حبّ رسول ﷺ کے عملی تقاضے


07 Hubb e Rasool TITLE

کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

کلکی اوتار۔ رسالت محمدی ﷺ کی صداقت ہندؤوں کی مقدس اور مذہبی کتابوں کے آئینہ میں۔ ایک ہندو پروفیسر پنڈت وید پرکاش کی تحقیق


ذیقعد و ذی الحجہ 1434ھ/ ستمبر اور اکتوبر 2013، شمارہ  1806 kalki avatar AlWaqiaMagzine, Al-Waqia,  AlWaqiaMagzine.wordpress.com, Al-Waqia.blogspot.com, مجلہ الواقعۃ

مقام محمدی ﷺ


شوال 1434ھ/ اگست ، ستمبر2013، شمارہ  17

مقام محمدی

پروفیسر یوسف سلیم چشتی

Contents in uni-code are included at the bottom of the article. To download PDF, pls click the link at the bottom.
مضمون کے آخر میں مندرجات یونی کوڈ میں بھی شامل ہیں۔ "پی ڈی ایف” ڈاؤن لوڈ کرنے لئے آخر میں دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔
علامہ
اقبال مرحوم نے یہ اشعار اپنے متعلق لکھے
تھے مگر ان سے زیادہ مجھ پر صادق آتے ہیں ۔
چوں
بنام مصطفےٰ خوانم درُود
از
خجالت آب می گردد وجود
عشق
می گوید کہ اے پابند غیر
سینہ
تو از بتاں مانند دیر
چوں
نداری از محمد رنگ و بود
از
درود خود میالآ نام او

توہین رسالت اور مغرب کا اندازِ فکر


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

توہین رسالت ﷺ اور مغرب کا اندازِ فکر (1)

رسالتمآب کی توہین و تنقیص کا جو سلسلہ مغرب یا عیسائی دنیا کی جانب سے جاری ہے ، اس اندازِ فکر کا تاریخی تجزیہ کرنا نہایت ضروری ہے ۔ اس دریدہ ذہنی کے مختلف عوامل ہیں ۔ مسلمانوں کے مقابل میدانِ جنگ میں شکست کی ذلت ، اسلام کی غیر معمولی نشر و اشاعت کے سامنے اپنی بے بسی ،مسلمانوں کی اخلاقی وسعت کے سامنے اپنی برہنہ تہذیب کا احساس اور ان سب سے بڑھ کر سیرتِ محمدی کی حیرت انگیز روحانی تاثیر ۔ یہ وہ عوامل ہیں جو ان کی طبیعتوں پر اسلام کے حوالے سے جھنجھلاہٹ ، ہٹ دھرمی اور عامیانہ پن پیدا کردیتے ہیں ۔

مغرب میں توہینِ رسالت کا مختصر تاریخی جائزہ

مغربی دنیا نے ابتدا میں مسلمانوں کے مقابل مسلسل ناکامی پر اپنی بے بسی کا اظہار مسلمانوں کے لیے بدنما القاب رکھ کر کیا ۔ چنانچہ مسلمانوں کو بت پرست Pagan، ملحد Saracen / Infidel وغیرہا القاب سے نوازا گیا ۔ آخری اصطلاح سے متعلق بعض مستشرقین نے بڑی دلچسپ حاشیہ آرائیاں کی ہیں جن سے ان کی ” وسعتِ ظرف و اخلاق ” کابخوبی احساس ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف کلیسا کے شدت پسندانہ پروپیگنڈا کا اندازہ اس مقولے سے لگایا جا سکتا ہے :

The only good Saracen is a dead Saracen.”

اس تحریکِ منافرت ہی کے نتیجے میں مسلمانوں کو زوالِ اسپین کا صدمہ برداشت کرنا پڑا ۔ مغرب میں انتہائی وسیع پیمانے پر مسلمانوں کو شہید کیا گیا ۔ عیسائی دنیا کے جذبات بھڑکانے کے لیے بے شمار پادریوں کو فرضی داستانوں میں مسلمانوں کی تلوار سے قتل کروایا گیا ۔ لطف یہ ہے کہ آرڈر بلیو سدرن R.W.Southern نے اوتو آف فریزنگ کے حوالے سے لکھا ہے :

” آرچ بشپ تھیمو کو مسلمانوں نے اس لیے قتل کر ڈالا کہ اس نے قاہرہ میں ان کے بتوں کو توڑ ڈالا تھا۔” (بحوالہ اسلام ، پیغمبر اسلام اور مستشرقینِ مغرب کا اندازِ فکر : ١٨٣)

کجا مسلمان ، کجا اصنام پرستی !

معاندانہ جذبات سے مغلوب ہوکر علوم اسلامیہ کا جائزہ لینے کے لیے تحریکِ استشراق کا آغاز کیا گیا ، جس کا مقصدِ اوّلین پیغمبر اسلام پر دشنام طرازی کے لیے ” نئی علمی و تاریخی راہوں ” کی تلاش تھا ۔

