جمال الدین افغانی ۔ تصویر کا دوسرا رُخ


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16

جمال الدین افغانی ۔ تصویر  کا  دوسرا رُخ

Sayyid Jamal ad Din al Afghani; The another face

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

جمال الدین افغانیSayyid Jamāl ad-Dīn al-Afghānīاسلامی تاریخ کے انتہائی غیر معمولی اور متاثر کن شخصیت رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے دور کے تقریباً ہر بڑے اسلامی خطے میں اپنی جگہ بنائی اور وہاں کی سیاست و معاشرت میں اثرا نداز ہوئے ۔ جس سے ان کی عبقریانہ صلاحیتوں کا بَر ملا اظہار ہوتا ہے ۔ انہوں نے ایران ، افغانستان ، ہندوستان ، مصر اور خلافتِ عثمانیہ میں اپنا وقت گزارا ۔ ہندوستان میں ان کا عرصۂ قیام بہت کم رہا ۔ یہی وجہ رہی کہ یہاں کہ اہلِ علم ان کی شخصیت کے ہَمہ گیر پہلوؤں سے اس قدر واقف نہیں ۔ اسلامی ممالک میں صرف خطۂ حجاز ہی ان کے اثر و نفوذ سے محروم رہا ۔ اسلامی خطوں کے علاوہ جمال الدین افغانی نے یورپ اور روس میں بھی کچھ عرصہ گزارا ۔ وہ ایک متحرک شخصیت کے حامل تھے جہاں بھی گئے تحریک برپا کرتے گئے ۔ان کی شخصیت ہَمہ گیر بھی تھی اور اس کے پہلو ہَمہ جہت بھی ۔ برصغیر پاک وہند کے مسلمان عام طور پر انہیں ایک مصلح و مجدد کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔ اس کے بَر عکس عالم عرب خصوصاً مصر کے راسخ العقیدہ علماء ان کے شدید مخالف ہیں ۔ کیونکہ جمال الدین افغانی کی زندگی کا بیشتر عملی حصہ بھی مصر ہی میں گزرا ہے۔ گو ان کی ” پُر اسرار شخصیت ” کے ” اسرار ” اب برصغیر کے اہلِ علم پر بھی کھلتے جا رہے ہیں ۔ مولانا سیّد ابو الحسن علی ندوی نے بھی اپنی کتاب ” مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش” میں بھی جمال الدین افغانی کی شخصیت کے اس دوسرے پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ جدید تحقیقات کے نتیجے میں کئی چشم کشا انکشافات ہوئے ہیں ۔ ذیل کے مضمون میں تصویر کے اسی دوسرے رُخ کو دکھانا مقصود ہے ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں
Advertisements

عصرِ دجالیّت کے تین طاغوت سورة الکہف کی روشنی میں۔ اداریہ


مجلہ "الواقعۃ” شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

(اداریہ)

عصرِ دجالیّت کے تین طاغوت

سورة الکہف کی روشنی میں

Three devils of contemporary  in the light of Surat ul Kahaf (The Cave)

    محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

سورة الکہف کا تعلق دجال اور دجالیت سے بہت گہرا ہے ۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  نے اس سورہ مبارکہ کو اگر عصرِ دجالیت سے ایک نسبت خاص دی ہے تو وہ بلا وجہ نہیں ۔ لازم ہے کہ اس سورت کا مطالعہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے انوارِ نبوت کی روشنی میں کیا جائے ۔ دجال ایک فرد بھی ہے اور ایک نظام بھی ۔ سورة الکہف میں اس نظام کے اجزائے ترکیبی کے مظاہر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ وہ نظر چاہیئے جو تعلیماتِ الہامی کی گہرائیوں میں اتر سکے ۔ سورة الکہف میں ہمیں تین طرح کے شرک کا ذکر ملتا ہے ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

1دجّالیات سے ایمانیات۔ تک سودی معیشت غارتگر ایمان و اخلاق کا طوق گردن سے نکالو اور دنیا اور آخرت کے خسارے سے نجات حاصل کرو


