ایک علمی اور یادگار سفر


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ایک طویل عرصے سے خواہش تھی کہ شمالی پنجاب کے مختلف شہروں کا علمی سفر کیا جائے، وہاں کے کتب خانوں کی زیارت کرکے آنکھوں کو ٹھنڈک پہچائی جائے اور پھر اسی بہانے اپنے پرانے دوستوں سے ملاقات کی جائے اور ان دوستوں سے بھی جن دوستی تو مضبوط بنیادوں پر قائم ہوگئی تھی مگر کبھی صورت آشنائی کی نوبت نہ آ سکی تھی۔ ”ادارہ احیاء التراث الاسلامی ” کویت سے انسلاک کے بعد میں نے فی الفور فیصلہ کیا کہ دس برس سے بھی زائد عرصہ پر محیط اس جمود کو توڑا جائے اور اپنی خلوت سے باہر نکل کر جلوت میں قدم رکھا جائے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

ماہِ رمضان المبارک کا تقدس اور ہم


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ہمارا معاشرہ اخلاقی انحطاط و زوال کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ہمارے لیے دین رسم سے نکل کر مالِ تجارت بن چکا ہے۔ ہم اللہ کے ساتھ تعلق کی بھی قیمت لگانے لگے ہیں۔ اپنی عبادتیں بھی بیچنا چاہتے ہیں۔ اپنے شوقِ زر پرستی کے اظہار کے لیے ہم نے دین کو بھی مشقِ ستم بنا ڈالا ہے۔ انحطاط اور زوال ایک دم سے پیدا نہیں ہوتے۔  کو پڑھنا جاری رکھیں

ہمارے بے اثر رمضان


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

ہمارے دین اسلام کی تمام عبادتوں کا مقصد انسان کو اللہ کے قریب کرنا اور خشیت الٰہی میں اضافہ کرنا ہے۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة سب کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر ایسی پاکیزگی پیدا ہو جائے جہاں اللہ کی عظمت اور اس کے مالک کل ہونے کا احساس اس طرح جاں گزیں ہو جائے کہ اللہ کی رضا سے الگ نہ کوئی زندگی کا مصرف رہے اور نہ ہی زندگی گزارنے میں اس کے احکامات کی پامالی کا ذرہ برابر اندیشہ ہو۔ نماز ہمارے اند ر نہ صرف خشوع و خضوع پیدا کرتی ہے اور اللہ کے حضور حاضری کا احساس اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ ہماری اس طرح تربیت کرتی ہے کہ ہم ہر لمحہ اپنے اللہ کے حضور جھکے رہیں اس کے آگے سجدہ ریز رہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں اور اس کے احکامات پر عمل پیرا رہنے کا عزم کرتے رہیں۔ یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت کے خالق و مالک ہونے کا احساس ہمارے دلوں میں راسخ کو پڑھنا جاری رکھیں