پہلے پہل جس مسیحی عالم نے اسلامی علوم و فنون کو اپنا مرکز توجہ ٹھہرایا ۔ وہ یوحنّا دمشقی تھا ۔وہ شام کے ایک عرب عیسائی گھرانے میں ٦٧٦ء کو پیدا ہوا ، اس نے مدارسِ اسلامیہ میں تعلیم کے مراحل طے کیے ۔ اسے عربی زبان پر مکمل عبور حاصل تھا اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے وہ بخوبی آشنا تھا ۔ اسلام کے خلاف اس کی کتاب Cocerning Heresy Haireseon کا دسواں باب ہے ۔ اس زمانے میں مسلمانوں کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف نسبت دیتے ہوئے عیسائی حضرات اسماعیلی کہتے تھے ۔ چنانچہ اس کی کتاب میں مسلمان کی بجائے اسماعیلی کی اصطلاح ملے گی ۔ اس کا انتقال ٧٤٩ء کو بیت المقدس کے اطراف میں واقع ایک مقام بارسبا میں ہوا ۔ اگرچہ اس کا تعلق شام سے تھا مگر بقول ڈاکٹر محمود احمد غازی :

"اس کی تحقیقات کا استشراق میں بڑا اہم مقام حاصل ہے ۔ اس نے اسلام کے بارے میں جو کچھ لکھا ، قرآن مجید کے بارے میں جو کچھ لکھا اور حضور علیہ الصلوةٰ و السلام کی ذات گرامی کے بارے میں جو کچھ لکھا وہ ایک طویل عرصے تک مغربی ماہرین اور مغربی اہلِ علم کے لیے بہت بڑا مآخذ و مصدر رہا ۔ اس کی تحریروں کا لاطینی زبان میں ترجمہ بھی ہوا ۔ لاطینی زبان سے دوسری مغربی زبانوں میں اس کے خلاصے ہوئے اور جو تصورات اس نے قائم کیے تھے ، جن خیالات کا اس نے اظہار کیا تھا ، انہوں نے ایک طویل عرصے تک مغرب کے اہلِ علم کو متاثر کیا ۔ اور وہ غلط فہمیاں یا شکوک و شبہات جو یوحنا دمشقی نے پیدا کیے تھے ، طویل عرصے تک دُہرائے جاتے رہے ۔ ” (خطبات کراچی : ٢٥٠)

مغربی دنیا یوحنا دمشقی کے پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں سے بری طرح متاثر ہوئی اور اسلام ، عقائدِ اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ان کے زاویۂ فکر و نگاہ میں مزید ابتری آئی ۔ صلیبی جنگوں نے یورپ کو اسلام کے خلاف مزید متعصب بنا دیا ۔ ایسے ایسے شرمناک الزامات انہوں نے نبی کریم کی ذات اقدس پر عائد کیے کہ جس کا ذکر بھی انسانیت کے لیے باعثِ تذلیل ہے ۔ یہ تعصب و عناد صرف عوامی سطح تک محدود نہیں تھا بلکہ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ دماغ کے افراد بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے یکساں مزاج رکھتے تھے ۔

اطالوی زبان کا سب سے بڑا شاعر دانتے الیگری Dante Alighieri ( ١٢٦٥ء -١٣٢١ء ) عالمی ادبیات میں نمایاں مقام کا حامل تھا ۔ مگر نبی کریم کے بارے میں اس کے خیالات نہایت عامیانہ تھے ۔ اس کی مشہورِ زمانہ کتاب Divine Comedy ( طربیہ خداوندی ) مختلف زبانوں میں منتقل ہوچکی ہے ۔ اردو میں بھی اس کا ترجمہ ہوا ہے ۔ اس کتاب میں اس نے اپنے ایک روحانی سفرنامے کا تذکرہ کیا ہے ۔ یہ خیال بھی اس کا اپنا نہیں بلکہ مسلمانوں سے اخذ کردہ ہے ۔ نبی کریم کے سفرِ معراج سے وہ واقف تھا ۔ اسی طرح شیخ ابن عربی نے بھی ایک روحانی سفرنامہ لکھا ہے ۔ ابن عربی کا تعلق اسپین سے تھا ۔ ان کی تحریروں سے مغربی مفکرین واقف اور آگاہ تھے ۔ الغرض دانتے کا یہ ” عظیم شاہکار ” بھی مسلمانوں ہی کے علمی ورثے کا نتیجہ ہے ۔ لیکن مسلمانوں سے اس کی نفرت و عداوت ملاحظہ ہو ۔ اس تخیلاتی سفر میں وہ جنت بھی گیا اور دوزخ بھی۔ وہاں اس نے نبی کریم کو بھی دیکھا اور جو کچھ خرافات اس کے دماغ میں تھے وہ سب اس نے نبی کریم کی ذات گرامی سے منسوب کیا ۔

مارٹن لوتھر Matin Luther ( ١٤٨٣ء -١٥٤٦ء ) کو اگرعیسائی مغرب کا سب سے بڑا مصلح قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ یہ عیسائیوں کے مشہور فرقے پروٹسٹنٹ Protestant کا بانی تھا ۔ عیسائی مذہب میں اصلاحِ مذہب کی تاریخ مارٹن لوتھر سے شروع ہوتی ہے ۔ اس نے جو اصلاحات کیں ۔ وہ سب اسلام ہی سے اخذ کردہ ہیں ۔ مثلاً اللہ اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ، اللہ براہِ راست اپنے بندے کی سنتا ہے ۔ آسمانی کتابوں میں تبدیلی کا حق کسی کو حاصل نہیں ۔تمام انسان پیدائشی اعتبار سے برابر ہیں ، کسی کو کوئی وجۂ امتیاز حاصل نہیں۔ پوپ اللہ اور بندے کے درمیان وسیلہ نہیں ہے ۔ یہ وہ تعلیمات ہیں جو سب سے پہلے اسلام نے پیش کیں ۔ لیکن اپنے دور کی نفرت انگیز ماحول سے وہ انگیز فقرے کستا تھا ۔ اس کی بانسری سے وہی ساز نکلتا تھا جو عرصہ سے مغربی علماء و مفکرین نکال رہے تھے ۔

