مقامِ عبرت یا موجبِ بصیرت


الواقعۃ شمارہ: 101 – 103، شوال المکرم تا ذی الحجہ 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

حوادثِ مسلسل میں ہجومِ افکار کی بھی اپنی ہی ایک دنیا ہے۔ کبھی ناکامی کے اندیشے ڈراتے ہیں تو کبھی کوئی امید زندگی بن جاتی ہے۔ جس طرح فرد کی زندگی احساس و جذبات کی ایک مکمل دنیا ہے اسی طرح قوموں کی زندگی میں حوادث بھی آتے ہیں اور افکار بھی۔ اندیشے بھی ڈراتے ہیں اور امیدیں بھی پروان چڑھتی ہیں۔

جس طرح ایک انسان کی زندگی میں جہد للبقاء کی ایک ایسی منزل آتی ہے کہ جہاں ناموسِ ملی پر سمجھوتے کے ساتھ جینا یا غیرت ایمانی کے ساتھ مر جانے کی راہ کا انتخاب نا گزیر ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح قوموں کی زندگی میں بھی یہ مرحلہ آتا ہے۔ جب وقت کا منصف بتاتا ہے کہ تمہاری فتوحات کا موسم چلا گیا، اب یا تو مٹ جاؤ یا پھر غیرت ملی کو بچا لو۔ اور ایک تیسری راہ بھی ہے جو کم ہمتوں اور مصلحت کیشوں کی ہمیشہ اوّلین ترجیح رہی ہے، کہ کسی بھی طرح جی لو، خواہ ایمان کا سودا کرنا پڑے یا غیرت ملی کو قربان کرنا پڑے۔

یہاں کم ظرفوں اور کم ہمتوں کے راہِ انتخاب پر مکالمہ مقصود نہیں۔ یہ دنیا کم ہمتوں کو ٹھوکروں پر رکھتی ہے۔ یہ لوگ جی کر بھی مر چکے ہیں، اور ان کے متعفن جسم کی بو آج بھی تاریخ کے صفحات میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان کے نفاق نے انھیں ہمیشہ غیرتِ ایمانی کی موت میں جسمِ ظاہر کی زندگی دکھائی ہے اور انھوں نے ہمیشہ منافقت کو مصلحت اور بزدلی کو حکمت کے لباسِ فریب سے سنوارا ہے۔

اصل زندگی ان ہی کی ہے جنھوں نے بطلان و عصیان کے مقابلے میں حق پرستی کی راہ منتخب کی۔ وقت کے فرعونوں کا للکارا اور نماردہ عالم کو آنکھیں دکھائیں۔ اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کیا اور اس کی صداقت کی راہ میں اپنی جانیں لڑا دیں اور اس یقین کے ساتھ کہ جو کوئی اللہ، اس کے رسول اور اہلِ ایمان کے ساتھ ہو وہی ہمیشہ غالب ہوگا۔ وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٗ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّـٰهِ هُـمُ الْغَالِبُوْنَ (المائدۃ: 56)۔

دنیائے فانی کی آزمائشیں ہر دور اور زمانے میں آئی ہیں اور آتی رہیں گی۔ مگر ایک صاحبِ ایمان کی غیر فانی صداقت کی راہ اس سے کہیں بلند ہے کہ وہ آزمائشوں سے گھبرا کر اپنے مقصد سے منحرف ہو جائے۔ اس کا یقین اسے بتاتا ہے کہ جو کوئی بھی راہِ الٰہ سے منحرف ہوگا مٹ جائے گا، اس کے اعمال ضائع ہوں گے اور زندگی اکارت جائے گی۔ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَـاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۚ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (البقرۃ: 217)۔

دنیا بدل رہی ہے، بالخصوص اسلامی دنیا۔ سطح ارضی پر کھینچی گئی لکیروں میں تبدیلی کا وقت تیزی سے آ رہا ہے۔ چشم بصیرت وَا ہو تو اسلامی دنیا کے نقشے سے ٹپکتا ہوا لہو بھی نظر آ سکتا ہے اور سسکتی ہوئی زندگی کی پکار بھی سنائی دے سکتی ہے۔

تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے، لیکن اس کا فیصلہ کبھی نہیں بدلتا۔ بنی نوع انسان کی تاریخ کا فیصلہ کن باب کھل چکا ہے۔ ملتِ اسلامیہ کے سمندر میں تلاطم بپا ہے۔ موت کے خوف میں زندگی کی خواہش اور ظلم کے سایے میں عدل کی امید دم توڑ رہی ہے۔ اسلام کی تاریخ میں اگر خالد کی تلوار، ایوبی کی یلغار اور ابن زیاد کی للکار ہے تو وہیں سقوطِ بغداد، دہلی ، ڈھاکہ و قدس کی خونیں داستانیں بھی ہیں۔

وقت کا پہیہ ایک بار پھر امت مسلمہ کو اسی مقام پر لے آیا ہے جہاں ہمیں یا تو تلوار، یلغار اور للکار کی راہ کا انتخاب کرنا ہے یا پھر سقوط و زوال کی ذلت برداشت کرنی ہے۔ اب صرف اسلاف کی عظمتوں کی داستانیں سنا کر کام نہیں چل سکتا۔ یہ وقت اپنی روایات اور نسب کو گلے لگا کر سحر انگیز فسانوں کو تیار کرنے کا وقت نہیں ہے کہ ہم ماضی کے اسیر بن کر مستقبل میں قدم نہیں رکھ سکتے۔

بکہ کی وادیوں میں فاران کی چوٹیوں سے صدائے توحید بلند ہو رہی ہے اور یثرب کے غیر فانی بادشاہ کی فوجیں آراستہ ہو رہی ہیں۔ ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے کہ قوموں کی تاریخ میں یہ مقامات حکمتِ الٰہی کا ایک دروازہ ہے، جو کھلتا ہے اس لیے کہ بہروں کو سنا سکے اور اندھوں کو دکھا سکے۔ جو کسی کے لیے مقامِ عبرت بنتا ہے اور کسی کے لیے موجب بصیرت۔

کرونا وائرس، لاک ڈاؤن اور نور و ظلمت کی دنیا – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 98 – 100، رجب المرجب تا رمضان المبارک 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زندگی فریبِ نفس و نظر کے سوا کچھ بھی نہیں۔ قریب ہے کہ "متاع الغرور” کی حقیقت آشکارِ عالم ہو جائے۔ کتنی ہی امیدیں ہیں جو دم توڑ رہی ہیں اور کتنے ہی خواب ہیں جو بکھر چکے ہیں۔ دل آرزوؤں کے مدفن بن رہے ہیں اور حسرت نا تمام کے داغ انسانی زندگی کا فسانہ بیان کر رہے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

سلسلہ تنزیلِ وحی کا ظہورِ کامل – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 96 – 97، جمادی الاول و جمادی الثانی 1441ھ

اشاعت خاص: سیدنا ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اللہ رب العزت نے سلسلہ تنزیلِ وحی کا اختتام رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی پر کیا۔ اسی لیے انھیں خاتم النبیین بنا کر بھیجا۔ رسول اللہ ﷺ تمام صفاتِ نبوت کے جامع اور مراتب رسالت کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں۔ وہ اولین و آخرین کے رسول ہیں۔ انھیں جو شریعت عطا کی گئی وہ گزشتہ شریعتوں کی ناسخ، ابدی اور پوری انسانیت کے لیے ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

اشارات – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 94 – 95، ربیع الاول و ربیع الثانی 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

جس طرح کسی کی رواداری بے جا ہے اسی طرح کسی کا ہراس بھی غلط ہے۔ تم اپنی بزدلی کو وقت کے جبر کا نام نہیں دے سکتے۔ تاریخ کا بے لاگ فیصلہ کو پڑھنا جاری رکھیں

بھارت کا انتہا پسندانہ رویہ – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 88 – 89، رمضان المبارک و شوال المکرم 1440ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا اور پاکستان کا قیام کبھی عمل میں نہ آتا اگر خود انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو تقسیم ملک کے لیے مجبور نہ کیا ہوتا۔ پاکستان کا وجود متعصبانہ ہندو ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ مسلمان دنیا کے کسی بھی مذہب کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ بہتر طریقے سے کسی بھی تکثیری سماج کا حصہ بننے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ مسلمان بخوشی اپنی دینی روایات کے ساتھ بھارت میں ہندوؤں کے ساتھ مل کر رہ سکتے تھے، جیسا کہ صدیوں سے رہ رہے تھے، وہ بھی ایسی صورت میں جب کہ وہ اقتدار پر فائز رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا ہندتو کی متعصبانہ ذہنیت بیدار ہو گئی۔
قیام پاکستان کے قریبی پس منظر کو دیکھیں تو 1946ء میں بہار میں ہونے والے مسلم فسادات نے قیام پاکستان کے مطالبے کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کروادیا۔ پھر تقسیم کے موقعہ پر جس طرح مشرقی پنجاب کے اضلاع میں مسلمانوں خون بہایا گیا اس نے ثابت کر دیا کہ ہندو مسلمانوں کو قبول کرنے کے لیے دل سے تیار نہ تھے۔
تقسیم ہند کو 70 برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر افسوس ہندوئوں کا مذہبی جنون ہنوز برقرار ہے۔ بھارت میں اس وقت ہندوؤں کی واضح اکثریت ہے۔ مسلمانوں کی آبادی خود بھارتی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 14 سے 15 فیصد ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہندو ذہنیت مسلمانوں کو ایک اقلیت کے طور پر بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یقیناً ہندو مت کے ماننے والے سب ایسے نہیں ہیں۔ لیکن انتہا پسندانہ ہندتو کا فلسفہ تیزی سے بھارتی قوم کا عکاس بنتا جا رہا ہے۔ جب بار بار عوام انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والی قیادت منتخب کریں تو اس سے یہی تآثر ابھرے گا اور دنیا ہندتو کو بھارتی قوم کا نہ سہی لیکن بھارت کی اکثریتی آبادی کا بیانیہ ضرور سمجھے گی۔
مودی کی گزشتہ حکومت بھی بھارت میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر اقلیتی مذاہب کے لیے بھی انتہائی تکلیف دہ رہی۔ صرف الیکشن جیتنے کی خاطر جس طرح مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف نفرت کی فضا پیدا کی اور سرحد پار در اندازی کی کوشش کی، اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے تھے۔ مودی حکومت کو انتخابات میں واضح اکثریت کے ساتھ کامیابی مل گئی لیکن اس کامیابی نے خطے کا امن دائو پر لگا دیا۔ کامیابی کے نشے سے سرشار انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ حال ہی میں جھاڑکھنڈ میں جس طرح مظلوم تبریز انصاری کو ایک مجمع نے جئے شری رام بولنے کے لیے اجتماعی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں پولیس کی حراست میں اس کی موت واقع ہوئی اس نے نہ صرف بھارت کے امن پسند افراد کو خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ دوسری طرف امریکا جو بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر کم ہی کچھ کہتا ہے، اس کی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں بھارت میں ہونے والے انتہا پسندانہ واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تبریز انصاری کے قتل کی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جس پر بھارت کی ہٹ دھرمی اس حد تک رہی کہ اس نے اس مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دیا۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ دنیا کی انسانیت کو بیدار کرنے کے لیے کافی ہے۔ کشمیر میں ریاستی جبر و استحصال گزشتہ 70 سالوں سے جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار داد کے باوجود بھارت نے کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں دیا۔
بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ہونے والے پُر تشدد واقعات کے بعد بھارتی حکومت اس لائق ہے کہ اسے ایک دہشت گرد حکومت قرار دیا جائے۔ کم سے کم اسلامی ممالک کی مشترکہ تنظیم او، آئی، سی کو چاہیے کہ وہ اس پر اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائے۔
مودی حکومت بھارت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں تو ناکام رہی لیکن اس نے جذبات کو انگیخت کر کے قوم کو انتشار کی جس راہ پر لگایا ہے اس کا یقینی نتیجہ ہلاکت و بربادی ہے۔ بھارت میں رہنے والے انسانیت پسند افراد – خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، بالخصوص ہمارے وہ بھائی جو ہندو مت سے تعلق رکھتے اور ساتھ ہی دوسرے مذاہب کی بھی عزت کرتے ہیں اور ان کے حقوق تسلیم کرتے ہیں- کو چاہیے کہ ظلم و نا انصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اپنے معاشرے کو تباہی سے بچائیں کیونکہ ان حالات میں ان کی خاموشی پوری قوم کی یقینی بربادی کے مترادف ہے۔

دجال – مادّہ پرستوں کا خدا (اداریہ)۔


الواقعۃ شمارہ: 82 – 85، ربیع الاول تا جمادی الثانی 1440ھ

اشاعت خاص : فتنہ دجالیت

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

خواہش ضرورت بن جائے اور ضرورت کی تکمیل جنون قرار پائے۔

مذہب سے بغاوت ہو، انکارِ معبود عقیدہ بن جائے اور زندگی اس عقیدے کی عملی تفسیر قرار پائے۔

اباحیت پسندی عام ہو جائے، زندگی بے ضابطہ ہو، ہر حدود و قیود سے آزاد، اور یہی آزادی حاصلِ زندگی کو پڑھنا جاری رکھیں

امید اور مایوسی – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 80 – 81، محرم الحرام و صفر المظفر 1440ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

امید زندگی ہے اور مایوسی موت۔ جس طرح ایک شخص کے لیے اس کی اپنی زندگی میں امید کی ایک کرن زندگی کا سہارا بن جاتی اور مایوسی موت کا پیغام بن جاتی ہے، اسی طرح قوموں کی زندگی اور ان کے عروج و زوال میں بھی امید قوم کی حیات کو پڑھنا جاری رکھیں

حرمت رسول ﷺ اور ہمارا لائحہ عمل – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 78  – 79 ذیقعد و ذی الحجہ 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

مغرب ایک شدید ترین احساس کہتری کے دور سے گزر رہا ہے۔ اس کے پاس اسلام کی عظمت رفتہ کے مقابل پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں، نہ اس کے پاس سیرت محمدی کی رفعتوں کا کوئی جواب ہے۔ ہر چند برسوں میں توہین رسالت کے اقدامات اور توہین آمیز خاکے مغرب کی شکست کا ذلت آمیز اظہار ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

خون بدل، آہ بلب، اشک بمژگاں آید – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 74 – 75، رجب المرجب و شعبان 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

آج ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہمارے پاس اپنی عظمت رفتہ کو یاد کرنے کے لیے تو بیش قیمت سرمایہ موجود ہے مگر خود اپنے حال کی زبوں حالی پر اشک بہانے کے لیے اسباب و وجوہ کی کمی نہیں۔ عظمتِ رفتہ کے نقوش کتنے ہی شاندار کیوں نہ ہوں لیکن زمانہ حال کی پسماندگی کو دور نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے شاندار ماضی کو کتنا ہی آراستہ کرکے دنیا کے سامنے کو پڑھنا جاری رکھیں

امت مسلمہ کی غفلت – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

نئے عیسوی سال کی آمد کے ساتھ امت مسلمہ نئے مشکلات سے ہمکنار ہوئی۔ طاغوتی قوتوں کی پیش قدمی مسلسل جاری ہے اور امت مسلمہ کی غفلت اور سراسیمگی بدستور بر قرار۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

خاتم النبییٖن سے خاتم الامۃ تک – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 70 – 71 ربیع الاول و ربیع الثانی 1439ھ

اشاعت خاص : ختم نبوت

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اسلام میں توحید اور ختم نبوت، یہ دو ایسے عقیدے ہیں جو محض رسمی نظریات نہیں بلکہ عملی قوت کی حیرت انگیز تاثیر رکھتے ہیں۔ توحید کا تقاضا تو ہر امت اور ہر فردِ بشر سے کیا گیا اور اس میں اسلام اور مذاہب گزشتہ کی کوئی تخصیص نہیں مگر ختم نبوت کا عقیدہ صرف اس امتِ آخر سے مخصوص ہے اور سر دست یہاں اسی عقیدے سے متعلق گزارشات پیش کرنا کو پڑھنا جاری رکھیں

ایمان، فریبِ نفس و نظر کے پردے میں – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

جس طرح تمناؤں کا سورج کبھی مایوسی کے آسمان پر طلوع نہیں ہوتا، اور جس طرح کسی مردہ جسم میں دل زندگی بن کر نہیں دھڑکتا، بالکل اسی طرح اعمال صالحہ کا بیج کبھی نفاق کی سر زمین پر بار آور نہیں ہوتا۔ ایمان ، یقین محکم کا دوسرا نام ہے، وہ خوف کے حصار اور مایوسی کے گرداب میں کبھی پروان نہیں چڑھ سکتا۔  کو پڑھنا جاری رکھیں

آئیے ! خاتمہ خیر کا نوحہ پڑھ لیں – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 61-62، جمادی الثانی و رجب المرجب 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ابھی کل کی بات تھی کہ ہمارے قلم نے حلب کی سر زمین پر آتش باری کا نوحہ لکھا تھا اور آج ادلب کی سوگوار فضا کا المیہ در پیش ہے۔ ارباب آئین و ریاست ہوں یا اصحاب منبر و محراب یا پھر ہنر مندانِ قلم و قرطاس کسی کے پاس فرصت نہیں کہ دم توڑتی لاشوں اور خوف و ہراس کی سراسیمہ فضاؤں پر ایک حرف تعزیت ہی ادا کریں۔ نغمہ شادی کے متوالوں کے پاس نوحہ غم کی فرصت کہاں ؟ کو پڑھنا جاری رکھیں