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/مئی، جون 2013
دجّالیات سے ایمانیات تک

سودی معیشت غارتگر ایمان و اخلاق کا طوق گردن سے نکالو

 اور دنیا اور آخرت کے خسارے سے نجات حاصل کرو

محمد احمد

1-
الحبّ للّٰہ و البغض للّٰہ ۔اسلامی دنیا میں مسلمانوں کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ اس لیے جب غیر اسلامی دنیا (فقہاء جسے دار الحرب قرار دیتے ہیں ) کا ایک فر د برضا و رغبت دین اسلا م کی آغوش رحمت میں پناہ گزیں (دنیا نے اسے رفیوجی
REFUGEEکا خطاب دیا ہے جبکہ فر مانروائے کائنات کی نظر میں وہ مہاجر کے لقب کا حق دار گردانا جا تا ہے ) ہو تا ہے تو فضاء میں نعرہ توحید اللہ اکبر کا غیر فانی ارتعاش بلند ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ لو گوں کے دلوں میں ایمان کی بالیدگی کا باعث بن جاتا ہے ۔آخر ایسا کیوں نہ ہو جبکہ اللہ تعالیٰ خود ارشاد فر ما رہے ہوں :

(اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ

 للّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ    ) (البقرة : ٢١٨)

 “ 

البتہ ایمان لانے والے ، ہجرت کرنے والے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہی رحمت  

الٰہی کے امیدوارہیں ، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بہت مہربانی کرنے والا ہے ۔” کو پڑھنا جاری رکھیں

دجّالیات سے ایمانیات تک۔ تدبر و تفکر کی آرزو


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد احمد

1۔ بحیثیت مجموعی امت مسلمہ بہت بڑے خلجان کا شکار ہے کہ وہ اپنی بقاء کے لیے کیسا لائحہ عمل ( STRATEGY ) مرتب کرے حالانکہ یہ بات بخوبی واضح ہو چکی ہے کہ اختتام وقت کی لڑائیاں ( End of Time Battles ) جاری رہیں گی۔ اگر ہم ہر لحظہ قرآن مجید کی طرف متو جہ رہیں اور اپنی ایمانیات ( Motivating Force ) کی ترقی و ترویج دل و جان سے کرتے چلے جائیں تو ہمارے قدم صحیح منزل کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے ۔ ارشاد باری تعا لیٰ ہے :
( اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انشَقَّ الْقَمَرُ ۔ وَ اِن یَرَوْا آیَةً یُعْرِضُوا وَ یَقُولُوا سِحْر مُّسْتَمِرّ ۔ وَ کَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أھْوَاء ھُمْ وَ کُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرّ ۔ وَ لَقَدْ جَآئَ ھُم مِّنَ الْأَنبَاء  مَا فِیْھِ  مُزْدَجَر ۔ حِکْمَة بَالِغَة فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ۔ فَتَوَلَّ عَنْھُمْ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلَی شَیْ نُّکُرٍ ۔ خُشَّعاً أَبْصَارُھُمْ یَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ کَأَنَّھُمْ جَرَاد مُّنتَشِر ۔ مُّھطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ یَقُولُ الْکَافِرُونَ ھٰذَا یَوْم عَسِر)
“ قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا ۔یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے۔انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور کام ٹھہرے ہوئے وقت پر مقرر ہے ۔یقینا ان کے پاس وہ خبریں آچکی ہیں جن میں ڈانٹ ڈپٹ (کی نصیحت ) ہے اور کامل عقل کی بات ہے لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائدہ نہ دیا پس (اے نبی صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم) تم ان سے اعراض کرو جس دن ایک پکارنے والا ایک ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ۔ یہ جھکی آنکھوں قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے کہ گو یا پھیلا ہوا ٹڈی دل ہے ۔ پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوں گے اور کافر کہیں گے یہ دن تو بہت سخت ہے ۔” (القمر :1 تا 8) کو پڑھنا جاری رکھیں