ولیم شیکسپیئر William Shakespeare      ( ١٥٦٤ء -١٦١٦ء ) جسے مغربی دنیا ، دنیا کا سب سے ڈرامہ نگار قرار دیتی ہے ۔ جس کی ادبیات انگریزی ادب کی جان ہیں ۔ وہ بھی اسلام کے بارے میں اپنے عہد و ماحول کے تصورات سے مغلوب رہا ۔ اس کے ایک ڈرامے میں Mohamet کے نام سے ایک کردار ہے جسے اس نے تمسخر کا نشانہ بنایا ہے ۔

مشہور فرانسیسی شاعر ، ادیب ، فلسفی اور ڈرامہ نگار والٹیئر Francois Marie Arouet Voltaire ( ١٦٩٤ء – ١٧٧٨ء ) نے ایک ڈرامہ لکھا "Fanaticism or Mohamet”  فیناٹک ازم کا مطلب ہے پاگل پن ، دیوانگی ۔ اس ڈرامے پر اس دور کے پوپ نے والٹیئر کو مبارکباد کا خط لکھا ۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ اٹھارویں صدی میں یورپ کی علمی و مذہبی زندگی کا کیا حال تھا ۔

بایں ہَمہ یہ چھ سات سو سالہ دور ہے جسے خود اہل یورپ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ جہل و تاریکی کا دور ہے ، تحقیق و مطالعے پر مبنی نہیں ۔ لیکن جب یورپ میں زمانۂ تحقیق شروع ہوا تو علم و تحقیق کے نام پر تعصب و عناد کی ملمع کاری کی گئی ۔ اٹھارویں صدی ہی میں خیال غالب ہوا کہ مضحکہ خیز اعتراضات سے گریز کرنا چاہیئے ۔ مثلاً پالتو کبوتر کے ذریعے نبی کریم کی وحی رَسانی کی کوششیں ، مسلمانوں کی بت پرستی کا فسانہ وغیرہا۔

مغرب میں عظمتِ محمدی کا اعتراف

اٹھارویں صدی کا عظیم جرمن شاعر گوئٹے Johann Wolfgang von Goethe (١٧٤٩ء -١٨٣٢ئٍ)پہلا مغربی فرد ہے جس نے عظمتِ محمدی کا بَرملا اعتراف کیا ۔

گاڈ فرے  ہیگن Godfrey Higgins (١٧٧٢ئ-١٨٣٣ء ) اپنے دور کا سماجی رہنما ، ادیب اور ماہر آثار قدیمہ تھا ۔ اس نے نبی کریم پر عائد کردہ مغربی الزامات کی تردید میں "An Apology for The Life and Character of the Celebrated Prophet of Arabia, called Mohamed or The Illustrious” لکھی ۔ یہ کتاب لندن سے ١٨٢٩ء میں شائع ہوئی ۔ اس میں اس نے متعدد غلط فہمیوں کو دور کیا ۔ مثلاً

"It is a very great mistake to suppose that the Mohamedan religion was propagated by the sword alone.” )page:53 (

” یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ محمڈن مذہب ( اسلام ) صرف تلوار کے زور سے پھیلا ہے ۔”

سرسیّد احمد خان نے بھی ” خطبات احمدیہ” میں گاڈ فرے  ہیگن کی اس کتاب کی تعریف کی ہے ۔

 تھامس کارلائل Thomas Carlyle ( ١٧٩٥ء – ١٨٨١ء ) وہ پہلامغربی فلسفی ہے جس نے نہایت قوت کے ساتھ اپنے لیکچرز میں نبی کریم پر عائد کردہ بعض مغربی الزامات کی تردید کی ، اس نے بَرملا کہا :

"حضرت محمد ( ) کے متعلق ہمارا موجودہ قیاس بالکل بے بنیاد ہے کہ آپ ( ) دغا باز اور کذبِ مجسم تھے اور آپ کا مذہب محض فریب و نادانی کا ایک مجموعہ ہے ، کذب و افترا کا وہ انبارِ عظیم جو ہم نے اپنے مذہب کی حمایت میں اس ہستی کے خلاف کھڑا کیا خود ہمارے لیے شرم ناک ہے ۔”

جب پوکاک نے گروٹی بس سے پوچھا :

"ہمارے اس قصے کے متعلق کیا ثبوت ہے کہ محمد ( ) نے ایک کبوتر سدھا رکھا تھا ، جو ان کے کانوں سے مٹر کے دانے چنا کرتا اور جسے وہ کہتے کہ فرشتہ وحی لایا ہے ؟”

 تو گروٹی بس نے جواب دیا :

"اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ ”اب دراصل وہ وقت آ پہنچا ہے کہ اس قسم کی مہمل باتیں چھوڑ دی جائیں، اس شخص (   کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ آج بارہ سو برس سے اٹھارہ کروڑ انسانوں کے حق میں شمع ہدایت کا کام دے رہے ہیں ، یہ اٹھارہ کروڑ انسان بھی ہماری طرح خدائے تعالیٰ کے دست قدرت کا نمونہ تھے ۔ بندگانِ خدا کی بیشتر تعداد آج بھی کسی اور شخص کے بہ نسبت محمد  ) کے اقوال پر اعتماد رکھتی ہے ، کیا ہم کسی طرح اسے تسلیم کرسکتے ہیں کہ یہ سب روحانی بازی گری کا ایک ادنیٰ کرشمہ تھا جس پر اتنے بندگانِ خدا ایمان لائے اور گزر گئے ؟ اپنی حد تک تو میں ایسا قیاس نہیں قائم کرسکتا ، اسے ماننے سے پہلے میں بہت سی بعید از قیاس باتوں کوتسلیم کرلوں گا ، اگر اس دنیا میں مکر و فریب اس قدر فروغ پا سکتا ہے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسی دنیا کے متعلق کیا رائے قائم کی جائے ۔” (سیّد الانبیاء ( تھامس کارلائل کی کتاب ” ہیروز اینڈ ہیرو ورشپ ” کے دوسرے لیکچر کا اردو ترجمہ از قلم محمد اعظم خاں ) ص : ٢٣-٢٥، مطبوعہ کاروانِ ادب کراچی ١٩٥١ء)”


امریکی مصنف جان ڈیون پارٹ John Davenport(١٧٨٩ء -١٨٧٤ء) نے
 "An Apology for Mohammed and The Koran"
 لکھی۔ یہ کتاب لندن سے ١٨٦٩ء میں شائع ہوئی ۔ یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے ۔
1. Mohammed   : A Biography.
2.  The Koran and its Morality.
3.  Charges against Mohammed Refuted.
4.  Beauties of The Koran.
کتاب کی ابتدا ہی میں اس نے عظمتِ محمدی کی ایک بڑی خوبصورت دلیل پیش کی ہے ۔ اس نے لکھا ہے :

"what the Arabs were before Mohammed’s appearance and what they became after it.”

” محمد ( ﷺ)) سے پہلے عرب کیا تھے اور ان کے بعد کیا ہوگئے ۔”

ماضیِ قریب میں اعترافِ عظمتِ محمدی کی ایک انتہائی جاندار کوشش ہمیں امریکی مصنف مائیکل ہارٹ Michael H.Hart ( ولادت ١٩٣٢ء ) کی کتاب
 "The 100, A Ranking of the most Influential Persons in Histrory
میں نظر آتی ہے ۔ جس میں اس نے دنیا کی ١٠٠ اثر آفریں شخصیات میں محمد کو پہلے نمبر پر شمار کیا ہے ۔ یہ کتاب ١٩٧٨ء میں نیویارک سے منظرِ شہود پر آئی ۔ ایک عیسائی ہونے کے باوجود سے اس نے دنیا کی بڑی شخصیات میں نبی کریم کو عیسیٰ علیہ السلام سے بھی بلند مقام دیا ۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے وہ لکھتا ہے :

"My choice of Mohammad to lead the list of the world’s most influential persons may surprise some readers and may be questioned by others, but he was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels……..Today, thirteen centuries after his death, his influence is still powerful and pervasive.” ( page:33 (

”دنیا کے انتہائی با ثر افراد کی فہرست کی قیادت کے لیے میرا انتخاب محمد ( ) ہیں ۔ممکن ہے میرا انتخاب بعض قارئین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دے اور بعض سوال کرنے پر مجبور کردے ۔ لیکن یہ تاریخ کی واحد شخصیت ہیں جو دونوں سطحوں یعنی مذہبی اور سیکولر اعتبار سے انتہائی کامیاب رہے ۔ ……. آج جبکہ ان کی وفات کو ١٣ صدیاں بیت چکی ہیں ۔ ان کا اثر آج بھی طاقتور اور وسیع ہے ۔ ”

ان مغربی اہلِ علم کی روشن ضمیری اپنی جگہ ان کے بعد گو ساز وہی رہے ، تاہم سروں میں فرق آگیا، چنانچہ یہ روش اختیار کی گئی کہ نبی کریم کی بعض خوبیوں کا اعتراف کیا جائے اور ساتھ اس اعتراف کو غیر مؤثر بنانے کے لیے کچھ ایسی غیر حقیقی توجیہ بھی کردی جائے جو پڑھنے والوں پر فضیلتِ محمدی عَیاں نہ ہونے دے ، مثال کے طور پر آر ،اے ،نکلسن Reynold Alleyne Nicholson (١٨٦٨ء -١٩٤٥ئ) نے پامر Edward Henry Palmer (١٨٤٠ئ-١٨٨٢ئ)کے ترجمہ قرآن پر جو دیباچہ لکھا ہے اس میں جناب رسولِ کریم کے خلوص کو تسلیم کیا ہے ، تاہم یہ کہنے سے بھی بازنہ رہ سکا :

” جب حالات کے جبر کے تحت پیغمبر  ) ایک حکمراں اور قانون ساز میں ڈھل گئے ، تو بھی یہ ایک نفسیاتی ضرورت تھی کہ وہ خود کو الہامی پیغامات کا منتخب ذریعہ سمجھتے رہیں ۔ ”   (بحوالہ اسلام ، پیغمبر اسلام اور مستشرقینِ مغرب کا اندازِ فکر : ١٦٤)

