دجّالیات سے ایمانیات تک۔ تدبر و تفکر کی آرزو


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد احمد

1۔ بحیثیت مجموعی امت مسلمہ بہت بڑے خلجان کا شکار ہے کہ وہ اپنی بقاء کے لیے کیسا لائحہ عمل ( STRATEGY ) مرتب کرے حالانکہ یہ بات بخوبی واضح ہو چکی ہے کہ اختتام وقت کی لڑائیاں ( End of Time Battles ) جاری رہیں گی۔ اگر ہم ہر لحظہ قرآن مجید کی طرف متو جہ رہیں اور اپنی ایمانیات ( Motivating Force ) کی ترقی و ترویج دل و جان سے کرتے چلے جائیں تو ہمارے قدم صحیح منزل کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے ۔ ارشاد باری تعا لیٰ ہے :
( اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انشَقَّ الْقَمَرُ ۔ وَ اِن یَرَوْا آیَةً یُعْرِضُوا وَ یَقُولُوا سِحْر مُّسْتَمِرّ ۔ وَ کَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أھْوَاء ھُمْ وَ کُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرّ ۔ وَ لَقَدْ جَآئَ ھُم مِّنَ الْأَنبَاء  مَا فِیْھِ  مُزْدَجَر ۔ حِکْمَة بَالِغَة فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ۔ فَتَوَلَّ عَنْھُمْ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلَی شَیْ نُّکُرٍ ۔ خُشَّعاً أَبْصَارُھُمْ یَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ کَأَنَّھُمْ جَرَاد مُّنتَشِر ۔ مُّھطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ یَقُولُ الْکَافِرُونَ ھٰذَا یَوْم عَسِر)
“ قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا ۔یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے۔انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے ۔یقینا ان کے پاس وہ خبریں آچکی ہیں جن میں ڈانٹ ڈپٹ (کی نصیحت ) ہے اور کامل عقل کی بات ہے لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائدہ نہ دیا پس (اے نبی صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ۔ یہ جھکی آنکھوں قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے کہ گو یا پھیلا ہوا ٹڈی دل ہے ۔ پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوں گے اور کافر کہیں گے یہ دن تو بہت سخت ہے ۔” (القمر :1 تا 8) کو پڑھنا جاری رکھیں
Advertisements

LGBT ایک گھناؤنی شیطانی کارروائی


جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013، شمارہ  12-13

ابو عمار سلیم

آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جو بلاشبہ تاریخ انسانی کے ادوار میں سب سے آخری دور ہے۔ ہمارے نبی اکرم سیّد المرسلین خاتم النبین صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلمنے قرب قیامت کی جن نشانیوں کی اطلاع دی تھیں ان میں سے علماء کرام اور اصحاب علم کی اکثریت کی رائے کے مطابق تقریباً تمامنشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں ما سوائے ان بڑی نشانیوں کے جو قیامت کے بالکل متصل ہیں۔ وہ لوگ جو علم آخر الزماں کے اوپر عبور رکھتے ہیں اور جنہوں نے قیامت کی پیش گوئیوں کی احادیث کے ساتھ ساتھ دنیاوی حالات اور ان کے بدلتے ہوئے رجحانات کا مطالعہ کیا ہے وہ اس رائے پر متحد ہیں کہ ہم ظہور دجال اور یاجوج ماجوج کے فتنوں سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ اس کے بعد سیدنا حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کی تشریف آوری اور جناب مہدی علیہ السلام کا ظہور جیسے چند ایک واقعات کا رونما ہونا باقی رہ جائے گا اور پھر یہ دنیا اور کائنات لپیٹ دی جائے گی اور وہ حادثہ رونما ہوگا جس کے لیے انسان کو شروع دن سے تیار کیا جارہاہے مگر اس کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔ ہمارا سب سے بڑا دشمن ابلیس جس نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوکر اس رب العزت کی عزت کی قسم کھا کر یہ اعلان کیاتھا کہ
“میں اس  انسان کے آگے سے ، اس کے پیچھے سے، اس کے دائیں سے ، اس کے بائیں سے آؤنگا  اور اسے گمراہکروں گا اور ثابت کروں گا کے یہ اس حیثیت اور اس عہدہ کے قابل نہیں ہے جو تو اسے عطا کر رہا ہے ۔ اے اللہ تو ان میں سے بیشتر کو اپنا شکر گذار نہیں پائے گا۔” کو پڑھنا جاری رکھیں

یہ قومی سانحہ ہے۔ اداریہ


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

 از قلم: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

0 idaria ye qaumi saneha hay pdf

عالمی طاقتوں کے مفادات کی جنگ اب شہرِ کراچی میں لڑی جا رہی ہے۔ دم توڑتی سانسیں اور تڑپتی لاشیں اہلیان کراچی کے لیے اس فتنۂ سامانی کی سوغات ہیں۔ لسانِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم نے ایام فتن میں جس  "ہرج” کی پیش گوئی فرمائی تھی وہ اب شہرِ کراچی میں روازنہ کی بنیادوں پرعملا وقوع پذیر ہو رہی ہے۔
کو پڑھنا جاری رکھیں

نکسنیات سے دجالیات تک۔ پاکستان کس رُخ پر


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012
نکسنیات سے دجالیات تک۔ پاکستان کس رُخ پر ؟
محمد احمد

قسط نمبر 2 قسط نمبر 1
اس جنگ کی شروعات سے قبل مارشل اسٹالن نے روس کے باشندے مسلمانوں سے مذہبی اور سیاسی آزادی دینے کے بڑے وعدے کیے تھے ۔ مگر اپنی مطلب براری کے بعد سب کچھ طاقِ نسیاں ہوگیا اور حالات کا جبر اسی نہج پر رہا ۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین فولادی پردون کے پیچھے روپوش رہتے ہوئے چور دروازوں سے اشتراکی نظریات کے جراثیم برآمد کرتا رہا ۔ مسلم ممالک میں منافق ٹولہ ایسے اثرات قبول کر لیتا ہے ۔ اس ٹولہ کو پہلے خفیہ طور سے اسلحہ کی کھیپ پہنچائی جاتی ہے ۔ اس طریقۂ کار کو گن رننگ (Gunrunning) سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔افغانستان میں کچھ تبدیلی کے بعد گن رننگ کروائی ۔ بعد میں ظاہر شاہ (کی جائزحکومت ) ” کو ” (Coup) سے بدل دی ۔ اس سے بھی روسی ریچھ کا دل مطمئن نہ ہوا تو طوفانی فوجی یلغار سے سارا نظامِ افغانستان تہہ و بالا ہوگیا۔ ” ماڈرن ” زمانہ میں سوویت یونین نے اپنے اس اقدام کا نیا نام برزنیف حکمت عملی (Brezenev Doctrine) رکھ دیا ۔
جیسا کہ پہلے ( پیرا نمبر ٧ ) بتایا جا چکا ہے کہ عالم اسلام سے جوشیلے مسلمان نوجوان جمع ہونے لگے اور افغانستان میں عالمی اسلامی جہاد کی بنیاد پڑ گئی ۔ لاکھوں لُٹے پٹے افغان مہاجرین ، جن میں عورتیں ، بچے اور بوڑھے شامل تھے ، نے ہمسایہ ملک پاکستان میں پناہ لی۔ ان لاکھوں افراد کی برسہا برس پاکستان نے اپنے وسائل سے مہمان نوازی کی ۔ بہر حال مجاہدین کی بہت بڑی تعداد نے برضا و رغبت خلعتِ شہادت پہنتے ہوئے سوویت فوجوں کو ایسی عبرتناک شکست دی جو تاریخ میں معتبر ترین شکست مانی جائے گی ۔ ایک حیثیت میں مجاہدین نے اپنے روسی مسلمان بھائیوں کا بدلہ بھی اس انداز میں لیا کہ سوویت یونین ہی تحلیل ہوکر رہ گیا ۔ مجاہدین اپنا مقصد حاصل کرچکے تھے ۔ صورتحال کا تقاضا تھا کہ افغانستان کے حکمران وہ خود بنتے اور ان قیدیوں کا ٹرائل کرتے مگر ان اللہ کے نیک بندوں نے اپنے خون کے پیاسوں کو اس طرح معاف کیا جس طرح حضور اکرم نے مکہ کے مشرکوں کو حرم کعبہ میں معاف کیا : لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ  ۭ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ      92؁ ) (سورہ یوسف : ٩٢) ” آج تم پر کوئی گرفت نہیں ، اللہ تمہیں معاف کرے ۔ وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے ۔”
سابق سوویت یونین کے گرفتار فوجیوں کو بلا کسی گزند اور تکلیف کے دریائے آمو (River Oxus) سے پار کرادیا گیا ۔ اب روس سوویٹ یونین سے رشین فیڈریشن بن چکا ہے یعنی کل کا دیو ( سوویٹ یونین ) آج کا بونا بن گیا ۔

١٤-رچرڈ نکسن کا اسلام فوبیا کا بیج برگ و بار لاتے ہوئے ایک تناور درخت بن جاتا ہے ۔ بالفاظِ دیگر نکسن کی دور رَس حکمت عملی بروئے کار آجاتی ہے اور امریکاشدید اسلاموفوبیا کے مرض ( جو اب بڑے مرض (Pandemic) کی شکل اختیار کرلیتا ہے ) میں مبتلا ہوتے ہی دنیائے اسلام سے تصادم کی راہ پر لگ جاتا ہے۔ افغانستان میں بونی روسی ریاست ( شمالی اتحاد کے گاڈ فادر کی شکل میں ) اور امریکا ( ١١/٩کے انتقام کے لیے ) افغانستان میں بھیانک خون کی ہولی کھیلنے کے لیے کود پڑتے ہیں ۔ برطانیہ بھی امریکا کا وار آن ٹیررکا ساتھی بن جاتا ہے ۔ پوری دنیا اس ظلم اور بربریت پر چیخ پڑتی ہے اور بش اور اس کے بلیئر(Blair) سے اس خونیں ” ڈرامہ ” کو بند کرانے کے لیے بیشتر ممالک میں مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں ۔ اس ظلمِ عظیم کی حدت اور شدت کے تناظر میں سانحہ ١١/٩ ، جسے کسنجر نے جنگِ عظیم دوم کے واقعہ پرل ہاربر میں امریکی بڑے جنگی جہازوں کی بڑی تعداد میں جاپانی ہوائی حملہ سے غرقابی سے تشبیہ دی تھی ، کا امپیکٹ (Impact) بودا و جعلی محسوس ہونے لگتا ہے ۔ اس لیے ببانگِ دہل کہنے میں کوئی باک نہیں کہ نکسن نے جنگ کی چتا بالآخر اپنے منفی عزائم کے تحت جلا ہی ڈالی اور یہود نے اس آگ کو اپنی ازلی اسلام دشمنی اور منفی سرشت پر گامزن رہتے ہوئے خوب بھڑکائی اور اب یہ آگ اس نہج تک جا پہنچی کہ جس کے لیے عراق کے مرحوم صدر صدام حسین نے اپنی زندگی میں ” امّ المحارب ” ( جنگوں کی ماں ) کا نام تجویز کیا تھا ۔ انہوں نے جارج ڈبلیو بش کو دعوت مبارزت بھی دی ( جو اس نے قبول نہ کی ) اور وہ اسے میدانِ مکافاتِ عمل میں تنہا چھوڑتے ہوئے مزید مشتعل کرگئے تاکہ وہ اپنی منفی میلانِ طبع کو اور مہمیز دے ۔ شروع میں بش ایک (Secular) لادینی جنگجو رہنمانظر آتے تھے بعد میں وہ اس حد تک مشتعل کر دیئے گئے کہ وہ اس جنگ کو کرئہ ارض کی آخری جنگ (ARMAGEDDON) کے ہدف تک لے جانے کے شدید آرزو مند ہوگئے ۔ یہ نکسن کی ثلث صدی کی سوچ ، تحاریر اور منفی جذباتیت کا شاخسانہ ہے کہ جسکے ڈانڈے قرب قیامت کی بڑی نشانی -ظہور الدجال – سے مل جاتے ہیں ۔ مغرب نکسن کی پیدا کردہ اس اتھاہ منفی سوچ -اسلامو فوبیا- میں اس قدر ڈوب چکا ہے کہ اسے اب اس حالت استغراق سے نکلنا خاصا مشکل بلکہ تقریباً نا ممکن ہوگیا ہے ۔ یعنی مرض ( اسلامو فوبیا ) اور جنگ باہم لازم وملزوم ہوچکے ہیں ۔ دانشورانِ مغرب کے دماغ اتنے کھول چکے ہیں کہ وہ اس جنگی آگ میں جلنے اور جلانے کو اس ” فوبیا ” کا مؤثر علاج گردانتے ہیں ۔
١٥- بش جونیئر نے برطانوی کلیسا کا پیرو کار ہونے کے سبب وار آن ٹیرر کو مذہبی رنگ دیا اور سابق صدرِ امریکا کی حیثیت میں نکسن کے پھیلائے ہوئے اسلامو فوبیا کے فُسوں کے شدید پرچارک کا روپ دھار لیا ۔ نکسن کا شروع میں وہ غیر محسوس طریقہ سے معتقد تھا ۔ مگر ایگزیکیٹو آرڈر (Executive Order 13224) منظور کرتے ہی نکسن کوبہت پیچھے چھوڑ گیا۔اس انتظامی حکم کے تحت بش نے مشرق وسطیٰ کے صدیوں سے قائم غیر سودی مالیاتی نظم کو تہہ و بالا کردیا۔ دنیائے مغرب کا بینکاری نظام ، گو حکومتوں کے ماتحت رہا ، دنیائے اسلام کے حکومتی انتظام سے مبرّا صدیوں پرانے معاشی نظام و انصرام کے سامنے طفلِ مکتب ہی مانا جائے گا ۔ بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ امریکا نے ١١/٩کے جواب میں دنیا کے انتہائی پسماندہ ملک افغانستان پر نہ صرف اپنی بحری ، برّی اور فضائی طاقت سے بھرپور حملہ کیا بلکہ پورے اسلامک بلاک کے مالیاتی وسائل پر غاصبانہ قبضہ کے لیے آپریشن گرین کویسٹ بھی اپنی وزارت مالیات کے توسط سے شروع کردیا ۔ ایک مشہور امریکی کہاوت ہے : ” امریکا میں دوپہر کا کھاناکبھی مفت نہیں ملتا There is no free lunch in US ”آخر کیوں ؟ دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کے ناتے پوری اسلامی دنیا کو بالعموم وہ اپنا غلام بنانے کی قسم بھی کھا تا ہے اور دنیائے اسلام کے منافق حکمرانوں کو بالخصوص حِرص و ہوس کے بندے بنانے کے لیے کروڑوں ڈالرز کا دانہ بھی ڈالتا ہے ۔ اپنے طور و طریق کو بلا شرم و لحاظ وہ چھڑی اور گاجر سے تشبیہ دیتا ہے ۔ چھڑی پر تکیہ کرنا سب کی سمجھ میں فوراً آجاتا ہے ۔ مگر گاجر اپنی جیب سے کھلانا اس کے بس کی بات نہیں ۔ اسی لیے اسلامی دنیا کی منی مارکیٹ (Money Market) کی نقب زنی کے ذریعہ ٹارگٹ کلنگ (Target Killing) کراتے ہوئے بلڈ منی (Blood Money)کی ادائیگی کی جاتی ہے ۔
اگر پاکستان کے حکمرانوں میں خدا خوفی ہوتی تو وہ اپنا ملک سودی دلدل میں نہ دھنساتے بلکہ اپنے سودی قرضوں کے ڈالرز اس عظیم اسلامی مالیاتی منڈی سے خرید کر مغربی ممالک کے سودی مہاجنوں (World Bank & IMF etc) کو فی الفور ادا کرتے ہوئے اس سودی شکنجے  سے نکل آتے ۔ ایسا سودا صرف خوش قسمت افراد کے سَروں میں سماتا ہے اور جنہوں نے اپنی سائیکی میں مال و متاعِ غرور کی لذت و محبت بسا رکھی ہو انہیں باری تعالیٰ نے دنیا کی آخری جنگوں میں تپا کر دجّال کے دستر خوان کی نذر کرنے کا ارادہ فرمالیا ہے ۔ اصحاب الشمال کا بُرا انجام ایسا ہی ہونا چاہیئے ۔
ستّر کی دہائی سے اب تک ( قریباً نصف صدی ) نسل در نسل جوش و جذبہ والے ، عشقِ خداوندی و رسول ہاشمی کے متوالے اور راتوں کے راہب ، دنوں کے شہ سوار ( الرّاہبان باللّیل و الفرسان بالنّھار ) جن کے لیے علّامہ اقبال فرماتے ہیں :
جو ذکرکی گرمی سے شعلے کی طرح روشن
جو فکر کی سرعت میں بجلی سے زیادہ تیز
نوجوانوں نے مغرب کی ہائی ٹیک (High Tech) افواج کو پندرہ سو کلو میٹر طویل کوہستانی سلسلے کے غاروں کو بیس بناتے ہوئے اپنی گوریلا کارروائیوں سے ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں ۔ مستقبلِ قریب میں ان کا مطمحِ نظر امام مہدی کے زیرِ کمان لشکر دجّال سے حتمی اور نتیجہ خیز ٹکراؤ ( آپ چاہے اسے End of Time Battlesکہیں یا  Armageddonکے نام سے پکاریں صحیح ہے ) اصحابِ یمین و مقربین انہیں اوصاف سے پہچانے جاتے ہیں ۔
صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے

دورِ فتن


تبصرہ  کتب 4
دورِ فتن
مؤلف :عبد اللہ اسلام
 
تعداد صفحات : ٩٦
قیمت : (غیر مجلد )٥٠ رُپے
شائع کردہ : محمد جاوید اقبال۔ ڈی ۔١٠ ، کریم پلازہ ،  گلشن اقبال کراچی۔ ٧٥٣٠٠
محل فروخت : فضلی بک اردو بازار کراچی ، مکتبہ دار الاحسن یٰسین آباد کراچی ، اکیڈمی بک سینٹر فیڈرل بی ایریا کراچی۔
 
جناب اسرار عالم صاحب ہندوستان کے ایک مفکر اور عالم ہیں۔ آپ نے امت مسلمہ کو دجال کے دجل اور فریب سے متعارف کرنے کے لیے بڑی تگ و دو کی ہے۔ یہود کی ریشہ دوانیوں کو سمجھنے اور ان کے ذ ہنی اور فکری دھارے کا براہ راست علم حاصل کرنے کے لیے عبرانی زبان میں بھی نہ صرف یہ کہ مہارت حاصل کی بلکہ ان کے بے شمارمضامین کتابیں اور علمی مآخذ تک رسائی حاصل کر کے انہیں سمجھا اور ان کا تجزیہ کیا۔

ان کی ان علمی کاوشوں کا نتیجہ دجال کے موضوع پر مختلف النوع کتابوں اور مضامین کی صورت میں آج ہمارے پاس موجود ہے۔ ان کتابوں کے مطالعہ سے ہمیں آج کے دور میں ظاہر ہونے والے فتنوں کو سمجھنے اور ان سے متعلق منسوب احادیث مبارک کو ان کے صحیح تناظر میں جانچنے کی صلاحیت ملتی ہے اور ان سے بچائو کے لیے مناسب طرز عمل اختیار کرنے کی راہ بھی دکھائی دیتی ہے۔یہود کے فتنے کو اس طرح طشت از بام آج سے پہلے کبھی بھی نہیں کیا جاسکا ہے اور امت محمدی علیٰ صاحب السلام و التسلیم کے پاس صہیونی فتنوں کے سد باب اوراس سے نمٹنے کے لیے اب سے قبل ایسا واضح پروگرام نہیں تھا۔ اب یہ امت کا کام ہے کہ وہ ہمت سے کام لے اور ان سازشوں کے خلاف ڈٹ جائے تاکہ آخرت میں سرخرو ہونے کا شرف حاصل ہوجائے۔
 
معرکہ دجال اکبر ( تکفیر ، تدبیر اور تعمیل) جناب اسرار عالم صاحب کی ایک اہم کتاب ہے جو امت محمدی کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب بذات خود ایک ضخیم کتاب ہے اور اسرار عالم صاحب کے ذہنی سطح کی ترجمانی کرتی ہے اس لیے ایک عام قاری کے لیے جس کے پاس نہ تو اتنا وقت ہے اور نہ ہی اس کی علمی قابلیت اتنی زیادہ ہے کہ وہ ان دقیق معاملات کو پڑھ کر اس کا درست اندازہ کرسکے۔ اس کتاب کو عام فہم انداز میں بیان کرنے اور اس کی قرات کے وقت کو کم کرنے کی خاطر اس کی تلخیص انتہائی ضروری تھی۔ اسی مقصد کو مد نظر رکھ کر جناب عبداللہ اسلام صاحب نے اس مشکل کام میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اس ضخیم کتاب کی تلخیص کی۔ اس کو مزید فعال اور اس کی دلیلوں کو مضبوط کرنے کی خاطر ان تمام احادیث کو ڈھونڈھ کر اس میں شامل کرتے گئے جس سے نہ صرف یہ کہ اس کی افادیت میں اضافہ ہوگیا بلکہ اس پورے کام میں گویاچار چاند لگا دئے۔ اس چھوٹے سے کتابچہ کو پڑھنے کے لیے بہت زیادہ وقت کی ضرورت ہے اور نہ اس کو سمجھنے کے لیے بڑی حکمت اور دانائی درکار ہے۔ سیدھی سچی بات انتہائی دلچسپ پیرایہ میں صاف ستھرے انداز میں لکھ دی ہے جس کے لیے جناب عبد اللہ اسلام صاحب مدح اور ستائش کے لائق ہیں۔ اللہ کی عطا کی ہوئی توفیق کو انہوں نے انتہائی چابک دستی سے استعمال کرتے ہوئے سوئی ہوئی امت مرحومہ کو خواب غفلت سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ اسرار صاحب کو صہیونی سازشوں کو سمجھنے اور اس کا پردہ چاک کردینے کی کوششوں پر انہیں جزائے خیر عطا کریں اور اس کے ساتھ ہی اس کتابچہ کے مؤلف پر بھی اپنی نعمتوں اور رحمتوں کی بارش کردیں اور آخرت میں ان کی عزت اور سر بلندی کا ذریعہ بنائیں ۔ آمین ثم آمین
 
ابو عمار سلیم

نکسنیات سے دجالیات تک; پاکستان کس رُخ پر ؟


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012

نکسنیات سے دجالیات تک۔ پاکستان کس رُخ پر ؟

محمد احمد

قسط نمبر 2 قسط نمبر 1
١- پاکستان کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ امریکا کے صدر ٹرومین سے بارک حسین اوباما تک یہ ملک کبھی بھی اپنے معاملات مکمل آزادی سے نہ چلا سکا ۔ اس کی اوّلین وجہ ملک کا اسلامی تشخص ، ملک کے پہلے سربراہ کے خصوصی حکم برائے اسلامی غیر سودی معاشی نظام کی نفی اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کےسورہ بقرہ کے اختتمامی رکوعات میں وضاحت کردہ معاشی خدوخال کو قابلِ غور نہ سمجھنا رہا ہے ۔ چونکہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے افرادِ کار بوقتِ تخلیقِ پاکستان برٹش انڈیا کی روایت (Legacy)کے اسیر ہوتے ہوئے اپنے آپ کو تبدیل نہ کر پائے ۔ اسی لیے وہ پاکستان کی موجودہ معاشی بے بسی ، تباہ حالی اور بربادی کی ذمہ دارہ سے بچ نہیں سکتے ۔


٢- عالمگیر جنگوں کے اختتام پر سرد جنگ (Cold War)کا آغاز ہوگیا ۔ یہ سرد جنگ سرمایہ دارانہ نظام کے سربراہ امریکا اور اشتراکیت کے علمبردار روس (USSR) کے درمیان اپنے گلوبل مفادات کے لیے رہی ۔ پاکستان امریکا کے دام رنگ میں آگیا ۔پوری وضاحت لیکن اختصار کی خاطر صدر نکسن کے کارناموں اور ان کے تباہ کن اثرات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ شائد کہ دل میں اتر جائے مری بات ۔

٣- چند روز قبل ایک انگریزی اخبار میں امریکا کے ایک وکیل جناب رچرڈ وائنسٹے کا ایک مضمون ” کیا فورڈ نے نکسن کو درست معافی دی ” شائع ہوا۔فورڈ کا بعمر ٩٢ سال حال میں انتقال ہوا ۔ یہ نکسن کے نائب صدر تھے ۔ ٧٠ء کی دہائی میں نکسن اپنے دوسرے دورِ صدارت میں مشہور زمانہ واٹر گیٹ اسکینڈل کی وجہ سے بہت بدنام ہوئے ۔ پارلیمانی عدالتی کارروائی ( IMPEACHMENT ) سے بچنے کی خاطر انہوں نے اپنا استعفیٰ فورڈ کو پیش کردیا اور امریکن آئین کے مطابق فورڈ صدر بن گئے ۔ حالانکہ نکسن نے ان سے کوئی معافی طلب نہ کی مگر فورڈ نے ( سیاسی بنیاد پر ) انہیں معاف کردیا ۔ اس لیے یہ ” قانونی ” (Judicial) معافی تو نہ ہوئی مگر نکسن مؤاخذہ سے بچ گئے ۔ ان کی امریکی شہریت کو کوئی گزند نہ پہنچی اور وہ سابق صدر کے ٹائٹل سے محروم ہوگئے ۔ قانون کا سامنا نہ کرنا اور امریکا کی صدارت سے استعفیٰ اپنے نائب کو پیش کرنے کا بزدلانہ عمل دنیا کے طاقتور ترین ملک کے سب سے بڑے سپہ سالار کے قطعاً شایانِ شان نہ تھا ۔ ان کی سر شت اور لاشعور میں تیزی سے پروان چڑھنے والا منفی اندازِ فکر پنہاں تھا۔

٤-پہلی مدت صدارت کے دوران موصوف نے پُر پُرزے نکالنے شروع کردیئے تھے مگر وہ اپنی ” چالاکیوں ” سے دوسری بار منتخب ہوگئے اور جب ان کی ” چالاکیوں ” کے راز طشت از بام ہوئے تو وہ ایک ناپسندیدہ امریکی شہری کی سطح پر آگئے ۔نکسن کے پہلے زمانۂ صدارت ( ١٩٧١ء ) میں سابقہ مشرقی پاکستان میں فوجی و سیاسی تلاطم برپا تھا اور ادھر امریکا میں جناب صدر طلباء کے قصرِ سفید (White House)کے محاصرے میں ” پریشا ن ” ہوکر بطور حفظِ ما تقدم 13400طلباء کو اندیشۂ نقصِ امن اور دیگر الزامات میں حوالۂ زنداں کر بیٹھے ۔ بالفاظِ دیگر امریکا میں حالات دگرگوں تھے اور پاکستان اس وقت نکسن کے دستِ راست ہنری کسنجر کے لیے چین کے خفیہ دورے کاسفارتی بندوبست کر رہا تھا یعنی بیک وقت نکسن اپنا ( ویتنامی خلجان سے گلو خلاصی والی خارجہ حکمت عملی کا ) الّو سیدھا کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنا طاقتور بحری بیڑہ بھیجنے کا ”مژدئہ جانفزا ” بھی سنا رہا تھا کہ وہ ہندوستان کے طیارہ بردار جہاز اور ساحلِ سمندر پر اتارنے والی فوج کے بحری بیڑہ کا قلع قمع کرتے ہوئے سقوطِ ڈھاکہ سے بچانے کا کردار ادا کرے گا ۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔ کیا خوب نکسن نے پاکستان کے ( امریکا کے لیے چینی دروازہ کھلوانے کے ) احسان کا بدلہ چکانے میں دیر نہیں لگائی اور سقوطِ ڈھاکہ کا زہر آلود خنجر ہمارے وطن کی پشت میں پورا اتار دیا ۔ اس طرح بنیے کی ” بغل میں چُھری اور منہ میں رام رام ” والی لَے میں اپنی لَے ملادی ۔

٥- انہی دنوں امریکن فضائیہ مغربی پاکستان صوبہ سرحد ( موجودہ خیبر پختونخواہ ) میں واقع بڈابیر کی ائر بیس سے اپنے جاسوسی مشن کے U-2نامی ہوائی جہاز USSRکی فضائی حدود میں وقتاً فوقتاً اڑایا کرتی تھی ۔ ایک U-2روس نے اپنی سرحدوں کے اندر مار گرایا ۔ روسی حکومت نے پاکستان کو سخت وارننگ دی کہ اگر آئندہ ایسا ہوا تو بدابیر کو ایٹمی حملہ سے تباہ کردیا جائے گا ۔ ان حالات میں پاکستان کے سیاستدانوں کے لیے امریکی صدور کے ” جذبۂ پُشت پناہی ” کے شر سے بچنے کے لیے صمیمِ قلب سے توبہ کرنے کا نہایت مناسب موقعہ تھا ۔ افسوس یہ موقع بھی ہم گنوابیٹھے !

