مسلمانوں کا انتشار خیال –اور—اتحاد امت کاچیلنج


اداریہ: مسلمانوں کا انتشار خیال –اور—اتحاد امت کاچیلنج

کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

مسلمانوں کا انتشارِ خیال –اور — اتحاد امت کا چیلنج. اداریہ


واق
جریدہ "الوقعۃ”  کراچی جمادی الثانی ١٤٣٣ھ /اپریل مئی ٢٠١٢ء
(اداریہ)

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اس وقت تیسری عالمی جنگ جاری ہے ۔ شیطانی گماشتوں کو اس بات کا احساس بہت پہلے ہوچکا تھا کہ دنیا کی ہر تہذیب اور دنیا کا ہر مذہب ان کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا ، سوائے اسلام کے ۔ کیونکہ اسلام جو فلسفۂ حیات پیش کرتا ہے وہ نہ محض چند رسوم و اعمال کا مجموعہ ( یعنی مذہب ) ہے اور نہ ہی محض چند اخلاقی و سماجی تعلیمات کی ترغیب دینے والی کوئی تہذیب ہے ۔ اسلام جو فلسفہ پیش کرتا ہے اسے ہم قرآنی اصطلاح میں ” الدین ” کہہ سکتے ہیں ۔ دین کا تعلق انسان کے افکار و نظریات سے بھی ہے اور اعمال و عادات سے بھی ۔ زندگی کا ہر ہر گوشہ اور ہر گوشے کا ہر ہر پہلو دائرہ دین میں داخل ہے ۔

المغراف فی تفسیر سورۂ ق


الواقعۃ شمارہ ١، ٢ 

 مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ
تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

قسط ١ اور ٢ 

الحمد للّٰہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نؤمن بہ و نتوکل علیہ و نعوذ باللّٰہ من شرور انفسنا و من سیأت اعمالنا من یھدہ اللّٰہ فلا مضل لہ و من یضللہ فلا ھادی لہ و نشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و نشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ.

اما بعد ! واضح ہوکہ قرآن شریف کے جملہ احکام کی تعمیل مسلمانوں پر لازم ہے ۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اسے سیکھیں ، تلاوت کرتے رہیں ، اور یہ نہ ہوسکے تو سن کر ہی اس پر عمل کریں ۔ پس بعض نمازوں میں جہراً بھی تلاوت واجب کی گئی اور مسلمانوں کے لیے حضوری جماعت لازم و متحتم ہوئی ، اور حضرت رسول اللہ ۖ کو ارشاد ہوا ( اور جو حکم کہ آپ کے لیے مخصوص نہ ہوا اس میں تمام مسلمان شامل ہیں )  :

( و ذکر فانّ الذکری تنفع المومنین ) [ الذاریات : ٥٥ ]
”آپ نصیحت کرتے رہیے اس لیے کہ وعظ و نصیحت مسلمانوں کو فائدہ بخش ہے ۔” 
اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ
” انّما بعثت معلماً ” (١)
” میں اسی لیے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں کہ تم لوگوں کو دین کی باتیں سکھائوں ۔ ”

اس ارشاد کی تعمیل کی غرض سے ہفتہ میں ایک بار بطور تعلیم دین و عظ و نصیحت فرض ہوئی ، اور وہ دن جمعہ کا ہے اور وعظ و نصیحت یہی خطبہ ہے جو جمعہ کی نماز میں شرط ہے ۔ پھر نمازِ جمعہ کا یہ اہتمام کیا گیا کہ تمام کاروبارِ دنیا موقوف کرکے آنا ضروری ٹھہرایا گیا اور فرمایا:
 ( اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ) [الجمعة : ٩ ] یعنی "جب صلوٰة جمعہ کی اذان سنو تو اللہ کی یاد ( یعنی خطبہ ) کی طرف دوڑو اور بیچ کھونچ[خرید و فروخت ] موقوف کردو”. 
اور حدیث شریف میں آیا ہے :

عن أبی ھریرة و ابن عمر : ” انہما سمعا رسول اللّٰہ ۖ یقول علی اعواد منبرہ لینتہین اقوام عن ودعہم الجمعات او لیختمن اللّٰہ علی قلوبہم ثم لیکونن من الغافلین ۔”رواہ مسلم و ابن ماجة (٢)

 حضرت ابو ہریرہ اور ابن عمر نے رسول اللہ ۖ کو منبر کے اوپر فرماتے سنا کہ ” لوگ جمعہ کی نماز کو ترک کرنے سے باز آئیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دل پر مہر کردے گا پھر اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ دین کی طرف سے لاپروائی کرنے والوں میں ہو جائیں گے ۔ ”

اور بلحاظِ شفقت اور آسانی کے صرف جمعہ کے دن ظہر میں سے دو رکعت کو کم کرکے ان کی جگہ دو خطبے مقرر کیے گئے اس لیے کہ اگر ہر روز ہوتا تو تکلیف ہوتی ۔ ماہوار یا سا ل بسال ہوتا تو بعد بعید ہوجاتا اور جمعہ کے دن چاروں رکعتیں بھی بحال رہتیں اور دو خطبے بھی تو حرج لازم آتا ۔

اور چونکہ نصیحت کے لیے استماع اور حضورِ قلب ضروری ہے ۔ خطبہ کے وقت سکوت اور سکون محض کی تاکید فرمائی

( فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا )

[ الاعراف : ٢٠٤] "چپ چاپ سنتے رہو”

اور حدیث شریف میں آیا ہے : 
” عن ابی ھریرة ان النبی ۖ قال اذا قلت لصاحبک یوم الجمعة انصت و الامام یخطب فقد لغوت ۔ ” رواہ البخاری (٣)

[ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تم اپنے ساتھی سے جمعہ کے دن خاموش رہنے کے لیے کہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے یقینا لغو کام کیا ۔]
اور نصیحت کے لیے بہترین کلام ، کلام اللہ ہے اس لیے فرمایا :

فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ ) [ق : ٤٥] "آپ بذریعہ قرآن کے نصیحت فرمائیں ، اس کو جو میرے عذاب سے ڈرتا ہے ۔ ”

اور حدیث میں آیا ہے :

” ان ھذا القرآن حبل اللّٰہ و النور المبین و الشفآء النافع ۔ ” رواہ الحاکم عن ابن مسعود (٤)”یہ قرآن اللہ کی ڈوری ہے ، اور جگمگاتا نور ہے اور دل کے روگ کی نافع شفا ہے ۔ ”

اس ارشاد کی تعمیل کی غرض سے رسول اللہ ۖ نے جمعہ کے دن سورئہ ق کا پڑھنا خطبہ میں اختیار فرمایا ۔ 

عن ام ھشام بنت حارثة بن النعمان قالت : ما أخذت ق والقرآن المجید الا علی لسان رسول اللّٰہ ۖ کان یقرأ بہا کل یوم جمعة علی المنبر اذا خطب الناس ۔” رواہ احمد (٥)ام ہشام صحابیہ فرماتی ہیں کہ ” میں نے سورئہ ق حضرت ہی کے زبان مبارک سے سیکھ کر یاد کرلی آپ اس سورت کو منبر پر ہر جمعہ کے خطبہ میں پڑھا کرتے تھے ۔ ”

اس حدیث سے جمعہ کے خطبے میں اس سورہ کا پڑھنا مسنون ثابت ہوتا ہے ۔ اس کی تخصیص میں یہ بھید ہے کہ 

( اوّل ) تذکیر اور وعظ کے لیے سب سے زیادہ مؤثر آلہ موت کی یاد دہانی ہے ، اور قیامت کا ہولناک واقعہ سنانا ، اللہ کے نافرمان بندوں کے دنیا دین میں رسوا ہونے کا بیان اور یہ سورہ باوجود اس قدر مختصر ہونے کے ان تمام بیانات کی جامع ہے ۔ 

( دوسرے ) ساری خوبیوں کی اصل اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب پر اور رسول پر ایمان لانا ہے اور یہ سورت بتمامہا اسی کے اثبات میں اتری ہے ۔ 

( تیسرے ) رسول اللہ ۖ کی اور مسلمانوں کی اس سورت میں نہایت تسلی فرمائی ہے اور صبر کا حکم دیا ہے پس ہر ہفتے اس کا اعادہ مجمع عام میں مسلمانوں کے پر زور اور غم دیدہ دل کی نہایت تشفی کا باعث ہے ۔ 

( چوتھے ) منکرین ہمیشہ آپ کی نبوت کے انکار میں نئے نئے عذر پیش کرتے ، کبھی شاعر کہتے ، کبھی کاہن ، کوئی مجنون بتلاتا ، تو کوئی معلم ، کوئی مفتری کہتا ، کوئی اساطیر اوّلین کا ناقل ، جس کے سبب سے ان کے تزلزل رائے کا بخوبی پتہ لگتا ہے ، اور جناب سیّد المرسلین رسول برحق کا ہمیشہ ایک دعوے کو مختلف دلائل سے ثابت کرتے رہنا اور بر ملا ہزاروں آدمیوں کے رُوبرو بار بار اپنے دعویٰ کا بڑے زور سے ظاہر کرتے رہنا دلیل ہے آپ کے استقلال اور آپ کے دعویٰ کے قوت کی ۔ 

( پانچویں ) قیامت کے دن شیطان اور کفار میں جھگڑا اور اس کے جواب میں جناب باری عزاسمہ کا ارشاد ( مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ ) [ق : ٢٩] "ہمارے یہاں ہر لحظہ ردّ و بدل نہیں ہوا کرتی ۔ ” اس میں مذکور ہے ۔ تو گویا ہر جمعہ میں ایک سورة التزام جس میں بار بار ایک ہی مضمون آتا رہتا ہے ۔ اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا اسی کیفیت کی یاددہانی اور اشارہ ہے ۔ 

نظر بریں وجوہات اس سورت کی تفسیر لکھنے کی میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ عام خلق خدا کو اس کے سمجھنے کا ثواب ملے اور اس پر عمل کی توفیق ہو اور اس صورت سے نبی ۖ کی ہر ہفتے میں جمعہ کے خطبہ میں اس کو اختیار کرنے سے جو غرض تھی ، وہ باقی رہے ۔ و اللّٰہ أسالہ ان یجعلہ خالصا لوجھہ الکریم و ینفعنی بہ اولا ثم کل من یرید ان یسلک الصراط المستقیم انہ تعالیٰ جواد کریم و صلّی اللّٰہ علیہ رسولہ محمد و الہ و صحبہ بالتسلیم ۔

{جاری ہے۔۔۔}
حواشی 
(١) سنن الدارمی : کتاب المقدمة ، باب فی فضل العلم والعالم ۔ سنن ابن ماجہ : کتاب المقدمة ، باب فضل العلما والحث علی طلب العلم ۔علامہ سندھی اور شیخ البانی کے مطابق بہ لحاظ اسناد حدیث ضعیف ہے ۔ 
(٢) صحیح مسلم : کتاب الجمعة ، باب التغلیظ فی ترک الجمعة ۔ سنن ابن ماجہ : کتاب المساجد و الجماعات ، باب التغلیظ فی التخلف عن الجماعة ۔مسند أحمد : و من مسند بنی ہاشم ، بدایة مسند عبد اللّٰہ بن العباس ۔صحیح مسلم کے سوا بقیہ روایات میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی جگہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا نام ہے ۔ 
(٣) صحیح بخاری : کتاب الجمعة ، باب الانصات یوم الجمعة والامام یخطب واذا قا ل لصاحبہ انصت۔صحیح مسلم : کتاب الجمعة ، باب فی الانصات یوم الجمعة فی الخطبة ۔ سنن ابن ماجہ : کتاب اقامة الصلاة و السنة فیھا ، باب ما جاء فی الاستماع للخطبة والانصات لہا۔
(٤) سنن الدارمی : کتاب فضائل القرآن ، باب  فضل من قرأ القرآن ۔ المستدرک علی الصحیحین للحاکم : کتاب فضائل القرآن ، باب اخبار فی فضائل القرآن جملة ۔ امام حاکم کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے تاہم امام شمس الدین الذہبی اسے ضعیف قرار دیتے ہیں ۔
(٥) مسند احمد : مسند القبائل ، حدیث ام ہشام بن حارثہ بن النعمان رضی اللہ عنہا ۔ صحیح مسلم : کتاب الجمعة ، باب تخفیف الصلاة و الخطبة ۔ 

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، – جمادی الثانی 1433ھ / اپریل، مئی 2012– سے  قسط وار شائع ہو رہا ہے۔ 

ذیل میں قسط نمر 2 پیش کی جارہی ہے:


( ق ) یہ حرف اور جو ایسے ایسے حروف سورتوں کے شروع میں مذکور ہیں ، ان کے معنوں کو سوائے اللہ اور رسول ۖ کے کوئی نہیں جانتا ۔ ہر دوست اپنے دوست کے لیے کچھ نہ کچھ اشارے رکھتا ہے جن کو اغیار نہیں سمجھ سکتے ۔ ہم مسلمانوں کو اپنے مقام پر پر ٹھہرنا چاہیے ، اور آگے بڑھنے کی جرأت نہ کرنی چاہیے جس قدر معلوم ہے ، اس پر شکر احسان ہے ، اور جو مخفی ہے اس پر ایمان ہے ۔ 

( وَ القُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ )[١] "قسم ہے قرآن کی جو بزرگ ہے”

 اس لیے کہ اس کا اتارنے والا مجید اور پروردگار عالم اور جس پر اتارا گیا وہ سیّد اولادِ آدم ، جو فرشتہ اس کے لانے کے لیے انتخاب کیا گیا ، وہ تمام ملائکہ میں محترم ، جس شہر میں اوّل نازل ہوا یعنی مکہ وہ امّ القریٰ اور حرم ، جہاں کی ایک رکعت نماز کا ثواب دوسری جگہ کی لاکھ رکعت کے برابر ۔ جس ماہ میں اترا یعنی رمضان وہ تمام مہینوں سے بزرگی و برکات و فضل میں ممتاز ۔ جس شب میں نازل ہوا یعنی لیلة القدر اس کے فضائل بے انتہا ۔ جس امت کے لیے اترا وہ خیر الامم ۔ اس کے تلاوت کا ثواب نا محدود ۔ اس کے تفکر و تدبر سے حصول مقصود خود وہ مضامین جو اس کے مندرج ہیں ، پاکیزہ و بابرکت و پر زور جو جہاں بھر کے مختلف اقوام کے رہنمائی کے لیے قیامت تک کافی ۔ اس کے قصص پُر اثر اور نتیجہ خیز اس پر کذب و فحش سے پاک اس کی تمثیلیں ابلغ تمثیلات ہر ایک دعویٰ راست اور دلائل موصل الی المطلوب [مطلب تک پہنچانے والی].

ایسی محترم چیز کی قسم کھا کر کفار سے یہ کہا جاتا ہے کہ آپ ہماری طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں ، اور قیامت کے عذاب سے تم لوگوں کو ڈرانے کی غرض سے بھیجے گئے ہیں ۔ 


آدمی کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی تعجب خیز بات سنتا ہے ، تو اوّلاً اس کی صحت میں شک کرتا ہے ، مگر جب دیکھتا ہے کہ کہنے والا نہایت راست گو ، دیانتدار ہے ، اور بقسم بیان کرتا ہے ، تو اس کا شک دور ہوجاتا ہے اور ایسی حالت میں کم از کم اس قدر ضرور کہتا ہے کہ جب تمہارے جیسا دیانت دار اور سچا آدمی بڑے دعوے سے کہہ رہا ہے تو اگرچہ میری عقل میں نہیں آتی مگرسچ مان لیتا ہوں ۔ لیکن ان کفار کا ( آپ کی راستی کا کمال یقین رہتے ہوئے ) آپ کی نبوت کو نہ تسلیم کرنا بسبب ایک شبہ کے ہے جس سے وہ شک و تردد ہی کی حد تک نہ رہے ( بَلْ ) ”بلکہ” شک سے ترقی کرکے ایک جانب کا فیصلہ کرلیا کہ آپ نبی نہیں ہیں اور قیامت کا ہونا ہر گز صحیح نہیں اور آپ کو اس فیصلے کے خلاف دعویٰ پر اصرار کرتے دیکھ کر  ( عَجِبُوْا ) ”تعجب کرنے لگے” ( اَنْ جَآئَ ھُمْ مُّنْذِر ) ”کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا آیا” جو اپنے کو باوجود اوصاف بشریت کے اللہ کا بھیجا ہوا کہتا ہے ۔ اگر کوئی فرشتہ یا جن یہ دعویٰ کرتا تو چنداں جائے تعجب و انکار نہ ہوتا ، تعجب تو اس لیے ہے کہ وہ ڈرانے والا ( مِنْھُمْ ) ”انہیں میں کا ایک آدمی ہے” جو نہ من حیث بشریت کے لائقِ نبوت ہے نہ من حیث عزت و وجاہت کے نہ من حیث مال و دولت کے ( فَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ) ”تو کہا نہیں ماننے والوں نے” ( ھٰذَا )”یہ” یعنی ہمیں لوگوں میں سے ایک شخص کا اس قدر بلند پایہ ہوجانا اور منصب نبوی تک پہنچ جانا اور بلا ستعانت مال و جاہ وغیرہ کے جو ترجیح استحقاق کے فی الجملہ باعث ہوسکتے ہیں ۔ سب پر فوقیت کا دعویٰ کرنا ( شَیْٔ عَجِیْب ) [٢] "عجیب چیز ہے”. دوسرے جس مصیبت سے ڈراتے ہیں وہ اگر دنیا ہی میں آنے والی بتاتے تو خیر ، تعجب بالائے تعجب تو یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ مرجانے کے بعد جب قیامت کا دن آئے گا جس کو مدت دراز ہے تو ( ئَ اِذَا مِتْنَا وَ کُنَّا تُرَابًا ) ”کیا جب ہم مر مٹیں گے اور سڑ گل کر مٹی ہوجائیں گے ۔” بھلا ایسی حالت میں یہ عذاب کس طرح ہوگا ، کس پر ہوگا ، کون سہیگا ۔ تو خواہی نخواہی یا یہ بات ہی غلط ہے یا مانا جائے کہ مرمٹنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے پوری طرح پر آدمی کی ہستی لوٹائی جائے گی ، اور عذاب کیا جائے گا ۔

گو یہ بات مسلمان اور رسول قرین عقل سمجھیں مگر ( ذٰلِکَ رَجْع بَعِیْد ) [٣] ”وہ لوٹنا اور بار دوم ہستی کا واپس ملنا قیاس و عقل سے نہایت دور ہے ۔” 

انسان میں ناری و ہوائی و آبی اجزا سب ہوا ہوجائیں گے خاکی اجزاء خاک میں مل جائیں گے ۔ اگر ڈوب کر دریا میں مرا تو کوسوں کی مچھلیوں اور دریائی جانوروں کا جزو بدن ہوگیا ۔ جل کر مرا تو خاک سیاہ ہوکر نیست و نابود ہوگیا ۔ کسی درندے نے پھاڑ کھایا تو مختلف جانوروں کے مختلف اجزا ہوکر وہ بھی یا کسی دوسرے حیوان کا جزو بدن بن جائے گا ، اور وہ تیسرے کا یا آخر کو خاک بن جائے گا ۔ پھر وہ خاک خدا جانے کہاں کہاں اڑتی پھرے گی ۔ 


پس اس قدر اجزاء کا پراگندگی کے بعد مجتمع ہوجانا ، اور جوڑ جوڑ کا از سر نو اسی حال پر آنا بالکل عقل کے خلاف ہے ۔ 


کفار کے یہی دو شبہے ایک بہ نسبت نبوت کے اور دوسرا بہ نسبت حشر و نشر کے جو ذکر کیے گئے ، ان کے لیے باعث تعجب تھے ان دونوں شبہوں کی تردید یہاں سے لے کر تا آخر سورت بیان فرمائی گئی ہے ۔ 


(١) متفرق اجزا کا بہم کرنا بعد مدت دراز ہر جوڑ بند کا پہلی حالت پر لے آنا اس کے نزدیک مشکل ہے ، جو خبر نہ رکھتا ہو کہ وہ اجزا کیا ہوئے اور کدھر گئے ۔ میرے نزدیک کیا مشکل ہے میری خبر داری کا یہ حال ہے کہ


( قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْھُمْ )"میں جان رہا ہوں جو کچھ ان میں سے زمین کم کرتی ہے”.


گو زمین اپنی جذبی تاثیر سے جسم کو مٹی بنا ڈالتی ہے ، اور کچھ اجزائے جسم ہوا یا پانی ہوجاتے ہیں اور ترکیبِ نوعی بالکل بدل جاتی ہے ، اور سیکڑوں بلکہ ہزاروں انقلابات ہوجاتے ہیں مگر یہ ساری حالتیں میرے علم میں موجود ہیں ، جس وقت چاہوں ہر جزو کو دوسرے سے الگ کر سکتا ہوں اور ایک جسم کے تمام اجزاء کا گو وہ کتنے ہی پراگندہ اور دوسرے جسم کی طرف مستحیل[شامل] ہوگئے ہوں پتا لگا کر بہم [جمع] کرسکتا ہوں ۔ 


اور میرے کارکنان قضا و قدر موکل فرشتے بھی بہت آسانی سے اس کو پتا لگا کر بہم [جمع] کرلیں گے ۔ ( وَ ) ”اور” ( اس لیے کہ )


( عِنْدَنَا کِتَاب )"ہمارے پاس تو ایک عظیم الشان کتاب ہے”


جس میں کارخانۂ عالم کے جزوی و کلی اجمالی و تفصیلی حالات مندرج ہیں ، کوئی واقعہ چھوٹا ہو یا بڑا اس سے باہر نہیں ہو سکتا ، جیسا کہ فرمایا ہے 


( لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِی کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ )[الانعام : ٥٩]

"ہر تر و خشک کتاب مبین میں موجود ہے”.


 ( یعنی جو ہوا ہے اور ہونے والا ہے وہ سب ہماری کتاب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ) اور اس میں نہ بسبب کہنگی کے تغیر ہوتا ہے ، اور نہ کوئی ایسا ہاتھ وہاں تک پہنچ سکتا ہے ، جو واقعات کو ردو بدل کر ڈالے ۔ اس لیے کہ وہ


( حَفِیْظ ) [٤] ”نہایت محفوظ ہے”


اور سارے انقلابات اور حادثات کی حافظ ہے ۔ اب جو ان کی تسکین کے لیے کافی وا فی دلیل بیان کردی گئی ، تو مان ہی لینا تھا ، مگر پھر بھی نہ مانا


( بَلْ کَذَّبُوْا بِا لْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ )"بلکہ حق بات آتے ہی جھٹلا دی ۔ ”


اب کوئی معقول وجہ انکار کی نہ رہی تو لگے واہی تباہی باتیں بنانے اور ہٹ دھرمی کرنے ۔ کبھی کہتے ہیں کہ خدا اگر فرشتے کی معرفت کہلواتا تو مانتے ، بشر کی کبھی نہ مانیں گے۔


( وَ قَالُوا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَک ۔ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُونَ ) [الانعام : ٨]”اور کہا کفار نے کیوں نہ ان پر فرشتہ اتارا گیا ( تاکہ ہم کو یقین لانے کا عمدہ موقع ملتا مگر یہ نہ سمجھے ) کہ اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو فیصلہ ہی ہوجاتا پھر مہلت نہ دی جاتی ۔”


( وَ قَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط لَوْ لَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَک فَیَکُوْنَ مَعَہ نَذِیْرًا ۔ اَوْ یُلْقٰی اِلَیْہِ کَنْز اَوْ تَکُوْنُ لَہ جَنَّة یَّاْکُلُ مِنْھَا ط وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلاً مَّسْحُوْرًا ) [الفرقان : ٧-٨]

”اور کہا منکروں نے اس رسول کو کیا ہے کھانا کھاتا ہے ، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ( ساری باتیں تو تمہاری سی ہیں اس پر رسالت و نبوت کا دعویٰ جو ان کے نزدیک آدمیت کی شان سے بالاتر تھا ) کیوں نہیں اس پر کوئی فرشتہ اتارا گیا کہ وہ اس کے ساتھ ڈراتا رہتا ۔کیوں نہ اسے کوئی خزانہ دیا گیا یا کوئی باغ اس کے لیے ہوتا کہ اس میں سے کھاتا اور ظالموں نے کہا کہ تم تو جادو زدہ اور دیوانے کی اتباع کرتے ہو ( یعنی یہ تو دیوانوں کی سی باتیں کرتا ہے تم اس کی کیوں سنتے ہو )۔”


( وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰئِکَةُ اَوْ نَرٰی رَبَّنَا ط لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا کَبِیْرًا ) [الفرقان :٢١]”اور جن کو ہم سے ملنے اور جی کر زندہ ہونے کا یقین نہیں ہے انہوں نے کہا ( اگر یہ پیغمبر ہے تو ) کیوں نہ اس کے ساتھ فرشتے آئے یا ہم اپنے پروردگار کو دیکھتے بیشک ان منکروں نے اپنے جی میں تکبر کیا اور بہت سر اٹھایا ۔”


کوئی کہتا ہے کہ یہ ہوش ہی میں نہیں ، سب مالیخولیا ہے ۔ مجنونانہ خیالات ہیں ، دیوانے کی باتوں کا کیا ٹھکانا ، جس سے ہم آبائی دین کو چھوڑ دیں جیسا کہ فرمایا


( أَ ئِنَّا لَتَارِکُوْا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ ) [الصآفات:٣٦]” بھلا ہم لوگ اپنے معبودوں کو ایک شاعر دیوانے کی خاطر سے کبھی چھوڑنے والے ہیں ۔”


اور فرمایا


( ھَلْ نَدُلُّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ یُّنَبِّئُکُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ کُلَّ مُمَزِّقٍ اِنَّکُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ اَفْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَمْ بِہ جِنَّة )[سبا:٧-٨]” کفار تمسخر کی راہ سے ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ آئو تمہیں ایک آدمی کے پاس لے چلیں جو تمہیں یہ بتائے گا کہ جب تم سڑ گل کر بالکل ریزہ ریزہ ہوجائو گے تو پھر دوبارہ نئی طرح سے پیدا کیے جائو گے ۔ نہیں معلوم کہ خدا کی طرف جھوٹ جھوٹ ان باتوں کی نسبت کرتا ہے یا سڑی [جن زدہ] ہے ۔”


کوئی کہتا ہے کہ یہ سب شاعرانہ نازک خیالیاں ہیں ان کو منجانب اللہ ہونے سے کیا علاقہ مگر جو خود شاعر ہیں جب وہ غور سے سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کجا شاعرانہ تُک بندیاں اور محض خیالات ، بے سروپا مضامین اور کجا یہ کلام معجز نظام بیشک ایسا نظم کلام طاقت بشری سے باہر ہے ۔ 


مگر یہ کیا ضرور ہے کہ خدا کا ہی ارشاد ہو ، کوئی شیطان یا جن اسرارِ غیبی ملا ملا کر ان کو یہ باتیں سکھا جاتا ہے ، جیسا کہ اس کی تردید میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے


( وَ لَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ ط قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ ) [الحاقة:٢٢]"یہ کسی کاہن کی بات نہیں ۔ تم لوگ سوچتے بہت کم ہو”.


غرض کوئی شاعر ، کوئی مجنوں ، کوئی کاذب ، کوئی کاہن ، کوئی کچھ کوئی کچھ کہتا ہے ۔


( فَھُمْ فِیْ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ )[٥]"تو وہ لوگ آپ کی تنقیص اور انکار کے بارے میں نہایت مختلف القول اور مختلف الرائے ہو رہے ہیں ۔”

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، -2012 اپریل،- سے  قسط وار شائع ہو رہا ہے۔ 

{جاری ہے۔۔۔}


کیا سعودی عرب کو تنہا کرنے کی سازش کی جارہی ہے ؟


الواقعۃ شمارہ ١ 

محمد آفتاب احمد

مملکت خادم حرمین و شریفین تاریخ کے ایک نازک اور اہم ترین موڑ سے گزررہا ہے ۔ ایسے میں کسی غیر معمولی واقعہ سے9/11 کی طرح پوری دنیا کی سمت کو بدلنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔حالات کی سنگینی کا ادراک سعودی حکومت کے ١٢ مارچ٢٠١٢ء (١٦ربیع الثانی ١٤٣٣ھ)کے اقدام سے کیا جاسکتا ہے۔جس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ سعودی حکومت نے دنیا بھر میں اپنے سفارتکاروں کو قومی لباس پہننے سے روک دیا(سعودی گزٹ)۔عربوں کی تاریخ میں خواہ وہ زمانہ جاہلیت کا دور ہو یا اسلام کے بعد کا آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ان کا لباس ہی ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن گیا ہو۔ آخر کیا وجہ ہے کہ
سعودی حکومت کو انتہائی اقدام اٹھا نا پڑا؟اس کے پس پر دہ مقاصد کیا ہیں؟ریاض حکومت کو اس اقدام پر مجبور کرنے والے آخر کیا چاہتے ہیں؟معاملہ صرف سعودی باشندوں کا تحفظ ہے یاکچھ ؟
 
سعودی عرب کے خلاف سازشوں کا کھیل تو بہت پرانا ہے مگر چند عشروں کے دوران پیش آنے والے واقعات کا ایک سر سری جائزہ مستقبل میں پیش آنے والے حالات و واقعات کو سمجھنے کے لیے کافی ہوگا۔عرب اسرائیل جنگ کسے یاد نہیں ۔١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل جنگ نے ایمان و عقیدے کی روح سے عاری ملت کو ایسا کاری زخم لگایا کہ وہ آج تک مندمل نہ ہوسکا۔ دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ اردن کے مشرقی کنارے کے ساتھ بیت المقدس کو جانے والی سڑک جہاں پر حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابوعبیدہ بن جراح، حضرت شرحبیل بن حسنہ اور حضرت ضرار بن آزد کے مزارات واقعہ ہیں، کے سامنے سے مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے وہ سارا علاقہ چھوڑ کر جارہے تھے جسے ان کے اسلاف نے بے پناہ قربانیوں کے بعد حاصل کیا تھا۔بیت المقدس اور اردن کا وہ سارا علاقہ جو آج اسرائیل کے قبضے میں ہے،نہایت گنجان آبادی سے بھرا پڑا اور سر سبز و شاداب علاقہ تھا۔بیت المقدس کی وجہ سے اردن حکومت کو سیاحت سے خاصی آمدنی بھی تھی۔اردن کی کمر ٹوٹ گئی۔سیاسی لحاظ سے بھی۔فوجی اعتبار سے بھی اوراقتصادی طور پر بھی۔ یہ مقامات مقدسہ بھی ہاتھ سے گئے ۔ یہاں کے آنے والے سیاحوں کی آمدنی بھی گئی۔ مسئلہ اسرائیل کو صرف عربوں کا مسئلہ بنادیاگیا۔شاہ فیصل شہید معاملے کی حقیقت سے آگاہ تھے۔انہوں نے کوشش کی کہ اسرائیل کو تنہا عربوں کا نہیں بلکہ امت محمدیہ کا مسئلہ بنایا جائے مگر قدرت کو ابھی اور امتحان مقصود تھاشاہ فیصل شہید کردیے گئے۔
 
عربوں اور ان کے مفادات پر دشمن جہاں ایک جانب براہ راست حملہ آور تھا وہیں انہیں دوسرے طریقوں سے بھی بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔ اس کی سب سے بڑی مثال او آئی سی ہے جو اپنے قیام کے مقاصد پورے کرنے میں نہ صرف ناکام رہا بلکہ بیشتر مواقعوں پر امت محمدیہ کے لیے مضرکردار ادا کیا۔ مگر او آئی سی کی ناکامی اور اس کے کرتوتوں کو بھی کسی نہ کسی طرح سعودی عرب کے کھاتے میں ڈال دیا گیا اور میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہی بآورکرایا گیا کہ مسلمانوں کی ناکامی کی وجہ عربوں کا انتشار اور ان کا غیر مؤثر ہونا ہے۔
 
9/11کاواقعہ کسے یاد نہیں۔( دنیا کی اکثریت جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہی ہے آج بھی اسے عرب مسلمانوں کی کارروائی ہی سمجھتی ہے۔ باوجود اس کے کہ خود امریکی ماہرین طبیعیات نے اپنی تحقیق سے یہ بات ثابت کی ہے کہ امریکی معیشت کوکنٹرول کرنے والے ایک محدود طبقے کا کارنامہ ہے۔ آج تک یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ آخر اس مقصد کے لیے ٹوئن ٹاور کا انتخاب ہی کیو ں کیا گیا؟ اور اس کے لیے11ستمبر کی تاریخ کیوں متعین کی گئی؟)یہ واقعہ ایک استعارہ تھا جس کا مقصد دنیا بھر میں ابلیس کے گماشتوں کو یہ بتانا تھا کہ اب ان کی وفاداری ثابت کرنے کا وقت آگیا ہے۔اور پھر دنیا نے دیکھا کہ تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا ہے ۔ سوچ کے زاویے بدل گئے۔ نظریات نے اپنی معنویت تبدیل کرلی۔ فلسفہ کا قبلہ بدل گیا۔معاشی اصول کے نئے معنی بنائے گئے۔ غریبوں کی مدد دہشت گردوں کی معاونت قرار پائی اور صرف او ر صرف دنیا کے ٢ مسلم ملکوں پاکستان اور سعودی عرب کو کسی نہ کسی طریقے سے ان معاملات میں ملوث کرکے ہدف تنقید بنایا گیا تاکہ مستقبل کی کارروائیوں کو سند جواز فراہم کیا جاسکے۔
 