جاری ہے 

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری اور ان کی کتب سیرت


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/  اگست ، ستمبر 2012

قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری اور ان کی کتب سیرت

محمد ساجد صدیقی

حب رسول سے سر شار کتاب ، رحمتہ للعالمین کے مصنف قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمتہ اللہ علیہ ١٨٦٧ء کو منصور پور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم والد قاضی احمد شاہ سے حاصل کی۔سترہ سال کی عمر میں مہندرا کالج پٹیالہ سے منشی فاضل کے امتحان میں پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے۔ (برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن ازمحمد اسحاق بھٹی)۔ اس کے بعد انہوں نے ریاست پٹیالہ میں محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی۔اپنی قابلیت و صلاحیت اوربفضل تعالیٰ وہ ترقی کرتے ہوئے ١٩٢٤ء میں سیشن جج مقرر ہوگئے ۔
 قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قابلیت ،صلاحیت اور علم کو اسلام کے لئے موثر طریقے سے استعمال کیا۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول سے انتہائی محبت اور عقیدت کا اظہار اُن کی جملہ تصانیف سے بخوبی ہوتا ہے۔انہوں نے متعدد کتابیں تصنیف کیں جن میں کتب سیرت کے نام درجِ ذیل ہیں۔

١) سید البشر٢) اسوہ حسنہ٣) مہر نبوت٤) رحمتہ اللعالمین٥) اصحاب بدر

قاضی محمد سلیمان منصور پوری بحیثیت جج انتہائی مصروف ہونے کے باوجود نہ صرف یہ کہ علمی اور تصنیفی کام کرتے تھے بلکہ روزانہ درسِ قرآن بھی دیتے تھے ۔ معتدد عیسائیوں اور پادریوں سے مناظرے بھی کیے ۔دروس و تبلیغ کے خاطر دوردراز کے سفر بھی کرتے تھے ۔وہ عربی میں مہارت رکھتے تھے اور قرآن پاک کے تفسیری نکات بھی بیان کرتے تھے۔انہوں نے دو مرتبہ حج کیا۔ دوسرے حج سے واپسی پر جہاز میں ان کا انتقال ہوگیا۔ مولانا محمد اسمعٰیل غزنوی رحمتہ اللہ نے اُن کا جنازہ پڑھایا اور پھر انہیں سمندر کے سپرد کردیا گیا۔ (اناللھ وانا الیھ راجعون ) اس طرح اُن کی یہ دعامقبول الہی ہوگئی کہ ”اے مولا! مجھے ایسے وقت اپنے حضور بلانا جب میں دنیا کی ہر قسم کی آلائشوں سے پاک ہوں۔” (اصحاب ِبدر چوتھا ایڈیشن ،حکیم محمد عبداللہ جہانیاں کے مضمون سیرتِ سلیمان سے ماخوذ)

قاضی محمد سلیمان منصور پوری کی کتب سیرت کا جائزہ

قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمتہ اللہ کو سیرت رسول  کے موضوع سے خاص شغف تھا۔وہ فرماتے ہیں۔ ”سالہا سال سے میری یہ آرزو رہی ہے کہ حضرت سید ولد آدم محمد النبی الاُمی، کی سیرت پر تین کتابیں لکھ سکوں ۔ مختصر ۔متوسط ۔مطول۔١٨٩٩ء میں مختصر کتاب لکھ کر شائع کر چکا ہوں ۔اس کا نام مہر نبوت ہے ۔ متوسط کتاب کا نام رحمتہ اللعالمین تجویز کیا گیا ہے۔” (رحمتہ اللعالمین جلد نمبر ١)۔ ذیل میں ان کی دو معروف کتبِ سیرت کا تعارف پیش کیا جارہاہے۔

رحمتہ اللعالمین :

اردو زبان میں سیرت نبوی  پر لکھی جانے والی ابتدائی کتب میں ” رحمتہ اللعالمین ” شامل ہے ۔رحمتہ للعالمین کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس کے بعد اردو زبان میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر لکھی گئی تقریباًتمام قابل ذکر اور تحقیقی کتب کے مصنفین نے ”رحمتہ اللعالمین ” سے استفادہ کیا ہے۔ ”رحمتہ اللعالمین ”اپنی پہلی جلد کی اشاعت کے بعد ہی اتنی مقبول اور معروف ہوگئی تھی کہ کئی مدارس کے نصاب میں شامل کردی گئی۔
جب پہلے پہل لوگوں کو معلوم ہوا کہ علامہ شبلی نعمانی سیرت پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں تو لاہور کے اس وقت کے مشہور اخبار ”وطن ” کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خان نے یہ خیال ظاہر کیا کہ”جناب قاضی سلیمان صاحب منصور پوری تو سیرت لکھ ہی چکے اب اس کی کیا ضرورت ہے اور اس سے زیادہ کیا کچھ لکھا جاسکتا ہے۔” (بحوالہ مضمون ”برصغیر کے خادمان سیرت ” ازمولانا حسن مثنیٰ ندوی مشمولہ کتاب ” پیغمبر انسانیت ” از مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی ص٢٠مطبوعہ اول ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور )
اس کتاب میں یورپ کے مستشرقین کی جانب سے نبی کریم  کی ذات مقدس پر لگائے گئے الزامات اور غلط فہمیوں کا موثر انداز میں رد کیا ہے۔اور انجیل و تورات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ”رحمتہ اللعالمین ”ثابت کیا ہے۔
جلد اول میں نبی کریم کی سیرت مبارکہ کا مکمل احاطہ کرنے کے بعد باب ٥ میں نبی کریم  کے اخلاق عظیم کو انتہائی تفصیل اور جامعیت سے بیان کیا ہے۔سیرت نبوی اس طرح بیان ہوئی ہے کہ اس سے اسلام کی حقانیت کے ساتھ ساتھ فقہ رسول اور احادیث رسول کی بھی تبلیغ و تر غیب ہوجائے۔
جلد ثانی میں رسول اللہ  کے شجرہ نصب کو حضرت آدم علیہ السلام تک انتہائی محنت اور تحقیق سے بیان کیا ہے۔ قاضی محمد سلیمان منصور پوری غالباًوہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے نبی کریم  کی حیات مبارکہ کو ونوں ،گھنٹوں اور مختلف اقوام کے کلینڈروں سے اس قدر تحقیق سے بیان کیا۔ خاندان قریش کے کئی قابل ذکر افراد کے حالات و واقعات بھی اختصار کے ساتھ لکھے ہیں۔
نبی کریم کے عہد مبارکہ میں ہونے والے سر ایا اور غزوات کا تفصیلی نقشہ یا چارٹ جس میں ٨٢ غزاوات و سرایاکا ذکر ہے۔نبی کریم کی کثرت ازواج کے متعلق مستشرقین کے پھیلائے ہوئے افکار و نظریات کا بھر پور ردکیا ہے اور امہات المومنین کی سیرت مبارکہ کا اجمالی ذکر کیا ہے۔باب پنجم میں نبی کریم  کا دیگر انبیاء کرام کی زندگی سے مما ثلت اور اُن کی محمد رسول اللہ  کے حق میں کی گئی دعائوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ باب ششم میں نبی کریم  کے رحمتہ اللعالمین ہونے کے دلائل اور اسباب انتہائی خوبصورتی سے بیان کیے گئے ہیں۔
جلد سوم خصائص النبی  کے لیے مخصوص ہے ۔جس میں رسول اللہ  کے معجزات اور خصا ئص کو قرآن کریم اور کتب سابقہ و احادیث رسول  سے بیان کیا ہے۔مختلف انبیاء کرام کے واقعات بیان کرکے اُس کی تاریخ و لادت نبی  سے بیان کرتے ہیں۔
سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں :

مرحوم نے رحمتہ للعالمین لکھی، رب العالمین نے اس دنیا میں اس کو قبول کے شرف سے ممتاز کیا۔امید ہے کہ اس کی رب العالمینی اور اس کے رسول کی رحمتہ للعالمینی دوسری دنیا میں بھی اُس کی چارہ نوازی کریگی۔” (مقدمہ ”رحمتہ اللعالمین” جلد سوم)

سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں :

 ”اگر چہ اُردو میں سیرت النبی کے موضوع پر بے شمار کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔تاہم اِن کتب میں سے چند ہی ایسی ہیں جن کے اندر واقعات کی صحت بیان کا لحاظ رکھا گیا ہے اور ان چند کتب میں قاضی صاحب کی ”رحمت للعالمین”سر فہرست ہے۔

مولانا حسن مثنیٰ ندوی لکھتے ہیں :

خدمت سیرت کے سلسلے میں دوسرا اہم نام مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری کا ہے۔قاضی صاحب ریاست پٹیالہ پنجاب کے جج تھے اور وسیع النظر عالم و محقق تھے۔ ان کی مشہور کتاب رحمتہ اللعالمین کی پہلی جلد ١٩١٢ء میں شائع ہوئی۔یہ کتاب سیرت رسول پر بحیثیت سیرت پہلی تفصیلی جامعیت کی کتاب تھی جو اردو زبان میں منظر عام پر آئی۔ یہ تحریک سیرت سے مقصود کے مطابق تھی اور قاضی صاحب کو اس مرکزسے خصوصی ربط تھا ۔حسن میاں نے تبصرہ و تنقید کے ساتھ قاضی صاحب کو لکھا کہ ”اس کتاب کے بعد مجھے یہ کام کرنے کی ضرورت باقی نہ رہی۔” ( پیغمبر انسانیت  ازشاہ محمد جعفر پھلواروی میں مولاناحسن مثنیٰ ندوی کے مضمون ”پاکستان و ہندوستان کے خادمانِ سیرت)

مولانا حسن مثنی ندوی نے دس اہم خصوصیات ” رحمتہ العالمین ” کی بیان کی ہیں اور انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ”مصنف نے اس کے صفحات پر دماغ کے ساتھ دل کے ٹکڑے بھی رکھ دیے ہیں ۔ایک ایک لفظ سے عشق نبوی اور حب انسانیت نمایاں ہے۔” (ایضاً )
اصحاب بدر
اسلام اور کفر کے درمیان فیصلہ کن معرکہ جنگ بدر میں شریک ہونے والے مسلمانوں کے حالات زندگی پر مشتمل اس کتاب میں مسلمانوں کے سپہ سالار اعظم اور نبی الخاتم محمد کے مختصر حالات زندگی بیان ہوا ہے۔جنگ بدر کا تفصیلی اور ایمان افروز نقشہ کھنچا ہے۔ قدم بقدم نبی  کا دعائیں کرنا ، مسلمانوں کے ساتھ مشورے کرنا ،مختلف سردارانِ کفار کی موت کی پیشنگوئیاں کرنا، صحابہ کا جوشِ شہادت ، قیدیوں سے حسنِ سلوک غرض نبی کے قائم کردہ جنگی اصل وقواعد کا بہترین اظہار کیا ہے۔اہل بدر کا مقام اور مرتبہ کو احادیث سے بیان کیا ہے۔
قابل ذکر و تحسین کام یہ ہے کہ نبی کریم کی ولادت باسعادت کو دنیا کے مختلف اقوام میں رائج ١٢مختلف سنین کے مطابق درج کیا ہے۔ پھر حضور  کی ولادت سے وفات تک کے ایام کو ”دنوں”اور ”گھنٹوں” میں بیان کیا ہے۔لکھتے ہیں:

عالم دنیوی میں حضور  نے ولادت سے لیکر وفات تک٢٢٣٣٠ دِن٦گھنٹے قیام فرمایا۔یہ چھ گھنٹے اکتیسویں دن کے تھے۔ مذکورہ بالا ایّام میں سے ٨١٥٦ دن تبلیغِ رسالت و نبوت کے ہیں۔ ” (اصحابِ بدر۔ از مولانا سلیمان سلمان منصور پوری ص ٦٣۔٦٤۔ناشر: مکتبہ نذیریہ، لاہور)

نبی کا مختصر نسب نامہ بیان کرنے کے بعد ان تمام غزوات کے نام تحریر کیے جن میں آپ  نے شرکت فرمائی۔

مولانا عبد الحلیم شرر اور ان کی کتبِ سیرت


الواقعۃ شمارہ نمبر 2

محمد ساجد صدیقی 

 
مولانا عبدالحلیم شرر ١٨٦٠ء میں مشہورادبی شہر لکھنؤ کے محلہ جھنوائی ٹولہ میں پیدا ہوئے ۔آپ کا سلسلہ نسب عباسی خلیفہ امین الرشید سے جا ملتا ہے ۔یعنی آپ ہاشمی و عباسی ہیں ۔ [تراجم علمائے حدیث ہنداز ابو یحیٰ امام خان نوشہری : ٥٢٢]۔ مختصر شجرہ نسب یوں ہے۔عبدالحلیم شرر بن تفضل حسن (عبدالرحیم ) بن مولوی محمد بن مولوی نظام الدین۔

[عبدالحلیم شرر بہ حیثیت ناول نگار از ڈاکٹر علی احمد فاطمی بحوالہ دلگداز۔جنوری ١٩٣٣ء ص١١]۔
 
سات یا آٹھ برس کی عمر میں ان کے والد نے انہیں لکھنؤ(جہاں وہ اپنی والدہ کے پاس تھے۔) سے اپنے پاس بغرض تعلیم کلکتہ بلوالیا۔اس طرح انہیں انتہائی کم عمری میں ہی والدہ کی گوشئہ عافیت سے دور ہونا پڑا۔عبد الحلیم شرر مٹیابرج میں انتہائی تیزی اور ذہانت سے دینی علوم حاصل کرنے لگے۔وہیں ان کو شہزادوں کی صحبت میسر آئی۔جہاں سے کچھ خرافات کا اثر ان کے اخلاق میں پڑا مگر ان کی ادبی شوق و ذوق کی بھی تر بیت یہاں ہی ہوئی ۔خراب صحبت کی وجہ سے والد نے انہیں دوبارہ لکھنؤ بھیج دیا۔لکھنؤ میں انہوں نے مشہور عالم علّامہ ابو الحسنات عبدالحی حنفی لکھنوی سے بعض کتبِ درسیہ کی تحصیل کی ۔پھر ایک شیعہ عالم حامد حسین کے پاس بغرض علم ملازمت کی۔
 
عبدالحلیم شرر کی زندگی میں اصل انقلاب اُس وقت آیا جب مولوی نور محمد صاحب ملتانی تلمیذ مولانا عبدالحی سے شرح نخبہ پڑھی اور جامع ترمذی کے پڑھنے کے دوران ہی ان کے قلب میں علم حدیث کی محبت اتنی شدت سے بڑھی کہ آپ شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے حلقہ درس میں شامل ہونے کے لیے دہلی پہنچ گئے اپنے شوق و جستجو کی بدولت صرف ڈیڑھ سال میں صحاح ستہ، موطا امام مالک اور تفسیر جلالین پڑھ کر واپس اپنے وطن لکھنؤ پہنچے۔[تراجم علمائے حدیث ہند]
 
مولانا کی پہلی دینی اور ادبی خدمت شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب کی مایہ ناز کتاب ”کتا ب التوحید ”کا اُردو میں ترجمہ ہے۔ [ماہنامہ ”دلگداز” نومبر ١٩٣٣ء بحوالہ عبدالحلیم شرربحیثیت ناول نگارازڈاکٹر علی احمد فاطمی].
 
”کتاب التوحید”سے اپنی علمی اور تصنیفی زندگی سے ابتداء کرنا ان کے لیے بہت مبارک اور باعثِ برکت ثابت ہوا۔ دہلی ہی میں انہیں مضمون نگاری کا شوق ہوا۔اِس کے علاوہ انہوں نے شاعری بھی کی اور اپنا تخلص”شرر”رکھا۔ پھر وہ اودھ اخبار میں بحیثیت سب ایڈیٹر ملازم ہوگئے۔جہاں انہوں نے مختلف علمی ، دینی، ادبی اور فلسفیانہ مضامین لکھے۔ اس طرح اُن کے اسلوب تحریر اور ذوق ادب میں نکھار پیدا ہوا۔
 
