اسرائیل. وجۂ تسمیہ اور تاریخ.


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012
مولانا ابو الجلال ندوی

اسرائیل — وجۂ  تسمیہ اور تاریخ (2)

موسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی
حضرت موسیٰ کے ہمراہ جو لوگ نکلے اور جو بعد میں آکر اُن کے ساتھ ہوگئے، وہ سب کے سب دین ِ موسیٰ پر نہ تھے’ ان کے ایک بڑے گروہ نے باربار حضرت موسیٰ سے بغاوت کی،جس کے تذکرہ سے بائیبل اور قرآن بھرا پڑا ہے۔ حضرت موسیٰ  ان لوگوں کو مصر سے اِس لیے نکال لائے تھے کہ اِس قوم کو ارضِ کنعان میں آباد کریں۔آپ نے قوم سے اِ س علاقہ میں داخل ہونے کے لیے فرمایا تو ان لوگوں نے کہا کہ اِس سرزمین میں ایک جبا ر قوم ہے، اِس لیے ہم داخل نہ ہوں گے،
”جا تو جا اور تیرا رب جائے،تم دونوں جاکر لڑو،ہم لوگ یہیں بیٹھے (تماشا دیکھتے) ہیں” ۔ اِ س لیے خدا نے فرمایا:
(قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً ۚ يَتِيْھُوْنَ فِي الْاَرْضِ ۭ )(المآئدة:٢٦)
”تو اب یہ علاقہ ان پر ٤٠ برسوں کے لیے حرام قرار دیا گیا، یہ لوگ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔”
بائیبل کے بیان کے مطابق خدا نے فرمایا تھا کہ کالب بن جفنہ اور یوشع بن نون کے سوا’اس وقت جن لوگوں کی عمر ٢٠ برس تک یا زیادہ کی ہے اس سرزمین میں داخل نہیں ہوں گے۔
سن ٣٨ خروج میں (استثنا،٢:١٤)، حضرت موسیٰ نے خدا سے درخواست کی کہ اب تو ہم کو اس زمین میں داخلہ کی اجازت ہو،لیکن یہ درخواست منظور نہ ہوئی البتہ آپ کو ایک پہاڑ پر چڑھ کو وہ علاقہ دیکھنے کی اجازت ملی ۔ (استثنا، ٣:٢٤ تا ٢٧) تب حضرت موسیٰ نے لوگوں کو جمع کیا اور وعظ کہتے ہوئے فرمایا:
”اَنَوکِی مَیِت بِاَرص ھَزَات اّینَنِی عُبِرْ ھَیَردَن وَاَتِّم عُبَریم ویرشتم اِتَ ھَاَرص ھَطُبَہ ھزات”( استثنا ٤:٢٢)
”ھِشْمَرو لکِم فِنْ تشکحو ات بریت یھوہ الوھیکم اشر بَرَت عِمْکِم و عَشَیْتِم لَکِم فِسِل تَمُونَتَہ کل اَشِرصوِّک یھوہ الوھیک” (استثنا ٤:٢٣)
”کی یھوہ الوھیک ایش اکلہ ھُوَا ایل قنّا”( استثنا ٤:٢٤)
”کی تولید بنیم و بنی بنیم ونوشتم بارص وَھِشْحَتِّم وعشیتم فسل تمونہ کل وَعَشَیتم ھرع بعینی یھوہ الوھیک لھکعیسو”(استثنا ٤:٢٥)
”ھَعِیدتِی بَکِم ھیوم ات ہشمیم و ات ھارص کی اَبُدْتابدون مہر مِعَلْ ھارص اشر اتم عُبِریم ات ھیردن شَمّہ بِرِشْتَہ لا تارِئکیون یومیم عَلیہ کی ھِشمَد تشمدون ” (استثا ٤:٢٦)
”وَھَفِیص یہوہ اِتکم بعَمٰیم وَنِشِارتم مِتی مسفر بجویم اشر ینھج یھوہ اتکم شمہ’‘ (استثنا ٤:٢٧)
”وَعَبَد تِم(شم) الوہیم معشہ یدی ادم عص واِبن اشر لایَراُون وَلایشمعون ولایاکلون ولایریحون” (استثنا ٤:٢٨)
” وَبَقشتم مِشّم ات یھوہ الوھیک ومصات کی تدرشنو بکل لِگِّی ولکل نفشک ” (استثنا ٤:٢٩)
”بِصر لک ومصاوک کل ھدبریم ھالّہ باحریتِ ھبومیم وسَبَتَّ عد یھوہ الوھیک وسمعت بقولو” (استثنا ٤:٣٠)
”کی ایل رحوم یھوہ اِلّوھیک لا یَرفکَ ولا یشحیتک ولا یشکح ات بریت ابوتیک اشر نِشبَع لھم” (استثنا٤:٣١)
”میں تو اِس زمین میں مر جاؤں گا۔میں اردن پار نہ جا سکوں گا۔تم لوگ پار جاؤگے اور اِس پاکیزہ زمین کے وَارِث بنوگے۔ پاسبانی کرو تم لوگ اپنی، نہ  کہ تم اﷲ اپنے معبود کے میثاق کوبھول جاؤ جو اُس نے تم سے لیا ہے ۔اور بناؤ اپنے لیے تراشی مورت کسی چیز کی جس سے اﷲتیرے معبود نے منع کیا ہے۔ کیوں کہ اﷲ تیرا معبود کھا لینے والی آگ ہے، غیرت مند خداوند ہے۔کیونکہ پیدا ہوں گے تم سے اور بیٹوں کے بیٹے اور زمین میں تم آباد ہو چکے ہوگے اور تم خراب ہوجاؤگے اور بناؤگے ہر چیز کی تراشی مورت اور اﷲ اپنے معبود کی آنکھوں کے سامنے اسے ناراض کرنے کو برائی عمل میں لاؤگے۔آج کے دِن میں تمہارے خلاف آسمانوں اور زمین کو گواہ بناتا ہوں کہ اِس زمین پر سے جہاں تم اردن پار جاؤگے اُس کے وَارِث ہونے کو،جلد تباہ ہوجاؤگے تباہ۔اس پر دِنوں کو دراز نہ کروگے بلکہ تم اُکھیڑ ہی دیے جاؤگے اور تم کو قوموں کے درمیان جہاں تم کو خدا لے جائے گا ،شمار میں تھوڑے ہونے اور انسانی ہاتھوں کے بنائے ہوئے دیوتاؤں کو لکڑی اور پتھر کو پوجوگے جو نہ دیکھتے ہیں،سنتے نہیں،کھاتے نہیں،سونگھتے نہیں۔ اور تلاش کروگے تم وہاں سے اﷲ اپنے خدا کو اور پائے گا تو کیو ں کہ ڈھونڈے گاتو اُسے اپنے سارے دِل سے اور اپنی ساری جان سے۔ جب تو دُکھ میں پڑے گا اور یہ سب حادثے تجھ پر پڑیں گے دِنوں کے آخر میں اور تو اﷲ اپنے خداکی طرف پھرے گا اور اس کا قول سنے گا چونکہ اﷲ تیرا خدا رحیم خدا ہے، اِس لیے وہ تجھے چھوڑ نہ دے گا،تجھے ہلاک نہ کرے گا ،تیرے بزرگوں کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو مسترد نہ کرے گا۔”  (سفر استثنا ٤:٢٢تا٣١)
اِس تقریر کے کچھ عرصہ بعد آپ نے دو تحریریں لکھیں، ایک لعنت نامہ تھی اور ایک برکت نامہ تھی اور حکم دیا کہ یہ دونوں تحریریں دو پتھروں پر کندہ کی جائیں ،اردن پار کرنے کے بعد برکت نامہ کو ”جرزیم” نام کے پہاڑ پر اور لعنت نامہ کو ”عباریم” (عیبال ) پہاڑ پر نصب کیا جائے اور فلاں فلاں قبائل کے سردار ‘ اِن نوشتوں کو سنائیں۔ حضرت یوشع کے زمانے میں اِس وصیت کی تعمیل ہوئی۔ (استثنا ١١:٢٦،٢٩،و ٢٧:١ تا ٢٦،یشوع ٨:٣٠تا ٣١)۔  پھر نہیں معلوم یہ دونوں پتھر کیا ہوگئے؟ لعنت نامہ میں وہ مصائب بیان کیے گئے تھے جو شریعت کے خلاف ورزی کی صورت میں خداوندِ عالم نازل فرمانے والا تھا۔ لعنت نامہ میں یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر تم لوگ احکام کی سختی سے پابندی نہ کروگے اور مناہی کی خلاف ورزی کروگے تو:
”یولک یہوہ اتک وَ اَت مَلِکَک اَشر نقیم علیک ال جوی اشر لا یدعت اتہ وابوتیک وعبدت شم الوہیم اشریم عِص وابن”(استثنا ٢٨:٣٦)
”خداوند تجھے اور تیرے بادشاہ کو جسے تو اپنے اوپر قائم کرے گا ایسی قوموں تک لے جائے گا جن کو نہ تو جانتا ہے اور (نہ) تیرے آبا (جانتے تھے) اور وہاں تو کاٹھ اور پتھر کے اجنبی دیوتا پوجے گا۔”
”بنیم و بنوت تلید و اَل ھَیوُ لکَ کی یلکو بشبی” (استثنا ٢٨:٤١)
”تو بیٹے اور بیٹیاں جنے گا اور تیرے نہونگے کیوں کہ قید ہو کر جائیں گے۔”
”ھجیر اشر بقربک بعلہ علیک معلہ معلہ واتہ ترد مَطّہ مطّہ” (استثنا ٢٨:٤٣)
”پڑوسی جو تیرے درمیان ہوگا وہ تجھ سے اونچا ہوگا، اونچا اونچا اور تو کرے گا نیچا نیچا”
”ھو یَلوک وانہ لا یَلوکو ھو الھیہ لراش واتہ تھیہ لزنب” (استثنا ٢٨:٤٤)
”وہ قرض دے گا اور تو اُسے قرض نہ دے گا،وہ سر کی بجائے ہوگا اور تو دم کی بجائے ہوگا۔”
”وعبدت ات اوبیک اشریشلحنو یھوہ بک برعب وبصما و بعیرم و بشر کل و نتن عول و برزل عل صوارک عد ھشمیدو اوتک ” (استثنا ٢٨:٤٨)
”اور تو چاکری کرے گا اپنے اِن دُشمنوں کی جن کو خدا تجھ پر بھیجے گا اور بھوک اور پیاس اور عریانی اور چیز کی حاجت کے سبب۔اور وہ تیری گردنوں میں لوہے کے طوق ڈالے گا یہاں تک کہ تجھے وہ تباہ کردیں گے۔”
”یشا یھوہ علیک جوی مرحق مقصہ ھارص کاشریداہ ھُنشِر جوی اشر لا تشمع لشونو” (استثنا ٢٨:٤٩)
”خداوند تیرے خلاف دور سے ِزمین کے سرے ایک گروہ کو برانگیختہ کرے جیسے کہ گدھ دکھائی دیتاہے،ایسی قوم جس کی بولی تو نے نہیں سنی۔”
”وحصر لک بکل شعریک عد ردت حمد تیک ھجبہت وھبصوردت اشراتہ بطح بھن بکل اَرصک وحصر لک بکل شعریک بکل ارصک اشر نتن یھوہ الوھیک لک” (استثنا ٢٨:٥٢)
”اور محاصرہ کرے گا تیرا،تیرے تمام پھاٹکوں میں یہاں تک کہ ڈھے جائیں گی تیری بلند اور مستحکم فصیلیں جن پر تیری تمام سرزمین میں تیرا بھروسا ہوگا اور محاصرہ کرے گا تیرا تیرے ہر پھاٹک میں تیری ساری سرزمین میں جو اﷲ نے تجھے دی ہوگی۔”
”وَ ھَفِیصک یھوہ بکل ہعمیم مِِقِصَّہ ھارص عدقصہ ھارص۔۔۔۔” (استثنا ٢٨:٦٤)
”اور پراگندہ کرے گا تجھے اﷲ تمام قوموں کے درمیان اقصائے زمین سے اقصائے زمین تک۔۔۔”
”وبجویم ھھم لاترجیع ونتن ولا یھیہ منوح لکف رجلک ونتن  یہوہ لک شم لب رجز و کلیون عینیم ودابون نفش” (استثنا ٢٨:٦٥)
”اور ان قوموں کے درمیان تو چین نہ پا ئے گا اور تیرے پاؤں کے تلوے کو قرار نہوگا اور دے گا تجھے وہاں دِل کی دھڑکن اور آنکھوں کی تیرگی اور جی کی غم ناکی۔”
”وَھشیبک یھوہ مصریم بانیوت بدرک اشر امرتی لک لاتسیف عود لِرَاُوتہَ وھتمکر تم شم لا وبیک لعبدیم ولشفجوت وابن قُنِہ”(استثنا ٢٨:٦٨)
”اور لوٹائے گا تجھے خداوند مصر میں کشتیوں پر اُس راہ سے جس کی بابت میں نے تجھے حکم دیا ہے کہ پھر تو اُسے کبھی نہ دیکھے۔اور ہو جاؤگے اپنے دشمنوں کے ہاتھ غلاموں اور لونڈیوں کی طرح او ر نہوگا کوئی خریدار۔”
”وَھَیَہ کی یباو(علیک) کل ھد بریم ھَاِلِّہ ھَبَرَکہ وَھَقَلَلَہ اشر نََتَتّی لفنیک وَھشبت اِل لِبَبِکَ بکل ھجویم اشر ھد یحک یھوہ الوہیک شمہ” (استثنا ٣٠:١)
”وَشبتَ عد یہوہ الوھیک وشمِعتَ بقولو ککل اشر انوکی مصَوک ھیوم اتَہ وبنیک بکل لِببک وبکل نفشک”(استثنا ٣٠:٢)
”وَشٰبْ یھوہ الوھیک ات شبوتک و رحمک وشب وقیصک مکل ھعمیم اشر ھفیصک یھوہ الوھیک شمہ (بقّعک)”(استثنا ٣٠:٣)
”وھَبیْاک یھوہ الوھیک ال ھارص اشر یرشو ابوتک وبرِشْتَہْ َو ھَیطبک وَھَرَبَک مابوتیک” (استثنا ٣٠:٥)
”ونتن یھوہ الوھیک اِت کل ھَاِلوت ھَاِلّہ وعل شونئیک اشر ردفوک ” (استثنا ٣٠:٧)
”اور ایسا ہوگا کہ یہ ساری باتیں آئیں گی۔برکت اور لعنت بھی،جنھیں میں نے تیرے آگے رکھا ہے اور تو اپنے دِل میں دُہرائے گاان تمام قوموںکے درمیان جہاں خداوند تیرا خدا تجھے بھگائے ہوگا۔اور تو خداوند اپنے خدا کے پاس پلٹے گا اور اس کے قول کواِن سب باتوں کے مطابق جو میں نے تجھے آج بتائیں،تو اور تیرے سے سنیں گے اپنے سارے دِل اور ساری جان سے۔اور لوٹائے گاخداوند تیرا خدا تیری اسیری کو اور رحم کرے گا تجھ پر اور پھیرے گا اور اکٹھے کرے گا تجھے اُن تمام قوموں سے جن کے درمیان خداوند تیرا خدا تجھے پراگندہ کیے ہوگااور وہاں سے واپس لائے گا۔اور لوٹا لائے گا تجھے خداوند تیرا خدا اس ملک میں جس کے وارِث تھے تیرے اسلاف اور تو اس کا وارِث ہوگا اور تیرے ساتھ وہ بھلائی کرے اور تیرے باپوں سے تجھے زیادہ کرے گا۔اور ڈالے گا اﷲ تیرا معبود ان سب نکبتوں کو تجھ سے نفرت کرنے والوں پر،تیرے دشمنوں پر جنھوں نے تجھے ستایا ہوگا۔”
یہ تقریر آپ نے سن ٤٠ خروج کے آغاز میں کی تھی ۔اسی سال کے آخر میں حضرت موسیٰ  نے ١٢٠ برس کی عمر میں وفات پائی۔وفات سے پیشتر آپ پر وحی نازل ہوئی:
”۔۔۔ ھنک شکب عِمْ ابوتیک وقام ھعم ھزہ وزنہ احری الوھی نکر ھارص اشر ھوا باء شمہ بقربو   وعزبنی وھِفیرات بریتی اشرکرتی اِتُو۔(استثنا ٣١:١٦)وحٰرہ اَفِّی بوبیوم ھھو وعزبتیم وھسترتی گنی مھم۔۔۔(استثنا ٣١:١٧)
”دیکھ تو اپنے باپ دادا کے ساتھ سورہے گا اور یہ قوم کھڑی ہوگی اور جس سرزمین میں بسنے کو جاسکی وہاں کے مکروہ دیوتاؤں کے پیچھے بدچلن ہوجائے گی اور مجھے چھوڑ دے گی اور جو میثاق میں نے اس سے کیا ہے اسے توڑ دے گی اور اُس دِن میرا غُصّہ اس پر بھڑکے گا اور میں ان کو چھوڑ دوں گا اور اس سے اپنے منہ کو چھپاؤں گا۔”
اِس خبر کے ساتھ حضرت موسیٰ کو ایک نظم لکھنے کا حکم دیا۔اِس نظم کے چند اشعار ذیل میں ہم نقل کرتے ہیں۔
” یَعْرُف ْ کَمَطَرْ لِقْحِی تُزل کَطَلْ اِمْرَتِی کشعِیرَمْ عَلٰی دِشِہ وکَرْبِیْبِیم عَلٰی عِشِب” (استثنا ٣٢:٢)
”بارِش کی طرح برسے گا میرا کلام، اُوس کی طرح ٹپکے گی میری بات۔جیسے ہریالی پر قطرے،اورجیسے گھاس پر شبنم۔”
”کی شِم یَہُوہ اَقْراَ ھَبو جُدِل لاِلُوھِینو۔” (استثنا ٣٢:٣)
”کیونکہ میں خدا کا نام جپوں گا،بزرگی دو ہمارے معبود کو۔”
”ھَصُورتَمِیمْ فَعلُو کی کَل درکَیُو مِشفَط اِیل اِمْنَہ وَاَینَ عَوِل صَدّیق و یَشٰرھوا۔” (استثنا ٣٢:٤)
”اُس کا فعل کامل چٹان ہے کیونکہ اُس کی ہر رَوِش عادِلانہ ہے۔اچھا خدا ہے بُرا نہیں ہے۔وہ سچا ہے راست کار ہے۔”
” شحِت لو لابَبَیّو مومم دُور عقش وفتلتل۔”  (استثنا ٣٢:٥)
”ناراض کیا اُسے نا خلفوں نے ان کا عہد (یہ ہے کہ وہ) کج رو اور سرکش نسل ہیں۔”
اِن اشعار کے بعد خدا کے احسانوں کو جو بنی اِسرائیل پر تھے گنانے کے بعد فرمایا:
”۔۔۔ وَدَم عِنَبْ تَشْتِہ حَمَر ْ”(استثنا : ٣٢:١٤)
”اور انگور کا سرخ لہو پیا۔”                 
”وشمن یشورون ویَبْعَط شَمنت عَبِیتَ کشِیْتَ ویَطَشْ ابُوہَ عَشٰھُو وینبل صُورَیَشُو عتو”(استثنا ٣٢:١٥)
” اوریشورون موٹا اور بدراہ ہوگیا۔تو موٹا ہوا،بوجھل ہوا، (چربی) پہنی تو نے اور اپنے خالق معبود کو چھوڑ دیا۔اور حقیر کیا اپنی نجات کی چٹان کو۔”
”و یَقْنَاُ وھوُ بِزٰرِیم۔۔۔۔”(استثنا ٣٢:١٦)
”اور غیرت دِلائی اُسے باطل معبودوں کے ذریعہ۔”
”وَیامر اَستِیرہَ فِنی مھِم اَرْاَہ مَہ احریتٰم۔۔۔۔”  (استثنا ٣٢:٢٠)
”اور فرمایا اُس نے کہ اُن سے اپنا منہ چھپاؤں گا، دیکھوں گا اُن کا انجام کیا ہوتا ہے۔”
” ھَمَہ قَناُونی بلا ایل کَعَسُوننی بحَبلِیھِم وَاِنی اَقنیام بلا عم بجوی نَبَل اَکعیسام”(استثنا ٣٢:٢١)
”اور میں غیرت دِلاؤں گا اُن کو غیر قوم کے ذریعہ۔ بے خرد قوم کے ذریعہ ان کو غصّہ دِلاؤں گا۔”
” اِمْ شَنُّوتِی بِرق حَرْبی وَتَاحُز لِمِشْفَط یدِی اُشِیب نٰقٰمْ بَصٰرٰی ولِمْشَناِی اِشَلِّمْ”(استثنا ٣٢:٤١)
”جب میں اپنی تلوار کی چمک چمکاؤں گا اور میرا ہاتھ انصاف کو پکڑے گا تو دُہراؤں گا انتقام کو اپنے دُشمنوں پر اور اپنے اعدا ء کو سزا دوں گا۔”
” ھرنینو جویم عِمُّو  کی دم عِبٰدو یَقّیم(یقوم) ونقم یشوب(یشیب) لصاریو وکفَّر ادمتو عَمُّو۔” (استثنا ٣٢:٤٣)
”اے لوگو اُس کے ساتھ ترانے گاؤ کیوں کہ وہ اپنے بندوں کے خون کا انتقام لے گا۔اپنے دُشمنوں پر انتقام دہرائے گا اپنی زمین (اور)           اپنی قوم کاکفارہ لے گا۔”
یہ نظم لکھ کر آپ نے کاہنوں کو دیا کہ عہد کے صندوق کے پاس رکھی جائے اور لوگوں کو جمع کر کے نظم سنائی اور ایک تقریر فرمائی اور فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ تم لوگ میرے مرنے کے بعد اپنے آپ کو خراب کروگے کیوں کہ تم نے میرے جیتے جی خدا سے بارہا  بغاوت کی ہے۔

عہد قضاة

اِس تقریر کے بعد چند ہی دِن گزرے تھے کہ حضرت موسیٰ نے وفات پائی۔ آپ کی وفات کے بعد پانچویں برس حضرت یوشع نے سرزمین ِ موعود کو فتح کیا۔ وفاتِ موسیٰ کے بعد جناب طالوت کے بادشاہ ہونے سے پیشتر جو زمانہ گزرا ، اُس کو عہدِ قضاة کہتے ہیں۔یہ عہد جیسا کہ سفرِ قضاة سے ظاہر ہے باربار ارتداد وتوبہ کا زمانہ تھا۔ جب جب قوم پر کسی مشرک فرمان روا کا تسلّط ہوتا ،لوگ شرک کرنے لگتے تھے لیکن جب کوئی اِسرائیلی قاضی مشرک فرمان روا سے نجات دِلاتا تو یہ لوگ تائب ہوجایا کرتے۔ یہ دور سنہ  خروج مطابق سنہ   ق۔م۔پر ختم ہوگیا۔

عصرِ داؤد 

قضاة کے عہد کے بعد یکے بعد دیگرے جناب طالوت’ حضرت داؤد  اور حضرت سلیمان  نے حکومت کی، اِن بزرگوں کے اسما قرآن میں وارِد ہیں اور اُن کے قصّے بھی ۔سورہ بنی اِسرائیل کی پہلی آیت میں دو مسجدوں کا ذِکر ہے۔اُن میں سے ایک کی تعمیر حضرت سلیمان  نے ٤٨٠ خروج مطابق ١٠١٧ ق۔م۔ میں کی تھی۔یہ اُن کی حکومت کا چوتھا سال تھا۔ حضرت سلیمان  نے دراصل حضرت موسیٰ کی وصیّت کی (استثنا ١٢:١١) کی تعمیل کی تھی۔(١)

عصرِ فساد

حضرت موسیٰ نے جس فساد کی پیش گوئی فرمائی تھی، اُس کا آغاز تو عہدِ قضاة ہی سے ہو گیا تھا۔حضرت داؤد کے زمانے تک میں بنو اِسرائیل کا ایک طبقہ ایسا تھا جس پر حضرت داؤد نے لعنت فرمائی تھی۔ لیکن یہ طبقہ اُن دِنوں دَبا ہوا تھا، لیکن حضرت سلیمان  کے انتقال کے عین بعد دس قبائل مرتد ہوگئے اور انھوں نے عہدِ موسیٰ کے دین ِ سامری کو اپنایا اور حضرت سلیمان  کے ایک باغی جس کا عرفی نام یرب عام (قوم سے لڑتا ہے) تھا اپنا بادشاہ بنایا ۔صرف دو قبائل بنو یہوداہ (خاندانِ داؤد ) اور بنو لاوی (خاندانِ موسیٰ ) نے آلِ سلیمان کی حکومت تسلیم کی۔ دورِ فساد کے بادشاہوں کی فہرست حسبِ ذیل ہے:

شمار
باغیان سلیمان
سنہ خروج
سنہ قبل مسیح
1
یربعام
٥١٧
٩٨٠
٢
ندب
٥٣٧
٩٦٠
٣
بعشا
٥٣٨
٩٥٩
٤
ایلاہ
٥٦١
٩٣٦
٥
عمری
٥٦٦
٩٣١
٦
اخی اب
٥٧٣
٩٢٤
٧
اخزیاہ
٥٩٢
٩٠٥
٨
یہورام
٥٩٣
٩٠٤


بنوسلیمان
سنہ خروج
سنہ قبل
رحبعام بن سلیمان
٥١٧
٩٨٠
ابیاہ
٥٣٤
٩٦٣
آسا
٥٣٦
٩٦١
یہو سفط
٥٧٦
٩٢١
یہورام بن یہوسفط
٥٩٧
٩٠٠

یربعام اور اُس کے تمام جانشین مشرک تھے۔یربعام نے سونے کے بچھوے کی مورتیں پوجوائی تھیں۔اخی اب نے اس پر بعل کی پرستش کا اِضافہ کیا۔اُس کے زمانہ میں حضرت الیاس مبعوث ہوئے تھے، جن کے خلیفہ حضرت الیسع تھے۔ یہ دونوں پیغمبر رجالِ قرآن میں سے ہیں ،اِن کا تذکرہ اِ س جگہ ضروری نہیں۔ حضرت سلیمان کے جانشین بھی گمراہی سے محفوظ نہ رہے۔رحبعام،آسا اور یہو سفط تو موحد تھے،لیکن ابیاہ مشرک تھا،کیونکہ جناب رحبعام نے ایک مشرکہ سے نکاح کیا تھا، جس کے  بطن سے ابیاہ پیدا ہوا’اور وہ اپنی ماں کے دِین پر تھا (اول ملوک:،باب:١٥)۔ یہورام بن یہوسفط نے اخی اب کی بیٹی سے نکاح کیا، اِس لیے وہ اخی اب کے دِین پر تھا۔حضرت الیسع نے جیسا اُ ن کے تذکرہ میں بتایا جائے گا،اخی اب کے گھرانے کے خلاف بڑی سخت کارروائیاں کیں،ان کارروائیوں میں سے ایک یہ تھی، انھوں نے یاہو نام کے ایک شخص کو اِس گھرانے سے حکومت چھین لینے پر آمادہ کیا ،یاھو نے اخی اب کے گھرانے کو قتل کردیا اور خود حکومت حاصل کرلی۔ اِ س کے بعد حسبِ ذیل بادشاہوں نے بنو اِسرائیل پر حکومت کی:

شمار
باغیان سلیمان
سنہ خروج
سنہ قبل مسیح
9
یاھو
604
893
10
یہواخز
626
872
11
یہوابین
647
851
12
یربعام
663
835
13
زکریا
725
773



بنو سلیمان
سنہ خروج
سنہ قبل مسیح
اخزیاہ بن یہورام
604
893
یہواس بن اخزیاہ
610
887
امصیاہ بن یہواس
648
849
عزریاہ بن امصیاہ
688
809


سفرملوک کے بیان کے مطابق یاہو اور اُس کے جانشین بعل پرست تو نہ تھے لیکن یربعام اول کے دِین پر تھے۔چونکہ یاہو کو حضرت الیسع کی تائید حاصل تھی اِس لیے غالباً اُس کی بابت الزام غلط ہے لیکن یربعام دوم کا نام بتاتا ہے کہ واقعی وہ دین ِ یربعام پر تھا۔اخزیاہ بن یہورام اپنے باپ اور اپنی ماں کے دِین پر تھا۔خاندانِ اخی اب میں داخل ہونے کی وجہ سے یاہونے اُسے بھی قتل کردیا لیکن یہواس نابالغ ہونے کی وجہ سے بچ رہا،چھ برس تک روپوش رہااور ایک موحد بزرگ یہو یدع کی تربیت میں زندگی گزاری۔امصیاہ اور عزریاہ بھی موحد تھے۔

ایام قہر

یربعام دوم کے وقت سے اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ  کی پیش گوئی کے مطابق اِس قوم پر عذاب نازل کرنا شروع کیا۔ایامِ قہر میں حسبِ ذیل ملوک گزرے:
نمبر شمار
باغیان سلیمان
سنہ خروج
سنہ قبل مسیح
١٤
سلوم
٧٢٧
٧٧١
١٥
مناحم
٧٢٧
٧٧١
١٦
فقحیاہ
٧٣٨
٧٦٠
١٧
نیقح
٧٤٠
٧٥٨
١٨
ہوسیع
٧٦٧
٧٣١

بنو سلیمان
سنہ خروج
سنہ قبل مسیح
یوتام بن عزریاہ
٧٤٣
٧٥٥
آخز بن یوتام
٧٥٦
٧٤٢

سورہ بنی اِسرائیل میں خدا نے جو باتیں فرمائی ہیں ‘اُن میں ایک یہ ہے کہ:
”ہم عذاب دینے والے نہ تھے،یہاں تک کہ ایک نہ ایک رسول نہ بھیج دیتے۔” (بنی اسرائیل:١٥) ۔
 بنو اِسرائیل پر جب عذاب نازل کرنا چاہا تو خدا نے تنبیہ کے لیے کئی انبیا مبعوث کیے۔ یربعام دوم کے زمانے میں مبعوث ہونے والوں میں سے ایک بزرگ جناب عموس تھے۔اُن کی معرفت خدا نے آس پاس کی مختلف اقوام کی آنے والے قہر سے ڈرایا لیکن ہم کو صرف بنو اِسرائیل سے بحث ہے۔ اُن دِنوں شاہی شہریربعام  کا  بیت ایل تھا۔انہوں نے یہیں آکر خدا کے آنے والے قہر سے لوگوں کو آگاہ کرنا شروع کیا۔امصیاہ نام یہاں کے بتکدہ کا بڑا پجاری تھا،اُس نے کہا:
”بھاگ، اے غیب گو،یہوداہ کی سرزمین سے بھاگ جا،وہاں جاکر روٹی کھا اور نبوت کر۔بیت ایل میں نبوت      نہ کر۔کیونکہ یہ بادشاہ کا مقدس اور اُس کا دارالسلطنت ہے ۔”  (عموس ٧:١٢)
”اِسرائیل کے خلاف نبوت نہ کر، اسحاق کے گھرانے کے خلاف بات نہ کر۔” (عموس ٧:١٦)
حضرت عموس نے اُ س کا کہا نہ مانا تو اُ س نے بادشاہ یعنی یربعام کے پاس اِس کا شکوہ کہلا بھیجا،کیونکہ یہ بت پرستی سے منع کرتے تھے۔لوگوں کو بیت ایل، جلجال اور بیر شیع کی حاضری سے منع کرتے تھے اور خدا کی طرف سے پیغام سناتے تھے کہ
” میں یعقوب کی حشمت سے نفرت رکھتا ہوں ۔” (عموس:١٦:٨)
”اِسحاق کے اونچے مکان اُجاڑ ہوں گے اور اِسرائیل کے مقدس ویران ہوں گے۔” (عموس ١٧:٩)
”تم نے جن مکانوں کو تراشے ہوئے پتھروں سے بنایا ہے اُن میں نہ بسو گے۔” (عموس ٥:١١)
”ایک دشمن اِ س سرزمین کو گھیر لے گا۔”(عموس ٣:١١)
”تم پر ایک گروہ کو چڑھا لاؤں گا، وہ تم کو حماة کے مدخل سے بیابان کی نہر تک ستائیں گے ۔”(عموس ٦:١٤)
”میں تم کو اسیر کر کے دمشق لے جائوں گا۔” (عموس ٥:٢٧)
یہ خوفناک پیش گوئی دراصل حضرت موسیٰ کی پیش گوئی کا اعادہ تھی، لیکن جس کتاب میں یہ پیش گوئی تھی وہ اُن دِنوں گم تھی،اِس لیے مشرکین اِ س پیش گوئی کو اَن ہونی سمجھتے تھے۔ ایسی نبو ت کرنے سے امصیاہ نے منع کیا تھا۔حضرت عموس نے اسے خبر دی کہ جس یربعام پر تیرا ناز ہے،وہ تلوار سے مارا جائے گا (عموس ٧:٩،١١) ۔اِسرائیل ضرور اسیر ہوں گے اور وطن سے بے وطن ہوجائیں گے (عموس ٧:١١) ۔امصیاہ کو بتایا کہ تو بھی اسیر ہو کر ناپاک سرزمین میں جا کر مرے گا، تیرے بیٹے مارے جائیں گے اور تیری جورو شہرمیں کسبی کا پیشہ کرے گی (عموس ٧:١٧)۔
پیش گوئی کے مطابق یربعام ماراگیا،اُس کی جگہ اُس کا بیٹا زکریاہ بادشاہ ہوا، صرف ٦ ماہ حکومت کرنے پایا تھا کہ اُسے سلوم نے قتل کر کے حکومت حاصل کی، ایک ماہ حکومت کرنے پایا تھا ،اُسے قتل کر کے مناحم نے گدی پر قبضہ کر لیا۔ اُس کے زمانہ میں شاہِ اشور نے جس کا نام پول تھا اس کے اوپر حملہ کردیا،مناحم نے لوگوں سے فی کس ٥٠ مثقال چاندی لے کر ایک ایک ہزارقنطار چاندی پول کو نذر دے کر اِس بات پر صلح کر لی ،پول اس کی دست گیری کرے اور سلطنت اِسرائیل کی اُسی کے ہاتھ میں رہنے دے۔مناحم کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا فقحیاہ بادشاہ ہوا،جس کو قتل کر کے فقح بن ایلیاہ نے حکومت حاصل کی۔مناحم چونکہ شاہِ اشور کی طرف سے نائب کی حیثیت سے حکومت کرتا تھا، اِس لیے فقحیاہ بن مناحم کے خون کا بدلا لینا شاہ اشور پر لازم تھا، اس لیے پول کے جانشین تغلات پلاسر نے اِسرائیل پر چڑھائی کردی اور عیون ، بیت محکہ ینوحہ، قادس، حصور،جلعاد،جلیل اور نفتالی کے سارے علاقہ پر قبضہ کر لیا (دوم ملوک ١٥:٢٩)۔پو ل اور تغلات پلاسر، بنو روبن، بنو جد اور بنو منسّی کے نصف لوگوں کو اسیر کر کے اشور لے گیا اور خابور،ہارہ اور جوزان کے پاس اُن کو بکھیر کر آباد کیا (اول ایام ٥:٢٦)۔انہیں دِنوںمیں خدا نے ایک اور منذر کو مبعوث کیا جن کا نام ہوشیع ہے، انہوں نے بھی جناب عموس کی طرح لوگوں کو بتایا کہ تمام بنو اسرائیل کو اشوری گرفتار کر لے جائیں گے۔فقح بن ایلیاہ جب بادشاہ ہوا تو چند دِنوں اُس نے شاہِ اشور کی بالادستی تسلیم کی،لیکن پھر فرعون مصر سے خط و کتابت شروع کی تو شاہِ اشور سلمانسر نے اُس پر چڑھائی کردی،  نتیجہ یہ ہوا کہ ہوشیع زندہ گرفتار ہوا اور سارے بنی اسرائیل جو خاندانِ سلیمان کے ماتحت تھے کچھ تو مارے گئے اور جو باقی بچے ،زن وفرزند سمیت اسیر ہوئے اور اُن سب کو لے جاکر ایران وغیرہ مختلف مقامات میں ان کو بکھیر کر آباد کیا اور اُن کی جگہ اُس کے جانشین” اے سرحدون” نے دوسری قوموں کو لابسایا اور اِس طرح دس قبائل کے حق میں حضرت موسیٰ  کی پیش گوئی ٧٧٥  (٧٢٣ قبل مسیح )خروج میں پوری ہوگئی۔

بنو سلیمان

اب اِ س دَیار میں صرف وہ بنو اِسرائیل رہ گئے تھے جو شاہانِ بنو سلیمان کے ماتحت تھے۔اِس خاندان اور اس کے ماتحت بنو یعقوب کو اُن دِنوں یہودا ‘اور باقی لوگوں کو اِسرائیل کہا جا تا تھا۔اسرائیل کہلانے والے سب مشرک تھے لیکن یہوداہ کہلانے والوں میں مشرکین بھی تھے ، موحدین بھی تھے۔ ہوشیع بن ایلہ کا معاصر بادشاہ یہوداہ یعنی آخز بن بوتام مشرک تھا۔عوام کی اکثریت مشرک تھی مگر ان میں موحدین بھی تھے۔بنو سلیما ن کی حکومت اِس واقعہ کے بعد ١٣٥ برسوں تک قائم رہی۔ ملوک کی فہرست حسبِ ذیل ہے:
شمار
نام
سنہ خروج
سنہ قبل مسیح
١
حزقیاہ بن آخز
٧٧٣
٧٢٥
٢
منسی بن حزقیاہ
٨٠١
٦٩٧
٣
امون بن منسی
٨٥٦
٦٤٢
٤
یوشیاہ بن امون
٨٥٨
٦٤٠
٥
یہوآخز بن یوشیاہ
٨٨٩
٦٠٩
٦
یہو یقیم بن یوشیاہ
٨٨٩
٦٠٩
٧
نکوسیاہ بن یہو یقیم
٩٠٠
٥٩٨
٨
صدقیاہ بن یوشیاہ
٩٠٠ تا ٩١٠
٥٩٨تا٥٨٨

اِن بادشاہوں میں سے حزقیاہ اور یوشیاہ کے علاوہ باقی سب مشرک تھے۔جب بادشاہوں کا یہ حال تھا تو عوام کے متعلق خیال کیا جا سکتا ہے کہ اُن کا کیا حال ہوگا۔لیکن چونکہ یہوداہ کہلانے والوں میں موحدین بھی تھے ،اِس لیے اﷲ تعالیٰ نے اِ س گھرانے کو ١٣٥ برس مزید مہلت دی۔ ہوشیع بن ایلہ کے زمانے میں خدا نے اسی کے ہم نام ایک اِسرائیلی ہوشیع بن بیری کو نبوت سے نوازا۔اُن کی معرفت بنی اِسرائیل کو اُن کے انجام سے خبردار کرتے ہوئے خدا نے فرمایا:
”۔۔۔لَا اُوسف عود ارحم ات بیت یشرایل کی نشا اشا لھم ” (ہوشیع ١:٦)
”وات بیت یہودہ ارحم وھو شعتیم بیھوہ الوھیھم ولَا اوشیعٰم بقشت وبحرب وبملحمہ بسوسیم ولفرسم”(ہوشیع ١:٧)
”وریب لیھوہ عم یھودہ (٢) ولفقد (٣) عل یعقوب کد رکیو کمعللیو یشوب(٤)  لو” (ہوشیع ١٢:٢)
”بَبَطَن عقب (٥)ات احیو وَباَونو (٦) شرہ ات الوھیم (٧) (ہوشیع ١٢:٣)
” ویَشر ال ملاک (٨)ویوکل (٩) بکہ و یتھنن لو بیت ایل یمسانو وشم یدبر عانو” (ہوشیع ١٢:٤)
”یھوہ الوھی ھصباد یھوہ زکرو” (ھوشیع ١٢:٥)
”واتہ بالوھیک تشوب حدو مشفط شمر وقوہ ال الوھیک تمید” (ھوشیع ١٢:٦)
”اسرائیل کے گھرانے پر پھر زیادہ رحم نہ کروں گا’ہانکنا ہانکوں گااُن کے لیے مگر یہوداہ کے گھرانے پر رحم کردیا جاوے گا۔اُن کو ان کے معبود یہوہ کے زور سے اور نہ بچاوے گا ان کو کمانوں،تلواروں ،جنگوں، گھوڑوں اور سواروں کے زور سے۔اور ایک حجت ہے خدا کی یہوداہ کے پاس اور مہربانی کی اور یعقوب پر اس کی رَوِشوں کے مطابق اس کے کام کے مطابق اس کے لیے پھر پکا دل سے برا جانا اپنے بھائی کو اور اپنے دکھ میں زور مارا خدا کے ساتھ اور زور مارا رسول کے پاس اورتوانائی پائی۔”
اِن آیات کے مطلب کو نصرانی مترجموں نے نہایت پھوہڑ بنادیا ہے۔ خدا نے یہ بتایا ہے کہ چونکہ یہوداہ نے اپنے دکھ اور شدید غم کے حال میں خدا کے سامنے عاجزی کی ، رویا، گڑگڑایا،مناجات کی اور پیغمبر کی سفارش کرائی ہے، اِس لیے یہوداہ کو تو رہائی ملے گی مگر اِسرائیل کو نہیں۔ یہوداہ اپنے دُشمن پر غالب ہوگا مگر فوجی طاقت سے نہیں بلکہ خداوند قدوس کا نامرئی ہاتھ اُس کی مدد کرے گا۔
واقعہ یہ ہوا کہ شلمانسر کے بعد شاہِ اشور ”سنحرب”نے بزمانہ حزقیاہ حملہ کیا تاکہ جس طرح شاہانِ اِسرائیل سے اُن کا ملک چھین لیا گیا اور بنو اِسرائیل کے دس  قبیلوں کو اسیر کرلیا گیا تھا،اسی طرح شاہانِ یہوداہ کا علاقہ بھی حاصل کر کے باقی ماندہ بنو اِسرائیل کو غلام او ر لونڈی بنانے کے لیے اسیر کرلیا جائے۔
جناب حزقیاہ اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے اِس لیے انہوں نے خانہ خدا میں جاکر خدا کے حضور گریہ و زاری کی اور حضرت یشعیاہ نے دعا کی،پھر بذریعہ الہام دعا کے مقبول ہونے کی خبر دی۔ پھر ایسا ہوا کہ خدا نے اشوریوں کی فوج میں ایک وبا بھیجی۔سنحرب کے لشکر کا بڑا حصہ مرگیا ،پھر اسے خبر ملی کہ شاہِ مصر نے اُ س کے ملک پر حملہ کر دیا ہے، تو محاصرہ چھوڑ کر نینویٰ کو واپس گیا۔ وہاں پہنچتے ہی اس کو قتل کر دیا گیا اور اس کی جگہ ”ای سرحدون” نے لی۔

انجام اشور

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اِن حوادث کی پیش گوئی فرماکر جو٩٨٠ قبل مسیح سے لے کر ٧٢٢ قبل مسیح تک بنی اسرائیل کے دس قبیلوں پر گزرے۔یہ بھی فرمایا تھا کہ پھر جب تم لوگ توبہ و استغفار کروگے تو خدا تم پر رحم کرے گا،” اور ڈالے گا اﷲ تیرا معبود ان سب نکبتوں کو تجھ سے نفرت کرنے والوں پر، تیرے دشمنوں پر جنھوں نے تجھے ستایا ہوگا”  (سفر استثنا ٣٠:٧)، اشور کے حق میں ١١٠ برس بعد ٦١٢ قبل مسیح میں یہ پیش گوئی ایرانی فرماں روا کیخسرو کے ہاتھوں پوری ہوئی۔ ہوشیع بن ایلہ کے گرفتار ہونے اور بنی اسرائیل کے دس  قبیلوں سے اِ س سرزمین کے پاک ہوجانے کے بعد،اُن دِنوں کے پیغمبروں نے بھی حضرت موسیٰ  کی اِس پیش گوئی کے مطابق جدید پیش گوئیاں فرمائیں۔       

حواشی و تعلیقات

(١)           عہد نامہ قدیم کے عربی ترجمے میںسِفْرِ استثنا (تثنیة)کی آیت ١٢:١١ اِس طرح درج ہے: ”فَالْمَکَانُ الَّذِ یَخْتَارُہُ الرَّبُّ اِلٰہُکُمْ لِیُحِلَّاسْمَمُ فِیہِ تَحْمِلُونَ اِلَیہِ کُلَّ مَا أَنَا أُوصِیکُمْ بِہِ مُحْرَفَانِکُمْ                 وَذَبَائِھِکُمْ وَعُشُرَکُمْ وَرَفَائِع۔ أَیْدِیکُمْ وَکُلَّ خِیَارِ نُذُورِکُم۔ الَّتِ تَنْذُرُنَہَا لِلرَّبِّ۔” ص:٢٩٩، الکتاب المقدس ، طبع ”دار الکتب المقدس فی شرق الأوسط” سال اشاعت:١٩٩٢ء (رفعت)
(٢)           متداوِل ترجمہ ”اور خداوندکا یہوداہ کے ساتھ بھی ایک جھگڑا ہے”۔ بالکل غلط ترجمہ ہے۔ ”ریب” کے معنے بحث اور حجت کے ہیں مگر معذرت پر بھی یہ دلالت ہے۔ یہوداہ’ اور یعقوب ‘اِن آیتوں میں اشخاص کے نہیں بلکہ نسل کے نام ہیں،جس طرح سفر تکوین ٦: ٨، ٧:٩ میں اسحاق یعقوب اور اِسرائیل ایک ہی نسل کے تین ناموں کی حیثیت سے وارِد ہیں۔
(٣)          متداوِل ترجمہ ”سزا دوں گا” غلط ہے۔ یہ دو لفظوں کا مجموعہ ہے: ”ل” حرفِ توجیہ،”فقد” کے کئی معنی ہیں۔ من جملہ ان کے ایک مہربانی ہے۔”یھوہ فقدت ات سارہ”(سفر تکوین ٢١:١)”خدا نے سارہ پر عنایت کی۔””فقد یہوہ ات حنہ”(سفر١سموئیل٢:٢١)،”خدا نے حنا پر مہربانی کی۔” ”فقد” کا ایک مطلب فیصلہ بھی ہے۔ ”شمرتی فقود لک”(زبور ١٦٦) ”میں نے تیرے فیصلوں کو حفظ کیا۔”
(٤)          اِس عبارت میں ”تشوب” لا ترجمہ آگے چل کر ”پھر” "turn"کیا گیا ہے لیکن یہاں لاوے گا ترجمہ کیا گیا ہے وہ غلط ہے۔
(٥)          متداوِل ترجمہ: ”رحم میں اپنے بھائی کی ایڑی پکڑی۔”  یہ ترجمہ دو خیالو ں پر مبنی ہے ،ایک یہ یعقوب سے مراد حضرت یعقوب  ہیں جن کی بابت روایت تھی کہ اپنے بھائی کی ایڑی پکڑے ہوئے پیدا ہوئے۔ دوسرا خیال یہ کہ حضرت یعقوب  کا یہ ایک گناہ تھا جس کی وجہ سے وہ سزاکے مستحق تھے۔ ”ببطن” کا ترجمہ ”دِل سے” بھی ہو سکتا ہے۔”عاقب” ، ”سزا دی،برا جانا۔” اپنے بھائی کو یعنی مشرک بنی اِسرائیل کو۔
(٦)           متداوِل ترجمہ: ”اپنے زور میں”، غلط ہے۔ ”اون” کے معنی شدت اور شدت غم کے ساتھ دکھ کے ہیں۔
(٧)          متداوِل ترجمہ: ”خدا سے کشتی لڑی” کافرانہ ہے۔ صحیح ترجمہ ہوگا:”خدا کے ساتھ زور مارا،یعنی پُر زور فریاد کی۔”
(٨)          متداوِل ترجمہ : ”فرشتے سے کشتی لڑی” ناممکن تصور ہے۔”ملاک” کا ترجمہ” رسول” بھی ہوسکتا ہے۔
(٩)           متداوِل ترجمہ: ”اور غالب ہوا”۔اِس تصور پر مبنی ہے کہ حضرت یعقوب  نے نعوذ باﷲ خدا اور فرشتے سے کشتی لڑی اور خدا کو اور فرشتے کو دونوںکو پچھاڑ دیا۔ ”یکل”، ”یوکل” کے معنی ہیں ”شکست پائی”۔

Advertisements

اسرائیل وجۂ تسمیہ اور تاریخ


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012

 علّامہ ابو الجلال ندوی رحمہ اللہ

اسرائیل

وجۂ تسمیہ اور تاریخ

 قسط ١  قسط2
قرآنِ پاک کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ حضرت آدم اور حضرت اسرائیل  کے علاوہ کسی فرد کی نسل کو اُس کی طرف ”بنی” کا لفظ مضاف کر کے نہیں مخاطب کیا ہے۔ اسی طرح  ”آل”  کا لفظ حضرت داؤد  کے سوا کسی اَور کی طرف مضاف کر کے مخاطب نہیں کیا ہے   بنی آدم سے مراد تو دُنیا بھر کے اِنسان ہیں۔ اِسرائیل ،حضرت یعقوب کا نام تھا ‘ پورے قرآن میں یا بنی یعقوب نہیں۔

اِسرائیل  اور  یہود

جو شخص بھی بائیبل کا مطالعہ کرتا ہے’ اُس کو معلوم ہے کہ حضرت سلیمان  کے مرنے کے بعد بنی یعقوب دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ایک گروہ جس میں یعقوب کے ١٢ فرزندوں میں سے ١٠ فرزندوں کی اولاد داخل تھی،اُس نے ایک باغی یربعام کو اپنا بادشاہ مانا، جس نے دینِ سامری کو ازسرِنَو حیاتِ تازہ بخشی، اَور گئو سالہ پرستی کو رِوَاج دیا،اُس کے بعد کے جا نشینوں نے اور بھی کئی گم راہیوں کو رِوَاج دیا۔یربعام  اَور اُس کے متبعین کا نام سفرِ ملوک  اَو ر سفرِ ایّام میں اِسرائیل اَور بنی اِسرائیل ہے۔
اِن گم راہ بنی اِسرائیل کے مسلک والے عہدِ قرآن تک عرب میں موجود تھے،جن کی بابت سورہ ”نسائ” میں ہے کہ

يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ ] النسائ 51[

دوسرا گروہ جس نے حضرت سلیمان کے جانشینوں کی حکومت تسلیم کی اُن کا ذِکر سفرِ ملوک و ایّام میں ”یہودا” کے نام سے ملتا ہے اور جانشینانِ سلیمان کا ذِکر ”شاہانِ یہوداہ” کے نام سے ملتا ہے۔اِس گروہ کے لوگ بھی عرب میں تھے،اِن کا قرآنی نام ”یہود” (بقرة:١١٣ ،١٢٠ ، مائدہ:٢٠ ،٤٥، ٦٧ ، ٨٥،نور :٣١) اَور” الذین ہادوا(بقرة:٦٢،نسائ:٤٥،١٥٨،مائدہ:٢٤،٢٧،٤٢،انعام:١٢، نمل:١١،حج:٧) ہے۔سورہ سبا میں خدا نے ان کو ”آلِ داود” کہہ کر اور جمعہ :٦میں ( یا ایہا الذین ہادوا ) کہہ کر مخاطب کیا ہے۔

یا بنی اِسرائیل کا لفظ استعمال کرکے خدا نے قسمِ اوّل کے لوگوں کو(بقرة:٤٠،٤٧،١٢٢،مائدہ:٥ اور صف:٦٥ میں) مخاطب کیا ہے۔یہ تمام آیتیں مدنی ہیں۔ طہ:٨٠ مکّی ہے،اِس میں بھی یا بنی اِسرائیل ہے لیکن اِس آیت میں حضرت موسیٰ کا قول ہے،اُن کے زمانہ میں تمام بنو یعقوب کا یہی نام تھا۔اعراف، یونس، شعرائ، سجدہ میں قصّے کے اندر بنی اِسرائیل کا ذِکر ہے۔زخرف میں حضرت  موسیٰ  کی بابت مثلا لبنی اِسرائیل وارِد ہے۔ احقاف میں بنی اِسرائیل میں سے ایک شاہد کا ذِکر ہے جس نے مثل قرآن کی شہادت دی تھی۔اِن میں سے کسی آیت میں بنی اِسرائیل مخاطب نہیں ہیں۔بقرة،مائدہ اور صف میں یا بنی اِسرائیل کہہ کر خدا نے گم راہ بنی اِسرائیل کو مخاطب کیا ہے۔

آلِ داود تو مکّہ میں مخاطب ہوئے کیونکہ سبا  مکّی سورة ہے۔یا بنی اِسرائیل کہہ کر خد ا نے صرف مدنی سورتوں میں مخاطب کر کے ان سے کلام کیا ہے۔

بنی یعقوب میں ایک گروہ اَور تھا جو روح ،فرشتے اور جنّات کا قائل نہ تھا،اِس کو صدوقی کہا جا تاتھا۔ اِس عقیدہ والے بنی اِسرائیل عرب میں موجود تھے۔ مومنون: ٨٢ -٨٣ اور نمل:٦٧-٦٨ میں قیامت کے برخلاف جو اقوال منقول ہیں وہ انہیں کے ہیں۔

”وہ لوگ قیامت کی بابت یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم سے اور ہمارے آبا سے اس کا وعدہ پہلے بھی کیا جا چکا ہے’ نہیں ہے یہ مگر اگلوں کے اساطیر” (مومنون:٨٣؛نمل:٦٨) ۔

 یہ اقوال اُن کے ہیں جن کی بابت خدا نے فرمایا کہ

”تو کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا،ان کے پاس وہ بات آئی ہے جو اُن کے آبائے اوّلین کے پاس نہیں آئی تھی” (مومنون:٦٨) ۔

قرآن میں کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جو متداول بائیبل میں نہیں ملتیں،مثلاً حضرت ابراہیم کا آگ میں ڈالا جانا،عہدِ موسیٰ میں ساحروں کا ایمان لانا ‘اور حضرت موسیٰ کا ایک عالم سے ملنے کے لیے مجمع البحرین تک سفر کرنا۔قرآن کی ایسی باتوں پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے اور شاید سورہ نمل کے زمانہ میں کیا گیا ،یہ تو بائیبل میں نہیں ہے،جس کی وجہ سے خدا نے سورہ نمل میں فرمایا کہ
”یہ قرآن بنی اِسرائیل کو اس چیز کااکثرحصہ سناتا ہے جس کے متعلق وہ باہم اختلاف رکھتے ہیں ”(نمل:٦٦)۔
 سورہ نملکے نزول کے بعد سے خدا نے بنی اِسرائیل کو قرآن میں مخاطب کرنا شروع کیا۔
سورہ نمل میں خدا نے فرمایا

 (  وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُنْ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ   )(نمل:٧٠)۔

لَا تَكُنْ کا نون حذف کر کے دیکھو۔ یہی بات نحل:١٢٧ میں  دُہرائی ہے۔نحل ایسے زمانہ میں اُتری جبکہ آنحضرت ۖ تو مکّہ میں تھے اور مسلمان مدینہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے، چنانچہ نحل:٤١،١١٠ میں جو کہ مکّی آیتیں ہیں: ( الناس ہاجروا) کا ذِکر ہے۔نمل:٧٠،نحل:١٢٧ میں جس مکر کا ذِکر ہے اس کا مفصل تذکرہ انفال:٣٠ میں ہے۔ نمل اور نحل دونوں مکّی دَور کے آخر میں نازل ہوئیں۔اِن سورتوں میںبھی خدا نے بنی اِسرائیل کو مخاطب کر کے کوئی بات نہیں کہی ہے۔

سورہ اِسرائیلکی ٤ آیتوں میں بنی اِسرائیل کا لفظ وارِد ہے۔ اسرائیل٢،٤،١٠١،١٠٤۔ اِن آیتوں میں اگرچہ ”یا بنی اِسرائیل” نہیں ہے لیکن آیت:٨ میں صریحاً بنو اسرائیل مخاطب ہیں۔چونکہ باعتبار نزول پہلی سورہ ہے جس میں خدا نے بنی اِسرائیل کہہ کر مخاطب کیا ہے، اِ س لیے اِس کو سورہ بنی اِسرائیل کا نام دیا گیا۔ مومن:٧، زخرف:٤٣، رعد : ٤٠ ، یونس : ٤٦ کے بعد نمل : ٧٢ ، نحل: ١١٢ ، ١١٣ ، مومنون: ٧٥ تا ٧٧،٩٣تا٩٥ ، دخان:١٠  تا ١٦، فرقان :٧٧ کو غور سے پڑھو ۔ابتدائی ٤ سورتوں کی ترتیب نزول دوسرے دلائل سے ہم نے مقرر کی ہے، پانچ سورتیں جس ترتیب سے اُتریں وہ آپ کو خود یہ آیتیں بتا دیں گی۔سورہ فرقان : ٦٠ اور اِسرائیل : ١١٠ کا مقابلہ کرو تو دونوں آیتیں تقریباً ہم زمانہ اور ہم سبب معلوم ہوں گی،اِس طرح ایک حد تک ہم بالکل صحیح فیصلہ کر سکتے ہیں کہ سورہ اِسرائیل مکّہ کے آخری ایّام میں نازل ہوئی۔

اِسرائیل

مکّی اور مدنی کئی سورتوں میں بنو اِسرائیل کا ذِکر وارِد ہے لیکن سورہ بنی اسرائیل میں تاریخ ِ اِسرائیل کے دو نہایت درد انگیز حوادِث کی طرف اِشارہ ہے ،اِس لیے خصوصیت کے ساتھ اِس کو یہ نام دیا گیا: ”بنی اِسرائیل”۔قرآن میںجہاں جہاں بنو اِسرائیل کا ذِکر آیا، سب آیتوں کو جمع کرنے کے بعد ہم صرف اِتنا جان سکتے ہیں کہ یہ اُس قوم کا نام ہے جس کے اندر حضرت موسیٰ  اور حضرت عیسیٰ اور دیگر انبیا مبعوث ہوئے تھے۔اِس قوم کے کس مورث کا یہ نام تھا؟ اور اِس نام کا مطلب کیا ہے؟ اِن سوالوں کا جواب ہم کو قرآن پاک کسی آیت سے واضح طَور نہیں ملتا۔لفظ ”بنی” کے بغیر ”اِسرائیل” کا نام دو آیتوں میں آیا ہے۔اِن آیتوں پر غَور کیجیے، کچھ انداز مل جائے گا:

١۔ (  كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ  ) (آلِ عمران: 93)

”کھانے کے لایق ہر چیز فرزندانِ اِسرائیل کے لیے حلال تھی سِوائے اُس چیز کے جس کو توراة کے نزول سے پیشتر اِسرائیل نے خود پر حرام کر لیا تھا۔”

اِس آیت سے اِس کا اندازہ نہیں ہوتا کہ اِسرائیل کس مورِث کا نام یا لقب تھا۔ سورة  مریم میں خدا نے چند انبیا کے ذِکر کے بعد فرمایا کہ

٢۔ (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ مِنْ ذُرِّيَّةِ اٰدَمَ ۤ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ  ۡ وَّمِنْ ذُرِّيَّةِ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْرَاۗءِيْلَ ۡ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا  ۭ) (مریم:٥٨)

”یہ ہیں وہ لوگ جن پر اﷲ نے انعام فرمایا ہے جیسے انبیا جو نسلِ آدم میں سے تھے اور اُن میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی ذریت سے اور اُن میں جن کو ہم نے ہدایت فرمائی اور برگزیدہ فرمایا تھا۔”

اِس سے پہلے جتنے انبیا کا ذِکر ہے، ذریت آدم تو سب تھے۔ نوح کے ساتھ کشتی پر سوار کو حضرت ادریس  کے سوا کسی کو تطبیق نہیں دے سکتے۔حضرت موسیٰ  اور حضرت ہارون کی بابت معلوم ہے کہ بنی اِسرائیل میں سے تھے۔حضرت موسیٰ  کا نسب نامہ بتوسط حضرت یعقوب، حضرت اسحاق اور حضرت ابراہیم  تک منتہی ہوتا ہے۔قرآن کی آیتوں سے ہم اِس قدر جان سکتے ہیں کہ ذُریتِ ابراہیم میں سے ایک کا جس کی نسل سے حضرت موسیٰ تھے، اِسرائیل لقب تھا۔یہ بات ہم کو بائیبل سے معلوم ہوتی ہے کہ اِسرائیل ،حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا، اِس لیے بنو اِسرائیل اور آلِ یعقوب ،دونوں مرادِف الفاظ ہیں۔

بنو اِسرائیل

لفظ اِسرائیل کا مطلب بیان کرنے سے پہلے حضرت یعقوب علیہ السلام کے ١٢ فرزندوں کے سنین ولادت کا تعین کرلینا مناسب ہے۔متداوِل بائیبل میں اُن کے سنین ولادت مذکور نہیں ہیں، لیکن ایک کتاب سفرِ ہٰیاشار ہے ‘جس کا حوالہ موجودہ بائیبل کے پانچویں صحیفہ سفر یوشع (٠:١٣) (١) اور٢ سمویل (١:١٨)(٢) میں آیا ہے۔ اِس کے باوجود یہ کتاب نصرانیوں کے متروکات میں داخل ہے۔اِس کتاب میں ہر ایک کی عمریں اور سنین وفات مذکور ہیں۔جن کی مدد سے ہم اُن کے سنین ولادت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔

نام
سال ولادت قبل ورود مصر
سال وفات بعد از ورود مصر
عمر /سال
١۔ راوبن
٤٦
٧٩
١٢٥
٢۔ شمعون
٤٥
٧٥
١٢٠
٣۔ دان
٤٤
٨٠
١٢٤
٤۔ لاوی
 ٤٤ 
٩٣  
١٣٧  
٥۔ یہودا
 ٤٣
٨٦  ١٢٩ 
٦۔ نفتالی
 ٤٣ 
٨٩  
١٣٢  
٧۔ جاد
 ٤٢ 
 ٨٣ 
 ١٢٥ 
٨۔ آشر
 ٤١ 
٨٢  
 ١٢٣ 
٩۔ ایشاکر
 ٤١ 
 ٨١ 
 ١٢٢ 
١٠. زبولون
 ٤٠ 
 ٨٤ 
 ١١٤ 
١١. یوسف
 ٣٩ 
 ٧١ 
 ١١٠ 
١٢. بن یامین
 ٣٠ 
 ٨٥ 
 ١١٧ 
بنو اِسرائیل انہیں ١٢ بزرگوں کی نسل کا نام ہے۔اِن بزرگوں اور اِن کی نسل کی بیٹیوں کی اولاد بھی بنو اِسرائیل میں داخل تھی،اِن کے موالی بھی بنی اِسرائیل میں شمار کیے جاتے تھے۔ (٣)

مفہوم  اِسرائیل

٣٠ قبل ورود مصر میں جبکہ جناب بن یامین ابھی پیدا نہ ہوئے تھے،حضرت یعقوب علیہ السلام اپنی تمام اولاد اور موالی سمیت ایک مقام لوز میں کچھ عرصہ مقیم رہے،یہاں اُنہوں نے ایک جگہ کو خدا کی عبادت کے لیے مخصوص کیا اور اُس کا نا مبیت ِ ایل (خانہء خدا)  رکھا۔جن کی بنا پر یہ مقام بعد میں اِسی نام سے مشہور ہوگیا۔مقام لوز کیبیت ایل میں ایک روز آپ مشغول ِعبادت تھے کہ ربّانی تجلی نے آپ پر بارشِ انوار کی اور غیبی آواز نے آپ سے فرمایا:

”(آج سے) تیرا نام اِسرائیل ہوگا (٤)۔ میں ہوں خدائے قادر’تو بُرومند ہوگا اور بہت ہوجائے گا۔تجھ سے گروہ اور گروہ درگروہ پیدا ہوں گے اورتیری صلب سے بادشاہ جنم پائیں گے۔اور یہ زمین جو میں نے ابراہیم و اسحاق کو دی تھی تجھے اور تیرے بعد تیری نسل کو دوں گا۔” (تکوین: ٣٥: ١٠، ١١،١٢) (٥)

اِس بشارت کے بعد حضرت بن یامین پیدا ہوئے۔ اُن کا نام اُن کی ماں نے بن اونی (میرے دُکھ کا فرزند) رکھا تھا،کیونکہ وہ اُن کے مرضِ موت کی حالت میں پیدا ہوئے۔لیکن حضرت یعقوب نے اُن کا نام بن یامین یعنی ”فرزند میثاق” یا عہد کا فرزند رکھا تھا۔اِس بشارت کے بعد ساتویں برس ١٦ کی عمر میں حضرت یوسف علیہ السلام مصر میں غلام بن کر بکے۔ ٢٠ برس کی عمر میں خدا نے اُن کو مصر کے سیاہ و سپید کا مالک بنادیا۔اِس موقع پر حضرت یوسف  کے ایک تَوراتی لقب کا ذِکر مناسب ہے کیونکہ اِس سے لفظ اِسرائیل کے معنی کی تعین میں مدد ملے گی۔مصریات کے علما جانتے ہیں کہ مصر پر ایک زمانہ میں ایک ”ہکسوس” (حق شاشو چرواہا بادشاہ) حکومت کرتا تھا۔ مانیتھو (Manetho) نے اُس کا نام  Salatis (سلاطیس ) بتایا ہے۔اِس نام کے آخیر میں جو ”سین”ہے وہ شخصی ناموں کا یونانی لاحقہ ہے۔ اِس لاحقہ کو حذف کر نے کے بعد سفر تکوین میں پڑھو:
”یوسف ھوا ھشلیط عل ھارض ” (تکوین٤٢:٦) (٦)

”یوسف ہی اس سرزمین کا سلطان ہے۔”

اِس بیان کے ساتھ حضرت یوسف  کے ایک اور لقب کو دیکھو۔روعی ابن یشرئیل (چوبان ،اِسرائیل کی چٹان) (تکوین:٤٩:٢٤) (٧)۔سلاطیس کے فوری جانشین کا نام Bnoni (بن اونی)،حضرت بن یامین کے اُس نام سے ملتا جلتا ہے جو اُن کی ماں نے تجویز کیا تھا۔ حضرت موسیٰ  نے ایک موقع پر بنی اِسرائیل سے فرما یا تھا:

( يٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْۢبِيَاۗءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ڰ وَّاٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ  ) (المائدة:٢٠)

”اے میری قوم! اﷲ کے اِس احسان کو یاد رکھو جو اُس نے تم پر کیا ہے کہ تم میں انبیا مبعوث کیے اور تم کو ملوک بنایا اور تم کو وہ دیا جو دُنیا میں کسی اور کو نہیں دیا۔”

حضرت یعقوب کو اِسرائیل کا لقب دے کر خدا نے اُن کو بادشاہوں کے باپ ہونے کی بشارت دی اور یہ بشارت اُن کے ایّامِ حیات میں ہی پوری ہونے لگی۔ خدا نے حضرت یوسف کو مصر کی بادشاہی دی۔اُن کی اولاد نے کچھ دِنوں مصر میں اِس طرح گزارے کہ پوری قوم کا فرد فرد ایک بادشاہ تھا۔یہ کیسا نظامِ حکومت رہا ہوگا؟ اِس سوال کا جواب اپنے قیاس سے حاصل کر لیجیے کیوں کہ ذرائع معلومات نابود ہیں۔ اِن حالات کے پیشِ نظر لفظ اِسرائیل کا مطلب سمجھیے۔

اسرائیل کا مطلب

اِسرائیل کے نام کی عبرانی صورت یشرایل ہے۔یشرایل کا مطلب ہے نصرانی روایتوں اور ترجمے کے مطابق (خدا سے کشتی لڑنے والا) یا خدا کے پاس قوت پانے والا ہے لیکن یہ لفظ دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔

(١) ایل سے خدا

(٢) یشر اگر مادہ”ی ش ر ”ہے ”تو راست جانا، راست بولا”۔ اور اگر مادہ ”ش ر ہ ” ہے اور یہ فعل مضارع ہے اور( بی شاریم یشرو) کے مطابق ترجمہ کیا جاسکتا ہے تو اس کا مطلب ہے ” حکومت فرماتا ہے۔” اس لیے اسرائیل کے دو(٢) معنی ہیں:

(١)یشر ایل =  صدق اللہ  =  اللہ صادق  =  خدا سچا ہے۔

(٢)یشرایل =  للہ الملک =  اللہ مالک ، اللہ حاکم  =  خدا ہی حاکم ہے۔
اس خاندان میں چھوٹے چھوٹے جملوں کو جو صحیح عقیدہ ظاہر کرتے ہوں، اشخاص کے نام بنانے کا عام دستور تھا۔جیسا کہ یشمع ایل (اسماعیل) کے نام سے ظاہر ہے۔اِس نام کا عربی ترجمہ ہے:

( اِنَّ رَبِّی لَسِمِیعُ الدُّعَاء )
”بے شک میرا رب دُعا سنتا ہے۔”

 بعینہ یشرایل کا بھی ایک کلمہ عقیدہ ہے۔چونکہ یشرایل کا خطاب اس وعدہ کے ساتھ دیا گیا کہ آئندہ تمہاری نسل سے بادشاہ پیدا ہوں گے۔ اس لیے دوسرے مفہوم کو ترجیح ہے۔یشرایلکے معنی ہیں” حاکم ہے تو خدا ہی” ( اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ  ) ( یوسف  : ٤٠،٦٨)
 یہ نام اس عقیدہ کو ظاہر کرتا ہے کہ ” حکومت کا حق صرف خدا کو ہے۔” خدا ہی کی حکومت ہونی چاہیے۔ بادشاہوں کو اپنی مرضی سے نہیں بلکہ خدا کے حکم کے مطابق حکومت کرنی چاہیے۔

بنو اِسرائیل مصر میں

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں مہذب دُنیا ، عرب کے قرب وجوار میں محدود تھی۔دِجلہ وفرات کے دوآبہ میں سومیریوں کا دَور ختم ہو کر سامیوں کا دَور شروع ہوگیا تھا۔مصر پر بنو حام حکومت کرتے تھے۔مصر و عراق کے درمیان ارضِ کنعان واقع تھی جو عراق اور مصری دونوں تمدنوں سے متاثر تھی۔ریگستانِ عرب کے جنوب میں اِن دونوں تمدنوں سے الگ تھلگ یمنی تمدن ترقی پارہا تھا۔ عراق، کنعان،مصر اور جنوبی عرب کے تمدنوں میں بڑا فرق تھا لیکن یہ تمام قومیں شرک و بت پرستی میں یکساں منہمک تھیں۔ حضرت ابراہیم  ،عراق کے ایک شہر میں پیدا ہوئے ،آپ نے اپنے وطن میں توحید کی تعلیم شروع کی لیکن قوم نے آپ کی تعلیم قبول نہ کی،آپ کو ہجرت کرنی پڑی’اور آپ کنعان میں آبسے۔آپ نے اور آپ کے بھتیجے حضرت لوط  نے اِس علاقہ میں توحید کی تعلیم شروع کی،لیکن صرف معدودے چند افراد آپ کو ملے۔

اﷲ نے آپ کو دو فرزند دیے ، اسماعیل اور اسحاق۔ حضرت اسماعیل کو آپ نے جنوب سے شمال کو جانے والے تجارتی قافلوں کے ایک اہم مرحلے کے پاس بسایا، جس کو اب ہم مکّہ کہہ سکتے ہیں۔حضرت اسماعیل  اور اُن کے فرزند ریگزارِ عرب اور جنوبی عرب کے لوگوں کی اِصلاح و ہدایت پر مامور رہے۔کنعان میں جو کہ عراق و مصر کے تمدنوں کا سنگم تھا،حضرت ابراہیم  ،حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب، تین  پُشتوں نے خدا کا پیغام سنایا۔٢١٥ برسوں کی جدوجہد کے باوجود اِس دیار میں کسی نے توحید کی تعلیم قبول نہ کی اور اِس لیے قبول نہ کی کہ یہ انبیا حاکمانہ اقتدار نہیں رکھتے تھے۔ جنوبی عرب کی طرف حضرت اسماعیل کی کوششیں کامیاب ہورہی تھیں۔عراق سے حضرت ابراہیم  مایوس ہو چکے ،کنعان میں دوسو برس رائیگاں گئے۔اِس لیے اب خدا نے اپنے پیغام کی تبلیغ کے لیے مصر کو چُنا اور ایسے اسباب پیدا کردیے کہ سارا خاندانِ یعقوب مصر میں جابسا اور وہاں ٤٣٠ برس مقیم رہا۔

