تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش


تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش

کو پڑھنا جاری رکھیں

جنگوں کے سوداگر


تبصرہ کتب ٢ 

جنگوں کے سوداگر

از: مسعود انور

معراج ایڈورٹائزرز ، 107-k ، بلاک ٢ ، سنگم شاہراہِ قائدین و خالد بن ولید روڈ ، پی ای سی ایچ ایس ، کراچی 021-34555764

مسعود انور پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ان کی پہلی کتاب ہے ۔ جسے صحافت اور تحقیق کا امتزاج قرار دیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے تحقیق کا فریضہ ذمہ داری سے انجام دیا ہے اور صحافتی ذمہ داری انجام دیتے ہوئے مختصر لیکن کام کی بات ذکر کی ہے ۔ تاریخ کا گہرا مطالع کرکے انہوں نے اس بحرِ ذخّار سے گہر آبدار نکالا ہے ۔

ہمارے یہاں تاریخ سے سبق لینے کی روایت نہیں رہی ۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو دہراتے چلے جا رہے ہیں جنہیں ہم صدیوں پہلے انجام دے چکے ہیں ۔ مولف نے تاریخ کو سرسری انداز میں پیش نہیں کیا ہے بلکہ وسیع مطالعے کے بعد اس کے گمشدہ پہلوئوں کو بے نقاب کیا ہے اور اس سے نتائج اخذ کیے ہیں ۔ خوشی کی بات ہے کہ مولف نے حقیقت نگاری کی ہے ۔ تاریخ کے اہم ترین انقلابات کے پس پردہ حقائق کو جیسا دریافت کیا ویسا ہی بیان بھی کردیا ۔ انقلاب برطانیہ ، انقلاب فرانس ، امریکی انقلاب ، روسی انقلاب ، سلطنتِ عثمانیہکا خاتمہ اور ہسپانوی انقلاب کی اصل حقیقت بیان کی ہے ۔ مولف نے بیان حقیقت کے لیے کسی مصلحت پسندی کو عذر نہیں بنایا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بہت سی باتیں انکشافات محسوس ہوں گی ۔ مثال کے طور پر
جمال الدین افغانی سے متعلق جو ناقابلِ تردید حقائق اب منظرِ شہود پر آ رہے ہیں ان سے مولف کی تائید ہوتی ہے ۔

مولف نے عالمی جنگوں اور ان کے اسباب پر بھی روشنی ڈالی ہے اور انہیں تیسری عالمی جنگ کے خطرے کا بھی پورا ادراک ہے ۔ دنیا میں جو اس وقت مالیاتی سازش اپنے عروج پر ہے کتاب میں اس پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔

تمام تر خوبیوں کے باوصف کتاب میں حوالوں کی عدم موجودگی نے کتاب کے استنادی معیار کو سخت مجروح کیا ہے ۔ صحافت اور تحقیق کے تقاضے مختلف ہیں ۔ یہ کتاب ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ موضوع پر لکھی گئی ہے ، اس میں حوالوں کا خصوصی اہتمام ہونا چاہیئے تھا ۔ گو یہ درست ہے کہ مولف نے جو نکات پیش کیے ہیں ان کی تائید دیگر تحریری حوالوں سے ہوجاتی ہے لیکن حوالوں کا اہتمام کتاب کو مزید اعتبار عطا کرتا ۔
کتاب ایک انتہائی اہم موضوع پر قابلِ قدر کاوش ہے ۔ اس کا مطالعہ ہر اعتبار سے مفید رہے گا اور چشم کشا ثابت ہوگا ۔
ابو محمد معتصم باللہ

اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھے گا، شاہ فیصل شہید


الواقعۃ شمارہ نمبر ٢ 

سعودی عرب کے شہید فرمانروا شاہ فیصل کا ایک تاریخی انٹرویو

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل شہید نے ستمبر١٩٧٠ء میں (جب اردن میں عرب بالخصوص فلسطینی مجاہدین کی نسل کشی کی جارہی تھی) امریکی رسالے” رانٹر پلے” کے نمائندے ٹام دمان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ” مقبوضہ عرب علاقوں اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے اسرائیل کے خلاف جہاد کیا جائے۔ انہوں نے اسرائیل کی ہٹ دھرمی، غرور اور توسیع پسندانہ عزائم کی بنا پر عربوں اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت کو خارج از امکان قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک اسرائیلی جارحیت کی روک تھام اور اسے معقول رویہ اختیار کرنے کے لیے طاقت استعمال نہیں کی جائے گی ، اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں مفاہمت نہیں ہوسکتی۔شاہ فیصل نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے اسرائیل پر معقول رویہ اختیار کرنے اور دوسرے عرب علاقے خالی کرنے کے لیے دبائو نہ ڈالا تو عوام مجھے مجبور کردیں گے کہ میں دوسرے عرب سربراہوں کی طرح روس کی حمایت حاصل کروں۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تمام مسائل اور مشکلات کی وجہ کمیونزم اور صہیونیت ہیں۔ شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ سعودی عرب بیت المقدس کے بارے میں کوئی سودے بازی قبول نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر ان تمام لوگوں کے لیے صدیوں کھلا رہا جن کے مقامات مقدسہ وہاں واقع ہیں، اس لیے اب اسے بین الاقوامی شہر قرار دینے کا کوئی جواز نہیں۔ شاہ فیصل نے یہ بات اعلانیہ طو رپر کہی کہ ہم فلسطینی حریت پسندوں کی بھرپور حمایت اور مدد کرتے ہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں جو اپنے وطن کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں، انہیں طاقت کے بل پر ان کے گھروں سے نکال پھینکا گیا ہے،اس ظلم کے خلاف ان کی جدوجہد جائز اور منصفانہ ہے۔”

(بحوالہ: روزنامہ ”جسارت” کراچی مورخہ ٢ ستمبر١٩٧٠ء ) 

وہاں بدلتا ہے لحظہ لحظہ یہاں بدلتا نہیں ہے زمانہ


 

الواقعۃ شمارہ نمبر 2

 
 محمدجاویداقبال
 
وہاں بدلتا ہے لحظہ لحظہ یہاں بدلتا نہیں ہے زمانہ
 

وہاں بدلتا ہے لحظہ لحظہ یہاں بدلتا نہیں ہے زمانہ

اقبال کا یہ مصرع وطن عزیز کی صورتِحال دیکھ کر یاد آیا۔ جس ذہنی مرعوبیت اور نقالی کاذکر اکبر الہ آبادی نے کیا تھا اور جس کی مذمت اقبال تمام عمر کرتے رہے وہ اب ہمارے رگ و پے میںسرایت کرچکی ہے۔ اس لیے کہ نہ صرف ہمارا تعلیمی نصاب بلکہ میڈیا بھی سو فی صد مغرب کی عکاسی کررہا ہے۔ لہٰذا ہماری نئی نسل اور خواتین جو زیادہ تر وقت ٹی وی کے سامنے گذارتی ہیںایک سیلِ بے پناہ کی زد میں ہیں۔دور غلامی میںایک آدھ نواب یا رئیس کا بچہ تعلیم حاصل کرنے انگلینڈجاتاتھا۔ آج پاکستانی بچے اس کثرت سے آکسفورڈ اور کیمبرج پڑھنے جارہے ہیں کہ برطانیہ کی قومی آمدنی کا ٣٨ فیصد پاکستانی نوجوانوں کو تعلیم دینے سے آتا ہے۔ اگر یہ مدرسے ہم خود قائم کرتے تو ہمارے کتنے ٹیچرز کو روزگار ملتا اور ہم انھیں اپنے دین اور عقائد کے مطابق تعلیم دیتے۔ لیکن آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہماری ذہنی غلامی نہیں گئی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیںکہ وہاں و ہ جس بے راہ روی کے ماحول میںتعلیم حاصل کرتے ہیںوہ انہیں اسلامی اقدار سے بیگانہ کردیتی ہے۔ خود پاکستان میں جن اداروں میں برطانوی تعلیم دی جارہی ہے وہاں اسی طرح کو ایجوکیشن ہے اور وہی اخلاق باختہ ماحول ہے جہاں لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو ہگ کرتے ہیں اور کِس کرنے میں بھی تکلف نہیں کرتے۔
 
اِسی طرح ہمارا میڈیاخود ہمارے خرچ پر ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو بے غیرت بنارہا ہے۔ مثلا ً موبائل کا اشتہار ہی دیکھ لیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اس سہولت کی بدولت ایک الکٹریشین یا پلمبرکو کام میں آسانی ہوئی ہو اور اس کا بزنس بڑھ گیا ہو۔ یا کسی سیلزمین کو زیاد ہ آڈر مل سکے ہوں۔ موبائل فون کا پہلا اور آخری کام یہ ہے کہ وہ نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو آپس میں دوستی کرنے میں بہترین معاون بن سکتاہے۔ ہر اشتہار کا زور اسی ایک سہولت پر ہے۔ آج پاکستان کے ہر گلی کوچے میں کوئی نہ کوئی فرد موبائل اٹھائے بات کرتا نظر آتا ہے۔ہم نے ضرورت سے کہیں زیادہ موبائل امپورٹ کرلیے ہیںاور نہ ان کی ٹکنولوجی حاصل کی ہے اور نہ مقامی مینوفیکچرنگ کے حقوق۔جو کچھ ہمیں ملا ہے وہ اخلاق باختگی اور بے راہ روی ہے۔ نوجوانی کا زمانہ تعلیم وتربیت حاصل کرنے کے لیے بہترین ہوتا ہے۔ مگر جہاںصنفی اختلاط کو فروغ دیاجارہا ہووہاںپڑھنے کی فرصت کس کافر کو ہے؟ اقبال اور اکبر کو عرصہ ہوا تعلیم سے دیس نکالا دیا جاچکا ہے۔ پس کوئی نہیں ہے جو انہیںیاد دلاسکے:
کبھی اے جوانِ مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے پالا ہے اس قوم نے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پائوں میں تاجِ سرِدارا
لہٰذا ہمارا تعلیمی نظام اور میڈیا نہ صرف ہمیں حقائق سے بے خبر رکھ رہے ہیں بلکہ ہم سے ہماری اخلاقی اور روحانی اقدار بھی چھین رہے ہیں۔تاکہ ہم ایک روبوٹ کی طرح نیو ورلڈ آڈر پر عمل کرسکیں۔ لیکن میڈیا کی مضرتیں یہیں تک محدود نہیں ہیں۔امریکی محاور ہ ہے کہ ایک برا نام دو اور اسے آسانی سے ہلاک کردو۔ بین الاقوامی میڈیا اسی کام میںمحو ہے۔وہ ہر مسلمان کو بنیاد پرست، قرانِ کریم کو جنگ پر اکسانے والی کتاب اور رسول ِمقبول ۖ کو ایک جنگجو رسول بناکر پیش کررہے ہیں۔وہ دینی جماعتیں جو اسلامی نظام کااحیاء چاہتی ہیں بنیاد پرست ہیں۔ جو جماعتیں کشمیر میں رائے شماری اور اس کی آزادی کے لیے کام کررہی ہیںوہ انتہا پسند اور جنگجو جماعتیں ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں امریکہ نے جماعت الدعوة کے امیر پر وفیسر حافظ سعیدکے سر کی قیمت مقرر کی ہے۔ بہت سے پاکستانی نہیںجانتے کہ دنیا کا ٩٦ فیصد میڈیاصرف ٦ یہودی میڈیا کمپنیز کی ملکیت ہے۔ جن کے ذمے یہ مشن ہے کہ مسلمانوں سے نفرت کو فروغ دو۔ ہمارے کالم نگاروں، مدیروں اور اینکرز پرسنز نے جس سرعت سے امریکی نکتہ نظر کو اپنایا ہے اس کی داد نہ دینا ظلم ہوگا۔ محض چند ٹکڑوں کے لیے انھوں نے حب الوطنی اور خدا پرستی کو ترک کرکے امریکہ سے وفاداری اختیار کرلی اور اپنی روح شیطان کو فروخت کردی اور یہ ہمارا سب سے ذہین طبقہ تھا۔ ہمارے میڈیا کی یہی چالاکی ملاحظہ ہو کہ امریکہ ایک درجن سے زیادہ مسلم ممالک پر حملہ آور ہوچکا ہے اور فقط افغانستان اور عراق میںوہ تیس لاکھ کے قریب مرد و زن کو ہلاک اور لاکھوں کو معذور بنا چکا ہے۔ لیکن ہمارا میڈیا اسے اسلام کے خلاف جنگ کا نام نہیںدیتا۔ بلکہ اسے مسلمانوں کی انتہا پسندی قرار دیتا ہے کہ کیوں خوامخوہ اپنی جانیںگنوا رہے ہیں اور چپکے سے ہتھیا ر ڈال کیوں نہیں دیتے۔
 
پس چہ باید کرد۔ اتنی تاخیرہوجانے کے بعد کیا کیا جاسکتا ہے؟میری ناچیز رائے میں ہمیںسب سے پہلے اپنامتبادل پریس قائم کرنا چاہیے۔ خواہ وہ فوٹو اسٹیٹ کیے جانے والے چند صفحات پر ہی مشتمل کیوں نہ ہو۔انٹرنیٹ کی چند سائٹس اور بلاگز عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ ہمارے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ صرف نوجوانوں کو حالاتِ حاضرہ سے باخبر رکھنا ہوگا۔ پھر وہ اپنا لائحہ عمل خود بنالیں گے۔ مگریہ کام فوراً سے پیش تر کرنا ہوگا۔اس لیے کہ وقت بالکل نہیں رہا ہے۔
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔

مولانا عبد الحلیم شرر اور ان کی کتبِ سیرت


الواقعۃ شمارہ نمبر 2

محمد ساجد صدیقی 

 
مولانا عبدالحلیم شرر ١٨٦٠ء میں مشہورادبی شہر لکھنؤ کے محلہ جھنوائی ٹولہ میں پیدا ہوئے ۔آپ کا سلسلہ نسب عباسی خلیفہ امین الرشید سے جا ملتا ہے ۔یعنی آپ ہاشمی و عباسی ہیں ۔ [تراجم علمائے حدیث ہنداز ابو یحیٰ امام خان نوشہری : ٥٢٢]۔ مختصر شجرہ نسب یوں ہے۔عبدالحلیم شرر بن تفضل حسن (عبدالرحیم ) بن مولوی محمد بن مولوی نظام الدین۔

[عبدالحلیم شرر بہ حیثیت ناول نگار از ڈاکٹر علی احمد فاطمی بحوالہ دلگداز۔جنوری ١٩٣٣ء ص١١]۔
 
سات یا آٹھ برس کی عمر میں ان کے والد نے انہیں لکھنؤ(جہاں وہ اپنی والدہ کے پاس تھے۔) سے اپنے پاس بغرض تعلیم کلکتہ بلوالیا۔اس طرح انہیں انتہائی کم عمری میں ہی والدہ کی گوشئہ عافیت سے دور ہونا پڑا۔عبد الحلیم شرر مٹیابرج میں انتہائی تیزی اور ذہانت سے دینی علوم حاصل کرنے لگے۔وہیں ان کو شہزادوں کی صحبت میسر آئی۔جہاں سے کچھ خرافات کا اثر ان کے اخلاق میں پڑا مگر ان کی ادبی شوق و ذوق کی بھی تر بیت یہاں ہی ہوئی ۔خراب صحبت کی وجہ سے والد نے انہیں دوبارہ لکھنؤ بھیج دیا۔لکھنؤ میں انہوں نے مشہور عالم علّامہ ابو الحسنات عبدالحی حنفی لکھنوی سے بعض کتبِ درسیہ کی تحصیل کی ۔پھر ایک شیعہ عالم حامد حسین کے پاس بغرض علم ملازمت کی۔
 
عبدالحلیم شرر کی زندگی میں اصل انقلاب اُس وقت آیا جب مولوی نور محمد صاحب ملتانی تلمیذ مولانا عبدالحی سے شرح نخبہ پڑھی اور جامع ترمذی کے پڑھنے کے دوران ہی ان کے قلب میں علم حدیث کی محبت اتنی شدت سے بڑھی کہ آپ شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے حلقہ درس میں شامل ہونے کے لیے دہلی پہنچ گئے اپنے شوق و جستجو کی بدولت صرف ڈیڑھ سال میں صحاح ستہ، موطا امام مالک اور تفسیر جلالین پڑھ کر واپس اپنے وطن لکھنؤ پہنچے۔[تراجم علمائے حدیث ہند]
 
مولانا کی پہلی دینی اور ادبی خدمت شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی مایہ ناز کتاب ”کتا ب التوحید ”کا اُردو میں ترجمہ ہے۔ [ماہنامہ ”دلگداز” نومبر ١٩٣٣ء بحوالہ عبدالحلیم شرربحیثیت ناول نگارازڈاکٹر علی احمد فاطمی].
 
”کتاب التوحید”سے اپنی علمی اور تصنیفی زندگی سے ابتداء کرنا ان کے لیے بہت مبارک اور باعثِ برکت ثابت ہوا۔ دہلی ہی میں انہیں مضمون نگاری کا شوق ہوا۔اِس کے علاوہ انہوں نے شاعری بھی کی اور اپنا تخلص”شرر”رکھا۔ پھر وہ اودھ اخبار میں بحیثیت سب ایڈیٹر ملازم ہوگئے۔جہاں انہوں نے مختلف علمی ، دینی، ادبی اور فلسفیانہ مضامین لکھے۔ اس طرح اُن کے اسلوب تحریر اور ذوق ادب میں نکھار پیدا ہوا۔
 
مولانا کی شہرت کا اہم سبب ناول نگاری ہے۔اُ ن کے ناولوں نے بالخصوص تاریخی ناولوں نے اردو ادب کو ایک نئی جہت دی۔انہوں نے تاریخی واقعات خصوصاًاسلامی تاریخی واقعات کو ناولوں کے ذریعے اس عمدگی سے بیان کیا ہے کہ قاری محسوس کرتا ہے کہ وہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہاہے۔مولانا نے متعدد ناول اور مضامین کے علاوہ سوانح عمری ، کتبِ تاریخ ،ڈرامے اور منظومات بھی لکھیں ۔جن کی تعداد تقریباً١٠٠ ہیں۔اردو ادب کے اس بے نظیر ادیب نے ١٧جمادی الثانی بروز جمعہ بمطابق ١٠ جنوری ١٩٢٦ء میں اس دنیائے فانی کو خیر باد کہہ دیا۔انا للہ واناالیہ راجعون۔ [عبدالحلیم شرر بہ حیثیت ناول نگار از ڈاکٹر علی احمد فاطمی ص١٤٦ ، انجمن ترقی اردو پاکستان ،کراچی]
 
مولانا شرر نے اپنی پوری زندگی تاریخ و ادب اسلامی کے لیے وقف رکھی ۔ افسوس ہے کہ ایسے جلیل القدر ادیب کی ہماری علمی دنیا نے قدر نہیں کی ۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی لکھتے ہیں :
"آج بازار میں شرر صاحب کا نام ماند پڑگیا ہے ، کل ” حشر و الے کل ” سے قبل ہی انشاء اللہ اسی دنیا میں پھر ابھرے گا ، جس وقت مسلمان اپنے خادموں کی تاریخ مرتب کرنا شروع کریں گے ۔ ” [معاصرین : ١١٨]

عبدالحلیم شرر کی کتب سیرت کا ایک جائزہ

 
ہمیں عبدالحلیم شرر کی سیرت مبارکہ ۖ کے متعلق تین کتب کا علم ہوسکا ہے۔
 
(١)جو یائے حق
(٢)ختم المرسلین
(٣)ولادت سرور عالم 
 

جو یائے حق

جو یائے حق ایک تاریخی ناول ہے ۔جس کا بنیادی کردار حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ذات گرامی کو بنایاگیاہے۔اس ناول میں حضرت سلمان فارسی خطوط کے ذریعے (جو وہ ایک عیسائی عالم ”بحیرا”کو لکھتے ہیں)نبی کریم  ۖ کی پوری حیات مبارکہ ،عربوں کا طرز زندگی ،نبی کریم  ۖکا حسن سلوک، یہودیوں کی چالبازیاں ،صحابہ کا نبی کریم ۖسے والہانہ محبت ، جنگوں میں مسلمانوں کی بہادری و آرزوئے شہادت، فتح مکہ، نبی کریم ۖ کا وصال ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے حالات اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور ِخلافت کو بھی بیان کیا ہے۔
 
ناول ہونے کی وجہ سے” جویائے حق ”میں منظر نگاری اور تخیلاتی جھلک موجود ہے لیکن عبدالحلیم شرر نے تاریخی واقعات کو عمدگی سے تخیل چمن سے سجاکر انتہائی مہارت سے پیش کیا ہے اور تاریخی واقعات کو تخیلات میں ضم ہونے سے بچالیا ہے۔ڈاکٹر علی احمد فاطمی لکھتے ہیں:

”یہ ناول جو دراصل ناول نہیں ہے بلکہ ایک مکمل تاریخی کتاب ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ٹھوس تاریخیت زیادہ ہے اور قصہ پن کم اس کی وجہ اس موضوع کی نزاکت ہے۔تاریخی مقصد کو ناول کی شکل دینے کے لیے تخیل کی نیرنگیاں دکھانا لازمی ہے۔لیکن اس مقدس و محترم موضوع میں تخیل کی باگ ڈور کو پورے ہوش و ہواس کے ساتھ قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔اس وجہ سے یہ ناول کم ایک تاریخی کتاب زیادہ ہے۔سیدھی اور ٹھوس عالمانہ قدروں سے بھرپور ایک مذہبی کتاب۔”[عبدالحلیم شرر بہ حیثیت ناول نگار ص٢٩٧]

” جویائے حق ” کے متعلق مولانا حسن مثنیٰ ندوی لکھتے ہیں:

”ہم مولانا عبدالحلیم شرر کی ضخیم کتاب ”جویائے حق”کو نظر انداز نہیں کرسکتے جو اپنے طرز کی نرالی کتاب ہے ۔ اس میں انہوں نے حضرت سلمان فارسی کی زندگی اس انداز میں پیش کی ہے کہ ان کی زبان سے سیرت نبوی نہایت ہی موثر انداز میں بطرز ناول بیان ہوجاتی ہے اور پڑھنے والا اسے ختم کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔”[برصغیر کے خادمین سیرت مشمولہ مضمون کتاب ” پیغمبر انسانیت ” از مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی]

ولادت سرور عالم ۖ 

یہ رسالہ امام ابن جوزی کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ [تراجم علمائے حدیث ہند از ابو یحیٰ امام خان نوشہروی : ١/ ٥٤١]
 

خاتم المرسلینۖ

 ابو یحییٰ امام خان نوشہری نے مولانا عبدالحلیم شرر کی تاریخی کتب میں اسے شامل کیا ہے۔ تفصیلات کا علم نہیں ہوسکا۔[تراجم علمائے حدیث ہند:٥٤١]
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔

غیر مسلم ممالک میں سکونت: ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ


الواقعۃ شمارہ نمبر ٢ 

ابو موحد عبید الرحمن


تاریخِ اسلامی کے اوراق اس فطری حقیقت پر شاہد ہیں کہ اس کے باسیوں نے بغرضِ معاش دیارِ اسلامی کو ترک کرکے دیارِ کفر میں کبھی دائمی سکونت اختیار نہیں کی ۔ لیکن عصرِ جدید کی جدت کے جہاں اور غیر فطری عجائب ہیں ، وہیں یہ عجوبہ بھی گاہے بگاہے مشاہدہ میں آتا رہتا ہے کہ تلاشِ معاش کے لیے لوگ اپنا خطہ چھوڑنے پربخوشی راضی ہیں ، جو کہ ایک غیر معمولی امرِ واقعہ ہے ۔ اس غیر معمولی امرِ واقعہ کا سبب ہمیں اسلامی تاریخ میں ایک غیر معمولی ” فکری تغیر ” ملتا ہے اور یہ فکری تغیر اسلامی تصورِ علم کا مغربی تصورِ علم سے تبدیل ہوجانا ہے۔

 مغرب کا عنوانِ علم ” مادیّت ” (Materialism) اور اس کے ارتقاء اور ترقی کے لیے اساس ” تشکیک ” (Spritualism) اور اس کی بنیاد ” ایمان ” (Faith)کو قرار دیا گیا ہے ۔ یوں اسلام اور مغرب کا تصورِ علم ایک دوسرے کی ضد پر قائم ہے یعنی کسی ایک کا اقرار ، دوسرے کے انکار کو  مستلزم ہے ۔ علمیت کے اس مخصوص سانچہ سے جو ” شخصیت ” اور ” تصورِ ترقی ” برآمد ہوتا ہے ، وہ بھی باہم متضاد ہیں ۔ اسلامی علمیت (Islamic Epistemology) سے برآمد ہونے والی شخصیت ، اپنے تاریخی پسِ منظر سے وابستہ ، خاندانی نظام سے پیوستہ اور آنے والی نسل کو یہی اقدارِ سلف منتقل کرنے کے لیے کمربستہ ہوتی ہے ۔ مغربی علمیت (Western Epistemology) سے برآمد ہونے والی شخصیت کے پاس تشکیک سے بالا وہ یقینی تاریخی نکتۂ آغاز ہے ہی نہیں جہاں سے وہ اپنے فکری سفر کا آغاز کریں ۔ اسی لیے وہ خود اپنی تاریخ کو تاریکی (Dark Ages) سے تعبیر کرتے ہیں اور جبھی ان کے یہاں اہلِ اسلام کے بَر خلاف سائنسی تجربہ (Scientific-experiment) کو تاریخی تجربہ (Historical-experiment) پر ہر زاویہ ہائے نظر سے فوقیت حاصل ہے ۔ شخصیت کے اس تقابل کے بعد اسلامی و مغربی تصورِ ترقی کے مابین فرق کو بھی ملحوظِ خاطر رکھیے ۔ مغرب کا تصور ترقی ” آگے اور آگے ” پر مبنی ہے کیونکہ پیچھے Dark Ages ہیں جبکہ اسلامی تصور ترقی ” پیچھے اور پیچھے ” پر مبنی ہیں کیونکہ آگے وہ پُر فتن احوال جو قرب قیامت واقع ہونگے اور پیچھے وہ ” خیر القرون ” ہے جسے ہم مثالی دور سے تعبیر کرتے ہیں اور دکھی انسانیت کے لیے اس دور کو دکھوں کا مداوا سمجھتے ہیں ۔ 

مگر برطانوی سامراج کے تسلط کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ برصغیر میں مغربی علمیت کا غلبہ ہوتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں یہ نقصان تو ہوا ہی کہ سلطنت اسلامیہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی ، لیکن اسی کے ساتھ علّامہ مودودی دہلوی علیہ الرحمة کی زبان میں وہ شاہِ کلید (Master-key) جس سے ہر شکستہ باب مفتوح ہوجاتا تھا یعنی ” اسلامی علمیت ”، وہ بھی اہلِ ایمان کے ہاتھ سے چھین لی گئی ۔ اس کے نتیجہ میں جو ” ذہنی ارتداد ” مسلم معاشرے میں وبائی امراض کی طرح پھیلا اس کے سبب مسلمانوں کا تصورِ ترقی نہ صرف مسخ ہوکر رہ گیا بلکہ محرف قرار پایا کیونکہ اب وہ مغربی تصور ترقی کے قائل ہوگئے تھے ۔ انہیں ان کے ماضی سے دلبرداشتہ کردیا گیا تھا ۔ جبکہ پہلے وہ ” ماضی” کے خیال و خامہ سے” آج ” کی تصویر کو رنگتے تھے ، اسلاف کی یادوں سے اپنے قلوب کو گرماتے اور تڑپاتے تھے ، قرطبہ و غرناطہ ان کی یادوں میں بستا تھا ، وہ نیشاپور کی فضائوں میں سانس لیتے تھے اور ہر فتح و شکست کے بعد ماضی کے انہی دریچوں سے فکری و روحانی غذا پاتے اور پھر فضائے بدر پیدا کرنے کے لیے معرکۂ حق و باطل میں بے دریغ کود پڑتے تھے ۔ لیکن اب وہ اپنی فکر کی اس جلالت و للّٰہیت سے غلام ابن غلام ہونے کی وجہ سے تنفر برتنے لگے تھے ۔ وہ ماضی کی طرح ماضی کو حال کا مقدمہ بنانے کے بجائے حال کو مستقبل کا مقدمہ بنانے لگے تھے کیونکہ وہ مغربی تصورِ ترقی ” آگے اور آگے ” کے قائل ہوگئے تھے ۔ اس تصورِ ترقی نے مسلمانوں کو ان کی تاریخ سے کاٹ کر انفرادیت پسندی (Indiviualism)کا خوگر بنایا تاکہ وہ طاغوت کے اس نظام میں Carreristic ہونے کے لیے Futuristicہوسکیں ۔ اس تصور علمیت نے امت مسلمہ کا سوچنے تک کا زاویہ ہائے نظر تبدیل کردیا اور اب وہ اپنی مرضی سے سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔ چنانچہ اب درہم و دینار کی چاہ نے ” فلسفۂ تدبیر ” کو ” فلسفۂ تقدیر ” پر برتری دینے کی ٹھانی ، ” کامیاب انسان ” کی اصطلاح ” اچھے انسان ” کا نعم البدل قرار پائی ۔ ” زہد و قناعت ” پر زیادہ سے زیادہ تسکین (Maximum Satisfaction)کو ترجیح دی گئی ،     ” عارف ” کو غیر متعلق (unrelevent)اور ” صارف ” کو (relevent)قرار دیا گیا اور یوں ” روح ” کی حفاظت سے زیادہ اہم شہ ” زندگی ” کی حفاظت قرار پائی ۔ یہ سب کچھ ہوا تاکہ معیار زندگی (Standard of living)بلند ہوسکے اور ہم یہ بھول گئے کہ ” معیار ” (Standard)،    ” اقدار ” (Values)کو بدلنے میں کچھ دیر نہیں لگاتا ۔ 

دراصل اہلِ مغرب اس حقیقت واقعہ سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کے وضع کردہ نظام میں کسی بھی نظریہ کی نظریاتی اساس کو مادیت میں منقلب (Transform) کرنا بآسانی ممکن ہے اور اس کا عملی طریقہ کار (Practical Methodology)یہی ہے کہ معیارِ زندگی کو مستقل طور پر بڑھایا جائے ، جس کے نتیجہ میں ” معیار ” خود بخود ” قدر ” کو بدل دے گا (١)۔یہی  وجہ ہے کہ مشہور امریکی معیشت داں والٹ روسٹو Walt Rostow (1916-2003)مذہبی و تہذیبی اقدار کی پابند اقوام کے ترقی نہ کرنے کی اور ان کے معیارِ زندگی کے بلند نہ ہونے کا سبب انہی اقدار (Values) اور معاشرتی اداروں ( مثلاً خاندان ، مسجد ، مدرسہ وغیرہ ) کو قرار دیتا ہے ۔ انتھونی گڈن Anthony Gidden لکھتا ہے :

"According to Rostow (1961), the traditional cultural values and social institutions of low-income countries impede their economic effectiueness.” (Sociology : 549)

” معیارِ زندگی ” میں اضافہ کا سب سے مؤثر اور نمایاں طریقہ جو اہلِ یورپ نے متعارف کرایا ہے ، وہ بغرضِ معاش یورپ کی سرمایہ دارانہ ریاستوں میں منتقل ہوجانا ہے ۔ اپنے دیار کو بحالتِ مجبوری دین کے لیے ترک کردینے کا تصور ہجرت (Migration)تو اسلام میں موجود ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام کا پیدا کردہ یہ تصور جسے یہ نظام Immigration کا نام دیتا ہے ، اسلامی تاریخ کے لیے ایک اجنبی تصور اور اصطلاح ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام اس تصور کو تبدیلیِ اقدار بذریعۂ معیار میں اس لیے سب سے زیادہ معاون خیال کرتا ہے کہ یہاں تبدیلیِ اقدار میں وہ مذہبی اور خاندانی صف بندی اور وہ پورا Social Febricیکسر مفقود ہوتا ہے جو آج بھی ہمارے ” اسلامی معاشرے ” میں نہ صحیح ” مسلم معاشرے ” ہی میں صحیح ، بڑی حد تک مضبوط ہے ، اور کسی بھی قسم کے متجددانہ زاویۂ ہائے نظر (Modernist Mind Set) کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ جبکہ وہ احباب جو ان معاشروں سے مغرب منتقل ہوتے ہیں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو مجبور پاتے ہیں کہ قدر کو قدر کے ذریعے تبدیل کریں تاکہ معاشرہ انہیں قبول کرسکے ۔ احوالِ مغرب ، رویے ، طرزِ معاشرت ، قوانین ، حکومتی حلف اور پورا یورپین فریم ورک (European Frame Work) ضمیر کو کچھ اس طرح مجبور کرتا ہے کہ ایک معصوم نفس اپنی ایمانی قدر کو مادی قدر سے تبدیل کرلیتا ہے ۔ رہی سہی اقدار جو بچ جاتی ہیں انہیں معیارِ زندگی رفتہ رفتہ تبدیل کرنا شروع کردیتا ہے ۔ یوں معیار زندگی کا مغربی فلسفہ مشرقی حدود اربعہ سے نکل کر جب خود مغرب میں متحرک ہوتا ہے تو اس کے تحرک میں اس درجہ شدت آجاتی ہے کہ وہ اپنے عملی اطلاق سے پہلے ہی قدر کو قدر کے ذریعہ تبدیل کردیتا ہے ، اور تبدیلیِ اقدار بذریعہ معیار اس کے پاس ایک اضافی آپشن ہوتا ہے ۔ اس لیے مسلم ممالک کو جو ترک کرکے دیارِ یورپ میں جا بستے ہیں ان کا ایمان یقینا خطرے میں ہوتا ہے کہ اب وہ Mixed Economy System سے Capital System میں منتقل ہوچکے ہوتے ہیں جو کہ اس دور میں کفر کا امام ہے ۔ یہی وہ علت ہے کہ جس کے سبب اسلامی معاشرے ہی کو نہیں مسلم معاشرے کو بھی سرمایہ دارانہ معاشرے پرترجیح حاصل ہے ۔ شریعتِ مطہرہ جبھی مسلمانوں کو ہر حال میں دارالکفر ترک کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، اور علماء حق کے مابین یہ متفق علیہ و اجماعی مسئلہ ہے لیکن افسوس صد افسوس بعض تجدد کے پیکر اس اتفاقی مسئلہ میں بھی تشکیک پیدا کر رہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ کفار ہمیں اپنے ملکوں میں فریضۂ عبادت بجا لانے کی آزادی تو دے رہے ہیں ۔ اس پر اس کے سوا کیا تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ 

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد


اپنے اسلاف کی بصیرت جب اغیار کے یہاں پڑھتے ہیں تو اپنے آباء پر بڑا رشک آتا ہے ۔ برنارڈ لیوس  ( Bernard Lewis ) نے اپنی کتاب Poliitical Language of Islamمیں لکھا ہے کہ جب اٹلی کے نیچے کا جزیرہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا تو تاریخ اسلامی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کوئی دارا لاسلام ،دارا لحرب بنا ہو ، ورنہ پہلے دارالحرب دارا لاسلام بنا کرتے تھے ۔ اس موقع پر جب ان علاقوں کی شرعی حیثیت کی بابت اس دور کے علماء سے ( یعنی ائمہ متقدمین ) سوال ہوا تو انہوں نے یہ بصیرت افروز فتاویٰ جاری کیا کہ اگر ان مقبوضہ علاقوں میں امت مسلمہ کو عبادات کی اجازت نہیں تو پھر ہجرت واجب ہے اور اگر کفار نرمی برتیں اور عبادات کی ادائیگی کی اجازت دے دیں تو ہجرت واجب ہی نہیں واجب تر قرار پائے گی ۔ کیونکہ اس کا مقصد مسلمانوں کو اپنے نرم رویہ سے ارتداد کا مرتکب بنانا ہے ۔ تعجب ہے ان نفوسِ قدسیہ کی بصیرت پر جنہوں نے ایک دن بھی کسی کالج اور یونیورسٹی کی شکل نہیں دیکھی مگر پھر بھی اغیار کی سازش کو اپنے اعمال صالح سے برآمد ہونے والے وجدان سے بھانپ لیتے تھے اور آج کے یہ متجددین ہیں جو اپنے تئیں بڑے پڑھے لکھے ہیں لیکن پھر بھی تبدیلیِ اقدار بذریعۂ معیار کی واضح سازش کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ بہرحال جب دار الکفرمیں سکونت کو اللہ اور اس کے رسول ۖ ممانعت فرما چکے ہوں تو اس حوالے سے مزید کسی قیل و قال کی حاجت نہیں رہتی ۔ اس حوالے سے بعض نصوصِ شرعیہ پیشِ خدمت ہیں ۔ 

قرآن سے استدالال


ہم حسبِ ذیل سطور میں ، دارالکفر و دارالحرب میں سکونت کے حوالے سے آیات بینات کی روشنی میں بحث کریں گے اور اس سکونت سے جو نتائج لازم آتے ہیں ان کے متعلق بھی کلام ربانی کی روشنی میں کلام کریں گے ۔

(١) ( فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ) [البقرة : ٢٥٦]

"سو جس شخص نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایاتواس نے مضبوط رسی پکڑی ، جو ٹوٹنے والی نہیں ۔”


نکتۂ استدلال

تمام انبیاء کی دعوتوں کا اساسی مؤقف یہی رہا ہے کہ پہلے طاغوت کا انکار ہو تاکہ وحدانیت ربانی کا اقرار ہوسکے ۔ ائمہ مفسرین یہ تصریحات کر چکے ہیں کہ غیر الٰہی قوانین بھی طاغوت کا مصداق ہیں اور طالبان علم و رشد کے لیے یہ ایک معلوم اعتقادی حقیقت ہے (٢) ۔ یورپی ممالک کا شہری انکارِ طاغوت تو درکنار ، اقرار طاغوت کا پابند ہے ۔ اس حوالے سے وہ جن الفاظ میں ان ائمہ طاغوت کے سامنے جس مؤدبانہ انداز میں عاجزی و انکساری کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ان دشمنوں سے تاحیات وفاداری کادم بھرتا ہے ،وہ بھی ملاحظہ ہو ۔ بطورِ مثال کینیڈین شہری کا حلف نامہ پیشِ خدمت ہے :

” I swear that I will be faithfull and bear true allegiance to her majesty Queen Elizabeth II, Queen of Canada, her heirs and successors and that I will faithfully observe the laws of Canada…….”(٣)



حواشی
 (١) اسلام نے معیارِ زندگی کی بڑھوتی کو کنٹرول کرنے کے لیے علمی و عملی لائحہ عمل فراہم کیا ہے ۔ جہاں علمی سطح پر وہ زہد و قناعت ، صبر و شکر اور فقر کے فضائل بیان کرتا ہے وہیں عملی طور پر اس نے زکوٰة ، عشر ، قرضۂ حسنہ وغیرہا پر مشتمل مستقل نظام انفاق ترتیب دیا ہے ۔ 
(٢) تیسیر الکریم الرحمن للشیخ عبد الرحمن السعدی : ١/٣٦٣

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون سے قسط وار شائع ہو رہا ہے۔

جاری ہے۔

حسینہ واجد کے نام ایک سینئر سعودی سفارتکار ڈاکٹر علی الغامدی کا کھلا خط


الواقعۃ شمارہ نمبر 2

قابل احترام!

پہلے میں اپنا تعارف کرادوں کہ بنگلہ دیش کی آزادی سے قبل میں بحیثیت سعودی ڈپلومیٹ ڈھاکا کا دورہ کرچکا ہوں۔١٩٦٠ ء میں عازمین حج کو ویزا کے اجرا کے لیے سعودی حکومت نے مجھے چٹاگانگ میں متعین کیا تھا۔ ١٩٨٠ء میں ، میں دارالحکومت ڈھاکا میں سعودی سفارتخانہ میں پورے اختیارات کے ساتھ واپس آیا۔
اس دوران بنگلہ دیش سے محبت کرنے والے کچھ لوگوں نے جدہ میں سعودی بنگلہ دیشی فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے قیام کا منصوبہ بنایا جس کا مقصدباہمی دلچسپی کے امور کے دوطرفہ تعلقات کا فروغ اور بنگلہ دیش کے ورک فورس کو سعودی عرب میں مدد فراہم کرنا تھا۔میرے لیے یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں کہ مجھے اس ایسوسی ایشن کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔ایسوسی ایشن کے بانی ارکان ہونے کے باوجود ہم میں سے کسی کے کبھی بھی کوئی مادی مفادات نہیں رہے ، ہماری ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ سعودی عرب اور (آبادی کے اعتبار سے) دنیا کی تیسری بڑے مسلم ملک بنگلہ دیش کے درمیان تعلقا ت کو کیسے مستحکم بنایا جائے۔میرے لیے یہ اعزا زکی بات ہے کہ میں نے کراچی میں جنرل ایوب خان کی زیر صدارت ہونے والی گول میز کانفرنس کے دوران آپ کے والد شیخ مجیب الرحمن سے ملاقات کی جس کا استقبالیہ جی ایم سید نے دیا تھا۔ میں واحد مہمان تھا جسے اس گول میز کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا۔ میں آپ کے والد سے مل کر ان کی کرشماتی شخصیت اور فن خطابت سے بہت متاثر ہوا۔ یہ بھی اعزا ز کی بات ہے کہ بنگلہ دیش میں جنر ل حسین محمد ارشاد کے دور حکومت میںڈھاکا میں سعودی سفارتخانہ میں تعیناتی کے دوران میری آپ سے بھی ملاقات رہی ۔مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جب اپوزیشن لیڈر ہونے کی حیثیت سے پولیس اہلکار آپ کو گرفتار کرنے آگے بڑھا تو آپ نے کہا کہ” مجھے ہاتھ مت لگانا، میں ایک مسلم عورت ہوں۔”اس مختصر سی تمہید کے بعد اب میں چند چیدہ چیدہ نکات پر بات کرنا چاہوں گاجس کا تعلق عدل و انصاف سے ہے۔

حسینہ واجد صاحبہ!

١ ۔آپ ان مشکل حالات سے بخوبی آگاہ ہیں جن کا آپ کے والدشیخ مجیب الرحمن کی قید سے رہائی اور ڈھاکا واپسی کے بعد وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ملک کو درپیش تھے۔آپ کے والد نے متعدد قانون بنائے جن میں War Crimes Law بھی شامل ہے جس کے تحت ١٩٥پاکستانی فوجی افسران کو مجرم قرار دیا گیا۔اس قانون کا کسی بنگلہ دیشی شہری یا سیاستدان پر اطلاق نہیں کیا گیا ۔مگر پھر ان ١٩٥پاکستانی فوجی افسران کو معاف کردیا گیا جس پر پورے مسلم دنیا نے شیخ مجیب الرحمن کو ان کے اس اقدام پر خراج تحسین پیش کیا ۔اُ س وقت آپ کے والد نے ایک تاریخی بیان دیا تھا کہ” میں چاہتا ہوں کہ دنیا یہ جان لے کہ بنگلہ دیشی اپنے دشمن کو معاف کردیتے اور بھول جاتے ہیں۔”

٢۔ آپ کے والد کے اُسی دور حکومت میں پاکستانی فوج سے تعاون کرنے کے الزام میں ایک اور قانون بنایا گیا جس کے تحت ایک لاکھ لوگوں کو اس جرم میں ملوث قرار دیا گیا لیکن ان میں بھی کوئی بنگلہ دیشی سیاستدان شامل نہیں تھا۔ بعد ازاں آپ کے والد نے انہیں بھی معاف کرنے کا فیصلہ کیا اور انہیں رہا کردیا گیا۔ آپ کے والد نے اپنے پورے دور حکومت میں کسی بھی سیاستدان پر کبھی جنگی مجرم ہونے کا کوئی الزام نہیں لگایا۔ حتیٰ کہ جب ١٩٩٦ء میں عنان حکومت سنبھالنے بعد آپ بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلیں۔١٩٩٦ء میں آپ کے دور حکومت میں کسی پر بھی جنگی جرم میں ملوث ہونے کا الزام عائد نہیں کیا گیا اور نہ کسی کی گرفتاری عمل میں آئی کیونکہ آپ کے والد( شیخ مجیب الرحمن) نے اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے حل کرتے ہوئے تما م مبینہ جنگی مجرموں کو عام معافی دے دی تھی۔

٣۔ مگر ہر کوئی اس وقت حیران رہ گیا جب آپ نے اپنے والد شیخ مجیب الرحمن کے عقلمندانہ فیصلہ کو منسوخ کرتے ہوئے جنگی جرم کے مسئلہ کو دوبارہ زندہ کردیا۔اپنے والد کے فیصلوں کو منسوخ کردینے کا یہ عمل شیخ مجیب الرحمن کی رسوائی کے سوا کچھ نہیں جو کسی صورت قابل قبول قرار نہیں دیا جاسکتابالخصوص ان اپوزیشن جماعتوں کے خلاف جنہوں نے اس فیصلہ کی منسوخی کی مخالفت کی اور آپ کی سابق حکومت میں بھی رہیں۔

٤۔ مسلم رہنمائوں کی گرفتاری کے غیر منصفانہ فیصلہ کی کوئی دلیل نہیں دی جاسکتی جنہیںآپ کے والد اور پھر1996ء میں آپ کے دور حکومت میں گرفتار نہیں کیا گیا۔یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوگا بلکہ اس فیصلہ کے نتیجے میں بنگلہ دیش کے عوام بحیثیت ایک قوم کے تقسیم اور مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔مسلم دنیا کے تیسرے بڑے ملک کے رہنما ہونے کی حیثیت سے اس فیصلہ کے آپ پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے اور اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔بنگلہ دیش اور اس کے عوام سے ایک محبت کرنے والے فرد کی حیثیت سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ دنیا بھر کے مسلم رہنما بنگلہ دیش کے مسلم رہنمائوں بالخصوص پروفیسر غلام اعظم کی گرفتاری پر حیران وپریشان ہیں، ان پر عائد کیے گئے الزامات پر کسی کوبھی یقین نہیں۔پروفیسر غلام اعظم پر ان کے مبینہ جرم پر ٤٠برس بعد الزامات عائد کیے جار ہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی ان پر نہیں لگائے گیے۔

٥۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنے والد کی خاطرجنہوں نے مذکورہ مسلم سیاسی رہنمائوں پر ایک معمولی الزام بھی نہیں لگایا، کی گرفتاری کے فیصلہ کی کوئی توجیح پیش کیے بغیر اس پر نظر ثانی کریں گی ۔ آپ کی جانب سے ان کی رہائی کے احکامات عوام کی جانب سے تحسین کا باعث اور آپ کے اپنے والد سے والہانہ محبت کا اظہار ہوگا۔

( ڈاکٹر علی الغامدی ایک سابق سعودی ڈپلومیٹ ہیں جنہوں نے سائوتھ ایشین افیئرز میں اسپیشلائزیشن کی ہے)   

یہ خط جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔

کون ہوتا ہے حریف مئے مردافگن عشق


الواقعۃ شمارہ نمبر 2

محمد آفتاب احمد

بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت ”وار کرائم ٹریبونل ” نے بالآخر چار ماہ بعد جماعت اسلامی کے سابق سربراہ پروفیسر غلام اعظم پر ١٩٧١ء کی جنگ کے دوران نسل کشی، انسانیت مخالف جرائم اور قتل کے الزامات میں فرد جرم عائد کر دی ۔ ٩٠سالہ پروفیسر غلام اعظم کو١٢جنوری٢٠١٢ء کو گرفتار کیا گیا ۔ گرفتاری اور فرد جرم عائد ہونے کے بیچ ان پر ظلم و ستم، میڈیا کے ذریعے ان کی کردار کشی اور اہل خانہ کو حراساں کرنے کے واقعات ایک الگ داستان ہیں مگر ان سب کے باوجود عوامی لیگ حکومت پروفیسر غلام اعظم کو اپنے قدموں پر نہیں جھکا سکی۔

ان چار ماہ کے دوران بنگلہ دیش کے سیاسی معاملات میں بھارتی میڈیا اور پاکستان کے ایک بڑے صحافتی گروپ کی آڑ میں پاکستان کو بھی گھسیٹنے کی کوشش کی گئی لیکن بنگلہ دیش کو یہاں بھی منہ کی کھانی پڑی۔ ان سارے معاملات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب جو بنگلہ دیش میں اربوں ڈالر کی لاگت سے بجلی کا منصوبہ شروع کررہا ہے، کی جانب سے اس غیر آئینی و غیر قانونی ٹرائل کو بند کرنے کے مطالبہ کو ڈھاکا حکومت نے درخور اعتنا بھی نہیں سمجھا بلکہ ابلیسی گماشتوں کی ایما پر ریاض حکومت کو دبائو میں لانے کے لیے ڈھاکا کے حساس ترین علاقہ میں سعودی سفارتکار کا قتل تک کرادیا گیا۔ پروفیسر غلام اعظم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ١٩٧١ء کی جنگ کے دوران پاکستان کی حامی ملیشیائیں تشکیل دیے اور اس کی قیادت کی۔ پراسیکیوٹر زیاد المعلم کا کہنا ہے کہ
 
”فوجداری ٹریبونل نے پروفیسر غلام اعظم پر بین الاقوامی قانون کے تحت انسانیت مخالف جرائم، نسل کشی، قتل، آبروریزی، اغوا، آتش زنی اور دوسرے جرائم کے الزامات میں فرد جرم عائد کی ہے۔”
 
ضعیف العمر غلام اعظم کو وہیل چیئر پر عدالت لایاگیا۔ ان کے خلاف جج نظام الحق نے فرد جرم پڑھ کر سنائی لیکن عزم و ہمت کے پیکر غلام اعظم  نے اس کی صحت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ
 
” وہ جنگی مجرم نہیں ۔”
 
پروفیسر غلام اعظم نے ٹریبونل کی آئینی حیثیت کے بارے میں سوالات اٹھائے ۔ انہوں نے یہ بات ببانگ دہل کہی کہ
 
” اس ٹریبونل کو سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں، عدالت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ میں مجرم ہوں یا نہیں۔”
 
انہوں نے عدالت میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم سے سوال کیا کہ
 
”شیخ حسینہ واجد بتائیں کہ ان کے والدشیخ مجیب الرحمن نے١٩٧٣ء میں جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں جن١٩٣ فوجی افسران کے نام پیش کیے تھے کیا ان میں میرا کا نام شامل تھا؟”
 
پروفیسر غلام اعظم نے یہ بات واضح طور پر کہی کہ
 
"آج عوامی لیگ کی حکومت ان پر جو الزامات عائد کررہی ہے اس کے صرف اور صرف سیاسی مقاصد ہیں۔”
 
پروفیسر غلام اعظم کے خلاف اب ٥ جون سے مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہو گا۔ 
 
جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمن نظامی اور مرکزی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل عبد القدیر ملا پربھی ١٨ ماہ بعد ٢٨ مئی٢٠١٢ء کو ١٩٧١ء کی ”جنگ آزادی ” کے دوران جنگی جرائم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عائد کردی گئی۔ نام نہاد عدالتی ٹریبونل 1 نے مطیع الرحمن نظامی پر قتل عام، نسل کشی اور سازش سمیت ١٦ الزامات جبکہ عدالت2 میں عبدالقدیر ملا پر قتل عام اور عصمت دری سمیت ٦ الزامات عائد کیے ۔ مطیع الرحمن نظامی پر الزامات کی باقاعدہ سماعت یکم جولائی جبکہ عبد القدیر ملا کے خلاف ٢٠ جون کو ہوگی۔ ٢٩ جون ٢٠١٠ء کو مطیع الرحمن نظامی، نائب امیر مقبول احمد، مرکزی سیکرٹری جنرل علی احسن مجاہداورڈاکٹر فورم کے دلاور حسین سعیدی پر مارچ ٢٠١٠ء میں اسلامی چھاترو شبر کے ایک جلسہ میں تقریر کے دوران عوام کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیاتھا تاہم اگلے ہی دن انہیں جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔اسی طرح مرکزی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل قمرالزماں اور عبدالقدیر ملا پر فروری٢٠١٠ء میں صدر کے کانوائے پر حملہ کے الزام میں جون٢٠١٠ء میں گرفتارکیا گیا لیکن جب انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تو ان پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے۔ 
وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے ٢٠١٠ء میں ١٩٧١ء کی جنگ میں بنگلہ دیش کے قیام کے مخالفین اور پاکستان کے حامیوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے یہ خصوصی ٹریبونل قائم کیا تھا اور یہ اب تک حزب اختلاف کی ٣ سرکردہ شخصیات پر فرد جرم عائد کر چکا ہے۔ جماعت اسلامی اور حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اس عدالت کو ”شو ٹرائل”قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ٹریبونل میں مقدمے کی سماعت کے طریقہ کار کو بین الاقوامی معیار کے برخلاف قرار دیا ہے۔
 
کیا معاملہ اتنا سادہ ہے جتنا پیش کیا جارہا ہے یا پس پردہ مقاصد کچھ اور ہیں؟ عوامی لیگ حکومت کے موجودہ دور کے جائزہ سے پتا چلتا ہے کہ حسینہ واجد ایک جانب جہاں بنگلہ دیش کے اہم ضلع چٹاگانگ کو اقوام متحدہ کی عیسائی مشنری کے خفیہ تعاون سے ”مشرقی تیمور” جیسی ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہیں تو دوسری جانب عدلیہ ، مقننہ، سیاست اور فوج غرض کہ ہر شعبہ زندگی سے دیندار لوگوں کا صفایا کرکے ایسے لوگوں کوآگے لانے میں کامیاب ہوچکی ہیں جو دنیا میں بنگلہ دیش کی سیکولر ریاست کے طور پر شناخت بناسکتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا کہ جب پڑوس میں سیکولر بھارت موجود ہے تو پھر بنگلہ دیش کی کیا ضرورت؟
 

ایک اور” مشرقی تیمور” کی تیاری

 
چٹاگانگ ، بنگلہ دیش کا مشہور سرحدی اور پہاڑی علاقہ۔ ٧٤لاکھ کی آبادی۔٦٤لاکھ دوسرے علاقوں سے آئے جنہیں سابق حکومت نے ملک کے مختلف حصوں سے لاکر بسایا۔انہوں نے اپنی جفاکشی، محنت و ہنرمندی سے اس پہاڑی علاقہ کے٤٥ہزار ایکڑ اراضی کو ہرابھرا بنادیا۔ اب حسینہ سرکار انہیں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کررہی ہے۔وہاں پر متعدد مقامی اور بیرونی مشنریوں کی موجودگی اس کا عملی ثبوت ہے۔چٹاگانگ کی نگراں پارلیمانی امور کمیٹی نے اس نو آباد ٤٥ ہزار ایکڑ اراضی کا پٹہ منسوخ کردیا ہے۔ان میں ٢٢ ہزار ایکڑ زمین کا پٹا سابق اتحادی حکومت نے الاٹ کیا تھا۔ وہاں اندرون و بیرون بنگلہ دیش سے عیسائیوں کو لاکر آباد کیا جارہا ہے۔لارڈ اریک اُ بری جو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ UNDP کی طرف سے چٹا گانگ کے پہاڑی علاقہ کا انچارج ہے، کا کہنا ہے کہ” اگر بنگالی پہاڑی علاقہ چھوڑ کر نہ جائیں تو حسینہ واجد حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو ملنے والی تمام سہولیات بند کردے اور انہیں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردے۔”لارڈ ایرک کی اگست٢٠٠٩ء میں حسینہ واجد سے ملاقات کے بعد چٹاگانگ کے پہاڑی علاقہ سے فوج عملاً نکل چکی ہے۔جس کا مقصد بنگالیوں کو نکال کر آزاد عیسائی ریاست قائم کرنا ہے جیسا کہ انڈونیشیا کے علاقہ مشرقی تیمور میں ہوا۔مشرقی تیمور کی طرح ان کے گھروں میں آگ لگائی جارہی ہے۔
 

سیکولرتعلیمی پالیسی میں اسلام شجر ممنوعہ

 
امریکا اور اقوام متحدہ نے اس بار حسینہ واجد کو جن شرائط پر حکومت سے نوازا اسے پور ا کرنے کے لیے عوامی لیگ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلے تعلیم پر وار کیا۔ نئی تعلیمی پالیسی جاری کی گئی جس کے تحت اسکول کے نصاب میں اسلامیات نام کا کوئی مضمون شامل نہیں۔اس پالیسی کا مقصد دین سے نابلد نسل تیار کرنا ہے۔اسی طرح مفکر اسلام مولاناابوالاعلیٰ مودودی کی تمام کتابوں پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی گئی کہ اس سے بنگلہ دیشی معاشرے میں فرقہ واریت اور انتشار کو فروغ مل رہا ہے۔حسینہ واجد حکومت کی جانب سے یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ مولانا مودودی کی کتب نہ صرف اسلامی تعلیمات کی روح کے منافی اور متنازع ہے بلکہ اس سے معاشرے میں انتہاپسندی، عسکریت پسندی اور دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے۔یہ معاملہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ٢٠٠٤ء میں حکومت پاکستان نے سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کی کتابوں پریہ کہہ کر پابندی لگادی تھی کہ ان کی کتابیں پاکستان میں انتہاپسندی کے فروغ کا سبب بن رہی ہیں۔بنگلہ دیش کے تمام تعلیمی اداروں خواہ وہ مدارس ہوں یا اسکول و کالج، جامعات ہوں یا کتب خانہ ہر جگہ مولانا مودودی کی تحریریں شجر ممنوعہ قرار پائیں ۔ مگر عوامی لیگ کی اس حکومت کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا کہ آخر بنگلہ دیش کے بانی سربراہ شیخ مجیب الرحمن نے مولانا مودودی کی کتابوں یا ان کی تحریروں پر پابندی کیوں نہیں لگائی؟یا کیا انہیں مولانا مودودی کی تحریروں کا فہم و ادارک نہیں تھا؟
 

فوجی افسروں کا قتل عام اورناکام بغاوت کا ڈراما

 
٢٥ فروری ٢٠٠٩ء میں سرحدی محافظین (بنگلہ دیش رائفلز جو بعد میں بنگلہ دیشی بارڈر گارڈ زمیں تبدیل ہوگئی) کی جانب سے فوجی افسروں کے خلاف نام نہاد بغاوت کی کوشش کے نام پر٧٥اعلیٰ فوجی افسران کو قتل کردیا گیا ۔ یہ وہ افسران تھے جو دینی سوچ رکھتے تھے۔ حسینہ واجد نے اس واقعہ کا الزام بھی جماعت اسلامی پر لگادیا۔ بعد میں حکوت کا یہ جھوٹ واضح ہوگیا اور فوجی تحقیقات سے پتا چلا کہ اس کے پیچھے خود بھارتی خفیہ ایجنسی”را” کا ہاتھ تھا۔رپورٹ میں حسینہ واجد حکومت کی ملی بھگت کا بھی انکشاف ہوا۔ چونکہ الزام بھارت پر آرہا تھا اس لیے حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر نہ آنے دیا۔واقعہ کی خانہ پری کے لیے مئی ٢٠١٢ء میں ٣٠٩ اہلکاروں کو ٧ سال تک قید کی سزا سنائی گئی۔ ٢٥ فروری کو ہی اس واقعہ کی رپورٹ دیتے ہوئے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریہ میں لکھا کہ” دسمبر٢٠٠٨ ء کے انتخابات میں بنگلہ دیشی عوام نے حسینہ واجد کو ملک کو جمہوری اور سیکولر بنانے کا اختیار دے دیا ہے تاہم اسلام پسند اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔” ١٩ جنوری٢٠١٢ء کو بنگلہ دیشی فوج نے حسینہ واجد حکومت کے خلاف ایک بغاوت کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا جس میں ١٦افسران کو ملوث بتایا گیا تاہم آئی ایس پی آر نے صرف ایک باریش نوجوان میجر کی تصویر میڈیا کو جاری کی۔ یہ معاملہ بھی عالمی میڈیا کی توجہ حاصل نہ کرسکااور سب کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ اس ناکام بغاوت کی حقیقت کیا ہے! 
 

جب عدالت نے حکومت کے سُر میں سُر ملایا

 
عوامی لیگ کی موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے سے قبل ہی بنگلہ دیش کی عدلیہ پر سیکولر عناصر حاوی ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔٣ جنوری ٢٠١٠ء کو ہائی کورٹ نے حکومت کی تائید سے دین کی بنیاد پر سیاست کرنے والی پارٹیوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ صادر کیا۔ حالانکہ دستور کی ١٩٨٨ء کی ترمیم سے واضح ہے کہ اسلام ہی ریاست کا مذہب ہے۔ ہائی کورٹ کی رولنگ کے پیش نظر وزیرعدل و قانون شفیق احمد نے بیان دیا کہ ” دسیوں اسلامی پارٹیاں اپنے نام سے لفظ ”اسلامی” ہٹانے پر مجبور ہوں گی اور انہیں عدالت کے فیصلے کے نفاذ کے لیے انتخابی مہمات کے دوران دینی نعروں کا استعمال بھی ترک کرنا ہوگا۔دین کی بنیاد پر موجود سیاست پر پابندی عائد کردی جائے گی اور اسے ( شیخ مجیب الرحمن کے تیار کردہ) اصلی دستور کے مطابق کردیا جائے گا۔ہم اس اصل دستور کر بحال کرنا چاہتے ہیں جس کی بنیاد سیکولر ازم ہے۔”یہ سب کچھ دستور کی پانچویں ترمیم کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا جس میںنومبر ١٩٧٥ء میں ملک گیر عوامی دبائو کے نتیجے میں ”لادینیت ” اور ”اشتراکیت” کے الفاظ کو حذف کرکے اس کی جگہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کردیا اور لادینی کی جگہ” اللہ پر ایمان ہر عمل کی بنیاد پر ہوگا” اور ” اللہ پر پختہ یقین اور بھروسہ” کے الفاظ کا اضافہ کیا گیا۔ حسینہ واجد کی اس حکومت نے بالاخر دستور کی پانچویں ترمیم کو نہ صرف ختم کردیا بلکہ اداروں اور جامعات کے نام سے لفظ اسلام تک کو ہٹا دیا گیا۔یہی نہیں بلکہ اسلامی قانون کے مطابق وراثت میں عورتوں کا حصہ مردوں کی نسبت١:٢ کو دستور سے حذف کرکے عورتوں کا حصہ مردوں کے مساوی کردیا گیا۔قحبہ گری کو قانونی قرار دیا گیا اور ہم جنس میں شادی جائز ٹھہری۔
 

الیکشن کمیشن حکومت کا مہرہ

 
الیکشن کمیشن نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ کے سلسلے میں اپنے دستور، منشور اور لائحہ عمل پر نظر ثانی کرے۔ الیکشن کمیشن نے جماعت کے سیکرٹری جنرل کو خط میں انتباہ کیا کہ جماعت اسلامی کا دستور بنگلہ دیش کے دستور سے ہم آہنگ نہیں نیز اس کی بعض دفعات ریاست کی مبادیات سے بھی میل نہیں کھاتیں۔ خط میں اعتراض کیا گیا کہ :”جماعت کے دستور میں دفعہ ٢ کا پانچواں فقرہ بنگلہ دیش کی پارلیمانی بالادستی اور مجلس قانون ساز کی فعالیت کا جزوی طور پر انکا رکرتا ہے کیونکہ جماعت اسلامی کا دستور کہتا ہے کہ جماعت اسلامی صرف اور صرف اللہ عزو جل کی مکمل بالادستی کا اعلان کرتی ہے اور کسی غیر اللہ کو سپریم اتھارٹی ( ملک الملوک) نہیں کہا جاسکتا۔” گو کہ مذکورہ عقیدہ ہر کلمہ گو مسلمان کا عقیدہ ہے اور اس پر کسی کو اعتراض کی گنجائش نہیں مگر دلچسپ بات یہ کہ مزدور پارٹی اور بائیں بازو کی کمیونسٹ او راشتراکی جماعتیں اللہ کے انکار اور مارکس و لینن کی نظریات پر یقین رکھتی ہیں لیکن الیکشن کمیشن کو اس پر کوئی اعتراض نہیں حالانکہ یہ نظریات داخلی نہیں بلکہ باہر سے درآمد کیے گئے ہیں۔ درحقیقت الیکشن کمیشن کو لفظ اسلام سے ہی چڑ ہے ورنہ اسے دستور جماعت کی دفعہ  ٥ (٣) کی یہ عبارت نہ کھٹکتی کہ
 
 ” وہ ملک سے ہر طرح کی ناانصافی اور ہر طرح کے کرپشن کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکے گی اور معاشرے میں اسلامی نظام اور اسلامی عدل و انصاف کو نافذ کرے گی۔”
 
الیکشن کمیشن کی نظر میں جماعت اسلامی کے پروگرام کا یہ جزو بھی محل نظر ہے کہ
 
"وہ منظم جدوجہد کے ذریعے ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔”
 
اس سیاق میں بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ کا یہ بیان قابل ذکر ہے کہ
 
”حکومت انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنا چاہتی ہے جس کا صریح تقاضا ہے کہ اسلامی سیاست پر پابندی عائد کردی جائے کیونکہ انتہاپسندی اور دہشت گردی ان اسلامی سیاستدانوں ہی کے ذریعے ملک میں در آئی ہے۔”
 
صرف ایک برس بعد ٢٠١١ء میں عوامی لیگ حکومت نے اسلام کے نام پر سیاست پر پابندی لگادی۔
 

پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر حملہ

 
بنگلہ دیشی سیکولر عناصر نے اس پوری مہم کے دوران صرف اپنے ملک میں ہی اسلام پسند اور دیندار طبقے کو ہدف نہیں بنایا بلکہ پاکستان کو بھی اپنے زیر دام لانے کی کوشش کی۔بنگلہ دیشی میڈیا(دی فنانشل ایکسپریس، بی ڈی نیوز  24ڈاٹ کام اور ڈیلی اسٹارنے ١٨ مارچ ٢٠١٢ء کو بھارتی و برطانوی روزنامہ انڈیا ٹوڈے اور ڈیلی میل کی رپورٹ کی بنیاد پر)نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) اسد درانی نے عدالت عظمیٰ میں ١٩٩١ء کے عام انتخابات میں خالدہ ضیا کو فنڈزدینے کا اعتراف کر لیا ہے۔بنگلہ دیشی اخبارات نے پاکستان کے ایک بڑے اخباری گروپ کے انگریزی روزنامہ دی نیوز انٹرنیشنل ، اسلام آباد کا بھی حوالہ دیا جس میں بی ڈی نیوز24ڈاٹ کام کے مطابق آئی ایس آئی نے ١٩٩١ء میں بی این پی حکومت کے دوران بنگلہ دیش کے ایک مذہبی نیٹ ورک کی حمایت بھی کی۔تاہم بنگلہ دیشی میڈیا کو اس گھنائونے الزام پر شرمندہ ہونا پڑا۔٢٧ مارچ کوڈیلی اسٹار نےThe Daily Star Stands Corrected کے عنوان سے آئی ایس آئی کے خلاف اس خبر پر نہ صرف معافی مانگی بلکہ یہ بھی کہا کہ ١٩٩١ء میں عام انتخابات کے موقع پر خالدہ ضیا کو آئی ایس آئی کی جانب سے ٥٠ ملین روپے فنڈز دیے جانے کے کسی قسم کے ٹھوس شواہد نہ مل سکے۔
 
بنگلہ دیش میں اسلام پسندوں کی نسل کشی کی اس مہم میں اب تک صرف جماعت اسلامی کے ٣٠ ہزار سے زائد مرکزی، ضلعی وتحصیل کی سطح کے امرا و سیکرٹریز و دیگر رہنماؤں و کارکنوں کو گرفتا ر کیا جاچکا ہے۔گرفتاری سے بچ جانے والے زیر زمین روپوش ہوگئے ہیں۔گرفتار شدگان پر وہ وہ مظالم کیے جارہے ہیںاسے اگر بیان کیا جائے تو اسلامی تحریکیں مصر میں اخوان المسلمون کے لوگوں پر کیے گئے مظالم کو بھول جائیں گے۔دیگر مذہبی جماعتوں جن میں جماعت التوحید وغیر ہ شامل ہیں کے گرفتارشدگان اور لاپتا افراد کی ایک الگ فہرست ہے۔ جماعت اسلامی کے میڈیا کے اداروں کو بند کردیا گیا ہے۔ملک میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اسلامی سوچ یا نظریہ رکھنے والے عقوبت خانے کی نذر نہ کیے جاتے ہوں۔ داڑھی اور حجاب کو دہشت گردی سے تشبیہ دی جارہی ہے او راس شعائر کو اختیار کرنے والوں پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے۔حالات کی سنگینی دیکھتے ہوئے سعودی عرب کے سرکاری روزنامہ سعودی گزٹ نے ٣٠ اپریل ٢٠١٢ء کو Stop the witch hunt against Ghulam Azamکے عنوان سے اپنے اداریہ میں بنگلہ دیشی حکومت کی اسلام پسندوں کے خلاف کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور پروفیسر غلام اعظم کے خلاف غیر منصفانہ ٹرائل بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ مگر اس کے اگلے ہی دن امریکی سیکرٹری خارجہ ہلیری کلنٹن کی ڈھاکا آمد نے حسینہ واجد حکومت کو حوصلہ دیا اور چند روز بعد پروفیسر غلام اعظم پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر فرد جرم عائد کردی گئی۔ 
 
بنگلہ دیش کے اسلام پسندوں معاشرے سے خاتمہ کے لیے اگر چہ نام نہاد قانونی کارروائی کا آغاز ٢٠٠٩ء سے کیا گیا تاہم اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو قائم کرنے کی بات کرنے والوں کے خلاف سیکولر نما ابلیسی گروہ نے ٢٠٠١ء میں ہی مہم کی ابتدا کردی تھی۔ یہ وہ سال ہے جب ٹوئن ٹاور پر   ” حملہ” کا فسانہ گھڑا گیا۔بنگلہ دیش کے بانی قرار دیے جانے والے مقتول لیڈر شیخ مجیب الرحمن کی جماعت عوامی لیگ اور اس کے حامی ١٩٧١ء کی جنگ کی اپنے انداز میں تعبیر و تشریح کرتے چلے آ رہے ہیں حالانکہ عوامی لیگی بھی اس جنگ کے دوران پیش آئے واقعات کے برابرکے ذمے دار ہیں۔ مکتی باہنی اور اس جیسی دوسری تنظیموں نے بھی بھارت کی فوجی مدد اور تعاون سے مقامی لوگوں اور متحدہ پاکستان کے حامیوں کا قتل عام کیا تھا لیکن عوامی لیگ کی حکومت ان میں سے زندہ موجود لوگوں کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کر رہی بلکہ اس کے بجائے متحدہ پاکستان کے حامیوں اور مشرقی پاکستان کی تقسیم کے مخالفین کو ٤٢ سال کے بعد بھی خصوصی عدالتیں قائم کر کے ان میں گھسیٹا جا رہا ہے۔عوامی لیگ حکومت کہتی ہے کہ ١٩٧١ء کی جنگ کے دوران پاکستانی فوج اور اس کی حامی تنظیموں نے ٣٠ لاکھ لوگوں کا قتل عام کیا لیکن آزاد اور غیر جانبدار مورخین ہلاکتوں کے ان اعداد وشمار کی تائید نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ عوامی لیگ کے لیڈر سقوط مشرقی پاکستان کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کر رہے ہیں اور وہ اس جنگ میں بھارت اور دوسری غیر ملکی طاقتوں کے مکروہ کردار کو یا تو بالکل گول کر جاتے ہیں یا پھر اس کو معروضی انداز میں پیش کرنے سے گریز کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے وقت زمینی حقائق ان کے یک طرفہ مؤقف کی تائید نہیں کرتے ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ حسینہ واجد حکومت جماعت اسلامی و دیگر مسلم رہنمائوں کے خلاف الزامات تو جنگی جرائم کی عائد کر رہی ہے مگر وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے آج تک کسی بھی جلسہ میں جنگی جرائم کا لفظ استعمال نہیں کیا ۔ ١٥مارچ کو بنگلہ بندھو ایونیو میں ١٤جماعتی حکمراں اتحاد کی ریلی سے خطاب میں بنگلہ دیشی وزیراعظم نے خالدہ ضیا پر الزام لگایا کہ وہ شیخ مجیب الرحمن کے قاتلوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہیں مگر خالدہ جتنی چاہے کوشش کرلیں ، جنگی مجرموں کو کوئی نہیں بچا سکتا۔
 
آثار وقرائن سے محسوس ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش میں اخوان المسلمون کی تاریخ دہرائی جانے والی ہے ؟مسلم دنیا کی دینی جماعتیں بالخصوص جماعت اسلامی پاکستان کیا بنگلہ دیش میں اسلامی فکر سے وابستہ افراد کی اخلاقی تائید کریں گے ؟ 
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔

کیا وہابیت خارجیت کا نقشِ ثانی ہے ؟


الواقعۃ شمارہ نمبر 2

ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر 

سب سے پہلے گب نے خارجیت کا تعلق وہابیت میں تلاش کیا ہے۔ اس حوالے سے اس کا تجزیہ ہے کہ خوارج مذہبی انتہاپسند تھے، جو صرف خود کو سچا اور حقیقی مسلم سمجھتے تھے دیگر مسلمانوں کو کافر سمجھتے تھے۔ ان کے اس اصول پر تلوار مستزاد تھی، جو انہوں نے مسلم امت کے خلاف اٹھائی اور خود کو امت سے جدا کرلیا، جو راسخ العقیدہ (Orthodox) سمجھی جاتی تھی۔ بعد میں خوارج کے متعلق اعتدال پسند علماء نے ایک ایسا نظام وضع کرلیا جس نے ان کو جنوبی الجیریا، عمان اور زنجبار میں چھوٹی چھوٹی آبادیوں کی شکل میں زندہ رکھا۔

پس صدر اسلام میں تو خوارج کے انتہاپسندانہ نظریات کو مسترد کردیا گیا لیکن اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ہم وہی نظریات عرب کے وہابی مصلحین میں جاگزین دیکھتے ہیں۔
"Thus early, Islam rejected the doctrine of religious fanaticism. At a later day, in the eighteenth and early nineteenth century, we shall find the same lesson enforced on the wahhabi reformers of Arabia”. (١) 
گب کی متابعت میں امیر علی کا بھی یہی موقف ہے، وہ لکھتے ہیں:

”ان فرقوں میں ازارقہ سب سے بڑھ کر کٹر، اکل کھرے اور تنگ نظر ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے سوا سب فرقے واصل بجہنم ہوں گے۔ اس لیے انہیں یا تو جبراً راہ راست پر لانا چاہئے یا نیست و نابود کردینا چاہئے۔ کسی مشرک کو زندہ نہ رہنے دینا چاہئے (مشرک کی اصطلاح کو وہ بڑے وسیع معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور اس میں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں سب کو شامل کرلیتے ہیں) تمام گناہوں کا ان کے نزدیک ایک ہی درجہ ہے۔ قتل، زنا، خمر، تمباکو نوشی سب ان کے مذہب میں مستوجب عذاب ہیں۔ جہاں دوسرے مسلمانوں کا، عام اس سے کہ وہ سنی ہوں یا شیعہ، یہ عقیدہ ہے کہ ہر بچہ مسلمان بن کر دنیا میں آتا ہے اور جب تک تعلیم اسے بگاڑ نہیں دیتی مسلمان ہی رہتا ہے وہاں ازرقی یہ کہتے ہیں کہ کافر کا بچہ کافر ہوتا ہے۔ جس طرح راسخ العقیدہ عیسائیوں کا یہ ایمان ہے کہ جس بچے کو بپتسمہ نہ دیا گیا ہو وہ دوزخ میں جائے گا، اسی طرح خارجی یہ رائے رکھتے ہیں کہ جس بچے کو کلمہ نہ پڑھایا گیا ہو اس کی نجات نہیں ہوسکتی۔ حجاج بن یوسف نے ازرقیوں کا قلع قمع تو کردیا لیکن ان کے سنگدلانہ نظریوں نے نو صدیوں کے بعد وہابیت کی صورت میں عود کیا۔” (٢)

امیر علی آگے چل کر مزید لکھتے ہیں:

”مسٹر پیلگریو (Mr. Palgrave) نے اپنی کتاب Travels in Central Arabia میں وہابیوں کا نقشہ قدرے خوش آئند رنگوں میں کھینچا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ بلا واسطہ ان ازرقیوں کے جانشین ہیں جنھوں نے حجاج بن یوسف کے ہاتھوں شکست کھا کر وسطی عرب میں پناہ لی۔ محمد بن عبدالوہاب کے عقائد و نظریات نافع بن ازرق کے پیروئوں کے عقائد و نظریات سے نہایت قریب کی مشابہت رکھتے ہیں۔ ازرقیوں کی طرح وہابی بھی تمام دوسرے مسلمانوں کو مشرک کہتے ہیں اور ان کا مال لوٹنے اور انھیں غلام بنالینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ آج کل کے مسلمانوں میں جو تشبیہ پرستانہ رسوم رائج ہیں ان کے خلاف وہابیوں کی بغاوت چاہے کتنی ہی قابل تحسین ہو، حقیقت یہ ہے کہ نجد کے اخوان کی طرح دین اور خدا کی حاکمیت کے بارے میں وہ جو عقائد رکھتے ہیں ان میں کیلون (Caluin) کے پیروئوں کے خیالات کی سی سختی ہے اور وہ ترقی اور نشوونما سے متصادم ہیں۔” (٣)

Marcel Morand بھی وہابیت کو خارجیت کا نقش ثانی قرار دیتے ہیں(٤)۔

 ای، ادیب سالم کا نکتہ نظر بھی یہی ہے:

"The response of the Khawarij to the corruption of the old Islamic state is manifested today in the wahhabi sect, which is performing a more on less similar rale. The Khawarij and the wahabbis were motivated by thr same purpose, and both have reacted similarly”.(٥)

گب سے لے کر ادیب سالم تک سب نے خوارج اور وہابیوں میں معمولی مشابہت کا اندازہ لگا کر یہ نظریہ قائم کرلیا جو بڑا گمراہ کن ہے۔ خاص طور سے امیرعلی نے جس طرح محمد بن عبدالوہاب کے پیروکاروں کو ازارقہ سے مماثل قرار دیا، اس کی بظاہر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، اب تک خوارج کا جو مطالعہ سامنے آیا ہے اس کے پیش نظر خوارج خصوصاً ازارقہ اور وہابیوں میں جوہری فرق ہے۔

جس تحریک کو وہابی تحریک کہا جاتا ہے اور جس کے بانی کے طور پر شیخ محمد بن عبدالوہاب (١٧٠٦ء تا ١٧٩١ئ) کا نام لیا جاتا ہے، یہ نام ان کے مخالفین کا دیا ہوا ہے، خود محمدبن عبدالوہاب کے پیروکار اپنے آپ کو ”موحدون” کہتے ہیں۔ ایک غیر وابستہ اور غیر جانبدار شخص جب ابن وہاب کی تحریک کا مطالعہ کرے گا، وہ شائد اس کو ایک ”سلفی اصلاحی دعوت” کا نام دے، کیونکہ محمد بن عبدالوہاب دیگر داعیوں اور مصلحین کی طرح دعوت کے لیے اٹھے تھے، تجدید واحیائے دین کا کام ان کے علاوہ بھی بہت سے علماء نے کیا، مثلاًامام ابن تیمیہ (م٧٢٨ھ ١٣٢٨ئ) ابن قیم جوزیہ (م٧٥١ھ ١٣٥٠ئ)، شاطبی (م٧٩٠ھ ١٣٨٨ئ)، عز بن عبدالسلام، امام سنوسی، شاہ ولی اﷲ وغیرہ وغیرہ۔

جو مغربی مورخین شیخ محمد بن عبدالوہاب کے ہمعصر تھے، اور جنہوں نے شیخ کی تحریک کے بارے میں لکھا، وہ ”وہابیت” کا نام استعمال نہیں کرتے۔ مسعود عالم ندوی، نیپئر کا تذکرہ کرتے ہیں جو شیخ کا یورپی معاصر ہے، وہ شیخ کی دعوت کو New Religion ”دین جدید” کا نام دیتا ہے، یا ان کی تحریک کو ”محمدیہ” سے تعبیر کرتا ہے۔ سب سے پہلے ”وہابی” کی اصطلاح برک ہارٹ نے استعمال کی ہے، جو محمد علی پاشا کے قبضے کے بعد ١٢٢٩ھ ١٨١٤ء میں حجاز میں آیا تھا (٦)۔

محمد بن عبدالوہاب کی سلفی اصلاحی تحریک کو وہابیت کا نام دینا ایک حوالے سے انتہائی معنی خیز ہے۔ کیونکہ ایک وہابی فرقے اور وھابیت کا ظہور دوسری صدی ہجری کے اواخر اور تیسری صدی ہجری کے اوائل میں مراکش (المغرب) میں اباضی خارجیوں کے یہاں ہوچکا تھا۔ اس بات کا تذکرہ تیرہویں باب (خارجیت کا پھیلائو) میں ہوچکا ہے کہ اباضی خارجی عبدالرحمن بن رستم بن بہرام (٧) نے الجزائر کے شہر تاہرت میں رستمی حکومت کی بنیاد ڈالی۔ جب ١٧١ھ ٧٨٧ء میں اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے دولت رستمیہ کے سات معزز حضرات کو حکومت کی تشکیل کی وصیت کی، جن میں اس کا اپنا بیٹا عبدالوہاب اور ایک شخص یزید بن فندیک بھی شامل تھا۔ بیعت عبدالوہاب کے ہاتھ پر ہوگئی جس کے نتیجے میں اس کے اور ابن فندیک کے مابین اختلاف پیدا ہوگیا۔

ابن رستم اور اس کے ساتھیوں کا مذہب ”اباضیہ” تھا۔ عبدالوہاب رستمی کے زمانے میں یہ مذہب دو فرقوں وہابیوں اور نکاریہ میں تقسیم ہوگیا۔ ”وہابی” نسبت عبدالوہاب بن عبدالرحمن بن رستم کی طرف تھی۔ پھر ان دونوں اباضی فرقوں کے مابین خونریز جنگیں ہوئیں جن میں نکاریہ کو شکست ہوئی اور ان کا سردار ابن قندیرہ قتل ہوا۔ عبدالوہاب جو شمالی افریقہ میں وسیع رستمی حکومت کا موسس مانا جاتا ہے ١٩٠ھ میں فوت ہوا (٨) جبکہ مشرق عباسی خلافت کے ماتحت تھا۔ تاہرت کی اس رستمی حکومت کا خاتمہ عبداﷲ شبعی نے ٢٩٧ھ ٩١٠ء میں کیا۔

الغرض ‘وہابیت’ اسی اباضی خارجی عبدالوہاب بن عبدالرحمن بن رستم بن بہرام کی طرف منسوب تھی۔ اس نام کو بعض مخالفین نے ازاں بعد محمد بن عبدالوہاب کی تحریک پر چسپاں کردیا۔

اگر ایک طرف خوارج کا طرز فکر دیکھا جائے کہ وہ صحابہ کرام کو کافر قرار دیتے تھے، احادیث و اجماع صحابہ کی جگہ اپنی عقل پر بھروسہ کرتے تھے، غیر خارجیوں کو نہ صرف کافر قرار دیتے تھے بلکہ ان کے نومولود بچوں تک کو کافر قرار دے کر ان کے خلاف قتال کرتے تھے، وغیرہ وغیرہ۔ اس کے مقابلے پر شیخ محمد کی سلفی تحریک کیا تھی اور خود ان کے افکار کیا تھے، اس کے لیے اب تک سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں، تاہم یہاں ان کے بعض مکاتیب سے اقتباسات دیئے جارہے ہیں تاکہ خود ان کی زبانی یہ معلوم ہوسکے کہ وہ کون لوگ تھے، اور کیا چاہتے تھے۔

عراق کے ایک عالم عبدالرحمن سویدی کے نام شیخ محمد لکھتے ہیں:

”آپ کا مکتوب موصول ہوا۔ دل خوش ہوگیا۔ اﷲ آپ کو ائمہ متقین اور سیدالمرسلین کے دین کے داعیوں میں سے بنائے۔ اطلاعاً عرض ہے کہ میں متبع کتاب و سنت ہوں۔ دین میں کوئی نئی بات ایجاد کرنے والا مبتدع نہیں ہوں۔ میرا عقیدہ اور میرا مذہب جسے میں نے اختیار کیا ہے، اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے جس پر ائمہ مسلمین چلے، جیسے: ائمہ اربعہ ہوئے جن کے متبعین قیامت تک رہیں گے۔ ہاں! میں نے لوگوں سے اﷲ کے لیے دین کو خالص کرنے کی بات یقیناً کی ہے۔ زندہ یا مردہ بزرگان دین وغیرہ کو پکارنے سے منع کیا ہے۔ اﷲ کے لیے کی جانے والی عبادت، جیسے: ذبح و نذر، توکل و سجدے اور ان کے علاوہ دیگر عبادتیں جو صرف اﷲ ہی کا حق ہیں جس میں کسی مقرب فرشتے، مبعوث نبی کو بھی شریک نہیں کیا جاسکتا، میں ان سب میں بزرگوں کو شریک کرنے سے منع کرتا ہوں۔ یہی وہ دین ہے جس کی دعوت شروع سے آخر تک سارے انبیاء نے دی ہے اور جس پر اہل سنت و الجماعت کے لوگ قائم و دائم ہیں۔” (٩) 

شیخ محمد بن عبدالوہاب کا وہ خط جو انہوں نے مکہ مکرمہ کے علماء کے نام بھیجا، اس میں ان کی دعوت کے اہم نکات واضح ہوتے ہیں، وہ لکھتے ہیں:

”ہم پر جو مصیبت آئی ہے، اس کی خبر آپ حضرات اور دیگر لوگوں کو پہنچ چکی ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں بزرگوں کی قبروں پر بنے ہوئے مزارات مسمار کردیئے گئے ہیں(١٠)۔جب عام لوگوں پر یہ عمل اس خیال سے گراں گزرا کہ اس میں بزرگوں کی توہین ہے تو ہم نے انھیں ان بزرگوں کو پکارنے سے بھی منع کیا اور اﷲ کے لیے عبادت خالص کرنے پر زور دیا۔ قبروں پر بنے ہوئے مزاروں کو ڈھانے کے بعد جب ہم نے یہ مسئلہ چھیڑا تو عوام پر اور بھی زیادہ گراں گزرا اور علم کے دعویداروں نے مخصوص اسباب کے باعث ان کی پشت پناہی کی۔ یہ اسباب آپ حضرات سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ان میں ایک بڑا سبب عوام کی خواہش کی پیروی ہے۔ ان لوگوں نے ہمارے بارے میں یہ تہمت پھیلائی کہ ہم بزرگوں کو گالی دیتے ہیں اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ انھوں نے یہ معاملہ مشرق و مغرب تک پہنچا دیا اور ہمارے متعلق ایسی باتیں کہیں کہ ایک صاحب عقل انھیں بیان کرتے ہوئے بھی شرماتا ہے۔ میں آپ لوگوں کو اپنے مذہب کی سچی خبر دیتا ہوں۔ جھوٹ نہیں بول سکتا کیونکہ آپ جیسے لوگوں پر جو اپنے مذہب کا خاص و عام میں اظہار کرتے ہیں، جھوٹ نہیں چل سکتا۔

الحمداﷲ! ہم متبعین کتاب و سنت ہیں۔ ہم دین میں کسی نئی بات کے موجد نہیں۔ ہم امام احمد بن حنبل کے مذہب پر ہیں۔ دشمنوں نے یہ بہتان باندھا اور پھیلایا ہے کہ میں اجتہاد کا دعویٰ کرتا ہوں، ائمہ کی پیروی نہیں کرتا۔میں اس بہتان سے برأت ظاہر کرتا ہوں۔ اگر آپ لوگوں پر ظاہر ہوکہ قبروں پر بنے مزاروں کو ڈھانے اور بزرگوں کو پکارنے سے روکنا، جیسا کہ ہم نے کیا ہے، مذہب سلف کے خلاف ہے تو میں اﷲ اور اس کے فرشتوں کو گواہ بناکر اور آپ لوگوں کو اﷲ اور اس کے رسولۖ کے دین پر گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں اہل علم کی پیروی کرنے والا ہوں گا۔ اگر حق بات مجھ سے پوشیدہ رہی اور اس میں مجھ سے کوئی غلطی ہوئی، اسے آپ لوگ بیان کردیں۔ میں اﷲ کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں اسے سر آنکھوں پر رکھوں گا۔ حق کو قبول کرنا باطل پر مصر رہنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ ” (١١)

محمد بن عبدالوہاب کے خطوط پر مبنی کتاب شائع ہوچکی ہے، جس سے ان کی تحریک اور ان پر لگائی گئی تہمتوں کی وضاحت ہوتی ہے۔ ان خطوط کی تعداد ٥١ ہے جو ایک جلد میں چھپے ہیں۔ 

ادیب سالم کہتے ہیں وہابی، خارجیوں کی طرح متشدد موحد تھے، یعنی عقیدہ توحید پر سختی سے ایمان رکھنے والے تھے(١٢)۔یہ انتہائی گمراہ کن جملہ ہے، عقیدہ توحید پر جو شدت سے عمل پیرا ہو کیا وہ کوئی خامی ہے؟ اور کیا اس کی وجہ سے انسان خارجی ہوجاتا ہے؟ رسول اﷲۖ تمام سابقون الاو لون، صحابہ کرام کی اکثریت، تمام اہل بدر وغیرہ سب عقیدہ توحید پر شدت سے ایمان رکھنے والے اور عمل کرنے والے تھے تو کیا یہ سب خارجی تھے؟ 

الغرض محمد بن عبدالوہاب کی سلفی تحریک کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کے بعد یہ بیانیہ، بلاخوف تردید حرف آخر کے طور پر دیا جاسکتا ہے کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کی سلفی اصلاحی دعوت (جسے وہابیت نہیں کہنا چاہئے) تجدید دین کی تحریک ہے، جس کی بنیاد قرآن و سنت اور منہج صحابہ کرام و سلف صالحین پر ہے، یہ کوئی فقہی مسلک نہیں ہے، فروعی مسائل میں امام احمد بن حنبل کے پیروکار تھے اور اس ضمن میں امام ابن تیمیہ کی تشریح کو قبول کرتے تھے۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ ان کے پیروکاروں سے کچھ بے اعتدالیاں سرزد ہوئی ہوں لیکن محمد ابن وہاب کے پیروکاروں یا افغانستان کے طالبان کو خوارج سے تشبیہ دینا یا مماثل قرار دینا عصبیت اور علمی منافقت ہے، دونوں کے مابین اعتقاد، مشتملات و مفہوم، علاقہ، کیفیت، ادلہ شرعی، طرز استدلال غرضکہ ہر اعتبار سے بعد مشرقین ہے۔ 


حواشی
(١) H.A.R. Gibb, Mohammedanism, P.82, Oxford University Press, London 1969.
(٢) امیر علی، سپرٹ آف اسلام
(٣) ایضاً، ص ٥٢٦
(٤) Political Theory and Institutions     of the Khawarij, P.23 (with reference Morand, Marcel, Introduction a L’Etude du Droit Musulman Algerian, Alger Jules Carlonel, 1921, P.97)
(٥) ایضاً
(٦) دیکھئے مسعود عالم ندوی کی کتاب ”محمد بن عبدالوہاب، ایک بدنام اور مظلوم مصلح”
(٧) یہ اباضی فقہا میں سے تھا، اپنے زہد و تواضع کی وجہ سے مشہور تھا اس کی کتاب ”التفسیر” ہے۔ یہ خارجی الاصل تھا، اس کا دادا بہرام، حضرت عثمان ابن عفان کے موالی میں سے تھا۔ ]زرکلی، الاعلام، جلد٣، ص٣٠٦[
(٨) اس کی تاریخ وفات میں خاصا اختلاف ہے تاہم زرکلی نے ١٩٠ھ کی تاریخ راجح قرار دی ہے۔ زرکلی کے مطابق یہ اپنے باپ کی وفات کے تقریباً ایک ماہ بعد ١٧١ھ میں خلیفہ بنا، اباضیوں اور غیر خارجیوں پر اسے ایسی حکومت ملی کہ اس جیسی حکومت اس سے پہلے کسی اور اباضی خلیفہ کو نہیں ملی تھی، وہ عالم اور فقیہ تھا، نہایت دلیر تھا، بنفس نفیس جنگ کرتا تھا۔ ]الزرکلی، الاعلام، جلد٤ ص١٨٣[
(٩) محمد بن سعد الشویعر، تاریخ وہابیت حقائق کے آئینے میں، ص٩٧
(١٠) جبیلہ میں ان صحابہ کرام کی قبریں پائی جاتی تھیں جو مرتدین کے خلاف جنگ میں شہید ہوئے تھے یہ جگہ معرکہ یمامہ کے مورچوں میں سے ہے، جہاں مسلیمہ کذاب کے خلاف جہاد کیا گیا تھا، جہالت اور عقیدے کی کمزوری کے باعث لوگوں نے صحابہ کرام کی قبروں پر عمارتیں بنالی تھیں۔ زید بن خطاب اور دیگر صحابہ کی قبروں پر قبے تعمیر کردیئے تھے، ان کے لئے نذر و نیاز کی جاتی تھی، وہاں جانوروں کی قربانی دی جاتی تھی اور لوگ اﷲ کو بھول کر ان قبروں کا رخ کرنے لگے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قبروں پر مزار بنانے کا آغاز جزیرہ نمائے عرب میں قرامطہ اور مراکش اور مصر میں فاطمیوں کی حکومت نے کیا۔ ]تاریخ وہابیت حقائق کے آئینے میں، ص١٣٤[
(١١) محمد بن سعد الشویعر، تاریخ وہابیت حقائق کے آئینے میں، ص٩٨
(١٢)  ادیب سالم، ص٢٣

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔

اسلام کا سیاسی نظام


الواقعۃ شمارہ نمبر ٢

مولانا صفدر زبیر ندوی

اسلامک فقہ اکیڈمی ( انڈیا ) کے زیر اہتمام سیمینار کی رودادبمقام : علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ( علی گڑھ ) بتاریخ : ٢٨ -٢٩ اپریل ٢٠١٢ء

اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) جہاں ایک طرف امت مسلمہ ہندیہ کی دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہے، وہیں مختلف تازہ موضوعات پر سمینار کر کے اور اس کے ذریعہ لوگوں تک معلومات منتقل کر کے انھیں غور وفکر کا رخ بھی بتا رہی ہے، اور انھیں ایک باشعور شہری بنانے میں مدد اور تعاون کرتی ہے، چنانچہ پوری دنیا خصوصا عرب دنیا میں آئی بیداری کے پس منظر میں اکیڈمی نے سب سے پہلے ”اسلام کا سیاسی نظام” کے عنوان سے ایک سمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا
تاکہ اسلامی سیاسی نظام کے تعلق سے لوگوں کے ذہنوں میں ابھرنے والے سوالات کو حل کیا جا سکے اور موجودہ مسلم حکومتوں کے نظامہائے حکومت کے تعلق سے پیدا ہونے والے شبہات کو دور کیا جا سکے، اس مرکزی عنوان کے حسب ذیل ذیلی محاور مقرر کیے گئے تھے:

١ ـ اسلامی سیاسی نظام کے اصول ومبادی
٢ـ خلافت علی منہاج النبوہ ـ خصوصیات وامتیازات
٣ـ اسلام میں شوری کی اہمیت اور دائرہ اختیار
٤ـ اسلام اور ملوکیت
٥ـ اسلامی سیاسی نظام ـ عہد بہ عہد
٦ـ اسلامی مملکت میں رعایا کے حقوق
٧ـ انتخابی نظام ـ اسلامی ہدایات کی روشنی میں
٨ـ اسلامی مملکت میں آزاد عدالتی نظام
٩ـ اسلامی مملکت میں وضع قانون اور اس کے لیے طریقہ کار
١٠ ـ اسلامی مملکت میں حکمرانوں کا احتساب
١١ـ اسلامی مملکت میں حکمرانوں کے حقوق واختیارات
١٢ ـ موجودہ جمہوری نظام اور اسلامی اصولوں پر اس کی تشکیل
١٣ ـ اسلامی سیاسی نظام اور دیگر نظامہائے سیاست کے درمیان توافق وہم آہنگی کی صورتیں
١٤. اسلامی سیاسی تصورات ـ اہل یورپ کی تحریروں میں

اکیڈمی کو اس سمینار کے لیے مختلف موضوعات پر اردو میں تقریباً ٨١ مقالے اور انگریزی میں ١١ مقالے موصول ہوئے۔ چنانچہ اکیڈمی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اشتراک سے مورخہ٨ ٢۔٢٩/ اپریل ٢٠١٢ء کو مذکورہ موضوع پر دو روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا، جس کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں ٢٨/ اپریل بروز شنبہ صبح٠ ١ بجے اس فکری سمینار کا افتتاحی اجلاس شروع ہوا، جس کی صدارت ملک کے مشہور محقق جناب پروفیسر یسین مظہر صدیقی نے فرمائی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد محب الحق نے انجام دیئے، اور جس میں ملک کے مختلف علماء اور اساتذہ سیاسیات و تاریخ نے خطاب کیا، جس کی ترتیب کچھ اس طرح ہے:

صدارت: پروفیسر یسین مظہر صدیقی (سابق چیئرمین، شعبہ اسلامک اسٹڈیز، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی)

نظامت: ڈاکٹر سید محب الحق (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

تلاوت قرآن: عبدالخالق کامل
استقبالیہ کلمات:پروفیسر عبد الرحیم بیجاپور(چیئرمین، شعبہ سیاسیات، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی)

افتتاح:پروفیسر محسن عثمانی ندوی (صدر شعبہ عربی، ایفلو، حیدرآباد)

کلیدی خطبہ: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی(جنرل سکریٹری، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)

اظہار خیال:

١۔ پروفیسر سعود عالم قاسمی(ڈائرکٹر سر سید اکیڈمی، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ)
٢۔ پروفیسر رفاقت علی خان(سابق صدر شعبہ تاریخ، جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی)
٣۔ڈاکٹر عرشی خان (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

صدارتی خطاب:پروفیسر یسین مظہر صدیقی (سابق چیئرمین، شعبہ اسلامک اسٹڈیز علی گڈھ مسلم یونیورسٹی)

کلمات تشکر: پروفیسر عبد الرحیم بیجاپور(چیئرمین، شعبہ سیاسیات، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی)

تلاوت قرآن کے بعداستقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے شعبہ سیاسیات کے صدرپروفیسرعبدالرحیم بیجاپورنے کہاکہ ”جس جگہ اس موضوع پر سب سے زیادہ گفتگو ہونی چاہیے تھی وہاں بھی عموماًاس سے اعراض کیاجاتارہاہے۔آج ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس موضوع پر گفتگوکررہے ہیں۔”

پروفیسرمحسن عثمانی ندوی(سابق صدر شعبہ عربی، ایفلو، حیدر آباد) نے اپنی گفتگومیں امامت کبری ،سیاست اورخلافت کی اہمیت سے متعلق کہاکہ اس نظام کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ نبی اکرم ۖ کی تدفین کے معاملہ کو بھی مئوخر کیاگیا۔انہوںنے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ پچاس سال میں اسلام کے سیاسی نظام پر کوئی وقیع کتاب اردومیں نہیں لکھی گئی ۔یہی حال عربی کا بھی ہے البتہ حال ہی میں عربی زبان میں فقہ الدولة اورفقہ الجہاد(یوسف القرضاوی ) کی آئی ہیں جن کا اردومیں ترجمہ کیاجانابہت ضروری ہے۔”

کلیدی خطبہ میں مولاناخالدسیف اللہ رحمانی جنرل سیکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیانے اسلامی سیاست کے اہم پہلوئوں کو آسان اوررواں زبان میں پیش کیا۔اس خطبہ کو پمفلٹ کی شکل میں سامعین میں تقسیم کردیاگیاتھا۔اس خطبہ میں سیرحاصل بحث کے ذریعہ اسلام کے سیاسی نظام کے خدوخال واضح کیے گئے ۔
افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی خلافت کے زوال کے پس منظرمیںسرسیداکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر سعود عالم قاسمی نے کہاکہ اسلامی نظام سیاست کو خراب کرنے میں ملائیت ،سرمایہ داری اورملوکیت ،تینوں اداروں نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیاہے۔

ڈاکٹرعرشی خان (مشرق وسطی کے ماہر) نے اپنے خطاب میں ملیشیامیں مقیم معروف اسلامی مفکرسیدنجیب العطاس (جنہوںنےIslam and Secularism کے نام سے کتاب لکھی ہے) کے حوالہ سے کہاکہ مسلمانوںکو سب سے پہلے یہ طے کرناچاہیے کہ انسان کا آخری مقصد کیاہے اورPure knowledgeکیاہے ۔موجودہ زمانہ جاہلیت اورکنفیوژن کا دورہے جس سے ہم اس وقت تک نہیں نکل سکتے جب تک اپنے paradigme میں نظام زندگی اورنظام سیاست پر گفتگونہیں کرتے ۔

پروفیسررفاقت علی خاں سابق صدرشعبہ سیاست جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکیااورتقسیم ہندکے بعدہندوستانی مسلمانوںکے مستقبل کے سوال پر مولانامودودی اورمحمدعلی جناح کے خیالات پر تنقیدکی۔

صدارتی کلمات پروفیسریٰسین مظہرصدیقی نے پیش کیے اورکہاکہ ہمارانقطہ نظرعموماً traditional  ہوتاہے ۔ دانشوراورعلماء سب اسی کو اختیارکرتے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ خلیفہ کا انتخاب امت کے اجتماعی شعورکی ذمہ داری ہے ۔ انہوںنے یہ بھی کہاکہ امت کے پہلے تین خلفاء کو مدینہ کا تحفظ (protection)حاصل تھا جوکہ چوتھے خلیفہ ٔراشد حضرت علی کو حاصل نہیں ہوسکا۔انہوںنے یہ بھی کہا بدلے ہوئے حالات میں پورے عالم اسلام کا ایک خلیفہ ممکن نہیں رہا،اس بات کو ہم سب نظراندازکرتے ہیں ۔اس کے علاوہ انتظامی چیزوں کو بھی ہم political systemسے جوڑ دیتے ہیں مثال کے طورپر جزیہ کا مسئلہ ہے جو ایک administrative  چیز تھی ۔

پروفیسرصدیقی نے یہ اہم بات بھی کہی کہ علماء کا کہنا ہے کہ غیرمسلموںکو اسلامی نظام میں برابرکے حقوق نہیں دیے جائیں گے بلکہ ان کو دوسرے درجہ کا شہری قراردیاجائے گا ، دوسرے لوگ بھی مسلمانوں کو عملًایہی درجہ دیے ہوئے ہیں ، علماء اس تصورپر اٹکے بیٹھے ہیں حالانکہ یہ تصوربالکل غلط ہے۔
اس افتتاحی نشست کے بعد مقالات و مباحثات کی نشستیں شروع ہوئیں، اور اس کی پہلی نشست سوا بارہ بجے شروع ہوئی، جس کا عنوان ”اسلام کا سیاسی نظام: اصول وضوابط” رکھا گیا تھا اور جس کی صدارت اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے فرمائی اور نظامت کی ذمہ داری ڈاکٹر سمیع اختر فلاحی (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے سنبھالی،اور درج ذیل مقالہ نگاروں نے اپنے مقالات پیش کیے جن پر مناقشے اور مباحثے بھی ہوئے:

١۔پروفیسر سعود عالم قاسمی (علی گڑھ)
اسلام میں حکمراں کے انتخاب کا طریقہ

٢۔ڈاکٹر سید عبد الباری شبنم سبحانی (دہلی)
کیا جمہوریت اور اسلام کے سیاسی نظام میں مطابقت ممکن ہے؟

٣۔ڈاکٹر محمد محب الحق(علی گڑھ)
Beyond the Paradigm of State and Government: Perspectives on  Islamic Commonwealth

٤۔ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی (علی گڑھ)
Islamic Shura and its Jurisdiction: A Political Study

اس کے بعد اس سمینار کی دوسری نشست سوا تین بجے شروع ہوئی، جس کا عنوان ” خلافت اسلامیہ اور منہاج نبوت” رکھا گیا تھا، اور جس کی صدارت مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ جغرافیہ کے سابق چیئرمین پروفیسر صلاح الدین قریشی نے اور نظامت مولانا عمر عابدین مدنی (المعہد العالی الاسلامی ، حیدر آباد) نے فرمائی۔اس نشست کے مقالہ نگاروں کے اسمائے گرامی اور ان کے موضوعات مندرجہ ذیل ہیں:

١۔مولانا محمد شاہجہان ندوی (کیرالا)
خلافت علی منہاج النبوة ـ خصوصیات وامتیازات

٢۔ڈاکٹر عبد المجید خان(علی گڑھ)
Spirituo, Political Institution of ”خلافة علی منہاج النبوة” : Nature, Legitimacy and Relevance

٣۔ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی(دہلی)
اسلامی سیاسی فکر ـ جدید اسلامی فکر کے تناظر میں

٤۔پروفیسر صلاح الدین قریشی(علی گڑھ)
Social Inequality and Political Instability in the Muslim Countries and Islamic Measures to Reduce it

مقالات کے اختتام پر شرکاء نے سوالات بھی کیے اور ان پر بحثیں بھی ہوئیں۔ پھر بعد نماز مغرب سوا سات بجے سے تیسری نشست شروع ہوئی،جس کا عنوان تھا: ” اسلامی مملکت میں عدالتی نظام اور رعایا کے حقوق”، اس نشست کی خاص بات یہ تھی کہ اس پوری نشست کو ریسرچ اسکالر کے لیے خاص کیا گیا تھا، اس نشست کی صدارت دو ممتاز افراد یعنی ڈاکٹر شیخ شوکت حسین (شعبہ قانون،کشمیر یونیورسٹی)/ پروفیسر عبد الرحیم بیجاپور (شعبہ سیاسیات، اے ایم یو) نے فرمائی ، اور نظامت کے فرائض عنبرین جمالی (سوشل سائنسز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے انجام دیئے،اس نشست میں درج ذیل ریسرچ اسکالرز نے اپنے اپنے مقالات پیش کیے:

١۔محمد معاذالحق
Independance of Judiciary under Islam

٢۔ظفر دارک
میثاق مدینہ کی سیاسی اہمیتـ عہد حاضر میں

٣۔عبد الخالق کامل ندوی
اسلامی تناظر میں انسانی حقوق اور خاص کر اقلیتی حقوق کا تحفظ

٤۔محمد ناصر
اسلام اور انسانی حقوق

٥۔محمد نظیر حسین 
Social Security in Islam

٦۔عبرت جہاں
اسلامی عدل کی حکمرانی۔ اندلس کی اموی تاریخ قضا کا ایک جائزہ

٧۔گورو وارشنے
Insurance system of Islam

٨۔شہلا جمیل انصاری
اسلام میں عورت کے معاشی حقوق

اس کے بعد دوسرے دن٩ ٢/ اپریل کو صبح ساڑھے نو بجے چوتھی نشست کا آغاز اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری برائے علمی امور مولانا عتیق احمد بستوی صاحب کی صدارت اورڈاکٹر ضیاء الدین ملک فلاحی(شعبہ اسلامک اسٹڈیز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) کی نظامت میں ہوا، اس نشست کا عنوان ” اسلام ، جمہوریت اور جدید سیاسی رجحانات” رکھا گیا، اور اس کے تحت سات مقالے پیش کیے گئے جو درج ذیل ہیں:

١۔ڈاکٹر مسعود عالم فلاحی(لکھنؤ)
غیر اسلامی ریاست میں حصہ داری ـ علامہ یوسف القرضاوی کی آراء کی روشنی میں

٢۔مولانا عمر عابدین مدنی(حیدر آباد)
انتخابی نظام ـ اسلامی ہدایات کی روشنی میں

٣۔پروفیسر عارف الاسلام(علی گڑھ)
مغربی جمہوریت اور اسلام

٤۔ڈاکٹر توقیراحمد(علی گڑھ)
Economic Exploitation in the Modern World: Looking for Alternative Model

٥۔ڈاکٹر سمیع اختر فلاحی(علی گڑھ)
اسلامی مملکت میں جمہوریت اور شہریت: علامہ غنوشی کے افکار کا مطالعہ

٦۔ڈاکٹر عنبرین جمالی(علی گڑھ)
Contemporary Feminist Discourse and Islamic Perspectives

٧۔پروفیسر اقبال علی خان (علی گڑھ)
Human Rights and Islam

اور پھر اس کے فورا بعد ہی ١١ بجے سے پانچویں نشست پروفیسر رفاقت علی خان (سابق صدر شعبہ تاریخ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) کے زیر صدارت اور ڈاکٹر مسعود عالم فلاحی (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ عربی، مانو، لکھنؤ برانچ) کے زیر نظامت شروع ہوئی، جس کا عنوان تھا: ” اسلامی مملکت میں حکمرانوں کے اختیارات و فرائض”۔ اس نشست میں مندرجہ ذیل مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پیش کیے:

١۔پروفیسر محسن عثمانی ندوی(حیدر آباد)
حکمرانوں کا احتساب۔ ایک فریضہ

٢۔ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی(دہلی)
اسلامی مملکت میں حکمرانوں کا احتساب

٣۔ ڈاکٹر ضیاء الدین ملک فلاحی(علی گڑھ)
شراکت اقتدار اور اسلام: بعض علماء اور دانشوران کے افکار کا مطالعہ

٤۔ ڈاکٹر شیخ شوکت حسین(کشمیر)
Minority Protection with Islamic Political Thought

٥۔ ڈاکٹر محمد حبیب الحق انصاری(علی گڑھ)
اسلام اور جمہوریت کی ہم آہنگی۔ تیونس کے انقلاب میں 
کار فرما خیالات کا جائزہ

٦۔ مولانا محمد راشد قاسمی خیر آبادی (بنارس)
اسلامی مملکت میں آزاد عدالتیں

ان پانچ نشستوں میں مقالات پیش کیے جانے اور ان پر بحث و مباحثہ کے بعد تقریبا ًپونے ایک بجے سے اختتامی نشست کا آغاز کیا گیا،جس کی صدارت انگلش اینڈ فارن لینگویجزیونیورسٹی حیدر آباد کے شعبہ عربی کے سابق صدر جناب پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے فرمائی اور نظامت کے فرائض صفدر زبیر ندوی (رفیق شعبہ علمی،اسلامک فقہ اکیڈمی) نے انجام دیئے،اور شرکاء سمینار میں سے بعض اہم افراد نے اس سمینار کے تعلق سے اپنے بہتر تاثرات کا اظہار کیا، اختتامی نشست کی ترتیب کچھ اس طرح رکھی گئی تھی:

صدارت: پروفیسر محسن عثمانی ندوی(سابق صدر شعبہ عربی،انگلش اینڈ فارن لنگویجز یونیورسٹی، حیدرآباد)

نظامت: صفدر زبیر ندوی (شعبہ علمی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)

اختتامی خطاب:پرفیسر یسین مظہر صدیقی (سابق چیئرمین، شعبہ اسلامک اسٹڈیز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

تاثرات:

١۔ مولانا عتیق احمد بستوی (سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)

٢۔ پروفیسر عبد الباری (سابق چیئرمین، شعبہ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

٣۔ پروفیسر سعود عالم قاسمی (ڈائرکٹر سر سید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم 
یونیورسٹی )

٤۔ پرفیسر اقبال علی خان (سابق چیئرمین، شعبہ قانون، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

٥۔ ڈاکٹر مفتی محمد زاہد علی خان (ناظم شعبہ سنی دینیات، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی)

٦۔ڈاکٹر محمد محب الحق (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

تجاویز:صفدر زبیر ندوی (شعبہ علمی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)

صدارتی کلمات:پروفیسر محسن عثمانی ندوی

کلمات تشکر: پروفیسر عبد الرحیم بیجا پور

ناظم شعبہ سنی دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ڈاکٹرمفتی زاہدعلی خاں نے کہاکہ انڈیاکے دستورمیں پہلے سیکولرازم کا لفظ نہیں تھا بعدمیں بڑھایاگیا،لہٰذادستورکے ارتقاء پر بھی ہماری نظر ہونی چاہیے ۔پروفیسر عبد الباری (سابق صدر شعبہ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہاکہ دین سے شعوری وابستگی بہت اہم ہے اور ہمارے ہاں اس کی کمی ہے، اور دوسری بڑی کمی سیاسی بصیرت کی ہے۔

پروفیسراقبال علی خاں (سابق چیئرمین شعبہ قانون علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہاکہ غیراسلامی ریاست میں ہمارا کیارول ہوناچاہیے یہ پہلوبہت زیادہ اہم ہے۔انہوں نے یہ رائے بھی دی ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے۔ڈاکٹرمحب الحق(اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہاکہ علماء کو وقت کی صورت حال کو سمجھناچاہیے، کیونکہ out  of context فتووںسے مسلمانوں کی بے عزتی ہوتی ہے۔اس سیمنارمیں یہ کمی محسوس ہوئی کہ موجودہ صورت حال کے بارے میں کوئی گفتگو سامنے نہیں آئی ۔

پروفیسرسعودعالم قاسمی (ڈائریکٹر سر سید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے مسلم دنیاکے حالات کے ضمن میں کہاکہ سعودی عرب میں ٢٥یونیورسٹیاں ہیں اورکسی یونیورسٹی میں بھی سیاسیات کا شعبہ نہیں ہے ۔وہ چاہتے ہی نہیں کہ سیاست پرکوئی بات ہو یاکوئی مثبت تنقید ہو۔ مزید کہا کہ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے اساتذہ وطلبہ کو ہمت کرنی چاہیے اورنئے سیاسی نظریات اوراسلام کا تقابلی مطالعہ کرنا چاہیے ۔

اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری مولانامفتی عتیق احمدبستوی نے فرمایاکہ موضوع بڑااہم ہے اورا س پر ایک سمینارسے کام نہیںچلے گا،ایسے مذاکرے باربارہونے چاہئیں اورتیاری کے ساتھ ہونے چاہئیں ۔انہوںنے یہ بھی کہاکہ زندہ قومیں کسی ایک ادارہ وتنظیم پر تکیہ نہیں کرتیں مختلف ادارے ڈیولپ کرتی ہیں۔ اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے شیخ عز الدین عبدالسلام کے حوالہ سے کہاکہ انہوںنے لکھاہے کہ : ”اگردوشخصوں کے پاس حکومت جانے کا خطرہ ہو، اور دونوں نقصان دہ ہوں ،مثلاایک قاتل ہے دوسراغاصب ، اب اگرہم دونوں کو چھوڑکر کنارہ کھڑے ہوجائیں اوراخف الضررین کو اختیارنہ کریں تو ہم بھی مجرم ہوں گے ۔” مولانا نے یہ بھی کہاکہ موجودحالات میں یہی موقف زیادہ درست ہے کہ سیاست میں حصہ لیاجائے۔

پروفیسریٰسین مظہرصدیقی نے کہاکہ ”ہم ماضی کے اسیرہیں ،کسی میدان میں نئی بات سوچنے اورکہنے کی ہمت نہیں رکھتے ،اس چیز کا ازالہ ہوناچاہیے ،انہوںنے کہاکہ اسلام کے سیاسی نظام پر علماء اورعصری علوم کے ماہرین کے اشتراک سے ہی اس کام کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ 

اس نشست کے آخرمیںاپنی مختصراورجامع صدارتی گفتگومیں موضوع کی مناسبت سے پروفیسرمحسن عثمانی ندوی (سابق صدر شعبہ عربی، ایفلو، حیدر آباد) نے کہاکہ دین وسیاست کی صحیح تعبیرکرنابہت اہم بھی ہے بہت نازک بھی۔ انہوںنے کئی دینی تنظیموں کے ا فکار و نظریات کی مثال دیتے ہوئے اپنی بات واضح کی اوران پر صحت مندانہ تنقیدبھی کی اوراس حوالہ سے لوگوںکو مزیدمطالعہ کی رہنمائی بھی کی۔

 پروفیسرعبدالرحیم بیجاپور (چیئرمین شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے اسلامک فقہ اکیڈمی ،ملک کے مختلف مقامات سے آئے ہوئے علماء اوراسکالرز اورشعبہ سیاسیات کے اساتذہ اورطلبہ وطالبات اوردیگرمعاونین کا شکریہ ادا کیا۔ 

اس سمینار کے لیے تقریباً ٤٠ مقالات موصول ہوئے ، نشستوں میں موجود مقالہ نگاروں کے مقالے پیش ہوئے اور ان کی کاپیاں شرکاء کے درمیان بھی تقسیم کی گئیں، لیکن ہمارے بعض مقالہ نگار ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنے مقالے اکیڈمی کو بھیجے، لیکن کسی وجہ سے وہ سمینار میں شریک نہ ہوسکے، تو ان کے مقالے نشستوں کے دوران پڑھے نہیں جا سکے ، البتہ ان مقالوں کی کاپیاں شرکاء سمینار کے درمیان تقسیم کی گئیں، تاکہ شرکاء ان کی تحریروں سے بھی استفادہ کر سکیں، ان حضرات کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں:

١۔مولانا راشد حسین ندوی(رائے بریلی)
اسلامی مملکت میں رعایا کے حقوق

٢۔مولانا اختر امام عادل قاسمی (سمستی پور)
آزاد عوامی حکومت۔ اسلامی تصور

٣۔ڈاکٹر سید احمد ومیض ندوی(حیدر آباد)
اسلامی مملکت میں حکمرانوں کا احتساب

٤۔ڈاکٹر شکیل احمد صمدانی (علی گڑھ)
Administration of Justice by Hazrat Umar(RA)

٥۔پروفیسر عبد الخالق( علی گڑھ)
اسلام کا سیاسی نظام

٦۔مولانا ضیاء الدین ندوی قاسمی (فیض آباد)
اسلامی مملکت میں آزاد عدالتیں

٧۔ثنا تہذیب(علی گڑھ)
Democratic Key Features of Islamic Governance: Consitution, Consent, Shura

٨۔محمد تنزیل الصدیقی الحسینی (کراچی )
انتخابی نظام۔ اسلامی ہدایات کی روشنی میں

٩۔محمد طارق محمود نیازی (ملتان)
اسلامی مملکت میں رعایا کے حقوق

  سات نشستوں پر مشتمل یہ دو روزہ قومی سمینار بحسن و خوبی اپنے اختتام کو پہنچا، اس سمینار میں دہلی، حیدر آباد، کشمیر، کیرالا، لکھنؤ اور بنارس سے اہل علم و دانش کی شرکت کے ساتھ ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے اساتذہ، طلباء اور خصوصاً ریسرچ اسکالرز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اخیر میں تجاویز پیش کی گئیں جنھیں شرکاء سمینار نے بالاتفاق منظور کیا، وہ تجاویز درج ذیل ہیں:

تجاویز
٢٨۔٩ ٢اپریل ٢٠١٢ء کو آرٹس فیکلٹی لاؤنج علی گڈھ مسلم یونیورسٹی علی گڈھ میں ”اسلام کے سیاسی نظام” پر دو روزہ سمینار شعبہ سیاسیات مسلم یونیورسٹی علی گڈھ اور اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے تعاون واشتراک سے ہوا، موضوع کے مختلف پہلوؤں پر مقالات پڑھے گئے اور مذاکرات ہوئے۔ شرکاء سمینار نے درج ذیل تجاویز منظور کیں:

١ـاسلام ایک جامع او رمکمل نظام حیات ہے، اس نے حیات انسانی کے تمام پہلوؤں اور زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں جامع ہدایات دی ہیں، چنانچہ اس نے حکومت وسیاست مدن کے بارے میں بھی بڑی عادلانہ اور حکیمانہ تعلیمات دی ہیں، جن پر عمل کرنے سے دنیا میں امن وامان قائم ہوگا اور عدل وانصاف کا فروغ ہوگا او رملک کے تمام باشندوں کو ان کے حقوق حاصل ہوںگے۔

٢ـ شرکاء سمینار کا مشترکہ احساس ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں اسلام کے سیاسی نظام اور اس سے وابستہ موضوعات پر زیادہ گہرائی او رجامعیت کے ساتھ تحقیق وبحث کی ضرورت ہے، اس موضوع پر کتاب وسنت کی تصریحات واشارات، فقہاء اسلام کے اجتہادات اور موجودہ عالمی حالات کے تقاضوں کی بنیاد پر اسلام کے سیاسی نظام کو زیادہ منقح اور روشن کرنے کی ضرورت ہے۔

٣ـ یہ سمینار اسلامک فقہ اکیڈمی کے ذمہ داروں سے اپیل کرتا ہے کہ ”اسلام کے سیاسی نظام” سے متعلق اہم سوالات کو مرتب کرکے ان پر سنجیدہ علمی تحقیق کرائے اور علماء اور ماہرین سیاسیات کی ایسی کمیٹی تشکیل دے جو موجودہ دور میں اسلام کے سیاسی نظام کا قابل عمل خاکہ تیار کرے اور اسے اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے کسی سمینار میں زیر بحث لائے۔

٤ـ یہ سمینار اس بات پر مسرت کا اظہار کرتا ہے کہ عالم اسلام کے مختلف ممالک میں استبداد کی زنجیریں ٹوٹ رہی ہیں، اور عامة المسلمین کو حکومت قائم کرنے کے مواقع حاصل ہورہے ہیں، اور یہ امید کرتا ہے کہ عالم اسلام میں حالیہ تبدیلیاں تمام انسانوں خصوصاً مسلمانوں کے لیے بہتر اور نفع بخش ثابت ہوںگی۔

٥ـ یہ سمینار ملک کی یونیورسٹیوں خصوصاً مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ علوم سیاسیات اور شعبہ اسلامک اسٹڈیز سے یہ اپیل کرتا ہے کہ اسلام کے سیاسی نظام کو تحقیق اور تدریس کا موضوع بنائیں اور موضوع کے مختلف پہلوؤں پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالوں کی ہمت افزائی کریں۔
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔

تصوف میں غیر اسلامی ادیان کی آمیزش


الواقعۃ شمارہ  ٢

محمد عالمگیر 

مترجم : ابو عمارسلیم

قسط نمبر ٢  کا مطالعہ کیجئے قسط نمبر 3 کا مطالعہ کیجئے

قسط 1

یہ مختصر تجزیہ بطور خاص صرف مسلمانوں کے لیے لکھا گیا ہے۔ ان مسلمانوں کے لیے جو مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں، کسی کو اذیت نہیں دیتے ۔ ان مسلمانوں کے لیے جن کو یہ دلی اطمینان حاصل ہے کہ اسلام بذات خود ایک مکمل اور کامل دین ہے اور اس کو کسی دوسرے مذہب، دیو مالائی کہانیوں، فلسفہ اور ما بعدالطبیعیاتی نظریوں کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں اور ان مسلمانوں کے لیے جو نہ تو کسی دوسرے طریق زندگی کی سرپرستی کرتے ہیں اور نہ ہی یہ پسند کرتے ہیں ان کی سرپرستی کی جائے۔
 

تصوف بطور احسان

 
اسلام سچائی کا دین ہے۔ خالق کائنات نے اس دین کو اپنے پیغام کے طور پر خود انسان کو عطا کیا ہے۔ اس پیغام کا ایک حصہ انسان کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی ہدایت پر مبنی ہے، یعنی یہ انسان کو اس کے معاشرتی ، سیاسی اور معاشی معاملات میں حتمی اور سچی راہنمائی دیتا ہے۔ ان ہدایات پر عمل پیرا ہوکر وہ اپنے اخلاقی اقدار کا داعی ہوتا ہے۔ اس پیغام کا دوسرا حصہ اس کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے مقام کے مقابلہ میں اس کی اپنی ذاتی حیثیت کا اتہ پتہ دیتا ہے۔ انسان اس علم کے تحت اپنی روحانی اہلیت اور قابلیت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس طرح ایک قابل اور صاحب فہم انسان کے لیے اس پیغام میں انتہائی معمولی دنیاوی معاملات سے لے کر اعلیٰ ترین معاملات تک کے لیے ہدایات موجود ہیں ۔
 
خالق کائنات کا یہ پیغام ہر انسان کے لیے ہے۔ مگر جن لوگوں نے اس پیغام کو قبول کیا ہے، ان کی اکثریت اس پیغام کے بہت ہی قلیل چیزوں پرقانع ہے، جس کے بغیر گذارا نہیں ہو سکتا۔ یا پھر انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ اس پیغام میں کتنی خوبصورتی موجود ہے۔ جب اسلام کے اس پیغام کو سہ رخی جہت سے یعنی اسلام ، ایمان اور احسان کے رو سے دیکھا جائے تو اس خوبصور ت حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام متقاضی ہے کچھ بنیادی عقائد اور لازمی عمل کا۔ ایمان ان تمام عقائد کا جوہر اور اصل ہے جو یقین کامل تک پہنچا دیتا ہے۔ احسان وہ سچی پرستاری ہے جس پر عمل سے کاملیت اور فضیلت کے راستے کھلتے ہیں اور سرفرازی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس پیغام پر کاربند ہوکرجو سفر طے ہوتا ہے وہ انہی تینوں جہت کے تحت ہوتا ہے، یعنی اسلام سے ایمان اور اس سے آ گے احسان کے درجے تک پہنچاتاہے ۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایمان بغیر اسلام کے قابل قبول نہیں ہے، اور ایسا احسان جس کی بنیاد اسلام اور ایمان کے اوپر نہ ہو صرف منافقت ہے ۔
 
(دیکھئے حدیثِ جبریل، جس میں احسان کے بارے میں نبیۖ نے فرمایا ہے:” الاحسان ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ، فان لم تکن تراہ فانہ یراک۔”یعنی ” اللہ کی عبادت اس طرح کرو، جیسے کے تم اسے دیکھ رہے ہو۔ حالانکہ تم اسے دیکھ نہیں سکتے، لیکن وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔” اسی کو احسان کہتے ہیں۔ تاریخ میںہم دیکھتے ہیں کہ احسان کے اس مرتبہ کو حاصل کرنے لیے ایک منظم ادارہ بنایا گیا، جس کو ہم تصوف اور طریقت کے نام سے پہچانتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو زبان میں احسان کا لفظ اس معنی میں کم ہی استعمال ہوتا ہے ۔ )
 
اب اگر یہ سوال کریں کہ اللہ کا پیغام کیا ہے؟ یا یہ کہ اللہ کیا چاہتا ہے، کہ ہم کیا کریں؟ تو یہ شریعت یعنی قانون کو جنم دیتا ہے اور یہ سوال کہ اللہ کے پیغام پر عمل کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ طریقت کو ہموار کر تا ہے۔ یہ دونوں تقسیم خالصتاً نظریاتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان جو کام بھی کرنا چاہے اس میں کیا اور کیسے لازم و ملزوم ہوتے ہیں، ایک دوسرے میں گتھے ہوتے ہیں اور ان کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اس کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شریعت اور طریقت دونوں کے دستور مسلمان علاقوں میں الگ الگ وجود رکھتے تھے اور دونوں کے ماہرین اپنے اپنے معاملات میں سر گرم تھے ۔
 
اصولی طور پر وہ لوگ جو شریعت کے امور میں ماہر ہیں یعنی جنہیں ہم علما ء کہتے ہیں وہ یقیناً طریقت کے علوم سے بھی بخوبی واقف ہیں ، اور ان معاملات کے کیا اور کیسے کے تمام سوالات کا بخوبی جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی نظر اسلامی تعلیمات کا مکمل احاطہ کیے ہوئے ہے۔  اور جب ہی توپیغمبر اسلام صادق الامین حضرت احمد مجتبٰی محمد مصطفٰی ۖ نے فرمایا کہ میری امت کے علما ء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں(١)۔اور یہ بات تو مسلّم ہے کہ پیغمبروں نے نہ صرف اللہ کے پیغام کو ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا ، بلکہ اس کی وضاحت بھی کر دی اور راستہ بھی دکھا دیا۔ اس لیے اسلام کے وہ علماء جو علماء کہلانے کے مستحق ہیں شریعت اور طریقت دونوں میں رہنمائی کرنے کے لیے بہترین لوگ ہیں۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں ان علماء کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ جیسے ترکی میں مولا، شمالی افریقہ میں مولایا یا مولے ، برصغیر میں مولانا اور عرب دنیا میں انہیں شیخ کہا کرتے ہیں ۔ 
 
مشاہدے میں آیا ہے کہ ان علماء میں سے کچھ اپنی ذاتی استعداد اور قابلیت کے اضافہ کے لیے اللہ کے پیغام کو اس کی تمام تر جزئیات سمیت سمجھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔  اس لیے کہ یہ لوگ اسلام اور ایمان کے تمام مراحل کو بحسن و خوبی طے کرکے احسان کی جہت میں داخل ہو جاتے ہیں،  اس لیے کہ ان کے پاس اس کی استطاعت ہوتی ہے۔ کچھ کچھ مسلم ممالک میں مشائخ کا لفظ صرف ایسے علماء کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی یہی لوگ طریقت کے ماہرین  سمجھے جاتے ہیں ۔ 
 
یہاں اس بات کی وضاحت ضر وری ہے کہ طریقت کے معاملات شریعت کے بغیر انفرادی طور پر نہیں چل سکتے۔ جو لوگ طریقت کے ماہرین ہیں ان پر شریعت کی پابندی اتنی ہی لازم ہے جتنی کسی دوسرے مسلمان پر۔ اگر ایسا ماہر ،  قانونِ شریعت کا علم نہ رکھتا ہو یاشریعت کو پس پشت ڈال دے یا اپنے ہی قوانین پیش کرنے لگے تو پھر وہ سچا ماہر کہلانے کا مستحق نہیں ہے ۔ 
 
یہاں اس بات کی وضاحت ضر وری ہے کہ طریقت کے معاملات شریعت کے بغیر انفرادی طور پر نہیں چل سکتے۔ جو لوگ طریقت کے ماہرین ہیں ان پر شریعت کی پابندی اتنی ہی لازم ہے جتنی کسی دوسرے مسلمان پر۔ اگر ایسا ماہر ،  قانونِ شریعت کا علم نہ رکھتا ہو یاشریعت کو پس پشت ڈال دے یا اپنے ہی قوانین پیش کرنے لگے تو پھر وہ سچا ماہر کہلانے کا مستحق نہیں ہے ۔ 
 
تاریخ میں ایک ایسا بھی وقت آیا ہے جب طریقت اپنے انفرادی روپ میں ایسے ابھری کہ اس کے اپنے خدوخال تھے، اپنا قانون تھا، اپنا مطمح نظر تھااور اس کے اپنے ماننے والوں کا ایک گروہ تھا۔ اور پھر ایسے میں یوں بھی ہوا کہ جانے پہچانے اصولوں سے تجاوز بھی کیا گیا اور اس کے لیے باطنی علوم ، حد سے بڑھی ہوئی روحانیت اور فراست کا لبادہ اوڑھ لیا گیا۔ مگر اس کے باوجود ایسے بہت سے لوگ اٹھے جو اپنی ذات میں اسلام ، ایمان اور احسان کے راستوں کے کوہ گراں تھے۔ اسلام کے سچے شیدائی کی طرح ان کی راتیں رکوع اور سجود میں اور دن گھوڑے کی پیٹھ پر بسر ہوتے تھے۔  یعنی جب تخلیہ میں ہوتے تو اللہ سے رازونیاز کرتے اور لوگوں کے ساتھ ہوتے تو عدل و انصاف کرتے۔ (نوٹ: ایسے لوگوں میں حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی جو مغل حکمراں اکبر اور جہانگیر کے دور میں اٹھے، شاہ جلال اور خان جہاں علی بنگال کے مسلم دور میں، جبکہ سید احمد بریلوی شہید برطانوی راج میں منظر عام پر آئے ۔ )
 

دورِ حاضر کے صوفیا

 
ماضی میں اور آج کے دور میں بھی بہت سے ایسے صوفیا موجود ہیں جو دن کی روشنی میں چھپے رہتے ہیں اور را توں کو نفس پرستی میں گزارتے ہیں۔ وہ عدل و انصاف کی باتیں نہیں کرتے بلکہ فلسفہ میں الجھے رہتے ہیںاور ایسے باطنی اور چھپے ہوئے ذرائع ڈھونڈتے ہیں جن کے ذریعہ سے باطل تصورات کو قابل قبول بنایا جاسکے۔ ایسے لوگ اسلام کی سچائی کو اجاگر کرنے کی بجا ئے د وسرے مذاہب کی تعلیم کو اسلام میں داخل کرکے اسلام کی صحیح صورت بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ان کے پیروکاروں کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے تمام جستجو میں اسلام کا انقلابی نقطہ نظر پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
 
پچھلے کچھ عرصہ کے دوران مغرب کی برتری نے اسلام کے خدوخال کو اور بھی مسخ کر دیا ہے۔Esoteric  یعنی مخفی یا باطنی اور  Exotericیعنی خارجی یا ظاہری کی اصطلاحات ان کی لغت کے حساب سے مخفی اور ظاہری مطالب سے کہیں دور کی چیز بن گئی ہے۔ مغرب سے مستعار لی ہوئی اصطلاحات اسلامی لٹریچر میں شدتِ استعمال کی وجہ سے اب ایک نئی شکل میں آگئی ہے، اور اس نے مسلمانوں کو دو مختلف قسم کے گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے، یعنی نچلا طبقہ اور اونچا طبقہ ، یعنی عوام اور اشراف میں بانٹ دیا گیا ہے۔ جن لوگوں نے اس گروہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے وہ در پردہ اپنے آپ کو ایک اعلیٰ درجہ کے فضیلت یافتہ لوگوں میں شمار کرنے لگتے ہیں  اور دوسروں پر نہ صرف یہ کہ حقارت کی نظر ڈالتے ہیں بلکہ ان کا گمان ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ کبھی ان کی حقیقت کو نہیں پا سکیں گے۔ اور پھر یہ گمان یافتہ لوگ دوسروں سے الگ تھلگ رہتے ہیںاور اسلام کا جو فلسفہِ جہادہے اس میں بالکل حصہ نہیں لیتے۔یہ لوگ گھات لگا کر نوجوان مسلمانوں کو قابو کر لیتے ہیں اور ذ ہنی طور پر ساکت و جامد کر دیتے ہیں تاکہ وہ کسی بھی اسلامی احیاء کی کارروائی میں حصہ نہ لے سکیں۔ وہ عیارانہ حربوں سے اور الفاظ کے ہیرا پھیری سے یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم روایتی اسلام کا احیاء کرنا چاہتے ہیں جبکہ ان کی تمام تر کوشش ہوتی ہے کہ اسلامی روایت کو پٹری سے اتار دیا جائے۔
 
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ روایتی اسلام، اسلام کو اس طرح دیکھتا ہے جیسا کہ اسلام آج کے دور میں مختلف اسلامی ممالک میں رائج ہے۔ فی الوقت اسلام میں جتنی غیر اسلامی روایات اور دوسرے مذاہب کی چیزیں در آئی ہیں یہ لوگ ان سب چیزوں کو بلا چوں و چرا تسلیم کر لینا چاہتے ہیں۔ جب کہ در حقیقت اسلامی روایت کا مطلب وہ قاعدہ اور کلیہ ہے جس کے ذریعہ سے اسلام میں گھس آنے والی تمام چیزوں کو دیکھا جائے ، جانچا جائے اور ان خرابیوں کو دور کیا جائے۔ یہ لوگ حصولِ علم الٰہی کو اپنا وظیفۂِ خاص بتاتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو ان کو صحیح سمت سے ہٹا دیتی ہے۔  بجائے اس کے کہ وہ اپنے اسلام اور ایمان کو علم یقین کی زینت سے آراستہ کریں جو احسان کی ایک جہت ہے، اس کی بجائے وہ اللہ کی ذات اور اس کے وجود کے بارے میں بیکراں قیاسی کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ ایسے دلائل میں الجھ جاتے ہیںجو اسلام اور ایمان کی تعلیم کے عین مخالف ہوتی ہیں۔
 

سچا علم

 
اگلے سطروں میں ہم عقائد کی بحث کی طرف پھر واپس آئیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ ہم پہلے علم کی حقیقت کو سمجھ لیں ۔علم حقیقی کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ یہ پتہ چل جائے کہ اللہ کی مشیت کیا ہے۔ تخلیق کائنات اللہ کی مشیت ہے۔  جب اللہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے کُن اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے اور جو چیز وجود میں آجاتی ہے وہ اللہ کی تخلیق ہے۔ مخلوق اللہ کے ارادے کی ظاہری حقیقت ہے۔ علم کی تمام شاخوں کو بروئے کار لاکر اللہ کی خلقت کو درست طریقہ سے سمجھ لینا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ کو سمجھ لینا ہے۔ کوئی شاعر اور فلسفی اگر تخلیق خداوندی کو اپنی عقل اور فہم کی بنیاد پر بیان کرے تو ایک عام آدمی جس کو حقیقت کا علم نہیں ہے اس کے زور بیان اور الفاظ کی خوبصورتی کی بدولت اس کی تعریف تو کرے گا مگر وہ بیان حقیقت پر مبنی نہیں ہوگا ،کیونکہ جب تک اس کو اللہ کی مشیت اور ارادہ کا ادراک نہ ہو وہ حقیقت کو نہ پا سکے گا ، نہ بیان کر سکے گا۔ مختصراً ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم اللہ کی حکمت اور مشیت کو قرآن کے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔ اس لیے کہ کوئی بھی زبان زد عام حکمت اور علم کو ہم اس وقت تک حکمت نہیں کہیں گے جب تک کہ وہ قرآن کریم کی نازل شدہ حکمت سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔
 
اللہ کی تمام مخلوق میں انسان کو یہ منفرد شرف حاصل ہے کہ اس کو قوتِ ارادہ عطا ہوئی ہے اور اس قوتِ ارادہ کے عملی اظہار کے لیے انسان کو کسی حد تک آزادی بھی دی گئی ہے ، جو دوسروں کو نہیں ملی ہے اور پھر یہی آزادی اس کو مکلف بھی بنا دیتی ہے۔ اب اس کی اپنی یہ خواہش کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے، اللہ کی مشیت اور ارادہ کی تابع ہوگی۔ یعنی انسان کا ہر قابل قبول عمل لازماً قرآن مجید کے احکامات کے عین مطابق ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ انسان کا ہر وہ عمل قابل تعریف ہوگا جو اللہ کی مشیت اور ارادہ کے مطابق ہوگا وگرنہ ناقابل ستائش اور قابل گرفت ہوگا۔ اب اس بحث کے بعد ہم واپس علم کی طرف لوٹیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر انسان کا عمل اللہ کی مشیت کی مطابقت میںہے تو یہ عمل علم پر مبنی ہے ، اس لیے کہ علم اللہ کی مشیت اور ارادہ کا دوسرا نام ہے۔ کسی جنگل یا صحرا میں ایک شخص ہو اور وہ اللہ کی مشیت اور ارادہ کا ادراک بھی رکھتا ہو اور اس کی پاسداری بھی کرتا ہو تو وہ شخص عالم کہلائے گاخواہ اس کے پاس کسی مدرسہ یا یونیورسیٹی کی کوئی سند بھی نہ ہو اور اگر اس کا عمل اللہ کی مشیت کے برخلاف ہوجائے تو وہ جاہل ہے چاہے اس نے کتنی ہی ڈگریاں کیوں نہ حاصل کر رکھی ہوں یا کتنی ہی ضخیم کتابوں کا مصنف ہو یا کتنے ہی لوگوں کو اس نے اپنی خوبصورت تقریروں اور پر اثر شخصیت کے سحر میں گرفتار کر رکھا ہو۔ (نوٹ:  اسلام کے ظہور سے قبل عرب کے معاشرتی دور ( بلکہ کل انسانی دور) کو دور جاہلیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس دور کے عرب نہ تو تجارت میں ، نہ سفارتکاری میں اور نہ شعر و ادب میں جاہل تھے ، اور نہ کسی دوسری قوم سے کسی طور بھی کم تر تھے۔ مگر ان کے پاس کمی تھی تو صرف اللہ کے علم کی۔)
 
انسان کو اللہ کی مشیت کے مطابق اپنی خواہش کو استوار کرنا چاہئے،جو قرآن مجید فرقان حمید میں بتفصیل موجود ہے۔ بیشک اس کو اس کے ان اعمال کی جزا ملے گی، یعنی جب اس کے ارادے اور اللہ کے ارادے یکساں ہو جائیں ۔ بہر صورت یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اس کے عمل سے وہی نتیجہ نکلے جو وہ چاہ رہا ہے خواہ اس کا وہ عمل قرآن و سنت کی حدود میں ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مشیت اس کی جا ئز خوا ہش سے مختلف ہو سکتی ہے ، اور پھر آخر کار ہوتا تو وہی ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ چاہتے ہیں۔ اللہ کا حکم اور اس کی بیکراں آزادی،انسان کی خواہشات کا پابند نہیں ہے ۔ یعنی انسان کا عمل قرآن و سنت کے مطابق جائز بھی ہو پھر بھی نتیجہ عمل پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ دوسری جانب ایسا علم جو اللہ کی خواہش کا عکس ہو علم لَدُنّی کہلاتا ہے، جس کا ذکر سورة کہف میں آیا ہے۔ 
 

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہ السلام 

 
اوپر دیئے ہوئے بیان کی شہادت میں حضرت خضر علیہ السلام کا، جو ایک بڑے عارف تھے، قرآن مجید میں دیا ہوا  واقعہ یہاں دہرایا جاسکتا ہے۔ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام اُن کے ہم سفر تھے جس کے دوران حضرت خضر نے ایک غریب آدمی کی کشتی میں سوراخ کردیا، آگے چل کر ایک نوجوان لڑکے کو مار دیا ، اور پھر ایک گرتی ہوئی دیوار کو اجرت لیے بغیر ٹھیک کردیا ، حالانکہ ان لوگوں کو کھانے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی، اور بستی والوں نے کھانا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کو بتایا کہ میں نے چاہا کہ کشتی کو عیب دار بنا دوںتاکہ ظالم بادشاہ غریب آدمی کی کشتی پر قبضہ نہ کر لے۔ نوجوان جس کو مار دیا تھا وہ اپنے والدین کا نافرمان تھا اس کے لیے انہوں نے کہا ہم نے چاہا کہ اس کو ختم کرکے ایک نیک فرمانبردار لڑکا دے دیا جائے۔ اور اس گرتی ہوئی دیوار کے نیچے ایک خزانہ دفن تھا جو ایک صالح آدمی کا تھا اور  تمہارے رب نے چاہا کہ خزانے کو محفوظ کردیا جائے تاکہ اس کے لڑکے بڑے ہو کر اس کو حاصل کر لیں۔
 
جب حضرت خضر  نے کہا میں نے چاہا تو انہیں اللہ کی مشیت اور اس کی خواہش کا علم تھا اور وہ اس کی مشیت کے خلاف کوئی ارادہ نہیں کر سکتے تھے۔ جب انہوں نے کہا کہ ہم نے چاہا  تو انہیں اللہ کے مشیت کے الہام نے تحریک دی اور اس دنیاوی کام کو انہوں نے اللہ کی طرف سے سر انجام دیا۔  اور جب انہوں نے کہا کہ تمہارے رب نے چاہا تو ایک طرف تو انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ انہیں اللہ کی طرف سے الہام ہوا ہے اور ساتھ ہی اللہ کی مشیت کی برتری ظاہر کی تاکہ ان کی خدائی کا دعویٰ نہ ہوجائے۔ ان تینوں واقعات میں حضرت خضر علیہ السلام کا ذاتی علم کوئی حقیقت نہیں رکھتا تھا سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کی مشیت کے۔ 
 
علم لدنّی کا تحفہ ان تمام علماء اور مشائخ کا اشتیاق ہے جو طریقت کے عالم ہیں اور احسان کے درجۂ کامل تک پہنچے ہوئے ہیں، اور اس کو مزید بہتر بنانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔ حضرت خضر کا یہ واقعہ یقینا ان کے لیے امید کی کرن ہے، اس لیے کہ حضور نبی کریم صادق الامین ۖ  نے فرمایا کہ سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ ایسا خواب نہ تو قرآن اور نہ ہی شریعت کا جزو ہے اور نہ ہی یہ کہ جس کو یہ عطا ہو جائے وہ خدائی طاقت کا حامل ہو گیا، اور اب اس کی پرستش ہونے لگے۔ یقینا وہ لوگ جو اللہ کی مرضی کو اپنی مرضی بنا لیتے ہیںاور اپنی خواہشات نفسانی کو اللہ کی خواہش کے تابع کر لیتے ہیں وہ اولیائَ اللہ ہوتے ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کے بارے میں نیک گمان کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ کے ولی ہیں مگر اصل ولی کون ہے اس کا علم صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ہی ہے۔ طریقت کے مرشدوں کو عموماً یہ درجہ دے دیا جاتا ہے لیکن یہ خیال ان لوگوں کو نظر انداز کرتا ہے جو بطور مرشدِ طریقت کے نہیں جانے جاتے ۔ یہاں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ جو مرشدِ طریقت ہو وہ ہی ولی بن سکتا ہے، ا ور دیگر تمام لوگ رد کر دیئے جاتے ہیں۔ اسی طرح ان مرشدوں کے مریدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو مرید ہونے کی وجہ سے الہام الٰہی میں سے حصہ ملنے کا بہت واضح امکان ہے اس لیے کہ وہ دوسروں کی نسبت روحانی طور پر بہت آگے ہیں ، حالانکہ بسا اوقات دوسروں کے مقابلے میں یہی لوگ شریعت کی خلاف ورزی اور ایمان اور اسلام سے زیادہ روگردانی کرتے ہیں۔  
 

ذات و صفات 

 
قرآن کریم فرقان حمیدکی آ یات میں ایک تیسرا رخ خود اللہ ربّ العزت کی ذات و صفات سے متعلق ہے۔ وہ خود کو جانتا ہے، ہم نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہمارا علم وہاں تک ہی ہے جو اس نے خود ہمیں اپنے متعلق بتا یا ہے۔ہماری سوچ سے اس کا کوئی تعلق نہیںہے۔یہاں ضروری ہے کہ ہم اس کی ذات اور صفات کے درمیان فرق کو سمجھ لیں۔ انہوں نے ہمیں جو کچھ بھی بتایا ہے وہ ان کی کچھ صفات پر محیط ہے۔ انہوں نے ہماری توجہ اپنی تخلیق میں موجود نشانیوں (آیات ) کی طرف کرائی ہے جو ہمارے گردا گرد پھیلی ہوئی ہیںاور یہی نشانیاں ان کی صفات کو سمجھنے میں ہماری مدد گار ہیں۔ ان کی تخلیق کردہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جس میں ان کی ذات کی کسی طرح سے بھی تشبیہ ہو۔ ہم جو زبان ان کی تخلیق کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ زبان ان کی ذات کے احاطہ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہم جتنے بھی استفہامیہ الفاظ جیسے کیا، کیسے ، کیوں ، کہاں ، کب وغیرہ وغیرہ اس کی تخلیق کے تجزیہ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں اس خالق کائنات اللہ تبارک و تعالیٰ علیُّ العظیم و کبیر الجلیل کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔
 
اب ہم واپس عقائد کی طرف لوٹتے ہیں، اس لیے کہ یہاں پہنچ کر کچھ مرشدوں یا علماء کی نظروں سے اسلام اور ایمان کا علم اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ لوگ قرآن مجید کے دیئے ہوئے علم سے کٹ جاتے ہیںاور گمراہی میں جا پڑ تے ہیں۔  وہ خالق اور مخلوق کے درمیان فرق کا ادراک نہیں کرسکتے۔  وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ مخلوق خالق ہی کا ایک روپ ہے، یا اس کا اظہار ہے ، یا پھر یہ کہ خالق بذات خود مخلوق میں موجود ہے۔  (نوٹ: بقول شیخ محی الدین ابن العربی جو وحدت الوجود کے فلسفہ کے بانی ہیں)۔ یا پھر یہ کہ مخلوق کی حقیقت صرف فریبِ نظر کی ہے۔ (نوٹ:  بقول ہندو دیو مالا میں مذکور مایا  اسی نظریہ کی ترجمانی کرتا ہے)، یعنی ا یسا لگتا ہے لیکن اصل میںکچھ بھی نہیں ہے۔ مختصراً یہ کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وجود سے مراد صرف وجودِ ِباری تعالیٰ ہے۔ بے شک اللہ کا وجود ایک حقیقت ہے جو اپنی ذات میں صمد ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ البدیع ہے اور اس نے کائنات کو لا شئے سے پیدا کیا ہے اور اس کو اس کی حقیقت عطا کی ہے جو کہ اسی سے مشتق ہے اور ماخوذ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ خالق اور مخلوق کی موجودگی کا نظر یہِ تقابل ( یعنی ایک طرف اللہ یعنی خالق اور دوسری سمت مخلوق) نہ تو ایک دوسرے سے متصل ہیں اور نہ ہی متحارب۔ قرآن حکیم نے کس قدر جامع اختصار کے ساتھ دونوں کو الگ الگ واضح کردیا ہے۔ جب قرآن دعویٰ کرتا ہے کہ ” اس جیسا کوئی چیز نہیں اور کوئی چیز اس جیسی نہیں ہے۔( لَیْسَ کَمِثْلِہ شَئی )]سورة شعرائ:٤٢[ اور( لَمْ یَکُن لَّہ’ کُفُواً اَحَد )]سورة اخلاص:١١٢[۔ اور یہی وہ سچ اور سچا علم ہے جو قرآن حکیم عطا کرتا ہے۔ کوئی فلسفہ، کوئی تشریح، کوئی نظریہ یا کوئی خیال جو اس سیدھی سادی زبان میں کی گئی بات کو توڑے مروڑے تو وہ سوائے خدا کی شان میں بے ادبی اور کفر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
 

شیخ ابوبکر سراج الدین کی تصنیف میں حلول کا تصور  

 
مارٹِن لِنگس ( Martin Lings ) عرف شیخ ابوبکر سراج الدین ( شاذلیہ  درقویہ علٰویہ طریقت کے مریمیہ شاخ کے ایک صوفی شیخ ) نے یہ لکھ کر دنیا کو چونکا دیا کہ انسان اور دیگر مخلوقات کے درمیان یہ فرق ہے کہ دوسری مخلوقات اللہ کی صفات کی مظہر ہیں جب کہ انسان اللہ کی ذات کا مظہرہے جس میں اس کی تمام صفات شامل ہیں۔( بحوالہ : Splendours of Qur’an Calligraphy and Illumination. Thesaurus Islamicus Foundation, 2004 )۔  وہ اس نتیجہ پر اس نظریہ کے تحت پہنچے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی شکل پر پیدا کیا ہے۔  جو کہ سراسر یہود و نصاریٰ کے عقیدہ کا ایک نمونہ ہے۔ ہم نے ابھی اوپر دیکھا ہے کہ سچ یہ ہے کہ اللہ کی ذات کا مظہر نہ کوئی چیز ہے ، نہ کوئی چیز اس جیسی ہے اور نہ ہی اس کا عکس ہے۔
 
یہ بات بطور خاص دہرائی جارہی ہے کہ شریعت اور طریقت کی تقسیم خالصتاً من مانی ہے۔ شریعت اسلامی روایت کے ان تین درجات کی تفصیل دیتی ہے جو اسلام ، ایمان اور احسان  سے متعلق ہے۔ جب کہ طریقت ان ہی تین چیزوںکے اندر موجود جوہر کو اجاگر کرتی ہے، اور ان کو قابلِ عمل بناتی ہے۔ یعنی طریقت مسلمانوں کے اندر یقین کو بڑھاتی ہے۔ نہ طریقت شریعت سے پہلے وجود پاتی ہے اور نہ ہی طریقت شریعت کے بعد کی کوئی چیز ہے۔ قرآن کی اصطلاح شِرعة یعنی قانون، اور منہاج یعنی رستہ ، دونوں کی بہت موزوں تعریف پیش کرتاہے۔ اور اگر قرآن کریم کی اس تعریف کو اپنی زندگیوں میں داخل کر لیں تو طریقت سے متعلق بہت ساری لغویات سے نجات مل جائے گی۔
 
کسی بھی مرشد اور فاضل عالم کے لیے ا حسان کے دائرہ میں پہنچ جانے کے بعد جہاںشریعت ایک خصوصی لطف کا باعث ہو تی ہے تو وہیں طریقت اس درجہ میں آکر اس کو عین الیقین، حق الیقین اور معرفت کی تجلیوں سے منور کرتی ہے۔اور دونوں کے امتزاج سے ایک ایسا ہنر اس مرشد کے ہاتھ آجاتاہے جس کے ذریعہ وہ اسلام اور ایمان کی محافظت کے قابل ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس بات پر بضد رہیں کہ طریقت ایک بالکل الگ چیز ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلام کے بارے میں ایک جامع بصیرت عطا کرتی ہے۔ پھر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ بصیرت اس مرشد کو باہر کھینچ نکالے اور اس کو معاشرے کے ان تمام معاملات میں متحرک کردے جن میں اسلامی اصول و ضوابط کے لاگو ہونے کی ضرورت ہے۔ اس طرح معاشرہ کی بہتری اور اس کی خدمت کا عمل روپذیر ہوگا۔اسی چیز کو شیخ مصلح الدین سعدی السہروردی نے کس خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔
 
کسی بھی مرشد اور فاضل عالم کے لیے ا حسان کے دائرہ میں پہنچ جانے کے بعد جہاںشریعت ایک خصوصی لطف کا باعث ہو تی ہے تو وہیں طریقت اس درجہ میں آکر اس کو عین الیقین، حق الیقین اور معرفت کی تجلیوں سے منور کرتی ہے۔اور دونوں کے امتزاج سے ایک ایسا ہنر اس مرشد کے ہاتھ آجاتاہے جس کے ذریعہ وہ اسلام اور ایمان کی محافظت کے قابل ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس بات پر بضد رہیں کہ طریقت ایک بالکل الگ چیز ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلام کے بارے میں ایک جامع بصیرت عطا کرتی ہے۔ پھر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ بصیرت اس مرشد کو باہر کھینچ نکالے اور اس کو معاشرے کے ان تمام معاملات میں متحرک کردے جن میں اسلامی اصول و ضوابط کے لاگو ہونے کی ضرورت ہے۔ اس طرح معاشرہ کی بہتری اور اس کی خدمت کا عمل روپذیر ہوگا۔اسی چیز کو شیخ مصلح الدین سعدی السہروردی نے کس خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔
 
طریقت  بجز  خدمت  خلق  نیست 

بہ  تسبیح  و  سجادہ  و  دلق  نیست

 

 
یعنی طریقت صرف خلق خدا کی خدمت میں ہے ، نہ کہ تسبیح ، جائے نماز اور گدڑی میں ہے۔ شیخ سعدی یہاں یہ واضح کرنا چاہ رہے ہیں کہ طریقت کا ایک مرشد (شیخ) جو احسان کے درجہ کو پہنچ جائے وہ ایسی چھوٹی موٹی چیزوں سے بہت پرے جا پہنچتا ہے۔ اس کو اب ظاہری دنیاوی دکھاوے اور بناوٹی چیزوں سے نکل آنا چاہئے ، اس لیے کہ دنیائے اسلام کو اس کے خدمات کی ضرورت ہے۔ اس کو چاہئے کہ اپنے گرد لوگوں کا ایک حلقہ بنائے اور ان پر اپنی شفقتوں کا سایہ کیے رکھے اور نئے آنے والوں کو بھی اس حلقہ میں شامل کرتا رہے، اس لیے کہ اسلام کوئی پرائیویٹ کلب نہیں ہے۔  اور پھر شیخ کی ذاتی زندگی بالکل شفاف اور قابل اتباع ر ہنی چاہئے۔ اس کے گرد کوئی پراسراریت نہیں ہونی چاہئے۔  ایسے ہی شیخ کو حضور نبی کریم ۖ کی اس حدیث کا مصداق ہونا چاہئے جس کے تحت آپۖ نے فرمایا :” اللہ کی رحمتیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو ایک گروہ میں ہو کر رہتے ہیں۔ ” ( یدُ اللّٰہِ فوق الجماعة )۔ اسلامی معاشرت کا یہ اصولِ اوّل (first principle)ہے۔ اب شیخ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دورہ کرے اور دیکھے کہ کوئی اکیلا تو نہیں رہ گیا اور بغیر کسی گروہ میں شامل ہوئے زندگی گزار رہا ہے۔
 

اسلامی روایت بمقابلہ روایتی اسلام 

 
اگر شیخ صاحب اسلامی روایات کو قابل عمل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اوپر درج شدہ تمام باتیں درست ہیں۔ اس کے بر خلاف اگر وہ روایتی اسلام کو پراسرار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو سب کے کان کھڑے ہو جانے چاہئیں اور ان شیخ صاحب پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے۔ کیونکہ روایتی اسلام وہ ہیں جن کے تحت دنیا کے مختلف علاقوں کے مسلمان اسلام کو سمجھتے رہے ہیں اور مختلف ادوار میں اس کے مطابق زندگی گزارتے رہے ہیں۔ مثبت بات اس میں یہ ہے کہ کچھ سمجھدار اور صاحب فہم شیوخ نے کچھ ایسے عمل شامل کر لیے جو لوگوں کو شریعت کی طرف مائل رکھنے میں مددگار ثابت ہوںمگر ان کی حیثیت زائد از ضرورت عمل یعنی نوافل سے زیادہ نہیںرہی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ نو وارد مسلمانوں کو اپنے پرانے مذہبی روایات کو چھوڑ کر اسلامی روایات کو اپنانے میں سہولت ہو جائے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہ زائداز ضرورت چیزیں مسلمانوں کے اندر لازمی جزو کی حیثیت سے داخل ہو گئیں اور ان شیوخ کے گدی نشیں اُس سوچ کے حامل نہ تھے کہ مریدین کو اس سفر میں اُس مقام سے آگے لے کر جاتے، نتیجے کے طور پر ان لوگوں نے اُنہیں اس بھنور میں پھنسا ہوا چھوڑ دیااور بد قسمتی سے نو واردوں نے ان ہی زائد از ضرورت چیزوں کو اسلامی تعلیمات میں تبدیل کرلیا۔ اور لوگوں نے یہ گمان بھی کر لیا کہ ان کے شیخ بڑے بلند مرتبہ لوگ تھے اور ان کی تعلیمات سے انحراف کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ 
 
وقت کے ساتھ ساتھ یہ نئی چیزیں ان کی معاشرت میں داخل ہو گئیں اور اسلام کی تعلیمات اور سنت رسول ۖ کے ہم پلہ ہو گئیں، یعنی یہی ان کے لیے صراط المستقیم بن گئیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کے معاملات میں مسلمانوں کے اندر اختلاف رائے پیدا ہوئیںمگر ان میں درست اور غلط کا فیصلہ کرنا انتہائی دشوار معاملہ تھا۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ ان تمام اختلافات کا تعلق بدعت کے مسائل سے تھا۔  پھر ان میں سے کچھ کو بدعتِ حسنہ یعنی اچھی بدعت قرار دے کر برقرار رکھا گیا اور کچھ کو بدعت سئیہ یعنی بری بدعت قرار دیا گیا جو نا قابل قبول تھیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان تمام بدعات کو پرکھنے کا کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا، اس میں بھی تو کوئی شک نہیں کہ آخر بدعت حسنہ بھی تو ایک نئی چیز تھی جو دین میں داخل کر لی گئی۔ اگر اس کی کسی وجہ سے ضرورت تھی تو ایک خاص مدت اور مصلحت کے تحت اس کی اجازت ہو نی چاہئے تھی۔ اگر اس کو ایک مستقل حیثیت دے دی گئی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ایک مکمل دین نہیں تھا اور اس میں اس نئے عمل کی احتیاج باقی رہ گئی تھی۔ اس لیے بدعت حسنہ کے تمام مخالف حضور رسالت مآب ۖ کے اس انتباہ کی روشنی میںاپنی مخالفت میں درست تھے کہ تمام بدعت ضلالت کی طرف لے جاتی ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی اس نظریہ کے زبردست حامی تھے، اور پھر سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہ بھی یہ فرما چکے تھے کہ جب کوئی بدعت ہماری زندگی میں داخل ہوتی ہے ، تو ایک سنت رسول ۖ ہمارے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ ( نوٹ: مجدد الف ثانی یا دوسرے ہزار سال کا مصلح،  کی اصطلاح شیخ احمد سرہندی کے لیے استعمال ہوئی۔ ابو دائود کی ایک حدیث مبارک کے تحت اللہ ہر سو سال کے اوپر ایک مصلح پیدا کرے گا جو اسلام کا احیاء کرے گا ۔ اپنے دور میں شیخ صاحب کو اسلام کے بچائو کے لیے تین اطراف میں جنگ کرنی پڑی۔ اکبر کے دور میںدین الٰہی کا جھوٹا گمراہ کن جھگڑا جو اس کے غیر اسلامی رتنوں کا شوشہ تھا، پھر جہانگیر کے دور میں شیعہ حضرات کا پھیلائے ہوئے زہر کے خلاف، اور آخر میں وحدت الوجود کے فلسفہ کے خلاف جو اس بات کا داعی تھا کہ اللہ کائنات کی ہر چیز میں بہ نفسہ موجود ہے۔ )  
 
اسلام کو اس کے صراط مستقیم سے ہٹانے کی مہم مسلسل جاری تھی اور دوسرے مذاہب اور کلچر سے خیالات اور تصورات کو مستقلاً اسلامی نظریات میں ملایا جارہا تھا۔ یہ کارروائی ان لوگوں کی جانب سے ہو رہی تھی جو منحرف مسلمان تھے یا پھر وہ جنہوں نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔ ان تمام تصورات اور تعلیمات میں سب سے زیادہ نقصان دہ وہ فلسفہ تھا جس کی رو سے یہ کہا جا رہا تھا کہ دنیا کے تمام مذاہب ایک ہی ہیں اور سب کو تسلیم کیا جا سکتا ہے۔  وحدت الوجود کے ماننے والے ایک صوفی شاعر نے اس بات کویوں بیان کیا کہ 
 
سب یار کا جلوہ ہے

کعبہ ہو یا بت خانہ 

 

[[ جاری ہے ]]

قسط نمبر ٢  کا مطالعہ کیجئے قسط نمبر ٣   کا مطالعہ کیجئے

جناب محمد عالمگیر صاحب ١٩٤٢ء میں کولکتہ میں پیدا ہوئے ۔تقسیم کے بعد کراچی میں رہائش پذیر ہوئے۔ تعلیم کی تکمیل آپ نے کراچی سے ہی کی۔ ساٹھ کی دہائی میں کراچی کی ایک مشہور درسگاہ علیمیہ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز میں زیر تعلیم رہے اور اپنے وقت کے مشہور عالم ڈاکٹر محمد فضل الرحمٰن انصاری اور ”منہاج القرآن” کے مصنف ڈاکٹر برہان الدین احمد فاروقی کے زیر تربیت رہے اور ان سے کسب فیض کیا۔ محمد عالمگیر صاحب ١٩٧٤ء میں بغرض ملازمت آسٹریلیا روانہ ہوئے اور آج بھی سڈنی میں ہی مقیم ہیں۔ محمد عالمگیر صاحب علیمیہ انسٹیٹیوٹ میں شیخ عمران نذر حسین صاحب کے ہم مکتب رہے ہیں۔ آج وہ ملازمت سے ریٹائر ہوکر اپنا بیشتر وقت اپنے ہم جماعت اور دیرینہ دوست شیخ عمران نذر حسین صاحب کے کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ ان کی تمام تحقیقات اور تحریروں میں ان کی معاونت کرتے ہیں۔ ان کے بیرونی ممالک کے دوروں اور وہاں کے لکچروں کو پروگرام کرتے ہیں اور ان کا بندوبست کرتے ہیں۔
تصوف ایک ہَمہ جہت پہلوئوں کا حامل موضوع ہے ۔ اس کے کئی چہرے اور کئی رنگ ہیں ۔ اس پر بحث و تحقیق کرنے والے خواہ تائید میں ہوں یا تردید میں اس حقیقت کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ اس موضوع پر توازن اور اعتدال کے ساتھ خامہ فرسائی نہایت ضروری ہے ۔ محمد عالمگیر صاحب نے اس موضوع پر اعتدال کے ساتھ اپنے قلم کو اٹھانے کی سعی کی ہے ۔ اس سے اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے اور اختلاف بھی تاہم اگر کوئی صاحبِ علم اس موضوع پر دلائل کی رُو سے اپنے خیالات پیش کرنا چاہیں تو ” الواقعة ” کے صفحات اس کے لیے حاضر ہیں ۔ ( ادارہ )
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے دوسرے شمارہ، – رجب المرجب 1433ھ / مئی، جون 2012 – سے  قسط وار شائع ہو رہا ہے۔

مسجدِ اقصیٰ کا حق تولیت : یہود یا مسلمان؟


الواقعۃ شمارہ ٢ 

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زوال پذیر قوموں کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کے ارباب حل و عقد بھی وقت کی صحیح نباضی سے قاصر ہوجاتے ہیں ۔ ” یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا ” کے مصداق ہم دیکھتے ہیں کہ برصغیر کی تاریخ میں ایک ایسا وقت آیا جب ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے اختیارات سے مسلسل تجاوز کرتے ہوئے سلطنتِ مغلیہ کے استحکام کے لیے ایک چیلنج بن گئی مگرکمال ہے اس عہد کے ارباب کمال پر جو امکانِ کذب باری تعالیٰ جیسے مباحث پر دادِ تحقیق دے رہے تھے ۔ علماء کی یہی روش تھی جس نے بالآخر مسلمانوں کو فرنگی استبداد کی چوکھٹ پر غلام بنادیا ۔ لال قلعہ کی دیواریں
مسلمانوں کے خون سے رنگین ہوگئیں اور ہندوستان کے تخت پر سات سمندر پار کے سیاسی تاجروں کا قبضہ ہوگیا ۔
 
”صحیح وقت پر صحیح فیصلہ ” یہ الہامی صلاحیت جس میں ہوگی وہی اس امت کا حکیم اور اس ملّت کا غمخوار ہوگا ۔ تاریخ سے صرف دو مثالیں پیش کرتا ہوں ۔ 
 
میدانِ جہادمیں جب مخالفین شاہ اسماعیل شہید کے مسلک و نظریات کو وجہ جواز بنا کر عام لوگوں کو متنفر کر رہے تھے  تو بمقام پنجتار مذہبی مسائل کی تشریح کے لیے افغان علماء کو بلایا گیا اس مجلس میں شاہ اسماعیل نے عدم وجوب تقلید کی پُر زور حمایت کی ۔ تاہم اس موقع پر انہوں نے جو رائے دی ، وہ بقول شیخ محمد اکرام آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ]موجِ کوثر : ٦٢[شاہ صاحب نے فرمایا :

"ہمیں اس وقت کفار سے جہاد کرنا ہے ۔ تقلید کا فتنہ اٹھا کر اپنے اندر تفرقہ ڈالنا بہتر نہیں ۔ اس کی وجہ سے ہمارا اصل کام ہجرت اور جہاد جو فرضِ عین ہے ، متاثرہوںگے ۔”

 
اسی طرح جب مولانا ولایت علی صادق پوری بغرضِ جہاد نکلے اور اثنائے راہ دہلی پہنچے تو اس وقت علمائے دہلی میں یہ مسئلہ زوروں پر تھا کہ الو حلال ہے یا حرام ؟ کسی نے مولانا سے بھی دریافت کیا تو امت کے اس حکیم نے جو بات کہی وہ دین کے استخواں فروشوں کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ فرمایا:

"میں الوؤں میں نہیں پڑتا ، میرا مقصد مسلمانوں کی آزادی اور باطل سے جہاد ہے ۔”

 
بدقسمتی سے آج پھر تاریخ دہرا رہی ہے ۔ ہزارہا قربانیاں دے کر اس مملکتِ پاک کی آزادی عمل میں آئی تھی ۔ آج پھر ایسٹ انڈیا کمپنی نئے پیراہن میں ملبوس ہماری خودمختاری کے لیے سوالیہ نشان بن گئی ہے اور گزری ہوئی تاریخ کے عین مطابق ہمارے علماء نت نئی فقہی موشگافیوں سے اپنی علمی ذوق کی تسکین فرما رہے ہیں ۔ 
 
 
یہ خیال ہی کتنا عجیب لگتا ہے کہ مسلمان یہ سوچنے لگیں کہ ان کا قبلۂ اوّل ان کا نہیں بلکہ اس قوم کا حق ہے جسے اللہ ربّ العزت نے مغضوب قرار دیا ہو اور جن کے حق میں ذلت و مسکنت کی نوید دی ہو ۔ 
 
مولانا محمد عمار خاں ناصر مدیر ماہنامہ ” الشریعة” عصر حاضر کے جید علماء میں سے ہیں ۔ ان کی صلاحیتوں کے مختلف دوائر ہیں اور بلاشبہ ان کی صلاحیتیں قابلِ تسلیم ہیں مگر کاش وہ اپنی صلاحیتوں سے اس امت کے زوال و انحطاط کی وجہ دریافت فرماتے ۔ اس امت کے لیے حکیم اور نباض بنتے اور اس کی غمخواری کرتے ۔ لیکن اس کے برعکس انہوں نے ایسے مباحث کو اپنا مرکزِ تحقیق بنایا جو اس وقت امت مسلمہ میں مزید انتشار و افتراق کا باعث بن گئے ہیں ۔ ان کی تحقیق کا حاصل ہے : 
 

"مسجدِ اقصیٰ کا معاملہ امت مسلمہ کے لیے بھی اسی طرح ایک اخلاقی آزمایش کی حیثیت رکھتا ہے جس طرح کہ وہ بنی اسرائیل کے لیے تھا ، اور افسوس ہے کہ اس آزمائش میں ہمارا رویہ بھی حذو النعل بالنعل (Same to Same) اپنے پیش رووں کے طرزِعمل ہی کے مماثل ہے ۔ ارضِ فلسطین پر حق کا مسئلہ موجودہ تناظر میں اصلاً ایک سیاسی مسئلہ تھا ، اس لیے اس کی وضع موجود میں یہود کے پیدا کردہ تغیر حالات پر اگر عرب اقوام اور امت مسلمہ میں مخالفانہ ردّ عمل پیدا ہوا تو وہ ایک قابلِ فہم اور فطری بات تھی ، لیکن ہیکل کی بازیابی اور تعمیر نو کے ایک مقدس مذہبی جذبے کو ” مسجدِ اقصیٰ کی حرمت کی پامالی ” کا عنوان دے کر ایک طعنہ اور الزام بنا دینا ، مسجدِ اقصیٰ پر یہود کے تاریخی و مذہبی حق کی مطلقاً نفی کردینا اور ، اس سے بڑھ کر ، ان کو اس میں عبادت تک کی اجازت نہ دینا ہر گز کوئی ایسا طرزِ عمل نہیں ہے جو کسی طرح بھی قرینِ انصاف اور اس امت کے شایانِ شان ہو جس کو ” قوامین للّٰہ شھداء بالقسط ” کے منصب پر فائز کیا گیا ہے ۔” [براہین : ٤٠١]

 
مسجدِ اقصیٰ کے حق تولیت پر یہ بحث غالباً دس برسوں سے جاری ہے ۔ اس عرصے میں نہ معلوم کتنی آندھیاں آئیں اور کتنے طوفان اٹھے جنہوں نے اس امت کی زبوں حالی میں اپنا کردار ادا کیا مگر اس طویل علمی مناقشے کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔ برادرم ابو موحد عبید الرحمن کا تأثر یہی رہا کہ مولانا عمار ناصر نے جو نکات اٹھائے ہیں ان کا اب تک مدلل جواب نہیں آسکا ہے ۔ اس لیے امت کے اس شاذ حلقے کے لیے  جمہورِ امت کے صحیح مؤقف کی ترجمانی ضروری ہے ۔ راقم کو اس بحث سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ ربّ العزت کی حکمتیں علمی مناقشوں کی محتاج نہیں ہوتیں ۔ نہ کسی صاحبِ علم کے دل پر اترنے والے معصومانہ الہام سے تقدیرِ الٰہی کو بدلا جاسکتا ہے ۔ یہ مختصر سا مضمون صرف اس احساس کا نتیجہ ہے کہ مسئلہ ہذا کی صحیح نوعیت کو واضح کیا جاسکے ۔ یہاں یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ ہمارے پیشِ نظر جناب عمار ناصر کی کتاب ” براہین ” ہے ، ” الشریعة ” کے شمارے ہمارے پیشِ نگاہ نہیں ۔ 
 
جناب عمار ناصر نے اپنے دلائل کی اصل بنا ایک قرآنی آیت کے چھوٹے سے ٹکرے پر رکھی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی عقلی و منطقی دلائل ، کچھ مفسرین کی دور از کار تاویلات ، چند آثار اور تاریخی روایات کو بھی پیش کیا ہے ۔ تاہم ہم اپنا موضوعِ سخن صرف قرآن کی روشنی میں پیش کریں گے ۔ اس کے نص ہونے میں کسی کو معمولی درجہ بھی کلام نہیں ہوگا ۔ 
میری ناقص رائے کے مطابق ہر وہ شخص جو اپنے باطل نظریات کے لیے قرآن سے استدلال کرتا ہے وہ کبھی بھی آیتِ قرآنی کو اس کے صحیح ترین سیاق و سباق کے ساتھ پیش نہیں کرتا ۔ بلکہ اس کے بَرعکس محض اپنے مطلب کی بات    ”لے اڑنے ” کی روش اختیار کرتا ہے ۔ ہمیں جناب عمار ناصر کی نیت پر شبہ نہیں ۔ امید ہے کہ انہوں نے اپنا مؤقف پوری دیانتداری سے اختیار کیا ہوگا ۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قرآنی استدلال کرتے ہوئے ان کا طریقہ بھی مذکورہ روش ہی کا عکاس ہے ۔ فرماتے ہیں :
 

"اللہ تعالیٰ نے مسجدِ اقصیٰ کی تباہی و بربادی اور اس سے یہود کی بے دخلی کے دو معروف واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے بنی اسرائیل کو یاد دلایا ہے کہ یہ ان کی سرکشی اور فساد کے نتیجے میں رونما ہوئے تھے ۔ مسجد اقصیٰ کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ ان آیات کے نزول کے وقت وہ یہود کے زیرِ تصرف نہیں تھی ، بلکہ تباہ شدہ کھنڈر (Ruins) کی صورت میں ویران پڑی تھی ۔ یہ بات بھی ، ظاہر ہے ، اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ مستقبل قریب میں اس عبادت گاہ کو آباد کرنے کا شرف عملاً مسلمانوں کو حاصل ہونے والا ہے ۔ اگر یہود کے حق تولیت کی شرعی بنیادوں پر قطعی تنسیخ مقصود ہوتی تو یہاں یہود سے صاف صاف کہہ دینا چاہیے تھا کہ فساد اور سرکشی کے نتیجے میں اس مسجد سے بے دخلی کے بعد اب تمہارے اس پر دوبارہ متصرف ہونے کا کوئی امکان نہیں اور اس عبادت گاہ کی آبادی اور تولیت کا حق اب تمہارے بجائے ہمیشہ کے لیے ، مسلمانوں کے سپرد کردیا جائے گا ، لیکن اس کے برعکس قرآن مجید صاف لفظوں میں یہ فرماتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے پہلے کی طرح اب بھی اس مسجد کے دوبارہ بنی اسرائیل کے تصرف میں آنے کا امکان موجود ہے :

(عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا ) [بنی اسرائیل ١٧:٨]

"توقع ہے کہ تمہارا رب تم پر پھر رحمت کرے گا اور اگر تم نے دوبارہ یہی روش اختیار کی ہم بھی تمہارے ساتھ یہی سلوک کریں گے ۔” [براہین : ٢٦٠]

 
سب سے پہلے آیت کے اس ٹکرے کو اس کے صحیح ترین سیاق و سباق کے ساتھ ملاحظہ فرمائیے۔ 
 

وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًا (4) فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا  (5)  ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا (6)  اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ  ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا  ۭ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًا (7) عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا  ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا (8) اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِيْرًا (9) وَّاَنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا(10) [بنی اسرائیل :٤-١٠]

”اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ بات بتلادی تھی کہ تم سر زمین میں دوبارہ خرابی کروگے اور بڑا زور چلانے لگو گے پھر جب ان دو بار میں سے پہلی بار کی میعاد آوے گی ہم تم پر اپنے ایسے بندوں کو مسلط کریں گے جو بڑے جنگجو ہوں گے پھر وہ گھروں میں گھس پڑیں گے اور یہ ایک وعدہ ہے جو ضرور ہو کر رہے گا ۔ پھر ہم ان پر تمہارا غلبہ کر دیں گے اور مال اور بیٹوں سے ہم تمہاری امداد کریں گے اور ہم تمہاری جماعت بڑھا دیں گے ۔ اگر اچھے کام کرتے رہو گے تو اپنے نفع کے لیے اچھے کام کرو گے اور اگر تم برے کام کرو گے تو بھی اپنے ہی لیے پھر جب پچھلی بار کی میعاد آوے گی ہم پھر دوسروں کو مسلط کریں گے تاکہ تمہارے منہ بگاڑ دیں اور جس طرح وہ لوگ مسجد میں گھسے تھے یہ لوگ بھی اس میں گھس پڑیں اور جس جس پر ان کا زور چلے سب کو برباد کر ڈالیں ۔ عجب نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم فرماوے اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کا جیلخانہ بنا رکھا ہے ۔ بلاشبہ یہ قرآن ایسے طریقہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان ایمان والوں کو جو کہ نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری دیتا ہے کہ ان کو بڑا بھاری ثواب ملے گا اور یہ بھی بتلاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے ایک درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے ۔” ( ترجمہ از مولانا اشرف علی تھانوی )

 

 
ان آیات مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دو مرتبہ یہود پران کی نافرمانیوں کے سبب اپنے سخت عذاب کا ذکر فرمایا ہے ۔ پھر اللہ رب العزت نے انہیں ایک موقع دیتے ہوئے مزیدفرمایا (  عَسَی رَبُّکُمْ أَن یَرْحَمَکُمْ ) ”قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے ۔” لیکن اگر تم نے پھر وہی روش اختیار کی تو ہم بھی تمہارے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں گے جیسا کہ پہلے کرچکے ہیں ۔ اس بیان کے بالکل متصل اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم کا ذکر فرمایا ہے ۔ سیاقِ و نظمِ کلام کا تقاضا یہی ہے کہ یہود کے لیے وعدئہ رحمت نبی کریم ۖ اور قرآن کریم پر ایمان کے ساتھ مشروط ہے ۔ 
 
ائمہ مفسرین اس سے یہی مراد لیتے ہیں ۔ 
 
( عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ  ) کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ ۣ لکھتے ہیں:

"یعنی اگر تم محمد ۖ پر ایمان لے آئو گے اور قرآن کا اتباع کرتے ہوئے اپنے اعمال درست کر لو گے تو امید ہے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے گا ۔ ” [تفسیر مظہری: ٧/٢٦، مترجمہ عبد الدائم جلالی مطبوعہ دارالاشاعت کراچی ١٩٩٩ء ]

 
مولانا ابو محمد عبد الحق حقانی دہلوی لکھتے ہیں :

"عسیٰ ربکم کا اشارہ یا تو آنحضرت ۖ کے عہد کے یہود کی طرف ہے کہ اب بھی وقت ہے اگر تم نے نبی آخر الزماں علیہ السلام کی اطاعت کرلی تو خدا پھر تم پر رحم کرے گا تمہارا برگشتہ زمانہ جا کر بھلے دن آجائیں گے اور اگر پھر بھی وہی شرارت کرو گے تو دنیا میں ہم تم پر کوئی تازہ آفت لائیں گے اور آخرت میں تو جہنم منکروں کا جیل خانہ تیار ہے ، یہود نے آنحضرت ۖ سے شرارت کی اور بھی رہی سہی عزت جاتی رہی ۔ دنیا بھر میں ایک انچ زمین کے بھی حاکم نہیں جہاں کہیں ہیں محکوم و ذلیل ہیں یا یہ اسی وقت کے یہود کی طرف اشارہ تھا جس کو حکایت کیا جاتا ہے چنانچہ یہود بختِ نصر کے حادثہ کے بعد کچھ نیکی کی طرف آئے شان و شوکت بھی عود کرنے لگی ، مگر حضرت مسیح علیہ السلام کے عہد میں پھر شرارت کی جس کے وبال میں طیطس شاہِ روم کے ہاتھ سے ان کا ستیاناس ہوگیا ۔ ” [تفسیر حقانی : ٣/١١٥، مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ]

 
مولانا امین احسن اصلاحی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں :

"یہ ان یہود سے خطاب ہے جو ان آیات کے نزول کے وقت موجود اور قرآن کی مخالفت میں کفارِ قریش کی ہمنوائی و پشت پناہی کر رہے تھے ۔ ان سے خطاب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوچکا ہے وہ تمہیں سنایا جا چکا ۔ اب اگر خیریت چاہتے ہو تو اس نبی امی ( ۖ ) کی دعوت نے تمہارے لیے نجات کی جو راہ کھولی ہے ، اس کو اختیار کرو ، اور اپنے مستقبل کو سنوار لو ۔ اگر تم نے توبہ اور اصلاح کی راہ اختیار کرلی تو خدا بھی تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم نے پھر اسی طرح کی حرکتیں کیں جیسی کہ پہلے کرتے آئے ہو تو ہم بھی تمہاری اسی طرح خبر لیں گے جس طرح پہلے لے چکے ہیں اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس دنیا میں جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے وہ تو ہوگی ہی ۔ آگے تمہارے جیسے کافروں کے لیے جہنم کا باڑا ہے جس میں سارے کے سارے بھر دیے جائیں گے.” [تدبر قرآن : ٤/٤٨٣ مطبوعہ فاران فائونڈیشن لاہور ٢٠٠٠ئ]

 
ایک تابعی ہیں ضحاک ان کی رائے بھی یہی ہے ۔ مولانا احمد حسن دہلوی لکھتے ہیں :

"ضحاک نے کہا ہے کہ یہ رحمت جس کا اللہ پاک نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا جناب سرورِ کائنات فخر موجودات ۖ ہیں اور یہ بھی اللہ پاک نے انہیں جتلادیا تھا کہ اگر پھر تیسری دفعہ وہی کام کرو گے اور وہی فساد اٹھائو گے تو یاد رکھو ہم وہی عذاب تم پر نازل کریں گے۔ ہمارے ہاتھ سے تمہیں رہائی نہیں مل سکتی .” [احسن التفاسیر : ٤/٢١-٢٢]

 
سر دست یہ محض چند مفسرین کی آراء ہیں ورنہ اس پر تقریباً اتفاق ہی ہے ۔
” روح المعانی ” ،
” تفسیر النسفی ” اور
” فتح القدیر ”
دیکھ لیجئے اس میں ہمارے ہی مؤقف کی تائیدملے گی ۔ قرآنی نظم بھی اسی تفسیر کا تقاضا کرتی ہے ۔ حیرت ہے نظمِ قرآن کے اتنے بڑے داعی اتنی معمولی سی بات نہ سمجھ سکے ۔
 
جناب عمار ناصر کو یہ احساس تو ہے کہ یہود کو دوسری مرتبہ جس سخت عقوبت سے گزرنا پڑا وہ مسیح علیہ السلام کی تکذیب کی وجہ سے تھا ۔ چنانچہ لکھتے ہیں :
 

” ہیکل کی تباہی اور فلسطین سے یہودیوں کی بے دخلی کی پیش گوئی دوسری مرتبہ ٧٠ ء میں پوری ہوئی ۔ اس مرتبہ اس کا سبب بنی اسرائیل کا وہ رویہ تھا جو انہوں نے من حیث القوم سیّدنا مسیح علیہ السلام کی تکذیب کے حوالے سے اختیار کیا تھا ۔ ” [براہین : ٢٤٢]

 
کیا یہ امر تعجب انگیز نہیں ہوگا کہ مسیح علیہ السلام کی تکذیب پر تو یہود کو سزا دی جائے لیکن نبی آخر الزماںۖ جو ” عہد کے نبی ” ہیں ان کی تکذیب پر یہود سے کچھ سرزنش نہ کی جائے بلکہ مستقبل میں ان سے رحمتِ الٰہی کا وعدہ بھی استوار کرلیا جائے؟؟؟
 
قرآنی بیان بالکل واضح ہے اس میں توڑمڑوڑکرنے اور تاویلات کے پھندے بچھانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ۔ اللہ کی رحمت ایمان کے ساتھ ہی مشروط ہوسکتی ہے اور اب محمد رسول اللہ ۖ کی رسالت پر ایمان لائے بغیرکوئی ایمان قابلِ قبول نہیں ہوسکتا ۔ یہود اجتماعی یا انفرادی طور پررسالتِ محمدیۖ پر ایمان لے آئیں تو وہ یقینا وعدۂ رحمت الٰہی کے حقدار ہونگے وگرنہ دائمی ذلّت و مسکنت ان کا مقدر ہوگی ۔
 
تفسیر قرآن کا ایک اہم اصول نظم قرآن ہے اور دوسرا اہم اصول تفسیر القرآن بالقرآن ہے ۔ اس پہلو سے بھی دیکھیں تو معاملہ بالکل صاف ہے ۔ جب دنیا میں اس کتاب مقدس کا نزول ہوا تو یہود اس وقت سطحِ ارضی پر منتشر تھے ۔ کچھ اطمینان و سکون انہیں میسر تھا تو مدینہ میں ۔ لیکن یہاں بھی وہ اپنی سرکشی اور فساد فی الارض کے باعث نکالے گئے ۔ تآنکہ اللہ ربّ العزت نے ان پر ذلت و خواری مسلط کردی ۔ 
 

وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ     ۤ   وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ    ۭ   ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ النَّـبِيّٖنَ بِغَيْرِ الْحَقِّ   ۭ  ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ   [البقرة : ٦١]

 

” اور ان پر ذلت اور پست ہمتی تھوپ دی گئی اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ۔ یہ اس سبب سے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے ۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے نا فرمانی کی اور وہ حد سے بڑھ جانے والے تھے ۔ ”( ترجمہ از مولانا امین احسن اصلاحی )

 

(ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ اَيْنَ مَا ثُـقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ  ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِيَاۗءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۭ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ ) [آل عمران : ١١٢]

"وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان پر ذلت تھوپ دی گئی ہے ۔ بس ( اگر کچھ سہارا ہے تو ) اللہ اور لوگوں کے کسی عہد کے تحت ۔ اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں ۔ اور ان پر پست ہمتی تھوپ دی گئی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ کی آیتوں کا انکار اور نبیوں کا ناحق قتل کرتے رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ نافرمان اور حد سے بڑھنے والے رہے ہیں۔” ( ترجمہ مولاناامین احسن اصلاحی)

 
جہاں تک اللہ ربّ العزت کے سہارے کا تعلق ہے تو دنیا میں ایسی کوئی مخلوق نہیں جو ربّ العزت کے سہارے کے بغیر کوئی بھی کام انجام دے سکے ۔ ایک چیز اللہ ربّ العزت کی رضا مندی ہے اور ایک اس کی امرِ تکوینی ۔ شیطان کا اسکے خلاف آمادئہ سرکشی ہونا ایک تکوینی حقیقت ہے ۔ ظاہر ہے اسے تبارک و تعالیٰ کی رضامندی حاصل نہیں ۔ اسی طرح یہود جب تک ایمان کی راہ اختیار نہیں کر لیتے ان پر اللہ کی جانب سے ذلت و مسکنت ہی رہے گی ۔ اس لیے معنوی طور پر دیکھا جائے تو یہود کو دنیا میں محض کسی قوم کا سہارا ہی وقتی طور پر کسی قدر کامیابی سے ہمکنار کرسکتا ہے ۔ تنہا ان کی حیثیت کچھ بھی نہیں ۔ ان آیات سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آج یہود کو سیاسی سطح پر جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں وہ اللہ ربّ العزت کی رضا اور خوشنودی کا نتیجہ نہیں بلکہ محض ایک تکوینی حکمت و ضرورت کا تقاضا ہیں ۔ 
 
ان آیات کے نزول کے وقت یہود اپنے قبلے سے محروم تھے ۔ ان پر ذلت و مسکنت مسلط کی گئی ۔ اب اگر وہ اپنے قبلے کو اپنے زیرِ تصرف لے آئیں تو یہ ” دائرئہ ذلت و مسکنت ” سے اخراج کی ایک صورت ہوگی جو یقینا مشیّتِ الٰہی کے خلاف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ١٩٦٧ء سے بیت المقدس پر یہودی قبضے کے باوجود آج تک وہ اسے مکمل طور سے اپنے زیرِ تصرف نہیں لا سکے ۔ خود عمار ناصر صاحب بھی اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ :
 

"اس میں شبہ نہیں کہ مسلمانوں کے دعواے تولیت کو ایک عملی وجہ ترجیح حاصل ہے ۔ انہوں نے یہ عبادت گاہ نہ یہودیوں سے چھینی تھی اور نہ ان کی پہلے سے موجود کسی عبادت گاہ کو ڈھا کر اس پر اپنی عبادت گاہ تعمیر کی تھی ۔ نیز وہ بحالتِ موجودہ اس کی تولیت کے ذمہ دار ہیں اور یہ ذمہ داری وہ گزشتہ تیرہ صدیوں سے ، صلیبی دور کے استثنا کے ساتھ ، تسلسل کے ساتھ انجام دیتے چلے آرہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی تولیت کا حق دار مسلمانوں ہی کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ ” [براہین : ٢٤٥ -٢٤٦]

 
ہم نے سطورِ بالا میں نہایت اختصار کے ساتھ جناب عمار ناصر کے قرآنی استدلال پر اپنے نکات فکر کو پیش کیا ہے اور ہمارے پیشِ نظر صرف یہی مقصد تھا کہ 
 
( ِنْ أُرِیْدُ ِلاَّ الِصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیْقِیْ ِلاَّ بِاللّٰہِ )
 
اس بحث کے دوران ایک غلط فہمی جو جناب عمار ناصر کی تحریر سے بڑی شدت سے پیدا ہورہی ہے کہ گو یا مسجدِ اقصیٰ کو مسلمانوں کے لیے کوئی خاص امتیازی مقام حاصل نہیں ۔ لکھتے ہیں :
 

"بعض اکابر صحابہ بھی اس مسجد کی کسی خصوصی فضیلت اور اہمیت سے آشنا نہیں تھے ۔” [براہین : ٢٧٥]

 
مسجدِ اقصیٰ یقینا حرم نہیں ہے اس کے لیے جناب موصوف نے امام ابن تیمیہ ، عبد اللہ بن ہشام انصاری اور سعودی لجنة دائمة کے فتاوے پیش کیے ۔ لیکن اس امر کو نظر انداز کر گئے کہ آخر ایک ایسے مقام کو جو انبیائے سابقین کا قبلہ رہا ہو اسے اللہ رب العزت نے حرم کیوں نہیں بنایا ؟ اس حکمت کی علت یہ ہے کہ ” حرم ” اصطلاحِ شریعت میں اس مقام کو کہتے ہیں جہاں خون بہانا حرام ہوتا ہے ۔ جبکہ بیت المقدس کو اللہ نے آخری معرکۂ حق و باطل کے لیے منتخب کیا ہے ۔ اگر اسے بھی حرم قرار دیا ہوتا تو مسلمانوں کے لیے قتال فی سبیل اللہ کی راہ میں یہ شرعی نکتہ مانع ہوتا ۔ چنانچہ احادیث و آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ظہور دجال کے بعد جب دجال تمام سطح ارضی پر گشت کرے گا تب چاہ کر بھی وہ حرمین شریفین کے حدود میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ ان نکات کو پیش نظر رکھا جائے تو مسجدِ اقصیٰ کے حرم نہ بنانے کی وجہ بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے ۔ اس سر زمین کو حق و باطل کے آخری اور نتیجہ خیز معرکے کے لیے مخصوص کرنا بھی ایک نوع کی فضیلت و اہمیت ہی ہے ۔ 
 
مولانا صوفی عبد الحمید سواتی مسجدِ اقصیٰ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ، وہ بھی ملاحظہ فرمائیے ، کیونکہ یہ جناب عمار ناصر  کے گھر کی شہادت ہے ، صوفی صاحب فرماتے ہیں :

"مسجدِ اقصیٰ وہ مسجد ہے ( اَلَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہ ) جس کے ارد گرد ہم نے برکات رکھی ہیں اس میں ظاہری اور باطنی دو قسم کی برکات شامل ہیں ۔ ظاہری طور پر یہ خطہ سر سبز و شاداب ہے ۔ یہاں پر نہریں ، چشمے اور باغات ہیں ۔ نیز یہ مقام ہزاروں انبیاء کا قبلہ رہا ہے اور ان کی وہاں قبریں بھی موجود ہیں ۔ یہاں پر خدا تعالیٰ کی خصوصی رحمتیں نازل ہوئی ہیں ، لہٰذا یہ ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے بابرکت مقام ہے ۔ مفسرین یہ نکتہ بھی بیان کرتے ہیں کہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے میں یہ حکمت بھی ہے کہ حشر کا میدان اسی مقام پر قائم ہوگا ۔” [معالم العرفان فی دروس القرآن : ١٢/٢٧-٢٨ ، مکتبہ دروس القرآن گوجرانوالہ ٢٠١٠ء ]

مزید فرماتے ہیں :

"اگرچہ ملّت ابراہیمیہ کا عظیم قبلہ تو بیت اللہ شریف ہی ہے مگر اللہ نے بیت المقدس کو بھی محترم قرار دیا ہے وہ سارے انبیاء کا قبلہ رہا ہے ۔ وہاں پر ایک نماز پڑھنے کا اجر دوسری جگہ کی نسبت پچاس ہزار گنا زیادہ ہے ۔” [١٢/٤٤]

 
دینی مسائل کی تشریح کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ پہلے سے کسی مفروضے کو قائم نہ کر لیا جائے کہ دورانِ تحقیق اسی کے مطلب کے دلائل جمع کرلیے جائیں ۔ بلکہ نصِ شرعی کی پیروی کی جائے اور دلائل جس امر کی نشاندہی فرمائیں اسے بلا کراہت قبول کیا جائے ۔ 
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012– سے ماخوذ ہے۔

المغراف فی تفسیر سورۂ ق


الواقعۃ شمارہ ١، ٢ 

 مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ
تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

قسط ١ اور ٢ 

الحمد للّٰہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نؤمن بہ و نتوکل علیہ و نعوذ باللّٰہ من شرور انفسنا و من سیأت اعمالنا من یھدہ اللّٰہ فلا مضل لہ و من یضللہ فلا ھادی لہ و نشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و نشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ.

اما بعد ! واضح ہوکہ قرآن شریف کے جملہ احکام کی تعمیل مسلمانوں پر لازم ہے ۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اسے سیکھیں ، تلاوت کرتے رہیں ، اور یہ نہ ہوسکے تو سن کر ہی اس پر عمل کریں ۔ پس بعض نمازوں میں جہراً بھی تلاوت واجب کی گئی اور مسلمانوں کے لیے حضوری جماعت لازم و متحتم ہوئی ، اور حضرت رسول اللہ ۖ کو ارشاد ہوا ( اور جو حکم کہ آپ کے لیے مخصوص نہ ہوا اس میں تمام مسلمان شامل ہیں )  :

( و ذکر فانّ الذکری تنفع المومنین ) [ الذاریات : ٥٥ ]
”آپ نصیحت کرتے رہیے اس لیے کہ وعظ و نصیحت مسلمانوں کو فائدہ بخش ہے ۔” 
اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ
” انّما بعثت معلماً ” (١)
” میں اسی لیے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں کہ تم لوگوں کو دین کی باتیں سکھائوں ۔ ”

اس ارشاد کی تعمیل کی غرض سے ہفتہ میں ایک بار بطور تعلیم دین و عظ و نصیحت فرض ہوئی ، اور وہ دن جمعہ کا ہے اور وعظ و نصیحت یہی خطبہ ہے جو جمعہ کی نماز میں شرط ہے ۔ پھر نمازِ جمعہ کا یہ اہتمام کیا گیا کہ تمام کاروبارِ دنیا موقوف کرکے آنا ضروری ٹھہرایا گیا اور فرمایا:
 ( اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ) [الجمعة : ٩ ] یعنی "جب صلوٰة جمعہ کی اذان سنو تو اللہ کی یاد ( یعنی خطبہ ) کی طرف دوڑو اور بیچ کھونچ[خرید و فروخت ] موقوف کردو”. 
اور حدیث شریف میں آیا ہے :

عن أبی ھریرة و ابن عمر : ” انہما سمعا رسول اللّٰہ ۖ یقول علی اعواد منبرہ لینتہین اقوام عن ودعہم الجمعات او لیختمن اللّٰہ علی قلوبہم ثم لیکونن من الغافلین ۔”رواہ مسلم و ابن ماجة (٢)

 حضرت ابو ہریرہ اور ابن عمر نے رسول اللہ ۖ کو منبر کے اوپر فرماتے سنا کہ ” لوگ جمعہ کی نماز کو ترک کرنے سے باز آئیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دل پر مہر کردے گا پھر اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ دین کی طرف سے لاپروائی کرنے والوں میں ہو جائیں گے ۔ ”

اور بلحاظِ شفقت اور آسانی کے صرف جمعہ کے دن ظہر میں سے دو رکعت کو کم کرکے ان کی جگہ دو خطبے مقرر کیے گئے اس لیے کہ اگر ہر روز ہوتا تو تکلیف ہوتی ۔ ماہوار یا سا ل بسال ہوتا تو بعد بعید ہوجاتا اور جمعہ کے دن چاروں رکعتیں بھی بحال رہتیں اور دو خطبے بھی تو حرج لازم آتا ۔

اور چونکہ نصیحت کے لیے استماع اور حضورِ قلب ضروری ہے ۔ خطبہ کے وقت سکوت اور سکون محض کی تاکید فرمائی

( فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا )

[ الاعراف : ٢٠٤] "چپ چاپ سنتے رہو”

اور حدیث شریف میں آیا ہے : 
” عن ابی ھریرة ان النبی ۖ قال اذا قلت لصاحبک یوم الجمعة انصت و الامام یخطب فقد لغوت ۔ ” رواہ البخاری (٣)

[ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تم اپنے ساتھی سے جمعہ کے دن خاموش رہنے کے لیے کہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے یقینا لغو کام کیا ۔]
اور نصیحت کے لیے بہترین کلام ، کلام اللہ ہے اس لیے فرمایا :

فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ ) [ق : ٤٥] "آپ بذریعہ قرآن کے نصیحت فرمائیں ، اس کو جو میرے عذاب سے ڈرتا ہے ۔ ”

اور حدیث میں آیا ہے :

” ان ھذا القرآن حبل اللّٰہ و النور المبین و الشفآء النافع ۔ ” رواہ الحاکم عن ابن مسعود (٤)”یہ قرآن اللہ کی ڈوری ہے ، اور جگمگاتا نور ہے اور دل کے روگ کی نافع شفا ہے ۔ ”

اس ارشاد کی تعمیل کی غرض سے رسول اللہ ۖ نے جمعہ کے دن سورئہ ق کا پڑھنا خطبہ میں اختیار فرمایا ۔ 

عن ام ھشام بنت حارثة بن النعمان قالت : ما أخذت ق والقرآن المجید الا علی لسان رسول اللّٰہ ۖ کان یقرأ بہا کل یوم جمعة علی المنبر اذا خطب الناس ۔” رواہ احمد (٥)ام ہشام صحابیہ فرماتی ہیں کہ ” میں نے سورئہ ق حضرت ہی کے زبان مبارک سے سیکھ کر یاد کرلی آپ اس سورت کو منبر پر ہر جمعہ کے خطبہ میں پڑھا کرتے تھے ۔ ”

اس حدیث سے جمعہ کے خطبے میں اس سورہ کا پڑھنا مسنون ثابت ہوتا ہے ۔ اس کی تخصیص میں یہ بھید ہے کہ 

( اوّل ) تذکیر اور وعظ کے لیے سب سے زیادہ مؤثر آلہ موت کی یاد دہانی ہے ، اور قیامت کا ہولناک واقعہ سنانا ، اللہ کے نافرمان بندوں کے دنیا دین میں رسوا ہونے کا بیان اور یہ سورہ باوجود اس قدر مختصر ہونے کے ان تمام بیانات کی جامع ہے ۔ 

( دوسرے ) ساری خوبیوں کی اصل اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب پر اور رسول پر ایمان لانا ہے اور یہ سورت بتمامہا اسی کے اثبات میں اتری ہے ۔ 

( تیسرے ) رسول اللہ ۖ کی اور مسلمانوں کی اس سورت میں نہایت تسلی فرمائی ہے اور صبر کا حکم دیا ہے پس ہر ہفتے اس کا اعادہ مجمع عام میں مسلمانوں کے پر زور اور غم دیدہ دل کی نہایت تشفی کا باعث ہے ۔ 

( چوتھے ) منکرین ہمیشہ آپ کی نبوت کے انکار میں نئے نئے عذر پیش کرتے ، کبھی شاعر کہتے ، کبھی کاہن ، کوئی مجنون بتلاتا ، تو کوئی معلم ، کوئی مفتری کہتا ، کوئی اساطیر اوّلین کا ناقل ، جس کے سبب سے ان کے تزلزل رائے کا بخوبی پتہ لگتا ہے ، اور جناب سیّد المرسلین رسول برحق کا ہمیشہ ایک دعوے کو مختلف دلائل سے ثابت کرتے رہنا اور بر ملا ہزاروں آدمیوں کے رُوبرو بار بار اپنے دعویٰ کا بڑے زور سے ظاہر کرتے رہنا دلیل ہے آپ کے استقلال اور آپ کے دعویٰ کے قوت کی ۔ 

( پانچویں ) قیامت کے دن شیطان اور کفار میں جھگڑا اور اس کے جواب میں جناب باری عزاسمہ کا ارشاد ( مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ ) [ق : ٢٩] "ہمارے یہاں ہر لحظہ ردّ و بدل نہیں ہوا کرتی ۔ ” اس میں مذکور ہے ۔ تو گویا ہر جمعہ میں ایک سورة التزام جس میں بار بار ایک ہی مضمون آتا رہتا ہے ۔ اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا اسی کیفیت کی یاددہانی اور اشارہ ہے ۔ 

نظر بریں وجوہات اس سورت کی تفسیر لکھنے کی میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ عام خلق خدا کو اس کے سمجھنے کا ثواب ملے اور اس پر عمل کی توفیق ہو اور اس صورت سے نبی ۖ کی ہر ہفتے میں جمعہ کے خطبہ میں اس کو اختیار کرنے سے جو غرض تھی ، وہ باقی رہے ۔ و اللّٰہ أسالہ ان یجعلہ خالصا لوجھہ الکریم و ینفعنی بہ اولا ثم کل من یرید ان یسلک الصراط المستقیم انہ تعالیٰ جواد کریم و صلّی اللّٰہ علیہ رسولہ محمد و الہ و صحبہ بالتسلیم ۔

{جاری ہے۔۔۔}
حواشی 
(١) سنن الدارمی : کتاب المقدمة ، باب فی فضل العلم والعالم ۔ سنن ابن ماجہ : کتاب المقدمة ، باب فضل العلما والحث علی طلب العلم ۔علامہ سندھی اور شیخ البانی کے مطابق بہ لحاظ اسناد حدیث ضعیف ہے ۔ 
(٢) صحیح مسلم : کتاب الجمعة ، باب التغلیظ فی ترک الجمعة ۔ سنن ابن ماجہ : کتاب المساجد و الجماعات ، باب التغلیظ فی التخلف عن الجماعة ۔مسند أحمد : و من مسند بنی ہاشم ، بدایة مسند عبد اللّٰہ بن العباس ۔صحیح مسلم کے سوا بقیہ روایات میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی جگہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا نام ہے ۔ 
(٣) صحیح بخاری : کتاب الجمعة ، باب الانصات یوم الجمعة والامام یخطب واذا قا ل لصاحبہ انصت۔صحیح مسلم : کتاب الجمعة ، باب فی الانصات یوم الجمعة فی الخطبة ۔ سنن ابن ماجہ : کتاب اقامة الصلاة و السنة فیھا ، باب ما جاء فی الاستماع للخطبة والانصات لہا۔
(٤) سنن الدارمی : کتاب فضائل القرآن ، باب  فضل من قرأ القرآن ۔ المستدرک علی الصحیحین للحاکم : کتاب فضائل القرآن ، باب اخبار فی فضائل القرآن جملة ۔ امام حاکم کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے تاہم امام شمس الدین الذہبی اسے ضعیف قرار دیتے ہیں ۔
(٥) مسند احمد : مسند القبائل ، حدیث ام ہشام بن حارثہ بن النعمان رضی اللہ عنہا ۔ صحیح مسلم : کتاب الجمعة ، باب تخفیف الصلاة و الخطبة ۔ 

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، – جمادی الثانی 1433ھ / اپریل، مئی 2012– سے  قسط وار شائع ہو رہا ہے۔ 

ذیل میں قسط نمر 2 پیش کی جارہی ہے:


( ق ) یہ حرف اور جو ایسے ایسے حروف سورتوں کے شروع میں مذکور ہیں ، ان کے معنوں کو سوائے اللہ اور رسول ۖ کے کوئی نہیں جانتا ۔ ہر دوست اپنے دوست کے لیے کچھ نہ کچھ اشارے رکھتا ہے جن کو اغیار نہیں سمجھ سکتے ۔ ہم مسلمانوں کو اپنے مقام پر پر ٹھہرنا چاہیے ، اور آگے بڑھنے کی جرأت نہ کرنی چاہیے جس قدر معلوم ہے ، اس پر شکر احسان ہے ، اور جو مخفی ہے اس پر ایمان ہے ۔ 

( وَ القُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ )[١] "قسم ہے قرآن کی جو بزرگ ہے”

 اس لیے کہ اس کا اتارنے والا مجید اور پروردگار عالم اور جس پر اتارا گیا وہ سیّد اولادِ آدم ، جو فرشتہ اس کے لانے کے لیے انتخاب کیا گیا ، وہ تمام ملائکہ میں محترم ، جس شہر میں اوّل نازل ہوا یعنی مکہ وہ امّ القریٰ اور حرم ، جہاں کی ایک رکعت نماز کا ثواب دوسری جگہ کی لاکھ رکعت کے برابر ۔ جس ماہ میں اترا یعنی رمضان وہ تمام مہینوں سے بزرگی و برکات و فضل میں ممتاز ۔ جس شب میں نازل ہوا یعنی لیلة القدر اس کے فضائل بے انتہا ۔ جس امت کے لیے اترا وہ خیر الامم ۔ اس کے تلاوت کا ثواب نا محدود ۔ اس کے تفکر و تدبر سے حصول مقصود خود وہ مضامین جو اس کے مندرج ہیں ، پاکیزہ و بابرکت و پر زور جو جہاں بھر کے مختلف اقوام کے رہنمائی کے لیے قیامت تک کافی ۔ اس کے قصص پُر اثر اور نتیجہ خیز اس پر کذب و فحش سے پاک اس کی تمثیلیں ابلغ تمثیلات ہر ایک دعویٰ راست اور دلائل موصل الی المطلوب [مطلب تک پہنچانے والی].

ایسی محترم چیز کی قسم کھا کر کفار سے یہ کہا جاتا ہے کہ آپ ہماری طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں ، اور قیامت کے عذاب سے تم لوگوں کو ڈرانے کی غرض سے بھیجے گئے ہیں ۔ 


آدمی کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی تعجب خیز بات سنتا ہے ، تو اوّلاً اس کی صحت میں شک کرتا ہے ، مگر جب دیکھتا ہے کہ کہنے والا نہایت راست گو ، دیانتدار ہے ، اور بقسم بیان کرتا ہے ، تو اس کا شک دور ہوجاتا ہے اور ایسی حالت میں کم از کم اس قدر ضرور کہتا ہے کہ جب تمہارے جیسا دیانت دار اور سچا آدمی بڑے دعوے سے کہہ رہا ہے تو اگرچہ میری عقل میں نہیں آتی مگرسچ مان لیتا ہوں ۔ لیکن ان کفار کا ( آپ کی راستی کا کمال یقین رہتے ہوئے ) آپ کی نبوت کو نہ تسلیم کرنا بسبب ایک شبہ کے ہے جس سے وہ شک و تردد ہی کی حد تک نہ رہے ( بَلْ ) ”بلکہ” شک سے ترقی کرکے ایک جانب کا فیصلہ کرلیا کہ آپ نبی نہیں ہیں اور قیامت کا ہونا ہر گز صحیح نہیں اور آپ کو اس فیصلے کے خلاف دعویٰ پر اصرار کرتے دیکھ کر  ( عَجِبُوْا ) ”تعجب کرنے لگے” ( اَنْ جَآئَ ھُمْ مُّنْذِر ) ”کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا آیا” جو اپنے کو باوجود اوصاف بشریت کے اللہ کا بھیجا ہوا کہتا ہے ۔ اگر کوئی فرشتہ یا جن یہ دعویٰ کرتا تو چنداں جائے تعجب و انکار نہ ہوتا ، تعجب تو اس لیے ہے کہ وہ ڈرانے والا ( مِنْھُمْ ) ”انہیں میں کا ایک آدمی ہے” جو نہ من حیث بشریت کے لائقِ نبوت ہے نہ من حیث عزت و وجاہت کے نہ من حیث مال و دولت کے ( فَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ) ”تو کہا نہیں ماننے والوں نے” ( ھٰذَا )”یہ” یعنی ہمیں لوگوں میں سے ایک شخص کا اس قدر بلند پایہ ہوجانا اور منصب نبوی تک پہنچ جانا اور بلا ستعانت مال و جاہ وغیرہ کے جو ترجیح استحقاق کے فی الجملہ باعث ہوسکتے ہیں ۔ سب پر فوقیت کا دعویٰ کرنا ( شَیْٔ عَجِیْب ) [٢] "عجیب چیز ہے”. دوسرے جس مصیبت سے ڈراتے ہیں وہ اگر دنیا ہی میں آنے والی بتاتے تو خیر ، تعجب بالائے تعجب تو یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ مرجانے کے بعد جب قیامت کا دن آئے گا جس کو مدت دراز ہے تو ( ئَ اِذَا مِتْنَا وَ کُنَّا تُرَابًا ) ”کیا جب ہم مر مٹیں گے اور سڑ گل کر مٹی ہوجائیں گے ۔” بھلا ایسی حالت میں یہ عذاب کس طرح ہوگا ، کس پر ہوگا ، کون سہیگا ۔ تو خواہی نخواہی یا یہ بات ہی غلط ہے یا مانا جائے کہ مرمٹنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے پوری طرح پر آدمی کی ہستی لوٹائی جائے گی ، اور عذاب کیا جائے گا ۔

گو یہ بات مسلمان اور رسول قرین عقل سمجھیں مگر ( ذٰلِکَ رَجْع بَعِیْد ) [٣] ”وہ لوٹنا اور بار دوم ہستی کا واپس ملنا قیاس و عقل سے نہایت دور ہے ۔” 

انسان میں ناری و ہوائی و آبی اجزا سب ہوا ہوجائیں گے خاکی اجزاء خاک میں مل جائیں گے ۔ اگر ڈوب کر دریا میں مرا تو کوسوں کی مچھلیوں اور دریائی جانوروں کا جزو بدن ہوگیا ۔ جل کر مرا تو خاک سیاہ ہوکر نیست و نابود ہوگیا ۔ کسی درندے نے پھاڑ کھایا تو مختلف جانوروں کے مختلف اجزا ہوکر وہ بھی یا کسی دوسرے حیوان کا جزو بدن بن جائے گا ، اور وہ تیسرے کا یا آخر کو خاک بن جائے گا ۔ پھر وہ خاک خدا جانے کہاں کہاں اڑتی پھرے گی ۔ 


پس اس قدر اجزاء کا پراگندگی کے بعد مجتمع ہوجانا ، اور جوڑ جوڑ کا از سر نو اسی حال پر آنا بالکل عقل کے خلاف ہے ۔ 


کفار کے یہی دو شبہے ایک بہ نسبت نبوت کے اور دوسرا بہ نسبت حشر و نشر کے جو ذکر کیے گئے ، ان کے لیے باعث تعجب تھے ان دونوں شبہوں کی تردید یہاں سے لے کر تا آخر سورت بیان فرمائی گئی ہے ۔ 


(١) متفرق اجزا کا بہم کرنا بعد مدت دراز ہر جوڑ بند کا پہلی حالت پر لے آنا اس کے نزدیک مشکل ہے ، جو خبر نہ رکھتا ہو کہ وہ اجزا کیا ہوئے اور کدھر گئے ۔ میرے نزدیک کیا مشکل ہے میری خبر داری کا یہ حال ہے کہ


( قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْھُمْ )"میں جان رہا ہوں جو کچھ ان میں سے زمین کم کرتی ہے”.


گو زمین اپنی جذبی تاثیر سے جسم کو مٹی بنا ڈالتی ہے ، اور کچھ اجزائے جسم ہوا یا پانی ہوجاتے ہیں اور ترکیبِ نوعی بالکل بدل جاتی ہے ، اور سیکڑوں بلکہ ہزاروں انقلابات ہوجاتے ہیں مگر یہ ساری حالتیں میرے علم میں موجود ہیں ، جس وقت چاہوں ہر جزو کو دوسرے سے الگ کر سکتا ہوں اور ایک جسم کے تمام اجزاء کا گو وہ کتنے ہی پراگندہ اور دوسرے جسم کی طرف مستحیل[شامل] ہوگئے ہوں پتا لگا کر بہم [جمع] کرسکتا ہوں ۔ 


اور میرے کارکنان قضا و قدر موکل فرشتے بھی بہت آسانی سے اس کو پتا لگا کر بہم [جمع] کرلیں گے ۔ ( وَ ) ”اور” ( اس لیے کہ )


( عِنْدَنَا کِتَاب )"ہمارے پاس تو ایک عظیم الشان کتاب ہے”


جس میں کارخانۂ عالم کے جزوی و کلی اجمالی و تفصیلی حالات مندرج ہیں ، کوئی واقعہ چھوٹا ہو یا بڑا اس سے باہر نہیں ہو سکتا ، جیسا کہ فرمایا ہے 


( لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِی کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ )[الانعام : ٥٩]

"ہر تر و خشک کتاب مبین میں موجود ہے”.


 ( یعنی جو ہوا ہے اور ہونے والا ہے وہ سب ہماری کتاب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ) اور اس میں نہ بسبب کہنگی کے تغیر ہوتا ہے ، اور نہ کوئی ایسا ہاتھ وہاں تک پہنچ سکتا ہے ، جو واقعات کو ردو بدل کر ڈالے ۔ اس لیے کہ وہ


( حَفِیْظ ) [٤] ”نہایت محفوظ ہے”


اور سارے انقلابات اور حادثات کی حافظ ہے ۔ اب جو ان کی تسکین کے لیے کافی وا فی دلیل بیان کردی گئی ، تو مان ہی لینا تھا ، مگر پھر بھی نہ مانا


( بَلْ کَذَّبُوْا بِا لْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ )"بلکہ حق بات آتے ہی جھٹلا دی ۔ ”


اب کوئی معقول وجہ انکار کی نہ رہی تو لگے واہی تباہی باتیں بنانے اور ہٹ دھرمی کرنے ۔ کبھی کہتے ہیں کہ خدا اگر فرشتے کی معرفت کہلواتا تو مانتے ، بشر کی کبھی نہ مانیں گے۔


( وَ قَالُوا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَک ۔ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُونَ ) [الانعام : ٨]”اور کہا کفار نے کیوں نہ ان پر فرشتہ اتارا گیا ( تاکہ ہم کو یقین لانے کا عمدہ موقع ملتا مگر یہ نہ سمجھے ) کہ اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو فیصلہ ہی ہوجاتا پھر مہلت نہ دی جاتی ۔”


( وَ قَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط لَوْ لَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَک فَیَکُوْنَ مَعَہ نَذِیْرًا ۔ اَوْ یُلْقٰی اِلَیْہِ کَنْز اَوْ تَکُوْنُ لَہ جَنَّة یَّاْکُلُ مِنْھَا ط وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلاً مَّسْحُوْرًا ) [الفرقان : ٧-٨]

”اور کہا منکروں نے اس رسول کو کیا ہے کھانا کھاتا ہے ، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ( ساری باتیں تو تمہاری سی ہیں اس پر رسالت و نبوت کا دعویٰ جو ان کے نزدیک آدمیت کی شان سے بالاتر تھا ) کیوں نہیں اس پر کوئی فرشتہ اتارا گیا کہ وہ اس کے ساتھ ڈراتا رہتا ۔کیوں نہ اسے کوئی خزانہ دیا گیا یا کوئی باغ اس کے لیے ہوتا کہ اس میں سے کھاتا اور ظالموں نے کہا کہ تم تو جادو زدہ اور دیوانے کی اتباع کرتے ہو ( یعنی یہ تو دیوانوں کی سی باتیں کرتا ہے تم اس کی کیوں سنتے ہو )۔”


( وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰئِکَةُ اَوْ نَرٰی رَبَّنَا ط لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا کَبِیْرًا ) [الفرقان :٢١]”اور جن کو ہم سے ملنے اور جی کر زندہ ہونے کا یقین نہیں ہے انہوں نے کہا ( اگر یہ پیغمبر ہے تو ) کیوں نہ اس کے ساتھ فرشتے آئے یا ہم اپنے پروردگار کو دیکھتے بیشک ان منکروں نے اپنے جی میں تکبر کیا اور بہت سر اٹھایا ۔”


کوئی کہتا ہے کہ یہ ہوش ہی میں نہیں ، سب مالیخولیا ہے ۔ مجنونانہ خیالات ہیں ، دیوانے کی باتوں کا کیا ٹھکانا ، جس سے ہم آبائی دین کو چھوڑ دیں جیسا کہ فرمایا


( أَ ئِنَّا لَتَارِکُوْا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ ) [الصآفات:٣٦]” بھلا ہم لوگ اپنے معبودوں کو ایک شاعر دیوانے کی خاطر سے کبھی چھوڑنے والے ہیں ۔”


اور فرمایا


( ھَلْ نَدُلُّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ یُّنَبِّئُکُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ کُلَّ مُمَزِّقٍ اِنَّکُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ اَفْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَمْ بِہ جِنَّة )[سبا:٧-٨]” کفار تمسخر کی راہ سے ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ آئو تمہیں ایک آدمی کے پاس لے چلیں جو تمہیں یہ بتائے گا کہ جب تم سڑ گل کر بالکل ریزہ ریزہ ہوجائو گے تو پھر دوبارہ نئی طرح سے پیدا کیے جائو گے ۔ نہیں معلوم کہ خدا کی طرف جھوٹ جھوٹ ان باتوں کی نسبت کرتا ہے یا سڑی [جن زدہ] ہے ۔”


کوئی کہتا ہے کہ یہ سب شاعرانہ نازک خیالیاں ہیں ان کو منجانب اللہ ہونے سے کیا علاقہ مگر جو خود شاعر ہیں جب وہ غور سے سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کجا شاعرانہ تُک بندیاں اور محض خیالات ، بے سروپا مضامین اور کجا یہ کلام معجز نظام بیشک ایسا نظم کلام طاقت بشری سے باہر ہے ۔ 


مگر یہ کیا ضرور ہے کہ خدا کا ہی ارشاد ہو ، کوئی شیطان یا جن اسرارِ غیبی ملا ملا کر ان کو یہ باتیں سکھا جاتا ہے ، جیسا کہ اس کی تردید میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے


( وَ لَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ ط قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ ) [الحاقة:٢٢]"یہ کسی کاہن کی بات نہیں ۔ تم لوگ سوچتے بہت کم ہو”.


غرض کوئی شاعر ، کوئی مجنوں ، کوئی کاذب ، کوئی کاہن ، کوئی کچھ کوئی کچھ کہتا ہے ۔


( فَھُمْ فِیْ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ )[٥]"تو وہ لوگ آپ کی تنقیص اور انکار کے بارے میں نہایت مختلف القول اور مختلف الرائے ہو رہے ہیں ۔”

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، -2012 اپریل،- سے  قسط وار شائع ہو رہا ہے۔ 

{جاری ہے۔۔۔}