موجود ہ دور میں ایک جانب جہاں پاکستان کو براہ راست ”حملوں” کا نشانہ بنایا گیا وہیںبالواسطہ طور پر سعودی عرب پر بھی حملے کیے گئے۔ان حملوں میں جہاں سعودی عرب کے مفادات کو نشانہ بنایا گیا وہیں خود مسلم ملکوں میں عربوں میں اسے بے توقیر ثابت کرنے کے لیے کمزور اور مردہ قوم کی حیثیت سے پیش کیا گیا ۔اس کی تازہ مشال گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان، بنگلہ دیش اور یمن میںسعودی سفارتخانوں پر کیے جانے والے حملے ہیں۔ ١٦ مئی٢٠١١ء کو کراچی میں شہر کے ریڈ زون ڈیفنس خیابان شہباز میں سعودی قونصلر کی گاڑی پر سعودی سفارتکار حسن گابانی کو قتل کیا گیا۔انہیں گھر سے قونصل خانہ جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ واقعہ سے چند روز قبل سیکورٹی اداروں نے قونصل خانہ سے ایک سیکورٹی افسر کو مشکوک سرگرمیوں پر گرفتار بھی کیا لیکن اس کے بعد پہلے سعودی قونصل خانہ پر دستی بم سے حملہ کیا گیااورچند روز بعد سفارتکار کو ہدف بنا کر قتل کردیا گیا(ڈان۔ عرب نیوز) ۔ قاتل آج تک گرفتار نہیں ہوسکے۔ابھی اس واقعہ کو ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں خلف بن محمد سلیم العلی کوڈپلومیٹک انکلیو میں قتل کردیاگیا ۔ انہیں انتہائی قریب سے سینے میں گولی ماری گئی۔اس بارے میں بنگلہ دیش پولیس کے بیان میں تضاد پایا گیا۔ سفارتکار کے گھر19/B کے سیکورٹی گارڈ ذوالفقار علی اورمکان نمبر20/A کے سیکورٹی گارڈ ربیع الاسلام کا کہنا ہے کہ انہیں دن سوا بجے قتل کیا گیا جبکہ ڈھاکا کے اسسٹنٹ پولیس کمشنر نورالعالم کا کہنا ہے کہ خلف العلی کو علی الصبح نشانہ بنایا گیا(دی ڈیلی اسٹار) ۔ اس واقعہ پر نہ صرف سعودی عرب بلکہ کویت ، بحرین، اردن اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔سب کا ایک ہی مؤقف تھا کہ خلف العلی کا قتل دہشت گردی اور کھلی جنگ ہے (سعودی گزٹ۔ عرب نیوز) ۔ قاتلوں کی گرفتاری اور تفتیش میں مدد کے لیے سعودی عرب کی تحقیقاتی ٹیم ڈھا کا پہنچی مگر خلف العلی کے قاتل بھی تادم تحریر گرفتار نہ ہوسکے اور نہ ہی یہ معلوم ہوسکا کہ واردات کرنے والے کون تھے؟ان کے مقاصد کیا تھے؟دوسری جانب ٢٨ مارچ ٢٠١٢ء کو سعودی عرب کے پڑوسی ملک یمن کے شہر عدن سے سعودی قونصلر عبداللہ الخالدی کو اغوا کرلیا گیا۔انہیں المنصورہ کالونی میں گھر کے باہر موجود گاڑی سے صبح کے وقت اغو ا کیا گیا۔ 4ماہ قبل ان سے راستے میں روک کر گاڑی بھی چھین لی گئی تھی( العربیہ .نیٹ ) ۔ الخالدی کے بارے میں اب تک نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں؟ انہیں کس نے اغوا کیا؟ ان کے مقاصد کیا ہیں؟یہ سار ے عوامل کہیں اس امر کی نشاندہی تو نہیں کررہے کہ سعودی عرب کو عالم اسلام میں تنہا کیا جارہا ہے۔ 
 
پے در پے سعودی سفارتکاروں پر حملہ یہ واضح کرتا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف اس وقت کسی عالمی سازش کا کھیل جاری ہے ۔ یہ کھیل کھیلنے والے کسی بھی طرح مسلمانوں کے ہمدرد نہیں ہوسکتے کیونکہ سعودیہ کے خلاف کھیلا جانے والا کھیل صرف وہیں تک محدود نہیں رہے گا بالآخر اس کا اثر پورے عالم اسلام پر پڑے گا ۔ 
 
اس امر کو بخوبی سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ سعودی  عرب میں انتشار مسلمانوں کے لیے کسی بھی طرح سود مند نہیں ۔ سعودی عرب کی تنہائی محض سعودی عرب کی تنہائی نہیں بلکہ اسلام کی مرکزیت یعنی حجازِ مقدس سے مسلمانوں کو دور کردینے کی ناپاک کوشش ہے ۔ 
 
اس بات کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اسرائیل اپنے قیام کے ساتھ ہی پاکستان اور سعودی عرب کا مخاف رہا ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتا بلکہ ان دو اسلامی ممالک –جن کے تعلق مثالی نوعیت کے ہیں — کے مابین اختلافات پیدا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا ۔ ١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بن گورین کا بیان ریکارڈ پر ہے ، جس میں اس نے پاکستان سے متعلق اپنے خبث باطن کا اظہار کیا تھا ۔ 
 
اگر مفروضہ کو درست مان لیا جائے توایک یہودی سردار حاخام اکبر کا وہ بیان جو اس نے مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی قبضے کے بعداپنی تقریر میں کہا تھا کہ
” مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرلینے کے بعد یقنیاً ہمیں خوشی ہوئی ہے۔ لیکن ہماری یہ خوشی اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک ہم مدینہ منورہ میں اپنے پرانے مکانوں اور قلعوں کو واپس نہ لے لیں اور جب تک ہم مدینہ کے ایک ایک باشندے کے ساتھ قتل و خون کا وہی معاملہ نہ کریں جو مسلمانوں نے ہمارے بڑوں بنی قرنیطہ،بنی قینقاع، بنو نضیر اور اہل خیبر کے ساتھ کیا تھا۔”
ان تمام کڑیوں کو ملائیے اور غور کیجئے کہ کہیں سعودی عرب کو تنہا کرنے کی سازش تو نہیں کی جارہی ؟

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، -2012 اپریل،- سے ماخوذ ہے۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

کیا علامہ تمنّا عمادی منکر حدیث تھے ؟


الواقعۃ شمارہ #1

محمّد تنزیل ا لصدیقی ا لحسینی

 

کیا علامہ تمنّا عمادی 

منکر حدیث تھے ؟

 

علّامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی ماضیِ قریب کی مشہور و معروف علمی شخصیت ہیں ۔ انہیں علم و ادب کی دنیا میں شہرت و مقبولیت بھی ملی اور ان کے افکار و خیالات علمی دنیا کے لیے محلِ نزاع بھی بنے ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان کی شخصیت اور افکار پر غیر جانبدارانہ تحقیق کی جاتی تاہم امر واقعہ یہ ہے کہ ان کی شخصیت غیر متوازن تنقید اورمبالغہ آمیز تعریف کی کشمکش میں مبتلا مظلوم شخصیت ہے ۔ ان پر تنقید کرنے والوں کی نظر میں ان کی خوبیاں بھی خامیاں ہیں اور جو لوگ آج ان کی وراثتِ علمی کے امین ہیں انہوں نے بھی ان کے ساتھ کچھ کم زیادتی نہیں کی ۔ اپنے خیالات پر تمنائی مہر لگا کر طرح طرح کے رطب و یابس کو علامہ سے منسوب کردیا ۔ 

 

 

 

 

علّامہ تمنا کی علمی و فکری زندگی پر اظہارِ خیال سے قبل ان کی مختصر سوانح ذکر کرنا ضروری ہے ۔ 

 

 

 

علّامہ تمنّاکا تعلق ہندوستان کے مشہور خانوادئہ علم و طریقت سے تھا ۔ نسباً جعفری الزینبی تھے ۔ مختصر سلسلۂ نسب حسبِ ذیل ہے :

 

 

 

 

 

علامہ محی الدین حیات الحق تمنّا بن نذیر الحق فائز بن سفیر الحق سفیر بن ظہور الحق ظہور بن نور الحق تپاں پھلواروی ۔ 

 

 

اس سلسلہ نسب سے وابستہ یہ تمام افراد حامل علم و فضل تھے ۔ علامہ تمنا کے پردادا شاہ ظہور الحق پھلواروی بارہویں و تیرہویں صدی ہجری کے کبار فقہائے کرام میں سے تھے ۔ صحیحین کے حافظ تھے ۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی نے ان کے علم و فضل سے متاثر ہوکر انہیں سندِ حدیث مرحمت فرمائی تھی ۔ علّامہ اقبال ان کی ایک کتاب ” تسویلات الفلاسفة ” کے ازحد متلاشی تھے اور انہیں ” ہندی فلسفی ساکن پھلواری ” قرار دیتے تھے ۔شاہ ظہور الحق کی وفات ١٣٣٤ھ میں ہوئی ۔ علامہ تمنا کے والد اور دادا بھی اپنے عہد کے جید فضلاء میں سے تھے ۔ 

 

 

علامہ تمنّا ٣ شوال ١٣٠٥ھ / ١٤ جون ١٨٨٨ء کو پھلواری شریف میں پیدا ہوئے تھے ۔  زیادہ تر اخذِ علم اپنے والد سے کیا ۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد اوّلاً مدرسۂ حنیفیہ ، پٹنہ میں مدرس مقرر ہوئے ۔ یہاں ١٩١٠ء سے ١٩١٨ء تک عربی اور فارسی کے مدرّس رہے ۔ اس کے بعد تقریباًساڑھے تین سال ہندوستان کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد کے قائم کردہ ودّیا پیٹھ یونی ورسٹی ( بہار ) میں عربی فارسی پڑھاتے رہے ۔ ١٩٢١ء میں یہاں سے الگ ہوئے ، تو پھر کسی ادارے میں ملازمت نہیں کی ۔ انہوں شروع ہی سے قرآن کریم سے شغف اور دلچسپی تھی ۔ باوجود اس کے کہ ان کا تعلق خانوادئہ خانقاہی سے تھا مگر اوائل عمر ہی میں انہیں تصوف سے شدید بیزاری ہوئی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی چلی گئی ۔ علّامہ تمنا سلسلۂ آبائی کے اعتبار سے نظامِ تصوف سے منسلک تھے لیکن انہوں نے اپنے آباء و اجداد کے مسلک کو نہ صرف ترک کیا بلکہ اس پر شدید نکیر بھی کی ۔ مسلکِ آبائی سے انحراف کوئی معمولی بات نہیں ۔

 

 

١٩٤٨ء میں انہوں نے مشرقی پاکستان ہجرت کی ۔ وہ ہندوستان کے پہلے صدر راجندر پرشاد کے دوستوں میں سے تھے ۔ ہندوستان کے اکابر سیاسی زعماء سے ان کے روابط تھے ۔ وہ ہندوستان میں رہتے ہوئے اپنے لیے بڑے مواقع پیدا کرسکتے تھے لیکن چونکہ وہ مسلم لیگ کے حامی تھے اس لیے اپنے رجحانِ فکر کے عین مطابق انہوں نے ہندوستان سے ہجرت ضروری سمجھا ، چنانچہ اپنی آبائی جائیداد ہندوستان چھوڑ کر مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکہ تشریف لے آئے ۔ ہجرت سے متعلق ان کا نقطۂ نظریہ تھا کہ جن لوگوں نے اللہ ربّ العزت کی خاطر ہجرت کی ہے ان کے لیے حکومتِ پاکستان سے کسی جائیداد کا مطالبہ درست نہیں ۔ چنانچہ اپنے رجحانِ فکر کے باعث یہاں بھی انہوں نے ایثار و قربانی کی مثال پیش کرتے ہوئے اپنے لیے کسی قسم کی جائیداد کا کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ یہاں بھی انہوں نے بہت اچھا وقت گزارا ۔ علمی و فکری حلقوں میں انہیں شہرت و اہمیت حاصل ہوئی ۔ ١٩٧٢ء کے شروع میں انہیں حلق کے کینسر کا عارضہ لاحق ہوگیا ۔ علاج معالجہ بے سود رہا ، تکلیف میں کوئی کمی نہ ہوئی ۔ بالآخر اسی مرض میں ٢٧ نومبر ١٩٧٢ء / ٢٠ شوال ١٣٩٢ھ کو کراچی میں وفات پائی ۔

 

 

علامہ تمنا کی علمی و فکری ارتقاء کے مختلف مراحل ہیں ۔ انہوں نے تصوف کی گود میں آنکھ کھولی اور خانقاہی ماحول میں پرورش پائی ۔ پھلواری میں جو نظام تصوف رائج ہے وہ نہ خالص دیوبندی طرزِ فکر کا ہے اور نہ ہی بریلوی، بلکہ ایک طویل عرصے تک پھلواری کے خانقاہی ماحول میں تشیّع ، تفضیلیت کی شکل میں داخل رہی ۔ خود علامہ تمنا کے والد شاہ نذیر الحق فائز نے تعزیہ داری کے جواز میں ایک رسالہ لکھا ۔ شاہ نذیرالحق فائز کے حقیقی نانا قاضی سیّد مخدوم عالم پھلواروی تفضیلی تھے ۔ علامہ تمنا کے حقیقی ماموں مولانا حکیم منظور احمد پھلواروی بھی تفضیلی تھے ۔ اس نظام وماحول میں پرورش پانے کے باوجود علامہ تمنا کا تصوف اورتشیّع کی تردید میں کمربستہ ہونا کسی جرأت رندانہ کے بغیرممکن نہیں ۔ انہوں نے علم و تحقیق کے بعد جسے درست سمجھا اسے اختیار کیا ، محض مسلکِ آبائی کو اپنا دین نہیں سمجھا ۔

 

 

غالباً تشیّع کی تردید کا جذبہ حدّ اعتدال سے باہرہوگیا اور یہی وجہ رہی کہ انہیں ایسے تمام راوی ، جن میں تشیّع کی ذرا بو محسوس ہوتی ، اس کی تمام روایتوں کی تردید کو وہ ضروری خیال کرتے ۔ چنانچہ اگر گہری نگاہ سے دیکھا جائے تو علّامہ تمنا نے جن احادیث و آثار پر تنقیدیں کی ہیں ان میں بیشتر میں یہی جذبہ کار فرما نظر آئے گا ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ روّیہ درست ہے بلکہ ہمارا مقصد صرف موصوف کے نفسیاتی پہلو کو اُجاگر کرنا ہے ۔ 

 

 

موصوف پر انکارِ حدیث کا ایک خاص اور طویل دور گزرا ، ان کی تحریریں منکرینِ حدیث کے رَسائل میں شائع ہوئیں اور انہیں منکرینِ حدیث کے طبقے کا امام شمار کیا جانے لگا ۔ چنانچہ ان کی ایسی تحریریں پرویزی رَسائل و جرائد میں بکثرت شائع ہوئیں جن میں احادیث پرکڑی تنقیدیں ہوتی یا جن میں حدیث کی حجیت کو مشکوک ٹھہرایا جاتا ۔ بدقسمتی سے یہ دور طویل بھی رہا اور اس دور کے ” تمنّائی اجتہادات ” کی نشر و اشاعت کا فریضہ بھی منکرینِ حدیث حضرات ہی نے انجام دیا ۔

 

 

پھر ایک دور خاصا ” تلبیسانہ ” آیا ۔جس میں علامہ موصوف مطابقِ قرآن حدیثوں کو ہی درست قرار دینے لگے ۔ ہدایت کو صرف قرآن میں محصور ماننے لگے اور ایسی تمام احادیث قابلِ رد قرار پائیں جن کا مآخذ قرآن نہیں تھا ۔ غور کیا جائے تو یہ نظریہ کسی ” شرارت ” سے کم نہیں ۔ کوئی صحیح حدیث کبھی بھی قرآن کے مخالف نہیں ہوتی تاہم یہ الگ بات ہے کہ انسانی فہم کی کجی اسے قرآن حکیم کے خلاف سمجھ بیٹھے ۔ اس نظریے کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ حدیث کی بنیادی حیثیت باقی نہیں رہتی گویا رسول اللہ ۖ  تو قرآن کی تشریح نہیں کرسکتے لیکن ان متجددین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قرآن کریم کی جو چاہیں تشریح کریں ۔ علامہ تمنا پر یہ دور تقریباً ایک دَہائی پر محیط رہا ۔ 

 

 

پھر علامہ تمنا کا آخری دور شروع ہوتا ہے ۔ اس دور میں انہوں نے حدیث کی حجیت کو صاف اور صریح لفظوں میں تسلیم کرلیا ۔ گزشتہ دور میں اگر موصوف نے ” مثلہ و معہ ” کو روایتِ مکذوبہ قرار دے کر حدیث کا مذاق اڑایا تھا تو اس دور میں ، جو کہ گزشتہ دور کا ناسخ بھی ہے ، وحی متلو اور وحی غیر متلو کو قرآنی تقسیم قرار دے کر حدیث کو حجّت فی الدین تسلیم کیا ۔ فرماتے ہیں :

 

 

” وحی غیر متلو کو ” غیر قرآنی ” کہہ کر رد کرنا اور اس کے اتباع سے انکار کرنا در حقیقت قرآن مجید کا انکار ہے ۔ ” [وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

 

افسوس یہ عہد ، عہدِ آخر تھا ۔ گزشتہ کوتاہیوں کا جس قدر ازالہ ممکن تھا ، سوکیا۔ غلام احمد پرویز کے ” لغات القرآن ” پر تنقید لکھی جس کی چند قسطیں ” فاران ” کراچی میں شائع بھی ہوئیں تاہم اس تنقید کا مسودہ مکمل کتابی شکل میں شائع نہ ہو سکا ۔ اس دور کی عدم شہرت ہی نے علامہ تمنا کی شہرت کو متاثر بھی کیا اور داغدار بھی ۔ آج اہلِ علم کی اکثریت بھی انہیں پرویزی قسم کا منکر حدیث قرار دیتی ہے ۔ علامہ تمنا عمادی کی ایک بڑی بدقسمتی یہ رہی کہ ان کے افکار و نظریات کی نشر و اشاعت کا فریضہ جن لوگوں نے انجام دیا اور جو دے رہے ہیں وہ بیشتر ایسے افراد ہیں جو حدیث کے باب میں تشکیک زدہ ہیں ۔ ” تمنائی افکار و نظریات ” کی تریج و اشاعت میں بھی ان کی غرض اپنے ” افکارِ خاص ” کی ترویج و اشاعت ہوتی ہے ۔ اس بات کا احساس خود علّامہ تمنا کو بھی ہوگیا تھا ، چنانچہ فرماتے ہیں : 

 

 

” طلوعِ اسلام میں میرے وہی مضامین چھپتے رہے جو ادارہ طلوعِ اسلام کے مسلک کے موئد تھے اور جن سے ادارے کو ذرا سا بھی اختلاف ہوا وہ مضامین شائع نہ ہوئے چنانچہ بعض واپس شدہ مضامین اب تک میرے پاس موجود ہیں طلوعِ اسلام سے تعلقات پیدا ہونے کے چند برس کے بعد ہی سے مجھ کو اس کے مسلک سے اختلاف ہوا تو میںنے کسی اور رسالے میں اپنے اختلافی مضامین شائع کرانے کے بجائے نجی طور پر مراسلت شروع کی اور اپنے اختلاف سے مطلع کرتا رہا کیونکہ اس طور پر افہام وتفہیم سے اصلاح کی توقع زیادہ ہوتی ہے ، بہ نسبت اس کے کہ رسائل و جرائد میں ردّ و قدح کا ہنگامہ برپا کیا جائے اس لیے کہ ایسی صورت میں مناظرے اور ضد کی نوعیت پیدا ہوجانے کا قوی امکان ہوتا ہے ، چنانچہ بہت سے مسائل پر نجی خطوط کے ذریعہ مسلسل افہام و تفہیم کرتا رہا اور یہ صورت حال امسال [١٩٧١ئ] تک جاری رہی ۔ ”

[وحي  متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

یہ ٹھیک ہے کہ ایک عرصے تک خود علامہ تمنا بھی منکرینِ حدیث کے ہمنوا تھے لیکن جب انہیں اس فتنے کا ادراک ہوا تو یہ ادراک بھی پورے احساس و شعور کے ساتھ تھا ۔ فرماتے ہیں :

 

 

”ادارہ بلاغ القرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ رسول اللہ ۖ پر صرف قرآن کریم اترا ، قرآن کریم کے علاوہ کسی قسم کی وحی بھی آنحضرت ۖ کی طرف اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں فرمائی ۔ سنّت اگر کوئی چیز واجب الاتباع ہوتی تو قرآن کی طرح رسول کریم ۖ ضرور اس کو بھی لکھوا کہ کتابی صورت میں قرآن کریم کے ساتھ امت کو دے جاتے ۔ اس لیے سنّت کہاں ہے ؟ کس کتاب میں ہے ؟ کوئی ایسی کتاب دکھائیے جس میںتمام فرقوں کی متفق علیہ سنت ہو جس کے کسی جز سے کسی فرقے کو اختلاف نہ ہو ، اور طلوعِ اسلام کا مؤقف بھی یہی ہے ۔ ان کے اس سوال کا جواب تو میرے رسالہ ” السنة” میں ہے یہاں اعادہ بے فائدہ ہے مگر یہاں مجھ کو صرف یہ دکھانا ہے کہ صرف قرآن کریم کو قبول کرنے اور باقی سب چیزوں کو روایت کہہ کر ٹھکراتے رہنے سے ان کا اصل مقصد کیا ہے ؟”

”اصل مقصد: قرآن مجید کو قبول کرلینے اور باقی سارے دینی لٹریچر کو ردی قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ قرآنی آیتوں کو توڑ مروڑ کر جو مفہوم جس آیت سے چاہیں گے نکال لیں گے ، جس لفظ کے چاہیں گے معنی حقیقی کی جگہ مجازی لے لیں گے، جس واقعے کو چاہیں گے خواب کا واقعہ کہہ دیں گے، جس عبارت میں ضمیر جدھر چاہیں گے پھیر دیں گے ، جس اسم اشارہ کا جس کو چاہیں گے مشار الیہ قرار دیں گے ، جس لفظ کے متعدد معانی لغت والوں نے لکھے ہیں ان میں سے جو معنیٰ چاہیں گے حسبِ دلخواہ مرادلے لیں گے، اس طرح قرآن مجید کی آیتوں کو اپنے منشا اور اپنی اغراض کے تابع رکھنے کی پوری آزادی حاصل رہے گی ۔ دوسروں نے کیا لکھا ہے اس کو دیکھنے کی ضرورت نہیں اس لیے کہ دوسرے تو سب کسی نہ کسی فرقے کے ہیں اور فرقہ وارانہ روایات کے پابند ہیں اور یہاں روایات کے اتباع کو گمراہی بلکہ شرک سمجھتے ہیں اس لیے ان ” مشرکین ” کی تفسیروں اور ترجموں کو دیکھنا بھی گناہ ہے ۔ ہاں ! ان میں سے اگر کسی کا کوئی قول ایسا مل جائے جس سے اپنے خیال کو تقویت ہو تو البتہ اس کو پیش کریں گے بلکہ ضعیف سے ضعیف روایت اور کسی منافق راوی کا قول بھی اپنے موافق مل جائے گا تو اس کو اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کریں گے اور کہیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ( وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰن )ہم نے ضرور اس قرآن کو آسان کردیا ہے تو پھر انسان کے سمجھنے میں دشواری کیوں ہوگی ؟ ہم جو مطلب جس آیت کا سمجھے ہیں صحیح ہی سمجھے ہیں ۔ آسان بات کے سمجھنے میں غلطی نہیں ہوسکتی ۔ مگر قرآنی آیات کو سمجھنے کی کوشش کب کی جاتی ہے ؟ ساری کوششیں تو آیات سے اپنے موافق مفہوم پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہیں اس لیے ضرورت ہوئی کہ اس فرقے کی طرف خصوصیت سے توجہ کی جائے ۔ خصوصاً اس لیے دیکھ رہا ہوں کہ کوئی صاحبِ علم اس فرقے کی طرف پوری طرح سے متوجہ نہیں ہو رہا ۔ صرف ” فتنہ انکارِ حدیث ” کہہ دینے یا بعض رسالوں سے اس فتنہ کا انسداد نہیں ہو سکتا ۔” [ وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

رسول اور احادیث رسول کی حیثیت و اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

 

 

”جس پر وحی اتری ہے وہی توا س وحی کا مخاطب اولیٰ ہے چاہے وہ وحی کتابی ہو یا غیر کتابی یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ خود رسول نے اس وحی کا کیا مفہوم سمجھا تھا اور احکام وحی کی کس طرح تعمیل فرمائی تھی رسول صرف مبلغ کتاب بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے بلکہ معلّم اور مبینِ کتاب بھی تھے اس لیے تعلیم و تبیین رسول سے واقفیت حاصل کرنے کی ضرورت نہ سمجھنا اور بطور خود اپنی خواہش کے مطابق آیات قرآنی کی تفسیرکرنا سخت گمراہی اور بدترین الحاد ہے ۔” [وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

وحی متلو و غیر متلو کی تقسیم کو قرآنی تقسیم قرار دیتے ہوئے صاف لفظوں میں فرماتے ہیں : 

 

”یہ تقسیم علماء سلف نے اپنی طرف سے نہیں کی خود قرآن مجید نے تقسیم بیان فرمادی ہے ۔ سورة الکہف کی آیت ٢٧ پڑھیے :

 

 

 

( وَاتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ )  

 

 

 

” اورتم تلاوت کرو اس وحی کی جو تمہارے رب کی کتاب سے تمہاری طرف کی گئی ہے ۔”

 

 

 


 اس آیت کریمہ میں ( مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ ) کی قید بتارہی ہے کہ تلاوت وحی کتاب ہی کی مامور بھا ہے اور اس قید نے یہ بتادیا کہ کتاب سے باہر بھی بعض وحی ہوئی ہے جس طرح اگلے انبیاء علیہم السلام کی طرف کتابی و غیرکتابی دونوں طرح کی وحی آتی ہے ۔ اس لیے رسول اللہ ۖنے کاتبین وحی سے صرف کتابی وحی لکھوائی تاکہ اس کی تلاوت ہو غیر کتابی وحی کی تلاوت کا حکم نہ تھا ۔ اس لیے قرآن کی طرح باضابطہ اس کو نہیں لکھوایا ۔ کتابی وحی میں الفاظ وحی ہوتے جن کا محفوظ رکھنا ضروری تھا غیر کتابی وحی میں مفہوم کی وحی ہوتی تھی اوراگر مفہوم فرشتے کو القا ہوتا تھا تو الفاظ فرشتے کے ہوتے تھے جو وہ رسول تک پہونچاتا اور اگرمفہوم رسول پر بیداری میں یا خواب میںا لقاء ہوتا تھا تو رسول اپنے الفاظ میں بیان فرماتے تھے ۔مگر مفہوم ایسی احکامی وحیوں کے بعد کو کہیں نہ کہیں قرآن مجید میں کسی نہ کسی طرح ضرور بیان فرمادیئے جاتے تھے تاکہ وہ مفہوم محفوظ رہ جائے اسی لیے دیکھئے دوسری جگہ بھی یونہی فرمایا ہے :

 

 

 


( اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ط اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَ الْمُنْکَرِ ط وَ لَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ ط وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ ) 

 

 

 


” اس کتاب سے جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کرو اورنماز قائم کرو بے شک نماز بے حیائی کی باتوں اورناپسندیدہ کاموں سے روک دیتی ہے اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرو گے ۔” ( عنکبوت : ٤٥)

 

 

 

اس آیت کریمہ میں دو کاموں کا حکم دیا گیا ہے پہلا حکم  ( اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ ) کا ہے یعنی حکم دیا جارہا ہے کہ اس کتاب سے جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے اس کی تلاوت کیا کرو ۔ جو شخص کچھ بھی آخرت کی باز پرس سے ڈرتا ہو اوریقین رکھتا ہو کہ اگر قرآنی آیات کے مفہوم صحیح کے اقرار و انکار میں ہٹ دھرمی سے کام لیں گے تو قیامت کے دن ہم سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ میں ایسے مومن سے پوچھتا ہوں کہ ( مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ) میں جو قید (مِنَ الْکِتٰبِ ) کی ہے صاف بتارہی ہے یا نہیں کہ کتاب والی وحی کے علاوہ بھی وحی ضرور آتی تھی ورنہ من الکتاب کی قید محض فضول ٹھہرے گی اور قرآن مجید میں کوئی لفظ بھی بے سود نہیں لایا گیا ہے اور چونکہ صرف کتابی ہی وحی کی تلاوت کا حکم ہے اس لیے کتابی ہی وحی متلو ہوئی اور غیر کتابی وحی غیر متلو ہوئی قرآن مجید نے خود وحی کی دو قسم متلو و غیر متلو بتادی یا نہیں ؟ [وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

 

اتباع قرآنی وحی کی بھی ہوگی اور غیر قرآنی وحی کی بھی ۔ علامہ تمنا اس امر کو قرآنِ کریم کی روشنی میں واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

 

 

”اتباع چونکہ ہر قسم کی وحی کا فرض ہے اس لیے جہاں اتباع کا حکم ہے وہاں عام وحی کے اتباع کا حکم یا ذکر ہے ان آیتوں میں ( من الکتاب ) کی قید نہیں لگائی گئی ۔ تو اب اتباعِ وحی کے ذکر یا حکم کی آیات کریمہ ایمان و دیانت کی نظر سے خدا ترسی کے جذبے کے ماتحت ملاحظہ فرمائیے۔

 

 

 

 (١) ( قُل لاَّ أَقُولُ لَکُمْ عِندِیْ خَزَآئِنُ اللّہِ وَلا أَعْلَمُ الْغَیْْبَ وَلا أَقُولُ لَکُمْ ِنِّیْ مَلَک ِنْ أَتَّبِعُ ِلاَّ مَا یُوحَی ِلَیَّ )]انعام :٥٠[

 

 

 


” کہہ دو ( اے رسول ) کہ نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے ( دیئے ہوئے ) خزانے ہیں اور نہ میں غیب ( کی باتیں ) جانتا ہوں اور نہ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔ میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جس ( بات ) کی وحی میری طرف کی جاتی ہے ۔ ”

 

 

 


(٢) (اتَّبِعْ مَا أُوحِیَ ِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ لا ِلَہَ ِلاَّ ہُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ)] انعام : ١٠٧[

 

 

 


” (اے رسول ) تم اتباع کرو اس ( بات ) کا جس کی وحی تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے کی گئی اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور مشرکین کی طرف سے منہ پھیر لو ( ان کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کرو )۔”

 

 

 


(٣) ( قُلْ ِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا یِوحَی ِلَیَّ مِن رَّبِّیْ )  ] اعراف:٢٠٣[ 

 

 

 

” کہہ دو ( اے رسول ) کہ میں اتباع صرف اسی کا کرتا ہوں جس کی وحی میری طرف میرے رب کی طرف سے کی جاتی ہے ۔”

 

 

 

 

(٤)  ( وَاتَّبِعْ مَا یُوحَی ِلَیْْکَ وَاصْبِرْ حَتَّیَ یَحْکُمَ اللّٰہُ وَہُوَ خَیْْرُ الْحَاکِمِیْنَ ) 

 

 

 

 

” جو وحی ( اے رسول ) تمہاری طرف کی جائے تم اس کا اتباع کرو اور صبر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔” ( سورئہ یونس کی آخری آیت )

 

 

 

 

(٥)  ( وَاتَّبِعْ مَا یُوحَی ِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ ِنَّ اللَّہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْراً )

 

 

 

 

” ( اے رسول ) تمہارے رب کی طرف سے جو وحی کی جائے اس کا اتباع کرتے رہو تم لوگ جو کچھ کروگے اللہ تعالیٰ بے شک اس سے باخبر ہے ۔”]احزاب :٢[ 

 

 

 

 

ان پانچ آیتوں میں اتباعِ وحی کا حکم ہے اور یہ حکم عام وحی سے متعلق ہے کہیں بھی کتاب کی قید نہیں ۔”[ وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

 

 

منکرینِ حدیث کی روش پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 

 

 

 

”وحی غیر متلو جس کو مدعیانِ قرآن فہمی وحی تو تسلیم ہی نہیں کرتے ، ” غیر قرآنی ” باتیں کہہ کر رد کردیتے ہیں ان میں بہت سی تو ایسی ہیں جن کا ذکر کسی نہ کسی طرح قرآن مجید میں کردیا گیا ہے مگر اس فرقے والوں کو ان آیات سے کیا بحث ؟ ان کو ایسی آیتوں کی تلاش رہتی ہے جن سے وہ آج کل کے الحاد زدہ نوجوانوں کو مطمئن کرسکیں اور دنیا میں انسانوں کو خودساختہ نظام معیشت قائم کرسکیں اور بزعم خود سرمایہ داری کا استیصال کرسکیں ۔ ڈارون کی تھیوری کو قرآنی آیتوں سے ثابت کرسکیں ۔ غرض ان کا حاصل یہ ہے :

 

 

 

 

( ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا )

 

 

 

 

” ان کی ساری جدو جہد دنیاوی ہی زندگی کے مفاد میں کھو گئی ( خرچ ہوگئی ہے ) اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم بہت اچھا کام کر رہے ہیں ۔” ( کہف : ١٠٤ )

 

 

 

 

اس لیے وہ کبھی اس پر غور ہی نہیں کرتے کہ ( اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ )سے نمازِ جمعہ کا ثبوت تو مل رہا ہے مگر نمازِ جمعہ کب فرض ہوئی تھی ؟ اور کس آیت کے ذریعے فرض ہوئی تھی ؟

 

 

 

 

پھر” نداء للصلوٰة ” یعنی اذان کا ذکر قرآن مجید میں کئی جگہ ہے اذان کا حکم اور اذان کے کلمات کی تعلیم کس آیت سے ثابت ہوتی ہے ؟ ان باتوں پر غور کرنے کا ان کے پاس وقت کہاں ؟ ا س لیے یہ ان وحی ہائے غیر متلو سے بالکل بے خبر ہیں جو قرآ ن مجیدمیں صراحتاً مذکور نہیں اور جو قرآن مجید میں صراحتہً مذکور نہیں ان کو غیر قرآنی اور روایتی کہہ کر ٹھکرا دیتے ہیں حالانکہ قرآن مجید ان کی صداقت کی گواہی دے رہا ہے ۔ ”[ وحی متلو اور وحی غیر متلو قرآنی تقسیم ہے از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ماہنامہ ” فاران ” ( کراچی ) جنوری ١٩٧١ئ]

 

 

 

علامہ تمنا کے نزدیک ہدایت کے تین ذریعے ہیں اور تینوں میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ فرماتے ہیں :

 

 

”اللہ کی کتاب اور محمد رسول اللہ ( ۖ ) و الذین معہ یہی تین ذریعے ہیں ہدایت کے ۔ یہ تینوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے اور نہ کوئی ان تینوں میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑ کر راہِ ہدایت پا سکتا ہے ۔ ” [ کتاب اللہ ، محمد رسول اللہ و الذین معہ از علّامہ تمنا عمادی مطبوعہ ” نقوش ” رسول نمبر : ١/٣٥٨۔دسمبر ١٩٨٢ء ]

اب علّامہ تمنا کے ایک مکتوب گرامی سے اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ یہ مکتوب گرامی راقم کو اپنے والد محترم محمد احسن اللہ عظیم آبادی ( ١٩٢١ء -١٩٩٥ء ) کے ذخیرئہ کتب سے ملا تھا ۔ راقم کے والد علامہ تمنا کے قریبی عزیز اور تلمیذِ رشید تھے ۔خط میں مکتوب الیہ کا نام درج نہیں تاہم اندازہ ہوتا ہے کہ مکتوب الیہ ” کفایتِ قرآن” کے مدعی اور ” منکرینِ حدیث ” ہمنوا ہی تھے ۔ علامہ تمنا انہیں لکھتے ہیں :

 

 

 

” کفایتِ قرآن کے لفظ سے اپنے نفس کو بہت دھوکہ دیا جا سکتا ہے اوردوسروں کو بھی ۔ مولوی صبیح وکیل بہاری مرحوم جو میرے شاگردبھی تھے صرف چار مہینے مجھ سے میری تصنیف کتاب جواہر الصرف و روح النحو میں مجھ سے عربی صرف و نحو پڑھی تھی ۔ اس کے بعد لگے قرآن مجید کا بطور خود مطالعہ کرنے چند برسوں کے مطالعہ کے بعد مجتہد بن گئے اور کتا ، بلی ، چوہا ، چھچھوندر کو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کے ذبح کرکے کھانے لگے ۔ اور غسل جنابت کے منکر ہوگئے ۔……. تہجد کو فرض سمجھتے تھے ۔ آپ ایک وقت کو تین وقت بتاتے ہیں وہ ایک وقت نماز پڑھا کر چھ وقت کی نماز فرض قرار دیتے تھے مگر بے اعراب دی ہوئی عربی عبارت صحیح طور سے پڑھ نہیں سکتے تھے نہ دو سطر صحیح عربی لکھ سکتے تھے نہ پانچ منٹ تک کسی موضوع پر صحیح عربی میں بول سکتے تھے ۔ اور یہی کفایت قرآن کی سند پیش کرتے تھے ۔ امت مسلمہ امرتسر کے جلسے میں ایک بار مدعو ہوا تھا اور امرتسر پہونچ کر مولوی احمد الدین مرحوم سے بھی ملا تھا ۔ بھائی مولانا عرشی صاحب سے پہلے پہل وہیں ملاقات ہوئی تھی اور کئی مدعیان کفایت قرآن سے ملاقات ہوئی جن میں مولوی احمد الدین مرحوم کے سوا کسی نئے ملنے والے میں اس کی مطلق صلاحیت نہیں دیکھی کہ وہ علمی بحث کو سمجھ بھی سکتے ۔ مولانا عرشی سے تو رسالہ البیان کی وجہ سے دیرینہ تعلقات تھے ۔ ان کے سوا دیرینہ تعلقات والے بھی کچھ ویسے ہی نظر آئے ۔ مولانا ثناء اللہ اہل حدیث مرحوم سے بھی ملاقات ہوئی انہوں نے اپنی تفسیر القرآن بکلام الرحمان مجھ کو تحفةً دی جو میرے پاس موجود ہے ۔ تو کتاب قرآن پر تو ایمان ہے مگر یہ ویسا ہی ہے کہ بعض لوگوں نے کہا تھا کہ (  ِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْہِمُ الْمَلَائِکَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا)     ( حٰم :٣٠) اور پھر ( اَلَیْسَ اللّٰہَ بِکَافٍ عَبْدَہ ) کہہ کر صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کو کافی سمجھتے تھے اور رسول اور ملائکہ پر ایمان لانے کو شرک فی الایمان کہتے تھے اور ( اَ لَیْسَ اللّٰہَ بِکَافٍ عَبْدَہ ) کے خلاف سمجھتے تھے ۔ ویسے ہی کفایت قرآن کو دعویٰ لے کر معلم کتاب کی تفہیم و تبیین سے استغنا بھی ہے ۔ بہر حال یہ بحث مستقل طور سے زیر غور لانے کی مستحق ہے سرسری طور سے خطوط میں چند سطری لکھ دینے سے کام نہیں چل سکتا ۔ ”

 

مولانا افتخار احمد بلخی ، جو علامہ تمنا کے تلمیذ اور انکارِ حدیث کی تردید میں لکھی گئی ایک مشہور کتاب کے مصنف بھی ہیں ، علامہ تمنا عمادی سے متعلق فرماتے ہیں :

 

 

”میں اپنے ذاتی علم کی بنا پر کہتا ہوں کہ مولانا انکارِ حدیث کو ایک ایسی ضلالت تصور کرتے ہیں ، جس کی سرحد کفر سے ملتی ہے ، یہ میرا ذاتی علم ہی نہیں بلکہ مولانا کی شائع شدہ تحریریں بھی اس پر شاہد ہیں ۔”[فتنہ انکارِ حدیث کا منظر و پس منظر: [١/٥٥ – ٦٥]]

یہ مضمون جریدہ "الواقعۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، -2012 اپریل،- سے ماخوذ ہے۔

 

 

عبرانی زبان


الواقعۃ شمارہ #1

پروفیسر محمد طارق

عبرانی زبان



عبرانی Hebrew اور یسوانی زبانیں عربی زبان کی قریبی رشتہ دار ہیں ۔ برصغیر میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ عبرانی و یسوانی زبانیں معدوم ہوچکی ہیں ، لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے ۔


عبرانی ، یسوانی اور لاطینی زبانیں اس اعتبار سے معدوم ہوچکی ہیں کہ ان کو دیگر زبانوں کی طرح بولا نہیں جاتا ہے لیکن ان کا سرمایۂ ادب Litrature موجود ہے اور یورپ میں باقاعدہ
ان کی تعلیم یونی ورسٹیز میں دی جاتی ہے ۔ اسی طرح انگریزی کی اصل انگلو سقسن Anglo-Sexon بھی اپنے ادب کے ساتھ موجود ہے ۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے قدیم ترکی اور عربی کو تعلیم کے اعتبار سے ترک کردیا ہے مگر یورپ نے اپنے تمام سرمایہ ادب کو محفوظ رکھا ہے ۔ 

عبرانی زبان عربی سے کافی ملتی ہے ۔ اسرائیل میں اس کی تحقیق میں کافی کام ہوا ہے ۔ عبرانی کے ہر لفظ کو ایک عدد دیا گیا ہے جو ایک سائنسی طریقہ ہے ۔ اسی طرح یسوانی زبان شام کے چند علاقوں میں بولی جاتی ہے ۔ 

عبرانی زبان میں ٢٢ حرف ہیں ۔ یہ زبان دائیں سے بائیں جانب لکھی جاتی ہے ۔ اس کا شمار دنیا کی قدیم زبانوں میں ہوتا ہے ۔ مذہبی لحاظ سے بھی یہ زبان انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ عبرانی زبان مختلف زمانوں میں رسم الخط کی تبدیلی کے مرحلے سے بھی گزری ہے ۔ اس زبان کو اسرائیل میں قانونی حیثیت حاصل ہے ۔ 

عبرانی کا حرف اوّل الف ریاضی میں بھی استعمال کیا گیا ہے ۔ عبرانی تین رسوم الخط میں لکھی جاتی ہے :

(١) قدیم عبرانی خط
(٢) سامی خط
(٣) عربی خط

قدیم عبرانی خط کو متروک کردیا گیا ہے اور اب سامی خط اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے ۔ عربی خط کو ترک کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب عبرانی کو بآسانی سیکھ سکتے تھے غالباً اہل عرب کو عبرانی سے دور رکھنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ عربی رسم الخط کو عبرانی کے لیے استعمال کرکے علماء میں اس کی تعلیم و تعلم کے دروازے کھول دیں ۔ نیز یونانی کو عربی رسم الخط میں لکھ کر یونانی زبان کے حصول بھی عربی داں حضرات کے لیے آسان کر سکتے ہیں ۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ علماء بلاواسطہ یہود و نصاریٰ کے اصل مآخذ تک رَسائی کرسکیں گے ۔ یہود و نصاریٰ کی مذہبی زبان میں معتبر ترین ذریعے سے اسلام کا پیغام پہنچاسکیں گے ۔ 

بائبل کے جو بھی تراجم انگریزی ، اردو ، فرانسیسی ، فارسی وغیرہا میں پائے جاتے ہیں ۔ ان کا مآخذ عبرانی و یونانی بائبل ہیں ۔ اگر کسی اردو یا انگریزی ترجمہ اور عبرانی یا یونانی متن میں مطابقت نہ ہو تو علمائے یہود و نصاریٰ ترجمہ کو اصل متن کے مقابلہ میں مسترد کردیتے ہیں ۔ 

اب تک مسلمان علماء بالخصوص برصغیر پاک و ہند کے علماء یونانی و عبرانی تراجم سے بحث کرتے رہے ہیں ۔ صرف ”البشریٰ ” کے فاضل مصنف مولانا عنایت رسول چڑیاکوٹی نے اصل عبرانی متن سے کام لیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کتاب تحقیقی اعتبار سے لازوال شہرت ملی ۔ 

موجودہ دور میں جبکہ نصرانی علماء قرآن کے عربی متن کا براہِ راست مطالعہ کرنے لگے ہیں بلکہ قرآنِ پاک کی صرفی و نحوی تراکیب پر اعتراض کرنے کی ناپاک جسارت بھی کرنے لگے تو ہمارے علماء پر لازم ہے کہ وہ بھی یونانی و عبرانی بائبل کا براہِ راست مطالعہ کریں ۔

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، -2012 اپریل،- سے ماخوذ ہے۔

ہزار سال کے قدیم ترین وثائق قرآن کی روشنی میں


الواقعۃ شمارہ #1

مولانا سیّد مناظر احسن گیلانی

ہزار سال کے قدیم ترین وثائق قرآن کی روشنی میں


تمام دینی نوشتے جو خالق کی طرف منسوب تھے ان سب کو ”اساطیر الاوّلین”( بڑھیوں کی کہانیاں) یا میتھالوجی ٹھہرا کر بصدِ بے باکی و گستاخی یورپ نے علم کی جدید الحادی نشاء ة میں اس دعوے کی بدبو سے سارے عالم کو متعفن بنا رکھا تھاکہ مذہب اور دین کے سلسلے میں بنی آدم کا ابتدائی دین شرک تھا ، سمجھایا جاتا تھا کہ کم عقلی کی وجہ سے ہر ایسی چیز جس سے ہیبت و دہشت کے آثار پیدا ہوتے تھے یا جنہیں دیکھ کر لوگ اچنبھے میں مبتلا ہوجاتے تھے
فطرت کے ان ہی مناظر کے سامنے آدم کی ناتراشیدہ عقل نے سر جھکادیا ۔بجلی ، بادل ، سورج ، چاند ، سانپ ، ہاتھی ، سانڈ وغیرہ چیزوں کی پوجا کے متعلق ہر بڑی چھوٹی کتاب خواہ کسی فن اور علم میں لکھی گئی ہو اپنی اس لحافی [یہ ایک شخصی اصطلاح ہے مطلب یہ ہے کہ ماضی کے ایسے حوادث و واقعات جن کے متعلق صحیح مواد ہمارے پاس نہ ہو۔ جہل کا اقرار و اعتراف بھی صحیح علمی طریقہ ان امور کے متعلق ہوسکتا ہے مگر وسوسہ کی خارشت ]سرشت[سے مجبور ہوکر بعض لوگ کچھ نہ کچھ رائے ان کے متعلق قائم کرلینا ضروری سمجھتے ہیں ورنہ اپنی ذہنی کھجلاہٹ سے سکون کی کوئی صورت ان کی سمجھ میں نہیں آتی ۔آسان راستہ اس سلسلے میں بھی ہے کہ ” لحاف اوڑھ کر پلنگ پردراز ہوجائے ”اور وسواسی تُک بندیوں سے کام لے کر کوئی رائے قائم کرلے ۔ ماضی ہی نہیں بلکہ مستقبل کے متعلق بھی نتائج اور آراء جن کا چرچا عوام میں پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ تحلیل و تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر لحافیاتی مقدمات ہی سے ان نتائج و آراء کے استنباط میں کام لیا گیا ہے ۔] توجیہ کے تذکرے کو مغربی و مستغرب مصنفین نے ایک قسم کا پیشہ بنالیا تھا اور شاید کچھ لوگ اب تک بنائے ہوئے ہیں۔

باور کرایا جاتا تھا کہ مشرک انسان عقلی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اپنے معبودوں کو بھی بدلتا چلا گیا تآنکہ آخری نقطہ جہاں تک پرانی دنیا کی عقل پہنچ سکی تھی ”خدائے واحد ” کا تخیّل تھا ، حاصل یہی ہوا کہ توحید عہدِ قدیم کے عقلی ارتقاء کا نتیجہ ہے اور اب جدید دور میں انسانی عقل ترقی کے جس زینے پر پہنچ چکی ہے اس نے اس ” ایک خدا” کی ضرورت کے خیال کو بھی ختم کردیا ۔ اس آخری حاصل کو سطروں میں تو جگہ نہیں دی جاتی تھی لیکن جو طریقہ بیان اس مسئلہ میں اختیار کیا گیا تھا اور جس معصومانہ سادگی اور خالص علمی لب و لہجہ میں شرک کے پیٹ سے توحید کو نکالنے کی کوشش کی جاتی تھی اس کا لازمی نتیجہ یہی تھا کہ شعوری یا غیرشعوری طور پر آدمی کا ذہن ” انکارِ خدا” کے نقطہ پر پھسل کر خود پہنچ جائے گویا بجائے ” سطور” کے دل کی بات ” بین السطور” میں بڑے احتیاط کے ساتھ کھپانے والے کھپادیا کرتے تھے ۔ انیسویں صدی کے عام ادبیات میں اس عجیب و غریب مسئلہ کو کچھ ایسے شاطرانہ طریقہ سے سان دیا گیا تھا کہ بڑے بڑے دینداروں ، مذہب کے علمبرداروں تک کوبھی اسٹیج ہی نہیں بلکہ ممبروں سے بھی دیکھا جاتا تھا کہ ”دین کی تشریح ” اسی راہ سے کررہے ہیں حیرت ہوتی تھی کہ آدم و حوّا کا قصہ جو کم از کم سامی مذاہب کا ایک عام مشترک قصّہ تھا اس قصے میں انسانِ اوّل حضرت آدم علیہ السّلام کا سامی مذاہب کی تمام کتابوں میں جن خصوصیتوں کے ساتھ تذکرہ کیا گیا ہے ان کو مانتے ہوئے لوگوں کے دل میں یہ بات کیسے جاتی تھی کہ ہمارے باپ دادوں نے شرک سے شروع کرکے توحید کو اپنا دین بنایا ہے جس آدم اور حوّا کے حالات سے ہمیں آسمانی کتابوں میں روشناس کرایا گیا ہے وہ اتنے گئے گزرے نہیں معلوم ہوتے کہ سانپ، بچھو ، آگ اور پانی ۔ بجلی اور بادل جیسی چیزوں کو پوجتے ہوں۔

بہر حال یہ قصہ تو بڑا طویل ہے بلکہ اب تو ایک حد تک پارینہ بھی ہو چکا ہے ، خود یورپ کے علمی طبقوں میں اس ” لحافی نظریہ ”کاکافی مضحکہ اڑایاجا چکا ہے حال ہی کی ایک مطبوعہ کتاب "The Bible come Alive” [یہ کتاب سر چارلس مارسٹن ( ١٨٦٧ء -١٩٤٦ء ) کی تصنیف ہے ۔ پہلی مرتبہ ١٩٣٧ء میں شائع ہوئی ۔ (ادارہ الواقعة)] میں مسٹر مارسٹن نے اس لغو دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہ توحید کا عقیدہ شرک سے پیدا ہوا ہے قدیم اقوام کی تاریخ کے مستند عالم مسٹر لانگڈن کے حوالے سے ان کے یہ فقرے نقل کیے ہیں کہ 
”مذہب کی تاریخ کی یہ غلط تعبیر ہے کہ شرک ادنیٰ قسم کی تہذیب سے تعلق رکھتا ہے۔”
 بلکہ اس کے بَر خلاف واقعہ یہ ہے کہ 
”نسلِ انسانی کی قدیم ترین مذہب کی تاریخ توحید سے آخری درجہ تک کے شرک اور بد روحوں کے اعتقاد کی طرف ایک تیز رو پرواز ہے ۔”
لانگڈن نے مختلف مشرکانہ تمدن و تہذیب کا حوالہ دیتے ہوئے آخر میں لکھا ہے کہ 
” درحقیقت شرک بہترین قسم کی تہذیب اور تمدن کی پیداوار ہے ۔”
ان کا خیال ہے کہ شرک سے توحید نہیں پیدا ہوئی بلکہ 
”توحید ہی سے شرک نے جنم لیا اور توحیدہی کی اسی شرح و توجیہ سے شرک پیدا ہوا جو غلط طریقہ پر کی گئی ۔”]دیکھو کتاب مذکور : ١٥٢[
دور کیوں جائیے خود مسلمانوں کی تاریخ ہی لانگڈن بے چارے کے دعوے کی تصدیق کے لیے کافی ہے وہ سارے شِرکی کاروبار جن کا رواج مختلف شکلوں میں مسلمانوں میں وقتاً فوقتاً ہوتا رہا کیا یہ سب کچھ اسی زمانے کی یادگار نہیں ہے جب تمدن و تہذیب کی آخری ارتقائی مینار پر چڑھ کر مسلمان دنیا کی ساری قوموں کے مقابلہ میں سر بلند ہوچکے تھے ۔

بہر حال اس وقت اس خاص مسئلہ پر بحث کرنے کے لیے میں نے قلم نہیں اٹھایا ہے یہ تو ایک تمہیدی گفتگو تھی اس مختصر سے مضمون میں جس چیز کو پیش کرنا چاہتا ہوں ۔وہ چند دلچسپ قدیم تاریخی وثائق ہیں ، جن کا عنوان میں ذکر کیا گیا ہے ۔
مصری تمدن و تہذیب کہیے یا فرعونی ہیکٹری اسی سے اپنے شجرئہ نسب کو ملاتے ہوئے یورپ کے عام مورخین اگرچہ مصر ہی کو تہذیب کا قدیم گہوارہ قرار دیتے ہیں لیکن بائبل ہی نہیں بلکہ قرآن نے بھی جس ترتیب کے ساتھ پیغمبروں کا اور ان قوموں کا ذکرکیا ہے جن کی طرف وہ بھیجے گئے تھے اس ترتیب کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو انسانیت کی تاریخ کا وہ دور جس کی تعبیر دجنیلی تمدن سے ہم کرسکتے ہیں یعنی دجلہ و فرات کے درمیانی عِلاقے سے شروع ہوکر عرب کے جنوب میں عادی تمدن، اور شمال کے ثمودی تمدن ان کے سوا اسی کے آس پاس کے علاقوں سے گزرتے ہوئے بالآخرش قدیم عہد کا اختتام دریائے نیل کے کنارے اس طوفانی جوش و خروش پر ہوا جسے فراعنہ کے اہرامی تمدن کا نام دیا جاسکتا ہے دجلہ اور نیل کے درمیان کا یہی علاقہ انسانی کمالات کی نشو و نما اور ان کے آثارو نتائج کے ظہور کی آماجگاہ زمانۂ دراز تک بنارہا ہے اگرچہ قوموں پر پیرانہ سالی کا جو شوق اس زمانہ میں عموماً مسلّط ہے ہرقوم یہی چاہتی ہے کہ دنیا کی قوموں میں ماننے والے اسی کو سب سے زیادہ بوڑھی قوم مان لیں۔ یہ اور بات ہے لیکن جن حقائق و واقعات تک تاریخ کی رَسائی اب تک ممکن ہوسکی ہے ان سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے اور جس خطے میں بھی تہذیبی اور تمدنی ترقیاں رونما ہوئی ہیں ۔ ان سب کا زمانہ اسی قدیم دنیا کے بعد ہے ۔

بہر حال اور کچھ مانا جائے یا نہ ماناجائے ۔لیکن مصریوں کے تمدن کی غیر معمولی قدامت کا انکار نہیں کیا جاسکتا یہی ایک ایسی سرزمین ہے کہ چارچار پانچ پانچ ہزار کے تحریری وثائق اس کے پیٹ سے آج بھی برآمد ہورہے ہیں ، یورپ کے اہلِ علم کا یہ احسان ہے کہ انہوں نے ان قدیم تاریخی وثیقوں کے پڑھنے کو ممکن بنادیا ہے. [”ممکن بنادیا ہے ”یہ اس لیے کہہ رہاہوں کہ ” ہیرو غلیفی ” یا”ہیرو طبقی”حروف پڑھنے کا جو طریقہ مغربی فاضلوں نے نکال لیا ہے اب اس کے متعلق تو شک و شبہ کی گنجائش کم ہی رہ گئی ہے لیکن پڑھ لینے کے بعد نتائج جو ان سے پیدا کیے جاتے ہیں ان نتائج کے متعلق بے محابا ایمان لانے کی بدعات ہم مشرقیوں میں جو پھیل گئی ہے ضرورت ہے کہ اس پرنظر ثانی کی جائے مگر یہ اسی وقت ممکن ہے کہ ان حروف کے پڑھنے کا سلیقہ ہم خود اپنے اندر پیدا کرلیں ورنہ اندھی تقلید پر ہمارا جہل خود ہمیں مجبور کرتا رہے گا لوگوں کا یہ خیال کہ اس قسم کے پُرانے حروف کا پڑھنا کوئی جدید اقدام ہے صحیح نہیں ہے ۔”فتوحات مکیہ ”میں شیخ ابن عربی نے اہرام کی بعض عبارتوں کا ذکر کرتے       ہوئے لکھا ہے کہ پڑھنے والوں نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے دفینہ طلبی کا خبط جیسا کہ ابنِ خلدون نے مقدمہ میں لکھا ہے مصریوں پر زمانے سے مسلّط ہے کوئی وجہ نہیں ہوسکتی کہ اس خبط میں ان حروف کے پڑھنے سے ان کو باز رکھا ہوگا اور میں تو سمجھتا ہوں کہ گو یورپ بھی بظاہر علم کے نام سے اس کام کو کرتا ہے لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ پرانے دفائن و خزائن کی کوشش کو ان کی ان کوششوں میں دخل نہیں ہے.]

حال میں مصر کے ایک قبطی فاضل ” انطون زکری ” [انطون زکری مصر کے قبطی فاضل تھے ۔ انہیں قدیم مصر کے آثار پر عبور حاصل تھا ۔ اس موضوع پر ان کی کتابیں ” النیل فی عہد الفراعنة ”اور ” مفتاح اللغة المصریة القدیمة و مبادی اللغتین القبطیة و العبریة ” سند کا درجہ رکھتی ہیں ۔ اس فاضل جلیل اور ماہرِ آثار قدیمہ کا انتقال ١٩٥٠ء میں ہوائی جہاز کے فضائی حادثے میں ہوا ۔ الاعلام : ٢/٢٨( ادارہ  الواقعة)] نے ان ہی پرانے تاریخی وثیقوں میں سے چند خاص وثائق کا یورپین زبان کے ترجموں کی مدد سے عربی میں بھی ترجمہ شائع کیا ہے ، مصری حکومت کے ”متحف ” یعنی میوزیم سے مترجم کا چونکہ تعلق ہے اس لیے اہم چیزوں تک رسائی ان کے لیے آسان تھی ، اس کتاب میں مصر کے پرانے تراشیدہ مجسموں کی بھی بہت تصویریں شریک ہیں قدیم مصری تمدن کے سمجھنے کے لیے یہ کتاب مفید معلومات پر مشتمل ہے ۔

میری خاص دلچسپی کی چیزاس کتاب میں ان تاریخی وثیقوں کے بعض خاص فقرے اور مشتملات ہیں ، ان ہی کو اس وقت پیش کرنا چاہتا ہوں۔
یہ مصر کے پرانے کاغذ جسے ” اوراقِ بردیہ [انگریزی میں ”پے پر ”کا غذ کو اسی لیے کہتے ہیں کہ مصر کے ” اوراقِ بردیہ ” ایک خاص قسم کے پودے کے گودے سے بنائے جاتے تھے ۔ جس کا نام پائپرس تھا۔]”کہتے ہیں اسی میں لکھے ہوئے وثائق مختلف اوقات میں لوگوں کو ملے ہیں جن میں پہلا وثیقہ تو وہ ہے ، جو بردی کے کاغذ کے اٹھارہ صفحات پر لکھا ہوا ہے قدیم فرعونی شہر طیبہ جسے آج کل الاقصر کہتے ہیں اس کے قریب ایک مقبرے میں کسی مصری کسان کو یہ اوراق اس وقت ملے جب وہ اس مقبرے کی زمین کھود رہا تھا ۔آثارِ قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے ایک فرانسیسی فاضل نے ١٨٤٧ء میں ان اوراق کو شائع کیا اس فرانسیسی فاضل کانام ( Priused Avene ) پریس داوون تھا، بیان کیاجاتا ہے کہ سرخ اور سیاہ روشنائی سے یہ مصری مخطوطہ لکھا ہوا تھا، مصر کے دو پرانے حکیم جن میں ایک کانام قاق منا اور دوسرے کانام فتاح حتب تھا ان ہی دونوں کے وہ فقرے بنائے ہوئے ہیں جو ان اوراق میں درج تھے ۔ مصری تاریخ کے محققین نے حساب کرکے اندازہ لگایا ہے کہ کم از کم پانچ ہزار سال قبلِ مسیح کی یہ کتاب ہے اسی لیے دعویٰ کیاجاتاہے کہ دنیا کے کتب خانوں میں جتنی کتابیں اس وقت پائی جاتی ہیں ان میں سب سے قدیم ترین کتاب یہی مصری مخطوطہ قرار پاسکتا ہے ۔ اس مخطوطہ کا قدیم مصری زبان سے یورپ کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا شابس( Chabas )   اور ویری ( Virey ) نے فرانسیسی زبان میں لوتھ( Loth )  نے لاطینی میں جرمنی میں بروکش پاشا نے اور انگریزی میں گن ( Gunn ) نے اس کو منتقل کیا۔

دوسرا مخطوطہ اسی سلسلہ کا وہ ہے جس کا زمانہ تین ہزار تین سو سال قبل مسیح متعین کیا گیا ہے یہ بھی الاقصر(طیبہ)ہی کے کھنڈوں کے پاس اس مقام میںملا جسے دیر سجری کہتے ہیں،یہ مصر کے ایک کاہن آنی نامی کی طرف منسوب ہے ، کہتے ہیں کہ اپنے شاگرد خون سو حتب نامی کو خطاب کرکے حکیم آنی نے یہ نصیحتیں کی تھیں کہ اس مخطوط کا ترجمہ بھی فرانسیسی زبان میں شاباس نے اور دی روجیہ نے ،جرمنی میں ارمن نے ، انگریزی میں پروفیسر ماس برو نے کیا ہے ۔

تیسرا مخطوطہ آمِنْ بِتْ مِنْ کَانَ خِتْ  کی طرف منسوب ہے ، کہتے ہیں کہ قدیم مصر کا زبردست ادیب تھا، تین ہزار سال قبلِ مسیح سمجھا جاتا ہے کہ یہ مصری تصنیف مرتب ہوئی ، مسٹر بڈگ ( Budge ) نے انگریزی میں اس کا ترجمہ کیا ہے ۔

بردی کے اوراق پر ایک اور مخطوطہ بھی مصری آثار کے محققین کو ملا ہے لیکن صحیح تخمینہ اس عہد کا نہ ہوسکا، تاہم قدامت میں اس کے بھی شبہ نہیں ہے ، دیموطبقی حروف سے مختلف مغربی زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی کیا گیا ہے ۔

انطون زکری کے عربی تراجم سے مصر کے ان قدیم مخطوطات کے بعض فقروں کا ترجمہ میں یہاں درج کرتا ہوں ، پہلے ان کو پڑھ لیجیے۔
(١) سیدھی راہ چلو ، نہ ہو کہ تم پر اللہ کا غصہ ٹوٹ پڑے ۔

(٢) جھگڑے میں ہٹ دھرمی سے پرہیز کیجیو، ورنہ خدا کی سزا کے مستحق بن جائو گے ۔

(٣) لوگوں کے دلوں میں دہشت نہ ڈالو، ورنہ خدا اپنے انتقام کی لاٹھی سے تمہیں پیٹے گا۔

(٤) ظلم اور زیادتی کے ذریعہ سے جس دولت کو کما کر تم جینا چاہتے ہو اور اسی کے بل بوتے پر اگر امیر بننے کی تم کوشش کروگے ، تو خدا تمہاری نعمت تم سے چھین لے گا اور تم کو کنگال بے نوا بنا چھوڑے گا۔

(٥) خدا جسے چاہتا ہے آبرو اور عزت بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے رسوا اور ذلیل کرتا ہے کیونکہ اسی کے ہاتھ سارے امور کی کنجیاں ہیں ، خدا کے ارادے کا مقابلہ بے سود اور لاحاصل ہے ۔

(٦) اگر تم دانش مند آدمی ہوتو چاہیے کہ اپنے بیٹے کی پرورش اس ڈھنگ سے کرو جس سے خدا خوش ہو۔

(٧) خلقت کا سارا کاروبار اس خدا کے ہاتھ میں ہے جو اپنی مخلوق کو چاہتا ہے ۔

(٨) پستی کے بعد جب بلندی تمہیں میسر آئے ، اور محتاجی کے بعد سرمایہ ہاتھ لگے تو جن لوگوں کے حقوق تمہارے مال میں ہیں ان کو محروم کرکے اس سرمایہ کو جمع کرنے کی کوشش نہ کیجیو، کیونکہ اللہ کی نعمتوں کے تم امین ہو اور امین کا فرض ہے کہ جو امانت اسے سونپی جائے اسے ادا کرے۔

(٩) دینی قاعدے ( شرائع ) اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا بدترین سزا سے دوچار ہوگا۔

(١٠) زانی کا مال صرف برباد ہونے کے لیے ہے ، ہر زانی خدا کے اور لوگوں کے غصہ کا شکار ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ شریعت کا مخالف ہے اور فطرت کے قوانین کا بھی ۔

(١١) خدا سے نزدیکی چاہتے ہوتو اعمال و کردار میں چاہیے کہ خدا کے لیے اپنے آپ کو مخلص بنالو بندگی واقعی تمہاری سچی ہے اس کو جانچتے رہو تب خدا کی رحمت تمہارے شامل حال ہوجائے گی ، اور اپنی چشمِ عنایت سے تم کو وہ دیکھنے لگے گا کیونکہ خدا کی بندگی میں جو سستی سے کام لیتے ہیں ان ہی کو وہ چھوڑ دیتا ہے ۔

(١٢) تیرا پروردگار جن باتوں سے ناراض ہوتا ہو ، ان کو لے کر اس کے سامنے نہ جا اور اس کی بادشاہت کے بھیدوں کے ٹٹول میں نہ پڑاکر کیونکہ عقلی پرواز کے حدود سے وہ باہر ہیں چاہیے کہ اللہ کی وصیتوں اور فرمانوں کو اچھی طرح یاد رکھا کرو ۔وہ ان ہی کو اونچا کرتا ہے جو اس کی برتری کا اقرار کرتے ہیں۔

(١٣) تہواروں کے دن خدا کے گھر میں شور و غل نہ مچائو اپنے پروردگار سے گڑگڑاکر مخلص دل اور پست آواز کے ساتھ دعا کیا کرو، دعا کے قبول ہونے کی توقع ایسی صورت میں زیادہ ہوتی ہے ۔

(١٤) تم سے جب کوئی مشورہ چاہے تو کتبِ منزّلہ ( یعنی خدا کی اُتاری ہوئی کتابوں ) کے مطابق اس کو مشورہ دیا کرو۔

(١٥) جھوٹی تہمت جس پر جوڑی جائے اس کو چاہیے کہ اس ظلم کو خدا کے سامنے پیش کردے سچی بات کے ظاہر کرنے اور جھوٹ کے مٹانے کا خدا ضامن ہے ۔

(١٦) سب سے بڑا آدمی وہی ہے جو حق اور سچائی کی راہوں پر گامزن ہے اور سیدھی راہ ( صراطِ مستقیم ) پر چلا جارہا ہے ۔

(١٧) پاپی آدمی دوسری زندگی میں آگ ( دوزخ ) سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔

(١٨) انصاف کے حدود اٹل ہیں بدل نہیں سکتے ۔

(١٩) قناعت کامیاب زندگی کی واحد ضمانت ہے اور ہر قسم کی بھلائیوں اور نیکیوں کا سرچشمہ بھی وہی ہے ۔

(٢٠) زندگی کی لذّتوں کا وہ کھوبیٹھے گا جو اپنے آپ کو دنیا کے مشکلات ہی میں الجھا کر سارا وقت ان ہی کے نذر کررہا ہے ۔

(٢١) نیکیوں اور خدا کی حمد وستائش اور اس کے آگے سجدہ ریزیوں ہی سے دلوں کے پاک کرنے میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے ۔

(٢٢) استوار اور محکم بنیاد پر اپنی زندگی کی تعمیر کو چاہیے کہ کھڑی کرو، اور کسی بلند مقصد کو سامنے رکھ کر آگے بڑھو اسی طریقہ سے پیری کی اس منزل تک پہنچ سکتے ہو جو تعریف کی مستحق ہو ، اور آخرت ( دوسری زندگی ) میں بھی کسی جگہ کے بنالینے میں اسی طریقہ سے تم کامیاب ہوسکتے ہو ( یاد رکھو ) کہ ابرار اور نیک لوگوں کو موت کی کشمکش اور اس کی سکرات پریشان نہیں کرسکتی ۔

(٢٣) لوگوں کی برائیوں کے ذکر سے اپنی زبان کو پاک رکھنے کی کوشش کرو ( یاد رکھو ) کہ ساری برائیوں کی جڑ زبان ہی ہے بات کرنے میں اس کا لحاظ رکھا کرو کہ زبان سے اچھی باتیں نکلیں اور بری باتوں سے بچتے رہو کیونکہ قیامت کے دن ہر وہ بات جو تمہاری زبان سے نکلی ہے تم اس سے پوچھے جائو گے ۔

(٢٤) اپنے والدین کے ساتھ مہربانی کا برتائو کرتے رہنا ، اورڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ان باتوں کو اختیار کرنا چاہیے جو ان کے لیے بھلی ہوں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک نفع پہنچانے والے کاموں میں سب سے اچھا کام ہے اس کے قبول ہونے کی امید کرنی چاہیے ، تم والدین کے ساتھ اچھا سلوک جب کروگے تو تمہاری اولاد بھی یہی برتائو تمہارے ساتھ کرے گی ۔

(٢٥) ماں کو خدا نے تمہارے لیے مسخر فرمادیا، پیٹ میں رکھنے اور جننے ، دودھ پلانے میں تین سال تک وہ ہرطرح کی سختیوں کو برداشت کرتی ہے اور کتنا دکھ جھیل جھیل کر تمہیں پالتی ہے ، تمہاری گندگیوں سے اسے گھن نہیں آتی اور تمہارے پوسنے پالنے کی محنتوں سے وہ کبھی نہیں تھکتی ایک دن کے لیے بھی نہیں چاہتی کہ بجائے اپنے کسی دوسرے کے سپرد تمہیں کردے ، تمہارے استاد کی خدمت کرتی ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک صرف اس لیے کرتی ہے تاکہ تمہاری تعلیم کی طرف پوری توجہ کریں ۔ پس اب جب تم خود صاحبِ اولاد بن چکے ہو ، چاہیے کہ ان بچوں کے ساتھ وہی برتائو کرو جیسے تمہاری ماں نے تمہارے ساتھ کیا تھا، ( دیکھو!) ایسا نہ ہوکہ تمہاری ماں تم سے بگڑ بیٹھے ، نہ ہو کہ خدا کے سامنے ہاتھ اٹھا کر تمہارے لیے وہ بددعا کرے ، ماں کی بددعا سنی جاتی ہے اور قبول ہوجاتی ہے ۔

(٢٦) نشے باز کے گھر میں قدم نہ رکھنا خواہ اس کی وجہ سے عزت اور بلندی ہی کی تمہیں توقع کیوں نہ ہو۔

(٢٧) شراب خانوں کے گرد کبھی نہ پھٹکنا شراب خوری کے برے انجام سے بچنے کی یہی ایک صورت ہے ، شرابی سے ایسی غلطیاں صادر ہوتی ہیں جن پر ہوش میں آنے کے بعد وہ خود پچتاتاہے، شرابی لوگوں کی نگاہوں میں ہمیشہ ذلیل و خوار رہتا ہے خود اس کے ساتھی جو اس کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں اور اس کی برائیوں میں اس کے ساجھی اور شریک رہتے ہیں ان کی نظروں میں بھی اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی ۔

(٢٨) دوسرے کے مال کا چرانے والا کیا نہیں ڈرتا کہ اللہ اسی وقت اس کی جان کو چھین لے اور اس کے مال و منال کو تتر بتر کردے اس کے گھر بار کو اجاڑ کر رکھ دے ۔

(٢٩) امیر آدمی جب کسی غریب کو ذلیل کرتا ہے تو ( یاد رکھو کہ اس امیر کو ) خدا بھی رسوا کرے گا اس دنیا میں بھی ، اور آگ کا عذاب آخرت میں بھی اس کو چکھا ئے گا۔

(٣٠) بد کردار سے بچتے رہنا کیونکہ بد کردار آدمی بے وقوف بھی ہوتا ہے اور خدا اور عام لوگ دشمنی کی نظر سے اس کو دیکھتے ہیں۔

(٣١) خدا کی پاکی بیان کرتا رہ اور شیطان سے اکڑا رہ۔

(٣٢) کاروبار یا جائیداد وغیرہ میں جو تیرے شریک ہوں ان کو حساب و کتاب میں دھوکے نہ دیا کرو اگر ایسا کروگے ، تو خدا تم سے غصّہ ہوجائے گا اور لوگوں میں تمہاری بددیانتی ، بے وفائی کی شہرت ہوگی ۔

(٣٣) جو کچھ تمہارے دل میں ہو دھوکہ دینے کے لیے لوگوں کے سامنے اس کے برعکس اپنے آپ کو پیش نہ کیا کرو اپنے ظاہر کو باطن کے مطابق رکھنے کی کوشش کرو ( یاد رکھو کہ ) جھوٹ بولنے والے مکار دھوکہ باز کو خدا غصّہ اور غضب کی نظر سے دیکھتا ہے ۔

(٣٤) حلال ذریعہ سے حاصل کیا ہوا ایک حبّہ حرام کے ہزار سے کہیں بہتر ہے ۔

(٣٥) مال کی محبت میں سراسیمگی فضول ہے کیونکہ روزی تو بنٹی ہوئی ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جو اس کا حصّہ ہے ۔

(٣٦) مال اندوزی ہی کو اپنا سب سے بڑا مقصود اور اپنی کوشش کا محور نہ بنا کیونکہ خدا جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔

(٣٧) ایسا امیر جو محتاج کو پیٹ بھر کھانا کھلاتا ہے خدا کو خوش کرتا ہے کیونکہ امیر کو خدا نے اپنی نعمتوں کا صرف امین بنایا ہے۔

(٣٨) غریب آدمی کو جو دیتا ہے وہ خدا کو دے رہا ہے ۔

(٣٩) نیک آدمی اپنی آخرت ( مرنے کے بعد کی زندگی ) کو یاد کرتا رہتا ہے ۔

(٤٠) بہشت ان ہی لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو غریب آدمی کے لیے قربانیاں کرتا ہے ۔

(٤١) ہر اس راستے سے دور رہنا جو شیطان سے تم کو نزدیک کرتا ہو۔

(٤٢) جو باتیں ناجائز اور حرام ہیں ان کا ارادہ بھی نہ  کیجیو کیونکہ دوسرے عالم میں اپنے حصے کو تم کھودوگے ۔

(٤٣) کامیابی اور سعادت و اقبال صرف یہ نہیں ہے کہ آدمی جسم کو پالتا رہے نلکہ حقیقی اقبال مندی یہ ہے کہ روح کو اس کی خوراک پہنچائی جائے۔

(٤٤) سرمایہ اکٹھا کرنے کی دھن میں نہ لگو ، تم کیا جانتے ہو کہ انجام کن شکلوں میں تمہارے سامنے آنے والا ہے ( یاد رکھو !) کہ عنقریب اس سرمایہ کو چھوڑ کر تم چل دو گے اور دوسرے اس سے چین کریں گے ۔

(٤٥) بدکار لوگوں سے نہ بات چیت کرنی چاہیے اور نہ کسی قسم کا کوئی کاروبار۔

(٤٦) دیکھو! لوگوں کو قریب میں مبتلا نہ کیا کرو ورنہ تم کو بھی لوگ دھوکے دیں گے ۔

(٤٧) گھر میں فحش اور بری باتیں زبان پر نہ لایا کرو ، یاد رکھو کہ تمہارے گھر والے تمہاری پیروی کریں گے ، غیبت یعنی پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو۔

(٤٨) اپنے ہمسائے کی عورت کو ارادةً نہ گھورو ، جو ایسا کرتا ہے وہ ایک قسم کا بھیڑیا ہے ۔

(٤٩) کسی کو دکھ نہ دو ، خواہ ساری دنیا ہی تمہیں کیوں نہ مل رہی ہو۔

(٥٠) غریب آدمی کو مالی مدد سے محروم نہ رکھو مرنے کے بعد اسی کی وجہ سے تم رحم کے مستحق ہوگے ۔

بردی یا پائپرس پودے کے گودے کے کاغذ کے ان قدیم مخطوطات سے صرف پچاس فقروں کا انتخاب ترجمہ کے لیے میں نے کیا ، کوشش کی گئی ہے کہ سادہ لفظوں میں ہر فقرے کا لفظی ترجمہ پیش کردیا جائے انطون زکری نے ہر اس موقعہ پر جہاں آپ کو ” خدا ” کا لفظ مرے ترجمے میں ملے گا ” اللہ ”کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جہاں تک مرا خیال ہے ” اللہ ” کا یہ لفظ کسی ” قدیم مصری ” لفظ کا ترجمہ ہے جس کا مفہوم وہی ہے جو عربی زبان کے لفظ ” اللہ ” سے سمجھا جاتا ہے ۔  

کچھ بھی ہو یہ پچاس فقرے ہیں جن کی تاریخ آج سے پانچ ہزار سے سات ہزار برس تک پہنچتی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ گہری بات سوچنے کی یہ ہے کہ خدا اور خدا کی نازل کی ہوئی کتابوں ، نیکی اور بدی ، مرنے کے بعد ان کے نتائج کا ظہور بہ شکل بہشت و دوزخ اور وہ ساری باتیں جن کا ذکر ان فقروں میں کیا گیا ہے ان کے تذکرے میں جو بے ساختہ پن پایا جاتا ہے اور بیان میں ایسا لب و لہجہ اختیار کیا گیا ہے کہ گویا سننے والے موروثی طور پر ان باتوں کو مانتے چلے آرہے ہیں ہر ایک کی جانی بوجھی باتیں ہیں ۔ اس حیثیت سے اگر غور کیا جائے اور سوچا جائے کہ کتنی طویل تربیت کے بعد عوام میں اس قسم کی ذہنیت پیدا ہوسکتی ہے تو میں خیال کرتا ہوں کہ ان مصری عقائد کے متعلق ماننا پڑے گا کہ ان کی عمر مذکورہ بالا مدت سے بھی کہیں زیادہ طویل ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن نے یہ سوال اٹھا کر یعنی 
( أَ فَلَمْ یَدَّبَّرُوْا الْقَوْلَ اَمْ جَائَ ھُمْ مَا لَمْ یَأْتِ اٰبَائَھُمُ الْاَوَّلِیْنَ )]المؤمنون :   [
” کیا بات وہ سوچتے نہیں یا ان کے پاس کوئی ایسی بات آئی ہے جو ان کے پہلے باپ دادوں کے پاس نہیں آئی تھی ۔”
جواب میں کبھی اس راز کا افشا کرتا ہے مثلاً فرمایا گیا ہے :
( وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَھُمُ الْقَوْلُ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ) ]القصص :[
”ہم ان کے لیے بات کو جوڑتے چلے آئے تاکہ وہ چونکتے رہیں۔”
اسی بنیاد پر قرآنی تعلیمات کو بجائے کسی ” جدید نظام حیات ” کے بار بار دہرا دہرا کر کبھی :
( اِنَّ ھٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی ) ]الاعلیٰ :[
”یقینا یہی بغیر کسی شک و شبہ کے پچھلی کتابوں میں بھی ہے ۔”
کبھی:
( وَ اِنَّہ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ ) ] :[
”اور یقینا وہ ( یعنی قرآن ) قطعاً پہلوں کی کتابوں میں تھا ۔”
وغیرہ الفاظ سے اسی حقیقت کو وہ ذہن نشین کرنا چاہتا ہے کہ یہ نسلِ انسانی کی زندگی کا پرانا اور قدیم ترین دستور ہے یہی آئینِ حیات تھا جو نوح (علیہ السلام ) کو بھی عطا ہوا تھا اور ابراہیم (علیہ السلام ) کوبھی موسیٰ (علیہ السلام ) کوبھی اور عیسیٰ (علیہ السلام ) کو بھی بلکہ سارے ” النبیوں ” کو اب پڑھیے قرآن میں آپ کو یہ چیز ملتی چلی جائے گی سورة الانعام میں اس نے پیغمبروں کی طویل فہرست دے کر اور یہ بتاتے ہوئے کہ اس فہرست میں جن لوگوں کا نام لیا گیا ہے وہ ہوں یا جو ان سے پہلے گزرے یا ان کے بعد آئے ،ان میں نسلی تعلق ہو ، یا نبوت و رسالت کی اخوت کا رشتہ ہو ، الغرض سارے جہاں کے پیغمبروں کو خدا کی طرف سے جو راہ نمائی اور ہدایت عطا ہوئی تھی اسی کی طرف اشارہ کرکے خود صاحبِ قرآن محمد رسول اللہ ۖ کو حکم دیا گیا ہے :
( اُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ فَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہْ ) ] الانعام :[
”یہی وہ لوگ ہیں جن کی خدا نے راہ نمائی کی پس چاہیے کہ ان ہی کی راہ نمائیوں کی تم بھی پیروی کرو۔”
ظاہر ہے جس امت کے پیغمبر ہی سے یہ مطالبہ کیا گیا ہو وہی امت اس کے سوا اور کیا سمجھ سکتی ہے اور یہی اس کو سمجھایا بھی گیا ہے کہ قرآن کی شکل میں جس دین کا دستور اس کو عطا کیا گیا ہے یہ کوئی نیان دین اور جدید مذہب یا انوکھا دھرم نہیں ہے بلکہ وہی قدیم موروثی دین ہے جس کی تعلیم جو آدم کی اولاد کو زمین کے اس کرے پر آباد ہونے کے ساتھ ہی مسلسل ملتی رہی ہے ، اسی طرح ملتی رہی ہے جیسے ہوا، پانی ، روشنی وغیرہ جیسی چیزیں ان تقاضوں کی تکمیل کے لیے قدرت ہی کی طرف سے مہیا کی گئی تھیں جن کا دوسری جاندار ہستیوں کے ساتھ انسان بھی محتاج تھا ، مشہور قرآنی آیت 
( اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَام )] آلِ عمران :[
”قطعاًوہ الدین (یعنی آئینی زندگی) جو اللہ کے حضور سے ملا وہ ”الا سلام” ہے ۔”
اس میں بھی قطعاً کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ پہلے آدمی کے جینے کا دستور خدا کے حضور سے کسی اور شکل میں ملا تھا اور اب بجائے اس کے کوئی نیا دین الاسلام کے نام سے لوگوں کو دیا جارہا ہے بلکہ صاف اور واضح مطلب اس کا یہی ہے اور یہی ہونا بھی چاہئے کہ ” لاسلام ” ہی وہ دین ہے جو خدا کے حضور سے عطا کیا گیا اور ا سی دین کی پابندی کا مطا لبہ ہر زمانے میںان لوگوں سے کیا گیا جو انسان بن کر دنیا میں آئے ۔المسلم با عام ہندی محاروے کی رو سے مسلمان آ دم کی اولاد کے ان ہی افراد کا نام ہے جنہوں نے اپنے اسی مورثی ، قدیم دین ” الا سلام ” کے پا لینے میں کامیابی حاصل کی ہے اسی طرح ہر وہ شخص جو اس زمین پر آدمی بن کر پیدا ہونے کے با وجود اس ”قدرتی آئین ”مطابق زندگی بسر کرنے سے بھڑک رہا ہے یقین ہے کہ در حقیقت اپنے آبائو اجداد کے صحیح دین اور دھرم سے وہ بھڑک رہا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ بھڑکنے کی وجہ اپنے نزدیک یہی ٹھہرائے ہوئے ہے کہ اسلام کو قبول کرکے اپنے باپ دادوں کے قدیم دین یا دھرم سے وہ دور ہوجائے گا ۔ یا للعجب

آخر مصر ہی کے باشندوں کو دیکھیے ہزارہا سال کے پرانے وثائق کے جو چند فقرے آپ کے سامنے پیش کیے گئے ہیں ان کا پڑھنے والا اس کے سوا اور کیا سمجھ سکتا ہے کہ مصر والے آج سے ہزار ہا سال پیشتر بجنسہ ان ہی باتوں کو مانتے تھے جن کی قرآن تعلیم دے رہا ہے نہ صرف اصولی اور اساسی چیزیں جن کا مبدء اور معاد یا بالفاظِ دیگر خدا اور آخرت ، وحی ، نیکی و بدی کے قوانین سے تعلق ہے بلکہ ایسی باتیں مثلاً مسکرات ( نشہ پیدا کرنے والی چیزیں ) آپ دیکھ رہے ہیں کہ مصر کے اہلِ علم و فضل اپنی قوم کو ان کے استعمال سے کیا ٹھیک اسی لب و لہجہ میں روک رہے تھے ، جس طرز و انداز میں آج مسلمانوں کے مولوی اور صوبائی یا علماء مشائخ منع کرتے ہیں عورتوں کے متعلق یورپ کی تہذیب جدید نے تو یہ پھلانا شروع کیا ہے کہ پیدا ہی کی گئی ہیں وہ اس کے لیے کہ مرد کو جس حد تک ان کو گھو رنے کا موقع مل سکتا ہو محرم اور غیر محرم کی تمیز کے بغیر ان کو گھورتا ہی چلا جائے انسانیت کی تکمیل ہی اسی پر موقوف ہے کہ مردو ں کا کوئی مجمع ان کی کوئی مجلس وجود انسانی کے اس نازک ترین حصے کی جلوہ آرئیوں سے خالی نہ ہو مگر مصر عہد قدیم میں مغرب کی تہذیب جدید کے اسی کامل انسان کو آپ دیکھ چکے کی بجائے آدمی کے بھیڑ یا ٹھہریا جا تا تھا ۔

 بہر حال بردی کے یہ کاغذ اتفاقاً مل گئے ہیں اور ان میں سے بھی صرف چند ضروری فقروں کا میں نے تر جمہ کیا ہے ، ورنہ مصر یو ں کے قدیم دین کے سا رے وثائق اگر مل جاتے تو کون کہہ سکتا ہے کہ قرآنی تعلیمات کے جزئیات تک ان میں نہیں مل سکتے تھے بلکہ جو کچھ مل چکا ہے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان میں بھی صراحتہً نہ سہی اشارةً بہت سی چیزیں کم از کم مجھے ایسی دینی ہیں کہ نسل انسانی کے دین کی تاز ہ ترین قرآنی شکل میں اور مصر کے ا س قدیم ترین دین میں فرق کرنا مشکل معلوم ہو تا ہے میرا تو خیال ہے جن پچاس فقروں کا ترجمہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا ہے اگر شروع ہی میں ان کے متعلق یہ بتا نہ دیا جاتا کہ مصر کے پرانے کھنڈروں سے پانچ چھ ہزار سال پیشتر جو کاغذات بر آمد ہوئے ہیں ان ہی سے یہ فقرے نقل کئے گئے ہیں تو میں یقین کرتا ہوں کہ پڑھنے والے شا ید یہی سمجھتے ہیں کہ شیخ سعدی یا ملا حسین واعظ کا شقی یا عطار و سنائی وغیرہ مسلمانوں کے بعض بزرگوں کی کتابوں سے چیزیں نقل کی گئی ہیں اب امتحان لے کر دیکھئے یہ بتائے بغیر کہ ان کی اصل کیا ہے کسی کو سنائیے اور پو چھئے کہ یہ کس کا کلام ہو سکتا ہے ؟ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ سننے کے ساتھ کہنے والے بھی کہیں گے مسلمانوں کے عالم یا صوفی کے اقوال ہیں یہی نہیں بلکہ عہد فراعنہ کی مصری تاریخ سے معلوم ہوتا کہ آج سے ہزار سال پیشتر ان کے دین کی وہی نوعیت تھی جس کاپتہ مذکورہ بالا فقروں کے مضامین سے چلتا ہے لیکن جوں جوں وہ آگے بڑھتے چلے گئے تو ایک طرف ان کا  تعمیری ذوق عام علوم و فنون میں انہماک بھی اسی نسبت سے بڑھتا چلا گیا ، طب اور ادویہ کی تحقیق میں اس حد تک وہ پہنچ گئے تھے کہ موت تو ان کے بس کی بات نہ تھی لیکن مرنے کے بعد سڑنے اورگلنے سے لاشوں کو بچالینے میں وہ کامیاب ہو چکے تھے ، پتھر ، لکڑی اور مختلف قسم کی دھاتوں سے انسانوں اور حیوانوں کے مورتیوں کے تراشنے میں ان کی چابک و دستیاں آج بھی دنیا کو ششدر بنائے ہوئے ہیں ، فوجی قوت میں ترقی کے اس نقطے تک پہنچ چکے تھے کہ اس زمانے میں دنیا کا جو قابل لحاظ حصہ تھا ،اس کو وہ فتح کر چکے تھے ، انطون زکری نے لکھا ہے :

”کشور کشائی میں ان کا دائرہ  اس حد تک وسیع ہو چکا تھا کہ ایک طرف شام و لبنان میں ان کے جھنڈے لہرا رہے تھے اور دوسری طرف فرات کے مشرقی ساحل تک گھستے ہوئے چلے گئے ،شما ل میں فلسطین تک اور جنوب میں سوڈان تک ان کے مقبوضات میں شریک ہو چکا تھا ۔”

انطون نے اسی کے بعد لکھا ہے :
” و ھذہ اشھر بلاد العالم التی کانت معروفة فی ذٰلک الزمان ۔”]٤٣[

”اس زمانے میں یہی علاقے دنیا کے مشہور مقامات تھے ۔”

مگر جہاں یہ سب کچھ ہو رہا تھا وہی دوسری طر ف بتدریج لڑھکتے لڑھکتے اور ڈھلکتے ہو ئے مصرکے بھی باشندے آخر میں زندگی کے جس دینی قالب پر اصرار کرنے گئے ان کی تصویر انطون نے ان الفاظ میں کھینچی ہے یہ لکھنے کے بعد کہ 

 ”فراعنہ کی حکومت کے آخری دور میں اس زمانے تک جب روما نیوں نے مصر کو اپنے امپائر میں شریک کر لیا تھا ۔”

یہ حالت ہو گئی تھی کہ 

”پرندوں اور مچھلیوں ،سانپوں ، مگر مچھوں ،بلیوں ،کتوں اور مینڈھوں تک کو پوج رہے تھے ۔”

وہی لکھتے ہیں کہ 

”اپنے ان مقدس معبودوں کی تخیط کرتے (یعنی جن دوائوں کی وجہ سے لاش نہیں سڑتی تھی ان ہی کو بھر کر ممی بنا تے تھے )اور بڑے تزک و احتشام سے ان دیوتائوں کو وہ دفن کرتے تھے۔”(ص ١٥٢) 

 حیرت ہوتی ہے کہ سحر اور جادو میں ایک طرف انہی مصریوں نے یہ کمال پیدا کیا تھا کہ بعض مورتیاں اس شکل میں برآمد ہوئی ہیں کہ ایک آدمی مگرمچھوں کو پائوں کے نیچے دبائے ہوئے ہے ،اور اپنے دونوں ہاتھوںمیں متعدد سانپوں ، بچھوئوں ،کو بھی پکڑے ہوئے ہے اور ان ہی کے ساتھ دم کے ساتھ شیر کو بھی اٹھائے ہوئے ہے ،ہے یہ مورتی مصری میوزیم میں موجود ہے ۔
مگر دوسری طرف ان ہی آثار سے جو مصر کے مختلف مقامات سے برآمد ہورہے ہیں اور چوتھی ،پانچویں صدی قبل مسیح کے مورخین مثلاََ ہیرو دوئس یونانی ،ڈیوڈورس صقلی،پلو ٹارک وغیرہ کی تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ہی جانوروںکو مصری آخر میں پوجنے لگے تھے ۔

عہد فراعنہ میں کہتے ہیں کہ یکے بعد دیگرے تیس خاندانوں کی حکومت مصر میں قائم ہوتی رہی انطون کا بیان ہے کہ

” مصریوں کے دین اور دھرم کی اس عجیب و غریب شکل کی ابتداء چھبیسویں خانوادے سے شروع ہوئی ، اور رومی جب مصر پر قابض ہوئے تو ملک ان ہی حیوانی معبودوں اور دوسرے دیوتائوں کے نیچے پڑا ہوا تھا ،حالت یہ ہو گئی کہ جن سانپوں کی پرستش کرتے تھے اگر وہ کا ٹتا تو اس کو خوش قسمتی خیال کرتے تھے ۔یا جن درندوں کو پوجتے تھے اگر پکڑ لیتا تو بخوشی اس پر راضی ہو جاتے تھے کہ ان کو پھاڑ کر کھا جائے ۔”

 حیوان پر ستی کے سلسلے میں مصریوں کا ذوق عجیب تھا ، مذکورہ بالا حیوانی معبودوں کے ساتھ ساتھ ان کا بڑا زبردست معبود سانڈ تھا جسے وہ ابیس بھی کہتے تھے اور بیل ہی کی شکل کا ایک معبود ھاتور نامی تھا ،اور جہاں ایسے بھاری بھرکم بدن والے جانور کو وہ پوجتے تھے ،وہیں ایک حقیر کیڑا جسے عربی میں جعل کہتے ہیں ،اور مصر کی پرانی زبان میں اس کا نام ”خپر” تھا شکل جس یہ بتائی گئی ہے ،یہ کیڑا مصریوں کے اہم معبودوں میں شمار ہوتا تھا ،عہد فراعنہ کے پچھلے دور کے مورخین نے بعض دلچسپ لطائف بھی مصریوں کی حیوان پرستی کے سلسلے میں نقل کئے ہیں مثلاً ڈیوڈور صیقلی نے لکھا ہے کہ 

”کسی رومی سپاہی نے ایک بلے کو مارڈالا ،مصر والوں نے اس بلے کے قصاص میں اس رومی کو قتل کردیا ۔”

اسی طرح پلو ٹارک نے یہ قصہ نقل کیا ہے کہ 

”مصر کے وسطلانی علاقہ صوبہ سنیو پولیت نامی کے باشندے ایک خاص قسم کی مچھلی کا شکار کر کے اس کو چٹ کر گئے جو صوبہ کسر منیک کے رہنے والے مچھلی کی اس قسم کوپوجا کرتے تھے یہ خبر مچھلی کے پوجاریوں کو جب ملی تو انہوں نے سینو پولیت والوں کے نام اعلان جنگ کر دیا بڑی زبردست لڑائی ہوئی آخر اس کنے کے پکڑنے میں کامیاب ہوئے جو سینوپولیت والوں کا معبود تھا انہوں نے مچھلی کے قصاص میں کنے کوذبح کیا اور انتقام کی آگ بجھائی۔ ”

مصر قدیم کا مورخ اسٹرا یوں بھی ہے اس نے لکھا ہے کہ 

”مصر والے گھڑیالوں اور مگر مچھوں کے لیے کھانے کا نظم بڑے تزک و احتشام سے مختلف دریائوں میں کرتے تھے اور بیش قرارقوم اس پر وہ خرچ کیا کرتے تھے ۔”

ہیروڈوئس نے بھی لکھا ہے کہ 

”مصری جن جن جانوروں کو پوجا کرتے تھے ان کی لاشوں کو وہ بادشاہوں کے مقبروں میں دفن کیا کرتے تھے اور ان معبود جانوروں کے دفن میں اپنے ماں باپ اور عزیزوں قریبوں سے بھی زیادہ دلچسپی لیتے اور بیش قرار مصارف کا بار اٹھاتے ۔”

انطون زکری کا بیان ہے کہ 

”حال میں ایک بڑے گہرے خندق سے ہزارہا ہزار بلوں ،اور مگر مچھوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جو ممی (حنوط) کی ہوئی تھی ۔”

مصر کی تاریخ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ تیس خانودوں کی حکومت عہد فراعنہ میں یکے بعد دیگرے جو قائم ہوتی رہی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کم از کم حضرت مسیح علیہ السلام سے چار ہزار برس پیشتر سے شروع ہوکر نقتانی بوس ثانی پر پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے سمجھا جاتا ہے کہ ،تین سو پچاس قبل مسیح میں فراعنہ کے اس دور کا انقراض ہوا ،رومی اسی کے بعد مصر پر قابض ہو گئے ، جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ سراغ لگانے والے مختلف قرائن اور شہادتوں کی روشنی میں اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ ہزارہا سال تک توحید و آخرت پن اورپاپ یعنی نیکی و بدی ، برداثم ،بہشت دوزخ مرنے کے بعد دوسری زندگی یہ اور اسی قسم کی وہ ساری باتیں جن کی تعلیم خدا کے پیغمبر وں نے دنیا کو دی ہے یہی چیزیں مصریوں کی دینی زندگی کے جوہری حقائق تھے ،لیکن مصر کے اسی موحد ملک کے باشندے عروج و ارتقاء کی آخری بلندیوںپر جب پہنچ گئے تو شش و نق اور تاکلوت نامی فرعونوں کے زمانے میں جو اٹھائیسویں خانوادے کے حکمران تھے تخمینہ کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح سے تقریباً ایک ہزار سال سے آگے ان کی حکومت کا عہد متجا و ز نہیں ہوتا ،اسی زمانے میں خالق عالم کے سا منے سے ان کی پیشانی ہٹی اس کے بعد وہی انجام ان کے سامنے آیا جو خدا نے سامنے سے ہٹ جانے کے بعد ہر قوم کے سامنے لایا ہے یعنی ایک خالق کے سامنے سے جب کبھی کوئی قوم ہٹی ہے تو دیکھا گیا کہ ہر ایک کے سامنے پڑی ہوئی ہے ، آپ دیکھ رہے ہیں کہ جعل جیسے کیڑے تک معبود بنا لینے پر وہ راضی ہو گئے ،وہ کتوں کو بھی پوجنے لگے اور بلوں کو بھی ،سانپوں کو بھی اور بچھوں کو بھی ۔

اور یہی میں کہناچاہتا تھا کہ کچھ نہیں تو صرف مصر قدیم کی تاریخ ہی کا اگر مطالعہ کیا جائے تو نظر آئے گا کہ ابتداء ً ہر قوم و ملت کو خالق عالم کی طرف سے پیغمبروں اور رسولوں نے توحید ہی کی تعلیم دی ہے شرک میں جب کبھی اور جہاں کہیں بھی قومیں مبتلا ہوئی ہیں وہ اپنے ابتدائی دین سے دور ہونے کے بعد ہی ہوئی ہیں اس قسم کی قرآنی آیتیں مثلاً
( وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلاً اَنِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوْا الطَّاغُوْتً ) ] النحل :[
”ہم نے ہر امت (قوم)میں اپنے پیغام بر بھیجے (یہ پیغام لے کر )کہ اللہ ہی کو پوجتے رہو ،اور الطاغوت (یعنی خدا سے سر کش بنانے والی چیزوں) سے بچتے رہنا ۔”
یہ واقعہ ہے کہ ان کا صحیح مطلب دنیا کی قوموں کی تاریخ ہی کے پڑھنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے خود اسی آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے :
( فَسِیْرُوْا فِیْ الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمَکَذِّبِیْنَ ) ]:[
”پھر چلو پھرو زمین میں اور دیکھو! کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ۔”
 کاش !تفسیر کی تمام کتابوں کے ساتھ ساتھ قرآن کو سمجھنے کے لیے اس قرآنی مشورے کو ہمارے علماء سنتے ، سیر فی الارض ہی کی تعمیل کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ زمین کے مختلف حصوں میں جو قومیں گزری ہیں کتابوں میں ان کا مطالعہ کیا جائے اور ان زبانوں کے سیکھنے کی کوشش کی جائے جن سے زمین کی پُرانی امتوں کے حال کے جاننے میں مدد مل سکتی ہے ۔
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے پہلے شمارہ، -2012 اپریل،- سے ماخوذ ہے۔
مولانا سیّد مناظر احسن گیلانی کا یہ مضمون ماہنامہ ” برہان ” دہلی کی جولائی و اگست ١٩٤٩ء کی اشاعت میں طباعت پذیر ہوا تھا ۔ جناب محمد عامر قمر صاحب نے مولانا گیلانی کے قرآنی مقالات کا ایک مجموعہ مرتب کیا ہے ۔ ” الواقعہ ” کے مضمون ہذا کی اشاعت موصوف ہی کی توجہ و تشویق سے عمل میں آئی ہے ۔ ادارہ ان کا شکر گزار ہے.