تبصرہ کتب: نوائے ضمیرؔ


الواقعۃ شمارہ: 101 – 103، شوال المکرم تا ذی الحجہ 1441ھ

نوائے ضمیرؔ

مجموعہ کلام حکیم محمود احمد ضمیرؔ برکاتی
مرتب: ڈاکٹر سہیل برکاتی
سن طباعت: 2019ء، صفحات: 122
ناشر: برکات اکیڈمی، سی 19، بلاک اے – 3، گلستانِ جوہر کراچی
رابطہ نمبر: 03323456259

حکیم محمود احمد برکاتی عالم، حکیم، فلسفی، طبیب اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ قدیم و جدید پر ان کی یکساں نظر تھی۔ علوم عقلیہ کی ایک مخصوص علمی و فکری دبستان کے نمائندہ عالم تھے۔ لیکن بہت کم لوگ ہوں گے جو یہ جانتے ہوں کہ حکیم صاحب با قاعدہ شاعر بھی تھے۔ ان کی شاعری ان کے افکار و خیالات کی طرح پاکیزہ اور با مقصد تھی۔ ان کا یہ مجموعہ کلام "نوائے ضمیرؔ” ان کی وفات کے چھے برس بعد پہلی مرتبہ منصہ شہود پر آیا ہے۔ حکیم صاحب کا کلام منتشر و متفرق تھا اس کے مرتب ان کے صاحب زادے ڈاکٹر سہیل برکاتی ہیں۔ جنھوں نے بڑی محبت کے ساتھ اپنے والد کے کلام کو یکجا کیا اور عمدہ انداز میں اس کی طباعت کی۔

کتاب کے آغاز میں حکیم صاحب کا مختصر سوانحی خاکہ تحریر کرنا چاہیے تھا جس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

حکیم محمود احمد برکاتی 21 اکتوبر 1924ء کو ریاست ٹونک (راجستھان، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ٹونک میں مدرسۂ خلیلیہ نظامیہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسۂ معینیہ عثمانیہ (اجمیر) میں درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ اُن کے اساتذہ میں مولانا معین الدین اجمیری، مولانا محمد شریف اعظم گڑھی، مولانا عبد الرحمن چشتی وغیرہم شامل ہیں۔ اس کے بعد الٰہ آباد سے فاضلِ ادب اور طبیہ کالج (دہلی) سے فاضل الطب والجراحت کی اسناد حاصل کیں۔

عملی زندگی کا آغاز ٹونک میں اپنے مطب سے کیا۔ 1954ء میں کراچی تشریف لے آئے اور اس کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ کراچی میں اپنا مطب برکاتی دواخانہ قائم کیا اور طب اور علم و ادب کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ طب کے میدان میں اُن کی غیر معمولی تحقیقی خدمات کے اعتراف میں ہمدرد یونی ورسٹی (کراچی) نے اُنھیں 1997ء میں ’’سندِ امتیازِ طب‘‘ اور 2001ء میں ’’ڈاکٹر آف سائنس‘‘ کی اعزازی سند عطا کی۔ تاریخ، سوانح اور طب ان کے پسندیدہ موضوعات تھے جن پر حکیم صاحب نے دو درجن سے زائد کتابیں لکھیں۔ 9 جنوری 2013ء کو فیڈرل بی ایریا کراچی میں  واقع ان کے مطب میں دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے انھیں شہید کر دیا۔ اللہ رب العزت ان کے درجات بلند کرے۔

۔”نوائے ضمیرؔ” مختصر سا مجموعہ کلام ہے۔ تاہم اس میں افکار کی مختلف جہتیں اور شاعری کے کئی اسالیب نظر آتے ہیں۔ کہیں تشبیہ و استعارات ہیں تو کہیں  واشگاف طور پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور کہیں گزشتہ شاعروں کے زمین کی پیروی اپنے اسلوب میں کرنے کی کوشش کی ہے۔

۔”حرم نامہ” کے زیرِ عنوان لکھتے ہیں:-۔

اک خطا کار و سیہ کار ہو مہمانِ حرم
اللہ اللہ رے ! یہ وسعتِ دامانِ حرم
لرزشِ دل کے سوا، اشکِ مسلسل کے سوا
کوئی ہدیہ نظر آتا نہیں شایانِ حرم

۔13 اگست 1996ء کو عمرہ کی سعادت کے موقع پر جو نظم انھوں نے لکھی اس میں امت کی پریشانیوں کا نوحہ بھی ہے اور عجز کا اعتراف بھی۔ اس کی ابتدا اس طرح کرتے ہیں:-۔

محمود خطا کار ہے اے رب محمد ﷺ
اب حاضر دربار ہے اے رب محمد ﷺ

اور اختتام اس طرح:-۔

چاہے تو ہمیں پھر سے مسلمان بنا دے
تو قادر و مختار ہے اے رب محمد ﷺ

۔نشید توحید” کے زیر عنوان ایک موحدانہ نظم کے اشعار ملاحظہ کیجیے:-۔

صنم کدے میں ترے جذبہ پرستش کو
نہ مل سکے گا سکوں، لا الہ الا اللہ
جیوں تو صرف خدا کے لیے ہو زیست مری
مروں تو کہہ کے مروں، لا الہ الا اللہ
ضمیرؔ بر سرِ اوراق عالم اسباب
نوشتہ ایم زخوں، لا الہ الا اللہ

موسم حج کے موقع پر جب شاعر زیارت سے محروم تھے تو بے اختیارانہ کہہ اٹھتے ہیں:-۔

موسم گل آ گیا زنداں میں بیٹھے کیا کریں
خون کے چھینٹوں سے کچھ پھولوں کے خاکے ہی سہی

حکیم صاحب ماہر منطق و فلسفہ بھی تھے، اُس کے اثرات بھی ان کی شاعری میں کہیں کہیں نمایاں ہیں۔ کلام ضمیرؔ میں عام قاری کے لیے عموماً یہ مقام قدرے مشکل ہے۔ ایک آسان سا فلسفیانہ شعر ملاحظہ ہو:-۔

اعتراف عدم علم، بایں لا علمی
دعویٰ علم عدم کے لیے ہے اک تقریب

کلام ضمیرؔ کے چند متفرق اشعار ملاحظہ فرمایئے:-۔

دل دیا، جاں سونپ دی اور نذر ایماں کر دیا
میں نے جو کچھ پاس تھا وہ نذرِ جاناں کر دیا
اللہ اللہ آپ کے رنگیں تصور کی بہار
قلبِ ویراں کو مرے، رشکِ گلستاں کر دیا
غم انسان کی فطرت میں داخل ہے شاید
خوشی میں بھی رونے کو جی چاہتا ہے
انکشافِ حادثات شام ہجراں کیا کریں
ہم پریشان ہیں تو ہوں ان کو پریشاں کیا کریں
دل بھی ان کا، دیں بھی ان کا، جاں بھی ان کی، اے ضمیرؔ
سوچنا یہ ہے کہ آخر ان پہ قرباں کیا کریں
اے قصر نشینِ روح و جاں اٹھ دل سے نکل کر باہر آ!
وہ قرب مجھے مطلوب نہیں، کر دے جو نظر سے پوشیدہ
جو وسوسے کہ دل میں اٹھائے ہوئے تھے سر
ساغر اٹھا لیا تو وہ موہوم ہو گئے
حاصل در نبی کی زیارت سے کیا ہوا
آیا جو انقلاب نہ اپنے مذاق میں
کافر کو اپنی جاں بھی نہیں اس قدر عزیز
مومن کو جس قدر کہ شہادت عزیز ہے

حکیم صاحب کے کلام کا یہ انتہائی مختصر سا مجموعہ ہے۔ بیشتر کلام یا تو ضایع ہو چکا ہے یا پھر ہنوزِ منتظر طباعت ہے۔

جو لوگ با مقصد شاعری پڑھنا پسند کرتے ہیں ان کے لیے نوائے ضمیرؔ ایک لائقِ مطالعہ مجموعہ ہے۔ اسی طرح جو لوگ شعر و ادب کی تاریخ قلمبند کرتے یا اس سے دل چسپی رکھتے ہیں انھیں چاہیے کو کلامِ ضمیرؔ کو بھی اس کا جائز ادبی مقام دیں۔

مبصر: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

مقامِ عبرت یا موجبِ بصیرت


الواقعۃ شمارہ: 101 – 103، شوال المکرم تا ذی الحجہ 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

حوادثِ مسلسل میں ہجومِ افکار کی بھی اپنی ہی ایک دنیا ہے۔ کبھی ناکامی کے اندیشے ڈراتے ہیں تو کبھی کوئی امید زندگی بن جاتی ہے۔ جس طرح فرد کی زندگی احساس و جذبات کی ایک مکمل دنیا ہے اسی طرح قوموں کی زندگی میں حوادث بھی آتے ہیں اور افکار بھی۔ اندیشے بھی ڈراتے ہیں اور امیدیں بھی پروان چڑھتی ہیں۔

جس طرح ایک انسان کی زندگی میں جہد للبقاء کی ایک ایسی منزل آتی ہے کہ جہاں ناموسِ ملی پر سمجھوتے کے ساتھ جینا یا غیرت ایمانی کے ساتھ مر جانے کی راہ کا انتخاب نا گزیر ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح قوموں کی زندگی میں بھی یہ مرحلہ آتا ہے۔ جب وقت کا منصف بتاتا ہے کہ تمہاری فتوحات کا موسم چلا گیا، اب یا تو مٹ جاؤ یا پھر غیرت ملی کو بچا لو۔ اور ایک تیسری راہ بھی ہے جو کم ہمتوں اور مصلحت کیشوں کی ہمیشہ اوّلین ترجیح رہی ہے، کہ کسی بھی طرح جی لو، خواہ ایمان کا سودا کرنا پڑے یا غیرت ملی کو قربان کرنا پڑے۔

یہاں کم ظرفوں اور کم ہمتوں کے راہِ انتخاب پر مکالمہ مقصود نہیں۔ یہ دنیا کم ہمتوں کو ٹھوکروں پر رکھتی ہے۔ یہ لوگ جی کر بھی مر چکے ہیں، اور ان کے متعفن جسم کی بو آج بھی تاریخ کے صفحات میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان کے نفاق نے انھیں ہمیشہ غیرتِ ایمانی کی موت میں جسمِ ظاہر کی زندگی دکھائی ہے اور انھوں نے ہمیشہ منافقت کو مصلحت اور بزدلی کو حکمت کے لباسِ فریب سے سنوارا ہے۔

اصل زندگی ان ہی کی ہے جنھوں نے بطلان و عصیان کے مقابلے میں حق پرستی کی راہ منتخب کی۔ وقت کے فرعونوں کا للکارا اور نماردہ عالم کو آنکھیں دکھائیں۔ اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کیا اور اس کی صداقت کی راہ میں اپنی جانیں لڑا دیں اور اس یقین کے ساتھ کہ جو کوئی اللہ، اس کے رسول اور اہلِ ایمان کے ساتھ ہو وہی ہمیشہ غالب ہوگا۔ وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٗ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّـٰهِ هُـمُ الْغَالِبُوْنَ (المائدۃ: 56)۔

دنیائے فانی کی آزمائشیں ہر دور اور زمانے میں آئی ہیں اور آتی رہیں گی۔ مگر ایک صاحبِ ایمان کی غیر فانی صداقت کی راہ اس سے کہیں بلند ہے کہ وہ آزمائشوں سے گھبرا کر اپنے مقصد سے منحرف ہو جائے۔ اس کا یقین اسے بتاتا ہے کہ جو کوئی بھی راہِ الٰہ سے منحرف ہوگا مٹ جائے گا، اس کے اعمال ضائع ہوں گے اور زندگی اکارت جائے گی۔ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَـاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۚ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (البقرۃ: 217)۔

دنیا بدل رہی ہے، بالخصوص اسلامی دنیا۔ سطح ارضی پر کھینچی گئی لکیروں میں تبدیلی کا وقت تیزی سے آ رہا ہے۔ چشم بصیرت وَا ہو تو اسلامی دنیا کے نقشے سے ٹپکتا ہوا لہو بھی نظر آ سکتا ہے اور سسکتی ہوئی زندگی کی پکار بھی سنائی دے سکتی ہے۔

تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے، لیکن اس کا فیصلہ کبھی نہیں بدلتا۔ بنی نوع انسان کی تاریخ کا فیصلہ کن باب کھل چکا ہے۔ ملتِ اسلامیہ کے سمندر میں تلاطم بپا ہے۔ موت کے خوف میں زندگی کی خواہش اور ظلم کے سایے میں عدل کی امید دم توڑ رہی ہے۔ اسلام کی تاریخ میں اگر خالد کی تلوار، ایوبی کی یلغار اور ابن زیاد کی للکار ہے تو وہیں سقوطِ بغداد، دہلی ، ڈھاکہ و قدس کی خونیں داستانیں بھی ہیں۔

وقت کا پہیہ ایک بار پھر امت مسلمہ کو اسی مقام پر لے آیا ہے جہاں ہمیں یا تو تلوار، یلغار اور للکار کی راہ کا انتخاب کرنا ہے یا پھر سقوط و زوال کی ذلت برداشت کرنی ہے۔ اب صرف اسلاف کی عظمتوں کی داستانیں سنا کر کام نہیں چل سکتا۔ یہ وقت اپنی روایات اور نسب کو گلے لگا کر سحر انگیز فسانوں کو تیار کرنے کا وقت نہیں ہے کہ ہم ماضی کے اسیر بن کر مستقبل میں قدم نہیں رکھ سکتے۔

بکہ کی وادیوں میں فاران کی چوٹیوں سے صدائے توحید بلند ہو رہی ہے اور یثرب کے غیر فانی بادشاہ کی فوجیں آراستہ ہو رہی ہیں۔ ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے کہ قوموں کی تاریخ میں یہ مقامات حکمتِ الٰہی کا ایک دروازہ ہے، جو کھلتا ہے اس لیے کہ بہروں کو سنا سکے اور اندھوں کو دکھا سکے۔ جو کسی کے لیے مقامِ عبرت بنتا ہے اور کسی کے لیے موجب بصیرت۔