ایمان، فریبِ نفس و نظر کے پردے میں – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

جس طرح تمناؤں کا سورج کبھی مایوسی کے آسمان پر طلوع نہیں ہوتا، اور جس طرح کسی مردہ جسم میں دل زندگی بن کر نہیں دھڑکتا، بالکل اسی طرح اعمال صالحہ کا بیج کبھی نفاق کی سر زمین پر بار آور نہیں ہوتا۔ ایمان ، یقین محکم کا دوسرا نام ہے، وہ خوف کے حصار اور مایوسی کے گرداب میں کبھی پروان نہیں چڑھ سکتا۔  پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

آئیے ! خاتمہ خیر کا نوحہ پڑھ لیں – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 61-62، جمادی الثانی و رجب المرجب 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ابھی کل کی بات تھی کہ ہمارے قلم نے حلب کی سر زمین پر آتش باری کا نوحہ لکھا تھا اور آج ادلب کی سوگوار فضا کا المیہ در پیش ہے۔ ارباب آئین و ریاست ہوں یا اصحاب منبر و محراب یا پھر ہنر مندانِ قلم و قرطاس کسی کے پاس فرصت نہیں کہ دم توڑتی لاشوں اور خوف و ہراس کی سراسیمہ فضاؤں پر ایک حرف تعزیت ہی ادا کریں۔ نغمہ شادی کے متوالوں کے پاس نوحہ غم کی فرصت کہاں ؟ پڑھنا جاری رکھیں

حلب نہیں، امت مسلمہ کا قلب جل گیا ہے


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

شام کی سر زمین مسلمانوں کے خون سے سرخ آلود ہوگئی۔ کبھی یہاں خوب صورت باغات تھے اور لہلہاتے گلستاں۔ لیکن اب یہ اجڑا دیار ہے، جہاں گلتی سڑتی لاشوں کی بو اور مسمار ہوتی عمارتوں کا ملبہ ہے۔ آئندہ نسلیں جب کبھی یہاں فصل کی بوج بوئیں گی تو مجھے یقین ہے اس فصل میں شامی مسلمانوں کے خون کی بو بھی در آئے گی۔ سنا ہے کہ یہاں زیتوں کے باغات بھی ہوا کرتے تھے اور اپنے معیار کے اعتبار سے یہ دنیا کے عمدہ ترین زیتون ہوتے تھے لیکن آئندہ نسلیں جب زیتون کے باغات کی آبیاری کریں گی تو کچھ بعید نہیں کہ یہاں کے زیتون کے رنگ میں مسلمانوں کے لہو کی آمیزش بھی ہو۔

فرعون مر گیا ، مگر فرعون محض ایک شخص نہیں تھا جو مر جاتا، وہ درندگی کی علامت تھا۔ انسانی حیوانیت کی معراج تھا۔ بچوں کو قتل کرنے کی جو رسم اس نے شروع کی تھی آج کی اس مہذب دنیا میں اس کے پیروکار اسی فرعونی رسم کا احیاء کر رہے ہیں۔ بشار الاسد کو بشارت ہو دنیا اسے کبھی نہیں بھولے گی۔ وہ اسلامی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کی فرعونیت، بہیمیت اور درندگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اس نے تاریخ میں اپنے لیے اسی کردار کو منتخب کیا ہے تو اسے اسی عنوان سے یاد بھی رکھا جائے گا۔

زمین پر گرنے والاخون اگر مسلمانوں کا ہو تو نہ حقوق انسانی کے سب سے بڑے علمبردار امریکا کو کوئی تکلیف ہوتی ہے اور نہ ہی اشتراکیت زدہ روس کو۔ اقوام متحدہ بھی ایسے موقع پر خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔ مظلومانِ شام کی بربادی میں ان سب کا مشترکہ کردار ہے۔

اور داعش کا خلیفہ کہاں ہے !! تاریخ کا وہ لمحہ یاد کرو، جب تاتاریوں میں گھری ایک عورت وا معتصماہ پکارتی ہے اور عباسی خلیفہ معتصم باللہ اس کی مدد کے لیے نکل پڑتا ہے۔ شام کی کتنی ہی مظلوم عورتیں اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے ہی ہاتھوں ابدی نیند سو گئیں مگر خلافت اسلامیہ کے اس دعویے دار خلیفہ کی رگ حمیت نہ جاگی۔

اور وہ جو ہر سال القدس کی آزادی کی لیے ریلیاں نکالتے ہیں۔ اسی القدس پر غاضبانہ قبضہ کرنے والے اسرائیل کے ساتھ مل کر حلب کی سر زمین پر مسلمانوں کا لہو بہا رہے ہیں۔

تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو

افسوس اس بات کا نہیں کہ حلب جل گیا افسوس تو اس بات کا ہے کہ امت مسلمہ کا قلب جل گیا ہے۔ آج ایک ارب مسلمانوں میں ایسے دو ہاتھ بھی نہیں جو بارگاہ الٰہی میں اٹھیں تو خالی نہ لوٹائے جائیں اور ایسی ایک زبان بھی نہیں جس کی صدائے دل سوز عرش الٰہی تک پہنچ کر مرتبہ اجابت حاصل کرسکے۔

یہ سب ہماری بد عملی کی سزا ہے۔ ہم بد عمل ہیں اسی لیے "وھن” کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ لیکن وہ سب جو آج مظلوم مسلمانوں کے لہو سے اپنے ہاتھ رنگ رہے ہیں۔ خواہ شام و عراق میں ہوں یا فلسطین و کشمیر میں اور یا میانمار و فلسطین میں، بخوبی جان لیں جس دن ہم نے اپنے بد عملی سے توبہ کرلی وہ دن ان کے لیے انتہائی سخت دن ہوگا۔ ایک ایسا دن جسے چشم فلک نے آج تک نہیں دیکھا۔

اے اقوام تہذیب کے علمبردارو !

اے مساوات انسانی کے دعویدارو !

اور اے امت مسلمہ کی وحدت کا پرچار کرنے والے منافقو!

ڈرو اس دن سے جب ہم اپنے سر نہیں روح اللہ کی بارگاہ میں جھکا دیں گے۔

ڈرو اس دن سے جب ہم اپنے نفسوں کی نہیں صرف اللہ واحد قہار کی پرستش کریں گے۔

ڈرو اس دن سے جب زندگی ہمارے لیے بوجھ اور موت اللہ سے ملاقات کا ذریعہ بن جائے گی۔

ڈرو اس دن سے جب تمہارے پاس ہمیں ڈرانے کے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا۔

کیونکہ وہ دن ہماری تاریخ بھی بدل دے گا اور تمہاری تاریخ بھی۔

٭-٭-٭-٭-٭

دجال کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے


الواقعۃ شمارہ : 53 – 54 ، شوال المکرم و ذیقعد 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

حادثے اس تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ واقعات کا اعتبار اٹھ سا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جسے زمانہ پرورش کر رہا تھا برسوں ، وہ حادثے اب رونما ہو رہے ہیں۔ عالم اسلام پر ہر طرف سے یلغار ہی یلغار ہے۔ چمنستانِ اسلام کا کونسا گوشہ ہے جو درد و الم کی سسکیوں اور آہ و غم کی صداؤں کے شور سے بوجھل نہیں۔ وہ کونسی فصل ہے جس کی آبیاری خونِ مسلم سے نہیں ہو رہی۔ پڑھنا جاری رکھیں

ماہِ رمضان المبارک کا تقدس اور ہم


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ہمارا معاشرہ اخلاقی انحطاط و زوال کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ہمارے لیے دین رسم سے نکل کر مالِ تجارت بن چکا ہے۔ ہم اللہ کے ساتھ تعلق کی بھی قیمت لگانے لگے ہیں۔ اپنی عبادتیں بھی بیچنا چاہتے ہیں۔ اپنے شوقِ زر پرستی کے اظہار کے لیے ہم نے دین کو بھی مشقِ ستم بنا ڈالا ہے۔ انحطاط اور زوال ایک دم سے پیدا نہیں ہوتے۔  پڑھنا جاری رکھیں

اللہ کے ساتھ تجارت


الواقعۃ شمارہ 50 ، رجب المرجب 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ایسا پُر آشوب دور پہلے کبھی نہیں آیا۔ مسلم امہ  بحیثیت مجموعی ہر اعتبار سے زوال پذیر ہو گئی ہے۔ سیاسی زوال سے بھی کہیں بڑھ کر جس المیہ کا ہمیں رونا ہے وہ ہمارا روحانی و اخلاقی انحطاط ہے۔ ایک قوم یا ملت ہر قسم کے مادی وسائل سے محروم ہوجانے کے بعد دوبارہ انہیں حاصل کر سکتی ہے مگر اخلاقی جواز کھو دینے اور اپنی اصل کو فراموش کردینے کے بعد قوم اپنی شناخت ہی کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد کوئی ترقی یا کامیابی کچھ معنی نہیں رکھتی۔

افسوس اس دور جدید میں جب کہ الفاظ اپنی معنویت کھو رہے ہیں دعوت حق کے اسرار بھی کہیں دفن ہو گئے ہیں۔ ایک واضح اور انتہائی معلوم حقیقت بھی ہماری بصیرتوں کے لیے حجاب بن گئی ہے۔

دنیا نے ہر دور میں داعیانِ حق پرست کی نا قدری کی ہے۔ مگر وہ جس بازارِ جنس کے خریدار ہیں اس کی تو دنیا ہی مادیات کی سطح سے کہیں بلند ہے۔

ان اللہ اشتریٰ من المؤمنین انفسھم و اموالھم بان لھم الجنۃ  ( التوبة: ١١١ )

"بلا شبہ اللہ نے مومنین کی جانوں اور ان کے مالوں کو نعیم اُخروی کے بدلے خرید لیا ہے۔”

کوئی تاجر ہو تو اسے نفع ذات مطلوب ہو۔ کسی کو حصولِ مادیت کی خواہش ہوتو اسے کھونے کا خوف بھی ہو۔ کسی کو اقتدار و سطوت کی تمنا ہو تو ناکامی کے اندیشے بھی ستائیں ، مگر یہاں کا تو عالم ہی دوسرا ہے۔

و من الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ ( البقرة: ٢٠٧ )

"اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کی رضا کی جستجو میں اپنی زندگی فروخت کر دی ہے۔”

ایک شخص جب اللہ کی غلامی اختیار کر لیتا ہے اور اس کے کارخانہ دعوت کا ملازم بن جاتا ہے تو اس سے صرف ایک ہی چیز مقصود و مطلوب ہوتی ہے ، وہ ہے — اخلاص۔

اخلاص، حق پرستی کی راہ کی سب سے بڑی اور مطلوب حقیقت ہے۔ اللہ سے تجارت کا کوئی خواہشمند اخلاص کی اس قیمت کو ادا کیے بغیر کبھی اللہ سے تجارت نہیں کر سکتا۔ وہ اگر حق پرستی کی راہ میں آنے والی مشکلات سے اپنا دامن چھڑانا چاہتا ہے یا بذلِ مال و متاع سے گریز کرتا ہے یا زندگی کی رعنائیاں موت کی وحشت ناکی پر غالب آنے لگتی ہیں تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے دل کی ساری آرزوئیں استوار کرے مگر ابتغاء مرضات اللہ کے بازار میں اپنے نرخ کے بالا ہونے کی امید نہ رکھے ۔کہ

روبازی کن عاشقی کار تو نیست

ایثار و قربانی، ایمان و عزیمت کی راہ کی سب سے بڑی اور روشن مثال حضرت صدیق اکبر کی مقدس زندگی میں ظاہر ہوتی ہے ۔ اپنا سب کچھ لٹا کر کاشانہ نبوت میں حاضر ہوتے ہیں۔ سوال ہوتا ہے ما ابقیت لاهلک ؟ اپنے اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو ؟ عرض کیا : ابقیت لهم الله و رسوله ! ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں۔

دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی

دیوانہ تو ہر دو جہاں را چہ کند ؟

یہ درست ہے کہ اس مقام رفیع تک بڑوں بڑوں کو رَسائی نہیں مگر ان کےمقدس نشانِ قدم کی پیروی تو لازم ہے۔

اللہ پر یقین محکم ہی ہے جو اللہ پر توکل کو جنم دیتا ہے۔ لوگوں کو اپنے فانی مالکان پر بھروسہ ہو سکتا ہے تو اللہ کو اپنا نفس فروخت کرنے والا اپنے اس غیر فانی مالک پر اپنے توکل کی بنیادیں کیوں نہ استوار کرے ؟

افسوس ہمیں پرودگارِ عالم کی جنت تو یاد رہی۔ مگر اس جنت کی قیمت کو بھول گئے۔ ہم ایمان کے ساتھ مشروط اس تجارت کو بھول گئے ہیں جو ہم نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھتے ساتھ ہی اللہ رب العزت سے کیا تھا۔

امت مسلمہ خواہ مادیت کی کیسی ہی پستی میں جا گرے اگر اللہ رب العزت سے اپنی تجارت کا ایفا کرنے کا عزم کرلے تو دنیا کی ہر طاقت کو سرنگوں کر سکتی ہے۔ کیونکہ اس تجارت میں کھونے کا کوئی خوف نہیں صرف پانے کا یقین ہے اور پانے کا یقین ہر خوف کو مٹا دیتا ہے۔ اور معلوم ہے کہ جس دل میں خوف نہ ہو اسے کوئی تسخیر نہیں کر سکتا۔

ایک طاقت ور اور مضبوط پاکستان


اس وقت عالمی دنیا کے حالات بہت تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں۔ صورت حال میں کسی درجہ ٹھہراؤ یا یکسانیت نہیں ہے۔ بالخصوص پیرس حملہ اور روس ترکی تنازع کے بعد سے اسلامی دنیا کے حالات میں مزید ابتری آئی ہے۔

پاکستان عالم اسلام کا اہم ترین ملک ہے ، اور اسلامی دنیا کی تبدیل ہوتی صورت حال سے بےگانہ رہنا بھی چاہے تو رہ نہیں سکتا کیونکہ تبدیلیاں اسے بھی تبدیل کر کے رہیں گی۔ عالمی سازشوں کے تانے بانے پاکستان ہو کر ہی گزرتے ہیں اور یہ عالمی سازش کار پاکستان کے لیے کیسے جذبات رکھتے ہیں وہ کسی اہلِ نظر سے مخفی نہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں