فہرس المخطوطات المکتبة العالیة العلمیة۔ نیو سعید آباد ضلع مٹیاری کے ایک بیش قیمت علمی خزینے کی فہرست


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/ مئی، جون 2013
فہرس المخطوطات المکتبة العالیة العلمیة
نیو
سعید آباد ضلع مٹیاری کے ایک بیش قیمت علمی خزینے کی فہرست
(قسط 1)

مولانا انور شاہ راشدی

ماہ اپریل میں نیو سعید آباد ضلع مٹیاری جانا ہوا ۔ اس موقع پر وہاں کے دو اہم کتب خانوں ( کتب خانہ سیّد محب اللّٰہ شاہ راشدی و کتب خانہ سیّد بدیع الدین شاہ راشدی ) کی زیارت کا موقع بھی ملا ۔ دورانِ ملاقات اوّل الذکر کتب خانے کے مہتمم مولانا قاسم شاہ راشدی کے صاحبزادے مولانا انور شاہ راشدی نے اپنے کتب خانے کے مخطوطات کی فہرست عنایت کی جوانہوں نے مرتب کی تھی ۔ اس علمی خزینے کی اہمیت کے پیشِ نظر اس فہرست کی” الواقعة” میں اشاعت کی جا رہی ہے ۔ (مدیر )
١- الاجرفی الھجر للحافظ السیوطی ۔
٢ – الا حادیث الطوال للا مام الحسن احمد بن خلال ، الفن الحدیث ۔
٣ – جزء فی اربعین حدیثا المقلب بسلسلة الابریز و الا کسیر العزیز ٢ دلائل التفصیل ٣ رسالة فی الجمعة للاما م طبرانی ۔
٤ – الاحکام الکبریٰ للامام الاشبیلی ، اجزاء : ٢ ، الفن الحدیث ۔
٥ – احکام لسیاق ما لسیدنا ومولانا محمد افضل الصلاة والسلا م من الایات البینات و المعجزات الباھرات و الاعلام للاما م ابن القطان ، الفن الحدیث ۔ پڑھنا جاری رکھیں
Advertisements

ہڑتال


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/ مئی، جون 2013
ہڑتال

 

دل کیگہرائیوں میں اتر جانے والی ایک گداز تحریر

محمدتنزیل الصدیقی الحسینی

"ارے سنتے ہو ! منے کی دوا کب لاؤ گے؟” اس نے ذرا تیز لہجے میں اپنے شوہر سے کہا ، جو خلاؤں کو گھور رہا تھا۔
"ہاں ہاں لے آؤں گا۔آج تو دہاڑی لگ ہی جائے گی، آج ضرور لے آؤں گا۔” اس نے پُر عزم لہجے سے کہا اور یہ کہہ کر اپنے کپڑے جھاڑ کر کھڑا ہو گیا اور گھر سے نکلنے کے لیے تیار ۔
"ارے اتنی جلدی بھی نہیں ہے، ناشتہ تو کرتے جاؤ۔”
اس نے زیرِ لب تلخ لہجے میں کہا : "ناشتہ” اور چل دیا۔ وہ جانتا تھا کہ ناشتہ کیا ہوگا ایک آدھی روٹی اور پانی کا سالن۔ پڑھنا جاری رکھیں

شام کی جنگ اپنے بدترین مرحلے میں


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/ مئی، جون 2013

شام کی جنگ اپنے بدترین مرحلے میں

ابو محمد معتصم باللّٰہ

شام کی جنگ جو اس وقت جاری ہے ، اگر وہی جنگ ہے جس کی اطلاع احادیث میں اخبارِ قیامت کے باب میں دی گئی ہے، تو پھر اس کا جلد اختتام پذیر ہونا ممکن نہیں بلکہ اس کا دائرہ اثر وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جائے گا ۔
دنیا نے دیکھ لیا کہ اس جنگ میں اسرائیل ، لبنان ، ترکی اور ایران براہِ راست ملوث ہوچکے ہیں ۔ ان کی شرکت معمولی صحیح مگر اس کے اثرات یقینا غیر معمولی ہوں گے ۔ جنگ میں عالمی دنیا کی دلچسپی سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ۔
شامی باغیوں اور شامی حکومت دونوں ہی کا کردار افسوسناک رہا ہے ۔ اگر صحیح تجزیہ کیا جائے تو بات واضح ہوگی کہ اب وہاں کئی عناصر بیک وقت سرگرم عمل ہیں ۔ تاہم جو کچھ بھی فتنہ پردازی ہورہی ہے اس کی قیمت وہاں کے بے گناہ عوام کو برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

دعوت یا تباہی فریضۂ دعوت کی اہمیت ڈاکٹر ذاکر نائیک کی نظر میں 1


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/ مئی، جون 2013
دعوت  یا  تباہی
فریضۂ دعوت کی اہمیت ڈاکٹر ذاکر نائیک کی نظر میں
قسط 1

مرتب : محمد ثاقب صدیقی

ڈاکٹر ذاکر نائیک عصر حاضر کے مشہور و معروف داعی و مبلغ اسلام ہیں ۔ ان کی تبلیغی مساعی کے نتیجے میں متعدد غیر مسلم افراد حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے ۔” دعوت یا تباہی” کے عنوان سے انہوں نے اپنے لکچرمیں تبلیغ کی اہمیت کو نہایت اچھوتے اور منفرد انداز سے بیان کیا ہے ۔ ان کے تقریری بیانیے کو محمد ثاقب صدیقی نے تحریری انداز میں منتقل کیا ہے نیز حواشی میں بعض مقامات پر فہم مطلب کے لیے قرآنی آیات کا اندراج بھی کیا ہے جس کے بعد اس کی” الواقعة” میں طباعت کی جا رہی ہے ۔ ( ادارہ  الواقعۃ )
الحمد اللّٰہ  و الصلوٰة  و السلام علی رسول اللّٰہ و علی آلِہ  و اصحابہ اجمعین اما بعد ! اعوذ با اللہ من الشیطان الرجیم ، بسم اللہ الرحمن الرحیم:
(قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا
وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ
فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ  ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ    ) (سورة التوبة : ٢٤)
(رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ 25؀ۙوَيَسِّرْ لِيْٓ اَمْرِيْ 26؀ۙ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ 27؀ۙيَفْقَـــهُوْا
قَوْلِيْ 28) ( سورة طٰہ : ٢٥ -٢٨ ) پڑھنا جاری رکھیں

تمدن اسلام۔ مصنفہ جرجی زیدان کی پردہ دری 1


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/ مئی، جون 2013
تمدن اسلام
مصنفہ جرجی زیدان کی پردہ دری
قسط 1

علامہ شبلی نعمانی کے قلم کا شاہکار

مستشرقین کی جانب سے اسلامی عقائد ، ثقافت ، تہذیب و تمدن اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کی ذات گرامی پر مختلف انداز سے طنز و تشنیع کا سلسلہ گزشتہ کئی صدیوں سے جاری ہے ۔ تاہم ہمارے یہاں کے عام اور نسبتاً سطحی درجے کے اہل علم مغرب اور مغربی مفکرین سے مرعوبیت کی حد تک متاثر ہیں اس لیے بسا اوقات مستشرقینکے اندازِ فریب کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ جرجی زیدان ( ١٨٦١ء – ١٩١٤ء ) کیمشہور کتاب “تمدن اسلام “ کا تعلق بھی ایسی ہی کتابوں میں ہے جسے اس وقت اسلامی دنیا میں بھی بڑی پذیرائی ملی تھی ۔ تاہم علامہ شبلی نعمانی ( ١٨٥٧ء – ١٩١٤ء ) نے اس کی زہر ناکیوں کا پردہ فاش کیا۔ چنانچہ انہوں نے عربی میں ہی “ الانتقاد علی کتاب التمدن الاسلامی “ لکھی جو ١٩١٢ء میں لکھنؤ سے طبع ہوئی ۔ علامہ شبلی کا یہ مقالہ بہت مشہور ہوا تھا اور اسے علمی دنیا میں وقعت کی نظر سے دیکھا گیا تھا ۔بعد ازاں انہوں نے اس کی تلخیص اردو میں کی جو ماہنامہ “ الندوہ “ لکھنؤ کی شعبان المعظم ١٣٢٨ھ کی اشاعت میں طباعت پذیرہوئی ۔ نیز علامہ شبلی کے مقالات کی چوتھی جلد میں بھی شامل اشاعت ہے۔ آج بھی ہمارے یہاں مغرب سے مرعوبیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ اسی پسِ منظر میں “ الواقعة “ میں اس مقالے کی اشاعت کی جارہی ہے ۔ ( ادارہ الواقعۃ )

جر جی زیدان ایک عیسائی مصنف نے یہ کتاب چار حصوں میں لکھی ہے جس میں مسلمانوں کی تہذیب و تمدن کی تاریخ لکھی ہے ۔ اس کتاب میں مصنف نے در پردہ مسلمانوں پر نہایت سخت اور متعصبانہ حملے کیے ہیں لیکن بظاہر مسلمانوں کی مدح سرائی کی ہے جس کا نتیجہ یہ ہو اکہ لو گوں کی نظر اس کی فریب کاریوں پر نہیں پڑی اور کتاب گھر گھر پھیل گئی ۔
میں اس حالت کو دیکھ رہا تھا ، لیکن قلت فرصت کی وجہ سے اس کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتا تھا ، نوبت یہاں تک پہنچی کہ فاضل کے امتحان میں اس کے داخل نصاب کر نے کی رائے دی گئی اور ٹائمس نے حال میں ایک مضمون لکھا کہ حضرت عمر کا کتبخانہ اسکندریہ کو جلانا ثابت ہے ۔جیسا کہ جر جی زیدان نے اس کوتمدن اسلام میں جدید دلائل سے ثابت کر دیا ہے ۔
ان واقعات نے مجبور کر دیا کہ میں اس کی فریب کاریاں تفصیل کے ساتھ ناظرین کے پیش نظر کروں اصل مضمون عربی میں لکھا ہے اور اس کو نہایت وسعت دی ہے اردو میں مختصر کر دیا ہے اور طرز تحریر بھی معمولی ہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

1دجّالیات سے ایمانیات۔ تک سودی معیشت غارتگر ایمان و اخلاق کا طوق گردن سے نکالو اور دنیا اور آخرت کے خسارے سے نجات حاصل کرو


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 14، رجب المرجب 1434ھ/مئی، جون 2013
دجّالیات سے ایمانیات تک

سودی معیشت غارتگر ایمان و اخلاق کا طوق گردن سے نکالو

 اور دنیا اور آخرت کے خسارے سے نجات حاصل کرو

محمد احمد

1-
الحبّ للّٰہ و البغض للّٰہ ۔اسلامی دنیا میں مسلمانوں کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ اس لیے جب غیر اسلامی دنیا (فقہاء جسے دار الحرب قرار دیتے ہیں ) کا ایک فر د برضا و رغبت دین اسلا م کی آغوش رحمت میں پناہ گزیں (دنیا نے اسے رفیوجی
REFUGEEکا خطاب دیا ہے جبکہ فر مانروائے کائنات کی نظر میں وہ مہاجر کے لقب کا حق دار گردانا جا تا ہے ) ہو تا ہے تو فضاء میں نعرہ توحید اللہ اکبر کا غیر فانی ارتعاش بلند ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ لو گوں کے دلوں میں ایمان کی بالیدگی کا باعث بن جاتا ہے ۔آخر ایسا کیوں نہ ہو جبکہ اللہ تعالیٰ خود ارشاد فر ما رہے ہوں :

(اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ

 للّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ    ) (البقرة : ٢١٨)

 “ 

البتہ ایمان لانے والے ، ہجرت کرنے والے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہی رحمت  

الٰہی کے امیدوارہیں ، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بہت مہربانی کرنے والا ہے ۔” پڑھنا جاری رکھیں

سوشل میڈیا کی شر انگیز حقیقت, والدین اورنوجوانانِ ملّت کے لیے لمحہ فکریہ


سوشل میڈیا کی شر انگیز حقیقت

والدین اورنوجوانانِ ملّت کے لیے لمحہ فکریہ

محمد عالمگیر ( سڈنی ، سٹریلیا )

ترجمہ :ابو عمار سلیم

حالہی میں آسٹریلیا (Australia) کے انگریزی روزنامہ  The Sydney Morning Herald میں ایک خاتون کی انتہائی دکھ بھری داستان شائع ہوئی کہ اس کو مرد حضرات کس طرح میل اور فون کے علاوہ بہ نفس نفیس اس کے گھر کے دروازے تک آکر اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں کیونکہ گندی ذہنیت رکھنے والے کسی شخص نے ایک My Space نامی ویب سائٹ پر اس کا اشتہار چلایا تھا۔ اسی قسم کے ایک اور واقعہ کی خبر جو ایک اور گھٹیا  ویب سائٹ Face Book  کے بارے میں تھی شام کی خبروں میں ٹیلی ویژن پرنشر ہوئی۔خبروں کی تفصیل میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ بلیک میلنگ کے اس گھناؤنے جرم میں امریکہ (USA) اور آسٹریلیا کے ہزاروں بدمعاش اور غنڈے ملوث ہیں مگر سوائے معدودے چند کے پولیس انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اخبار نے اس واقعہ کی تفصیل دیتے ہوئے یہ بتایا کہ اس عورت کے چہرے کی تصویر اور شخصیت کی تفصیل فیس بک سے اٹھائی گئی تھی اور My Space  پر چپکائی گئی تھی۔ پڑھنا جاری رکھیں