مولانا کی شہرت کا اہم سبب ناول نگاری ہے۔اُ ن کے ناولوں نے بالخصوص تاریخی ناولوں نے اردو ادب کو ایک نئی جہت دی۔انہوں نے تاریخی واقعات خصوصاًاسلامی تاریخی واقعات کو ناولوں کے ذریعے اس عمدگی سے بیان کیا ہے کہ قاری محسوس کرتا ہے کہ وہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہاہے۔مولانا نے متعدد ناول اور مضامین کے علاوہ سوانح عمری ، کتبِ تاریخ ،ڈرامے اور منظومات بھی لکھیں ۔جن کی تعداد تقریباً١٠٠ ہیں۔اردو ادب کے اس بے نظیر ادیب نے ١٧جمادی الثانی بروز جمعہ بمطابق ١٠ جنوری ١٩٢٦ء میں اس دنیائے فانی کو خیر باد کہہ دیا۔انا للہ واناالیہ راجعون۔ [عبدالحلیم شرر بہ حیثیت ناول نگار از ڈاکٹر علی احمد فاطمی ص١٤٦ ، انجمن ترقی اردو پاکستان ،کراچی]
 
مولانا شرر نے اپنی پوری زندگی تاریخ و ادب اسلامی کے لیے وقف رکھی ۔ افسوس ہے کہ ایسے جلیل القدر ادیب کی ہماری علمی دنیا نے قدر نہیں کی ۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی لکھتے ہیں :
"آج بازار میں شرر صاحب کا نام ماند پڑگیا ہے ، کل ” حشر و الے کل ” سے قبل ہی انشاء اللہ اسی دنیا میں پھر ابھرے گا ، جس وقت مسلمان اپنے خادموں کی تاریخ مرتب کرنا شروع کریں گے ۔ ” [معاصرین : ١١٨]

عبدالحلیم شرر کی کتب سیرت کا ایک جائزہ

 
ہمیں عبدالحلیم شرر کی سیرت مبارکہ ۖ کے متعلق تین کتب کا علم ہوسکا ہے۔
 
(١)جو یائے حق
(٢)ختم المرسلین
(٣)ولادت سرور عالم 
 

جو یائے حق

جو یائے حق ایک تاریخی ناول ہے ۔جس کا بنیادی کردار حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ذات گرامی کو بنایاگیاہے۔اس ناول میں حضرت سلمان فارسی خطوط کے ذریعے (جو وہ ایک عیسائی عالم ”بحیرا”کو لکھتے ہیں)نبی کریم  ۖ کی پوری حیات مبارکہ ،عربوں کا طرز زندگی ،نبی کریم  ۖکا حسن سلوک، یہودیوں کی چالبازیاں ،صحابہ کا نبی کریم ۖسے والہانہ محبت ، جنگوں میں مسلمانوں کی بہادری و آرزوئے شہادت، فتح مکہ، نبی کریم ۖ کا وصال ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے حالات اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور ِخلافت کو بھی بیان کیا ہے۔
 
ناول ہونے کی وجہ سے” جویائے حق ”میں منظر نگاری اور تخیلاتی جھلک موجود ہے لیکن عبدالحلیم شرر نے تاریخی واقعات کو عمدگی سے تخیل چمن سے سجاکر انتہائی مہارت سے پیش کیا ہے اور تاریخی واقعات کو تخیلات میں ضم ہونے سے بچالیا ہے۔ڈاکٹر علی احمد فاطمی لکھتے ہیں:

”یہ ناول جو دراصل ناول نہیں ہے بلکہ ایک مکمل تاریخی کتاب ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ٹھوس تاریخیت زیادہ ہے اور قصہ پن کم اس کی وجہ اس موضوع کی نزاکت ہے۔تاریخی مقصد کو ناول کی شکل دینے کے لیے تخیل کی نیرنگیاں دکھانا لازمی ہے۔لیکن اس مقدس و محترم موضوع میں تخیل کی باگ ڈور کو پورے ہوش و ہواس کے ساتھ قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔اس وجہ سے یہ ناول کم ایک تاریخی کتاب زیادہ ہے۔سیدھی اور ٹھوس عالمانہ قدروں سے بھرپور ایک مذہبی کتاب۔”[عبدالحلیم شرر بہ حیثیت ناول نگار ص٢٩٧]

” جویائے حق ” کے متعلق مولانا حسن مثنیٰ ندوی لکھتے ہیں:

”ہم مولانا عبدالحلیم شرر کی ضخیم کتاب ”جویائے حق”کو نظر انداز نہیں کرسکتے جو اپنے طرز کی نرالی کتاب ہے ۔ اس میں انہوں نے حضرت سلمان فارسی کی زندگی اس انداز میں پیش کی ہے کہ ان کی زبان سے سیرت نبوی نہایت ہی موثر انداز میں بطرز ناول بیان ہوجاتی ہے اور پڑھنے والا اسے ختم کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔”[برصغیر کے خادمین سیرت مشمولہ مضمون کتاب ” پیغمبر انسانیت ” از مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی]

ولادت سرور عالم ۖ 

یہ رسالہ امام ابن جوزی کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ [تراجم علمائے حدیث ہند از ابو یحیٰ امام خان نوشہروی : ١/ ٥٤١]
 

خاتم المرسلینۖ

 ابو یحییٰ امام خان نوشہری نے مولانا عبدالحلیم شرر کی تاریخی کتب میں اسے شامل کیا ہے۔ تفصیلات کا علم نہیں ہوسکا۔[تراجم علمائے حدیث ہند:٥٤١]
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