آرمینیہ کی جنگ سے متعلق کتب حدیث میں کیا ہے ؟


الواقعۃ شمارہ: 104 – 106، محرم الحرام تا ربیع الاول 1442ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

روایت:۔

عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ قال: "اذا خیرتم بین الأرضین فلا تختاروا أرمینیۃ فان فیھا قطعۃ من عذاب اللہ تعالیٰ۔”۔

تخریج:۔

۔”المستدرک علی الصحیحین” (کتاب الفتن والملاحم رقم : 8427، بتحقیق: مصطفیٰ عبد القادر عطا، طبع: دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)۔

ترجمہ:۔

۔”جب تم دو زمینوں کے مابین انتخاب کرو تو آرمینیہ کا انتخاب نہ کرو (کیوں کہ) اس میں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے ایک حصہ ہے۔”۔

حکم الروایۃ:۔

حافظ شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ (وفات: 748ھ) کے مطابق روایت سنداً صحیح ہے۔

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری روایت:۔

آرمینیہ ہی سے متعلق "مصنف ابن ابی شیبہ” میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے بسند مرسل روایت ہے:-۔

عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ قال: "اذا عرض علیکم الغزو فلا تختاروا أرمینیۃ فان بھا عذابًا من عذاب القبر۔” (المصنف فی الأحادیث والأثار لابن أبی شیبۃ، رقم: 19785، بتحقیق: أبی محمد اسامہ بن ابراھیم بن محمد، طبع: الفاروق الحدیثۃ للطباعۃ والنشر القاھرۃ 2007ء)۔

"جب تم پر جنگ پیش کی جائے تو آرمینیہ کا انتخاب نہ کرو کیوں کہ یہ عذابِ قبر میں سے ایک عذاب ہے۔”

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے اسے حسان بن عطیہ روایت کرتے ہیں جن کا لقا علامہ حافظ جمال الدین المزی (وفات: 742ھ) کے مطابق سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ (ملاحظہ ہو: تھذیب الکمال فی اسماء الرجال: جلد 6، ص: 35، بتحقیق: الدکتور بشار عواد معروف، طبع موسسۃ الرسالۃ بیروت 1985ء)۔

تاہم دونوں روایتوں کی یکسانیت سے اس روایت کو بھی تقویت حاصل ہو جاتی ہے۔

فنی حیثیت:۔

اصولی طور پر یہ ایک اثر ہے، کیوں کہ الفاظ کا انتساب رسول اللہ ﷺ کی جانب نہیں ہے۔ تاہم ایسے آثارِ صحابہ جو پیش گوئیوں اور حتمی حکم سے متعلق ہوں یکسر نظر انداز نہیں کیے جا سکتے کیوں کہ کسی صحابی سے یہ محال ہے کہ وہ اپنی جانب سے جنت، جہنم یا عذاب سے متعلق اپنی رائے بیان کر دیں، جب کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں کچھ نہ سنا ہو۔

سیدنا ابو درداء انصاری رضی اللہ عنہ:۔

سیدنا ابو درداء عویمر الخزرجی الانصاری رضی اللہ عنہ کاشانہ نبوت کے معروف صحابہ میں سے تھے۔ اصمعی کہتے ہیں کہ ان کا اصل نام عامر تھا لیکن لوگ انھیں عویمر کہتے تھے۔ جب کہ ایک روایت کے مطابق ان کا لقب عویمر تھا۔ (تھذیب الکمال فی اسماء الرجال: جلد 22، ص: 470)۔

لیکن وہ اپنی کنیت ابو درداء سے مشہور ہوئے۔

ان کے والد کے نام میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابن عبد البر (وفات: 463ھ) نے "الاستیعاب” اور ابن حجر عسقلانی (وفات: 852ھ) نے "الاصابۃ” میں مختلف نام ذکر کیے ہیں۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، ص: 1227، بتحقیق: علی محمد البجاوی، طبع: دار الجیل بیروت 1992ء، الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ: جلد 4، ص: 621، طبع: دار الکتب العلمیۃ بیروت 1995ء)۔

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ فتح بدر کے بعد ایمان لائے تھے۔ ان کے ایمان لانے کا قصہ بہت دل چسپ اور نصیحت آموز ہے۔ اسلام سے قبل سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ بن رواحہ سے ان کی بڑی گہری دوستی تھی۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ تو جلد ہی اسلام لے آئے لیکن سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کو قبولیت اسلام میں تامل تھا۔ عبد اللہ رضی اللہ عنہ بن رواحہ جب اپنے اس رفیق سے ملتے تو انھیں اسلام کی دعوت دیتے۔ ایک بار ان کے گھر تشریف لائے تو ابو درداء رضی اللہ عنہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ ان کی اہلیہ کی اجازت لے کر ان کے گھر داخل ہوئے اور سیدھے کمرے میں چلے گئے۔ وہاں داخل ہوئے تو مختلف بتوں کو نصب دیکھا، غیرت ایمانی جوش میں آئی اور کلہاڑی کے وار سے تمام بت پاش پاش کر دیے اور چلے آئے۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ کی اہلیہ جب کمرے میں داخل ہوئیں تو ٹوٹے ہوئے بتوں کو دیکھ کر غم و غصے سے نڈھال ہو گئیں اور زار و قطار رونے لگیں۔ اپنے سابقہ عقائد کے زیر اثر انھوں نے گمان کیا کہ بتوں کی اس توہین پر کوئی سخت عذاب نازل ہوگا۔ جب ابو درداء رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو اہلیہ کو گھر کی دہلیز پر غمزدہ پایا۔ آگاہی پر فوراً کمرے میں داخل ہوئے اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ بتوں کی یہ حالت دیکھی تو سکتے میں آ گئے۔ اپنے پرانے دوست سے انھیں اس رویے کی توقع نہ تھی دل منتقمانہ خیالات سے بھر گیا اور جی میں آئی کہ ابھی عبد اللہ رضی اللہ عنہ بن رواحہ کے پاس جائیں اور ان سے اپنے بتوں کی توہین کا بدلہ لیں۔ لیکن تھوڑا وقت گزرا تو خیالات میں تبدیلی آئی، ابو درداء رضی اللہ عنہ سلیم الفطرت تھے اس لیے سوچنے لگے کہ جو بت اپنی حفاظت نہیں کر سکتے وہ ہمارے نفع و نقصان کے مالک کیسے ہو سکتے ہیں۔ بس اس خیال کا آنا تھا کہ دل و دماغ کی دنیا یکسر بدل گئی۔ فوراً عبد اللہ رضی اللہ عنہ بن رواحہ کے پاس پہنچے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جانے کی خواہش ظاہر کی۔ رسول اللہ ﷺ کی زیارت کرتے ہی زبان سے کلمہ شہادت ادا کیا اور اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ وہ اپنے محلے کے آخری فرد تھے جو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-۔
۔”ان اللہ وعدنی اسلام أبی الدرداء۔” (ملاحظہ ہو: تاریخ الاسلام ووفیات المشاھیر والاعلام للذھبی، جلد 2، ص: 216، بتحقیق: الدکتور بشار عواد معروف، طبع: دار الغرب الاسلامی بیروت)۔

رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے درمیان رشتہ مواخات قائم کیا تھا۔

وہ غزوہ احد اور بعد کے غزوات میں شریک ہوئے۔ غزوہ احد میں اس بہادری سے لڑے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-۔

۔”نعم الفارس عویمر” (ملاحظہ ہو: تاریخ الاسلام ووفیات المشاھیر والاعلام للذھبی، جلد 2، ص: 215، بتحقیق: الدکتور بشار عواد معروف، طبع: دار الغرب الاسلامی بیروت، تھذیب التھذیب: جلد 8، ص: 176، طبع: دائرۃ المعارف النظامیہ حیدر آباد دکن 1326ھ، تھذیب الکمال فی اسماء الرجال: جلد 22، ص: 473، الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ: جلد 4، ص: 622) ۔

"عویمر بہترین جانباز ہیں۔”

بعض کے مطابق سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ احد میں شریک نہیں تھے ان کا پہلا غزوہ خندق تھا۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ: جلد 4، ص: 307، طبع: دار الکتب العلمیۃ بیروت 2003ء، الاستیعاب فی معرفۃ  الأصحاب، ص: 1227 – 1228)۔

ابو درداء رضی اللہ عنہ اصحاب صفہ میں سے تھے، خود فرماتے تھے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل تاجر تھا۔ بعثت کے بعد جب میں ایمان لایا تو میرے لیے تجارت اور عبادت کو جمع کرنا ممکن نہیں رہا اس لیے میں نے عبادت کو اخذ کیا اور تجارت کو ترک کر دیا۔

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ علم و فضل میں غیر معمولی مقام رکھتے تھے۔ لسانِ رسالت ﷺ سے انھیں "حکیم امت” کا لقب ملا تھا۔ (ملاحظہ ہو: تھذیب الکمال فی اسماء الرجال: جلد 22، ص: 473، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، ص: 1229، تاریخ الاسلام: جلد 2، ص: 215، تھذیب التھذیب: جلد 8، ص: 176، الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ: جلد 4، ص: 622)۔

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ قرآن کریم کے بہت بڑے عالم تھے اور یہ علم انھوں نے کاشانہ نبوت سے براہ راست حاصل کیا تھا۔ ان کا شمار ان چند اصحاب رسول میں ہوتا ہے جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں قرآنِ کریم کو جمع کیا تھا۔ (تاریخ الاسلام للذھبی، جلد 2، ص: 215 – 216)۔

امام محمد بن اسحاق کے مطابق اصحاب النبی ﷺ کہا کرتے تھے کہ ہم علم و عمل میں ابو درداء رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتے ہیں اور حلال و حرام معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سیکھتے ہیں۔ (تھذیب الکمال فی اسماء الرجال: جلد 22، ص: 473)۔

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ انتہائی زاہد و عابد تھے۔ دبیا سے حد درجہ بے رغبت تھے۔ انھیں ہر وقت فکر آخرت دامن گیر رہتی تھی۔

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے مشہور روایت کے مطابق بعہد خلافت عثمانی بمقام دمشق 32ھ میں وفات پائی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ: جلد 4، ص: 306 – 307، تاریخ الاسلام للذھبی: جلد 2، ص: 216 – 218، تھذیب الکمال فی اسماء الرجال: جلد 22، ص: 469- 475، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، ص: 1227 – 1230، تھذیب التھذیب، جلد 8، ص: 175 – 177، الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ: جلد 4، ص: 621 – 622)۔

تشریح:۔

روایت کے الفاظ تو بہت واضح ہیں اور دونوں روایتوں کو پیش نظر رکھا جائے تو مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ یعنی اگر کبھی آرمینیہ کی زمین میں کوئی جنگی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو آرمینیہ کا ہرگز ساتھ نہ دیا جائے۔ کیوں کہ ایک روایت کے مطابق اس میں:-۔

"اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے ایک حصہ ہے۔”

تو دوسری روایت کے مطابق: "یہ عذابِ قبر میں سے ایک عذاب ہے۔”۔

حاصل کلام:۔

اس وقت آرمینیہ و آذر بائیجان تنازع جاری ہے۔ جنگ کی اس کیفیت میں مختلف ممالک اپنی اپنی خارجہ پالیسی کے مطابق دونوں فریقین میں سے کسی ایک حمایت کر رہے ہیں۔ سر دست ہمارا مقصد کسی ملک کی خارجہ پالیسی پر حرف گیری کرنا نہیں  ہے بلکہ کتبِ حدیث سے اس مسئلے سے متعلق ایک جلیل المرتبت صحابی رسول کے فرمان کی طرف متوجہ کرنا مطلوب ہے۔ ھذا ما عندی والعلم عند اللہ

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.