مجلہ الواقعۃ کی اشاعت خصوصی برائے القرآن الکریم


مجلہ الواقعۃ کی اشاعت خصوصی برائے القرآن الکریم

شمارہ 20 – 21 ، محرم و صفر 1435ھ / نومبر و دسمبر 2013ءMajalla Al Waqia Quran Number

مدیر : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

مضامین نگار : علامہ سید رشید رضا مصری، مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ سید سلیمان ندوی، حسن البنا شہید، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا سید زوار حسین شاہ، مولانا حسن مثنیٰ ندوی، ڈاکٹر محمود احمد غازی، الاستاذ محمد جمال، مولانا برہان الدین سنبھلی، ڈاکٹر فضل الرحمٰن، پروفیسر سعود عالم قاسمی، پروفیسر طیب شاہین لودھی، پروفیسر عبد المغنی، محمد رضی الاسلام ندوی، ابو الحسن، بابائے اردو مولوی عبد الحق، محمد عارف اعظمی عمری، مولانا محمد زکریا خاور، مولانا محمد اقبال کیلانی، مولانا اشہد رفیق ندوی، ڈاکٹر سہیل حسن، ڈاکٹر محمد سلیم، مولانا ضیاء الدین اصلاحی، ڈاکٹر نثار احمد، پروفیسر ریاض الرحمٰن شروانی، حماد ظفر سلفی، ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر،  حافظ عمیر الصدیق دریا بادی ندوی، مولانا محمد یٰسین شاد، ڈاکٹر عبد الرزاق گوندل، ابو عمار سلیم، داکٹر ساجد اسد اللہ، ڈاکٹر محمد سلیم خالد، مولانا حمید اللہ خاں عزیز، خرم سلیم، مولانا ابو موحد عبید الرحمٰن، محمد عمر اسلم اصلاحی، منشی عبد الرحمٰن خان، محمد ثاقب صدیقی ، راحیل گوہر، محمد خاں محمدی السندی، محمد سلیم اسماعیل، جاوید احمد غامدی، شکیل عثمانی، عنبرین صدیقی، محمد اسماعیل شیرازی۔

ڈاؤن لوڈ لنک

https://ia800400.us.archive.org/8/items/MajallaAlWaqiaQuranNoDec2013/Majalla-Al-Waqia(Quran%20No)%20Dec%202013.PDF

Advertisements

صاحب قرآن ﷺ کی فریاد


الواقعۃ شمارہ 20 – 21 محرم و صفر 1435ھ

اشاعت خاص : برائے قرآن کریم

از قلم : ابو عمار سلیم

قرآن مجید فرقان حمید کی سورة الفرقان کی آیت نمبر 30 کے الفاظ ہیں و قال الرسول یٰرب ان قومی اتخذوا ھذا القراٰن مھجورا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ  ”  رسول (ﷺ) نے کہا !  اے  رب بے شک میری قوم نے اس قران کو نظر انداز کر رکھا تھا ۔”  اس آیت مبارکہ کے سیاق و سباق کے مضامین پر نظر ڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قران اس وقت کا نقشہ کھینچ رہا ہے جب قیامت قائم ہو چکی ہوگی ۔ تمام نفوس اللہ کی بارگاہ میں صف بستہ کھڑے ہوں گے ۔ نیکو کاروں کو ان کی ایمان پر گامزن رہنے اور اللہ کے احکامات کی بجا آوری اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کی پیروی کے نتیجہ میں اعلیٰ درجات اور جنت عطا کی جا رہی ہوگی ۔ اسی طرح کافروں اور اللہ کے  رسول کی نافرمانی کرنے والوں کو ان کے کیے  کی سزا مل رہی ہوگی ۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ ابرار خوش ہوں گے تو کفار سخت پشیمانی اور پریشانی میں ہوں گے ۔ لوگ کف افسوس مل رہے ہوں گے کہ اے کاش ہم نے رسول کی بات مان لی ہوتی اور ان گمراہیوں میں نہ پڑے ہوتے ، فلاں کی تقلید نہ کی ہوتی اور رسول کی بات کو سچ مانا ہوتا تو آج یہ خرابی کا دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ اس دن ہر ایک پر یہ واضح ہوجائے گا کہ الملک یومئذ الحق للرحمٰن یعنی اس روز حقیقی حکومت صرف حضرت رحمٰن کی ہوگی۔ اللہ جل شانہ’ کا جلال اور شاہانہ رعب و سطوت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوگا اور وہ تمام کافرین و مشرکین جن کو اعتماد تھا کہ وہ اللہ کو کسی نہ کسی طور راضی کرلیں گے آج اپنی اس حماقت پر خود ہی نادم ہوں گے ۔ اپنی گذشتہ زندگی پر بھرپور پچھتاوا ہوگا اور وہ سب افسوس بے سود ہوگا کیونکہ وقت واپس نہیں پلٹے گا اور اپنے ہاتھ سے کمائے ہوئے اعمال اس دن اپنا پورا پورا بدلہ دیں گے ۔ کافروں کا اس دن اپنے ہاتھوں کو کاٹ کھانا اور گئی زندگی کے سر پھرے اعمال کو چھپا لینا ممکن نہ ہوگا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں