Technology in the service of Dajjal (In Urdu) – By Abu Ammar Saleem


It is, of course, difficult to say whether all the advances in modern science have been made at the behest of Satan and the Antichrist (Dajjal or False Messiah) and that modern technology is paving the way for the Antichrist.

But the many important inventions of modern technology are, of course, the ones that are paving the way for the arrival of the antichrist (Dajjal ki aamad), and these developments are a reflection of the extraordinary powers of him. The background to this is that Satan and the satanic powers want the Dajjalic system to be established before the arrival of the Dajjal the Antichrist. They control the whole world. So that as soon as the Antichrist Dajjal appears, he will become the ruler of the world, not only enslaving humanity, but also claiming to be God and having all humanity worship him. In today’s age of technology, new inventions are coming to us day-by-day. If we take a closer look and look at the scientific advances, all these amazing things seem to be true.

Let’s take a brief look at whether the forces of the Antichrist that we have been told about have really been achieved.

To know the Antichrist and to understand his system and its demons, see the following:

Please like, share and subscribe to get new videos on time. Follow Dar ul Ahsan Media on social media:

دین و شریعت میں فرق


03 Islam Deen Asaan TITLE کو پڑھنا جاری رکھیں

اسلامی سائنسی فکر اور پیغمبر انقلاب


محرم و صفر 1436ھ

نومبر، دسمبر 2014ء شمارہ 32 اور 33

سیرت اور عصر حاضر

اسلامی سائنسی فکر اور پیغمبر انقلاب

پروفیسر عبد العظیم جانباز (سیالکوٹ)

05 islam ki siasi fikr title کو پڑھنا جاری رکھیں

مقام محمدی ﷺ


شوال 1434ھ/ اگست ، ستمبر2013، شمارہ  17

مقام محمدی

پروفیسر یوسف سلیم چشتی

Contents in uni-code are included at the bottom of the article. To download PDF, pls click the link at the bottom.
مضمون کے آخر میں مندرجات یونی کوڈ میں بھی شامل ہیں۔ "پی ڈی ایف” ڈاؤن لوڈ کرنے لئے آخر میں دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔

علامہ
اقبال مرحوم نے یہ اشعار اپنے متعلق لکھے
تھے مگر ان سے زیادہ مجھ پر صادق آتے ہیں ۔
چوں
بنام مصطفےٰ خوانم درُود
از
خجالت آب می گردد وجود
عشق
می گوید کہ اے پابند غیر
سینہ
تو از بتاں مانند دیر
چوں
نداری از محمد رنگ و بود
از
درود خود میالآ نام او

بشریٰ


Contents in uni-code are included at the bottom of the article. To download PDF, pls click the link at the bottom.
مضمون کے آخر میں مندرجات یونی کوڈ میں بھی شامل ہیں۔ "پی ڈی ایف” ڈاؤن لوڈ کرنے لئے آخر میں دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

حقیقت یا مجاز


شوال 1434ھ/  اگست ، ستمبر2013، شمارہ  17

حقیقت یا مجاز

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ادارہ الواقعہ کے قیام کا اصل مقصد منہجِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے مطابق علمی ، فکری و نظری تحریک بپا کرنا تھا ۔ بالفاظِ دیگر مسلمانوں
کے جسدِ جامد میں ایک مثبت تحرک پیدا کرنا تھا ۔ چنانچہ اس ضمن میں مجلہ ” الواقعة ” کا اجراء کیا گیا جو الحمد للّٰہ گزشتہ سوا سال سے زائد عرصے سے علمی و فکری جہت میں اپنی خدمات بتوفیقِ الٰہی انجام دے رہا ہے ۔ اب اس مجلے میں ایک نیا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے ۔ مصادرِ شرعیہ کے عنوان کے زیر تحت ایک مستقل سلسلہ جس میں ایسے سوالات جو عام انسانی ذہن میں باعثِ خلش بنے ہوئے ہیں یا یقین میں شک کے کانٹے چبھو رہے ہیں ۔ کوشش کی جائے گی کہ ذہن انسانی سے ایسی خلش دور کی جاسکے اور یقین پر چبھنے والے شکوک و شبہات کے ہر کانٹے کو نکال پھینکا جا سکے ۔ تاہم عام فقہی و رسمی اعتقادی نوعیت کے سوالات کے جواب نہیں دیئے جائیں گے ۔ آپ اسلام سے متعلق اپنی فکری الجھنیں لکھ بھیجیئے ادارہ الواقعہ اسے سلجھانے کو اپنی سعادت سمجھے گا ۔ ( ادارہ )

سوال:

 مومن مجازی چیزوں کے لیے نماز پڑھتا اور روزے رکھتا ہے ، بلکہ وہ تو یہ تک سمجھتا ہے کہ یہ مجازی چیزیں ایک حقیقی کتاب کے ذریعے اس سے مخاطب ہونا چاہتی ہیں اور اس حقیقی کتاب کے اندر مجازی احکامات ہیں جن کا کام اس کی زندگی کو ان مجازی احکامات کے ذریعے آسان اور منظم بنانا ہے تاکہ وہ ان پر ایمان اور اطاعت کی انتہاء کو پہنچ جائے اور پھر مرنے کے بعد یہ مجازی ہستی اسے ایک مجازی جنت میں بھیج دے گی یا پھر ایک مجازی جہنم میں اسے مجازی طور پر سزا دی جائے گی ۔ تعجب خیز امر یہ ہے کہ اس بے چارے مومن کو حقیقی بھوک اور پیاس لگتی ہے بلکہ وہ ان لوگوں کو مارنے کے درپے ہوتا ہے جو ان مجازی چیزوں کو نہیں مانتے وہ بھی اس امیدپر کہ اس کے صلے میں یہ مجازیات اسے مجازی جنت میں جگہ دلوائیں گی جہاں اسے ٧٢ مجازی حوروں کی صحبت نصیب ہوگی اور وہ شراب و شہد کی مجازی نہروں سے اپنی پیاس بجھا سکے گا ، مجاز کی مضحکہ خیز انتہاء میں مومن اپنا ملک و گھر چھوڑ کر اللہ کے ایک مجازی گھر کی زیارت کرنے نکل کھڑا ہوتا ہے ۔ اللہ کے اس مجازی گھر کی حقیقی زیارت میں مومن مجازی شیطان کو سات حقیقی پتھر مارتا ہے اور یہ یقین کر لیتا ہے کہ اس نے واقعی ایک حقیقی شیطان کو پتھر مارے ہیں لیکن جب اسے حقیقتِ حال کا سامنا کروایا جاتا ہے تو وہ ایک بار پھر مجاز میں اپنی جائے پناہ ڈھونڈتے ہوئے کہتا ہے کہ شیطان ابدی برائی کی ایک مجازی تعبیر ہے ۔
براہ مہربانی اس سوال کا جواب سائنس (١) کی روشنی میں دیجئے ۔ یہ خیال رہے کہ ان نظریات کا حامل شخص قرآن یا حدیث پر یقین نہیں رکھتا ۔
اخلاق احمد ، گلشن اقبال ، کراچی

ڈاکٹرگیری ملر کا قبولِ اسلام


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد جاوید اقبال

عیسائیت کا ایک ممتاز مبلغ مسلمان ہوا اور اِس سے اس قدر جذباتی طور پر وابستہ ہوا کہ نہایت سرگرمی سے تبلیغِ دین کا فریضہ سرانجام دینے لگا۔
بے شک اللہ تعالیٰ کے کام کبھی نہیں رکتے۔ اگر ہمارے مولوی ملا عوام کو فرقہ واریت میں الجھا 
کریہ سمجھتے تھے کہ اسلام بس یہی ہے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے عملاً دکھادیا کہ اسلام کیا ہے اور قرآن پاک میں کیا کیا معجزے پوشیدہ ہیں جنہیں اہل علم ہی جان سکتے ہیں۔گیری ملر (Gary Miller) کو ریاضی بہت پسند ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ریاضی کے ذریعے کسی بھی چیز کا منطقی یا غیر منطقی ہونا ثابت کیا جاسکتاہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

عالمِ اسلامی کا انتشار


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

مولانا عبد الحامد بدایونی کی کتاب ” فلسفۂ عبادات اسلامی ” سے ماخوذ

عالمِ اسلامی کا انتشار

بدقسمتی سے ممالکِ اسلامیہ کا اپنا کوئی مشترکہ نظریۂ حیات نہیں اسی لیے وہ مغرب کا شکار ہیں ۔ باہمی تباغض و تنافر کی وجہ سے شیرازہ منتشر ہے ۔ اغیار فائدہ اٹھا کر ایک دوسرے کے خلاف لڑانے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ حیرت ہے کہ عالم اسلامی اپنے سرمایۂ حیات کو مغرب کی نذر کر رہا ہے جسے دیکھو وہ مجلس اقوام کی قیادت قبول کر رہا ہے ۔
افسوس جس ملّت نے دنیا کی قیادت کی وہ آج اپنے انشقاق و افتراق کی بدولت غیروں کے دامن میں پناہ لے کر اپنا مستقبل تاریک کر رہی ہے ، مغربی لعنتیں اختیار کر رہی ہے ۔

 
وطنیت کی بلائے عظیم ہر طرف عام ہے جسے دیکھو وہ وطنیت کے جذبہ سے سرشار ہے ۔ عصبیت و باہمی رقابت ترقی کر رہی ہے ۔ ان تمام تحریکات میں کفر اپنا کام کر رہا ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ مسلمانانِ عالم دوسری اقوام اور ممالکِ غیر سے تجارتی یا سیاسی تعلقات قائم نہ کریں یا مصنوعات و ایجادات سے فائدہ نہ اٹھائیں ۔ بیشک عصر حاضرہ کی ضروریات کے لحاظ سے تعلقات قائم کرنا ضروری ہیں ، لیکن یہ کہاں کی دور اندیشی ہے کہ ہم کفّار کو اپنی سیاسیات میں اس قدر دخیل کریں کہ ہمارا سیاسی و مذہبی موقف خراب ہوجائے اور مسلمان دنیائے مغرب کے اشارات پر متحرک ہوں وہ جہاں چاہیں ممالکِ اسلامی کو استعمال کریں ۔ اغراض ان کی ہوں اور خون بہیں مسلمانانِ عالم کے ۔
 
شاطرانِ یورپ کے ہاتھوں میں ہماری سیاست تجارت و صنعت ہے ، ہمارے بازاروں میں مصنوعاتِ غیر ملکی پھیلی ہوئی ہیں ۔ دوسروں کی ایجادات و اختراعات سے ہمارے ممالک نے ابھی تک اتنا بھی فائدہ نہ اٹھایا کہ وہ اپنی اپنی جگہ یورپ کی اختراعات و ایجادات اپنے یہاں قائم کرتے ۔
 
یورپ کے لوگ کہیں تجارت کے بہانے کہیں ٹھیکوں کے ذریعہ ہمارے ممالک میں داخل ہوکر اپنے پیر جمالیتے ہیں ۔ وہ عالم اسلامی کو کسی ایک مشترک اور متحد نقطۂ نظر پر نہیں پہنچنے دیتے ۔ نہ کسی عالمگیر تحریک کو کامیاب ہونے دیتے ہیں ۔
 
فلسطین کے مسئلہ نے ایک عالمگیر صورت اختیار کی تھی مگر اسے بھی صیہونیت یہودیت کی نذر کردیا گیا ۔ یہ ہے اس دور کی مسلم کش سیاست کا سبق آموز حربہ جس سے ہماری آنکھیں کھلنا چاہیئے تھیں اگرچہ کفار کا یہ طرزِ عمل نیا نہیں بلکہ وہ آغازِ اسلام سے لے کر اب تک یہی طور و طریقے اختیار کرتے رہے ۔
 
مبارک تھے وہ جنہوں نے اپنے عزم راسخ ، عمل پیہم سے کفر کے تمام نقشوں کو خاک میں ملایا ۔ دنیا پر مسلمانوں کی سیاست چھائی وہ جہاں بھی گئے اپنے اسلامی تمدن و معاشرت کو ساتھ لے گئے ۔ اغیار ہمارے تمدّن پر عمل کرنا فخر سمجھتے تھے ۔ آج نہ ہمارا کوئی اسلامی تمدّن باقی ہے اور نہ اس کی کوشش ہے کہ ہم اپنی روایات و معاشرت کو دنیا میں پھیلائیں بلکہ ہم اپنی تمام تہذیبی و معاشرتی صورتوں کو دوسروں پر قربان کرتے جارہے ہیں ۔ یاد رکھو ! جو قوم اپنی روایات و اصول کو چھوڑدیتی ہے ، وہ ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتی ہے ۔
 
حج ہمیں ہر سال سبق دیتا ہے کہ ہم اپنے حالات تبدیل کریں اپنا ایک موقف قائم کریں ۔ اسلامی تہذیب و تمدّن کو زندہ کریں ہمارے پاس ایک مکمل ضابطۂ حیات موجود ہے اسے دنیا میں پھیلائیں ۔ ہم میں کا ہر چھوٹا بڑا اس جامع قانون پر عمل پیرا ہو ۔
************************************************************************

مریم جمیلہ مغرب کے لیے اسلام کی سفیر


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

ابو محمد معتصم بااللہ

مریم جمیلہ

 

مغرب کے لیے اسلام کی سفیر
 
مریم جمیلہ ( پیدائشی نام: مارگریٹ مارکس ) مغرب کے لیے اسلام کی سفیر تھیں ۔ ان کی زندگی اور ان کے رویے نے اہلِ مغرب کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ اسلام ایک واقعی غیر معمولی روحانی تاثیر کا حامل دین ہے ۔ وہ اپنی ذات میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی نشانی تھیں ۔ ٢٣مئی ١٩٣٤ء کو نیو یارک کے ایک یہودی خانوادے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کا خاندان جرمنی سے تعلق رکھتا تھا ۔
 
ان کی ابتدائی زندگی نیویارک میں گزری ۔ وہ زمانۂ طالب علمی میں اسلام اور عرب تہذیب سے متعارف ہوئیں جو بعد ازاں تعارف سے بڑھ کر تاثر میں تبدیل ہوگیا ۔
 
لڑکپن ہی سے جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن سے شائع ہونے والے مسلم ڈائجسٹ کے لیے تحاریر بھی لکھتی رہی تھیں ۔ وہ علامہ محمد اسد ( سابق یہودی لیوپولڈوس ) اور محمد مارماڈیوک پکھتال کے قبول اسلام سے خاصی متاثر تھیں ۔ اوّل الذکر کی کتاب Road to Makkah ( اردو ترجمہ ” طوفان سے ساحل تک ” ) نے ان کے ذہن و قلب پر اچھے اثرات مرتب کیے تھے تاہم انہوں نے اپنے اشکالات مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی خدمت میں پیش کیے اس سلسلے میں ان کی مستقل خط و کتابت رہی . بالآخر انہوں نے ٢٤ مئی ١٩٦١ء کو اسلام قبول کر لیا۔
 
اسلام قبول کرنے کے بعد مولانا مودودی کی دعوت پر وہ ١٩٦٢ء میں وہ لاہور پہنچیں جہاں انہوں نے مولانا موددوی اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور یہاں محمد یوسف خان نامی شخص –جو جماعت اسلامی کے رکن ہیں –سے  شادی کی۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محمد یوسف خاں پہلے سے شادی شدہ تھے اور مریم جمیلہ ان کی دوسری بیوی کی حیثیت سے ان کی زندگی میں شامل ہوئیں ۔
 
کہا جاتا ہے کہ ان کے اسلام قبول کرنے کی وجہ” مسلم ڈائجسٹ ” میں مولانا مودودی کا چھپنے والا مضمون "حیات بعد الموت ” تھا جس کے بعد انہوں نے ٥دسمبر ١٩٦٠ء کو مولانا مودودی سے بذریعہ خط پہلا رابطہ کیاتھا۔مولانا مودودی اور مریم جمیلہ کے درمیان خط و کتابت کا یہ سلسلہ ١٩٦٢ء تک جاری رہا۔ ان خطوط کا موضوع اسلام اور مغرب ہوا کرتا تھا۔ دونوں کے خطوط بعد ازاں ”مولانا مودودی اور مریم جمیلہ کی خط و کتابت ” کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوئے ۔
 
مریم جمیلہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی تمام تر قلمی صلاحیتیں تبلیغِ اسلام کے لیے وقف کردی ۔ ان کی کتابوں میں حسبِ ذیل کتابیں شامل ہیں ::
 
 ISLAM VERSUS THE WEST
2. ISLAM AND MODERNISM
3. ISLAM IN THEORY AND PRACTICE
4. ISLAM VERSUS AHL AL KITAB PAST AND PRESENT
5. AHMAD KHALIL
6. ISLAM AND ORIENTALISM
7. WESTERN CIVILIZATION CONDEMNED BY ITSELF
8. CORRESPONDENCE BETWEEN MAULANA MAUDOODI AND MARYUM JAMEELAH
9. ISLAM AND WESTERN SOCIETY
10. A MANIFESTO OF THE ISLAMIC MOVEMENT
11. IS WESTERN CIVILIZATION UNIVERSAL
12 WHO IS MAUDOODI ?
13 WHY I EMBRACED ISLAM
14 ISLAM AND THE MUSLIM WOMAN TODAY
15 ISLAM AND SOCIAL HABITS
16 ISLAMIC CULTURE IN THEORY AND PRACTICE
17 THREE GREAT ISLAMIC MOVEMENTS IN THE ARAB WORLD OF THE RECENT PAST
18 SHAIKH HASAN AL BANNA AND IKHWAN AL MUSLIMUN
19 A GREAT ISLAMIC MOVEMENT IN TURKEY
20 TWO MUJAHIDIN OF THE RECENT PAST AND THEIR STRUGGLE FOR FREEDOM AGAINST FOREIGN RULE
21 THE GENERATION GAP ITS CAUSES AND CONSEQUENCES
22 WESTERNIZATION VERSUS MUSLIMS
23 WESTERNIZATION AND HUMAN WELFARE
24 MODERN TECHNOLOGY AND THE DEHUMANIZATION OF MAN
25 ISLAM AND MODERN MAN
 
وہ لاہور میں رہائش پذیر تھیں اور یہیں بروز بدھ ٣١ اکتوبر ٢٠١٢ء کو ان کا انتقال ہوا۔
 
Deborah Baker نے مریم جمیلہ کی سوانح The Convert: A Tale of Exile and Extremism کے عنوان سے لکھی ۔ یہ کتاب ٢٠١١ء میں طبع ہوئی ہے ۔
 
ایک افسوسناک امر
مریم جمیلہ ( غفر اللہ لہا ) نورِ ہدایت کی متلاشی ایک پاکیزہ روح تھی ۔ جس نے محض اسلام کی خاطر اپنا خاندان ، معاشرہ اور ملک چھوڑ کر اسلام کے آغوشِ رحمت میں پناہ لی۔ اپنی پوری زندگی اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے لاہور میں گزاری ۔ وہ قبولِ اسلام کے بعد ایک انتہائی با پردہ خاتون ثابت ہوئیں۔ بدقسمتی سے ان کی خبر وفات کے ساتھ اخبارات میں ان کی پرانی تصاویر بھی شائع کی گئیں یہ روّیہ اسلامی اخبارات و جرائد کے صفحات پر ظاہر ہوا ۔ اس کارِ مذموم کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ۔ ایک باپردہ اسلامی بہن کی تصویر کی اشاعت غیر مناسب و غیر اخلاقی تھا ۔ مریم جمیلہ کی تصویر کی اشاعت کرنے والوں نے اپنی ہمشیرہ دینی کی حق تلفی کا ارتکاب کیا ہے ۔ کاش ایسا نہ کیا جاتا۔مانا زرد صحافت کے اپنے تقاضے ہیں مگر غیرتِ اسلامی کی کچھ رمق تو باقی رہے ۔

غیر مسلم ممالک میں سکونت ۔ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

غیر مسلم ممالک میں سکونت ۔ایک  تحقیقی  و  تنقیدی  جائزہ

ابو موحد عبید الرحمن


قسط  نمبر 1 قسط  نمبر 2 قسط  نمبر 3 قسط  نمبر 4

١٠)  علّامہ انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں :
 ” پھر یہ بات بھی قابلِ وضاحت ہے کہ اگر مسلمانوں کا کسی ملک میں داخلہ و قیام اور اظہار احکام اسلام غلبہ کی صورت میں نہ ہو تو وہ بدستور دارِ حرب ہی رہے گا ۔ ”(انوار الباری :١٨/١٨٦)
١١) فضیلة الشیخ محمد بن صالح العثیمین فرماتے ہیں :
 ” وہ احباب جو ( یورپ ) سے واپس آئے تو بعض فاسق اور بعض تو بالکل ہی لامذہب ہوکر لوٹے اس حال میں کے وہ دین کا مذاق اڑا رہے تھے ۔ ”  (فتاویٰ و رسائل الشیخ : ٣/ ٢٥١)
١٢ ) مفسر قرآن علّامہ محمد ادریس کاندھلوی رقمطراز ہیں :
 ”آج کل امریکا اور برطانیہ میں رہنے والے مسلمان حکومت کی اجازت سے احکام اسلام بجا لاتے ہیں بغیر ان کی اجازت کے احکام اسلام بجا لانے پر قادر نہیں تو امریکا اور برطانیہ کی حکومت دارا لحرب ہوگی ۔” (عقائد اسلام :٢٣٨)
١٣)مولانا سیّد احمد رضا بجنوری رقمطراز ہیں :
” موجودہ دور میں جبکہ دنیا کے ڈیڑھ سو ملکوں میں سے تقریباً ایک تہائی اسلامی ممالک ہیں باقی سب دیار کفر ہیں ، الکفر ملة واحدة ۔”(انوار الباری :١٨/٢٥٥)
١٤) علامہ سیّد رشید رضا مصری نے بھی فرانسیسی شہریت کی حرمت پر تفصیلی فتویٰ جاری کیا ہے ۔(نواقض الاسلام القولیة و الملیة :٣٦٧)
١٥) علّامہ سیّد مہر علی شاہ صاحب فرماتے ہیں :
”یہود و مشرکین کی عداوت قرآن شریف میں صراحتاً مذکور ہے ۔ پس ترک موالات ہندو اور انگریز اور یہود سب سے ہونی چاہیئے ۔ ” (مہر منیر :٢٧٤)
١٦) فضیلة الشیخ داکٹر صالح الفوزان فرماتے ہیں :
” کفار کے علاقوں میں مستقل اقامت اختیار کرنا اور مسلمانوں کے علاقوں میں سکونت پذیر ہونے سے گریز کرنا بھی ان سے محبت کی دلیل ہے ( جوکہ حرام ہے ) ۔ ”(ماہنامہ ” محدث ‘ ( لاہور ) : نومبر ٢٠١١ء ص ٤٥)
١٧) علامہ نعیم الدین مراد آبادی رقمطراز ہیں :
” کفار کے ساتھ ایسی مجالست و مساحبت ، مواکلت و مشاربت ، تناصر و تعاون بھی ممنوع ہے ، انہیں رازدار بنانا اپنے امور ان کے ہاتھ میں دینا بھی ناجائز ہے ۔”(حیات صدرا لافاضل :٢/١٣٣)
١٨) فضیلة الشیخ علامہ یوسف دجوی المصری بھی ان ممالک کی نیشنلٹی (Nationality)کو اسلام سے متعارض قرار دیتے ہیں ۔(نواقض الاسلام : ٣٦٧)
١٩)  علّامہ سیّد ابو الاعلیٰ مودودی رقمطراز ہیں :
”اسلام نہ اس حکومت کو تسلیم کرتا ہے جو اصل مالک الملک یعنی اللہ سے بے تعلق ہوکر آزادانہ خود مختار قائم ہوئی ہو نہ اس قانون کو تسلیم کرتا ہے جو کسی انسان یا انسانوں کی کسی جماعت نے بطور خود بنالیا ہو، نہ اس عدالت کے حقِ سماعت و فصلِ خصومات کو تسلیم کرتا ہے جو اصل مالک و فرمانروا کے ملک میں اس کی اجازت (Sanction)کے بغیر اس کے باغیوں نے قائم کرلی ہو ۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ایسی عدالتوں کی حیثیت وہی ہے جو انگریزی قانون کی رُو سے ان عدالتوں کی قرار پاتی ہے جو برطانوی سلطنت کی حدود میں تاج کی اجازت کے بغیر قائم کی جائیں۔ ان عدالتوں کے جج ، ان کے کارندے اور وکیل اور ان سے فیصلے کرنے والے جس طرح انگریزی قانون کی نگاہ میں باغی ومجرم اور بجائے خود مستلزم سزا ہیں ، اسی طرح اسلامی قانون کی نگاہ میں وہ پورا عدالتی نظام مجرمانہ و باغیانہ ہے ۔ ” (ماہنامہ ” ترجمان القرآن ”: اگست ١٩٤٥ء )
٢٠)مفتی محمد تقی عثمانی فرماتے ہیں :
”فقہاء فرماتے ہیں کہ صرف ملازمت کی غرض سے کسی مسلمان کا دار الحرب میں رہائش اختیار کرنا اور ان کی تعداد میں اضافہ کا سبب بننا ایسا فعل ہے جس سے اس کی عدالت مجروح ہوجاتی ہے ۔ ” (سلسلہ فقہی مقالات : ٥ /١٣)
٢١)علّامہ شیخ احمد شاکر محدث ( قاضی القضاة سلطنت عثمانیہ مصر ) رقمطراز ہیں :
” انگریزوں اور اہلِ فرانس کی اور ان کے حلیفوں اور ہمدردوں کی کسی بھی نوعیت کی مدد کا ارتکاب ( اگر کوئی مسلمان ) کرے گا ، تو اگر اس کے بعد وہ نماز پڑھے گا تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی ، وہ وضو ، غسل یا تیمم کرکے پاک ہونا چاہے گا تو اس کا یہ عمل قابلِ قبول نہیں ٹھہرے گا ۔ اس کی کسی قسم کی بھی عبادت لائقِ قبولیت نہیں ہوگی ۔ ”  (کلمۂ حق : ١٢٦)
 ٢٢) علامہ شبیر احمد عثمانی رقمطراز ہیں :
” بعضے مسلمان ایسے بھی ہیں کہ دل سے تو سچے مسلمان ہیں ، مگر کافروں کی حکومت میں ہیں اور ان سے مغلوب ہیں اور کافروں کے خوف سے اسلامی باتوں کو کھل کر نہیں کر سکتے نہ حکم جہاد کی تعمیل کر سکتے ہیں ، سوان پر فرض ہے کہ وہاں سے ہجرت کریں ۔ ” (تفسیر عثمانی ، مطبوعہ مملکت سعودیہ :١٢٣)
٢٣ ) علامہ سیّد بدر عالم میرٹھی لکھتے ہیں :
”ہجرت کی روح ترکِ وطن نہیں بلکہ شرک اور مشرک سے علیحدہ رہنا ہے ، جہاں شرک کا اقتدار ہو وہاں اسلامی حیات ہرگز نشو و نما نہیں پاسکتی، اس حالت میں اسلام کی حفاظت صرف ہجرت سے ہو سکتی ہے ۔ ” (ترجمان السنة ، باب : نھی المومن عن تکثیر سواد المشرکین : ٢ /٣٧١)
٢٤) علّامہ عبد الحی فرنگی محلی علیہ الرحمہ کے سامنے یہ استفتاء پیش ہوا کہ کچھ لوگ سرکارِ انگریز میں باعزت و وقار ہیں اور انہوں نے خلافِ شرع قانون وضع کیا ہے اور اسے قبول کیاہے ، ایسے لوگوں کا کیا حکم ہے ؟ علامہ فرنگی محلہ فرماتے ہیں :
” حق جل شانہ کلام پاک میں ارشاد فرماتا ہے : ( و من لم یحکم بما انزل اللّٰہ فاولٰئک ھم الکافرون ) پس ایسا قانون ، جو خلافِ شرع کے ہو ، قبول کرنا اس کا اہلِ اسلام پر حرام ہے اور جو اس کے موافق عمل کرے گناہ اس کا مقنن قانون کی گردن پر ہوگا اور کرنے والے نے اگر قانون شرعی کو برا سمجھا اور اس کے ساتھ راضی اور ان کو خلاف مصلحت و غیر کافی تصور کیا تو وہ کافر ہوگئے …….. اور اگر انہوں نے قانونِ شریعت کو برا نہ سمجھا تو اگرچہ کافر نہیں ہوئے مگر بہت بڑے فاسق ہوئے ۔ ”  (مجموعۂ فتاویٰ ، مطبوعہ یوسفی :٢/٤٨ )
٢٥) علامہ شاہ عبد القادر دہلوی رقمطراز ہیں :
” معلوم ہوا کہ جس ملک میں مسلمان کھلانہ رہ سکے ( یعنی اظہارِ دین و اولا البرء ) وہاں سے ہجرت فرض ہے ۔ ” (موضح القرآن : ١٧٧)
٢٦) جمہور علمائے امت دارالکفر و دارالحرب کی حرمت و شناعت کے بارے میں کس قدر حساس واقع ہوئے ہیں ، اس کا اندازہ ہم ماضیِ قریب میں رونما ہونے والے ایک سانحہ سے لگا سکتے ہیں ۔ یہ سانحہ برصغیر ہندوستان میں انگریزوں کادر آنا تھاگو یہ امرِ واقعہ تھا کہ انگریزوں کے دور میں مسلمانانِ برصغیر کو آج کے یورپی مسلمانوں سے بڑھ کر مذہبی آزادی حاصل تھی ، پھر ان کو بعض حلقوں میں سیاسی تسلط بھی حاصل تھا ۔ ان کی تعداد بھی ان گورے چمڑی والوں سے کہیں زیادہ تھی ۔ اسی طرح بعض علاقہ جات میں اسلامی قضاة و عدالتوں کا شعبہ بھی بحال تھا مگر ان تمام مثبت عوامل کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ان جلیل القدر محققانِ علم و رشد نے ہندوستان کے دارا لحرب و دارالکفر ہونے کا فتاویٰ جاری کیا ۔ چنانچہ علامہ شاہ عبد العزیز نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کی حسبِ ذیل وجہ بتلاتے ہیں :
” اس شہر میں مسلمانوں کے امام کا حکم بالکل جاری نہیں ہے ،بلکہ نصاریٰ کے سرداروں اور افسروں کا حکم جاری ہے ۔ ہاں اگر بعض اسلامی احکام مثلاً جمعہ اور عیدین اور گاؤ کشی وغیرہ سے یہ لوگ تعریض نہیں کرتے ہیں ، تو بھلے نہ کریں مگر ان احکام کی اصل الاصول ان کے نزدیک بالکل ہیچ اور ضائع ہیں ۔ ” (فتاویٰ عزیزی : ١ /١٧٧)
٢٧ ) علامہ قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
” اگرچہ راجح نزد ہیچمدان کہ ہندوستان دارالحرب است ۔”
” اگرچہ اس عاجز کے نزدیک راجح یہی قرار پایا کہ ہندوستان دارالحرب ہے ۔ ” (قاسم العلوم ، مطبع مجتبائی : ١٧٧)

غیر مسلم ممالک میں سکونت ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ 3


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012

غیر مسلم ممالک میں سکونت ۔ایک  تحقیقی  و  تنقیدی  جائزہ

ابو موحد عبید الرحمن


قسط  نمبر 1 قسط  نمبر 2 قسط  نمبر 3 قسط  نمبر 4

احادیث نبوی سے استدلال

  قرآنی نصوص سے جو ہم نے گزشتہ قرطاس میں استدلال کیا ہے ، اس سے مسئلہ کی قانونی و اصولی وضاحت ہوجاتی ہے ۔ تاہم بطور اتمام حجت رسالتمآبؐ  سے منقول بعض واضح احادیث اس موضوعِ بحث کے حوالے سے پیشِ خدمت ہیں :

١) لا تساکنوا المشرکین و لا تجامعوھم فمن ساکنھم و اجامعھم فھو مثلھم ، و فی روایة : فلیس منا ۔ (سنن ترمذی : ٤ /١٣٣)

” تم مشرکین کے ساتھ سکونت اختیار نہ کرو اور نہ ان کے ساتھ مل کر رہو ، پس جو شخص ان کے ساتھ سکونت اختیار کرتا ہے یا ان کے ساتھ مل کر رہتا ہے تو وہ انہی کی مثل ہے اور ایک روایت میں ہے وہ ہم میں سے نہیں ۔ ”

٢) یُبایعک علی ان تعبد اللھ و تقیم الصلاة و توتی الزکاة و تفارق المشرکین ۔ (مسند أحمد : ٤ /٣٦٥)

” میں تم سے بیعت لیتا ہوں اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگے ، نماز قائم کروگے ، زکوةٰ ادا کروگے اور مشرکین سے جدائی اختیار کرو گے ۔ ”

٣ )  آنحضرتؐ نے فرمایا : ” اپنی اولاد کو مشرکین کے درمیان نہ چھوڑنا ۔ " (تہذیب السنن لابن القیم: ٣ /٤٣٧)

٤) من کثر سواد قوم حشر معھم (مسند الفردوس : ٥٦٢١)

” جو کسی قوم کی تعداد کا سبب بنا تو روزِ حشر وہ انہی کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔ ”

٥) انا بری من کل مسلم یقیم بین اظھر المشرکین ۔ قالوا یا رسول اللّٰھ لم ؟ قال لا ترائٰی نارا بھا ۔(سنن ابی داود: ٢٦٤٥)

” میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے بیچ میں قیام کیے ہوئے ہو ۔ صحابہ نے استفسار کیا ایسا کیوں ؟ آپؐ نے فرمایا ( ان سے اس قدر دور رہو کہ ) تم ان کی جلائی آگ بھی نہ دیکھ سکو ۔ ”

٦) من کثر سواد قوم فھو منھم و من رضی عمل قوم کان شریک من عمل بھ ۔ (نصب الرایہ : ٤ /٣٤٦)

” جو شخص کسی قوم کی تعداد بڑھائے وہ انہی میں سے ہے اور جو کسی قوم کے عمل پر راضی رہے وہ ان کے عمل میں شریک ہے ۔ ”

٧) من جامع المشرک و سکن معہ فانہ مثلہ ۔ (سنن أبی داود : ٢٧٨٧)

” جو مشرکین کے ساتھ گھل مل کر رہا اور انہی کے ساتھ سکونت اختیار کی تو وہ بھی انہی کی طرح ہے ۔ ”

٨) عن جریر بن عبداللّٰھ البجلی رضی اللّٰھ عنھ ، ان رسول اللّٰھ  قال : من اقام مع المشرکین فقد برئت منھ الذمة ۔ (الطبرانی و البیہقی )

” حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہؐ  نے فرمایا : جس نے مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار کی وہ ذمہ سے بری ہے۔”

علماء عرب و عجم کے فتاویٰ :

١)   علّامہ نواب صدیق حسن خاں رقمطراز ہیں :

 ” جو شخص کسی ایسے شہر منتقل ہونا چاہے ، جس میں اہلِ کفر کا تسلط ہو تو وہ شخص فاسق اور گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے۔” (العبرة بماء جاء فی الغزو و الشھادة : ٢٤٥)

٢)   علّامہ رشید احمد گنگوہی رقمطراز ہیں :

 ” یہ بھی ظاہر کردینا ضروری ہے کہ اگر مسلمانوں کا داخلہ اور احکام اسلامیہ کا اجراء اس ملک میں غلبہ کے ساتھ نہ ہوتو اس ملک کے دارالحرب ہونے میں کوئی فرق نہ ہوگا ورنہ جرمن اور روس اور فرانس اور چین وغیرہ سب کے سب دارا لاسلام کہلانے کے مستحق ہوجائیں گے ۔ ” (تالیفات رشیدیہ : ٦٥٩)

٣ )   مفتی اعظم سعودی عرب سماحة الشیخ عبد العزیز بن باز فرماتے ہیں :

 ”ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اہلِ شرک کے ملکوں میں سفر سے اجتناب کرے الا یہ کہ انتہائی شدید ضرورت ہو ۔ (فتاویٰ اسلامیہ: ١/١٧٥)

٤)  علامہ شمس الحق عظیم آبادی ” من جامع المشرک و سکن معھ فانھ مثلھ”  کی شرح میں فرماتے ہیں :

أی مِن بعض الوجوہ لان الاقبال علی عدوّ اللّٰھ و موالاتھ توجِب ِاعراضھ عن اللّٰھ ، ومن أعرض عنھ تولاہ الشیطان ونقلھ ِالی الکفر۔” (عون المعبود)

” ایسا شخص بعض وجوہ کی بنا پر کافروں جیسا ہے ۔ کیونکہ اللہ کے دشمن کی جانب متوجہ ہونا اور اس کو دوست بنانا لازمی طور پر اس مسلمان کو اللہ تعالی سے دور کردیگا اور جو اللہ تعالی سے دور ہو جائے اسے شیطان دوست بنالیتا ہے اور اس کو کفر کی جانب لے جاتا ہے۔”

٥)  علامہ زمخشری نے فرماتے ہیں :

” و ھذا أمر معقول ، فِان موالاة الولِی وموالاة العدوّ متنافِیانِ ، وفِیھ ابرام و اِلزام بِالقلبِ فِی مجانبة أعداء اللّٰھ ومباعدتھم والتحرّز عن مخالطتھم ومعاشرتھم ۔” (عون المعبود )

”یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کیونکہ دوست کی دوستی اور دشمن کی دوستی دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں ، اس حدیث میں دل کو ان اللہ کے دشمنوں کے ساتھ ہونے سے روکا گیا ہے اور ان کے ساتھ اختلاط اور معاشرت اختیار کرنے سے روکا ہے۔”

٦)  شیخ عبد المحسن العباد اپنی ” شرح سنن أبی دادود ” میں لکھتے ہیں :

"لیس للانسان ان یقیم فی ارض المشرکین وان یساکنھم وان یکون معھم، لئلا یحصل منھم تاثیر علیھ۔”

”ا نسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مشرکین کی سرزمین میں اقامت اختیار کرے ، ان کے ساتھ سکونت کرے اور ان کے ساتھ رہے ۔شاید اس طرح وہ اپنے اوپر ان ( غیر مسلموں ) اثرات مرتب کرے ۔ ”

٧)  علامہ محمد بن علی الشوکانی ” من جامع المشرک و سکن معھ فانھ مثلھ”  کی شرح میں فرماتے ہیں :

"فیھ دلیل عل تحریم مساکنة الکفار ووجوب مفارقتھم ۔” (نیل الاوطار:٨/١٢٥)

” اس حدیث میں کفار کے ساتھ سکونت اختیار کرنے کی حرمت اور ان سے جدائی اختیار کرنے کے وجوب کی دلیل ہے ۔ ”

٨)  شیخ علی بن نایف الشحود لکھتے ہیں :

"وقد استدل عدد من العلماء بھذہ الاحادیث علی کفر أو فسق من یقیم بین المشرکین ۔” (موسوعة الرد علی المذاہب الفکریة المعاصرة )

” بلاشبہ ان احادیث سے متعدد علماء نے استدلال کیا ہے اس شخص کے کفر یا فسق پر جو مشرکین کے درمیان اقامت اختیار کرے ۔ ”

٩)  عصر حاضر کے مشہور مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف آیت مبارکہ 

( وَمَن یُہَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰھِ یَجِدْ فِیْ الأَرْضِ مُرَاغَماً کَثِیْراً وَسَعَةً )  (النساء : ١٠٠) 
 ” جو کوئی اللہ کی راہ میں وطن کو چھوڑے گا ، وہ زمین میں بہت سی قیام کی جگہیں بھی پائے گا اور کشادگی بھی ۔”کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

” اس میں ہجرت کی ترغیب اور مشرکین سے مفارقت اختیار کرنے کی تلقین ہے ۔”

غیر مسلم ممالک میں سکونت ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (3 ) 

غیر مسلم ممالک میں سکونت ۔ایک  تحقیقی  و  تنقیدی  جائزہ

ابو موحد عبید الرحمن


قسط  نمبر 1 قسط  نمبر 2 قسط  نمبر 3 قسط  نمبر 4

٢ ) 

اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى ۙ الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ ۭ وَاَمْلٰى لَهُمْ (٢٦ ) ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ښ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ (٢٧ٓ) (سورة محمد :٢٥-٢٦)

” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد اس سے پھر گئے ، ان کے لیے شیطان نے اس روش کو سہل بنادیا اور جھوٹی خواہشات کا سلسلہ ان کے لیے دراز کر رکھا ہے ۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کے ناپسند کرنے والوں سے یہ کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری اطاعت کریں گے ، اللہ ان کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے ۔ ” 

نکتۂ استدلال

یہاں یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ ”دین سے پھر جانے والے” ان لوگوں کو قرار دیاگیا ہے جنہوں نے ”بعض ” باتوں میں طواغیت کی اطاعت کا وعدہ کیا ہے اور یہ وعدہ بھی ” مستقبل ” سے متعلق ہے اور ” خفیہ ” طور پر کیا گیا ہے ۔ تو پھر ایسے میں ان لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو ” بعض ” باتوں کی بجائے ” کل ” باتوں میں ، ” مستقبل ” میں نہیں ” حال ” میں طواغیت عصریہ کی مطلق اطاعت کر رہے ہیں ، جبکہ یہ شنیع فعل ” خفیہ ” بھی نہیں ” اعلانیہ ” ہے ۔ فتدبر!

٣ )

(يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ ) (النسائ:١٤٤)


” اے ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا ولی نہ بنائو ۔”

نکتۂ استدلال

اس آیتِ مبارکہ میں لفظ اولیاء کا ترجمہ عمومی طور پر دوست کیا جاتا ہے لیکن عربی لغت میں اس کے اور معنی بھی منقول ہیں ۔ صاحب ” القاموس المحیط ” نے ولی ( اسم صیغہ ) کے یہ معنی بھی تحریر فرمائے ہیں معاون ، مددگار ، محبوب ، قریب وغیرہ [القاموس المحیط ، مادة ” و ل ی ”]۔ طواغیت کے معاشرے میں رہنے والا شخص ولی کے اس معنوی سانچہ میں ہر زاویہ سے متعلق ہوتا ہے ۔ پھر مزید کسی تفصیل کی حاجت اس لیے نہیں رہتی کہ صاحب ” لسان العرب ” نے ولی نے معنی ”پڑوسی ” کے بھی کیے ہیں [لسان العرب ، مادة ” و ل ی ”]۔ ایسے میں درسِ آیت یہ ہوا کہ اے ایمان والو! اہلِ ایمان کے قرب و جوار کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ کے قرب و جوار میں نہ جا بسو ۔یہ وہی درس ہے ، جسے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

” من بنی ببلاد الاعاجم ، وصنع نیروزھم و مھرجانھم ، و تشبہ بھم حتی یموت ، و ھو کذلک ، حشر معھم یوم القیامة ۔” [اقتضاء الصراط المستقیم : ١٨٨]

” جس نے عجمیوں ( کافروں ) کے علاقہ میں گھر تعمیر کیا ، ان کے نیروز و مہرجان میں شریک ہوا اور ان کی مشابہت اختیار کی یہاں تک کہ وہ مر گیا ، تو یہ انہی میں سے ہے ۔ روزِ محشر اس کا حشر انہی کے ساتھ ہوگا ۔ ”

یعنی صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن عمر نے اہلِ کفر کے علاقہ میں گھر تعمیر کرنے کو بھی ایک مستقل الگ جرم کی حیثیت سے ذکر کیا ہے ۔ بصورت دیگر ترک ولایت کی تاکید کی گئی ہے ۔ 

٤)

وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗٓا اِلَى الْكَهْفِ ) [ الکہف :١٦]

” جب تم ان ( مشرکین ) سے الگ ہوجائو تو غار میں جاکر پناہ لے لو ۔ ”

نکتۂ استدلال

اصحاب کہف سے متعلق یہ آیت اس حقیقت کا بیان ہے کہ اہلِ حق کا ہمیشہ سے یہ شیوہ رہا ہے وہ اہلِ باطل کے قرب و جوار میں بسنے سے تنفر برتتے رہے ہیں اور صالح اجتماعیت کو مجتمع کرنے کے لیے مقام وحدت بغرض وحدانیت کے متلاشی ہوتے ہیں چاہے وہ نکتۂ اجتماع ایک ویران غار ہی کیوں نہ ہو !

٥ ) 

وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ ) [سورة ہود :١١٣]

” ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجائو گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سر پرست نہ ملے گا جو اللہ سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی ۔”

نکتۂ استدلال

” لا ترکنوا ” کا عمومی ترجمہ ” نہ جھکنا ” کیا گیا ہے ، مقصود ظالم طواغیت سے ادنیٰ درجہ میں بھی معاونت نہ کرنا ہے ۔ امام ابن جریح فرماتے ہیں :” لا تمیلوا الیھم ”    ( یعنی ان کی جانب میلان تک نہ ہو )۔امام ابو العالیة فرماتے ہیں : ” لا ترضوا اعمالھم ”( ان کے اعمال سے راضی نہ ہو ) [تفسیر قرطبی : ٩/٧٢]۔ ظاہر ہے یورپی ممالک وہ احباب ہی جاتے ہیں جو ان کے معاشی یا معاشرتی پہلوکی جانب میلان رکھتے ہیں اور ان کے اعمال سے ہمارا راضی ہونا تو درکنار ، وہاں کے قانون کوتسلیم کرکے خود ان کے احکام کے ہم پابند ہوجاتے ہیں ۔ جبکہ مسلمان کیا ، مسلمان کے جانور تک کو علماء نے دارالحرب میں چھوڑنے کی ممانعت کی ہے تاکہ وہ طواغیت کی تقویت کا سبب نہ بنے ۔ علّامہ ابو الحسین احمد بن محمد قدوری رقمطراز ہیں : 

” اذا اراد الامام العود الی دار الاسلام و معہ مواش فلم یقدر علی نقلھا الی دار الاسلام ذبحھا۔ ”[التکمیل الضروری شرح القدوری :٢/٤٩٥]

” اگر امام ( دار الکفر سے ) دارا لاسلام (جہاد کے بعد ) لوٹنا چاہے اور اس کے ساتھ مویشی بھی ہوں ، جن کو وہ دار الاسلام منتقل نہ کرسکے تو پھر چاہئیے کہ انہیں ذبح کر ڈالے ۔ ”

جب ایک جانور تک کو دار الکفر میں چھوڑنے کی اجازت نہیں ،توایسے میں ایک موحد کیوں اور کیسے رہ سکتا ہے ؟

٦) 

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۡ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗٓ ) [الممتحنة :٤ ]

”تمہارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کا ہے ۔جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم بیزار ہیں تم سے اور جن کی تم اللہ کے علاوہ عبادت کرتے ہو ۔ ہم تمہارے انکاری ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت ظاہر ہوچکی ہے جب تک کے تم ایک اللہ پر ایمان نہ لائو ۔ ”

نکتۂ استدلال

اس آیتِ مبارکہ کو علماء آیتِ اظہارِ دین قرار دیتے ہیں یعنی دین کے اظہار پر ایک مسلمان اس درجہ قادر ہو کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اللہ کے باغی مشرکین کے سامنے وہ ٹھیٹھ موحدانہ اسلوب اختیار کرے جوآپ علیہ السلام نے اختیار کیا ہے ، اور ان سے اعلانِ برأت دوٹوک الفاظ میں کرے ۔اگر کوئی اس طرزِ پر اظہار دین کرنے سے قاصر ہے ، تو پھر علماء کے متفقہ فتاویٰ کی روشنی میں اسے اپنا دیار ترک کرکے توحیدی آب و ہوا کو اختیار کرنا چاہیئے ۔ یورپی ممالک میں بسنے والے حضرات کو اگر آیتِ اظہارِ دین کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو وہ اس طرزِ اظہارِ دین کے علاوہ اور بھی بہت سے امور دینیہ پر عامل ہونے سے یکسر معذور ہیں ۔ مثلاً 

(١) ایک باپ اپنے بیٹے یا بیٹی کو ترکِ صلاة پر سرزنش کرتا ہے توہ وہ یہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہاں کا قانون اس میں مانع ہے ۔

( ٢) کوئی شخص اگر دوسری شادی کسی طبعی مجبوری کی وجہ سے کرنا چاہے تو یہ بھی جرم ہے ۔ 

( ٣ ) دعوت جہاد جوکہ روحِ اسلام ہے وہ بھی شجرِ ممنوعہ ہے ۔ 

( ٤ ) نہی عن المنکر بھی جرم ہے اور بسا اوقات امر بالمعروف بھی ۔

( ٥ ) کوئی مسلمان مرد یا عورت بغرضِ ” حفاظتِ ستر ” Scanning Machine سے نہ گزرنا چاہے تو وہ ایسا نہیں کرسکتا ۔ 

(٦ ) وہ مجبور ہے کہ مشرکین کے ہاتھ کا ذبیحہ کھائے ۔

( ٧ ) مرد و زن کا اختلاط اس حد تک ہے کہ بسوں تک میں صاحب و صاحبہ شانہ بشانہ بیٹھتے ہیں ۔ 

( ٨) شوہر قرآن کی روشنی میں اپنی بیوی کو کسی منکر پر سرزنش کرے تو یہ بھی غیر قانونی فعل ہے ۔

(٩)کتاب اللہ کی روشنی میں اگر کوئی تفریحی مقام جانا چاہے تو وہاں سوائے ننگ Nudismکے اور کچھ نہیں ملتا ۔ 

(١٠) نبی ۖ نے فرمایا ہے کہ ان دستر خوانوں پر نہ بیٹھو جہاں شراب کے جام چلیں لیکن یورپی فائیو اسٹار میں کھانا کھانے والا مجبور ہے کہ وہ طعام کے لیے ان ہوٹل نما مے خانوں میں کھانا کھائے بلکہ بسا اوقات تقریبات میں بھی اسے ٹکراتے جام کے مناظر کو دیکھنا پڑتا ہے ۔

(١١)نامحرم کو دیکھنا حرام ہے لیکن یورپی باشندہ یہاں پھر مجبور ہے ۔ 

(١٢) نبی ۖ نے فرمایا ہے کہ یہود و نصاریٰ کو راستے میں پائو تو انہیں تنگ راستے پر سے گزرنے پر مجبور کردو] صحیح مسلم : حدیث نمبر ٢١٦٧[۔لیکن یورپ میں یہ Human Rightsکے خلاف ہے ۔ 

تاہم اس سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک مسلمان شریعتِ محمدی کو بلادِ مغرب میں رہتے ہوئے ” حق ” تو خیال کرسکتا ہے ، لیکن ” الحق ” ( The Only Truth )خیال نہیں کرسکتا کہ یہ رویہ Human Right Charterسے متعارض ہے ۔ پس جب آپ دوسروں کے کفر و الحاد کو ان کا ” حق ” سمجھتے ہیں اور وحدانیت ربّانی کو اپنا ” حق ” تو اسلام ” الحق ” کیسے رہا ؟ اسلام میں الحق اگر ” حق ” ہوجائے تو یہ شرک فی الحکم ہے ۔ اسلام میں تصور الحق کا اس درجہ اہتمام کیا گیا ہے کہ اس کے لیے اقدامی جہاد ، فریضہ اقامتِ دین ، استخلاف فی الارض ، جزیہ ، حدود جیسے عملی تصور ات بیان کیے گئے ہیں تاکہ کسی اور شہ کا حق ہونا حاشیۂ خیال میں بھی نہ آئے ۔ اس زیرِ بحث آیت سے جہاں مسئلہ اظہارِ دین منقح ہوا کہ جس پر ایک یورپی مسلمان قادر نہیں وہیں ایک قابلِ غور حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے محض مشرکین کے بتوں سے اعلان برأت نہیں بلکہ خود مشرکین سے بھی اعلان برأت کی ، پھر جو ہجرت فرمائی وہ مشہور و معروف واقعہ ہے ۔ طالب علمانہ استفسار ہے کہ جو معاشرہ آپ سے شرک و الحاد کو ایک حق ( Right )کی حیثیت سے تسلیم کروائے ، وہاں ان مشرکین سے اعلان برأت تو کجا ، کیا آپ ان کے شرک سے اعلان برأت کرنے پر بھی قادر ہیں ، ہجرت تو بعد از برأت کی بات ہے ؟

٧)

اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰىھُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ظَالِمِيْٓ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ  ۭقَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۭقَالُوْٓا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا  ۭفَاُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ   ۭوَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا ) ( النسائ:٩٧)

” جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ، جب فرشتے ان کی روح قبج کرنے پہنچے تو پوچھا تم کس حال میں تھے ؟ یہ جواب دیتے تھے کہ ہم کمزور و مغلوب تھے ۔ فرشتوں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم وہاں ہجرت کر جاتے ؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بُری جائے قرار ہے ۔ ”

نکتۂ استدلال

آیت کا پیغام بہت واضح ہے ، لیکن ہم قارئین کی توجہ اس اہم نکتہ کی طرف دلائیں گے جسے امام زید الدین محمد الرازی ( المتوفی ٦٦٦ھ ) نے ”نکات القرآن ” میں اٹھایا ہے ، اور وہ یہ کہ جب فرشتوں کے سوال کے جواب میں ان ” مستضعفین ” نے مدینہ ہجرت نہ کرنے کی علت بیان فرمادی تو پھر جواباً فرشتوں کا یہ کہنا ( أَلَمْ تَکُنْ أَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَةً ) ”کیااللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ وہاں منتقل ہوجاتے ” کیا معنی رکھتا ہے ؟ امام زید الدین جواب مرحمت فرماتے ہیں : ” مطلب یہ ہے کہ اگر تم دور ہونے کی وجہ سے مدینہ ہجرت نہیں کرسکتے تھے تو مکہ سے کسی قریبی علاقہ کی طرف چلے جاتے جہاں تم اپنے دین کے اظہار پر قدرت رکھ سکتے ۔ ” (مسائل الرازی : ٧٩)

علّامہ قاضی ثناء اللہ عثمانی پانی پتی ” تفسیر مظہری ” میں یہی جواب دیتے ہیں نیز علامہ قرطبی اندلسی بھی تفسیر میں فرماتے ہیں : ” و فی ھذہ الایة دلیل علی ھجران ۔” ” اس آیت میں دلیل ہے دونوں اقسام ہجرت پر ” (تفسیر قرطبی : ٥/٢٢٢)۔ اس لیے بعض حضرات کا یہ خیال کہ ہجرت کے لیے دار الاسلام ہونا شرط ہے اور آج یورپی ممالک کا بندہ کوئی دار الاسلام نہیں پاتا اس لیے اس کے لیے احکام ہجرت غیر متعلق ہیں ، صحیح نہیں ۔ جب دارا لاسلام ( یعنی مدینہ منورہ ) کے ہوتے ہوئے بھی دارا لفتن سے دارالامان کی طرف ہجرت کا حکم باقی تھا تو آج کا دور بدرجہ اولیٰ اس حکم کا مستحق ہے ۔ 

٨) ( رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا  ) ( النسائ:٧٥)

”اے ہمارے رب ! ہم کو اس بستی سے نکال جو ظالموں کی بستی ہے  ۔ ”

نکتۂ استدلال

امام ابو حیان اندلسی اس دعا کی تفسیر میں فرماتے ہیں :  ” و المجمھور علی ان اللّٰہ تعالیٰ استجاب دعاء ھم ۔ ” ” جمہور کا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کمزور مسلمانوں کی یہ دعا قبول کی ۔ ” (البحر المحیط : ٢ /٧٧٧)۔ گو دنیا میں اور بھی ظلم کی بستیاں ہیں لیکن ظلم و بربریت کا مظہرِ اتم اور حال کی دنیا میں ظلم کا سبب یہی بلادِ مغرب ہے جبکہ ظلم و معصیت کی پستیوں سے دور رہنا ہی مقصودِ شریعت ہے ، دوری جس قدر برتی جائے گی اسی قدر محمود ہے ۔ صحیح روایت میں سو اشخاص کے قاتل کی مغفرت کی علت ( جو اپنی اس معصیت ہر نادم تھا ) یہ بتلائی گئی ہے کہ اس کی موت بدی کی بستی سے دور اور صالحین کی بستی کے قریب واقع ہوئی تھی ۔” فکان الی القریة الصالحة اقرب بشبر فجعل من اھلھا ۔”      ” صالحین کی بستی سے اس کا فاصلہ ( بدی کی بستی کے مقابلہ میں ) ایک بالشت نکلا سو وہ ان ہی میں شمار کیا گیا ۔ ” (ریاض الصالحین :١ /٢٩)۔ اس لیے ظالموں کی محبت یا ان کی اعانت کسی بھی قسم کی کرے ، تو یہ مذموم حرکت ہے ، خصوصاً ان اقوام سے تعاون جو اہلِ ایمان کے دشمن ہیں ان کی اعانت تو نہ صرف ظلم کی اعانت ہے بلکہ مسلم امہ پر بھی براہِ راست ظلم ہے ۔ امام ابن حزم اندلسی کا یہ فکر انگیز فتویٰ ملاحظہ ہو :

” فان کان ھناک محارباً للمسلمین معیناً للکافرین بخدمتہ أو کتابہ فھو کافر ۔” (المحلیٰ : مسئلہ رقم ٢٢٥٢)

” اگر کوئی شخص دیارِ کفر میں رہ کر مسلمانوں سے لڑے یا کسی بھی نوعیت کی خدمت کرے یا محض کاتب بن کر کافروں کی اعانت کرے تو ایسا شخص بھی کافر ہے ۔ ”(١)

٩) 

(وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ   ) ( ابراہیم :٤٥)

”حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان سے کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے دے کر ہم تم کو بھی سمجھا چکے تھے  ۔ ”

غرض یہ اور بہت ساری دیگر آیات بھی اس زیرِ بحث مسئلہ پر دلالت کرتی ہیں جو اہلِ ایمان کو ظالموں کی بستیاں اور دیگر دار الکفر ترک کرکے ایک جہانِ صالح آباد کرنے کی دعوت دیتی ہیں ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔



حواشی 

(١) امام ابن حزم کی یہ رائے اصولِ فقہ کی روشنی میں اعتقادی حالت پر منطبق ہوتی ہے ۔ باقی اس شنیع فعل کا معصیت ہونا تو ایک معلوم و اجماعی حقیقت ہے ۔ 

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، شعبان المعظم 1433ھ/ جون ، جولائی سے قسط وار شائع ہو رہا ہے۔