عہدِ موسیٰ

ولادت موسیٰ علیہ السلام سے پیشتر مصر میں اِنقلاب ہوا۔ہکسوس کا خاتمہ ہوگیا۔نئی حکومت قائم ہوئی،اُس نے بنی اِسرائیل پر سخت مظالم کیے۔فرعون کی بد قسمتی کہیے کہ اُسے پیدائش سے پہلے ہی نسلوں کو مار ڈالنے کا وہ طریقہ نہیں معلوم ہوا تھا جسے یورپ اور امریکا کے غلامانِ بے دام اپنے پورے حاکمانہ اقتدار کے زورسے ہندوستان اور پاکستان میں رائج کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہاں کے لوگ توانا اور عمدہ نسل کے پیدا کرنے کی طاقت سے محروم ہوجائیں اور یورپ اور امریکا کو پہلے کالے امریکیوں اور کالے آسٹریلیوں کی طرح ہم کو بھی نیست و نابود کر کے ہماری سرزمین پر اپنی نسل پھیلانے کے مواقع مل جائیں،چونکہ فرعون کو یہ طریقہ معلوم نہ تھا’ اِس لیے اُس نے بنی اِسرائیل کو پیدا ہوتے ہی قتل کردینے کی تجویز سوچی اور اُس پر عمل درآمد بھی کرنا شروع کیا لیکن خدا نے کمزوروں پر احسان کرنے اور مقبوضاتِ فرعون میں سے ایک بڑے حصّے پر اِن کمزوروں کو وارِث بنانے کا اِرادہ کیا (سورہ قصص ،آیت:٥) اَور اِس کام کی تکمیل کے لیے حضرت موسیٰ کو مبعوث فرمایا۔اُن دِنوں وہ سرزمین جس میں بعد میں بنو اِسرائیل آباد ہوئے فراعنہ مصر کے مقبوضات میں شامل تھی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصّہ سے قرآن پاک کا بڑا حصّہ بھرا ہوا ہے ،اُن کے زمانے کے جس قدر حالات ضروری ہیں اُن کو اختصار کے ساتھ نقل کیا جاتا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عمر شریف ‘بعثت کے وقت ٤٠ برس کی تھی۔٨٠ برس کی عمر تک آپ نے مصر میں رہ کر بنو اِسرائیل کو 
منظم کیا اور فرعون اور قومِ فرعون کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کی۔ فرعون جب راہِ راست پر نہ آیا تو آپ نے فرعون سے درخواست کی کہ ہم کو ملکِ مصر سے نکل جانے کی اجازت دی جائے۔ فرعون کو خوف تھا کہ یہ لوگ مصر سے جب باہر جائیں گے تو یقینا فرات و مصر کے درمیانی علاقہ پر قابض ہوجائیں گے،اِس لیے اُس نے بنی اِسرائیل کو ملک سے نکل جانے کی بھی اجازت نہ دی۔لیکن ا ﷲ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے فرعون کی اسکیم کو ناکام کردیا اور فرعون اور اُس کا پورا لشکر جس میں زیادہ تر اسی علاقہ کے لوگ تھے جس میں بنو اِسرائیل بعد میں آباد ہوئے،سمندر میں غرقاب ہوگئے اور بنو اِسرائیل پار اُتر آئے۔

مولانا ابو الجلال ندوی کا یہ غیر مطبوعہ مضمون ہمیں ان کے نواسے جناب یحیٰ بن زکریا صدیقی نے دیا ہے جس کے لیے ادارہ ” الواقعة ” ان کا شکر گزار ہے ۔ اس میں بعض حواشی م.ص .ف.رفعت صاحب کے قلم سے ہیں ۔ جس کی نشاندہی اسی مقام پر کردی گئی ہے ۔ (ادارہ الواقعۃ)

حواشی
(1)         عہد نامہ قدیم کے عربی ترجمے میں یہ آیت (یَشُوع، ١٠:١٣) میں اِس طرح درج ہے: أَلَیْسَ ھٰذا مَکْتُوبَاً فِ سِفْرِ یَاشَرَ” ]رفعت[

(2)         عہد نامہ قدیم کے عربی ترجمے میں یہ آیت (سفر صموئیل الثانی ١:١٨ ) اِس طرح درج ہے: ”وَ قَالَ أن یَتَعَلَّمَ بَنُو یَہُوذَا نَشِیدَ أَلْقَوسِ ھُوَ ذَالِکَ مَکْتُوب فِی سِفْرِ یَاشَرَ ] رجوع کریں ص:٤٨٣، الکتاب المقدس ،طبع ”دار الکتب المقدس فی شرق الأوسط”۔سال اشاعت:١٩٩٢ء ] [رفعت[

(3)         ”سفر ہایاشار” کا انگریزی ترجمہ ١٨٨٧ء میں جے۔ایچ۔پیری اینڈ کمپنی نے سالٹ لیک سٹی، ریاست ہائے متحدہ امریکا سے شائع کیا تھامترجم کا نام درج نہیں ہے۔ حضرت یعقوب کا اولاد کا ذکر باب ٣٦میں صفحات ١٠٠۔١٠١ میں درج ہے۔اس سے قبل اِس صحیفہ کا عبرانی متن اور لاطینی میں ترجمہ لندن سے ولیم اینڈ نارگیٹ کی جانب سے١٨٥٧ء میں شائع کیا گیاتھا۔ مصحح اور مترجم کا نام ہے ‘یوہان ولیم ڈونالڈ سن۔]رفعت[

(4)         سفرِ تکوین کے جامع نے موحدوں اور مشرکوں کی متضاد روایتوں کو جمع کردیا ہے۔تکوین (باب:٣٥) کی روایت کے مطابق یہ لقب مقام لوز کے بیتِ ایل میں خدا نے حضرت یعقوب کو دیا۔لیکن باب:٣٢ کی روایت یہ ہے کہ ایک رات ایک مقام میں جسے بعد میں چل کر حنوایل (خدا کاسامنا) کہا گیا،ایک شخص رات بھرحضرت یعقوب  سے کشتی لڑتا رہا۔اُس نے دیکھا کہ وہ حضرت یعقوب  پر غالب نہیں آسکا تو اُس نے آپ کی عرق النسا مڑوڑ دی،جس کی وجہ سے آپ لنگڑے ہوگئے۔ یہ ہے وجہ اِس بات کی کہ بنی اسرائیل اُس نس کو جو ران کے اندر ہوتی ہے نہیں کھاتے کیونکہ اس نے یعقوب کی و ہ نس مڑوڑ دی تھی۔یہ شخص جب یعقوب کے مقابلہ سے عاجز آگیا تو اُن سے اجازت چاہی کہ مجھے جانے دو۔ حضرت یعقوب  نے کہا تجھ سے برکت لیے بغیر تو چھوڑوں گا نہیں، مجبوراً اُس نے برکت دی اور آپ کا لقب اِسرائیل تجویز کیااور وجہ بتائی کہ:”  شریت عم الوہیم و عم انوشیم و توکل ” (تکوین:٣٢:٢٨) ”تو نے خدا کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ زور مارا ،اور تو ہی غالب رہا۔”

(5)         عہد نامہ قدیم کے عربی ترجمے میں یہ آیات (سفر تکوین ٣٥:١٠۔١١) اِس طرح درج ہیں:”وَقَالَ لَہُ اﷲُ أسْمُکَ یَعْقُوبُ لَا یُدْعَی أسْمُکَ فِیمَا بَعْدُ یَعْقُوبَ بَلْ یَکُونُ أسْمُکَ اِسْرَائِیلَ فَدَعَا أسْمَہُ اِسْرَائِیلَ۔ وَقَالَ لَہُ اﷲُ أَنَا أﷲُ الْقَدِیرُ۔أَثْمِرْ وَ أکْثپرْ۔ؤُمَّة وَجَمَاعَةُؤُمَمٍ تَکُونُ مِنْکَ وَمُلُوک سَیَخْرُجُونَ مِنْ صُلُبِکَ۔”        ص:٥٨، الکتاب المقدس ،طبع ”دار الکتب المقدس فی شرق الأوسط” سال اشاعت:١٩٩٢ء  ]رفعت[

(6)         عہد نامہ قدیم کے عربی ترجمے میں یہ آیت (سفر تکوین ٤٢:٦)، اِس طرح درج ہے:”وَکَانَ یُوسُفُ ھُوَ الْمُسَلَّطُ عَلَی الْأَرْضِ”ص:٧١، الکتاب المقدس ،طبع ”دار الکتب المقدس فی شرق الأوسط”۔سال اشاعت:١٩٩٢ء  ]رفعت[

 (7)        عہد نامہ قدیم کے عربی ترجمے میں یہ آیت (سفر تکوین ٤٩:٢٤)، اِس طرح درج ہے:”۔۔۔ ھُنَاکَ مِنَ الَّاعِ صَخرِ اِسْرَائِیلَ”ص:٨٥، الکتاب المقدس ،طبع ”دار الکتب المقدس فی شرق الأوسط”۔سال اشاعت:١٩٩٢ء  ]رفعت[
(جاری ہے) 

یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012 سے ماخوذ ہے۔

اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھے گا، شاہ فیصل شہید


الواقعۃ شمارہ نمبر ٢ 

سعودی عرب کے شہید فرمانروا شاہ فیصل کا ایک تاریخی انٹرویو

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل شہید نے ستمبر١٩٧٠ء میں (جب اردن میں عرب بالخصوص فلسطینی مجاہدین کی نسل کشی کی جارہی تھی) امریکی رسالے” رانٹر پلے” کے نمائندے ٹام دمان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ” مقبوضہ عرب علاقوں اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے اسرائیل کے خلاف جہاد کیا جائے۔ انہوں نے اسرائیل کی ہٹ دھرمی، غرور اور توسیع پسندانہ عزائم کی بنا پر عربوں اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت کو خارج از امکان قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک اسرائیلی جارحیت کی روک تھام اور اسے معقول رویہ اختیار کرنے کے لیے طاقت استعمال نہیں کی جائے گی ، اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں مفاہمت نہیں ہوسکتی۔شاہ فیصل نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے اسرائیل پر معقول رویہ اختیار کرنے اور دوسرے عرب علاقے خالی کرنے کے لیے دبائو نہ ڈالا تو عوام مجھے مجبور کردیں گے کہ میں دوسرے عرب سربراہوں کی طرح روس کی حمایت حاصل کروں۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تمام مسائل اور مشکلات کی وجہ کمیونزم اور صہیونیت ہیں۔ شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ سعودی عرب بیت المقدس کے بارے میں کوئی سودے بازی قبول نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر ان تمام لوگوں کے لیے صدیوں کھلا رہا جن کے مقامات مقدسہ وہاں واقع ہیں، اس لیے اب اسے بین الاقوامی شہر قرار دینے کا کوئی جواز نہیں۔ شاہ فیصل نے یہ بات اعلانیہ طو رپر کہی کہ ہم فلسطینی حریت پسندوں کی بھرپور حمایت اور مدد کرتے ہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں جو اپنے وطن کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں، انہیں طاقت کے بل پر ان کے گھروں سے نکال پھینکا گیا ہے،اس ظلم کے خلاف ان کی جدوجہد جائز اور منصفانہ ہے۔”

(بحوالہ: روزنامہ ”جسارت” کراچی مورخہ ٢ ستمبر١٩٧٠ء )