تبصرہ کتب : تصوف و احسان، زبان خامہ کی خامیاں


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

تصوف و احسان، علمائے اہلِ حدیث کی نظر میں

مؤلف : ابن محمد جی قریشی
صفحات : ١٥٧
طبع اوّل : دسمبر ٢٠١٦ء
ناشر : پورب اکادمی، اسلام آباد
کتاب ایک مقدمہ اور چھ ابواب میں منقسم ہے، ابواب کے عناوین حسبِ ذیل ہیں، جن سے کتاب کے مباحث کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے: پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

تبصرہ کتب


10 tabsara kutub تیتلع

پڑھنا جاری رکھیں

تبصرہ کتب:اہل علم کے خطوط


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی
الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

تبصرہ کتب:اہل علم کے خطوط

مرتب : محمد یوسف نعیم
طبع اوّل : دسمبر ٢٠٠٧ئ-١٢٨صفحات-غیرمجلد
قیمت : ٨٠ رُپےناشر:عبد الرحمان دارالکتاب کراچی

اہلِ علم کے خطوط کی ترتیب و تدوین اربابِ ذوق کا پسندیدہ موضوع رہا ہے ۔ بسا اوقات ان میں ایسے عمدہ علمی نکات اور مختلف اہل علم کی اپنے مخصوص افکار و نظریات سے متعلق اہم تصریحات مل جاتی ہیں جو ضخیم کتابوں کی ورق گردانی سے بھی حاصل نہیں ہوتی ہیں ۔ زیرِ تبصرہ تالیف بھی اسی نوعیت کی ایک کاوش ہے جس کے فاضل مرتب جناب
محمد یوسف نعیم نے اپنے نام آنے والے مختلف اہلِ علم کے مکاتیب کو جمع کیا ہے ۔
کتاب ٣ حصوں پر منقسم ہے پہلے حصے میں ان اہلِ علم کے خطوط ہیں جنہوں نے مرتب کے نام اپنے مکاتیب روانہ کیے ۔ جن میں مولانا حافظ عبدالمنان نور پوری ،مولانا محمد رفیق اثری ، مولانا محمد اسحاق بھٹی ، ڈاکٹر معین الدین عقیل ، مولانا
عمر فاروق سعیدی ، مولانا محمد ادریس ہاشمی ، مولانا محمد یٰسین شاد ، محمد رمضان یوسف سلفی وغیرہم شامل ہیں ۔
دوسرے حصے میں وہ خطوط درج ہیں جو فاضل مرتب نے مختلف اہلِ علم کے نام روانہ کیے تھے تاہم انہیں ان کے جوابات موصول نہیں ہوئے ۔ ان اہلِ علم میں جاوید احمد غامدی ، مفتی منیب الرحمان ، ڈاکٹر حامد حسن بلگرامی ، حافظ ابتسام الٰہی ظہیر وغیرہم شامل ہیں ۔
تیسرے حصے میں جن اہلِ علم کے مکاتیب شاملِ کتاب کیے گئے ہیں ان کے حالات درج ہیں ۔ فاضل مرتب نے کتاب کی ترتیب و تالیف میں خاصی جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ جس طرح ہر شخص کی سوانح نہیں لکھی جاتی اسی طرح ہر مکتوب بھی لائقِ اشاعت نہیں ہوتا ۔ متعدد خطوط میں ایک ہی مضمون مختلف پیرایوں میں آیا ہے وہ یہ کہ ” خیرالقرون
قرنی ” حدیث کی کسی کتاب میں روایت نہیں کیا گیا ۔ اسی طرح بعض مکاتیب مرتب کی کسی کتاب کی وصولی اطلاع کے طور پر لکھے گئے ہیں ۔ بیشتر مکاتیب مختصر اور ہلکے پھلکے خیالات پر مبنی ہیں ۔ تاہم مولانا محمد اسحاق بھٹی اور رانا محمد شفیق خاں پسروری کے مکاتیب لائقِ مطالعہ اور دلچسپ ہیں ۔
مرتب کی کاوش علمی اعتبار سے گو بہت وزنی اور جاندار نہیں تاہم ان کا جذبہ بلاشبہ لائقِ ستائش ہے ۔
(محمد تنزیل الصدیقی الحسینی )

تبصرہ کتب:مولانا عبد التواب محدث ملتانی


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

تبصرہ کتب:مولانا عبد التواب محدث ملتانی

مولف :حافظ ریاض عاقب

طباعت : جنوری ٢٠١٠ئ

-٢٩٣ صفحات-

مجلدقیمت : ٤٠٠رُپے

ناشر:مرکز ابن القاسم الاسلامی یونی ورسٹی روڈ ملتان

مولانا عبد التواب محدث ملتانی کا شمار ماضیِ قریب کے معروفعلماء ومحدثین میں ہوتا ہے ۔ ان کی خدمتِ حدیث کے نقوش آج بھی نمایاں ہیں ۔ وہ سیّد نذیر حسین محدث دہلوی کے تلمیذِ رشید تھے ۔ خودنے انہوں اپنی زندگی کا مقصد علمِ حدیث اور دیگر علوم اسلامیہ کی نشر و اشاعت کو قرار دیا تھا ۔ اسلاف کرام کی متعدد دینی کتب کی اوّلین طباعت ان کے حسناتِ علمیہ میں سے ہے ۔ مگر انتہائی افسوسناک امر ہے کہ کتبِ تذکرہ میں ان کا ذکر نہیں ملتا ۔ کسی معاصر تذکرہ نویس نے ان پر خامہ فرسائی کا فریضہ انجام نہیں دیا ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان کی خدمات سے طلاب علم کو آگاہ کیا جاتا تاکہ ان میں بھی خدمتِ حدیث کا داعیہ پیدا ہوسکے ۔ زیرِ تبصرہ کتاب مولانا موصوف کی زندگی کی مختلف جہات کا احاطہ کرتی ہے ۔ یہ دراصل بی ایڈ کا مقالہ ہے جو ٢٠٠٦ء میں ایجوکیشن یونیورسٹی ملتان میں پیش کیا گیا ۔ بعد ازاں اب یہ مقالہ کتابی شکل میں مرتب کرکے پیش کیا گیاہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

تبصرہ کتب: ایران کی چند اہم فارسی تفسیریں(جلد سوم)


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

تبصرہ کتب:

ایران کی چند اہم فارسی تفسیریں(جلد سوم)

مولف  :  ڈاکٹر کبیر احمد جائسی
طبع : ستمبر ٢٠١٠ئ-٢٤٤ ، صفحات-مجلد ،
قیمت :٢٠٠ رُپےناشر:قرطاس ، آفس نمبر ٢ ، عثمان پلازہ ، بلاک 13-B، گلشن اقبال ، کراچی

 
ادارئہ علوم اسلامیہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ( علی گڑھ ، یوپی ، انڈیا ) کے سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر کبیر احمد جائسی کی کتاب ” ایران کی چند اہم فارسی تفسیریں” اہم مفسرینِ ایران اور ان کی تفاسیر کے مطالعات پر مبنی ہے ۔ جسے ادارئہ قرطاس چار جلدوں میں پیش کر رہا ہے ۔ اس سلسلے کی ابتداء محمد بن جریر طبری ( م ٣١٠ھ ) کی مشہور زمانہ تفسیر ”جامع البیان ” کے فارسی ترجمہ سے ہوئی ہے اور اس کا اختتام چودہویں صدی ہجری تک کے اہم ایرانی مفسرین پر مبنی ہوگا ۔
زیرِ تبصرہ کتاب اس سلسلے کی تیسری جلد ہے ۔ اس جلد میں جن فارسی تفاسیر سے متعلق اپنے حاصلِ مطالعہ کو مصنف نے پیش کیا ہے ، وہ حسبِ ذیل ہے: پڑھنا جاری رکھیں

سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012
تبصرہ کتب 8،9

سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز

از: قاری عبدالرحمن صاحب مہتم جامعہ رحمانیہ
مرتبین : مو لانا عبدالحنان جانباز،  ملک عبدالرشید عراقی اور عبدالعزیز سوہدروی

مبصر: محمد یاسین شاد عفی عنہ

 
محترم قاری عبدالرحمن صاحب مہتم جامعہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ٩١٢ صفحات پر مشتمل ضخیم سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز  متوفی ١٤ذالحجہ ١٤٢٩ھ بمطابق ١٣دسمبر ٢٠٠٨ء شائع کی اس کے مرتبین مو لانا عبدالحنان جانباز ملک عبدالرشید عراقی اور عبدالعزیز سوہدروی ہیں ۔
 
قاری صاحب ناشر سوانح اس سال ١٤٣٣ھ  ١٢٠١٢ کو فریضہ حج کی ادائیگی کی سعادت حاصل کر چکے ہیں قرآن مجید میں ہے :

( یَرْفَعِ اللّٰھُ ا  لَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ )(المجادلة:١١)

ترجمہ :” اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا ۔”

اسماء الحسنیٰ اور قرآنی سورات و آیات کے فضائل


تبصرہ کتب 7

اسماء الحسنیٰ اور قرآنی سورات و آیات کے فضائل

مؤلف :محمد صدیق صدیقی

قیمت : مؤلف اور اس کے متعلقین و مرحومین کے لیے دعائے مغفرت
تاریخ طباعت:رمضان المبارک ١٤٣٣ھ
مطبع: قریشی آرٹ پریس، ناطم آباد نمبر 2

مبصر: ابو عمار سلیم

اسماء الحسنیٰ اور قرانی سورات اور آیات کے فضائل یا عرف عام میں ” اسمائے حسنیٰ ”  جو کہ کتاب کے سرورق پر درج ہے ، جناب محمد صدیق صدیقی صاحب کی تیسری کاوش ہے جو منظر عام پر آئی ہے۔ اس سے قبل آپ کی پہلی کتاب  ” آئیے نمازادا کریں ” اور پھردوسری کوشش ” آئیے قیامت کے احوال سے عبرت حاصل کریں ” منظر عام پر آچکی ہیں۔ جناب صدیقی صاحب کی پیش نظر کتاب پر کچھ کہنے سے پہلے یہ بتانا انتہائی ضروری ہے کہ آپ کسی مذہبی درسگاہ کے فارغ التحصیل نہیں ہیں بلکہ پیشے کے لحاظ سے ایک انجینئر ہیں اور پاکستان اور غیر ممالک میں کئی بیش قیمت اور قابل قدر پراجیکٹ پر کام کر چکے ہیں۔

گو کہ آپ کو ہمیشہ سے مطالعہ  اور تصنیف و تالیف سے شغف رہا ہے مگر نوکری سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے آپ کو دین کی خدمت کی طرف بڑی شدومد سے راغب کرلیاہے۔ آپ کے دل میں امت محمدی علیٰ صاحب سلام و تسلیم کی بھلائی کا جذبہ موجزن ہے ۔ امت مرحومہ کی بھلائی اور مسلمانوں کے اعمال کی درستگی اور آخرت کی تیاری کے سلسلہ میں کافی تشویش میں مبتلا رہتے ہیں اور خلوص دل سے چاہتے ہیں کہ عام مسلمان اپنے اعمال درست کرلیں اور اپنے عقائد اور عبادات کے اہم اور ناگزیر گوشوں سے اچھی طرح واقفیت حاصل کریں تاکہ اس کی محنت قابل قبول ہو اور وہ اللہ کی نظروں میں مخلص و موحد اور اطاعت گزار بن جائے اور اس کی عاقبت سنور جائے۔ اس سلسلہ میں آپ کافی تحقیق کرتے ہیں اور پھر اپنی کاوشوں کو اپنی جمع پونجی لگا کر طبع کرواتے ہیں اور فی سبیل اللہ تقسیم کرتے ہیں۔ان کی یہ سوچ اور ان کی تمام محنت یقینا قابل ستائش ہے اور ہماری دعا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کی ان کوششوں کو نہ صرف یہ کہ قبول کریں بلکہ ان کتابوں کو پڑھنے والوں کے لیے سود مند کردیں بلکہ خودان کے لیے توشئہ آخرت بنا دیں ۔ آمین ثم آمین۔

 

 

 

 

اسمائے رب ذوالجلال و الاکرام کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ پوری اسلامی تاریخ میں کئی ایک احباب علم و فضل نے ان کی طرف خصوصی توجہ کی ہے اور ان اسمائے مبارک کے فیوض و برکات سے عامۃ المسلمین کو آگاہ کیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ  ایک عام مسلمان کے لیے اللہ جل جلالہ کے ننانوے نام اور ان کی صفات سے متعلق کوئی اشتباہ ہے اور نہ ہی کوئی اشکال۔ کسی کو اللہ کے تمام کے تمام بابرکت اسماء یاد ہونگے اور کسی کو چند ایک کے علاوہ زیادہ سے واقفیت نہیں ہوگی مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر مسلمان قرآنی حکم کے مطابق اللہ باری تعالیٰ کے حضور میں اپنی تمام التجائیں ان ہی مبارک اور با برکت اسماء کے ذریعہ سے ہی درخواست گذار ہوتا ہے۔ ان مبارک ناموں کی فضیلت اور ان کے برکات ہی ہیں کہ اللہ نے اعلان کیا کہ تمام اچھے نام اسی کے ہیں اور اللہ کو اس کے ناموں کے ساتھ پکارو۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے ناموں کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی کیا ہے اور پھر ان کی تعلیم سید المرسلین خاتم النبین علیٰ صاحب سلام و التسلیم نے بھی فرمائی ہے۔ بزرگوں نے ان تمام ناموں کو اکٹھا بھی کیا ہے اور ان مختلف فضائل اور ان کے ورد کی مختلف شکلیں اور ان کے فیوض و برکات بھی درج کر دی ہیں۔اللہ رب العزت کے ان صفاتی ناموںکو بزرگوں نے یکجا بھی کیا ہے اور ان پر مختلف انداز سے بحث بھی کی ہے۔ مگر زیر نظر کتاب آج کے دور کی کتاب ہے جس کا اسلوب تحریر تحقیق اور ریسرچ پر منحصر ہے۔ اللہ جل شانہ کے اسماء پر صرف طائرانہ نظر نہیں ڈالی گئی ہے بلکہ کمال خلوص اور انتہائی لگن کے ساتھ ان اسماء کی مختلف شکلوں کو بھی  کھنگالا گیا ہے۔ قرآن مجید میں کون سے اسماء کس انداز میں اللہ نے بیان کیے ہیں۔ کون سا بابرکت نام کن سورتوں میں اور کن آیات میں کتنی بار آیا ہے۔ ہر ایک اسم باری تعالیٰ کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے معانی ، ان کی خصوصیات کے ساتھ ان کے ورد کرنے کے روحانی اور جسمانی فوائد بھی درج کر دئیے گئے ہیں ۔ اور ان تمام اوراد و وظائف کے حوالے بھی لکھ دئیے گئے ہیں تاکہ کسی اشکال کی صورت میں ان کی طرف رجوع کیا جاسکے۔  میرے نزدیک یہ عمل ہی مولف کی نیک نیتی کی ضمانت ہے کیونکہ وہ خود اس میدان کے آدمی نہیں ہیں اور ان کے علم کی کل اساس مطالعہ پر مبنی ہے۔یہ کام صدیق صدیقی صاحب نے بڑی عرق ریزی سے کیا ہے اور یقینی طور پر ان کا یہ کام نہ صرف یہ کہ عام قاری کو پسند آئے گا بلکہ خصوصی طور پر ریسرچ اور تحقیق کرنے والوں کے لے بھی ایک اچھا مآ خذ بن جائے گا۔