٦ -بہر حال قدرت نے ہمارا کسی حد تک انتقام لیتے ہوئے امریکا پر واٹر گیٹ کی ” لاٹھی ” بَرسادی ۔ پوری امریکی قوم تڑپ اٹھی اور نکسن کو اوجِ ثریّا سے اوندھے منہ زمین پر پٹخا دیا گیا ۔ حیرت ہے نکسن بڑی خود اعتمادی ( بلکہ ڈھٹائی ) سے کپڑے جھاڑ کر اٹھا اور دنیا کے طوفانی دورے پر چل پڑا ۔ اس کا یہ عمل ایک متوازی خارجہ پالیسی کے مماثل تھا اور ایک امریکی شہری یو ایس لوگان ایکٹ (US Lugan Act) کے زیر اثر ایسے عمل کے ذریعہ بآسانی قابلِ مؤاخذہ ہوسکتا تھا ۔ یہ صدر جمی کارٹر کا دور تھا ۔ وہ چاہتے تو ایکشن لیا جا سکتا تھا ۔ مگر ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے بحیثیت مجموعی تمام امریکی صدور پر انگلیاں اٹھتی ۔ اس لیے وہ چاہنے کے باوجود بھی ایسا قدم نہ اٹھا سکے ۔ کاش وہ یہ قدم اٹھالیتے تو ان کا امریکی قوم پر احسان ہوتا اور آج وہ اس نہ ختم ہونے والی وار اون ٹیرر (War on Terror)کے حصار میں نہ ہوتی ! نکسن نے اپنے سامنے دو مقاصد رکھے پہلا : امریکی قوم کی اس سے شدید نفرت کا انتقام اور دوسرا : پہلے مقصد کی تکمیل کے لیے اپنے آپ کو ایک عالمی مدبر (World Statesman) کی حیثیت دلوانا ۔

٧ -سوویت یونین نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے سوویت ریاستوں پر وقتاً فوقتاً فوجی یلغار جاری رکھی مگر اپنے فولادی پردوں (Iron Curtain)سے تجاوز نہ کیا ۔ جونہی اس نے اپنے فوجیوں سے لدے ہوئے طیارے کابل کے ہوائی اڈے پر اتارے اور اپنی فولادی پردوں میں چھپے رہنے کی پرانی روش سے تجاوز کیا اور ایک آزاد مسلم مملکت کی بیحرمتی کی ۔ جواباً کابل یونیورسٹی کے چند پُرجوش طلباء نے عالمی اسلامی جہاد کی بسم اللہ کی ۔ سوویت یونین کے خلاف اس غیر معمولی جہاد کے لڑنے والے پرانے زمانہ کی تھری ناٹ تھری بندوق سے مسلح ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے اور مجاہدین ( اب امریکا بطورِ استہزاء انہیں ” جہادی ” کہنے لگا ہے ) کہلائے ۔ یہ کمیونسٹوں کے پُر زور مخالف صدر ریگن کا دور تھا ۔ سوویت یونین کے مخالفین اور معاندین امریکا کے محبوبین تھے مثلاً عبد اللہ عزام ، اسامہ اور زرقاوی وغیرہم ۔

٨ -اس جاری و ساری عظیم الشان جہاد کو رچرڈ نکسن نے اپنی شیطانی منفی سوچ و فکر کا محور اور مطمح نظر بنا لیا ۔ عام فہم الفاظ میں ہائی جیک (Hi-Jack)کرلیا ۔ رچرڈ نکسن مجاہدین سے ملنے پاکستان آئے ۔ انہوں نے اس کو خوش دللی سے خوش آمدید کہا اور پُرتپاک استقبالیہ دیا ۔ نکسن نے مجاہدوں کے جوش و جذبہ کو سراہا ، ان کے مشن کی تعریف کی اور چلے گئے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ صدر ریگن کے اتباع میں مجاہدین کے محسنین میں شامل ہوجاتے مگر ان کے دماغ میں ایک عجیب طغیانی (BRAIN WAVE)آئی اور انہوں نے اپنے مذکورہ بالا ( پیرا نمبر ٦ ) تباہ کن مقاصد کے لیے پلان بنانا شروع کردیا ۔ اعلیٰ درجہ کے فارن پالیسی جرائد (Prestigious foreign policy journal) میں زہریلے مضامین لکھنے شروع کردئیے۔ پہلے وہ اپنی پوزیشن عالمی حلقۂ دانشوران میں بنانے پر تُل گئے ۔ جب انہیں کچھ کامیابی نظر آنے لگی تو ” فتنہ انگیزی ” پر اتر آئے ۔ ٩٠ء کی دہائی میں امریکا نے اپنی ویتنامی ہزیمت (Vaetnamese Fiasco)سے کسی طور بچنے کا راستہ نکالتے ہوئے چین کو راضی کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بمعہ ویٹو پاور بنوادیا ۔ امریکا نے کولڈ وار (Cold War)کی باقیات بین الاقوامی فوجی معاہدات   (SEATO & CENTO) جو ایشیائی خطہ سے متعلق تھے تحلیل کردئیے ۔ گو نکسن نے اس پروسیجر (Procedure) میں اپنی صدارت اوّل کے دوران کچھ حصہ ضرور ڈالا تھا مگر اسے علم نہ تھا کہ قدرت نے عظیم ملک چین کو پاکستان کا قابلِ اعتماد دوست بنا ڈالا ۔

