تبصرہ کتب: یادگارِ سلف، الاربعین فی مناقب الخلفاء الراشدین


الواقعۃ شمارہ : 92 – 93، محرم الحرام و صفر المظفر 1441ھ

یادگارِ سلف

(استاذ الاساتذہ حافظ عبد اللہ محدث غازی پوری رحمۃ اللہ علیہ کی سوانح حیات)
مولف: حافظ شاہد رفیق
طبع اول: جولائی 2019ء
صفحات: 588     قیمت: 1000 روپے
ناشر: دار ابی الطیب، گل روڈ، حمید کالونی، گلی نمبر 5، گوجرانوالہ برائے رابطہ: 0553823990

گزشتہ صدی کے جن کو پڑھنا جاری رکھیں

تبصرہ کتب : پاکستان میں غزل کے نعت گو شعراء


الواقعۃ شمارہ : 80 – 81، محرم الحرام و صفر المظفر 1440ھ

پاکستان میں غزل کے نعت گو شعراء

مؤلف: سیّد محمد قاسم
صفحات : 560
طبع اوّل: 2018ء
ناشر: رنگِ ادب پبلی کیشنز، آفس نمبر ۵، کتاب مارکیٹ، اردو بازار، کراچی0345-2610434

جناب سیّد محمد قاسم عصر حاضر کے معروف تذکرہ نگار ہیں۔ ان کی تذکرہ نگاری کا دائزہ ماضی قریب سے لے کر زمانہ حال کی شخصیات پر محتوی ہے۔ وہ تذکرہ نگاری کے فنی لوازمات سے واقف ہیں اور اپنی کتابیں بڑے سلیقے اور ذمہ داری کے ساتھ تحریر کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اپنے کو پڑھنا جاری رکھیں

تبصرہ کتب : تصوف و احسان، زبان خامہ کی خامیاں


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

تصوف و احسان، علمائے اہلِ حدیث کی نظر میں

مؤلف : ابن محمد جی قریشی
صفحات : ١٥٧
طبع اوّل : دسمبر ٢٠١٦ء
ناشر : پورب اکادمی، اسلام آباد
کتاب ایک مقدمہ اور چھ ابواب میں منقسم ہے، ابواب کے عناوین حسبِ ذیل ہیں، جن سے کتاب کے مباحث کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے: کو پڑھنا جاری رکھیں

تبصرہ کتب


10 tabsara kutub تیتلع

کو پڑھنا جاری رکھیں

تبصرہ کتب:اہل علم کے خطوط


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی
الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

تبصرہ کتب:اہل علم کے خطوط

مرتب : محمد یوسف نعیم
طبع اوّل : دسمبر ٢٠٠٧ئ-١٢٨صفحات-غیرمجلد
قیمت : ٨٠ رُپےناشر:عبد الرحمان دارالکتاب کراچی

اہلِ علم کے خطوط کی ترتیب و تدوین اربابِ ذوق کا پسندیدہ موضوع رہا ہے ۔ بسا اوقات ان میں ایسے عمدہ علمی نکات اور مختلف اہل علم کی اپنے مخصوص افکار و نظریات سے متعلق اہم تصریحات مل جاتی ہیں جو ضخیم کتابوں کی ورق گردانی سے بھی حاصل نہیں ہوتی ہیں ۔ زیرِ تبصرہ تالیف بھی اسی نوعیت کی ایک کاوش ہے جس کے فاضل مرتب جناب
محمد یوسف نعیم نے اپنے نام آنے والے مختلف اہلِ علم کے مکاتیب کو جمع کیا ہے ۔
کتاب ٣ حصوں پر منقسم ہے پہلے حصے میں ان اہلِ علم کے خطوط ہیں جنہوں نے مرتب کے نام اپنے مکاتیب روانہ کیے ۔ جن میں مولانا حافظ عبدالمنان نور پوری ،مولانا محمد رفیق اثری ، مولانا محمد اسحاق بھٹی ، ڈاکٹر معین الدین عقیل ، مولانا
عمر فاروق سعیدی ، مولانا محمد ادریس ہاشمی ، مولانا محمد یٰسین شاد ، محمد رمضان یوسف سلفی وغیرہم شامل ہیں ۔
دوسرے حصے میں وہ خطوط درج ہیں جو فاضل مرتب نے مختلف اہلِ علم کے نام روانہ کیے تھے تاہم انہیں ان کے جوابات موصول نہیں ہوئے ۔ ان اہلِ علم میں جاوید احمد غامدی ، مفتی منیب الرحمان ، ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی ، حافظ ابتسام الٰہی ظہیر وغیرہم شامل ہیں ۔
تیسرے حصے میں جن اہلِ علم کے مکاتیب شاملِ کتاب کیے گئے ہیں ان کے حالات درج ہیں ۔ فاضل مرتب نے کتاب کی ترتیب و تالیف میں خاصی جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ جس طرح ہر شخص کی سوانح نہیں لکھی جاتی اسی طرح ہر مکتوب بھی لائقِ اشاعت نہیں ہوتا ۔ متعدد خطوط میں ایک ہی مضمون مختلف پیرایوں میں آیا ہے وہ یہ کہ ” خیرالقرون
قرنی ” حدیث کی کسی کتاب میں روایت نہیں کیا گیا ۔ اسی طرح بعض مکاتیب مرتب کی کسی کتاب کی وصولی اطلاع کے طور پر لکھے گئے ہیں ۔ بیشتر مکاتیب مختصر اور ہلکے پھلکے خیالات پر مبنی ہیں ۔ تاہم مولانا محمد اسحاق بھٹی اور رانا محمد شفیق خاں پسروری کے مکاتیب لائقِ مطالعہ اور دلچسپ ہیں ۔
مرتب کی کاوش علمی اعتبار سے گو بہت وزنی اور جاندار نہیں تاہم ان کا جذبہ بلاشبہ لائقِ ستائش ہے ۔
(محمد تنزیل الصدیقی الحسینی )

تبصرہ کتب:مولانا عبد التواب محدث ملتانی


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

تبصرہ کتب:مولانا عبد التواب محدث ملتانی

مولف :حافظ ریاض عاقب

طباعت : جنوری ٢٠١٠ئ

-٢٩٣ صفحات-

مجلدقیمت : ٤٠٠رُپے

ناشر:مرکز ابن القاسم الاسلامی یونی ورسٹی روڈ ملتان

مولانا عبد التواب محدث ملتانی کا شمار ماضیِ قریب کے معروفعلماء ومحدثین میں ہوتا ہے ۔ ان کی خدمتِ حدیث کے نقوش آج بھی نمایاں ہیں ۔ وہ سیّد نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذِ رشید تھے ۔ خودنے انہوں اپنی زندگی کا مقصد علمِ حدیث اور دیگر علوم اسلامیہ کی نشر و اشاعت کو قرار دیا تھا ۔ اسلاف کرام کی متعدد دینی کتب کی اوّلین طباعت ان کے حسناتِ علمیہ میں سے ہے ۔ مگر انتہائی افسوسناک امر ہے کہ کتبِ تذکرہ میں ان کا ذکر نہیں ملتا ۔ کسی معاصر تذکرہ نویس نے ان پر خامہ فرسائی کا فریضہ انجام نہیں دیا ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان کی خدمات سے طلاب علم کو آگاہ کیا جاتا تاکہ ان میں بھی خدمتِ حدیث کا داعیہ پیدا ہوسکے ۔ زیرِ تبصرہ کتاب مولانا موصوف کی زندگی کی مختلف جہات کا احاطہ کرتی ہے ۔ یہ دراصل بی ایڈ کا مقالہ ہے جو ٢٠٠٦ء میں ایجوکیشن یونیورسٹی ملتان میں پیش کیا گیا ۔ بعد ازاں اب یہ مقالہ کتابی شکل میں مرتب کرکے پیش کیا گیاہے ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

تبصرہ کتب: ایران کی چند اہم فارسی تفسیریں(جلد سوم)


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

تبصرہ کتب:

ایران کی چند اہم فارسی تفسیریں(جلد سوم)

مولف  :  ڈاکٹر کبیر احمد جائسی
طبع : ستمبر ٢٠١٠ئ-٢٤٤ ، صفحات-مجلد ،
قیمت :٢٠٠ رُپےناشر:قرطاس ، آفس نمبر ٢ ، عثمان پلازہ ، بلاک 13-B، گلشن اقبال ، کراچی

 
ادارئہ علوم اسلامیہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ( علی گڑھ ، یوپی ، انڈیا ) کے سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر کبیر احمد جائسی کی کتاب ” ایران کی چند اہم فارسی تفسیریں” اہم مفسرینِ ایران اور ان کی تفاسیر کے مطالعات پر مبنی ہے ۔ جسے ادارئہ قرطاس چار جلدوں میں پیش کر رہا ہے ۔ اس سلسلے کی ابتداء محمد بن جریر طبری ( م ٣١٠ھ ) کی مشہور زمانہ تفسیر ”جامع البیان ” کے فارسی ترجمہ سے ہوئی ہے اور اس کا اختتام چودہویں صدی ہجری تک کے اہم ایرانی مفسرین پر مبنی ہوگا ۔
زیرِ تبصرہ کتاب اس سلسلے کی تیسری جلد ہے ۔ اس جلد میں جن فارسی تفاسیر سے متعلق اپنے حاصلِ مطالعہ کو مصنف نے پیش کیا ہے ، وہ حسبِ ذیل ہے: کو پڑھنا جاری رکھیں

سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012
تبصرہ کتب 8،9

سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز

از: قاری عبدالرحمن صاحب مہتم جامعہ رحمانیہ
مرتبین : مو لانا عبدالحنان جانباز،  ملک عبدالرشید عراقی اور عبدالعزیز سوہدروی

مبصر: محمد یاسین شاد عفی عنہ

 
محترم قاری عبدالرحمن صاحب مہتم جامعہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ٩١٢ صفحات پر مشتمل ضخیم سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز  متوفی ١٤ذالحجہ ١٤٢٩ھ بمطابق ١٣دسمبر ٢٠٠٨ء شائع کی اس کے مرتبین مو لانا عبدالحنان جانباز ملک عبدالرشید عراقی اور عبدالعزیز سوہدروی ہیں ۔
 
قاری صاحب ناشر سوانح اس سال ١٤٣٣ھ  ١٢٠١٢ کو فریضہ حج کی ادائیگی کی سعادت حاصل کر چکے ہیں قرآن مجید میں ہے :

( یَرْفَعِ اللّٰھُ ا  لَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ )(المجادلة:١١)

ترجمہ :” اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا ۔”

اسماء الحسنیٰ اور قرآنی سورات و آیات کے فضائل


تبصرہ کتب 7

اسماء الحسنیٰ اور قرآنی سورات و آیات کے فضائل

مؤلف :محمد صدیق صدیقی

قیمت : مؤلف اور اس کے متعلقین و مرحومین کے لیے دعائے مغفرت
تاریخ طباعت:رمضان المبارک ١٤٣٣ھ
مطبع: قریشی آرٹ پریس، ناطم آباد نمبر 2

مبصر: ابو عمار سلیم

اسماء الحسنیٰ اور قرانی سورات اور آیات کے فضائل یا عرف عام میں ” اسمائے حسنیٰ ”  جو کہ کتاب کے سرورق پر درج ہے ، جناب محمد صدیق صدیقی صاحب کی تیسری کاوش ہے جو منظر عام پر آئی ہے۔ اس سے قبل آپ کی پہلی کتاب  ” آئیے نمازادا کریں ” اور پھردوسری کوشش ” آئیے قیامت کے احوال سے عبرت حاصل کریں ” منظر عام پر آچکی ہیں۔ جناب صدیقی صاحب کی پیش نظر کتاب پر کچھ کہنے سے پہلے یہ بتانا انتہائی ضروری ہے کہ آپ کسی مذہبی درسگاہ کے فارغ التحصیل نہیں ہیں بلکہ پیشے کے لحاظ سے ایک انجینئر ہیں اور پاکستان اور غیر ممالک میں کئی بیش قیمت اور قابل قدر پراجیکٹ پر کام کر چکے ہیں۔

گو کہ آپ کو ہمیشہ سے مطالعہ  اور تصنیف و تالیف سے شغف رہا ہے مگر نوکری سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے آپ کو دین کی خدمت کی طرف بڑی شدومد سے راغب کرلیاہے۔ آپ کے دل میں امت محمدی علیٰ صاحب سلام و تسلیم کی بھلائی کا جذبہ موجزن ہے ۔ امت مرحومہ کی بھلائی اور مسلمانوں کے اعمال کی درستگی اور آخرت کی تیاری کے سلسلہ میں کافی تشویش میں مبتلا رہتے ہیں اور خلوص دل سے چاہتے ہیں کہ عام مسلمان اپنے اعمال درست کرلیں اور اپنے عقائد اور عبادات کے اہم اور ناگزیر گوشوں سے اچھی طرح واقفیت حاصل کریں تاکہ اس کی محنت قابل قبول ہو اور وہ اللہ کی نظروں میں مخلص و موحد اور اطاعت گزار بن جائے اور اس کی عاقبت سنور جائے۔ اس سلسلہ میں آپ کافی تحقیق کرتے ہیں اور پھر اپنی کاوشوں کو اپنی جمع پونجی لگا کر طبع کرواتے ہیں اور فی سبیل اللہ تقسیم کرتے ہیں۔ان کی یہ سوچ اور ان کی تمام محنت یقینا قابل ستائش ہے اور ہماری دعا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کی ان کوششوں کو نہ صرف یہ کہ قبول کریں بلکہ ان کتابوں کو پڑھنے والوں کے لیے سود مند کردیں بلکہ خودان کے لیے توشئہ آخرت بنا دیں ۔ آمین ثم آمین۔

 

 

 

 

اسمائے رب ذوالجلال و الاکرام کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں کئی ایک احباب علم و فضل نے ان کی طرف خصوصی توجہ کی ہے اور ان اسمائے مبارک کے فیوض و برکات سے عامۃ المسلمین کو آگاہ کیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ  ایک عام مسلمان کے لیے اللہ جل جلالہ کے ننانوے نام اور ان کی صفات سے متعلق کوئی اشتباہ ہے اور نہ ہی کوئی اشکال۔ کسی کو اللہ کے تمام کے تمام بابرکت اسماء یاد ہونگے اور کسی کو چند ایک کے علاوہ زیادہ سے واقفیت نہیں ہوگی مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر مسلمان قرآنی حکم کے مطابق اللہ باری تعالیٰ کے حضور میں اپنی تمام التجائیں ان ہی مبارک اور با برکت اسماء کے ذریعہ سے ہی درخواست گذار ہوتا ہے۔ ان مبارک ناموں کی فضیلت اور ان کے برکات ہی ہیں کہ اللہ نے اعلان کیا کہ تمام اچھے نام اسی کے ہیں اور اللہ کو اس کے ناموں کے ساتھ پکارو۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے ناموں کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی کیا ہے اور پھر ان کی تعلیم سید المرسلین خاتم النبین علیٰ صاحب سلام و التسلیم نے بھی فرمائی ہے۔ بزرگوں نے ان تمام ناموں کو اکٹھا بھی کیا ہے اور ان مختلف فضائل اور ان کے ورد کی مختلف شکلیں اور ان کے فیوض و برکات بھی درج کر دی ہیں۔اللہ رب العزت کے ان صفاتی ناموںکو بزرگوں نے یکجا بھی کیا ہے اور ان پر مختلف انداز سے بحث بھی کی ہے۔ مگر زیر نظر کتاب آج کے دور کی کتاب ہے جس کا اسلوب تحریر تحقیق اور ریسرچ پر منحصر ہے۔ اللہ جل شانہ کے اسماء پر صرف طائرانہ نظر نہیں ڈالی گئی ہے بلکہ کمال خلوص اور انتہائی لگن کے ساتھ ان اسماء کی مختلف شکلوں کو بھی  کھنگالا گیا ہے۔ قرآن مجید میں کون سے اسماء کس انداز میں اللہ نے بیان کیے ہیں۔ کون سا بابرکت نام کن سورتوں میں اور کن آیات میں کتنی بار آیا ہے۔ ہر ایک اسم باری تعالیٰ کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے معانی ، ان کی خصوصیات کے ساتھ ان کے ورد کرنے کے روحانی اور جسمانی فوائد بھی درج کر دئیے گئے ہیں ۔ اور ان تمام اوراد و وظائف کے حوالے بھی لکھ دئیے گئے ہیں تاکہ کسی اشکال کی صورت میں ان کی طرف رجوع کیا جاسکے۔  میرے نزدیک یہ عمل ہی مولف کی نیک نیتی کی ضمانت ہے کیونکہ وہ خود اس میدان کے آدمی نہیں ہیں اور ان کے علم کی کل اساس مطالعہ پر مبنی ہے۔یہ کام صدیق صدیقی صاحب نے بڑی عرق ریزی سے کیا ہے اور یقینی طور پر ان کا یہ کام نہ صرف یہ کہ عام قاری کو پسند آئے گا بلکہ خصوصی طور پر ریسرچ اور تحقیق کرنے والوں کے لے بھی ایک اچھا مآ خذ بن جائے گا۔

 

دورِ فتن


تبصرہ  کتب 4
دورِ فتن
مؤلف :عبد اللہ اسلام
 
تعداد صفحات : ٩٦
قیمت : (غیر مجلد )٥٠ رُپے
شائع کردہ : محمد جاوید اقبال۔ ڈی ۔١٠ ، کریم پلازہ ،  گلشن اقبال کراچی۔ ٧٥٣٠٠
محل فروخت : فضلی بک اردو بازار کراچی ، مکتبہ دار الاحسن یٰسین آباد کراچی ، اکیڈمی بک سینٹر فیڈرل بی ایریا کراچی۔
 
جناب اسرار عالم صاحب ہندوستان کے ایک مفکر اور عالم ہیں۔ آپ نے امت مسلمہ کو دجال کے دجل اور فریب سے متعارف کرنے کے لیے بڑی تگ و دو کی ہے۔ یہود کی ریشہ دوانیوں کو سمجھنے اور ان کے ذ ہنی اور فکری دھارے کا براہ راست علم حاصل کرنے کے لیے عبرانی زبان میں بھی نہ صرف یہ کہ مہارت حاصل کی بلکہ ان کے بے شمارمضامین کتابیں اور علمی مآخذ تک رسائی حاصل کر کے انہیں سمجھا اور ان کا تجزیہ کیا۔

ان کی ان علمی کاوشوں کا نتیجہ دجال کے موضوع پر مختلف النوع کتابوں اور مضامین کی صورت میں آج ہمارے پاس موجود ہے۔ ان کتابوں کے مطالعہ سے ہمیں آج کے دور میں ظاہر ہونے والے فتنوں کو سمجھنے اور ان سے متعلق منسوب احادیث مبارک کو ان کے صحیح تناظر میں جانچنے کی صلاحیت ملتی ہے اور ان سے بچائو کے لیے مناسب طرز عمل اختیار کرنے کی راہ بھی دکھائی دیتی ہے۔یہود کے فتنے کو اس طرح طشت از بام آج سے پہلے کبھی بھی نہیں کیا جاسکا ہے اور امت محمدی علیٰ صاحب السلام و التسلیم کے پاس صہیونی فتنوں کے سد باب اوراس سے نمٹنے کے لیے اب سے قبل ایسا واضح پروگرام نہیں تھا۔ اب یہ امت کا کام ہے کہ وہ ہمت سے کام لے اور ان سازشوں کے خلاف ڈٹ جائے تاکہ آخرت میں سرخرو ہونے کا شرف حاصل ہوجائے۔
 
معرکہ دجال اکبر ( تکفیر ، تدبیر اور تعمیل) جناب اسرار عالم صاحب کی ایک اہم کتاب ہے جو امت محمدی کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب بذات خود ایک ضخیم کتاب ہے اور اسرار عالم صاحب کے ذہنی سطح کی ترجمانی کرتی ہے اس لیے ایک عام قاری کے لیے جس کے پاس نہ تو اتنا وقت ہے اور نہ ہی اس کی علمی قابلیت اتنی زیادہ ہے کہ وہ ان دقیق معاملات کو پڑھ کر اس کا درست اندازہ کرسکے۔ اس کتاب کو عام فہم انداز میں بیان کرنے اور اس کی قرات کے وقت کو کم کرنے کی خاطر اس کی تلخیص انتہائی ضروری تھی۔ اسی مقصد کو مد نظر رکھ کر جناب عبداللہ اسلام صاحب نے اس مشکل کام میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اس ضخیم کتاب کی تلخیص کی۔ اس کو مزید فعال اور اس کی دلیلوں کو مضبوط کرنے کی خاطر ان تمام احادیث کو ڈھونڈھ کر اس میں شامل کرتے گئے جس سے نہ صرف یہ کہ اس کی افادیت میں اضافہ ہوگیا بلکہ اس پورے کام میں گویاچار چاند لگا دئے۔ اس چھوٹے سے کتابچہ کو پڑھنے کے لیے بہت زیادہ وقت کی ضرورت ہے اور نہ اس کو سمجھنے کے لیے بڑی حکمت اور دانائی درکار ہے۔ سیدھی سچی بات انتہائی دلچسپ پیرایہ میں صاف ستھرے انداز میں لکھ دی ہے جس کے لیے جناب عبد اللہ اسلام صاحب مدح اور ستائش کے لائق ہیں۔ اللہ کی عطا کی ہوئی توفیق کو انہوں نے انتہائی چابک دستی سے استعمال کرتے ہوئے سوئی ہوئی امت مرحومہ کو خواب غفلت سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ اسرار صاحب کو صہیونی سازشوں کو سمجھنے اور اس کا پردہ چاک کردینے کی کوششوں پر انہیں جزائے خیر عطا کریں اور اس کے ساتھ ہی اس کتابچہ کے مؤلف پر بھی اپنی نعمتوں اور رحمتوں کی بارش کردیں اور آخرت میں ان کی عزت اور سر بلندی کا ذریعہ بنائیں ۔ آمین ثم آمین
 