LGBT ایک گھناؤنی شیطانی کارروائی


جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013، شمارہ  12-13

ابو عمار سلیم

آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جو بلاشبہ تاریخ انسانی کے ادوار میں سب سے آخری دور ہے۔ ہمارے نبی اکرم سیّد المرسلین خاتم النبین صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلمنے قرب قیامت کی جن نشانیوں کی اطلاع دی تھیں ان میں سے علماء کرام اور اصحاب علم کی اکثریت کی رائے کے مطابق تقریباً تمامنشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں ما سوائے ان بڑی نشانیوں کے جو قیامت کے بالکل متصل ہیں۔ وہ لوگ جو علم آخر الزماں کے اوپر عبور رکھتے ہیں اور جنہوں نے قیامت کی پیش گوئیوں کی احادیث کے ساتھ ساتھ دنیاوی حالات اور ان کے بدلتے ہوئے رجحانات کا مطالعہ کیا ہے وہ اس رائے پر متحد ہیں کہ ہم ظہور دجال اور یاجوج ماجوج کے فتنوں سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ اس کے بعد سیدنا حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کی تشریف آوری اور جناب مہدی علیہ السلام کا ظہور جیسے چند ایک واقعات کا رونما ہونا باقی رہ جائے گا اور پھر یہ دنیا اور کائنات لپیٹ دی جائے گی اور وہ حادثہ رونما ہوگا جس کے لیے انسان کو شروع دن سے تیار کیا جارہاہے مگر اس کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔ ہمارا سب سے بڑا دشمن ابلیس جس نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوکر اس رب العزت کی عزت کی قسم کھا کر یہ اعلان کیاتھا کہ
“میں اس  انسان کے آگے سے ، اس کے پیچھے سے، اس کے دائیں سے ، اس کے بائیں سے آؤنگا  اور اسے گمراہکروں گا اور ثابت کروں گا کے یہ اس حیثیت اور اس عہدہ کے قابل نہیں ہے جو تو اسے عطا کر رہا ہے ۔ اے اللہ تو ان میں سے بیشتر کو اپنا شکر گذار نہیں پائے گا۔” کو پڑھنا جاری رکھیں

یہ قومی سانحہ ہے۔ اداریہ


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

 از قلم: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

0 idaria ye qaumi saneha hay pdf

عالمی طاقتوں کے مفادات کی جنگ اب شہرِ کراچی میں لڑی جا رہی ہے۔ دم توڑتی سانسیں اور تڑپتی لاشیں اہلیان کراچی کے لیے اس فتنۂ سامانی کی سوغات ہیں۔ لسانِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم نے ایام فتن میں جس  "ہرج” کی پیش گوئی فرمائی تھی وہ اب شہرِ کراچی میں روازنہ کی بنیادوں پرعملا وقوع پذیر ہو رہی ہے۔
کو پڑھنا جاری رکھیں

نکسنیات سے دجالیات تک۔ پاکستان کس رُخ پر


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012
نکسنیات سے دجالیات تک۔ پاکستان کس رُخ پر ؟
محمد احمد

