مبنی ہیں کیونکہ آگے وہ پُر فتن احوال جو قرب قیامت واقع ہونگے اور پیچھے وہ ” خیر القرون ” ہے جسے ہم مثالی دور سے تعبیر کرتے ہیں اور دکھی انسانیت کے لیے اس دور کو دکھوں کا مداوا سمجھتے ہیں ۔ 

مگر برطانوی سامراج کے تسلط کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ برصغیر میں مغربی علمیت کا غلبہ ہوتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں یہ نقصان تو ہوا ہی کہ سلطنت اسلامیہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی ، لیکن اسی کے ساتھ علّامہ مودودی دہلوی علیہ الرحمة کی زبان میں وہ شاہِ کلید (Master-key) جس سے ہر شکستہ باب مفتوح ہوجاتا تھا یعنی ” اسلامی علمیت ”، وہ بھی اہلِ ایمان کے ہاتھ سے چھین لی گئی ۔ اس کے نتیجہ میں جو ” ذہنی ارتداد ” مسلم معاشرے میں وبائی امراض کی طرح پھیلا اس کے سبب مسلمانوں کا تصورِ ترقی نہ صرف مسخ ہوکر رہ گیا بلکہ محرف قرار پایا کیونکہ اب وہ مغربی تصور ترقی کے قائل ہوگئے تھے ۔ انہیں ان کے ماضی سے دلبرداشتہ کردیا گیا تھا ۔ جبکہ پہلے وہ ” ماضی” کے خیال و خامہ سے” آج ” کی تصویر کو رنگتے تھے ، اسلاف کی یادوں سے اپنے قلوب کو گرماتے اور تڑپاتے تھے ، قرطبہ و غرناطہ ان کی یادوں میں بستا تھا ، وہ نیشاپور کی فضائوں میں سانس لیتے تھے اور ہر فتح و شکست کے بعد ماضی کے انہی دریچوں سے فکری و روحانی غذا پاتے اور پھر فضائے بدر پیدا کرنے کے لیے معرکۂ حق و باطل میں بے دریغ کود پڑتے تھے ۔ لیکن اب وہ اپنی فکر کی اس جلالت و للّٰہیت سے غلام ابن غلام ہونے کی وجہ سے تنفر برتنے لگے تھے ۔ وہ ماضی کی طرح ماضی کو حال کا مقدمہ بنانے کے بجائے حال کو مستقبل کا مقدمہ بنانے لگے تھے کیونکہ وہ مغربی تصورِ ترقی ” آگے اور آگے ” کے قائل ہوگئے تھے ۔ اس تصورِ ترقی نے مسلمانوں کو ان کی تاریخ سے کاٹ کر انفرادیت پسندی (Indiviualism)کا خوگر بنایا تاکہ وہ طاغوت کے اس نظام میں Carreristic ہونے کے لیے Futuristicہوسکیں ۔ اس تصور علمیت نے امت مسلمہ کا سوچنے تک کا زاویہ ہائے نظر تبدیل کردیا اور اب وہ اپنی مرضی سے سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔ چنانچہ اب درہم و دینار کی چاہ نے ” فلسفۂ تدبیر ” کو ” فلسفۂ تقدیر ” پر برتری دینے کی ٹھانی ، ” کامیاب انسان ” کی اصطلاح ” اچھے انسان ” کا نعم البدل قرار پائی ۔ ” زہد و قناعت ” پر زیادہ سے زیادہ تسکین (Maximum Satisfaction)کو ترجیح دی گئی ،     ” عارف ” کو غیر متعلق (unrelevent)اور ” صارف ” کو (relevent)قرار دیا گیا اور یوں ” روح ” کی حفاظت سے زیادہ اہم شہ ” زندگی ” کی حفاظت قرار پائی ۔ یہ سب کچھ ہوا تاکہ معیار زندگی (Standard of living)بلند ہوسکے اور ہم یہ بھول گئے کہ ” معیار ” (Standard)،    ” اقدار ” (Values)کو بدلنے میں کچھ دیر نہیں لگاتا ۔ 

دراصل اہلِ مغرب اس حقیقت واقعہ سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کے وضع کردہ نظام میں کسی بھی نظریہ کی نظریاتی اساس کو مادیت میں منقلب (Transform) کرنا بآسانی ممکن ہے اور اس کا عملی طریقہ کار (Practical Methodology)یہی ہے کہ معیارِ زندگی کو مستقل طور پر بڑھایا جائے ، جس کے نتیجہ میں ” معیار ” خود بخود ” قدر ” کو بدل دے گا (١)۔یہی  وجہ ہے کہ مشہور امریکی معیشت داں والٹ روسٹو Walt Rostow (1916-2003)مذہبی و تہذیبی اقدار کی پابند اقوام کے ترقی نہ کرنے کی اور ان کے معیارِ زندگی کے بلند نہ ہونے کا سبب انہی اقدار (Values) اور معاشرتی اداروں ( مثلاً خاندان ، مسجد ، مدرسہ وغیرہ ) کو قرار دیتا ہے ۔ انتھونی گڈن Anthony Gidden لکھتا ہے :

"According to Rostow (1961), the traditional cultural values and social institutions of low-income countries impede their economic effectiueness.” (Sociology : 549)

” معیارِ زندگی ” میں اضافہ کا سب سے مؤثر اور نمایاں طریقہ جو اہلِ یورپ نے متعارف کرایا ہے ، وہ بغرضِ معاش یورپ کی سرمایہ دارانہ ریاستوں میں منتقل ہوجانا ہے ۔ اپنے دیار کو بحالتِ مجبوری دین کے لیے ترک کردینے کا تصور ہجرت (Migration)تو اسلام میں موجود ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کا پیدا کردہ یہ تصور جسے یہ نظام Immigration کا نام دیتا ہے ، اسلامی تاریخ کے لیے ایک اجنبی تصور اور اصطلاح ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام اس تصور کو تبدیلیِ اقدار بذریعۂ معیار میں اس لیے سب سے زیادہ معاون خیال کرتا ہے کہ یہاں تبدیلیِ اقدار میں وہ مذہبی اور خاندانی صف بندی اور وہ پورا Social Febricیکسر مفقود ہوتا ہے جو آج بھی ہمارے ” اسلامی معاشرے ” میں نہ صحیح ” مسلم معاشرے ” ہی میں صحیح ، بڑی حد تک مضبوط ہے ، اور کسی بھی قسم کے متجددانہ زاویۂ ہائے نظر (Modernist Mind Set) کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ جبکہ وہ احباب جو ان معاشروں سے مغرب منتقل ہوتے ہیں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو مجبور پاتے ہیں کہ قدر کو قدر کے ذریعے تبدیل کریں تاکہ معاشرہ انہیں قبول کرسکے ۔ احوالِ مغرب ، رویے ، طرزِ معاشرت ، قوانین ، حکومتی حلف اور پورا یورپین فریم ورک (European Frame Work) ضمیر کو کچھ اس طرح مجبور کرتا ہے کہ ایک معصوم نفس اپنی ایمانی قدر کو مادی قدر سے تبدیل کرلیتا ہے ۔ رہی سہی اقدار جو بچ جاتی ہیں انہیں معیارِ زندگی رفتہ رفتہ تبدیل کرنا شروع کردیتا ہے ۔ یوں معیار زندگی کا مغربی فلسفہ مشرقی حدود اربعہ سے نکل کر جب خود مغرب میں متحرک ہوتا ہے تو اس کے تحرک میں اس درجہ شدت آجاتی ہے کہ وہ اپنے عملی اطلاق سے پہلے ہی قدر کو قدر کے ذریعہ تبدیل کردیتا ہے ، اور تبدیلیِ اقدار بذریعہ معیار اس کے پاس ایک اضافی آپشن ہوتا ہے ۔ اس لیے مسلم ممالک کو جو ترک کرکے دیارِ یورپ میں جا بستے ہیں ان کا ایمان یقینا خطرے میں ہوتا ہے کہ اب وہ Mixed Economy System سے Capital System میں منتقل ہوچکے ہوتے ہیں جو کہ اس دور میں کفر کا امام ہے ۔ یہی وہ علت ہے کہ جس کے سبب اسلامی معاشرے ہی کو نہیں مسلم معاشرے کو بھی سرمایہ دارانہ معاشرے پرترجیح حاصل ہے ۔ شریعتِ مطہرہ جبھی مسلمانوں کو ہر حال میں دارالکفر ترک کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، اور علماء حق کے مابین یہ متفق علیہ و اجماعی مسئلہ ہے لیکن افسوس صد افسوس بعض تجدد کے پیکر اس اتفاقی مسئلہ میں بھی تشکیک پیدا کر رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ کفار ہمیں اپنے ملکوں میں فریضۂ عبادت بجا لانے کی آزادی تو دے رہے ہیں ۔ اس پر اس کے سوا کیا تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ 

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد


اپنے اسلاف کی بصیرت جب اغیار کے یہاں پڑھتے ہیں تو اپنے آباء پر بڑا رشک آتا ہے ۔ برنارڈ لیوس  ( Bernard Lewis ) نے اپنی کتاب Poliitical Language of Islamمیں لکھا ہے کہ جب اٹلی کے نیچے کا جزیرہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا تو تاریخ اسلامی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کوئی دارا لاسلام ،دارا لحرب بنا ہو ، ورنہ پہلے دارالحرب دارا لاسلام بنا کرتے تھے ۔ اس موقع پر جب ان علاقوں کی شرعی حیثیت کی بابت اس دور کے علماء سے ( یعنی ائمہ متقدمین ) سوال ہوا تو انہوں نے یہ بصیرت افروز فتاویٰ جاری کیا کہ اگر ان مقبوضہ علاقوں میں امت مسلمہ کو عبادات کی اجازت نہیں تو پھر ہجرت واجب ہے اور اگر کفار نرمی برتیں اور عبادات کی ادائیگی کی اجازت دے دیں تو ہجرت واجب ہی نہیں واجب تر قرار پائے گی ۔ کیونکہ اس کا مقصد مسلمانوں کو اپنے نرم رویہ سے ارتداد کا مرتکب بنانا ہے ۔ تعجب ہے ان نفوسِ قدسیہ کی بصیرت پر جنہوں نے ایک دن بھی کسی کالج اور یونیورسٹی کی شکل نہیں دیکھی مگر پھر بھی اغیار کی سازش کو اپنے اعمال صالح سے برآمد ہونے والے وجدان سے بھانپ لیتے تھے اور آج کے یہ متجددین ہیں جو اپنے تئیں بڑے پڑھے لکھے ہیں لیکن پھر بھی تبدیلیِ اقدار بذریعۂ معیار کی واضح سازش کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ بہرحال جب دار الکفرمیں سکونت کو اللہ اور اس کے رسول ۖ ممانعت فرما چکے ہوں تو اس حوالے سے مزید کسی قیل و قال کی حاجت نہیں رہتی ۔ اس حوالے سے بعض نصوصِ شرعیہ پیشِ خدمت ہیں ۔ 

قرآن سے استدالال


ہم حسبِ ذیل سطور میں ، دارالکفر و دارالحرب میں سکونت کے حوالے سے آیات بینات کی روشنی میں بحث کریں گے اور اس سکونت سے جو نتائج لازم آتے ہیں ان کے متعلق بھی کلام ربانی کی روشنی میں کلام کریں گے ۔

(١) ( فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ) [البقرة : ٢٥٦]

"سو جس شخص نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایاتواس نے مضبوط رسی پکڑی ، جو ٹوٹنے والی نہیں ۔”


نکتۂ استدلال

تمام انبیاء کی دعوتوں کا اساسی مؤقف یہی رہا ہے کہ پہلے طاغوت کا انکار ہو تاکہ وحدانیت ربانی کا اقرار ہوسکے ۔ ائمہ مفسرین یہ تصریحات کر چکے ہیں کہ غیر الٰہی قوانین بھی طاغوت کا مصداق ہیں اور طالبان علم و رشد کے لیے یہ ایک معلوم اعتقادی حقیقت ہے (٢) ۔ یورپی ممالک کا شہری انکارِ طاغوت تو درکنار ، اقرار طاغوت کا پابند ہے ۔ اس حوالے سے وہ جن الفاظ میں ان ائمہ طاغوت کے سامنے جس مؤدبانہ انداز میں عاجزی و انکساری کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ان دشمنوں سے تاحیات وفاداری کادم بھرتا ہے ،وہ بھی ملاحظہ ہو ۔ بطورِ مثال کینیڈین شہری کا حلف نامہ پیشِ خدمت ہے :

” I swear that I will be faithfull and bear true allegiance to her majesty Queen Elizabeth II, Queen of Canada, her heirs and successors and that I will faithfully observe the laws of Canada…….”(٣)



حواشی
 (١) اسلام نے معیارِ زندگی کی بڑھوتی کو کنٹرول کرنے کے لیے علمی و عملی لائحہ عمل فراہم کیا ہے ۔ جہاں علمی سطح پر وہ زہد و قناعت ، صبر و شکر اور فقر کے فضائل بیان کرتا ہے وہیں عملی طور پر اس نے زکوٰة ، عشر ، قرضۂ حسنہ وغیرہا پر مشتمل مستقل نظام انفاق ترتیب دیا ہے ۔ 
(٢) تیسیر الکریم الرحمن للشیخ عبد الرحمن السعدی : ١/٣٦٣

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون سے قسط وار شائع ہو رہا ہے۔

جاری ہے۔

حسینہ واجد کے نام ایک سینئر سعودی سفارتکار ڈاکٹر علی الغامدی کا کھلا خط


الواقعۃ شمارہ نمبر 2

قابل احترام!

پہلے میں اپنا تعارف کرادوں کہ بنگلہ دیش کی آزادی سے قبل میں بحیثیت سعودی ڈپلومیٹ ڈھاکا کا دورہ کرچکا ہوں۔١٩٦٠ ء میں عازمین حج کو ویزا کے اجرا کے لیے سعودی حکومت نے مجھے چٹاگانگ میں متعین کیا تھا۔ ١٩٨٠ء میں ، میں دارالحکومت ڈھاکا میں سعودی سفارتخانہ میں پورے اختیارات کے ساتھ واپس آیا۔
اس دوران بنگلہ دیش سے محبت کرنے والے کچھ لوگوں نے جدہ میں سعودی بنگلہ دیشی فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے قیام کا منصوبہ بنایا جس کا مقصدباہمی دلچسپی کے امور کے دوطرفہ تعلقات کا فروغ اور بنگلہ دیش کے ورک فورس کو سعودی عرب میں مدد فراہم کرنا تھا۔میرے لیے یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں کہ مجھے اس ایسوسی ایشن کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔ایسوسی ایشن کے بانی ارکان ہونے کے باوجود ہم میں سے کسی کے کبھی بھی کوئی مادی مفادات نہیں رہے ، ہماری ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ سعودی عرب اور (آبادی کے اعتبار سے) دنیا کی تیسری بڑے مسلم ملک بنگلہ دیش کے درمیان تعلقا ت کو کیسے مستحکم بنایا جائے۔میرے لیے یہ اعزا زکی بات ہے کہ میں نے کراچی میں جنرل ایوب خان کی زیر صدارت ہونے والی گول میز کانفرنس کے دوران آپ کے والد شیخ مجیب الرحمن سے ملاقات کی جس کا استقبالیہ جی ایم سید نے دیا تھا۔ میں واحد مہمان تھا جسے اس گول میز کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا۔ میں آپ کے والد سے مل کر ان کی کرشماتی شخصیت اور فن خطابت سے بہت متاثر ہوا۔ یہ بھی اعزا ز کی بات ہے کہ بنگلہ دیش میں جنر ل حسین محمد ارشاد کے دور حکومت میںڈھاکا میں سعودی سفارتخانہ میں تعیناتی کے دوران میری آپ سے بھی ملاقات رہی ۔مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جب اپوزیشن لیڈر ہونے کی حیثیت سے پولیس اہلکار آپ کو گرفتار کرنے آگے بڑھا تو آپ نے کہا کہ” مجھے ہاتھ مت لگانا، میں ایک مسلم عورت ہوں۔”اس مختصر سی تمہید کے بعد اب میں چند چیدہ چیدہ نکات پر بات کرنا چاہوں گاجس کا تعلق عدل و انصاف سے ہے۔

حسینہ واجد صاحبہ!

١ ۔آپ ان مشکل حالات سے بخوبی آگاہ ہیں جن کا آپ کے والدشیخ مجیب الرحمن کی قید سے رہائی اور ڈھاکا واپسی کے بعد وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ملک کو درپیش تھے۔آپ کے والد نے متعدد قانون بنائے جن میں War Crimes Law بھی شامل ہے جس کے تحت ١٩٥پاکستانی فوجی افسران کو مجرم قرار دیا گیا۔اس قانون کا کسی بنگلہ دیشی شہری یا سیاستدان پر اطلاق نہیں کیا گیا ۔مگر پھر ان ١٩٥پاکستانی فوجی افسران کو معاف کردیا گیا جس پر پورے مسلم دنیا نے شیخ مجیب الرحمن کو ان کے اس اقدام پر خراج تحسین پیش کیا ۔اُ س وقت آپ کے والد نے ایک تاریخی بیان دیا تھا کہ” میں چاہتا ہوں کہ دنیا یہ جان لے کہ بنگلہ دیشی اپنے دشمن کو معاف کردیتے اور بھول جاتے ہیں۔”

٢۔ آپ کے والد کے اُسی دور حکومت میں پاکستانی فوج سے تعاون کرنے کے الزام میں ایک اور قانون بنایا گیا جس کے تحت ایک لاکھ لوگوں کو اس جرم میں ملوث قرار دیا گیا لیکن ان میں بھی کوئی بنگلہ دیشی سیاستدان شامل نہیں تھا۔ بعد ازاں آپ کے والد نے انہیں بھی معاف کرنے کا فیصلہ کیا اور انہیں رہا کردیا گیا۔ آپ کے والد نے اپنے پورے دور حکومت میں کسی بھی سیاستدان پر کبھی جنگی مجرم ہونے کا کوئی الزام نہیں لگایا۔ حتیٰ کہ جب ١٩٩٦ء میں عنان حکومت سنبھالنے بعد آپ بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلیں۔١٩٩٦ء میں آپ کے دور حکومت میں کسی پر بھی جنگی جرم میں ملوث ہونے کا الزام عائد نہیں کیا گیا اور نہ کسی کی گرفتاری عمل میں آئی کیونکہ آپ کے والد( شیخ مجیب الرحمن) نے اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے حل کرتے ہوئے تما م مبینہ جنگی مجرموں کو عام معافی دے دی تھی۔

٣۔ مگر ہر کوئی اس وقت حیران رہ گیا جب آپ نے اپنے والد شیخ مجیب الرحمن کے عقلمندانہ فیصلہ کو منسوخ کرتے ہوئے جنگی جرم کے مسئلہ کو دوبارہ زندہ کردیا۔اپنے والد کے فیصلوں کو منسوخ کردینے کا یہ عمل شیخ مجیب الرحمن کی رسوائی کے سوا کچھ نہیں جو کسی صورت قابل قبول قرار نہیں دیا جاسکتابالخصوص ان اپوزیشن جماعتوں کے خلاف جنہوں نے اس فیصلہ کی منسوخی کی مخالفت کی اور آپ کی سابق حکومت میں بھی رہیں۔

٤۔ مسلم رہنمائوں کی گرفتاری کے غیر منصفانہ فیصلہ کی کوئی دلیل نہیں دی جاسکتی جنہیںآپ کے والد اور پھر1996ء میں آپ کے دور حکومت میں گرفتار نہیں کیا گیا۔یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوگا بلکہ اس فیصلہ کے نتیجے میں بنگلہ دیش کے عوام بحیثیت ایک قوم کے تقسیم اور مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔مسلم دنیا کے تیسرے بڑے ملک کے رہنما ہونے کی حیثیت سے اس فیصلہ کے آپ پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے اور اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔بنگلہ دیش اور اس کے عوام سے ایک محبت کرنے والے فرد کی حیثیت سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ دنیا بھر کے مسلم رہنما بنگلہ دیش کے مسلم رہنمائوں بالخصوص پروفیسر غلام اعظم کی گرفتاری پر حیران وپریشان ہیں، ان پر عائد کیے گئے الزامات پر کسی کوبھی یقین نہیں۔پروفیسر غلام اعظم پر ان کے مبینہ جرم پر ٤٠برس بعد الزامات عائد کیے جار ہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی ان پر نہیں لگائے گیے۔

٥۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنے والد کی خاطرجنہوں نے مذکورہ مسلم سیاسی رہنمائوں پر ایک معمولی الزام بھی نہیں لگایا، کی گرفتاری کے فیصلہ کی کوئی توجیح پیش کیے بغیر اس پر نظر ثانی کریں گی ۔ آپ کی جانب سے ان کی رہائی کے احکامات عوام کی جانب سے تحسین کا باعث اور آپ کے اپنے والد سے والہانہ محبت کا اظہار ہوگا۔

( ڈاکٹر علی الغامدی ایک سابق سعودی ڈپلومیٹ ہیں جنہوں نے سائوتھ ایشین افیئرز میں اسپیشلائزیشن کی ہے)   

یہ خط جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