ابو عمار سلیم

جنگوں کے سوداگر


تبصرہ کتب ٢ 

جنگوں کے سوداگر

از: مسعود انور

معراج ایڈورٹائزرز ، 107-k ، بلاک ٢ ، سنگم شاہراہِ قائدین و خالد بن ولید روڈ ، پی ای سی ایچ ایس ، کراچی 021-34555764

مسعود انور پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ان کی پہلی کتاب ہے ۔ جسے صحافت اور تحقیق کا امتزاج قرار دیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے تحقیق کا فریضہ ذمہ داری سے انجام دیا ہے اور صحافتی ذمہ داری انجام دیتے ہوئے مختصر لیکن کام کی بات ذکر کی ہے ۔ تاریخ کا گہرا مطالع کرکے انہوں نے اس بحرِ ذخّار سے گہر آبدار نکالا ہے ۔

ہمارے یہاں تاریخ سے سبق لینے کی روایت نہیں رہی ۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو دہراتے چلے جا رہے ہیں جنہیں ہم صدیوں پہلے انجام دے چکے ہیں ۔ مولف نے تاریخ کو سرسری انداز میں پیش نہیں کیا ہے بلکہ وسیع مطالعے کے بعد اس کے گمشدہ پہلوئوں کو بے نقاب کیا ہے اور اس سے نتائج اخذ کیے ہیں ۔ خوشی کی بات ہے کہ مولف نے حقیقت نگاری کی ہے ۔ تاریخ کے اہم ترین انقلابات کے پس پردہ حقائق کو جیسا دریافت کیا ویسا ہی بیان بھی کردیا ۔ انقلاب برطانیہ ، انقلاب فرانس ، امریکی انقلاب ، روسی انقلاب ، سلطنتِ عثمانیہکا خاتمہ اور ہسپانوی انقلاب کی اصل حقیقت بیان کی ہے ۔ مولف نے بیان حقیقت کے لیے کسی مصلحت پسندی کو عذر نہیں بنایا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بہت سی باتیں انکشافات محسوس ہوں گی ۔ مثال کے طور پر
جمال الدین افغانی سے متعلق جو ناقابلِ تردید حقائق اب منظرِ شہود پر آ رہے ہیں ان سے مولف کی تائید ہوتی ہے ۔

مولف نے عالمی جنگوں اور ان کے اسباب پر بھی روشنی ڈالی ہے اور انہیں تیسری عالمی جنگ کے خطرے کا بھی پورا ادراک ہے ۔ دنیا میں جو اس وقت مالیاتی سازش اپنے عروج پر ہے کتاب میں اس پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔

تمام تر خوبیوں کے باوصف کتاب میں حوالوں کی عدم موجودگی نے کتاب کے استنادی معیار کو سخت مجروح کیا ہے ۔ صحافت اور تحقیق کے تقاضے مختلف ہیں ۔ یہ کتاب ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ موضوع پر لکھی گئی ہے ، اس میں حوالوں کا خصوصی اہتمام ہونا چاہیئے تھا ۔ گو یہ درست ہے کہ مولف نے جو نکات پیش کیے ہیں ان کی تائید دیگر تحریری حوالوں سے ہوجاتی ہے لیکن حوالوں کا اہتمام کتاب کو مزید اعتبار عطا کرتا ۔
کتاب ایک انتہائی اہم موضوع پر قابلِ قدر کاوش ہے ۔ اس کا مطالعہ ہر اعتبار سے مفید رہے گا اور چشم کشا ثابت ہوگا ۔
ابو محمد معتصم باللہ

"قرآن" غیروں "بائبل" اپنوں کی نظر میں


تبصرہ  کتب ٣ 

"قرآن” غیروں"بائبل” اپنوں کی نظر میںمؤلف :محمود ریاض
 
صفحات : ١٤٤
قیمت : ( مجلد )درج نہیں
ناشر : مکتبہ سعد بن ابی وقاص کراچی
محل فروخت  : اقبال نعمانی بک سینٹر صدر کراچی ، اقبال بک ڈپو صدر کراچی ، طاہر بک ہائوس صدر کراچی، ادارة المعارف جامعہ دارالعلوم کراچی ، فضلی بک اردو بازار کراچی ، مکتبہ دار الاحسن یٰسین آباد کراچی ۔
 
محمود ریاض تاریخ اسلام ، بین الاقوامی تعلقات اور سیاسیات کے طالب علم ہیں تاہم انہیں تقابل ادیان بالخصوص اسلام اور نصرانیت کے تقابلی مطالعے سے خصوصی دلچسپی ہے ۔
 
زیر تبصرہ کتاب میں انہوں نے قرآن پاک سے متعلق غیر مسلم علماء و مفکرین کے اقوال نقل کیے ہیں جو قرآن مجید کی عظمت کے اعترافات پر مبنی ہیں ۔

 
کتاب کے دوسرے حصے میں مولف نے بائبل سے متعلق اپنی تحقیقات عیسائی علماء کی تحریروں کی مدد سے پیش کی ہیں ۔بائبل شروع ہی سے متنازع رہی ہے ۔ اس کے تصنیفی انتساب پر ہر دور میں حرف تنقید زبان و قلم پر لائی گئی ۔اس کے مختلف نسخے اس کے مابین تضادات کو نمایاں کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ایک قدیم ماہرِ الٰہیات ،فلسفی اور شارح بائبل اوریجن Origen کا یہ قول بقول مولف مسیحی دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے :
 
” اناجیل میں اتنے اختلافات ہیں کہ ان سے آدمی کا سر گھومنے لگ جاتا ہے ۔ ” ( ص ٩٢ -٩٣)
 
مولف نے صفحہ ٥٣ تا ٥٦ قرآن کی عظمت میں ڈاکٹر موریس بوکائلے کی کتاب The Quran, The Bible and The Scienceسے اقتباسات نقل کیے ہیں ۔ مولف کی اطلاع کے عرض ہے کہ ڈاکٹر موریس بوکائلے نے اسلام قبول کرلیا تھا ۔ جیسا کہ ڈاکٹر گیری ملر نے اسلام کو قبول کرلیا تھا ۔ ثانی الذکر کے اسلام کی تصریح مولف  نے کی ہے ۔
 
کتاب بڑے سلیقے سے مرتب کی گئی ہے اور اس کی طباعت میں بھی معیارکی بلندی کا ثبوت دیا گیا ہے ۔
مولف اگر اخذ و ترتیب سے بڑھ کر اخذ استدلال ، تقابل اور تنقید کا فریضہ انجام دیں ۔تو اپنے ذوق و شوق اور لگن کی بدولت بہت جلد بائبل کے ایک بلند پایہ محقق کی حیثیت سے اجاگر ہوں گے ۔ اسی روشنی میں وہ اپنی آئندہ کی تحقیقات کو ، جو قرآن کریم اور سیرت نبویؐ کے موضوع کا احاطہ کرتی ہیں ، قلمبند کریں تاکہ ان کی تحریروں کا علمی و استنادی معیار بڑھ جائے اور معاملہ صرف اخذ و ترتیب تک محدود نہ رہے ۔ بلکہ اس میں ایک تصنیفی شان نمایاں ہو ۔
 
الغرض مولف کی جستجو اور لگن لائقِ تعریف ہے ۔ وہ اسی جہت میں اپنی لگن کے تقاضے پورے کرتے رہیں تو جلد ہی عالم اسلام کوایک اچھا محقق میسر آجائے گا ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ان کی کاوشوں کوقبول فرمائے آمین۔
 
قارئین بالخصوص قرآنیات کا ذوق رکھنے والے افراد سے گزارش ہے کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں ۔ اس کا مطالعہ ان کے علم میں اضافے کا باعث ہوگا ۔
 
محمد تنزیل الصدیقی الحسینی