قسط نمبر 2 قسط نمبر 1
اس جنگ کی شروعات سے قبل مارشل اسٹالن نے روس کے باشندے مسلمانوں سے مذہبی اور سیاسی آزادی دینے کے بڑے وعدے کیے تھے ۔ مگر اپنی مطلب براری کے بعد سب کچھ طاقِ نسیاں ہوگیا اور حالات کا جبر اسی نہج پر رہا ۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین فولادی پردون کے پیچھے روپوش رہتے ہوئے چور دروازوں سے اشتراکی نظریات کے جراثیم برآمد کرتا رہا ۔ مسلم ممالک میں منافق ٹولہ ایسے اثرات قبول کر لیتا ہے ۔ اس ٹولہ کو پہلے خفیہ طور سے اسلحہ کی کھیپ پہنچائی جاتی ہے ۔ اس طریقۂ کار کو گن رننگ (Gunrunning) سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔افغانستان میں کچھ تبدیلی کے بعد گن رننگ کروائی ۔ بعد میں ظاہر شاہ (کی جائزحکومت ) ” کو ” (Coup) سے بدل دی ۔ اس سے بھی روسی ریچھ کا دل مطمئن نہ ہوا تو طوفانی فوجی یلغار سے سارا نظامِ افغانستان تہہ و بالا ہوگیا۔ ” ماڈرن ” زمانہ میں سوویت یونین نے اپنے اس اقدام کا نیا نام برزنیف حکمت عملی (Brezenev Doctrine) رکھ دیا ۔
جیسا کہ پہلے ( پیرا نمبر ٧ ) بتایا جا چکا ہے کہ عالم اسلام سے جوشیلے مسلمان نوجوان جمع ہونے لگے اور افغانستان میں عالمی اسلامی جہاد کی بنیاد پڑ گئی ۔ لاکھوں لُٹے پٹے افغان مہاجرین ، جن میں عورتیں ، بچے اور بوڑھے شامل تھے ، نے ہمسایہ ملک پاکستان میں پناہ لی۔ ان لاکھوں افراد کی برسہا برس پاکستان نے اپنے وسائل سے مہمان نوازی کی ۔ بہر حال مجاہدین کی بہت بڑی تعداد نے برضا و رغبت خلعتِ شہادت پہنتے ہوئے سوویت فوجوں کو ایسی عبرتناک شکست دی جو تاریخ میں معتبر ترین شکست مانی جائے گی ۔ ایک حیثیت میں مجاہدین نے اپنے روسی مسلمان بھائیوں کا بدلہ بھی اس انداز میں لیا کہ سوویت یونین ہی تحلیل ہوکر رہ گیا ۔ مجاہدین اپنا مقصد حاصل کرچکے تھے ۔ صورتحال کا تقاضا تھا کہ افغانستان کے حکمران وہ خود بنتے اور ان قیدیوں کا ٹرائل کرتے مگر ان اللہ کے نیک بندوں نے اپنے خون کے پیاسوں کو اس طرح معاف کیا جس طرح حضور اکرم نے مکہ کے مشرکوں کو حرم کعبہ میں معاف کیا : لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ  ۭ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ      92؁ ) (سورہ یوسف : ٩٢) ” آج تم پر کوئی گرفت نہیں ، اللہ تمہیں معاف کرے ۔ وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے ۔”
سابق سوویت یونین کے گرفتار فوجیوں کو بلا کسی گزند اور تکلیف کے دریائے آمو (River Oxus) سے پار کرادیا گیا ۔ اب روس سوویٹ یونین سے رشین فیڈریشن بن چکا ہے یعنی کل کا دیو ( سوویٹ یونین ) آج کا بونا بن گیا ۔

١٤-رچرڈ نکسن کا اسلام فوبیا کا بیج برگ و بار لاتے ہوئے ایک تناور درخت بن جاتا ہے ۔ بالفاظِ دیگر نکسن کی دور رَس حکمت عملی بروئے کار آجاتی ہے اور امریکاشدید اسلاموفوبیا کے مرض ( جو اب بڑے مرض (Pandemic) کی شکل اختیار کرلیتا ہے ) میں مبتلا ہوتے ہی دنیائے اسلام سے تصادم کی راہ پر لگ جاتا ہے۔ افغانستان میں بونی روسی ریاست ( شمالی اتحاد کے گاڈ فادر کی شکل میں ) اور امریکا ( ١١/٩کے انتقام کے لیے ) افغانستان میں بھیانک خون کی ہولی کھیلنے کے لیے کود پڑتے ہیں ۔ برطانیہ بھی امریکا کا وار آن ٹیررکا ساتھی بن جاتا ہے ۔ پوری دنیا اس ظلم اور بربریت پر چیخ پڑتی ہے اور بش اور اس کے بلیئر(Blair) سے اس خونیں ” ڈرامہ ” کو بند کرانے کے لیے بیشتر ممالک میں مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں ۔ اس ظلمِ عظیم کی حدت اور شدت کے تناظر میں سانحہ ١١/٩ ، جسے کسنجر نے جنگِ عظیم دوم کے واقعہ پرل ہاربر میں امریکی بڑے جنگی جہازوں کی بڑی تعداد میں جاپانی ہوائی حملہ سے غرقابی سے تشبیہ دی تھی ، کا امپیکٹ (Impact) بودا و جعلی محسوس ہونے لگتا ہے ۔ اس لیے ببانگِ دہل کہنے میں کوئی باک نہیں کہ نکسن نے جنگ کی چتا بالآخر اپنے منفی عزائم کے تحت جلا ہی ڈالی اور یہود نے اس آگ کو اپنی ازلی اسلام دشمنی اور منفی سرشت پر گامزن رہتے ہوئے خوب بھڑکائی اور اب یہ آگ اس نہج تک جا پہنچی کہ جس کے لیے عراق کے مرحوم صدر صدام حسین نے اپنی زندگی میں ” امّ المحارب ” ( جنگوں کی ماں ) کا نام تجویز کیا تھا ۔ انہوں نے جارج ڈبلیو بش کو دعوت مبارزت بھی دی ( جو اس نے قبول نہ کی ) اور وہ اسے میدانِ مکافاتِ عمل میں تنہا چھوڑتے ہوئے مزید مشتعل کرگئے تاکہ وہ اپنی منفی میلانِ طبع کو اور مہمیز دے ۔ شروع میں بش ایک (Secular) لادینی جنگجو رہنمانظر آتے تھے بعد میں وہ اس حد تک مشتعل کر دیئے گئے کہ وہ اس جنگ کو کرئہ ارض کی آخری جنگ (ARMAGEDDON) کے ہدف تک لے جانے کے شدید آرزو مند ہوگئے ۔ یہ نکسن کی ثلث صدی کی سوچ ، تحاریر اور منفی جذباتیت کا شاخسانہ ہے کہ جسکے ڈانڈے قرب قیامت کی بڑی نشانی -ظہور الدجال – سے مل جاتے ہیں ۔ مغرب نکسن کی پیدا کردہ اس اتھاہ منفی سوچ -اسلامو فوبیا- میں اس قدر ڈوب چکا ہے کہ اسے اب اس حالت استغراق سے نکلنا خاصا مشکل بلکہ تقریباً نا ممکن ہوگیا ہے ۔ یعنی مرض ( اسلامو فوبیا ) اور جنگ باہم لازم وملزوم ہوچکے ہیں ۔ دانشورانِ مغرب کے دماغ اتنے کھول چکے ہیں کہ وہ اس جنگی آگ میں جلنے اور جلانے کو اس ” فوبیا ” کا مؤثر علاج گردانتے ہیں ۔
١٥- بش جونیئر نے برطانوی کلیسا کا پیرو کار ہونے کے سبب وار آن ٹیرر کو مذہبی رنگ دیا اور سابق صدرِ امریکا کی حیثیت میں نکسن کے پھیلائے ہوئے اسلامو فوبیا کے فُسوں کے شدید پرچارک کا روپ دھار لیا ۔ نکسن کا شروع میں وہ غیر محسوس طریقہ سے معتقد تھا ۔ مگر ایگزیکیٹو آرڈر (Executive Order 13224) منظور کرتے ہی نکسن کوبہت پیچھے چھوڑ گیا۔اس انتظامی حکم کے تحت بش نے مشرق وسطیٰ کے صدیوں سے قائم غیر سودی مالیاتی نظم کو تہہ و بالا کردیا۔ دنیائے مغرب کا بینکاری نظام ، گو حکومتوں کے ماتحت رہا ، دنیائے اسلام کے حکومتی انتظام سے مبرّا صدیوں پرانے معاشی نظام و انصرام کے سامنے طفلِ مکتب ہی مانا جائے گا ۔ بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ امریکا نے ١١/٩کے جواب میں دنیا کے انتہائی پسماندہ ملک افغانستان پر نہ صرف اپنی بحری ، برّی اور فضائی طاقت سے بھرپور حملہ کیا بلکہ پورے اسلامک بلاک کے مالیاتی وسائل پر غاصبانہ قبضہ کے لیے آپریشن گرین کویسٹ بھی اپنی وزارت مالیات کے توسط سے شروع کردیا ۔ ایک مشہور امریکی کہاوت ہے : ” امریکا میں دوپہر کا کھاناکبھی مفت نہیں ملتا There is no free lunch in US ”آخر کیوں ؟ دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کے ناتے پوری اسلامی دنیا کو بالعموم وہ اپنا غلام بنانے کی قسم بھی کھا تا ہے اور دنیائے اسلام کے منافق حکمرانوں کو بالخصوص حِرص و ہوس کے بندے بنانے کے لیے کروڑوں ڈالرز کا دانہ بھی ڈالتا ہے ۔ اپنے طور و طریق کو بلا شرم و لحاظ وہ چھڑی اور گاجر سے تشبیہ دیتا ہے ۔ چھڑی پر تکیہ کرنا سب کی سمجھ میں فوراً آجاتا ہے ۔ مگر گاجر اپنی جیب سے کھلانا اس کے بس کی بات نہیں ۔ اسی لیے اسلامی دنیا کی منی مارکیٹ (Money Market) کی نقب زنی کے ذریعہ ٹارگٹ کلنگ (Target Killing) کراتے ہوئے بلڈ منی (Blood Money)کی ادائیگی کی جاتی ہے ۔
اگر پاکستان کے حکمرانوں میں خدا خوفی ہوتی تو وہ اپنا ملک سودی دلدل میں نہ دھنساتے بلکہ اپنے سودی قرضوں کے ڈالرز اس عظیم اسلامی مالیاتی منڈی سے خرید کر مغربی ممالک کے سودی مہاجنوں (World Bank & IMF etc) کو فی الفور ادا کرتے ہوئے اس سودی شکنجے  سے نکل آتے ۔ ایسا سودا صرف خوش قسمت افراد کے سَروں میں سماتا ہے اور جنہوں نے اپنی سائیکی میں مال و متاعِ غرور کی لذت و محبت بسا رکھی ہو انہیں باری تعالیٰ نے دنیا کی آخری جنگوں میں تپا کر دجّال کے دستر خوان کی نذر کرنے کا ارادہ فرمالیا ہے ۔ اصحاب الشمال کا بُرا انجام ایسا ہی ہونا چاہیئے ۔
ستّر کی دہائی سے اب تک ( قریباً نصف صدی ) نسل در نسل جوش و جذبہ والے ، عشقِ خداوندی و رسول ہاشمی کے متوالے اور راتوں کے راہب ، دنوں کے شہ سوار ( الرّاہبان باللّیل و الفرسان بالنّھار ) جن کے لیے علّامہ اقبال فرماتے ہیں :
جو ذکرکی گرمی سے شعلے کی طرح روشن
جو فکر کی سرعت میں بجلی سے زیادہ تیز
نوجوانوں نے مغرب کی ہائی ٹیک (High Tech) افواج کو پندرہ سو کلو میٹر طویل کوہستانی سلسلے کے غاروں کو بیس بناتے ہوئے اپنی گوریلا کارروائیوں سے ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں ۔ مستقبلِ قریب میں ان کا مطمحِ نظر امام مہدی کے زیرِ کمان لشکر دجّال سے حتمی اور نتیجہ خیز ٹکراؤ ( آپ چاہے اسے End of Time Battlesکہیں یا  Armageddonکے نام سے پکاریں صحیح ہے ) اصحابِ یمین و مقربین انہیں اوصاف سے پہچانے جاتے ہیں ۔
صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے