خروج دجال کا مقام


نور حدیث    بسلسلۂ نادر احادیث فتن

جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

خروج دجال کا مقام از محمد تنزیل الصدیقی الحسینی PDF DOWNLOAD

 محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

 حدیث : عن ابی بکر الصدیق قال : حدثنا رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قال : ” الدجال یخرج من ارض بالمشرق یقال لہا خراسان یتبعہ اقوام کأنّ وجہوہم المجان المطرقة ۔”

ترجمہ : سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان فرمایا کہ : ” دجال ارضِ مشرق سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے ۔قومیں اس کی پیروی کریں گی جن کے چہرے تہہ بہ تہہ ڈھالوں کی طرح ہونگے ۔” پڑھنا جاری رکھیں

درس وفا


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

مولانا ابو الکلام آزاد کے قلم معجز رقم سے

درس وفا

ہجرت کی تیسری صدی قریب الاختتام ہے ۔ بغداد کے تخت خلافت پر المعتضد باللہ عباسی متمکن ہے ۔معتصم کے زمانے سے دارالخلافہ کا شاہی اور فوجی مستقر سامرہ میں منتقل ہو گیا ہے ۔پھر بھی سر زمین بابل کے اس نئے بابل میں پندرہ لاکھ انسان بستے ہیں ۔ایران کے اصطخر ، مصر کے ریمس اور یورپ کے روم کی جگہ اب دنیا کا تمدنی مر کز بغداد ہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

امام ابو سلیمان الخطابی


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

امام ابو سلیمان الخطابی

PDF DOWNLOADامام ابو سلیمان الخطابی از قلم محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

شیخ الاسلام امام ابو سلیمان حمد بن محمد بن ابراہیم بن الخطاب الخطابی البستی مشاہیر ائمہ اسلام و فقہائے محدثین میں سے تھے ۔
آپ کی کنیت ابو سلیمان نام حمد تھا ۔ بعض تذکرہ نگاروں نے احمد بھی لکھا ہے جو کہ درست نہیں ۔ اپنے جدّ بزرگوار الخطاب کی صفتِ نسبتی سے الخطابی کہلائے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ موصوف کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے بھائی زید رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے اسی نسبت سے ” الخطابی ” کہا جاتا ہے ۔ ( وفیات الاعیان، غایة المقصود)
٣١٩ھ میں بمقام ” بُست ” ولادت ہوئی ۔ ” بست ” بلادِ کابل کے اطراف میں ہرات و غزنی کے درمیان واقع ہے (وفیات الاعیان، غایة المقصود) ۔ لیکن مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری کی تحقیق کے مطابق : ” بُست بضم الباء مدینة بین سجستان و غزنین و ہراة۔”( سیرة البخاری : ١٧٧) پڑھنا جاری رکھیں

اقبال — امید اور یقین کا نامہ بَر


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

محمد جاوید اقبال

اقبال — امید اور یقین کا نامہ بَر

اقبال کو رُخصت ہوئے ٧٥ سال ہونے کو آئے لیکن ان کا امید افز اور روح پرور کلام اس قدر تازہ لگتا ہے گویا آج ہی کہا گیا ہو۔وہ غلامی کے دور میں پیدا ہوئے اور انہوں نے بڑی بے خوفی سے غلامی کو موت سے بدتر قرار دیااور آزاد ی کا راز آشکار کردیا:

پڑھنا جاری رکھیں

سوچیے ضرور، مگر سوچے بغیر


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

ایم ابراہیم خاں

!سوچیے ضرور، مگر سوچے بغیر 

میلکم  گلیڈویل کی مشہور زمانہ کتاب Blink کا تجزیہ جس میں اس نظریے کو تفصیل سے پیش کیا گیا ہے کہ سوچنے اور فیصلہ کرنے کے لیے بہت زیادہ سوچنا نہ صرف یہ کہ ضروری نہیں بلکہ بسا اوقات نقصان دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔

 
میلکم گلیڈویل نے 2005 میں معرکہ آرا کتاب ”بلنک” لکھی جس نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس کتاب میں گلیڈویل نے یہ تصور پیش کیا ہے کہ کسی بھی معاملے میں ذہن پر زیادہ زور دیے بغیر بھی نتیجہ خیز فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ ذہن میں یہ فطری صلاحیت ہوتی ہے کہ کسی بھی معاملے میں آزاد چھوڑے جانے پر وہ تیزی سے کسی بہتر نتیجے تک پہنچ
سکتا ہے اور اس صورت میں جو بھی فیصلے ہوتے ہیں وہ بھی انتہائی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012
تبصرہ کتب 8،9

سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز

از: قاری عبدالرحمن صاحب مہتم جامعہ رحمانیہ
مرتبین : مو لانا عبدالحنان جانباز،  ملک عبدالرشید عراقی اور عبدالعزیز سوہدروی

مبصر: محمد یاسین شاد عفی عنہ

 
محترم قاری عبدالرحمن صاحب مہتم جامعہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ٩١٢ صفحات پر مشتمل ضخیم سوانح شیخ الحدیث مو لانا محمد علی جانباز  متوفی ١٤ذالحجہ ١٤٢٩ھ بمطابق ١٣دسمبر ٢٠٠٨ء شائع کی اس کے مرتبین مو لانا عبدالحنان جانباز ملک عبدالرشید عراقی اور عبدالعزیز سوہدروی ہیں ۔
 
قاری صاحب ناشر سوانح اس سال ١٤٣٣ھ  ١٢٠١٢ کو فریضہ حج کی ادائیگی کی سعادت حاصل کر چکے ہیں قرآن مجید میں ہے :

( یَرْفَعِ اللّٰھُ ا  لَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ )(المجادلة:١١)

ترجمہ :” اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا ۔”

قرآن اور پانی


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ8 ، 9  محرم، صفر 1433ھ/  نومبر ، دسمبر 2012

تبصرہ کتب 8،9

قرآن اور پانی

مؤلف : محمد شعیب قادری
اشاعت : جولائی ٢٠١١ء
ناشر : بزم حجاز، جامعہ وقاریہ ٹرسٹ، کوثر نیازی کالونی، نارتھ ناظم آباد، کراچی

مبصر :  ابو عمار سلیم

 
مصنف کتاب جناب محمد شعیب قادری صاحب نے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے استفادہ کرتے ہوئے ایک بہت ہی اہم اور حساس موضوع پر ایک قابل قدر مضمون ترتیب دیا ہے۔ پانی ہمیشہ سے انسانی زندگی کے لیے ایک انتہائی اہم اور حیات کے برقرار رکھنے اور اس کی نشو نما کے لیے جزو لا ینفک عنصر کی طرح ضروری رہا ہے۔  جب قرآن مجید نے یہ اعلان کردیا کہ ہر زندہ چیز جو تم دیکھتے ہو اللہ نے پانی سے ہی تخلیق کی ہے تو پھر پانی کی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔ پانی انسان کے لیے اتنا اہم رہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ تہذیب انسانی ہمیشہ پانی کے ذخائر کے قریب ہی رہ کر پھلی پھولی ہے۔ دریائے دجلہ و فرات، نیل و آمو ، امیزن اور ڈینوب یا پھر ہمارا دریائے سندھ سب نے انسانی تاریخ اور تہذیب و تمدن پرگہرے نقوش چھوڑے ہیں ۔ تہذیبیں وہیں پروان چڑھیں جہاں پانی وافر مقدار میں موجود رہا۔