٩-اپنے مضمون کی طرف واپس پلٹتے ہوئے یہ بتانا پڑے گا کہ نکسن قلمی محاذ پر اپنی منفی اندازِ فکر کو پروان چڑھاتے ہوئے سرمایہ داری کے مفکرین اور سوشلزم و کمیونزم کے پرچارک لکھاریوں کو یکجا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ وقت کا دھارا یہ بتارہا تھا کہ صرف سوویت یونین کی طاقت کے سورج کو غروب ہونا تھا جس کے نتیجہ میں سرد جنگ کا مکمل خاتمہ ، معاہدئہ شمالی اوقیانوس ( کی ضرورت ختم ہونے پر اس ) کی تحلیل اور سلامتی کونسل کے مستقل ممبر کی کرسی سے کالعدم سوویت یونین کی ( وہ شاخ ہی نہ رہی جس پہ آشیانہ تھا ۔!) محرومی وقوع پذیر ہوچکے ہوتے اور دنیا میں امن و امان کا دور دورہ ہوتا ۔ نہ کوئی 9/11اور نہ( کسنجر کا ) نیو ورلڈ آرڈر۔ مگر نکسن کی انانیت کا جادو کیسے سر چڑھ کر بولتا !

١٠-نکسن اپنے عالمی سفر کے دوران برطانیہ ، روس اور امریکا کے ارباب حل و عقد کو بآور کرانے لگتے ہیں کہ وہ سرد جنگ کے زخموں اور آپس کی رنجشوں کو قطعاً بھلادین اور اپنے لیے صرف ایک ہدف اور ایک دشمن :” عالم اسلام ” مقرر کرلیں ۔بظاہر نکسن نہ اسلام دشمن تھا اور نہ کسی اسلامی ملک سے کوئی پُرخاش رکھتا تھا مگر بباطن اس کے عزائم اپنی قوم ( امریکن ) کے خلاف تھے کہ انہوں نے اسے اوجِ ثریا سے دھکّا دیا تھا ۔ اس لیے وہ انہیں ” مزہ ” چکھانا چاہتا تھا ۔ دیگر ممالک کے بالمقابل یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ عالم اسلام سیاسی ، دفاعی اور معاشی میدان میں ان کے لیے کبھی خطرہ (THREAT) کا موجب نہ تھا مگر نکسن نے بڑی عیاری سے پروگرام بنایا کہ وہ افغان جہاد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی امریکن قوم و سپاہ اور سیاسی لیڈران کو ایک اسلامی ہوّے (ISLAMOPHOBIA)سے ڈرائے تو نہ صرف وہ اس کے جھانسے میں آجائیں گے بلکہ وہ اپنے مذموم مقاصد میں بھی کامیاب ہوجائے گا ۔ چین نے نکسن کی منفی حکمتِ عملی (Negative Strategy)سمجھنے میں دیر نہ لگائی اور اس کا توڑ نکالنے میں کامیاب ہوگیا ۔ چینی مسلمان مائوزے تنگ کے دور میں مصائب کا شکار رہے تو اب وہ اپنے دینی تقاضوں کے نبھانے کے قابل ہوگئے ۔ موجودہ حالات میں چین عالم اسلام کا قابلِ بھروسہ پارٹنر بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور ہر قسم کی منافقت سے احتراز کرتا ہے ۔

١١- روس سے خیر کی تمنّا رکھنا عبث ہے ۔زارِ روس کے زمانہ سے مسلمانوں پر ظلم و ستم ٹوٹتے رہے ۔دوسری جنگِ عظیم میں ہٹلر کی افواج نے روس کی طرف پیش قدمی کی تو مارشل اسٹالن نے ، جو مسلمانوں کو بے پناہ مظالم سے قریباً موت سے ہم آغوش کردیتا تھا اور اپنی لال فوج (RED ARMY)سے ان مظلوموں کی کثیر آبادیوں کو تتّر بتّر کردیا کرتا تھا ، مسلم علماء و زعماء کے اجتماع سے جذباتی اپیل کی اور ان کے جذبۂ حبّ الوطنی کو خوب ابھارا کہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ کمیونسٹ افواج کے شانہ بشانہ ہٹلرکی افواج کے خلاف جنگ میں حصہ لیں ۔ مسلمانوں کی سادگی ، حمیت اور معصومیت کی بے ساختہ داد دینے کو دل چاہتا ہے کہ وہ بے چارے ان ظالموں کے جھانسے میں فوراً آگئے اور اپنی قیمتی جانوں کا اپنے رب کے حضور نذرانہ دیتے ہوئے (In the battele of leningrad) دشمن کو تاریخی شکس فاش دے گئے ۔ روسی ادب ان کی عظیم داستانوں سے بھرا ہوا ہے ۔ اسی لیے روسی اپنے بچوں کو تعلیم دیتے ہوئے بَرملا تلقین کرتے ہیں کہ جنگِ عظیم دوم درحقیقت ان کے لیے عظیم جذبۂ حبّ الوطنی کی جنگ تھی۔

(جاری ہے۔۔۔۔۔۔)

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012 سے ماخوذ ہے۔